راشد علی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ’’ ستارہ قیصریہ‘‘ سے جگہ جگہ سے متفرق عبارتیں لے کر حسب ذیل عبارت ترتیب دی ہے اور پھر آخر میں بے باکی کرتے ہوئے تبصرہ بھی کیا ہے۔وہ لکھتا ہے
’’مرزا صاحب کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے جہاں انہوں نے اپنی ان خدمات کو نہ جتایا ہو ۔ چنانچہ جشن تاج پوشی کے موقع پر ملکہ وکٹوریہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اپنی خدمات کا صلہ یوں طلب فرمایا :۔
’’ سب سے پہلے یہ دعا ہے کہ خدائے قادر مطلق اس ہماری عالیجاہ قیصرہ ہند کی عمر میں بہت برکت بخشے اور اقبال اور جاہ وجلال میں ترقی دے اور عزیزوں اور فرزندوں کی عافیت سے آنکھیں ٹھنڈی رکھے ۔۔۔ اس عاجز کو ۔۔۔ وہ اعلیٰ درجہ کا اخلاص اور محبت اور جوش اطاعت حضور ملکہ معظمہ اور اس کے معزز افسروں کی نسبت حاصل ہے جو میں ایسے الفاظ نہیں پاتا جن میں اس اخلاص کا اندازہ بیان کر سکوں۔ اسی سچی محبت اور اخلاص کی تحریک سے جشن شصت سالہ جوبلی کی تقریب پر میں نے ایک رسالہ حضرت قیصرہ ہند دام اقبالہا کے نام سے تالیف کر کے اور اس کا نام تحفہ قیصریہ رکھ کر جناب مدوحہ کی خدمت میں بطور درویشانہ تحفہ کے ارسال کیا تھا اور مجھے قوی یقین تھا کہ اس کے جواب سے مجھے عزت دی جائے گی اور امید سے بڑھ کر میری سرفرازی کا موجب ہو گا ۔۔۔ مگر مجھے سخت تعجب ہے کہ ایک کلمہ شاہانہ سے بھی میں ممنون نہیں کیا گیا ۔۔۔ لہذا اس حسن ظن نے جو میں حضور ملکہ معظمہ دام اقبالہا کی خدمت میں رکھتا ہوں دوبارہ مجھے مجبور کیا کہ میں اس تحفہ یعنی رسالہ تحفہ قیصریہ کی طرف جناب ممدوحہ کو توجہ دلاؤں اور شاہانہ منظوری کے چند الفاظ سے خوشی حاصل کروں ۔۔۔ اور میں اپنی جناب ملکہ معظمہ کے اخلاق وسیعہ پر نظر رکھ کر ہر روز جواب کا امیدوار تھا۔ اور اب بھی ہوں ۔ میرے خیال میں یہ غیر ممکن ہے کہ میرے جیسے دعاگو کا وہ عاجزانہ تحفہ جو بوجہ کمال اخلاص خون دل سے لکھا گیا تھا اگر وہ حضور ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کی خدمت میں پیش ہوتا تو اس کا جواب نہ آتا ۔ بلکہ ضرور آتا ضرور آتا ۔۔۔ اس عریضہ کو نہ صرف میرے ہاتھوں نے لکھا بلکہ میرے دل نے یقین کا بھرا ہوا زور ڈال کر ہاتھوں کو اس پرارادت خط کے لکھنے کے لئے چلایا ہے ۔۔۔ میں مع اپنے تمام عزیزوں کے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرتا ہوں کہ یا الہی اس مبارکہ قیصرہ ہند دام ملکہا کو دیرگاہ ہمارے سروں پر سلامت رکھے ۔۔۔ اے قیصرہ مبارکہ خدا تجھے سلامت رکھے اور تیری عمر اور اقبال اور کامرانی سے ہمارے دلوں کو خوشی پہنچاوے ۔۔۔ چونکہ یہ مسئلہ تحقیق شدہ ہے کہ دل کو دل سے راہ ہوتا ہے اس لئے مجھے ضرورت نہیں کہ میں اپنی زبان کی لفاظی سے اس بات کو ظاہر کروں کہ میں آپ سے دلی محبت رکھتا ہوں اور میرے دل میں خاص طور پر آپ کی محبت اور عظمت ہے ۔ ہماری دن رات کی دعائیں آپ کے لئے آب رواں کی طرح جاری ہیں ۔۔۔ گو میں جانتا ہوں کہ جس قدر میرے دل میں یہ جوش تھا کہ میں اپنے اخلاص اور اطاعت اور شکرگزاری کو حضور قیصرہ ہند دام ملکہا میں عرض کروں ۔ پورے طور پر میں اس جوش کو ادا نہیں کر سکا ۔۔۔‘‘(ستارہ قیصریہ ۔روحانی خزائن جلد ۱۵صفحہ۱۱۱)
سبحان اللہ !! یہ ہیں مرزا صاحب ، ملکہ وکٹوریہ کے عاشق نامراد جو سرکار مدینہ ﷺ سے محبت کے دعویدار ہیں۔‘‘(بے لگام کتاب)
آخر میں یہ فقرہ لکھ کر راشد علی نے اپنے سفلی بغض کا اظہار کیا ہے اور استہزاء کی وہی مثال قائم کی ہے جو ہمیشہ سے انبیاء کے مخالفین کی سنّت ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ستارہ قیصریہ سے مختلف عبارتیں لے کر انہیں ایک عبارت بنانا ایسی تلبیسانہ کارروائی ہے جو راشد علی کے شیطانی اعمال ہی کا کمال ہے۔ حالانکہ اس کتاب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ملکہ معظمہ کے مسلمانوں پر احسانات کا ذکر کر کے اس کی شکرگزاری کی ہے اس کے قیام امن اور قیام انصاف وعدل کی تعریف کی ہے اور قرآنی حکم وَقُولَا لَہٗ قَوْلاً لَّیِّناً کہ اسے نرمی اور ملائمت سے بات کہو ، کے مطابق اسے نہایت ملائمت سے اسلام کی طرف بلایا ، اس پر ایمان لانے کی ترغیب دی نیز اس کے اپنے عقیدے کا بطلان کھول کھول کر بتایا اسی طرح اپنی کتاب ’’ مسیح ہندوستان میں‘‘ کے بارہ میں بتایا ، جس میں اسلام کی حقانیت اور عیسائیت کے رد میں ناقابل تردید ثبوت مہیا کئے گئے ہیں اور اصل حقیقت یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اپنے الفاظ سے ایک بات تو بڑی واضح طور پر ملتی ہے کہ آپ کسی خوشامد کی غرض سے یہ تعریفیں نہیں کرتے تھے بلکہ اسلامی فرض کے طور پر اعتراف حقیقت تھا اس سے بڑھ کر اس کی کوئی اور شکل وصورت نہیں نکلتی۔ آپ ؑ فرماتے ہیں :۔
’’ پس سنو اے نادانو ! میں اس گورنمنٹ کی کوئی خوشامد نہیں کرتا بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ایسی گورنمنٹ سے جو دین اسلام اور دینی رسوم پر کچھ دست اندازی نہیں کرتی اور نہ اپنے دین کو ترقی دینے کے لئے ہم پر تلواریں چلاتی ہے ، قرآن شریف کی رو سے جنگ مذہبی کرنا حرام ہے کیونکہ وہ بھی کوئی مذہبی جہاد نہیں کرتی۔‘‘ (کشتی نوحؑ ۔ حاشیہ ۔ روحانی خزائن جلد ۱۹صفحہ ۷۵)
پھر فرماتے ہیں :۔
’’ میری طبیعت نے کبھی نہیں چاہا کہ ان متواتر خدمات کا اپنے حکّام کے پاس ذکر بھی کروں کیونکہ میں نے کسی صلہ اور انعام کی خواہش سے نہیں بلکہ ایک حق بات کو ظاہرکرنا اپنا فرض سمجھا۔ ‘‘(کتاب البریہ ۔ روحانی خزائن جلد ۱۳صفحہ ۳۴۰)
علاّمہ اقبال انگریز کے مدح خواں
یہ تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا موقف تھا لیکن وہ لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ چونکہ آپ نے انگریزوں کی تعریف کی ہے اس لئے انگریز کا ایجنٹ ہونا ثابت ہو گیا ۔ اب ان کے کلماے سنیئے ۔ ان میں سے ایک وہ ہیں جن کو راشد علی نے سند کے طور پر پیش کیا ہے اور وہ علامہ سر محمد اقبال کی شخصیت ہے۔ آپ اس زمانہ میں انگریزوں کے متعلق کیا کہا کرتے تھے اور کیا لکھا کرتے تھے ، ان کے جذبات اور خیالات کیا تھے وہ ملاحظہ ہوں ملکہ وکٹوریہ کی وفات پر آپ نے ایک مرثیہ لکھا اس میں فرماتے ہیں
اقبال اڑ کے خاک سر رہ گزار ہو
صورت وہی ہے نام میں رکھا ہوا ہے کیا
دیتے ہیں نام ماہ محرم کا ہم تجھے
جس مہینے میں ملکہ وکٹوریہ فوت ہوئیں اقبال کہتے ہیں کہ اس مہینہ کا نام جو مرضی رکھ لو حقیقت میں یہ محرم کے واقعہ سے مختلف نہیں ہے ، محرم میں جو دردناک واقعہ گذرا تھا یہ واقعہ اس کی ایک نئی صورت ہے ۔ یعنی امام حسینؓ کی شہادت اور ملکہ وکٹوریہ کی موت ایک ہی مقام اور مرتبہ کی حامل ہیں ۔پھر مزید فرماتے ہیں ۔
اس عید سے تو موت ہی آئے خدا کرے
یہ ہیں مجاہد ملّت علامہ سر محمد اقبال جو احمدیت کی مخالفت میں سرفہرست شمار کئے جاتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر یہ الزام لگانے میں آگے آگے ہیں کہ چونکہ آپ ؑ انگریز کی تعریف کرتے تھے اس لئے آپ انگریزکاپوداہیں۔ پھر لکھتے ہیں ۔ع
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر تو جھوٹے طور پر الزام لگایا جاتا ہے کہ آپ نے انگریزوں کو سایہ خدا کہا ہے جبکہ خود علامہ اقبال نے اس مرثیہ میں سایہ خدا کا لفظ استعمال کیا ہے۔
اک غم گسار تیرے مکینوں کی تھی ، گئی
ہلتا ہے جس سے عرش یہ رونا اسی کا ہے
زینت تھی جس سے تجھ کو جنازا اسی کا ہے
(باقیات اقبال ۔ مرتبہ سید عبدالواحد معینی ایم ۔ اے ۔ آکسن ۔ شائع کردہ آئینہ ادب ۔ انارکلی لاہور ۔ بار دوم صفحہ ۷۱ ، ۷۲ ، ۷۳ ، ۹۰)
یہ ہے اصل خوشامد ، جھوٹی تعریف اور مبالغہ آمیز عقیدت کا اظہار ۔
انگریزی حکومت ،اہلحدیث اور دیوبندی علماء کی نظر میں
اہل حدیث اور دیوبندی فرقہ جو اس وقت جماعت احمدیہ کی مخالفت میں سرفہرست ہے ، ان کے چوٹی کے عالم اور بزرگ شمس العلماء مولانا نذیر احمد دہلوی فرماتے ہیں :۔
’’سارے ہندوستان کی عافیت اسی میں ہے کہ کوئی اجنبی حاکم اس پر مسلط رہے جو نہ ہندو ہو نہ مسلمان ہو کوئی سلاطین یورپ میں سے ہو۔ (انگریز ہی نہیں جو بھی مرضی ہو یورپ کا ہو سہی ) مگر خدا کی بے انتہا مہربانی اس کی مقتضی ہوئی کہ انگریز بادشاہ آئے۔ ‘‘(مجموعہ لیکچرز مولانا نذیر احمد دہلوی صفحہ ۴ ، ۵مطبورہ ۱۸۹۰ء)
پھر فرماتے ہیں :۔
’’کیا گورنمنٹ جابر اور سخت گیر ہے؟ توبہ توبہ ماں باپ سے بڑھ کر شفیق‘‘ (مجموعہ لیکچرز مولانا نذیر احمد دہلوی صفحہ ۱۹ مطبوعہ ۱۸۹۰ء)
پھر فرماتے ہیں:۔
’’ میں اپنی معلومات کے مطابق اس وقت کے ہندوستان کے والیان ملک پر نظر ڈالتا تھا اور برما اور نیپال اور افغانستان بلکہ فارس اور مصر اور عرب تک خیال دوڑاتا تھا اس سرے سے اس سرے تک ایک متنفس سمجھ میں نہیں آتا تھا جس کو میں ہندوستان کا بادشاہ بناؤں (یعنی اگر میں نے خیالات میں بادشاہ بنانا ہوتا تو کس کو بناتا) امیدواران سلطنت میں سے اور کوئی گروہ اس وقت موجود نہ تھا کہ میں اس کے استحقاق پر نظر کرتا پس میرا اس وقت فیصلہ یہ تھا کہ انگریز ہی سلطنت ہندوستان کے اہل ہیں سلطنت انہی کا حق ہے انہی پر بحال رہنی چاہئے۔ ‘‘(مجموعہ لیکچرز مولانا نذیر احمد دہلوی صفحہ ۲۶ )
یعنی ان کی قلبی تمنا یہ تھی انگریزی حکومت ہمیشہ ہمیش کے لئے بحال رہے اور مسلمان اس کی غلامی میں رہیں۔
انگریز اولی الامر تھے
ایڈیٹر رسالہ ’’ چٹان ‘‘ شورش کاشمیری صاحب لکھتے ہیں :۔
’’ جن لوگوں نے حوادث کے اس زمانے میں نسخ جہاد کی تاویلوں کے علاوہ اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُوْلِی الاَمْرِ مِنْکُمْ میں اولی الامر کا مصداق انگریزوں کو ٹھہرایا ان میں مشہور انشاء پرداز ڈپٹی نذیر احمد کا نام بھی ہے۔‘‘ (کتاب ’’ عطاء اللہ شاہ بخاری ‘‘ صفحہ ۱۳۵)
انگریزی حکومت ، باعثِ افتخار
اب سنیئے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے انگریزی سلطنت کے متعلق خیالات ۔ وہ لکھتے ہیں :۔
’’ سلطان روم ایک اسلامی بادشاہ ہے لیکن امن عامہ اور حسن انتظام کے لحاظ سے (مذہب سے قطع نظر ) برٹش گورنمنٹ بھی ہم مسلمانوں کے لئے کچھ کم فخر کا موجب نہیں ہے اور خاص گروہ اہل حدیث کے لئے تو یہ سلطنت بلحاظ امن وآزادی اس وقت کی تمام اسلامی سلطنتوں (روم ، ایران ، خراسان ) سے بڑھ کر فخر کا محل ہے۔ ‘‘(رسالہ اشاعۃ السنۃ۔ جلد ۶نمبر ۱۰ صفحہ ۲۹۲ ، ۲۹۳)
یہ تھی کل تک ان لوگوں کی زبان ! پھر فرماتے ہیں :۔
’’ اس امن وآزادی عام وحسن انتظام برٹش گورنمنٹ کی نظر سے اہل حدیث ہند اس سلطنت کو از بس غنیمت سمجھتے ہیں اور اس سلطنت کی رعایا ہونے کو اسلامی سلطنتوں کی رعایا ہونے سے بہتر جانتے ہیں۔ ‘‘(رسالہ اشاعۃ السنۃ۔ جلد۶نمبر ۱۰،صفحہ ۲۹۲ ،۳ ۲۹)
یہ لوگ آج کہہ رہے ہیں کہ احمدیوں کو چونکہ اسلامی سلطنتیں پسند نہیں اس لئے یہ انگریزی راج میں پنپے ،وہیں بڑھے اور چاہتے تھے کہ وہی حکومت ہمیشہ کے لئے رہے لیکن خود ان کے آباؤ اجداد تو کل تک یہ فرمایا کرتے تھے کہ :۔
’’ اسلامی سلطنتوں کی رعایا ہونے سے بہتر جانتے ہیں ۔‘‘
اب دیکھ لیجئے ان تحریروں میں ایسا کوئی ذکر نہیں ہے جیسا کہ حکومت کی تعریف سے متعلق مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے وجہ بیان فرمائی ہے کہ سکھوں کے مظالم سے نجات بخشی ، مذہبی آزادی دی اس لئے ہم تعریف کرتے ہیں مگر ان لوگوں کو تو ایسی وجوہات کے بغیر ہی انگریزی حکومت اسلامی سلطنتوں سے کل تک بہتر نظر آرہی تھی اور اہلحدیث جہاں کہیں وہ رہیں اور جائیں (عرب میں خواہ روم میں خواہ اور کہیں ) کسی اور ریاست کی محکوم رعایا ہونا نہیں چاہتے سوائے انگریز کے۔
جہاں تک شیعوں کا تعلق ہے وہ بھی ایسی ہی تحریریں پیش کرتے رہے۔ علامہ علی حائری کا ایک اقتباس ہے جو موعظہ تحریف قرآن ۔ لاہور ۱۹۲۳ء مرتبہ محمد رضی الرضوی القمّی پر درج ہے اس میں بھی اسی مضمون کی باتیں بیان کی گئی ہیں۔
انگریزوں کی نگاہِ فیض اثر کا ملتجی
مولانا ظفر علی خان جو ایک وقت میں احرار کے ساتھ منسلک تھے اور بعد میں ان کو ملک و وطن اور اسلام کا غدّار قرار دیا وہ ایک لمبے تجربہ کے بعد لکھتے ہیں:۔
’’ مسلمان ۔۔۔ ایک لمحہ کے لئے بھی ایسی حکومت سے بدظن ہونے کا خیال نہیں کر سکتے (یعنی انگریزوں سے ناقل) ۔۔۔ اگر کوئی بدبخت مسلمان ، گورنمنٹ سے سرکشی کرے تو ہم ڈنکے کی چوٹ سے کہتے ہیں کہ وہ مسلمان مسلمان نہیں ۔‘‘ (اخبار زمیندار لاہور ۱۱ نومبر ۱۹۱۱ء)
یہ ہے فتویٰ کہ حکومت برطانیہ کی سرکشی کرنے والا مسلمان ، مسلمان ہی نہیں رہتا۔ پھر فرماتے ہیں :۔
’’اپنے بادشاہ عالم پناہ کی پیشانی کے ایک قطرے کی بجائے اپنے جسم کا خون بہانے کے لئے تیار ہیں اور یہی حالت ہندوستان کے تمام مسلمانوں کی ہے۔‘‘ (اخبار زمیندار لاہور ۲۳ نومبر ۱۹۱۱ ء)
کیا یہ حالت تھی جسے بدلنے کے لئے انگریزوں نے یہ خود کاشتہ پودا کھڑا کیا تھا ؟پھر نظم کی صورت میں فرماتے ہیں۔
ہوا جب تذکرہ کنگ ایمپرر کا
جلالت کو ہے کیا کیا ناز اس پر
کہ شاہنشاہ ہے وہ بحرو بر کا
زہے قسمت جو ہو اک گوشہ حاصل
ہمیں اس کی نگاہ فیض اثر کا
(زمیندار ۱۹ ؍اکتوبر ۱۹۱۱ء)
اصل یہ ہے جھوٹی تعریف اور سچی خوشامد پر مبنی نظم ونثر کی صورت میں کاسۂ گدائی جو مسلمان لیڈروں نے انگریز کے آگے پھیلایا۔
مسلمان علماء کی منافقانہ چالیں
پس یہ تو ہے ان لوگوں کا اپنا کردار اور ان کا ماضی ،جو آج احمدیت پر بڑھ بڑھ کر الزام لگا رہے ہیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو صرف یہی ضرورت نہیں تھی کہ حسن خلق کے نتیجہ میں ایک محسن حکومت کا شکریہ ادا کریں بلکہ بعض ایسی وجوہات بھی تھیں جو خود مخالفین کی پیدا کردہ تھیں ۔ ایک طرف تو یہ علماء مسلمانوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خلاف بھڑکاتے تھے کہ آپ انگریز کی تعریف کرتے ہیں اور جہاد کے منکر ہیں جبکہ یہ حکومت اس لائق ہے کہ اس سے جہاد کیا جائے اور اسے ختم کیا جائے ، تباہ وبرباد کر دیا جائے۔ دوسری طرف انگریزوں کی تعریف میں وہ کلمات لکھ رہے تھے جو ابھی آپ نے ملاحظہ فرمائے ہیں ۔ اور تیسری طرف انگریزوں کو خفیہ بھی اور شائع شدہ درخواستیں بھی پیش کر رہے تھے کہ یہ نہایت ہی خطرناک آدمی ہے اس کی باتوں میں نہ آجانا ، یہ امام مہدی ؑ ہونے کا دعویدار ہے اور خونی مہدی ہے جو ساری انگریزی سلطنت کو تباہ کرنے کے لئے اٹھا ہے ۔ اس قدر منافقت، ظلم اور جھوٹ کہ ایک طرف مسلمانوں میں یہ اعلان ہو رہا ہے کہ انگریز کا خود کاشتہ پودا ہے اور دوسری طرف انگریز کو یہ خبریں پہنچائی جا رہی ہیں کہ یہ تو تمہاری قوم کا دشمن ہے اور تمہیں تباہ وبرباد کرنے کے لئے اٹھا ہے اس لئے اس کو ہلاک کر دو۔ چنانچہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی رسالہ اشاعۃ السنہ جلد ۶حاشیہ صفحہ ۴پر رقم طراز ہیں :۔
’’ اس کے (یعنی مرزا غلام احمد صاحب قادیانی ۔ ناقل ) دھوکہ ہونے پر یہ دلیل ہے کہ دل سے وہ گورنمنٹ غیر مذہب کی جان مارنے اور اس کا مال لوٹنے کو حلال اور مباح جانتا ہے ‘‘
دلیل بھی کیسی کمال کی ہے کہ ’’ دل سے جانتا ہے۔ ‘‘
’’ لہذا گورنمنٹ کو اس کا اعتبار کرنا مناسب نہیں اور اس سے پر حذر رہنا ضروری ہے ورنہ اس مہدی قادیانی سے اس قدر نقصان پہنچنے کا احتمال ہے جو مہدی سوڈانی سے بھی نہیں پہنچا۔ ‘‘
منشی محمد عبداللہ صاحب انگریزوں کو مخاطب کر کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خلاف متنبہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
’’ ایسے ہی دیگر آیات قرآنیہ اپنے چیلوں کو سنا سنا کر گورنمنٹ سے جنگ کرنے کے لئے مستعد کرنا چاہتا ہے۔ ‘‘ (شہادت قرآنی ۔صفحہ ۲۰مطبوعہ ۱۹۰۵ء اسلامیہ سٹیم پریس لاہور)
مخالفین کے ان تاثرات کو بڑی سنجیدگی سے لیا گیا چنانچہ اس زمانہ کا واحد انگریزی اخبار جو نہایت مؤقّر سمجھاجاتا تھا اور بڑی دیر تک چلتا رہا ۔ یعنی ’’ سول اینڈ ملٹری گزٹ لاہور ‘‘ اس میں ایک اداریہ شائع ہوا۔ جس میں انگریز قوم کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خلاف بھڑکایا گیا اور حکومت کو متنبہ کیا گیا کہ یہ نہایت خطرناک آدمی ہے اس کی باتوں میں نہ آئیں اس کی صلح پسندی صرف ظاہری ہے ورنہ یہ انگریزی حکومت کو تباہ وبرباد کر کے رکھ دے گا۔
یہ تو تم لوگوں کا کردار رہا ہے کہ ایک طرف حکومت کی چاپلوسی کرتے رہے اس کی خوشامدیں کر کر کے اس کے آگے کاسۂ گدائی پھیلاتے رہے اور دوسری طرف حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کی مخالفت میں ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور جب خدا تعالیٰ کے مامور کے سامنے ناکام ونامراد رہے تو حکومت وقت کو ان کے خلاف بھڑکانے کے لئے جھوٹی اور خلاف واقعہ شکایتیں کرنے لگے۔ تمہاری ان شکایتوں اور پرانگیخت کارروائیوں پر اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی پوزیشن صاف کرنے کے لئے ایک سچی اور حق بات کی تو تم اپنی چاپلوسیوں اور خوشامدوں کے طوق اتار کر ان کے گلے میں ڈالنے کی کوشش کرنے لگے۔ پس یہ ہے تمہاری شکل اور یہ ہے تمہارا کردار ، جو تمہارے جھوٹا ہونے کا کھلا کھلا ثبوت ہے۔