In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » اعتراضات، وساوس کا جواب » حضرت مسیح موعود ؑ پر اعتراضات » حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور انگریز »

خود کاشتہ پودا

راشد علی لکھتا ہے

"I am the "Self-implanted and Self-cultivated seedling" of the British Government" (Roohani Khazaain. Vol11 P.147) (Beware......)

’’ میں حکومتِ برطانیہ کا خود کاشتہ پودا ہوں ‘‘

راشد علی اور اس کے پیر نے اپنی ’’بے لگام کتاب‘‘ میں بھی اس کا اعادہ کیا ہے اور یہ بیان حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام کی طرف منسوب کیا ہے کہ گویا آپ نے یہ فرمایا ہے کہ ’’ میں حکومتِ برطانیہ کا خود کاشتہ پودا ہوں ‘‘

اس کے اس جھوٹ پرہمارا جواب تو یہی ہے کہ

لعنۃ اللّٰہ علٰی الکاذبین۔

ہمارا چیلنج ہے کہ وہ حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام کی کسی کتاب سے یہ بیان نہیں نکال سکتا کہ جس میں آپ نے یہ فرمایا ہو کہ’’ میں حکومتِ برطانیہ کا خود کاشتہ پودا ہوں ۔ ‘‘

جیسا کہ قارئین نے پچھلے صفحات میں ملاحظہ فرمایا ہے کہ اس زمانہ میں حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام کے مخالف مولوی شرمناک منافقت میں مبتلا تھے۔ ایک طرف تو وہ خودحکومتِ وقت کی کاسہ لیسی اور خوشامدوں میں انتہائی پستہ ہو رہے تھے تو دوسری طرف حکومت کے پاس بار بار ایسی جھوٹی مخبریاں کرتے تھے کہ حکومت کو اس شخص سے ہوشیار رہنا ضروری ہے کیونکہ یہ خونی مہدی ہونے کا دعویدار ہے اور اپنے مریدوں کو فساد کی تعلیم دیتا ہے۔ ایسی جھوٹی شکایتوں پر جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام حکومت کے سامنے ا پنی پوزیشن واضح کرتے تو وہ مولوی عوام میں یہ منادی کرنے لگتے کہ یہ شخص حکومت کی چاپلوسی کرتا ہے۔

ان مولویوں کی ایسی چالوں کے پیشِ نظر حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام نے حکومت کو بتایاکہ میں گورنمنٹ کا غدّار نہیں بلکہ خدمتگذار ہوں۔ اسی طرح اپنے خاندان کا ذکر کرتے ہوئے لکھاکہ وہ اس کا ہمیشہ وفادار رہا ہے اور حکومت کے لئے اس کی بہت خدمات ہیں۔اس لئے کسی قسم کی بغاوت یا فساد کی اس خاندان کے کسی فرد سے توقع ہی نہیں کی جا سکتی۔ چنانچہ آپ نے فرمایا

’’ مجھے متواتر اس بات کی خبر ملی ہے بعض حاسد بد اندیش جو بوجہ اختلافِ عقیدہ یا کسی اور وجہ سے مجھ سے بغض اور عداوت رکھتے ہیں یا جو میرے دوستوں کے دشمن ہیں۔ میری نسبت اور میرے دوستوں کی نسبت خلافِ واقعہ امور گورنمنٹ کے معزّز حکّام تک پہنچاتے ہیں۔ اس لئے اندیشہ ہے کہ ان کی ہر روز کی مفتریانہ کاروائیوں سے گورنمنٹ عالیہ کے دل میں بدگمانی پیدا ہو کر وہ تمام جانفشانیاں پچاس سالہ میرے والد مرحوم مرزا غلام مرتضیٰ اور میرے حقیقی بھائی مرزا غلام قادر مرحوم کی جن کا تذکرہ سرکاری چٹھیات اور سر لیبل گریفن کی کتاب ’’ رئیسانِ پنجاب‘‘ میں ہے۔ نیز میرے قلم کی وہ خدمات جو میری اٹھارہ سال کی تصنیفات سے ظاہر ہیں، سب کی سب ضائع اور برباد ہو جائیں۔ اور خدانخواستہ سرکار انگریزی اپنے قدیم وفادار اور خیر خواہ خاندان کی نسبت کوئی تکدّرِ خاطر اپنے دل میں پیدا کرے۔اس بات کا علاج تو غیر ممکن ہے کہ ایسے لوگوں کا منہ بند کیا جائے کہ جو اختلافِ مذہبی کی وجہ سے یا نفسانی حسد اور بغض اور کسی ذاتی غرض کے سبب سے جھوٹی مخبری پر کمر بستہ ہوجاتے ہیں، التماس ہے کہ سرکارِ دولتمدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس برس کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار جانثار خاندان ثابت کر چکی ہے ۔اور جس کی نسبت گورنمنٹ عالیہ کے معزّز حکّام نے ہمیشہ مستحکم رائے سے یہ گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے سرکار انگریزی کے پکّے خیر خواہ اور خدمتگذار ہیں۔ اس خود کاشتہ پودہ کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط اور تحقیق اور توجّہ سے کام لے۔‘‘( مجموعہ اشتہارات۔جلد ۳ صفحہ۲۱)

یہ عبارت کسی وضاحت کی محتاج نہیں۔ اس میں حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام نے جماعتِ احمدیہ یا اپنے دعاوی کو سرکار کا ’’ خود کاشتہ پودہ‘‘ قرار نہیں دیا بلکہ اپنے خاندان کی گزشتہ خدمات کے متعلق فرمایا ہے۔ وہ خاندان نہ صرف یہ کہ احمدیّت سے پہلے کا ہے بلکہ اس کی سب خدمات بھی احمدیّت کے آغاز سے پہلے کی ہیں۔ ان خدمات کا احمدیّت سے کوئی تعلق نہیں تھا ۔ خاندان کی ان خدمات کو آپ ؑ کے دعاوی یا آپ کی جماعت کی طرف منسوب کرنا محض بدیانتی ہے۔ حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے اس خاندان کے بارہ میں الہاماً بتایا کہ

ینقطع من اٰ بآءِ ک و یبدء منک

یعنی اب آپ کا آبائی خاندان آپ سے کٹ گیا ہے اور آپ سے آئندہ خاندان قائم ہو گا۔ پس وہ خاندان جس کے بارہ میں ’’ خود کاشتہ پودہ ‘‘کے الفاظ تھے وہ آپ سے بالکل کٹ کر پیچھے رہ گیا۔

ظاہر ہے کہ راشد علی کا یہ اعتراض تو محض عناد اور جھوٹ پر مبنی تھا۔درحقیقت ’’خود کاشتہ پودہ‘‘ کون تھا؟ ملاحظہ فرمائیں

رسالہ’ طوفان‘ کے ایڈیٹر نے بعض حقائق جمع کئے اور نتیجہ نکالا کہ

’’ انگریزوں نے بڑی ہوشیاری اور چالاکی کے ساتھ تحریکِ نجدیّت کا پودا( یعنی اہلِ حدیث جسے وہابی تحریک یا تحریکِ نجدیّت بھی کہتے ہیں۔ ناقل) ہندوستان میں کاشت کیا اور پھر اسے اپنے ہاتھ سے ہی پروان چڑھایا۔‘‘( طوفان۔ ۷ نومبر ۱۹۶۲ء)

دیکھیں تاریخ کس طرح ثبوت مہیّا کرتی ہے۔ دیوبندی فرقہ کے تعلیمی مذہبی ادارہ ندوۃ العلماء کی بنیاد ہی انگریزوں نے رکھی تھی۔ چنانچہ اس ادارہ کے اپنے رسالہ ’’ النّدوہ‘‘ نے یہ تاریخی شہادت قلمبند کی کہ

’’ ۲۸ نومبر ۱۹۰۸ ء کو دارالعلوم ندوۃ العلماء کا سنگِ بنیاد ہز آنر یبل لیفٹیننٹ گورنر بہادر ممالک متّحدہ سرجان سکاٹ ہیوس کے سی آئی ای نے رکھا۔‘‘( النّدوہ۔ دسمبر ۱۹۰۸ء صفحہ ۴)

اسی صفحہ پر آگے یہ بھی لکھا ہے کہ

’’ یہ مشہور مذہبی درسگاہ ایک انگریز کی مرہونِ منّت ہے۔‘‘

یہی نہیں اس کے قیام کی غرض و غایت اس کا مقصد اور ماٹو یہ بھی بیان کیا کہ اس میں تیّار ہونے والے

’’ علماء کا ایک ضروری فرض یہ بھی ہے کہ گورنمنٹ کی برکاتِ حکومت سے واقف ہوں اور ملک میں گورنمنٹ کی وفاداری کے خیالات پھیلائیں ۔‘‘( النّدوہ۔ جولائی ۱۹۰۸ء)

اسے کہتے ہیں انگریز کا خود کاشتہ پودہ۔جس کی کاشت بھی انگریز نے کی اور آبیاری بھی۔ اور جب اسے پروان چڑھا چکے تو اس پودے پر ’’ برکاتِ حکومت سے واقفیّت‘‘ اور ’’ملک میں گورنمنٹ کی وفاداری کے خیالات پھیلانے‘‘ کے پھل ہر موسم میں بکثرت لگتے رہے۔ اس خود کاشتہ پودے کی نظر ہمیشہ مالی مفادات پر رہی اور اس کا کاسہ گدائی بھی انگریز کی طرف پھیلا رہا۔

جہانتک اس دیوبندی فرقہ کی ایک تنظیم مجلسِ احرار کا تعلّق ہے جو جماعتِ احمدیہ کی مخالفت میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتی۔ اس تنظیم کی حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے اس کے ایک بہت بڑے لیڈر مولانا ظفر علی خان، مدیر روزنامہ ’زمیندار ‘لکھتے ہیں۔

’’..... آج ’’ مسجد شہید گنج‘‘ کے مسئلہ میں احرار کی روش پر دوسرے مسلمانوں کی طرف سے اعتراض ہونے پر انگریزی حکومت احرار کی سپر بن رہی ہے۔ اور حکومت کے اعلیٰ افسر حکم دیتے ہیں کہ احرار کے جلسوں میں گڑ بڑ پیدا نہ کی جائے۔ تو کیا اس بدیہی الانتاج منطقی شکل سے یہی نتیجہ نہیں نکلتا کہ مجلسِ احرار حکومت کا خود کاشتہ پودا ہے۔ جس کی آبیاری کرنا اور جسے صرصرِ حوادث سے بچانا حکومت اپنے ذمہ ہمّت پر فرض سمجھتی ہے۔‘‘( روزنامہ ’’زمیندار‘‘ ۳۱ اگست ۱۹۳۵ء)

ان مذکورہ بالا تاریخی ریکارڈ اور حقائق سے بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ انگریز کے خود کاشتہ پودے کون کون تھے۔اس کے برعکس جماعتِ احمدیہ ایسی جماعت ہے جس کی نہ تو کبھی انگریز یا کسی اور دنیوی حکومت نے سرپرستی کی اور نہ ہی کبھی اس کے مالی مفادات کسی سے وابستہ ہوئے۔ خدا تعالیٰ کے فضل سے اس کو نہ کسی مادّی سرپرستی کی حاجت ہے نہ مالی استمداد کی، کیونکہ یہ صرف اور صرف خدائے قادرو مطلق کے ہاتھ کا لگایا ہوا پودا ہے۔ حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام فرماتے ہیں

آپؑ نے دسمبر ۱۹۹۶ ؁ء کو ایک اشتہار میں فرمایا

’’ اب اے مخالف مولویو! اور سجادہ نشینوں!..... یقیناً سمجھو کہ یہ خدا کے ہاتھ کا لگایا ہوا پودہ ہے۔خداا س کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔ وہ راضی نہیں ہوگا جب تک کہ اس کو کمال تک نہ پہنچاوے اور وہ اس کی آبپاشی کرے گا اور اس کے گرد احاطہ بنائے گااور تعجب انگیز ترقیات دے گا۔کیا تم نے کچھ کم زور لگایا۔پس اگر یہ انسان کا کام ہوتاتو کبھی کا یہ درخت کاٹا جاتا اور اس کا نام و نشان باقی نہ رہتا۔‘‘ (مجموعہ اشتہارات۔جلد ۲ صفحہ۲۸۱،۲۸۲)

نیز آپ نے یہ پر تحدّی اعلان بھی فرمایا کہ

’’ دنیا مجھ کو نہیں پہچانتی لیکن وہ مجھے جانتا ہے جس نے مجھے بھیجا ہے۔ یہ ان لوگوں کی غلطی ہے اور سراسر بد قسمتی ہے کہ میری تباہی چاہتے ہیں۔ میں وہ درخت ہوں جس کو مالکِ حقیقی نے اپنے ہاتھ سے لگایا ہے۔..... اے لوگو! تم یقیناً سمجھ لو کہ میرے ساتھ وہ ہاتھ ہے جو اخیر وقت تک مجھ سے وفا کرے گا۔ اگر تمہارے مرد اور تمہاری عورتیں اور تمہارے جوان اور تمہارے بوڑھے اور تمہارے چھوٹے اور تمہارے بڑے سب مل کر میرے ہلاک کرنے کے لئے دعائیں کریں یہاں تک کہ سجدے کرتے کرتے ناک گل جائیں اور ہاتھ شل ہو جائیں تب بھی خدا ہرگز تمہاری دعا نہیں سنے گا اور نہیں رکے گا جب تک وہ اپنے کام کو پورا نہ کر لے۔..... پس اپنی جانوں پر ظلم مت کرو۔ کاذبوں کے اور منہ ہوتے ہیں اور صادقوں کے اور۔ خدا کسی امر کو بغیر فیصلہ کے نہیں چھوڑتا۔...... جس طرح خدا نے پہلے مامورین اور مکذّبین میں آخر ایک دن فیصلہ کر دیا اسی طرح وہ اس وقت بھی فیصلہ کرے گا۔ خدا کے مامورین کے آنے کے بھی ایک موسم ہوتے ہیں اور پھر جانے کے بھی ایک موسم۔ پس یقیناً سمجھو کہ میں نہ بے موسم آیا ہوں اور نہ بے موسم جاؤں گا۔ خدا سے مت لڑو! یہ تمہارا کام نہیں کہ مجھے تباہ کر دو۔‘‘( ضمیمہ تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۱۳،۱۴)