راشد علی نے ’’ متوازی امّت ‘‘ کے عنوان کے تحت لکھا ہے ۔
’’قادیانی قبرستان بہشتی مقبرہ ہو گیا جس میں دفن ہونے کے لئے چندہ کے ذریعے بکنگ کرانی پڑتی ہے۔(مکاشفات صفحہ ۲۳از بابو منظور الہٰی قادیانی)(بے لگام کتاب)
اس عبارت کے نیچے جو حوالہ اس نے درج کیا ہے وہ غلط ہے ۔ جماعتِ احمدیہ کے سارے لٹریچر میں کوئی ایسی عبارت نہیں ہے۔ یہ سب راشد علی کا افتراء ہے اور اس پر ہمارا پہلا جواب تو وہی ہے کہ لعنۃ اللّٰہ علٰی الکاذبین ۔ لیکن جملہ معترضہ کے طور پر ہم اس سے پوچھتے ہیں کہ کیا کسی جگہ چندہ کے ذریعہ بکنگ کرانے سے ’’ متوازی امّت ‘‘ کا قیام عمل میں آجاتا ہے ؟
بہشتی مقبرہ اور اس میں تدفین کے بارہ میں مکمل تفصیل حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام کی کتاب ’’رسالہ الوصیّت ‘‘ میں درج ہے ۔ اگر راشد علی جھوٹا نہ ہوتا تو بابو منظور الہی کی کتاب کے حوالہ کی بجائے رسالہ الوصیّت کا حوالہ دیتا جس میں خود بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ نے تفصیل رقم فرمائی ہے جو دراصل ایک قرآنی اصول کی تعمیل ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَهُمْ وَاَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَــنَّةَ (التوبہ:۱۱۱)
ترجمہ:اللہ نے مومنوں سے ان کی جانوں اور ان کے مالوں کو خرید لیا ہے کہ ان کو جنّت ملے گی۔
ایسا ہی مضمون سورہ الصّف کے دوسرے رکوع میں بھی بیان کیا گیا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومنوں کے لئے جان اور چندہ کے ذریعہ، یہ جنّت کی بکنگ نہیں تو اور کیا ہے؟اس قانونِ خداوندی کا احیاء جیسا کہ مقدّر تھا،رسول اللہ ﷺ کی پیشگوئی کے مطابق اِس زمانہ میں حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام کے ذریعہ ہوا ہے۔آپؐ نے اس موعودمسیح کے بارہ میں فرمایا ہے کہ
’’ فیمسح عن وجوھھم ویحدّثھم بدر جاتھم فی الجنّۃ ‘‘ (مسلم ۔کتاب الفتن۔ باب ذکر الدجال وصفۃ وما معہ )
ترجمہ:۔وہ ان کے چہروں سے غبار صاف کریں گے اور ان کو جنّت میں ان کے درجات سے مطلع کریں گے۔
آنحضرت ﷺ کی اس پیشگوئی کے تحت اللہ تعالیٰ نے کشفاً حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایسا قبرستان دکھایا جس میں ان لوگوں کی قبریں ہیں جو بہشتی ہیں ۔ آپ نے خدا تعالیٰ کی منشاء کے مطابق ایسے قبرستان کی بنیاد رکھی اور فرما یا ۔
’’ میں دعا کرتا ہوں کہ خدا اس میں برکت دے اور اسی کو بہشتی مقبرہ بنا دے اور یہ اس جماعت کے پاک دل لوگوں کی خوابگاہ ہو جنہوں نے درحقیقت دین کو دنیا پر مقدّم کر لیا اور دنیا کی محبت چھوڑ دی اور خدا کے لئے ہو گئے اور پاک تبدیلی اپنے اندر پیدا کر لی اور رسول اللہ ﷺ کے اصحابؓ کی طرح وفاداری اور صدق کا نمونہ دکھلایا ۔ آمین یا ربّ العالمین ‘‘(رسالہ الوصیت۔ روحانی خزائن جلد ۲۰صفحہ ۳۱۶)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس بہشتی مقبرہ میں تدفین کے لئے جو شرائط مقرر فرمائیں ان میں سے چند ایک بنیادی شرائط یہ ہیں۔ان میں دیگر اعمالِ صالحہ کے ساتھ مالی قربانی بھی ایک شرط ہے ،محض مال کی الگ کوئی حیثیت نہیں۔
* ’’تمام جماعت میں سے اس قبرستان میں وہی مدفون ہو گا جو وصیت کرے جو اس کی موت کے بعد دسواں حصہ اس کے تمام ترکہ کا حسب ہدایت اس سلسلہ کے اشاعت اسلام اور تبلیغ احکام قرآن میں خرچ ہو گا اور ہر ایک صادق کامل الایمان کو اختیار ہو گا کہ اپنی وصیت میں اس سے بھی زیادہ لکھ دے لیکن اس سے کم نہیں ہو گا۔‘‘
* ’’اس قبرستان میں دفن ہونے والا متقی ہو اور محرّمات سے پرہیز کرتا اور کوئی شرک اور بدعت کا کام نہ کرتا ہو ۔ سچا اور صاف مسلمان ہو ۔ ‘‘
* ’’ہر ایک صالح جو اس کی کوئی بھی جائیداد نہیں اور کوئی مالی خدمت نہیں کر سکتا اگر یہ ثابت ہو کہ وہ دین کے لئے اپنی زندگی وقف رکھتا تھا اور صالح تھا تو وہ اس قبرستان میں دفن ہو سکتا ہے۔‘‘
* ’’یاد رہے کہ صرف یہ کافی نہ ہو گا کہ جائیداد منقولہ وغیر منقولہ کا دسواں حصہ دیا جاوے۔ بلکہ ضروری ہو گا کہ ایسا وصیت کرنے والا جہاں تک اس کے لئے ممکن ہے پابند احکام اسلام ہو اور تقویٰ اور طہارت کے امور میں کوشش کرنے والا ہو اور مسلمان خدا کو ایک جاننے والا اور اس کے رسول پر سچا ایمان لانے والا ہو ۔ اور نیز حقوق عباد غصب کرنے والا نہ ہو۔‘‘
* ’’اگر کوئی کچھ بھی جائیداد منقولہ یا غیر منقولہ نہ رکھتا ہو اور بایں ہمہ ثابت ہو کہ وہ ایک صالح درویش ہے اور متقی اور خالص مومن ہے اور کوئی حصہ نفاق یا دنیا پرستی یا قصور اطاعت کا اس کے اندر نہ ہو تو وہ میری اجازت سے یا میرے بعد انجمن کی اتفاق رائے سے اس مقبرہ میں دفن ہو سکتا ہے۔‘‘(رسالہ الوصیّت ۔روحانی خزائن۔ جلد ۲۰صفحہ ۲۱۹ تا ۲۲۷)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مقرر فرمودہ ان شرائط پر عمل کی وصیت کرنے والے باعمل مومن کی تدفین اس قبرستان میں ہوتی ہے۔ ان شرائط میں بالکل واضح ہے کہ نظامِ وصیت کی اصل بنیاد ، توحیدِباری تعالیٰ اور رسالت نبی اکرم ﷺ پر سچاّ ایمان ، احکامِ اسلام کی پابندی،تقدّمِ دین بر دنیا،تقویٰ ، طہارت ، دینداری ، صالحیّت ،حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی وغیرہ وغیرہ امور ہیں ۔ انہیں اعمال کی کوکھ سے دین کے لئے جان ، مال اور وقت کی قربانی جنم لیتی ہے۔یہ جنّت کی بکنگ کا وہ اسلامی قانون ہے جو ’’انفسھم واموالھم‘‘کے بدلے جاری ہوا ہے، جس کو مسیحِ پاک علیہ السلام نے باقاعدہ ایک نظام میں باندھا ہے ۔قرآن کریم کی بنیاد پر قائم شدہ اس نظام پر راشد علی کو اعتراض ہے تو اس کا ہم کچھ نہیں کر سکتے۔
راشد علی کا ان اسلامی قوانین اور انعامات سے چونکہ کوئی تعلق نہیں اس لئے اسے اس کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ اسے اپنی فکر کرنی چاہئے۔ اسے جہاں جہنّم سے بچنے کا سرٹیفیکیٹ اور جنّت کے لئے بکنگ مل سکتی ہے اس کا شارٹ کٹ اس کو ہم بتا دیتے ہیں۔ چنانچہ حضرت خواجہ فرید الدّین گنج شکرکی طرف یہ بات منسوب کی جاتی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ
’’ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ دنیا میں جس مسلمان نے میری بیعت کی ہو گی یا مجھ سے مصافحہ کیا ہو گا۔ یا میرے فرزندوں کا ہاتھ پکڑا ہو گا۔ یا میرے مریدوں کی بیعت کی ہوگی... یا میرے خانوادہ میں بیعت کی ہو گی وہ ہرگز ہرگز دوزخ میں نہیں جائے گا۔‘‘ ( اردو ترجمہ کتاب ’’ اسرار الاولیاء‘‘ صفحہ۲۲۷۔ملفوظات حضرت خواجہ فرید الدّین گنج شکر مسعود)
راشد علی کو خدا تعالیٰ کے مامور اور نبی اکرم ﷺ کے مہدی معہود پر ایمان نصیب نہیں۔ اسے پتہ ہم نے بتا دیا ہے لہٰذا اسے کوشش کرنی چاہئے کہ اپنے تمباکو نوش پیر کو چھوڑ کر ان مذکورہ بالا مریدوں اور فرزندوں وغیرہ کی بیعت میں شامل ہوجائے ۔