In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » خطبات » حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ » 2009ء »

مومنوں کی منزل مقصود اللہ تعالیٰ کی رضا او ردنیا وآخرت کی بھلائی ہے

روحانی پانی کو جذب کر کے اس سے فائدہ اٹھانے کے لئے دلوں کی زرخیزی ضروری ہے، اللّٰہ تعالیٰ ہمیں اپنی صفت النافع سے فیض پانے اور نافع الناس وجود بننے کی توفیق عطا فرمائے، سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطبہ جمعہ فرمودہ یکم مئی 2009ء بمقام بیت الفتوح مورڈن لندن کاخلاصہ

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مورخہ یکم مئی 2009ء کو بیت الفتوح مورڈن لندن میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جو کہ متعدد زبانوں میں تراجم کے ساتھ ایم ٹی اے انٹرنیشنل پر براہ راست ٹیلی کاسٹ کیا گیا۔

حضور انور نے گزشتہ خطبہ جمعہ کے تسلسل میں خدا تعالیٰ کی صفت النافع کے مضمون کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ کائنات اور اس میں موجود ہر چیز خدا تعالیٰ کی پیداکردہ ہے اور اسی کے اذن سے یہ نفع رساں بھی ہے یا نقصان پہنچانے والی بھی بن سکتی ہے۔ خدا تعالیٰ کا ہر چیز کو پیدا کرنا اور پھر اسے کمال مطلوب تک پہنچانا ، تمام عالم پر جاری و ساری ہے۔ تمام عالم پر تحقیق کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ انسان پر نئے سے نئے حقائق ظاہر فرماتا ہے۔ ربوبیت الٰہی اگرچہ ہر ایک موجود کی موجد اور ہر ایک ظہور پذیر چیز کی مربی ہے لیکن بحیثیت احسان سب سے زیادہ فائدہ اس کا انسان کو پہنچتا ہے کیونکہ وہ تمام مخلوقات سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ اس لئے انسان کو یاد دلایا گیا ہے کہ تمہارا خدا رب العالمین ہے تا انسان کی امید زیادہ ہو اور یہ یقین کرے کہ ہمارے فائدہ کے لئے خدا تعالیٰ کی قدرتیں وسیع ہیں اور طرح طرح کے عالم اسباب ظہور میں لا سکتا ہے۔

حضور انور نے کائنات اور اس میں پھیلی ہوئی بیشمار نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ رات اور دن کی پیدائش میں ظاہری فوائد کے ساتھ روحانی اعتبارسے بھی اندھیرے کے بعد روشنی کے سامان خدا تعالیٰ نے پیدا فرمائے ہیں اور اپنے فرشتوں ، انبیاء اور مامورین کے ذریعے روحانی ظلمتوں کو دور کرنے کے لئے سامان مہیا کرتا ہے۔جس طرح مادی طور پرکشتیوں کے ذریعے نقل وحمل کے محفوظ ذرائع پیدا فرمائے ہیں اسی طرح روحانی دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کے خاص بندے روحانی کشتیاں تیار کرتے ہیں جو بلاؤں اور آفات کے سمندر میں ماننے والوں کو منزل مقصود تک پہنچاتی ہیں جو کہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور دنیا وآخرت کی بھلائی ہے۔ حضرت مسیح موعود نے بھی آکر ایک روحانی کشتی تیار کی ہے اور اس میں سوا ر وہی لوگ ہوں گے جو اس کا حق ادا کرنے والے ہوں گے۔ حضرت مسیح موعود نے ایک کتاب کشتی نوح کے نام سے تحریر فرمائی جس میں آپ نے وہ معیار بتائے ہیں جن کو حاصل کرنے یا حاصل کرنے کی کوشش کر کے ایک انسان ایک احمدی اس کشتی میں اپنے آپ کو محفوظ کر سکتا ہے جو حضر ت مسیح موعود نے بنائی ہے۔

امام الزمان کے حکموں اور تعلیم پر عمل کر کے ہم ہر اس روحانی پانی سے بھی فیض پائیں گے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس کے ذریعے ہم نے زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد زندہ کر دیا۔ لیکن یاد رکھیں کہ روحانی پانی کو جذب کر کے اس سے فائدہ اٹھانے کے لئے دلوں کی زرخیزی ضروری ہے۔ حضور انور نے فرمایا کہ ایک حدیث میں تین قسم کی ، زرخیز، سخت اور پتھریلی زمینوں کی مثال تین قسم کے طبائع کے لوگوں سے دی گئی ہے، وہ شخص جو خود دین حاصل کرکے لوگوں تک اس دین اور علم کا فائدہ اور فیض پہنچاتا ہے۔ دوسرا ایسا شخص جو علم تو سیکھتا ہے لیکن خود اس پر عمل نہیں کرتا مگر اس علم کو دوسروں تک پہنچاتا ہے اور تیسری قسم کا آدمی اس پتھریلی زمین کی طرح ہے کہ روحانی بارش نہ اس کو کوئی فیض پہنچاتی ہے اور نہ دوسرے اس سے کوئی فائدہ حاصل کر رہے ہوتے ہیں ۔ پس ایک حقیقی مومن کو چاہئے کہ پہلی قسم میں شامل ہونے کی کوشش کرے۔

حضور انور نے فرمایا کہ جانوروں کا پھیلانا بھی اللہ تعالیٰ کے احسانوں میں سے ایک احسان ہے۔ ان سے انسان کو حاصل ہونے والے فوائد بیان کر کے فرمایا کہ انسانی حیات میں ان جانوروں کا بہت بڑا کردار ہے۔ روحانی دنیا میں بھی ایسے مومن ہیں جو روحانی پانی سے فیضیاب ہو کر پھر زمین کی رونق قائم کرتے ہیں اور کثرت سے دنیا میں پھیل کر اللہ تعالیٰ کے پیغام کو پہنچاتے ہیں ۔ حضور انور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل کی ہوائیں روحانی دنیا میں چلاتا ہے اور اپنے مامورین اور ان کی جماعت کی ان سے مدد بھی فرماتا ہے۔ حضرت مسیح موعود کی زندگی سے لے کر آج تک اللہ تعالیٰ خود اپنے فضل سے مخالف ہواؤں کے رخ بدل رہا ہے اور ایسی ہوائیں چلاتا ہے جو سعید دلوں کو حق پہنچانے کی طرف مائل کرتی ہیں ۔ تو یہ ہیں اللہ تعالیٰ کے کام کہ بارشیں او رہوائیں مومنوں کی تائید میں بھیجتا ہے پس یہ ہے ہمارا النافع خدا جو ہر آن ہمیں نفع پہنچاتا چلا جا رہا ہے۔ خد اتعالیٰ ہمیں اپنی صفت النافع سے فیض پانے اور نافع بننے کی توفیق عطا فرمائے اور جو روحانی انقلاب حضرت مسیح موعود کے ذریعے مقدر ہے اس میں ہم بھی حصہ دار بننے والے ہوں۔ آمین