سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مورخہ 8 مئی 2009ء کو بیت الفتوح مورڈن لندن میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔ حضور انور کا یہ خطبہ جمعہ متعدد زبانوں میں تراجم کے ساتھ ایم ٹی اے انٹرنیشنل پر براہ راست ٹیلی کاسٹ کیا گیا۔
حضور انور نے فرمایاکہ اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے ایک نام الواسع بھی ہے جس کا مطلب ہے وہ ذات جس کا رزق اس کی ساری مخلوق پر حاوی ہے ، جس کی رحمت ہر چیز پر حاوی ہے، جس کا غنی ہونا ہر احتیاج پر حاوی ہے، جس سے جب سوال کیا جاتا ہے تورحمت وسیع سے وسیع تر ہوتی جاتی ہے۔ وہ ذات جو ہر ایک چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور ہر ایک چیز کا علم رکھتی ہے۔ حضورانورنے قرآن کریم کی بعض آیات پیش کیں جن میں خدا تعالیٰ نے بعض باتوں کی طرف مومنوں کو توجہ دلاتے ہوئے انہیں اپنی صفت واسع کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔
حضور انور نے فرمایا سورۃ البقرۃ آیت 269میں شیطان کا بندوں کو ورغلانے کا ذکر ملتا ہے کہ شیطان غربت سے ڈراتا اور فحشاء کا حکم دیتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ اپنی جناب سے بخشش اور فضل کا وعدہ کرتا ہے۔ بے شمار جگہ پر اللہ تعالیٰ نے ہمیں مختلف حوالوں سے شیطان سے بچنے کی تلقین فرمائی ہے کہ وہ تمہارا کھلا کھلا دشمن ہے۔ نیک اعمال بجا لاؤ، عبادات کی طرف توجہ کرو۔ حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ قرآن کریم میں بیان شدہ واقعات پرانی باتیں نہیں بلکہ آئندہ کے لئے پیشگوئیاں ہیں اس لئے اگر حقیقی مومن ہوتو ان سے نصیحت حاصل کرو۔
حضور انور نے فرمایا کہ شیطان تمہیں فقر سے ڈراتا ہے ۔ فقر کے معنی غربت اور ریڑھ کی ہڈی کے ٹوٹنے کے بھی ہیں۔ شیطان تمہیں ورغلاتا ہے کہ اگر یہ کام کرو گے تو تم کھڑے ہونے کے بھی قابل نہیں رہو گے اور دنیاوی ترقی میں پیچھے رہ جاؤ گے۔ کبھی انسان کو عبادت سے غافل کرتا ہے تو کبھی مالی قربانی سے روکنے کے لئے فقر سے ڈراتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کے بندے شیطان کے بہکاوے میں نہیں آتے۔حضور انور نے احمدیوں کی جانی اور مالی قربانیوں کا ذکر کر کے فرمایا کہ عبادالرحمن ایسے ہوتے ہیں جو خداتعالیٰ کی رضا کی خاطر کسی بھی قسم کی قربانی پیش کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔
حضورانور نے فرمایاکہ شیطان ایک طرف تو فقر کا خوف دلاکر انسان کو بہکاتا ہے تو دوسری طرف فحشاء کی ترغیب دے کر ایک دنیا دار کو دنیاوی لہو ولعب میں خرچ کرنے کے لئے ابھارتا ہے۔ اس عارضی لذت کی طرف ایسے خوبصورت انداز میں توجہ دلا رہا ہوتا ہے کہ انسان بھول جاتا ہے کہ وہ غلط کام کررہا ہے۔ پس مومنوں کیلئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ شیطا ن کے قدموں کی پیروی مت کرو کیونکہ وہ پوری کوشش میں ہے کہ تمہیں خدا تعالیٰ سے دور کر دے۔ خدا تعالیٰ کی طرف آؤ اور توبہ کرتے ہوئے اس کی طرف جھکو اللہ تعالیٰ تم سے بخشش کا وعدہ کرتا ہے۔
حضورانورنے فرمایاکہ جو ایمان لانے کے بعدتوبہ کی طرف توجہ کرنے والے ہیں ، اللہ تعالیٰ کے حضور جھکنے اور نیک اعمال بجالانے والے ہیں ان کے لئے فرشتے بھی دعا کرتے ہیں اور بخشش طلب کرتے ہیں گویا کہ خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں کے نیک اعمال کا زیادہ سے زیادہ اجر دینے کے لئے اپنے فرشتوں کے نظام کو بھی متحرک کیا ہوا ہے۔ پس یہ ہے ہمارارحمن اور غفور الرحیم خداجو انسان کی بخشش کے سامان کرنے اوراسے نیکیوں پر قائم رکھنے کے لئے ہر ذریعہ استعمال کرتا ہے۔ خدا تعالیٰ نے انسان پر اپنی بے پناہ رحمت کا اظہار کر کے ساتھ ہی انسان کو اس کے مقصد پیدائش کی طرف بھی توجہ دلا دی کہ تقویٰ اختیار کرو،میری عبادت کرو، میرے سے محبت سب رشتوں سے بڑھ کر کرو، حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کے لئے مالی قربانیاں بھی کرو اور میری آیات پرایمان لاؤ۔
حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ رحمت خدا تعالیٰ کی عام اور وسیع ہے اور غضب یعنی صفت عدل قانون الٰہی سے تجاوز کرنے کے بعد اپنا حق پیدا کرتی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے جو قانون قدرت رکھا ہے اس کے تحت حد سے زیادہ بڑھنے والوں کو سزا بھی دیتا ہے اس لئے گناہ گاروں کے بارے میں نہیں بلکہ تقویٰ اختیار کرنے ، زکوٰۃ دینے اور خدا تعالیٰ کے نشانوں پر ایمان لانے والوں کے بارے میں فرمایا کہ ان پر میری رحمت واجب ہو گی۔ پس ایک مومن کا کام ہے کہ اس رحمت کے حصول کی کوشش کرتا رہے اور پھر اللہ تعالیٰ کی وسیع تر رحمتوں کی امید رکھے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین