سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مورخہ 15 مئی 2009ء کو بیت الفتوح مورڈن لندن میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔جس میں آپ نے دوباتوں کی طرف بطور خاص احباب جماعت کوتوجہ دلائی۔ بیویوں کے حقوق کے بارے میں آنحضرتؐ کا اسوۂ حسنہ کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی خاطر ان کے حقوق کی ادائیگی کے اعلیٰ ترین معیار کس طرح آپؐ نے قائم فرمائے اور دوسری بات کہ اس اسوہ پر چلنے کی کوشش کرتے ہوئے ہر احمدی کو ان حقوق کی ادائیگی کی طرف توجہ دینا کس قدر ضروری ہے۔ حضور انور کا یہ خطبہ جمعہ مختلف زبانوں میں تراجم کے ساتھ ایم ٹی اے پر براہ راست ٹیلی کاسٹ کیا گیا۔
حضور انورنے اللہ تعالیٰ کی صفت واسع کے تسلسل میں بعض آیات کی روشنی میں ایسے مضامین بیان کئے جن کا تعلق ہماری روزمرہ کی زندگی اور ہماری اخلاقی و روحانی حالتوں سے ہے۔ فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے وسیع تر علم کی وجہ سے ہمارے ہر عمل کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ آنحضرت ؐ کے اسوۂ حسنہ پر چلنے کی ہمیں تلقین فرمائی گئی ہے۔ عائلی معاملات میں آپؐ کا ارشاد ہے کہ تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے اہل خانہ کے ساتھ حسن سلوک میں بہتر ہے اور میں تم سب سے بڑھ کر اپنے اہل خانہ کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا ہوں۔ فرمایا کہ ہمیشہ مثبت باتوں کو سامنے رکھ کر ایثار کا پہلو اختیار کرنا چاہئے اور موافقت کی فضا پیدا کرنی چاہئے۔
حضور انور نے فرمایا کہ قرآن کریم نے اگر ایک سے زیادہ شادیوں کا حکم دیا ہے تواس کے ساتھ شرائط بھی عائد فرمائی ہیں کہ اگر تمہیں اس بات کا خوف ہو کہ تم ایک سے زیادہ بیویوں کے درمیان انصاف نہیں کر سکو گے تو پھر صرف ایک بیوی ہی کافی ہے،یہ طریق قریب تر ہے کہ تم نا انصافی سے بچو۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ اگر اعتدال نہ ہو تو پھر ایک ہی پر کفایت کرو گو ضرورت پیش آوے۔ تمہاری ضرورت اصل اہمیت نہیں رکھتی بلکہ معاشرے کاامن ، سکون اور انصاف اصل چیز ہے اور انصاف میں ہر قسم کے حقوق کی ادائیگی شامل ہے۔ پس یہ جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ ایک سے زیادہ بیویوں کی صورت میں مالی کشائش اور دوسرے حقوق کی ادائیگی میں بے انصافی تو نہیں ہو رہی۔
حضور انور نے طلاق اورخلع کے معاملات کا ذکرکرتے ہوئے فرمایا کہ اگر اصلاح کی کوئی بھی صورت نہ ہو تو کالمعلقہ یعنی لٹکتا ہوا نہ چھوڑدو، پھر اس کا حق دے کر احسن طریق پر اسے رخصت کرو۔ کالمعلقہ کی صورت میں بیوی کو بھی اختیار ہے کہ قاضی کے ذریعے خلع لے لے ۔ فرمایا گو طلاق ناپسندیدہ عمل ہے لیکن جب تقویٰ پر چلتے ہوئے اکٹھے رہنے کی تمام تر کوششیں ناکام ہو جائیں تو علیحدگی کی صورت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ اپنی وسیع تر رحمتوں اور فضلوں سے مرد اور عورت دونوں کیلئے بہتر سامان پیدا فرما دے گا اور انہیں اپنی جناب سے غنی اور بے احتیاج کر دے گا۔
حضورانور نے فرمایا کہ رشتوں کے فیصلے جذبات میں آ کر نہیں کرنے چاہئیں بلکہ اللہ تعالیٰ سے مددلیتے ہوئے دعا کر کے سوچ سمجھ کررشتے جوڑنے چاہئیں اور جب ایسے رشتے جڑتے ہیں تو ان میں پھر اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے وسعتیں بھی پیدا کر دیتا ہے، انہیں غنی کر دیتا ہے ، ان کے مال میں کشائش اوران کے تعلقات میں بھی کشادگی پیدا کر دیتا ہے۔ عورتوں سے حسن سلوک کے ضمن میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر ایک مرد شادی کے بعد ازدواجی تعلقات قائم کرنے سے قبل رشتے کو قائم رکھنا نہیں چاہتا تو مقررہ حق مہر کا نصف ادا کرناہو گا اور اگر ایسی صورت ہو کہ ابھی حق مہر نہ بھی مقرر کیا ہو توبھی حکم ہے کہ عورت کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے بطور احسان اسے کچھ نہ کچھ مالی فائدہ پہنچاؤ۔
حضورانورنے آخرپرایک امرکی طر ف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ سوائے احسن طریق کے اور یتیموں کامال جن کے پاس آتا ہے وہ اس کے امین ہیں اس لئے اسے ان یتیموں کی بہتری کیلئے استعمال کرنا چاہئے۔ اور جب وہ اپنی بلوغت کی عمر کو پہنچ جائیں تو انصاف اورپورے ماپ تول کے ساتھ ان کے مال انہیں لوٹا دو اورعدل سے کام لو اوراللہ کے ساتھ کئے گئے عہد کو پورا کرو، یہ وہ امر ہے جس کی وہ تمہیں سخت تاکید کرتا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو ، پس ہمارا فرض ہے کہ خدا تعالیٰ کی وسیع تر رحمت اور شفقت کی وجہ سے ایمان میں بڑھنے اور نیک اعمال بجالانے کی کوشش کرتے چلے جائیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین