30 نومبر 1990ء ۔ عبادت میں مزا پیدا کرنے کا سوال
سورۂ فاتحہ میں سارے سوالوں کا جواب۔ اپنی لذات کا قبلہ خدا کو بنائیں۔کائنات کی ہر چیز حمد کا باعث ہے۔ عبادت کو حمد سے خالی نہ ہونے دیں۔دعا وہی قبول ہوتی ہے جو قبول ہونے کا حق رکھتی ہے۔ انسانی زندگی کا ہر عمل عبادت میں بدل سکتا ہے۔ عرفان بڑھنے سے نماز میں لذت پیدا ہوتی ہے۔خوف اور صدمے کی حالت ہی حمد کا اصل وقت ہے۔ (بیت الفضل۔ لندن)
|  |
|
|
|
|
|
21 دسمبر 1990ء ۔ نماز کا عرفان خدا کی ہستی سے تعلق بڑھانے کا ذریعہ ہے
صفت رب العالمین پر غور کریں۔ اپنے اعمال کو ربوبیت کی کسوٹی پر پرکھیں۔ربوبیت کے بعد اپنے اندر رحمانیت کی شان پیدا کریں۔مالک کا صحیح مفہوم۔ مالک بننے کی کوشش کرنا۔خداتعالیٰ کے احکام اور صفات کی پیروی کی ضرورت۔ خدا سے ہر چھوٹی اور بڑی چیز مانگو۔خدا سے اس کا قرب مانگو۔ (بیت الفضل۔ لندن)
|  |
|
28 دسمبر 1990ء ۔ اللہ تعالیٰ کی صفت مالکیت کی وسعت
جے توں میرا ہورویں سب جگ تیرا ہو۔ مغضوب اور ضالّین کا خدائی صفات سے تعلق۔ کشف کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی راہنمائی۔ مذہبی دنیا کا ضائع شدہ مواد۔ خدا کے غضب کا مورد انسان خود بنتا ہے۔ ضالین اور مغضوب علیہم کا فرق۔ سورۃ فاتحہ کی بے مثال وسعت۔ تمام کائنات کا خدا کے حضور جھکنا۔اپنی عبادات میں وسعت پیدا کریں۔ (بیت الفضل۔ لندن)
|  |
|