In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » شخصیات » حضرت مسیح موعودو مہدی معہود ؑ » PDF ڈاؤن لوڈ کریں PDF ڈاؤن لوڈ کریں

ذکر حبیب

مکرم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب، جلسہ سالانہ 1973ء
+ فہرست مضامین

بچوں سے شفقت و محبت

اب میں امر دوم یعنی بچوں سے شفقت ،محبت اور سلوک کے بارہ میں چند روایات پیش کرتاہوں۔

*۔۔۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ الحکم میں تحریر فرماتے ہیں:

’’محمود (حضرت خلیفۃ المسیح الثانی) چار ایک برس کا تھا ۔حضرت معمولاً اندر بیٹھے لکھ رہے تھے ۔ میاں محمود دیا سلائی لے کر وہاں تشریف لائے اور آپ کے ساتھ بچوں کا ایک غول بھی تھا۔ پہلے کچھ دیر تک آپس میں کھیلتے جھگڑتے رہے پھر جو کچھ دل میں آئی ان مسودات کو آگ لگا دی اور آپ لگے خوش ہونے اور تالیاں بجانے اور حضرت لکھنے میں مشغول ہیں۔ سر اٹھا کر دیکھتے بھی نہیں کہ کیا ہو رہاہے ۔ اتنے میں آگ بجھ گئی اور قیمتی مسودے راکھ کا ڈھیر ہو گئے اور بچوں کو کسی اور مشغلہ نے اپنی طرف کھینچ لیا۔ حضرت کو سیاق و سباق عبارت کے ملانے کے لئے کسی گزشتہ کاغذ کے دیکھنے کی ضرورت پیش آئی۔ اس سے پوچھتے ہیں خاموش! اُس سے پوچھتے ہیں دبکا جاتاہے آخر ایک بچہ بول اٹھا کہ میاں صاحب نے کاغذ جلا دئے۔ عورتیں بچے اور گھر کے سب لوگ حیران اورانگشت بدندان کہ اب کیا ہوگا اور درحقیقت عادتاً بری حالت اور مکروہ نظار ہ کے پیش آنے کا گمان اور انتظار تھا اور ہونابھی چاہئے تھا۔ مگر حضرت مسکرا کرفرماتے ہیں ،’’خوب ہوا۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی کوئی بڑی مصلحت ہوگی اور اب خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس سے بہتر مضمون ہمیں سمجھا ئے‘‘۔(سیرت مسیح موعود از حضرت شیخ یعقوب علی صاحب)

حضرت مولانا عبدالکریم صاحبؓسے روایت ہے کہ :’’ آپ بچوں کی خبرگیری اور پرورش اس طرح کرتے ہیں کہ ایک سرسری دیکھنے والا گمان کرے کہ آپ سے زیادہ اولاد کی محبت کسی کو نہ ہوگی۔ اور بیماری میں اس قدر توجہ کرتے ہیں اور تیمارداری اور علاج میں ایسے محو ہوتے ہیں کہ گویا اورکوئی فکر ہی نہیں مگر باریک بین دیکھ سکتاہے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے لئے ہے او رخداکے لئے اس کی ضعیف مخلوق کی رعایت اور پرورش مدنظر ہے ۔ آپ کی پلوٹھی بیٹی عصمت لدھیانہ میں ہیضہ سے بیمار ہوئی آپ اس کے علاج میں یوں دوا دہی کرتے کہ گویا اس کے بغیر زندگی محال ہے اور ایک دنیا دار دنیا کی عرف اور اصطلاح میں اولاد کا بھوکا اور شیفتہ اس سے زیادہ جانکاہی کر ہی نہیں سکتا۔ مگر جب وہ مر گئی آپ یوں الگ ہو گئے کہ گویا کوئی چیز تھی ہی نہیں اورجب سے کبھی ذکر تک نہیں کیا کہ کوئی لڑکی تھی‘‘۔

’’اسی طرح صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کی علالت کے ایام میں آپ نے شبانہ روز اپنے عمل سے دکھایا کہ اولاد کی پرورش اور صحت کے لئے ہمارے کیا فرائض ہیں‘‘۔(سیرت مسیح موعودؑ از یعقوب علی صاحب عرفانیؓ)

حضرت شیخ یعقوب علی صاحبؓ تراب اپنی تصنیف سیرت مسیح موعودؑ حصہ سوم میں تحریر فرماتے ہیں کہ :

’’آپ بچوں کو گود میں اٹھائے ہوئے باہر نکل آیا کرتے تھے اور سیرمیں بھی اٹھا لیا کرتے ۔ اس میں کبھی آپ کو تأمل نہ ہوتاتھا۔ اگرچہ خدام جو ساتھ ہوتے وہ خود اٹھانا اپنی سعادت سمجھتے مگر حضرت بچوں کی خواہش کا احساس یا انکے اصرار کو دیکھ کر آپ اٹھا لیتے اور انکی خوشی پوری کر دیتے ‘‘۔

بچوں کا مناسب احترام ان میں خود اعتمادی پیدا کرنے کے لئے ضروری امر ہے جس کی طرف احمدی والدین کو توجہ کرنی چاہئے۔ بسااوقات دیکھا گیا ہے کہ یا تو والدین بچوں کے سوالات کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے یا سختی سے روک دیتے ہیں ۔یہ طریق بچوں کی ذہنی نشوونما اور خوداعتمادی کے لئے ضرررساں ہے۔ حضرت مسیح موعود ؑ کے عمل سے جماعت کی اس جہت میں بھی راہنمائی ملتی ہے۔

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ڈاکٹرمیر محمد اسماعیل صاحبؓ نے بیان فرمایا کہ :

’’جب حضرت مسیح موعودؑ نے لدھیانہ میں دعویٰ مسیحیت شائع کیا تو ان دنوں میں چھوٹا بچہ تھا اور شاید تیسری جماعت میں پڑھتا تھا مجھے اس دعویٰ سے کچھ اطلاع نہ تھی ۔ ایک دن میں مدرسہ گیا تو بعض لڑکوں نے مجھے کہا کہ وہ جو قادیان کے مرزا صاحب تمہارے گھر میں ہیں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ فوت ہو گئے ہیں اور یہ کہ آنے والے مسیح وہ خود ہیں ۔ میں نے ان کی تردید کی کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے ۔ حضرت عیسیٰ تو زندہ ہیں اورآسمان سے نازل ہونگے۔ خیر جب میں گھر آیا تو حضرت صاحب بیٹھے ہوئے تھے ۔میں نے آپ سے مخاطب ہو کر کہا کہ میں نے سنا ہے آپ کہتے ہیں کہ آپ مسیح ہیں؟ میرا یہ سوال سن کر حضرت صاحب خاموشی سے اٹھے اورکمرے کے اندر الماری سے ایک نسخہ فتح اسلام لاکر مجھے دے دیا اور فرمایا اسے پڑھو۔ ڈاکٹر صاحب فرماتے تھے کہ حضرت مسیح موعود ؑ کی صداقت کی دلیل ہے کہ آپ نے ایک چھوٹے بچہ کے معمولی سوال پر اس قدر سنجیدگی سے توجہ فرمائی ورنہ یونہی کوئی بات کہہ کر ٹال دیتے ‘‘۔(سیرت مسیح موعود ؑ از عرفانی صاحب)

اقرباء سے حُسنِ سلوک

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ اپنی تصنیف سیرت المہدی حصہ دوم میں تحریر فرماتے ہیں:

’’خواجہ عبدالرحمان صاحب متوطن کشمیر نے مجھ سے بذیعہ خط بیان کیا کہ مکرمی لَسّہ ڈار ساکن آسنور کشمیر اپنے بھائی حاجی عمر ڈار صاحب سے روایت کرتے تھے کہ جب میں پہلی دفعہ قادیان میں بیعت کے لئے آیا تو میر ے یہاں پہنچنے کے بعد جو پہلی تقریر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمائی وہ حقوق اقرباء کے متعلق تھی۔ چونکہ میں نے اپنے بھائی کا کچھ حق دبایا ہوا تھا میں سمجھ گیا اور کشمیر پہنچ کر ان کا حق ان کو ادا کر دیا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ چونکہ اللہ تعالٰی نے انبیاء و مرسلین سے اصلاحِ خلق کا کام لینا ہوتا ہے اس لئے وہ عموماً ایسا تصرف کرتا ہے کہ جو کمزوریاں لوگوں کے اندر ہوتی ہیں انہی کے متعلق ان کی زبان پر کلام جاری کر دیتا ہے جس سے لوگوں کو اصلاح کا موقع مل جاتا ہے‘‘۔

سیرۃ المہدی حصہ دوم میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے اقرباء سے حسن سلوک کا ایک بہت ہی پیارا واقعہ بیان فرمایا ہے ۔ آپ تحریر فرماتے ہیں:

’’ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ابتدائی ایام کا ذکر ہے کہ والد بزرگوار ( یعنی خاکسار کے نانا جان حضرت میر ناصر نواب صاحب مرحوم) نے اپنا ایک بانات کا کوٹ جو مستعمل تھا ہمارے خالہ زاد بھائی سید محمد سعید کو جو ان دنوں قادیان میں تھا کسی خادمہ عورت کے ہاتھ بطور ہدیہ بھیجا۔ محمدسعید نے نہایت حقارت سے وہ کوٹ واپس کر دیا اور کہا کہ میں مستعمل کپڑا نہیں پہنتا۔ جب وہ خادمہ یہ کوٹ واپس لا رہی تھی تو راستہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ میر صاحب نے یہ کوٹ محمد سعید کو بھیجاتھا مگر اُس نے واپس کر دیا ہے کہ میں اترا ہوا کپڑا نہیں پہنتا۔ حضرت صاحب نے فرمایا کہ اس سے میر صاحب کی دلشکنی ہوگی تم یہ کوٹ مجھے دے جاؤ ہم پہنیں گے اور ان سے کہہ دینا کہ میں نے رکھ لیا ہے ‘‘۔

یہ ایک انتہائی شفقت اور دلداری کا اظہار تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ مستعمل کوٹ خود اپنے لئے رکھ لیا تا حضرت نانا جان کی دلشکنی نہ ہو ورنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کوٹوں کی کمی نہ تھی۔ حضور ؑ کے خدام حضورؑ کی خدمت میں بہتر سے بہتر کوٹ پیش کرتے رہتے تھے اور ساتھ ہی یہ انتہائی سادگی اور بے نفسی کا بھی اظہار تھا کہ دین کا بادشاہ ہو کر اترے ہوئے کوٹ کے استعمال میں تامل نہیں کیا۔

یہ واقعہ جن بزرگ کے متعلق ہے وہ حضورعلیہ السلام کے خسر بھی تھے اور بیعت کنندگان میں شامل اور حضور ؑ کے مریدوں میں سے تھے۔ آئیں اب دیکھیں کہ حضورؑ کے وہ رشتہ دار جو نہ صرف یہ کہ جماعت میں شامل نہ تھے بلکہ عداوت اور دشمنی میں کسی اور سے پیچھے نہ تھے کو ئی موقع ایسانہیں آیا کہ وہ ایذاء د ہی کر سکتے ہوں اور اس سے باز رہے ہوں۔ ان کی عداوت شقاوت کا رنگ رکھتی تھی ۔ ان سے حضور علیہ السلام کاکیسا معاملہ تھا ۔ ایک واقعہ کا ذکر حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے ان الفاظ میں کیا ہے ۔ آپ لکھتے ہیں کہ :

’’ و ہ گلی جو بازار اور جامع مسجد کو جاتی ہے ایک شارع عام تھی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چچازاد بھائیوں میں سے مرز ا امام الدین کو حضرت صاحب اور سلسلہ کے ساتھ عداوت اور عناد تھا اور کوئی دقیقہ تکلیف دہی کا اٹھا نہ رکھتے تھے ۔ ایک دفعہ اس نے اپنے دوسرے بھائیوں کے ساتھ مل کر اس راستہ کو جو بازار اور مسجد مبارک کا تھا ایک دیوار کے ذریعہ بند کر دیا ۔ دیوار ہماری آنکھوں کے سامنے بن رہی تھی اور ہم کچھ نہیں کرسکتے تھے بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم تھی کہ شرکا مقابلہ شر سے نہ کرو ورنہ اگرچہ جماعت اس وقت بہت قلیل تھی اور قادیان میں بہت تھوڑے آدمی تھے لیکن اگر اجازت ہوتی تو وہ دیوار ہرگز نہ بن سکتی۔۔۔۔۔۔ غرض وہ دیوار چن دی گئی اور اس طرح ہم سب کے سب پانچ وقت کی نمازوں کے لئے مسجد مبارک جانے سے روک دئے گئے۔ اور مسجد مبارک کے لئے حضرت صاحب کے مکانات کا ایک چکر کاٹ کر آنا پڑتا تھا۔۔۔۔۔۔ جماعت میں بعض کمزور اور ضعیف العمر انسان بھی تھے بعض نابینا تھے اور بارشوں کے دن تھے راستہ میں کیچڑ ہوتا تھا۔ اور بعض بھائی گر بھی پڑتے تھے جس سے ان کے کپڑے گارے کیچڑ میں لت پت ہوجاتے تھے۔ ان تکلیفوں کا تصور بھی آ ج مشکل ہے۔ غرض وہ دیوار ہو گئی اور راستہ بند ہو گیا اور پانی تک بند کر دیا گیا آخر مجبوراً عدالت میں جانا پڑا اور عدالت کے فیصلہ کے مطابق خود دیوار بنانے والوں کو اپنے ہی ہاتھ سے دیوار گرانا پڑی۔

عدالت نے نہ صرف دیوار گرانے کا حکم دیا بلکہ حرجانہ اور خرچ کی ڈگری بھی فریق ثانی پر کر دی۔ حضر ت اقدس نے کبھی اس خرچہ اور حرجانہ کی ڈگری کا اجراء پسند نہ فرمایا یہاں تک کہ اس کی میعاد گزرنے کو آ گئی ۔ اس وقت خواجہ کمال الدین صاحب نے اس خیال سے کہ میعاد گزر نہ جائے اس کے اجراء کی کارروائی کی اور اس میں حسب ضابطہ نوٹس مرزا نظام الدین صاحب کے نام جاری ہوا۔ حضرت اقدس کو اس واقعہ کی کچھ خبر نہ تھی۔ مرزا نظام الدین صاحب کو جب نوٹس ملا تو انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایک خط لکھا اس کامضمون یہ تھا کہ دیوار کے مقدمہ کے خرچ وغیرہ کی ڈگری کے اجراء کا نوٹس میرے نام آیا ہے اور میری حالت آپ کو معلوم ہے ۔اگرچہ میں قانونی طورپر اس روپیہ کے ادا کرنے کا پابند ہوں اور آپ کا بھی حق ہے کہ آپ وصول کریں مجھ کو یہ بھی معلوم ہے کہ ہماری طرف سے ہمیشہ آپ کو کوئی نہ کوئی تکلیف پہنچتی رہی ہے مگر یہ بھائی صاحب کی وجہ سے ہوتاتھا۔ مجھ کو بھی شریک ہونا پڑتاتھا۔ آپ رحم کر کے معاف فرماویں۔ حضرت اقدس اس وقت گورداسپور میں مقیم تھے ۔حضرت اقدس کے پاس جس وقت یہ خط پہنچا تو آپ نے سخت رنج کا اظہار فرمایا کہ کیوں اجراء کرائی گئی ہے مجھ سے کیوں دریافت نہیں کیا گیا۔ خواجہ صاحب نے عذر کیا کہ محض میعاد کومحفوظ کرنے کے لئے ایسا کیا گیا الاّ اِجرا مقصود نہ تھا۔ حضر ت اقدس نے اس عذر کو بھی پسند نہ فرمایا اور فرمایا کہ آئندہ کبھی اس ڈگری کا اجراء نہ کروایاجائے ہم کو دنیا داروں کی طرح مقدمہ بازی اور تکلیف دہی سے کچھ کا م نہیں۔ انہوں نے اگر تکلیف دینے کیلئے کوئی حرکت کی توہمارا یہ کام نہیں ہے۔ خدا تعالیٰ نے مجھے اس غرض کے لئے دنیا میں نہیں بھیجا۔ اور اسی وقت ایک مکتوب مرزا نظام الدین صاحب کے نام لکھا اور مولوی یارمحمد صاحب کو دیا کہ وہ جہاں ہوں ان کو فوراً جا کر وہاں پہنچائیں‘‘۔

’’اس خط میں حضور علیہ السلام نے مرزا نظام الدین صاحب سے ہمدردی کا اظہار فرمایا تھا اور تحریر فرمایا تھا کہ اس ڈگری کا کبھی اجراء نہیں کروایا جائے گا اور سب کچھ معاف فرمایا تھا‘‘۔

صفحہ نمبر: 2 (کل صفحات: 4)