مہمان نوازی
اب میں حضور ؑ کے اخلاق فاضلہ میں سے مہمان نوازی کے خلق پر کچھ عرض کروں گا۔
آپؑ کی مہمان نوازی کا یہ عالم تھا کہ جہاں کوئی دوست آیا اور آپ کا چہرہ خوشی سے پھول کی طرح کھل گیا۔ مہمان کو اچھی جگہ بٹھاتے اس کے متعلقین کی خیریت دریافت فرماتے اورجو کچھ و ہ عرض کرتا بڑی توجہ سے سنتے۔ جو خدام مہمان نوازی کے کام پر متعین تھے ان کوباربار تاکید فرماتے کہ مہمانوں کی خاطر تواضع میں کوئی کسر نہ رہ جائے ۔پھرخود بھی ذاتی توجہ ہر مہمان کے آرام اور اس کی ضروریات کے متعلق فرماتے۔ اگر کسی دوست نے کچھ عرصہ قیام کرنا ہوتا تو اس سے دریافت فرماتے کہ گھر میں وہ کیا کیا کھانے کھاتے تھے تا ان کی عادت کے مطابق خوراک کا انتظام فرما سکیں۔ مدتوں حضورعلیہ السلام دوستوں کے ساتھ مل کر باہرکھانا تناول فرمایا کرتے تھے لیکن دراصل یہ ساتھ کھاناکھانے کی غرض کم اور خدمت کی غرض زیادہ رکھتا تھا۔ کھانے کے دوران اٹھ اٹھ کر گرم چپاتی اندر سے لے کر آتے۔ کسی دوست کی خواہش کے اظہار پر اچار مربّہ اندر سے لے آتے۔ حضور بہت کم خور تھے زیادہ وقت دوستوں کوکھلانے ہی میں گزر تا تھا۔ ایک دوست حافظ عظیم بخش صاحب پٹیالوی آنکھوں سے نابینا تھے و ہ ذکر کیا کرتے تھے کہ حضرت اقدس مجھے اپنے ہاتھ سے لقمہ بنا کر دیتے اور میں کھاتا‘‘۔
قاضی محمد یوسف صاحب جو عرصہ دراز تک صوبہ سرحد کے امیر رہے ہیں اور سلسلہ کے ایک مخلص خادم تھے بیان فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں اور عبدالرحیم خان صاحب پسر مولوی غلام حسین خا ن صاحب پشاوری مسجد مبارک میں کھانا کھا رہے تھے جو حضرت صاحب کے گھر سے آیا تھا ناگاہ میری نظر کھانے میں ایک مکّھی پر پڑی ۔ چونکہ مجھے مکھّی سے طبعاً نفرت ہے میں نے کھانا ترک کر دیا ۔ اس پر حضرت کے گھر کی ایک خادمہ کھانا اٹھا کر واپس لے گئی۔ اتفاقاً ایسا ہوا کہ اسی وقت حضرت اقدس اندرون خانہ کھانا تناول فرما رہے تھے ۔خادمہ حضرت کے پاس سے گزری تو اس نے حضرت سے ماجرا عرض کر دیا۔ حضرت نے فوراً اپنے سامنے کا کھانا اٹھا کر اس خادمہ کے حوالہ کر دیا کہ یہ لے جاؤ اور انپے ہاتھ کا نوالہ بھی برتن میں ہی چھوڑ دیا ۔ و ہ خادمہ خوشی خوشی ہمارے پاس و ہ کھانا لائی اور کہا کہ لو حضرت صاحب نے اپنا تبرک دے دیا ہے۔ اس روایت کے لکھتے وقت ایک امر نے خاص طور پر مجھے متوجہ کیا وہ یہ کہ حضور علیہ السلام کے صحابہ اپنے اخلاص فدائیت جذبہ خدمت محبت اور وفا کے باوجود حضور علیہ السلام سے ایسے بے تکلف تھے جیسے گہرے دوست ۔ حضور علیہ السلام کی ذات ان کے لئے ایک ہوّا نہ تھی کہ خوف میں دبے جاتے ہوں۔ حضور کی مجالس میں بھی اورحضور کا ذکر کرتے ہوئے بھی صرف ’’حضرت‘‘کے لفظ کا استعمال عدم احترام نہیں بلکہ قرب اور پیار اور جانثاری پر دلالت کرتا ہے۔ آپ میں اور آپ کے صحابہ میں کسی قسم کی کوئی غیریت نہ تھی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے مرسلین او ر مامورین کی یہی شان ان میں وہ مقناطیسی قوت پیدا کرتی تھی جو سننے سے نہیں دیکھنے سے ہی سمجھ آ سکتی ہے۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ بڑی رات گئے ایک مہمان آ گیا ۔ کوئی چارپائی خالی نہ تھی اور سب سو رہے تھے ۔ حضرت اقدس ؑ نے فرمایا ذرا ٹھہرئیے میں ابھی انتظام کرتاہوں۔ آپ اندر تشریف لے گئے اور دیر تک واپس تشریف نہ لائے ۔ مہمان نے خیال کیا کہ شاید حضرت بھول گئے ۔ اس نے ڈیوڑھی میں جھانکا تو دیکھا کہ ایک صاحب چارپائی بن رہے ہیں اورحضرت خود مٹی کا دیا اٹھائے اس کے پاس کھڑے ہیں ۔چارپائی بُنی گئی او ر مہمان کو دی گئی۔ ادھر مہمان صاحب عرق ندامت میں غرق ہو رہے تھے کہ میں نے آدھی رات کے وقت حضرت کو اس قدر تکلیف دی ۔ ادھر حضرت اقدس عذر فرما رہے تھے کہ چارپائی لانے میں دیر ہو گئی‘‘۔
حضور علیہ السلام کی زندگی کے آخری ایام کی بات ہے کہ حضور ؑ کے ایک صحابی بابوشاہ دین صاحب بہت بیمار ہو گئے ۔ انہی دنوں حضور کو لاہورکا سفر اختیار کرنا پڑا۔ یہ حضور علیہ السلام کا آخری سفر تھا ۔ وفات سے تیرہ روز قبل حضورعلیہ السلام نے حضرت ڈاکٹرخلیفہ رشیدالدین صاحب کو ایک خط لکھا ( جو ان دنوں قادیان میں تھے)جس میں بابوصاحب کی تیمارداری کی طرف خاص توجہ دلائی گئی تھی۔ حضور نے تحریر فرمایا:
’’بابو شاہ دین صاحب کی خبر گیری سے آپ کو بہت ثواب ہوگا۔ میں بہت شرمندہ ہوں کہ ان کے ایسے نازک وقت میں قادیان سے سخت مجبوری کے ساتھ مجھے آنا پڑا اور جس خدمت کا ثواب حاصل کرنے کے لئے میں حریص تھا وہ آپ کو ملا ۔امید ہے آپ ہرروز خبر لیں گے اوردعا بھی کرتے رہیں گے اور میں بھی دعا کرتاہوں‘‘۔
حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ نے اپناایک واقعہ یوں بیان فرما یا ہے کہ :
’’ دو چاربرس کاعرصہ گزرتاہے کہ آپ کے گھر کے لوگ لدھیانہ گئے ہوئے تھے ۔ جون کامہینہ تھا اور اندر مکان نیا نیا بنا تھا۔ میں دوپہر کے وقت وہا ں چارپائی بچھی ہوئی تھی اس پرلیٹ گیا۔ حضرت ٹہل رہے تھے۔ میں ایک دفعہ جاگا تو آپ فرش پر میری چارپائی کے نیچے لیٹے ہوئے تھے ۔ میں ادب سے گھبرا کر اٹھ بیٹھا۔ آپ نے بڑی محبت سے پوچھا آپ کیوں اٹھے؟ میں نے عرض کیا کہ آپ نیچے لیٹے ہوئے ہیں میں اوپر کیسے سوئے رہوں۔ مسکرا کر فرمایا میں تو آپ کا پہرہ دے رہا تھا لڑکے شور کرتے تھے انہیں روکتا تھا کہ آپ کی نیند میں خلل نہ آوے‘‘۔(سیرت مسیح موعودؑ مؤلفہ عرفانی صاحبؓ)
محترم چوہدری محمد ظفراللہ خان صاحب نے بیان کیا کہ:
’’ ایک دن دوپہر کے وقت ہم مسجد مبارک میں بیٹھے کھاناکھا رہے تھے کہ کسی نے اس کھڑکی کو کھٹکھٹایا جو کوٹھڑی سے مسجد مبارک میں کھلتی تھی ۔میں نے دروازہ کھولا تو دیکھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود تشریف لائے ہیں۔ آپ کے ایک ہاتھ میں طشتری ہے جس میں ایک ران بھنے ہوئے گوشت کی ہے وہ حضور نے مجھے دی اور حضور خود واپس اندر تشریف لے گئے اورہم نے بہت خوشی سے اسے کھایا۔ اس شفقت اور محبت کا اثر اب تک میرے دل میں ہے۔ اور جب بھی اس واقعہ کو یاد کرتا ہوں تو میرادل خوشی اور فخر کے جذبات سے لبریز ہو جاتا ہے‘‘۔(سیرت المہدی حصہ چہارم ،غیر مطبوعہ)
حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ حضور علیہ السلام کی مہمان نوازی کے متعلق تحریر فرماتے ہیں:۔
’’یہ صفت آپ میں اتنی نمایاں تھی کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ آپ ہروقت مہمانوں کی آمد کے لئے چشم براہ رہتے ہیں اورجب بھی کوئی مہمان آتا تھا خواہ وہ غریب ہو یا امیر آپ کی دل کی کلی شگفتہ ہو کرپھول کی طرح کھل جاتی تھی اور آپ اس کے آنے پر ہررنگ میں دلی خوشی کا اظہار کرنے اورہرممکن طریق سے آنے والے مہمان کو آرام پہنچانے کی فکرمیں لگ جاتے تھے ۔
شروع شروع میں آپ اکثراوقات اپنے مکان کے مردانہ حصے میں مہمانوں کے ساتھ مل کر کھانا کھاتے تھے اور یہ مجلس یوں نظرآتی تھی کہ جیسے ایک شفیق اور بے تکلف باپ اپنے بچوں کے درمیان بیٹھا ہے اور ایسے موقع پر علمی اور دینی مذاکرے کے علاوہ عام قسم کی باتیں بھی ہوتی رہتی تھیں۔ آپ اپنے دوستوں کی باتیں سنتے تھے اور انہیں اپنی باتیں سناتے تھے۔ اور ساتھ ساتھ اس بات کا بھی خیال رکھتے تھے کہ کوئی مہمان بھوکا نہ رہے اور دسترخوان کی ہر چیز ہرشخص کے سامنے پہنچ جائے اور چونکہ آپ بہت کم کھاتے تھے اس لئے بسا اوقات آپ شکم سیر ہونے کے بعد بھی روٹی کے چھوٹے چھوٹے ذرے توڑ کر وقفہ وقفہ سے منہ میں ڈالتے رہتے تھے تا کہ کوئی مہمان آپ کو فارغ دیکھ کر شرم کی وجہ سے کھانے سے ہاتھ نہ کھینچ لے۔ ایک دفعہ حضرت مولوی عبدالکریم مرحومؓ نے دسترخوان پر نظردوڑا کر اچار کا نام لیا اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فوراً کھانا چھوڑ کر اٹھے اور اندرون خانہ جا کر اچار لے آئے اورحضرت مولوی صاحب کے سامنے رکھ دیا۔
آپ کا یہ بھی طریق تھاکہ شہتوت وغیرہ کے موسم میں مہمانوں کو ساتھ لے کر اپنے باغ میں تشریف لے جاتے اورشہتوت اتروا کر مہمانوں کے سامنے رکھوا دیتے۔ اور پھر مہمانوں کے ساتھ مل کر خود بھی کھاتے اور مہمانوں کو بھی کھلاتے۔ اور ساتھ ساتھ ہر قسم کی گفتگو کا سلسلہ بھی جاری رہتا تھا۔ ایسے موقعوں پر بے تکلفی کا یہ عالم ہوتا تھا کہ بسا اوقات آپ نیچی چارپائی پر بیٹھے ہوتے تھے اورمہمان اونچی چارپائی پر جگہ پاتے تھے یا آپ پائنتی کی طرف بیٹھے ہوتے تھے اور مہمان سرہانے کی طرف ہوتے تھے۔ یا آپ ننگی چارپائی پر تشریف رکھتے تھے اورمہمانوں کے نیچے کھیس یا چادر والی چارپائی ہوتی تھی۔ حتی کہ بعض اوقات ایک اجنبی شخص کے لئے یہ جاننا مشکل ہو جاتا تھا کہ حضرت مسیح موعود کون ہیں او ر کہاں تشریف رکھتے ہیں۔ لیکن اس بے تکلفی کے باوجود آپ کے عقیدت مندوں کے دل میں آپ کی اتنی محبت تھی کہ اس کی نظیر ملنی مشکل ہے ۔وہ پروانوں کی طرح آپ کے گرد گھومتے تھے۔ کیونکہ آ پ کا تعلق اپنے مریدوں کے ساتھ افسر ماتحت کا نہیں تھا بلکہ باپ بیٹے کا تھا۔
بعض اوقات جب آپ کی طبیعت اچھی ہوتی تھی اور کوئی مہمان قادیان کے قیام کے بعد اپنے وطن کو واپس جانے لگتا تھا تو آپ اسے رخصت کرنے کے لئے ایک ایک دو دومیل تک اس کے ساتھ جاتے تھے اورپھر بڑی محبت اوردعا کے ساتھ رخصت کرتے تھے اورمہمانوں کی واپسی کے وقت آپ کے دل کو ایسا صدمہ ہوتا تھا کہ گویا ایک نہایت ہی پیارا عزیز جدا ہو رہاہے اور آپ بسااوقات واپس جانے والے مہمان کو تاکید فرماتے تھے کہ پھرآؤ اور باربار آؤ۔
جب صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید جو علاقہ خوست کے چوٹی کے عالم اور رئیس خاندان سے تھے قادیان کے قیام کے بعد افغانستان واپس جانے لگے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان کورخصت کرنے کے لئے قریباً دو میل تک ان کے ساتھ بٹالہ کی سڑک پر پیدل تشریف لے گئے ۔ جب عین جدائی کا وقت آیا تو صاحبزادہ صاحب فرطِ غم کی وجہ سے بیتاب ہوکر حضرت مسیح موعود ؑ کے قدمو ں میں گر گئے اور زار زارروتے ہوئے عرض کیا:
’’حضرت میں محسوس کرتا ہوں کہ میری موت قریب ہے اورمجھے حضور کا مبارک چہرہ پھردیکھنا نصیب نہیں ہوگا‘‘۔
اور یہی ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لانے کی وجہ سے کابل پہنچنے پر اس عاشقِ مسیح کوزمین میں کمر تک گاڑ کر ہزاروں پتھروں کی بے پناہ بارش سے شہید کردیا گیا‘‘۔(ماہنامہ انصاراللہ، دسمبر ۱۹۶۰ء صفحہ ۲۱،۲۲)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی غیرمعمولی جمالی صفات اور آپ کے بے مثال حسن و احسان کا ہی یہ ثمرہ تھا کہ آپ کے حلقہ بگوش اپنا تن من دھن آپ ؑ پر قربان کرنے کے لئے ہر دم تیار رہتے تھے۔ گو یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہ فرق کرنا بھی بڑا مشکل تھا کہ پروانے شمع پر نثار ہو رہے ہیں یا شمع پروانوں پر۔
وَ بَارک وَ سَلّم اِنّکَ حَمِیدٌ مَجِیدٌ
*۔۔۔*۔۔۔*
(مطبوعہ:الفضل انٹرنیشنل ۲۰؍مارچ ،۲۷؍مارچ ۱۹۹۸ء )
