سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح ا وّل رضی اللہ عنہ کی وفات پر جب حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمدرضی اللہ عنہ منصبِ خلافت پر متمکن ہوئے تو بعض لوگوں نے آپ کی بیعت نہ کی اور قادیان کو چھوڑ کر لاہور کو اپنا مرکز بناتے ہوئے اپنی ایک علیحدہ جماعت بنالی اور خلافت حقہ اسلامیہ احمدیہ سے وابستگی رکھنے والوں کے خلاف ایک مہم شروع کردی۔ یہ گروہ غیر مبایعین ، اہل پیغام ، پیغامی اور لاہوری احمدی جماعت کے نام سے معروف ہے۔
گزشتہ کچھ عرصہ سے اس گروہ نے خلافت حقہ اسلامیہ سے وابستہ جماعت احمدیہ کے خلاف اپنے وساوس انٹرنیٹ پرپھیلانے کی مہم شروع کر رکھی ہے اور ساتھ ہی بڑی تعلّی سے دعویٰ کیا ہے کہ صرف لاہوری جماعت ہی حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوۃ والسلام کے دعاوی اور تعلیمات کو صحیح اور اصل شکل میں پیش کر رہی ہے جبکہ خلافت سے وابستہ جماعت نے آپ کے دعاوی کو(نعوذباللہ) مسخ کرکے پیش کیا ہے ۔ بتوفیقِ الٰہی ان وساوس کا جواب ذیل میں دیا جاتاہے۔
وسوسہ نمبر ایک
غیر مبایعین کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلا م ہرگزنبی نہ تھے اور آپ نے ہر گز کہیں نبوت کا دعویٰ نہیں کیا بلکہ آپ نے فرمایا کہ میں صرف مُحَدَّث ہوں یعنی وہ جس سے اللہ تعالیٰ بکثرت کلام کرتاہے ۔مگر ’’جماعت قادیان‘‘ نے خواہ مخواہ آپؑ کو نبی بنالیا ہے ۔
جواب
اس میں شک نہیں کہ شروع میں حضرت اقدس مسیح موعود ومہدی معہود علیہ السلام مسلمانوں میں عام طورپرمشہور تعریف نبوت کو ہی صحیح تعریفِ نبوت خیال فرماتے رہے۔ آپ ۱۹۰۱ء تک یہی عقیدہ رکھتے رہے کہ چونکہ رسول اللہ ﷺخاتم النبیین ہیں اس لئے آپ کے بعد کسی قسم کا نبی نہیں آ سکتا ، خواہ پرانا ہو یا نیا اورآپ اپنے الہامات میں موجود لفظ ’نبی‘ کی تاویل فرما دیتے اورکہتے کہ اس سے مراد صرف مُحَدَّث ہے ۔ آپ نے اس بات کا اظہار کئی جگہوں پر فرمایا۔ مثلاً ایک جگہ فرماتے ہیں :
’’۔۔۔قرآ ن کریم بعد خاتم النبیین کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا خواہ وہ نیا رسول ہو یا پرانا ہو کیونکہ رسول کوعلمِ دین بتوسط جبرائیل ملتاہے اور باب نزول جبرائیل بہ پیرایہ وحی ٔ رسالت مسدود ہے ‘‘۔(ازالہ اوہام حصہ دوم ۔ روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۵۱۱۔مطبوعہ لندن)
مگر جب اللہ تعالیٰ نے آپ ؑ پر متواتر اور بارباروحی کے ذریعہ اصل حقیقت پوری طرح آشکار کر دی تو آپ ؑ نے باربار بتصریح فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے واضح طورپر بتایاہے کہ میں فی الحقیقت نبی ہوں مگر یاد رہے کہ مَیں ظلّی نبی ہوں یعنی میں رسول اللہ ﷺکاامتی اورآپ تابع نبی ہوں اور بغیر کسی نئی شریعت کے ہوں۔
اس کے بعد آپ ہمیشہ ہی ہر اس شخص کو جو آپ کے نبی ہونے کے بارہ میں شک کرتاتھا ، اصرار کے ساتھ وضاحت سے بتاتے رہے کہ ان معنوں میں میں نبی ہوں۔ اور جہاں کہیں بھی آپ نے اس کے بعد نبوت کا انکار کیاہے ہمیشہ صرف ایسی نبوت کا انکار کیا ہے جونبی کریم ﷺ کی تابع نہ ہو آپ سے فیض یافتہ نہ ہواورنئی شریعت والی ہو۔آپ ؑ نے ’’ ختم نبوت‘‘ کے مروّجہ عام طورپرمفہوم میں وحی الٰہی سے کی جانے والی اس تبدیلی کا ذکر بڑی وضاحت سے فرمایاہے ۔چنانچہ حقیقۃ الوحی میں آپؑ پہلے ایک معترض کا ایک اعتراض درج کرتے ہیں اور پھراس کاجواب دیتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں۔
’’سوال(۱) تریاق القلوب کے صفحہ ۱۵۷ میں (جو میری کتاب ہے) لکھاہے: اس جگہ کسی کو یہ وہم نہ گزرے کہ میں نے اس تقریر میں اپنے نفس کو حضرت مسیح پرفضیلت دی ہے کیونکہ یہ ایک جزئی فضیلت ہے کہ جو غیرنبی کو نبی پر ہو سکتی ہے ۔پھر ریویو جلد اول نمبر ۶ صفحہ ۲۵۷ میں مذکور ہے :خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے ۔ پھرریویو صفحہ ۴۷۸میں لکھاہے: مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میر ی جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتاہوں وہ ہرگز نہ کر سکتااوروہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں وہ ہرگز د کھلا نہ سکتا ۔
خلاصہ اعتراض یہ کہ ا ن دونوں عبارتوں میں تناقض ہے ۔
الجواب: یاد رہے کہ اس بات کو اللہ تعالیٰ خوب جانتاہے کہ مجھے ان باتوں سے نہ کوئی خوشی ہے نہ کچھ غرض کہ میں مسیح موعود کہلاؤں یا مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں بہتر ٹھیراؤں ۔ خدا نے میرے ضمیر کی اپنی اس پاک وحی میں آپ ہی خبر دی ہے جیساکہ وہ فرماتاہے قُلْ اُجَرِّدُ نَفْسِی مِنْ ضُرُوْبِ الْخِطَابِ یعنی ان کو کہہ دے کہ میرا تویہ حال ہے کہ میں کسی خطاب کو اپنے لئے نہیں چاہتا یعنی میرا مقصد اورمیری مراد ان خیالات سے برتر ہے۔ اور کوئی خطاب دینا یہ خدا کا فعل ہے۔ میرا اس میں دخل نہیں ہے۔
رہی یہ بات کہ ایساکیوں لکھا گیا اور کلام میںیہ تناقض کیوں پیدا ہو گیا، سو اس بات کوتوجہ کرکے سمجھ لوکہ یہ اُسی قسم کا تناقض ہے کہ جیسے براہین احمدیہ میں میں نے یہ لکھا تھاکہ مسیح ابن مریم آسمان سے نازل ہوگا، مگر بعد میں یہ لکھاکہ آنے والا مسیح میں ہی ہوں۔ اس تناقض کا بھی یہی سبب تھا کہ اگرچہ خد اتعالیٰ نے براہین احمدیہ میں میرا نام عیسیٰ رکھا اور یہ بھی مجھے فرمایاکہ تیرے آنے کی خبر خدا اوررسول نے دی تھی،مگر چونکہ ایک گروہ مسلمانوں کا اس اعتقاد پرجماہوا تھااورمیرا بھی یہی اعتقاد تھا کہ حضرت عیسیٰ آسمان پر سے نازل ہونگے اس لئے میں نے خدا کی وحی کو ظاہر پرحمل کرنا نہ چاہا بلکہ اس وحی کی تاویل کی اور اپنا اعتقاد وہی رکھا جوعام مسلمانوں کا تھااوراسی کو براہین احمدیہ میں شائع کیا ۔ لیکن بعد اس کے اس بارہ میں بارش کی طرح وحی الٰہی نازل ہوئی کہ وہ مسیح موعود جو آنے والا تھاتوہی ہے ۔ اور ساتھ اس کے صدہانشان ظہور میں آئے اورزمین وآسمان دونوں میری تصدیق کے لئے کھڑے ہو گئے اورخداکے چمکتے ہوئے نشان میرے پر جبرکرکے مجھے اس طر ف لے آئے کہ آخری زمانہ میں مسیح آنے والا میں ہی ہوں۔ ورنہ میرا اعتقاد تووہی تھا جو میں نے براہین احمدیہ میں لکھ دیا تھا ۔۔۔۔۔۔اسی طرح اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیانسبت ہے ؟وہ نبی ہے اور خداکے بزرگ مقربین میں سے ہے ۔اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کوجزئی فضیلت قرار دیتا تھا ۔ مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پرقائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیاگیامگر اس طرح سے کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی۔۔۔۔۔۔۔ خلاصہ یہ کہ میری کلام میں کچھ تناقض نہیں ۔ میں توخداتعالیٰ کی وحی کا پیروی کرنے والا ہوں ۔ جب تک مجھے اس سے علم نہ ہوا میں وہی کہتا رہا جو اوائل میں میں نے کہا اور جب مجھ کو اس کی طرف سے علم ہوا تومیں نے اس کے مخالف کہا ۔ میں انسان ہوں۔ مجھے عالم الغیب ہونے کا دعویٰ نہیں۔۔۔‘‘۔ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ ۱۵۲تا۱۵۴ )
اس سے ثابت ہوا کہ آپ ؑ نے نبوت کی عمومی تعریف میں خصوصاً اپنی نبوت کے بارہ میں اپنے سابقہ موقف میں وحی الٰہی کی بناء پر تبدیلی فرمائی تھی ۔ آپ پہلے اپنے آپ کونبی نہ سمجھتے تھے بلکہ اپنے الہامات میں جہاں جہاں ’’نبی‘‘ کا لفظ پاتے اس کی تاویل فرماتے ۔ مگر جب اللہ تعالیٰ نے باربار تصریح فرمائی کہ تو درحقیقت نبی ہے تو آپ ؑ نے علی الاعلان اس بات کا بار بار اظہار فرمایا۔
مگر غیر مبایعین حضور ؑ کے صرف سابقہ عقیدہ کو ہی پیش کرتے ہیں اور آپ کے وحی الٰہی کے تابع اس تصحیح شدہ عقیدہ سے جان بوجھ کر آنکھیں بند کر لیتے ہیں جس کا آپ نے بڑے اصرار کے ساتھ بارباراعلان فرمایا۔
رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں بھی بعض لوگ بعض باتیں جو اُن کے مزاج کے مطابق ہوتیں مان لیتے تھے اور بعض باتیں جو اُن کی طبع پرگراں گزرتیں ان کا انکار کر دیتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ کیسے لوگ ہیں کہ یَقُولُونَ نُؤمِنُ بِبَعض وَنَکْفُرُ بِبَعْضٍ وَیُرِیْدُوْنَ اَنْ یَتَّخِذُوا بَیْنَ ذٰلکَ سَبِیْلا۔ (النساء :۱۵۱)
