وسوسہ نمبر ۳
انٹرنیٹ پرایک وسوسہ یہ پھیلایاگیاہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب ’’الوصیت‘‘ میں خود فرمایاہے کہ’’ انجمن‘‘ ہی میرے بعد میرا خلیفہ ہوگی!
بڑاجواب
نہایت افسوس اور دکھ کے ساتھ کہنا پڑتاہے کہ ان لوگوں نے حضور اقدس ؑ کے اس ارشاد کو اس کے سیاق و سباق سے الگ پیش کیا ہے اور یوں تحریف الکَلِم عن مواضعہ کی مکروہ جسارت کی ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ خلیفہ راشد اور انجمن میں زمین و آسمان کافرق ہے۔’’اہل پیغام‘‘ کے لیڈر یقیناًاچھی طرح جانتے ہوں گے انہیں جاننا چاہئے کہ امر واقع یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود ؑ نے اپنے رسالہ ’’الوصیت‘‘ میں اپنے قرب وفات اور اپنے بعد خلافت قائم ہونے کا ذکر ایک ہی عنوان کے تحت اور ایک ہی وقت میں فرمایاہے جبکہ ’’انجمن‘‘ کے کاموں کا ذکر ایک علیحدہ عنوان کے تحت اور دوسرے وقت میں کیاہے ۔ اس اجمال کی تفصیل درج ذیل ہے۔
رسالہ الوصیت کا تجزیاتی مطالعہ
یاد رکھنا چاہئے کہ موجودہ کتاب ’’الوصیت‘‘ کے ٹائیٹل سمیت ۳۴ صفحات ہیں اور یہ تین مختلف حصوں اور تین مختلف عناوین پرمشتمل ہے۔
پہلا حصہ: یہ اصل ’’وصیت ‘‘ہے اور ۲۴صفحات پر مشتمل ہے ۔ اس کی تصنیف حضور اقدس ؑ نے ۲۰؍دسمبر ۱۹۰۵ء کو مکمل فرمائی اور ۲۴؍دسمبر کو اسے شائع فرما دیا ۔ اسی حصہ میں آپ نے اپنی وفات کے دن قریب آ جانے کا ذکر فرمایاہے اور احباب جماعت کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ میرے جانے کے بعد اللہ تعالیٰ قدرت ثانیہ (خلافتِ حقہ) ظاہر کرے گا۔
نیز فرمایا ہے کہ ایک فرشتے نے مجھے میری قبر کی جگہ رؤیا میں دکھائی ہے اور ایک اور جگہ دکھا کر بتایا ہے کہ یہ بہشتی مقبرہ ہے اور جماعت کے صلحاء اس میں دفن ہونگے ۔
اس حصہ اوّل کے مندرجات کچھ آگے چل کر ہم ذرا تفصیل سے زیر بحث لائیں گے۔
حصہ دوم: کتاب’’الوصیت‘‘ کے دوسرے حصہ کا عنوان ’’ضمیمہ متعلقہ رسالہ الوصیت ‘‘ہے جو سات صفحات پر مشتمل ہے ۔ جیساکہ اس کے نام سے ظا ہر ہے اس حصہ کو حضور نے بعد میں تحریرفرما کر اصل’’ رسالہ الوصیت ‘‘کے ساتھ ملحق کیا ۔ اسے حضورؑ نے ۶؍جنوری ۱۹۰۶ء کوتحریر فرمایا ہے اور اسی ماہ و سال میں مجلہ ریویو آف ریلیجنز اردو میں شائع کیا ۔
اس حصہ میں آپ ؑ نے ان صلحاء کے لئے جو اس بہشتی مقبرہ میں دفن ہونگے مختلف نصائح اور شرائط درج فرمائی ہیں ۔ نیز اس کمیٹی کے لئے نصائح اور تعلیمات درج کی ہیں جواس بہشتی مقبرہ کے کاموں کی نگران ہوگی۔ اس کمیٹی کا نام حضور نے’’ انجمن کارپرداز مصالح قبرستان‘‘ تجویز فرمایا۔ اس نام کو اچھی طرح ذہن نشین کرلینا چاہئے کہ اس میں حضور ؑ نے اس انجمن کے دائرہ کار اور دائرہ اختیار کو خوب واضح فرمادیا ہے۔
ہم آئندہ سطورمیں اس حصہ میں مذکور شرائط اور نصائح ذرا تفصیل سے درج کرکے تبصرہ کریں گے ۔ انشاء اللہ۔
حصہ سوم: یہ حصہ صرف تین صفحات پرمشتمل ہے ۔ یہ انجمن کے پہلے اجلاس کی رپورٹ پرمشتمل ہے جو حضرت مولوی حکیم نورالدین رضی اللہ عنہ کی صدارت میں ہوا۔
حصہ اول کا خلاصہ
جیسا کہ پہلے بیان کیا گیاہے اسی حصہ میں حضور اقدس ؑ نے اپنی وفات کے دن قریب آ جانے کی خبر دی ہے اورجماعت کو تسلی دیتے ہوئے فرمایاہے کہ خدا میرے بعد قدرت ثانیہ تمہارے لئے بھیج دے گا ۔ چنانچہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی اپنے انبیاء کے ساتھ یہ سنت قدیمہ ہے کہ :
’’۔۔۔۔۔۔ ایسے وقت میں ان کو وفات دے کر جو بظاہر ایک ناکامی کا خوف اپنے ساتھ رکھتاہے مخالفوں کو ہنسی اور ٹھٹھے اور طعن اورتشنیع کا موقعہ دے دیتاہے۔ اور جب وہ ہنسی ٹھٹھا کرچکتے ہیں تو پھر ایک دوسرا ہاتھ اپنی قدرت کا دکھاتاہے اور ایسے اسباب پیدا کر دیتاہے جن کے ذریعہ سے وہ مقاصد جو کسی قدر ناتمام رہ گئے تھے اپنے کمال کو پہنچتے ہیں۔
غرض دو قسم کی قدرت ظاہر کرتاہے۔
(۱) اول خود نبیوں کے ہاتھ سے اپنی قدرت دکھاتاہے۔
(۲) دوسرے ایسے وقت میں جب نبی کی وفات کے بعد مشکلات کا سامنا پیداہوجاتاہے اوردشمن زور میں آ جاتے ہیں اورخیال کرتے ہیں کہ اب کام بگڑ گیا اور یقین کر لیتے ہیں کہ اب یہ جماعت نابود ہو جائے گی اور خود جماعت کے لوگ بھی تردّد میں پڑ جاتے ہیں اور ا ن کی کمریں ٹوٹ جاتی ہیں اور کئی بدقسمت مرتد ہونے کی راہیں اختیار کرلیتے ہیں تب خدا تعالیٰ دوسری مرتبہ اپنی زبردست قدرت ظاہر کر تاہے اور گرتی ہوئی جماعت کو سنبھال لیتاہے ۔ پس وہ جو اخیر تک صبر کرتاہے خدا تعالیٰ کے اس معجزہ کو دیکھتاہے جیساکہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے وقت میں ہوا جبکہ آنحضرت ﷺ کی موت ایک بے وقت موت سمجھی گئی اور بہت سے بادیہ نشین نادان مرتد ہو گئے اور صحابہؓ بھی مارے غم کے دیوانہ کی طرح ہو گئے ۔ تب خدا تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو کھڑا کر کے دوبارہ اپنی قدرت کانمونہ دکھایا اوراسلام کو نابود ہوتے ہوتے تھا م لیا اوراس وعدہ کو پورا کیاجو فرمایا تھا وَلَیُمَکِّنَنَّ لَھُمْ دِیْنَھُمُ الَّذِی ارْتَضٰی لَھُمْ وَلَیُبَدِّلَنَّھُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِھِمْ اَمْنًا یعنی خوف کے بعد پھر ہم ان کے پیر جمادیں گے ۔۔۔۔۔۔۔ ۔
۔۔۔سو اے عزیزو! جبکہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ دو قدرتیں دکھلاتاہے تا مخالفوں کی دو جھوٹی خوشیوں کو پامال کرکے دکھلادے سو اب ممکن نہیں ہے کہ خداتعالیٰ اپنی قدیم سنت کو ترک کردیوے ۔ اس لئے تم میری اس بات سے جو میں نے تمہارے پاس بیان کی غمگین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جائیں کیونکہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اوراس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا ۔ اور وہ دوسری قدرت نہیں آ سکتی جب تک میں نہ جاؤں ۔ لیکن میں جب جاؤں گا تو پھرخدا اس دوسری قدرت کو تمہارے لئے بھیج دے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی جیساکہ خدا کا براہین احمدیہ میں وعدہ ہے۔ اور وہ وعدہ میری ذات کی نسبت نہیں ہے بلکہ تمہاری نسبت وعدہ ہے جیسا کہ خدا فرماتاہے کہ میں اس جماعت کو جوتیرے پیرو ہیں قیامت تک دوسروں پر غلبہ دو ں گا۔ سو ضرور ہے کہ تم پر میری جدائی کا دن آوے تابعد اس کے وہ دن آوے جو دائمی وعدہ کا دن ہے۔ وہ ہمارا خدا وعدوں کا سچا اور وفادار اور صادق خدا ہے ۔ وہ سب کچھ تمہیں دکھلائے گا جس کا اس نے وعدہ فرمایا ہے ۔ اگرچہ یہ دن دنیا کے آخری دن ہیں اور بہت بلائیں ہیں جن کے نزول کا وقت ہے پر ضرور ہے کہ یہ دنیا قائم رہے جب تک وہ تمام باتیں پوری نہ ہو جائیں جن کی خدا نے خبر دی ۔ میں خدا کی طرف سے ایک قدرت کے رنگ میں ظاہر ہوا اور میں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں اور میرے بعد بعض اوروجود ہونگے جو دوسری قدرت کا مظہرہونگے ۔سو تم خدا کی قدرت ثانی کے انتظار میں اکٹھے ہو کر دعا کرتے رہو ۔ اور چاہئے کہ ہر ایک صالحین کی جماعت ہر ایک ملک میں اکٹھے ہوکردعا میں لگے رہیں تا دوسری قدرت آسمان سے نازل ہو اور تمہیں دکھا دے کہ تمہارا خدا ایساقادر خدا ہے‘‘۔(الوصیت ۔ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۳۰۴ تا ۳۰۶)
پھراس کے بعد اسی حصہ اول میں بہشتی مقبرہ کے سلسلہ میں انجمن کی ضرورت کے ضمن میں فرماتے ہیں:
’’اس قبرستان کی زمین موجودہ بطور چندہ کے میں نے اپنی طرف سے دی ہے لیکن اس احاطہ کی تکمیل کے لئے کسی قدر اور زمین خریدی جائے گی جس کی قیمت اندازاً ہزار روپیہ ہوگی ۔۔۔۔۔۔ سو پہلی شرط یہ ہے کہ ہر ایک شخص جو اس قبرستان میں مدفون ہونا چاہتاہے و ہ اپنی حیثیت کے لحاظ سے ان مصارف کے لئے چندہ داخل کرے ۔۔۔۔۔۔ بالفعل یہ چندہ اخویم مکرم مولوی نورالدین صاحب کے پاس آنا چاہئے ۔ لیکن اگر خداتعالیٰ نے چاہا تو یہ سلسلہ ہم سب کی موت کے بعد بھی جاری رہے گا ۔ اس صورت میں ایک انجمن چاہئے کہ ایسی آمدنی کا روپیہ جو وقتاً فوقتاً جمع ہوتارہے گا اعلائے کلمہ اسلام اور اشاعت توحید میں جس طرح مناسب سمجھیں خرچ کریں ‘‘۔ ( الوصیت ۔ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۳۱۸)
حصہ دوم کا خلاصہ
قبل ازیں ہم یہ اشارہ کرچکے ہیں کہ اس حصہ میں حضرت اقدس ؑ نے ان صلحاء جماعت کے لئے کچھ مزید شرائط درج کی ہیں جو اپنے اموال اور جائیدادوں کا ایک حصہ اشاعت اسلام کے لئے وقف کرنے کے لئے تیار ہوں اور یوں نظام وصیت میں داخل ہو کر ’’بہشتی مقبرہ ‘‘ میں دفن ہونے کے خواہشمند ہوں۔
اسی طرح اس حصہ میں آپؑ نے ’’بہشتی مقبرہ‘‘کے کاموں اور ان موصیان کے اموال کے حساب کتاب اور نگرانی کرنے والی اس ’’انجمن‘‘ کے لئے بھی مزید ہدایات درج کی ہیں ۔ یہ کل ۲۰شرائط ہیں ان میں سے چند اہم شرائط درج ذیل ہیں:
*.... ’’انجمن جس کے ہاتھ میں ایسا روپیہ ہوگا اس کواختیار نہیں ہوگاکہ بجز اغراض سلسلہ احمدیہ کے کسی اور جگہ وہ روپیہ خرچ کرے اور ان اغراض میں سے سب سے مقدم اشاعت اسلام ہوگی ۔ اور جائز ہوگاکہ انجمن باتفاق رائے اس روپیہ کوتجارت کے ذریعہ سے ترقی دے‘‘۔ (شرط نمبر ۹)
*.... ’’انجمن کے تمام ممبر ایسے ہونگے جو سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوں اور پارسا طبع اوردیانت دار ہوں۔ او ر اگرآئندہ کسی کی نسبت یہ محسوس ہوگا کہ وہ پارسا طبع نہیں ہے یا یہ کہ وہ دیانتدار نہیں یایہ کہ وہ ایک چالباز ہے اوردنیا کی ملونی اپنے اندر رکھتاہے تو انجمن کا فرض ہوگا کہ بلا توقف ایسے شخص کو اپنی انجمن سے خارج کر ے اوراس کی جگہ اورمقرر کرے‘‘۔( شرط نمبر ۱۰)
*.... ’’ چونکہ انجمن خدا کے مقرر کردہ خلیفہ کی جانشین ہے اس لئے انجمن کو دنیاداری کے رنگوں سے بکلی پاک رہنا ہوگا اوراس کے تمام معاملات نہایت صاف اور انصاف پرمبنی ہونے چاہئیں‘‘۔(شرط نمبر ۱۳)
*.... ’’یہ ضروری ہوگاکہ مقام اس انجمن کاہمیشہ قادیان رہے کیونکہ خدا نے اس مقام کو برکت دی ہے۔ اور جائز ہوگا کہ وہ آئندہ ضرورتیں محسوس کر کے اس کام کے لئے کوئی کافی مکان تیار کریں‘‘۔( شرط نمبر ۱۵)
*.... اسی حصہ دوم کے آخرپر آپ ؑ فرماتے ہیں:
’’ میں یہ نہیں چاہتا کہ تم سے کوئی مال لوں اور اپنے قبضہ میں کر لوں بلکہ تم اشاعت دین کے لئے ایک انجمن کے حوالے اپنے مال کروگے اوربہشتی زندگی پاؤ گے ‘‘۔(الوصیت ۔ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ۳۲۵۔۳۲۶۔ ۳۲۹)
منطقی نتائج
’’الوصیت ‘‘کے حصہ اول و دوم میں مذکوراہم امور کایہ خلاصہہے جسے پڑھنے کے بعد ایک دیانتدار شخص لازمی درج ذیل نتائج اخذ کرے گا :
۱۔۔۔: حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اصل رسالہ الوصیت (یعنی حصہ اول) تحریر اور شائع فرمانے کے تقریباً دو ہفتوں بعد اس کا حصہ دوم تحریر فرما کر طبع فرمایا اور اسے الوصیت کا ضمیمہ قرار دیا۔
۲۔۔۔: حصہ اول میں آپ ؑ نے اپنی وفات کے دن قریب آ جانے اور وفات کے بعد قدرت ثانیہ کے ظہور کی خبردی ۔ پھر اسی حصہ اول ہی میں آپ نے اس کمیٹی یعنی انجمن کے قیام کی ضرورت کا ذکر فرمایا جس نے بہشتی مقبرہ کے کام اور اموال سنبھالنے تھے ۔جیسا کہ اس کے نام سے بھی عیاں ہے ۔
۳۔۔۔: باوجودیکہ آپؑ نے اس حصہ اول میں اپنے قرب وفات اور ’’ انجمن‘‘ کے قیام کا بھی ذکر فرمایا ہے مگر آپ نے یہاں قطعاً یہ نہیں فرمایا کہ ’انجمن‘ آپ ؑ کی خلیفہ ہوگی۔
۴۔۔۔: بلکہ اس کے برعکس آپؑ نے (اس حصہ اول میں ) اپنے قرب وفات کا ذکر فرما کر قدرت ثانیہ کے ظہور کی بشارت دی ہے ۔ پھر یہ بتانے کے لئے کہ ظہور قدرت ثانیہ سے آپ ؑ کی کیا مراد ہے ، آپ ؑ نے حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ کی مثال دی تاکہ کسی قسم کا التباس واشکال نہ رہے ۔ گویا بتایاکہ جیسے
نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک فردِ واحد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بطور خلیفہ کھڑا کیا ، ایسے ہی میرے بعد بھی فردی خلافت ہی ہوگی یعنی ایک فرد واحد میرا خلیفہ ہوا کرے گا نہ کہ کوئی انجمن یاکمیٹی۔ ’’انجمن ‘‘ کو ہرگزقدرت ثانیہ قرار نہیں دیا جاسکتا کہ ابوبکر سے مشابہت رکھتی ہو ۔
۵۔۔۔: ’’انجمن‘‘ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خلیفہ قرار نہیں دی جاسکتی کیونکہ ’’انجمن‘‘ تو آپ ؑ کی زندگی میں ہی موجود تھی اور آ پؑ کے ساتھ کام کر رہی تھی ۔ مگر حضور ؑ تو فرماتے ہیں ’’وہ دوسری قدرت نہیں آ سکتی جب تک میں نہ جاؤں‘‘۔
۶۔۔۔:جماعت احمدیہ کو ’’قدرت ثانیہ ‘‘ کے بغیر چارہ نہیں ۔ بالفاظ دیگر جماعت احمدیہ میں خلافت کا وجود لازمی وحتمی ہے کیونکہ حضور ؑ اعلان فرماتے ہیں کہ انبیاء کی وفات کے بعد ’’ قدرت ثانیہ‘‘ کا ظہور خدا کی قدیم سنت ہے اور’’ اب ممکن نہیں کہ خدا تعالیٰ اپنی قدیم سنت کو ترک کردیوے ‘‘۔
اس سے اہل لاہور کا یہ دعویٰ بھی باطل ہو گیا کہ احمدیت میں خلافت کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں تھی ۔
۷۔۔۔: نیز یہ بھی طے ہوگیا کہ جماعت احمدیہ میں فردی خلافت ہمیشہ رہنی چاہئے کیونکہ آپ قدرت ثانیہ کے متعلق فرماتے ہیں کہ وہ ’’ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی‘‘۔
اس سے اہل پیغام کا یہ دعویٰ بھی باطل ہو گیا کہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے بعد کسی کو خلیفہ منتخب کرنے کی حاجت نہیں ۔
۸۔۔۔: یہ جملہ امور مجموعی طورپر یہ ثابت کرتے ہیں کہ آپ ؑ کے ارشاد : ’’چونکہ انجمن خدا کے مقرر کردہ خلیفہ کی جانشین ہے اس لئے انجمن کو دنیادار ی کے رنگوں سے بکلی پاک رہنا ہوگا ‘‘ کا ہرگز یہ مطلب نہ تھا کہ ’’انجمن‘‘ آپ ؑ کے بعدعام معروف معنی میں آپ کی خلیفہ سمجھی جائے گی ۔ اس سے آپ ؑ کی مراد صرف اتنی تھی کہ ’’انجمن‘‘بہشتی مقبرہ کے معاملات اور اموال کی نگرانی میں آپ کی نیابت کرے گی جیسا کہ اس نام سے عیاں ہے جو آپ ؑ نے اس انجمن کو دیا یعنی ’’انجمن کارپرداز مصالح قبرستان‘‘۔ سواس انجمن کا دائرہ کار صر ف اور صر ف بہشتی مقبرہ کے انتظامات و اموال تک محدود تھا ۔
پس کجا یہ کہ ’’انجمن ‘‘بہشتی مقبرہ اور اس کے انتظامات اور اموال کی نگرانی کرنے میں حضور اقدس ؑ کی مددگار اور مشیر کے طورپر کام کرے اور کجا یہ کہ و ہ خود کو خلیفۃ المسیح سمجھ بیٹھے ۔
بابرکت مقام سے فرار
اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر بڑا فضل کیا تھا کہ انہیں حضرت مسیح موعودؑ کے قرب سے نوازا۔ حضور ؑ نے ذرہ نوازی کرتے ہوئے جماعت کے کاموں میں انہیں اپنا معین و مددگار بننے کا شرف بخشا مگر یہ الٹے کفران نعمت کر بیٹھے ۔ یہاں اس بات کی طرف بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ ’’خلیفۃ اللہ کی جانشین ، انجمن‘‘ کے دفاع کا دعویٰ کرنے والے یہ لوگ مسیح پاک کی مبارک بستی قادیان دارالامان سے بھاگ نکلے۔
لاہور میں جا کر ڈیڑھ اینٹ کی الگ مسجد بنا لی اور مسیح پاک کا یہ واضح ارشادبھلا دیا کہ ’’یہ ضروری ہوگاکہ مقام اس انجمن کا ہمیشہ قادیان رہے کیونکہ خدا نے اس مقام کو برکت دی ہے ‘‘۔
مگر وہ جماعت جوخلفاء احمدیت کے تابع ہے ( اور جسے اب یہ لوگ ہمارے اور اپنے آقاحضرت مسیح موعودؑ کے مخالفین کی نقل کرتے ہوئے قادیانیت،قادیانیت کہہ کر پکارتے ہیں ) اس مبارک مقام قادیان دارالامان سے نہایت ہولناک حالات کے باوجود ہمیشہ چمٹی رہی اور برکت پاتی رہی۔ اس نے بڑی دلیری سے اور بڑی قربانیاں دے کر اس مقام کی حفاظت کی خصوصاًتقسیم ہند کے خونی فسادات کے دوران، اورمسیح پاک کی وصیت کے مطابق قادیان ہی کو اپنا مرکز بناکر وہیں سے اسی ’’انجمن‘‘ کوچلارہی ہے جس کی بنیاد اس مردِ خدا نے خود رکھی تھی۔
نصیحت ہے غریبانہ
’’اہل پیغام‘‘ کے انٹرنیٹ پر پھیلائے ہوئے شبہات کے جواب سے اب ہم بحمداللہ فارغ ہو چکے۔ خدا گواہ ہے کہ ہماری اس گفتگو کا مقصد کسی کا دل دکھانا نہ تھا بلکہ ہمار امقصد صرف اور صرف دو امور تھے ۔
اول ۔ یہ کہ حق کے دفاع کے فرض سے حق با ت کہہ کر سبکدوش ہو جائیں خواہ وہ کسی کو قدرے کڑوا لگے۔
دوم۔ یہ کہ سرور دو عالم حضرت محمد مصطفی ﷺ کے روحانی فرزند حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف کسی طرح بھی منسوب ہونے والوں میں سے جس کوبچایاجا سکتاہے بچایاجائے ۔
اور چونکہ سچی اور پرخلوص نصیحت ضرور فائدہ دیتی ہے اور ہم دونوں جماعتوں کے پیارے مسیح موعود علیہ السلام بھی فرماتے ہیں کہ: جس کی فطرت نیک ہے آئے گا وہ انجام کار، اس لئے لاہور کے اپنے بچھڑے ہوئے بھائیوں سے صدق دل سے التماس ہے کہ وہ خدا کے لئے اس کی فعلی شہادت پر ذرا نظرکریں ، یعنی یہ دیکھیں کہ خداتعالیٰ نے ہم دونوں گروہوں سے کس طرح کا سلوک کیاہے تا وقت ہاتھ سے نکل جانے سے پہلے پہلے انہیں علم ہو جائے کہ حق کس کے ساتھ ہے ۔
اے بھائیو! قرآن کریم تو باربار اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتاہے کہ جب بھی حق و باطل آپس میں ٹکرائیں گے تو یہ محال ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل حق کو چھوڑ کر اہل باطل کی مدد کرے ۔ ہو نہیں سکتا کہ یہ دونوں فریق معرکہ آراء ہوں پھر اللہ تعالیٰ طیب و خبیث میں فرق نہ کردے۔ اگروہ ایسا نہ کرے تودنیا اندھیرہو جائے،ہر بات مشتبہ ہو جائے اور مخلوق گمراہی اورکفرکے گڑھے میں پڑی رہے حالانکہ اللہ اپنے بندوں کے لئے کفروضلالت پسند نہیں کرتا۔
قرآن کریم نے متعددمقامات پر اس سنت الٰہی کا ذکرکیاہے ۔ چنانچہ فرمایا : ’’کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ‘‘۔(سورۃ المجادلہ۲۲) یعنی اللہ نے لکھ رکھا ہے کہ ضرور مَیں اور میرے رسول غالب آئیں گے۔
پھر فرمایا :’’اِنَّا لَنَنْصُرُرُسُلَنَا وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَیَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْہَادُ ‘‘ ۔ (مومن :۵۲) یقیناًہم اپنے رسولوں کی اور اُن کی جو ایمان لائے اِس دنیا کی زندگی میں بھی مدد کریں گے اور اُس دن بھی جب گواہ کھڑے ہوں گے۔
نیز کفار کو توجہ دلاتے ہوئے فرمایا :
’’اَفَلَا یَرَوْنَ اَنَّا نَأتِی الْاَرْض نَنْقُصُھَا مِنْ اَطْرَافِھَا اَفَہُمُ الْغَالِبُوْن‘‘(انبیاء :۴۵)۔ پس کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم (ان کی )زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آرہے ہیں؟ تو کیا وہ پھر بھی غالب آسکتے ہیں؟
سو خدا را دیکھیں کہ ہم دونوں فریقوں میں سے کس کو خداکی طرف سے نصرت کے بعد نصرت اور فتح کے بعد فتح اور ترقی کے بعد ترقی نصیب ہوتی رہی ہے اور ہو رہی ہے ۔ کیا یہ سچ نہیں کہ وہ گروہ جو’’ اہل پیغام‘‘ کے راہنماؤں کی نظر میں حق پر تھا برکتوں سے محروم کر دیا گیا ۔ ان کی زمین کم سے کم ہوتی چلی گئی ۔مگر وہ گروہ جسے ’’اہل پیغام ‘‘کے راہنماؤں نے ’’اہل باطل‘‘ قرار دیا اس کوملنے والی کا میابیوں کا شمار تو اب امر محال ہوگیاہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے فتح کے بعد فتح رکھ دی ۔ ہر میدان میں ان کا ساتھ دیا۔ انہیں اتنا بڑھایا اور پھلدار کیا کہ اب وہ دنیا کے کونے کونے میں پائے جاتے ہیں اور کروڑوں تک جا پہنچے ہیں اور بڑی تیزی سے شاہراہ غلبہ اسلام پر آگے ہی آگے بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔
اس میں شک نہیں کہ عددی اکثریت و برتری اپنی ذات میں کوئی معنی نہیں رکھتی مگر خاکسار تو یہاں حق و باطل کے درمیان ہونے والے اس معرکہ کے نتیجہ کی طرف توجہ مبذول کرا رہا ہے۔ کیا عقل اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ فتح ، اہل باطل کے نصیب میں آوے اور شکست اہل حق کا مقدر بن جائے؟ ہرگز نہیں۔ عقل اس کو رد ّ کرتی ہے، قرآن اس کے مخالف ہے، تاریخ انبیاء اس کے خلاف گواہ کھڑی ہے ۔
کیا تم نے دیکھا نہیں کہ وہ فریق جو تمہارے اکابر کے نزدیک ’’باطل‘‘ پرتھا اور ’’کمزور ‘‘ تھا وہ باوجود مشکلات کے مسلسل بڑھتا ، پھولتا اور پھلتا رہا اس کھیتی کی طرح جو اپنی کونپل نکالے پھر اُسے مضبوط کرے پھر وہ موٹی ہوجائے اور اپنے ڈنٹھل پر کھڑی ہوجائے اور کاشتکاروں کو خوش کردے تاکہ خدا ان کی وجہ سے کفار کو غیظ دلائے۔ یا اس کی مثال اس شجرہ طیبہ کی سی ہے جس کی جڑیں زمین میں خوب پیوستہ ہیں اوراس کی شاخیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں ۔ وہ اپنا پھل ہروقت اپنے رب کے حکم سے دیتاہے۔
مگر وہ فریق جو آپ کے اکابر کی نظر میں حق پر تھا ، طاقتور تھااور شروع میں عددی غلبہ بھی رکھتا تھا وہ فریق مسلسل انحطاط کا شکار رہا حتیٰ کہ اس شجرہ ٔ خبیثہ کی طرح ہو گیا جو اپنی اصل زمین سے اکھاڑ دیا گیاہو اور اسے کوئی استقرار نصیب نہ ہو ۔
آخر پر بڑے درد کے ساتھ مسیح پاک علیہ السلام ہی کے اس درد بھرے شعر کو دہرا کر عرض کرتاہوں
کوئی جو پاک دل ہووے دل وجاں اس پہ قرباں ہے
اعتراف: خاکسار نے اس مضمون کی تیاری میں حضرت قاضی محمد نذیر لائلپوری صاحب مرحوم کی تحریرات خصوصاً کتاب ’’غلبۂ حق‘‘ سے استفادہ کیا ۔ جزاہ اللہ احسن الجزاء۔ اللہ تعالیٰ ان بزرگ ہستیوں کی نیکیوں اور خوبیوں کا ہمیں اور ہماری نسلوں کو وارث بنائے ۔آمین۔
نوٹ: حضور اقدس ؑ کی کتب و ملفوظات سے اقتباس شدہ حوالہ جات لندن میں طبع شدہ ایڈیشن کے مطابق ہیں۔
