خدائے علیم وخبیر کی طرف سے قدرت ثانیہ کے مظہر ثانی حضرت مصلح موعود ؓ کو اوائل خلافت میں افریقن عوام کے شاندار مستقبل کی نسبت یہ خبر دی گئی کہ:
’’ خدا تعالیٰ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ افریقہ جو مسلمانوں سے عیسائیوں کے ذریعہ نکل چکا ہے اب آپ کے ذریعہ مسلمانوں کو دلائے اور خدا تعالیٰ کی غیرت کا وقت آ گیا ہے۔ اب سے پہلے خدا خاموش بیٹھا رہا جس طرح صیّاد جال کے نیچے دانہ ڈال کر بیٹھا رہتاہے اور جانوروں کو وہ دانہ جس پر اس کی قیمت لگی ہوتی ہے چننے دیتا ہے۔ مگر اب جب دنیا نے اپنی غلطی سے سمجھ لیاہے کہ اسلام مٹنے والا ہے خدا چاہتا ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کے ذریعہ اسے اکناف عالم میں پھیلا دیا جائے۔(تقدیرالٰہی صفحہ۲۹،۳۰251تقریر۲۶؍ دسمبر ۱۹۱۹ء250 مرتبہ منشی خواجہ غلام نبی صاحب بلانوی۔ ایڈیٹر الفضل قادیان دارالامان۔ ناشر تالیف و اشاعت قادیان)۔
اس سلسلہ میں حضور نے قیام پاکستان کے بعد براہ راست افریقن احمدیوں کے نام بھی ایک نہایت امید افزا پیغام دیا جو رسالہ ’’ ریویو آف ریلیجنز‘‘ کے ستمبر ۱۹۵۵ء کے ایشوع میں چھپا ۔ یہ پیغام جناب حاجی جے۔ سی۔ الحسن عطا صاحب ، پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ اشانٹی ریجن (کماسی ، گھانا) کے توسط سے ارض بلال تک پہنچا اور اس نے افریقن احمدیوں میں زبردست بیداری پیدا کر دی۔ اس انقلاب آفریں پیغام کے الفاظ یہ تھے:
I assure you that during my life time I am not going to allow any Ahmadi to adopt the aforesaid mistaken ideas as prevalent in the world. Just as the Holy Prophet said that he would crush such ideas under his heels, so I assure you that I will also crush such ideas under my heels. "So go and prove yourselves true Ahmadies. Tell your brothers that you went to Pakistan and Rabwah and found that in Pakistan also there are brothers , who feel for you and consider all Ahmadies as equal, and that you did not see Pakistanees rather Africans in different colours. They are looking towards their African brothers as their own kith and kin. I am expecting the same sacrifice from Africans and ask you to preach and convey the message of Islam to every corner of your country."
"Rabwah will always look forward to you to bring every body in the Gold Coast into the fold of Ahmadiyyat, or the True
Islam, the religion of God".(The Review of Religions, September 1955. P.532,533)
یعنی میں یہ نوشتہ دیوار پر پڑھ رہا ہوں کہ آپ کی (افریقن) نسل کے لئے ایک عظیم مستقبل مقدر ہے ۔ اس کا شاندار زمانہ قریب تر آ رہاہے۔ خدا نے ماضی میں بھی کسی قوم کونہیں چھوڑا نہ آئندہ نظرانداز کرے گا۔ وہ بعض اوقات کسی ایک قوم اور براعظم کو موقع دیتا ہے اورپھر ایک دوسری قوم اور دوسرے براعظم کو منتخب فرماتاہے۔ ایک لمبے عرصے تک آ پ لوگوں پر ظلم کیا گیا اور دوسروں کے محکوم رہے اب آپ کا وقت ہے ۔
لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کیا گیا کہ افریقن ایک کمترقوم ہے۔ خود میں اپنے متعلق بھی کہہ سکتا ہوں کہ اپنے عہد شباب میں جبکہ میں انگریزی کتابیں پڑھا کرتاتھا تو میرا بھی یہی خیال تھا لیکن بڑے ہوکر جب میں نے قرآن و حدیث کا مطالعہ کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ یہ سب کچھ غلط تھا۔ خدا تعالیٰ نے آپ کی قوم سے کوئی امتیازی سلوک نہیں برتا۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمام نسلیں اورقومیں برابر ہیں۔ جب وہ کوئی اپنا فرستادہ دنیا میں بھیجتا ہے تو وہ کافی ذہانت اُن لوگوں کو بھی عطا فرماتا ہے جن کو مخاطب کیاجاتاہے کہ وہ اس رسول کو قبول کریں۔ اگر آپ کے پاس یہ ذہانت نہیں یا دوسرے الفاظ میں آپ ایک کمتر نسل ہیں تو معاذاللہ یہ خدا کا نقص ہے کہ ا س نے ایک ایسی قوم کی طرف اپنا ماموربھیجا ہے جو ذہانت سے خالی تھی کہ اس کوقبول کر سکے۔ لیکن معاملہ یہ نہیں ہے۔ اسلام کہتاہے کہ یورپ ، امریکہ، ایشیا ، افریقہ اور دوردرازجزیروں کے سب باشندے برابر ہیں۔ تمام کو قوتِ عقل او ر قوتِ علم و ایجاد عطا کی گئی ہے۔ گو امریکن اپنے تئیں ایک فوق البشر مخلوق سمجھتے ہیں اور یورپین سے بھی نفرت کرتے ہیں اور یورپ کے لوگ ایشیائیوں کو بنظر حقارت دیکھتے ہیں مگر جہاں تک تحریک احمدیت کا تعلق ہے میں آپ کو یقین دلاتاہوں ( اور جب میں یہ کہتا ہوں تو میری مراد ان تمام احمدیوں سے ہے جو میرے متبع ہیں) کہ ہم سمجھتے ہیں کہ زمین پر بسنے والے تمام لوگ برابر ہیں ۔ ہم تمام برابر ہیں اور ایک جیسی صلاحیتیں رکھتے ہیں ۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں اپنی زندگی میں کبھی کسی احمدی کو یہ اجازت دینے کے لئے تیار نہیں ہونگا کہ وہ مذکورہ بالا خیالات کو جو دنیا میں رائج ہیں اختیار کرے۔ بالکل اسی طرح جس طرح آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ وہ ایسے خیالات کو اپنی ایڑیوں کے نیچے کچل دیں گے ۔ پس میں آپ کو یقین دلاتاہوں کہ میں بھی ایسے نظریات کو اپنے پاؤں تلے مسل دونگا۔ پس جائیں اور اپنے آپ کو سچا احمدی ثابت کریں۔ اوراپنے بھائیوں کو بتائیں کہ آپ پاکستان گئے تھے اورربوہ میں بھی آپ نے بچشم خود دیکھا کہ پاکستان میں بھی آپ کے بھائی ہیں جو آپ کے جذبات کا احساس کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ تمام احمدی برابر ہیں۔ اور یہ کہ آپ نے پاکستانیوں اور افریقن میں کوئی الگ رنگ نہیں دیکھا۔ پاکستانی اپنے افریقن بھائیوں کو اپنے عزیز و اقارب کی طرح دیکھتے ہیں ۔ میں افریقنوں سے بھی اسی قربانی کی توقع کرتا ہوں اور آپ سے کہتاہوں کہ آپ تبلیغ کریں اور پیغام اسلام افریقہ کے کونے کونے تک پہنچا دیں۔ربوہ ہمیشہ آپ کا انتظار کرے گا کہ آپ گولڈ کوسٹ کے ہر فرد کو احمدیت کی آغوش میں لے آئیں جو حقیقی اسلام اور خدا کا دین ہے۔(تاریخ احمدیت جلد ۱۸ صفحہ ۱۱۵ تا ۱۱۹)