In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » مجالس عرفان »

دورہء جرمنی ١٢مئی تا ٢٤ مئی ١٩٩٩ء کے دوران منعقد ہونے والی مختلف مجالس سوال و جواب کی مختصر جھلکیاں

رپورٹ : صادق محمد طاہر جرمنی +ابولبیب برطانیہ
+ فہرست مضامین

مجلس عرفان(۱۵ مئی ۱۹۹۹ء)

۱۵؍مئی کو ہی ۲۰۔۴ پر نماز ظہر و عصر کے بعد مقام اجتماع میں مجلس عرفان کا آغاز ہوا۔ یہ مجلس اردو میں منعقد ہوئی۔ چند ایک اہم سوالات مع مختصر جوابات اپنی ذمہ داری پر ہدیۂ قارئین ہیں۔

* کیا اسلام کی رو سے ایک عورت نکاح پڑھا سکتی ہے؟

حضور نے اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ جہاں تک سنّت نبوی کا تعلق ہے مجھے ایک بھی واقعہ یاد نہیں کہ آنحضرتﷺ کے زمانہ میں کسی عورت نے نکاح پڑھایا ہو۔

* انسان کے مرنے پر روح تو خدا کے حضور حاضر ہو جاتی ہے تو میّت کو غسل دینے سے کیا اسے کوئی فائدہ پہنچتا ہے یا نہیں؟

حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ آپ زندہ جسم کی صفائی کرتے ہیں۔ صفائی خداتعالیٰ کو پسند ہے اس لئے زندہ کی صفائی ہو یا مردہ کی، صفائی ضروری ہے۔ حضور نے فرمایا کہ عموماً پاک بدن کی روح بھی پاک و صاف ہی ہوتی ہے۔ اسی مضمون کو اللہ تعالیٰ آگے بڑھاتا ہے کہ مرنے کے بعد بھی بدن کو پاک و صاف کرو۔

* ایک دوست نے سوال کیا کہ جب زمین میں اللہ تعالیٰ کی توحید قائم ہو جائے گی تو کیا پھر بھی انسانوں کی تخلیق کا سلسلہ جاری رہے گا؟

حضوررحمہ اللہ نے فرمایا کہ اللہ جاری رہے گا تو اس کی صفات بھی جاری رہیں گی اور اس کی صفات میں تخلیق بھی ایک صفت ہے۔

* ایک اور سوال کے جواب میں حضوررحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر کسی احمدی کو نظام جماعت کی خلاف ورزی کی بنا پر اخراج کی سزا ملی ہو اور وہ اپنے آپ کو احمدی کہتے ہوئے مرتا ہے اور ارتداد اختیار نہیں کرتا تو اس کی نماز جنازہ پڑھنا احمدیوں پر فرض ہے۔

* اس سوال کے جواب میں کہ ڈاڑھی کیوں رکھتے ہیں؟

حضوررحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ڈاڑھی رکھنا سنت ہے۔ آنحضرت ﷺ نے یہ سنّت جاری فرمائی اور یہ سنّت پہلے انبیاء میں بھی تھی اور اللہ نے مرد اور عورت میں ایک فرق بھی رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مرد کوڈاڑھی دی اور عورت کو نہیں دی۔ عورت کے ڈاڑھی ہو تو وہ شرم محسوس کرتی ہے۔ مرد کے دارھی ہو تو اسے اس بات کو اپنے لئے عزت متصور کرنا چاہئے۔ حضور نے فرمایا کہ آجکل مغرب میں بھی ڈاڑھی کا رواج عام ہو رہا ہے۔ حضور نے فرمایا کہ انشاء اللہ ڈاڑھی کا رواج احمدیت کی ترقی کے ساتھ ساتھ اور بھی عام ہوتا چلا جائے گا۔

* ایک بچے نے پوچھا کہ ہم قبلہ کی طرف منہ کرکے نماز کیوں پڑھتے ہیں؟

حضور نے فرمایا اس لئے کہ تا سب مسلمانوں میں یکجہتی اور اتحاد پیدا ہو۔ وہ ایک ہاتھ پر اٹھیں ا ور بیٹھیں۔ اس میں پیغام یہی ہے کہ تم امت واحدہ بن کر رہنا۔

* ایک دوست نے کہا کہ حضور نے بوسنیا سے متعلق جو نظم کہی تھی اس میں ایک مصرعہ یہ تھا کہ ’’جس جس نے اجاڑا تجھے ہو جائے گا برباد‘‘ ، آج کل یوگوسلاویہ سے جو کچھ ہو رہا ہے کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان حالات پر یہ مصرعہ صادق آ رہا ہے۔ حضور نے فرمایا کہ آجکل یوگوسلاویہ سے جو کچھ ہو رہا ہے اس میں نہ صرف اس دعا بلکہ دوسری دعائیں جو احمدیوں نے کیں اور مسلسل کر رہے ہیں ان سب کا حصہ ہے۔

کوسووا کے تعلق میں نیٹو کے یوگوسلاویہ پر حملوں کے حوالہ سے ایک سوال کے جواب میں حضوررحمہ اللہ نے فرمایا کہ نیٹو والے کوسوون کی جو مدد کر رہے ہیں اس میں ان کے مخفی ارادے بھی ہیں۔ حضور نے فرمایا کہ کوسوون کی مدد کے لئے یہ ممکن تھا کہ آغاز میں ہی جب ابھی بمبارمنٹ شروع نہیں ہوئی تھی تو روس اور چین سے جیسے یہ پیسے دے کر معاہدے کرا لیتے ہیں یہ معاہدہ بھی یو این او کے توسط سے کرالیتے کہ وہاں اقوام متحدہ کی امن فوج ہو تو کسی بمبارمنٹ کی نوبت ہی نہ آتی کیونکہ اگر یوگوسلاویہ کی فوج ان پر حملہ کرتی تو وہ سب دنیا کو اپنا دشمن بنالیتے۔ اس موقعہ کو انہوں نے ہاتھ سے گنوادیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا وجہ ہے۔ یہ دانشمندی کی کمی ہے یا کوئی اور وجہ ہے۔ حضور نے فرمایا کہ میرے نزدیک تو یہ قومیں بہت گہری سوچ بچار سے کام لیتی ہیں۔ انہیں غیر دانشمند نہیں کہا جاسکتا۔ اس لئے میرے نزدیک اس کا ایک اور نتیجہ ہے۔ ان کا ارادہ یہ ہے کہ بظاہر دنیا سے تیسری عالمی جنگ کا امکان ختم کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے لئے وہ روس کے سب سے بڑے مددگار یوگوسلاویہ کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ دوسرا اس دوران یورپ کے دل میں بسنے والے جو مسلمان ہیں وہ ساتھ ساتھ کمزور بھی ہوتے جائیں گے۔ ان کی پرانی پالیسی ہے کہ یورپ کے دل میں مضبوط اسلامی سلطنت یعنی اسلام کے نام پر سلطنت قائم نہ ہونے پائے کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ اس طرح انتہا پسند مسلمان یہاں پناہ لے کر یورپ میں بیٹھ کر اپنی کارروائیاں کریں گے۔ یہ ان کا جائز خطرہ ہے۔چنانچہ پہلے بوسنیا میں ایسا کیا گیا اور اب کوسووا میں تاکہ اگر مسلمانوں کی حکومت قائم بھی ہو تو اسے یقین ہو کہ ہم مغرب کے سہارے چل رہے ہیں اور پھر وہ مغرب سے بے وفائی نہیں کرسکیں گے۔

اس سوال کے جواب میں کہ کوسووا کے حالات کیسے ٹھیک ہو سکتے ہیں، حضوررحمہ اللہ نے فرمایا کہ سوائے اس کے کہ مسلسل سارے احمدی دعائیں کریں ان حالات کا بظاہر ٹھیک ہونا نظر نہیں آتا۔

* حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ایک شعر:

اک شجر ہوں جس کو داؤدی صفت کے پھل لگے

میں ہوا داؤد اور جالوت ہے میرا شکار

کی تشریح دریافت کی گئی تو اس کے جواب میں حضوررحمہ اللہ نے فرمایا کہ حضرت داؤد علیہ السلام کے ساتھ روحانی فتوحات ہونے کا وعدہ ہے اور یہ وعدہ ہے کہ سب دنیا میں داؤد کی حکومت قائم ہوگی اسی لئے یہود ہمیشہ یہ کوشش کرتے رہے ہیں کہ باوجودیکہ حضرت داؤد کو نبی نہیں کہتے پھر بھی ان کی مسلسل ساری دنیا میں یہ کوشش جاری ہے کہ ہم جو داؤد کے نمائندہ ہیں ہماری سب دنیا میں حکومت ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ شعر ان کی امیدوں پر پانی پھیر رہا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں حضرت مسیح موعودؑ کو داؤد ؑ کا نمونہ بنایا ہے۔ پس اگر کُل عالَم پر کوئی حکومت قائم ہوگی تو جماعت احمدیہ کی ہوگی۔

* ایک سوال یہ کیا گیا کہ کیا کسی فوت شدہ پر سورۃ یٰسین پڑھی جاسکتی ہے؟

حضوررحمہ اللہ نے فرمایا کہ سورۃ یٰسین زندگی میں مرتے وقت پڑھی جاتی ہے۔ مرنے کے بعد پڑھنے کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ اس سورۃ میں ایسے دعائیہ کلمات ہیں جن سے روح کے اطمینان پاکر امن و سکون میں داخل ہونے کا ذکر ہے۔ اس میں سب کی طرف سے دعا بھی شامل ہو جاتی ہے۔

* ایک سوال یہ کیا گیا کہ آنحضرت ﷺ کے خلفاء راشدین کی مستقبل کے متعلق کوئی پیشگوئیاں کیوں تاریخ میں محفوظ نہیں ہیں؟

حضوررحمہ اللہ نے فرمایا کہ قرآن کریم میں خلفاء کے متعلق جو پیشگوئیاں ہیں وہ مسلسل پوری ہوتی رہی ہیں۔ حضور نے فرمایا کہ صحابہ کو بھی الہامات ہوتے تھے مگر وہ اپنے الہامات کو اپنے تک محدود رکھتے تھے تاکہ قرآنی وحی کے ساتھ کوئی اشتباہ نہ ہو جائے۔ عموماً خلفاء کا طریق یہی تھا کہ اس زمانہ میں قرآن کریم کی حفاظت کی خاطر وہ اپنے الہامات کو اپنے تک محدود رکھا کرتے تھے۔

* لوگ حج میں سفید کپڑا اور اَن سلا کپڑا کیوں پہنتے ہیں؟

اس کا جواب دیتے ہوئے حضوررحمہ اللہ نے فرمایا کہ کفن بھی سفید ہوتا ہے اور اَن سلا ہوتا ہے۔ وہی حال حج کا ہے گویا انسان خدا کے حضور مر گیا اور جس طرح مُردہ کو جسے کفن میں لپیٹ کر دفناتے ہیں اللہ تعالیٰ نئی زندگی عطا فرماتا ہے۔ اسی طرح ہم یہ امید رکھتے ہوئے حج میں خدا کے حضور حاضر ہوتے ہیں کہ ہم نے تیری خاطر خود ایک موت قبول کی ہے پس تُو ہمیں ایک نئی زندگی عطا فرما۔

اس کے علاوہ بھی کئی اور دلچسپ سوال ہوئے۔ قریباً ۳۵۔۵ بجے یہ مجلس عرفان ختم ہوئی۔ اس کے آخر پر خدام الاحمدیہ کا نظم کا فائنل مقابلہ ہوا۔ اس دوران حضور انوررحمہ اللہ از راہِ شفقت سٹیج پر تشریف فرما رہے اور تمام نظمیں سنیں۔ بعد ازاں حضوررحمہ اللہ نے نومبایع خدام کو شرف مصافحہ عطا فرمایا اور پھر واپس مسجد نور فرینکفرٹ تشریف لے گئے۔

صفحہ نمبر: 2 (کل صفحات: 9)