Rudesheim میں جرمن افراد کے ساتھ ۔ مجلس سوال وجواب(۱۸مئی ۱۹۹۹ء)
فرینکفورٹ سے مغرب کی جانب قریباً ساٹھ کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ایک پرفضا مقامRudesheimمیں شام ساڑھے چھ بجے جرمن افراد کے ساتھ ایک مجلس سوال و جواب کا پروگرام تھا ۔ چنانچہ حضر ت امیرالمومنین رحمہ اللہ عین وقت پرہال میں تشریف لائے ۔ تلاوت قرآن کریم اور اس کے جرمن ترجمہ کے بعد علاقہ کے چیئرمین مسٹر کلاؤس فریچ (Mr. Klaus Frietsch) نے حضورانور کی خدمت میں استقبالیہ ایڈریس پیش کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اپنے تمام علاقہ کی جانب سے حضرت مرزا طاہر احمد کی خدمت میں دلی طور پر خوش آمدید کہتاہوں ۔ انہوں نے اپنے علاقہ کی آبادی اور غیرملکیوں کی تعداد اور علاقہ کے تعارف پرمشتمل تفصیلات بیان کیں اور کہا کہ جماعت احمدیہ ہمارے علاقہ میں ایک معروف جماعت ہے ۔
اس موقعہ پر محترم ہدایت اللہ ھبش صاحب نے ترجمانی کے فرائض انجام دئے ۔ چنانچہ انہوں نے اس استقبالیہ ایڈریس اور مہمانوں کی طرف سے کئے گئے سوالات کا ترجمہ بھی کیا جو کہ قبل ازیں تحریری طور پر حاصل کئے جا چکے تھے۔ حضور انور رحمہ اللہ نے ان سوالات کے جوابات دئے جن کے ترجمہ کی سعاد ت مکرم ہدایت اللہ ھبش صاحب کو حاصل رہی۔ان کی معاونت کے لئے مکرم نویدحمید صاحب بھی سٹیج پر موجود تھے۔ ان میں سے بعض سوالات اور ان کے جوابات کا خلاصہ ازیادعلم و عرفان کی خاطر اپنی ذمہ داری پر پیش ہے :۔
*۔۔۔پہلا سوال یہ تھاکہ اسلام میں بہت سے تشدد پسند(Militant)گروپ کیوں ہیں؟
حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اسلام میں کوئی Militantگرو پ نہیں ہونا چاہئے کیونکہ اسلام ، بانی ٔ اسلام حضرت محمد مصطفیﷺاور آپ کے صحابہ اور قرآن کریم سے شروع ہوا اور قرآن سے ہم کسی جنگجوئی (Militancy)کا کوئی رجحان نہیں پاتے۔ اس مذہب کو اسلام کا نام دیا گیا جس کا مطلب ہی امن اور Submission ہے ۔ اس کے دو پہلو ہیں۔ تمام لوگوں کے ساتھ امن کے ساتھ رہنا اور خدا کے ساتھ امن میں ہونا ۔یعنی اس کی مرضی کے تابع رہنااور اس کے احکامات کے مطابق زندگی گزارنا کیونکہ اسی صورت میں حقیقی امن ممکن ہے ۔ حضور نے فرمایا کہ تشدد پسندی کا رجحان رکھنے والے دراصل اسلام کے دشمن ہیں اور وہ اسلام کے اور دشمنوں سے بھی زیادہ اسلام کو نقصان پہنچانے والے ہیں۔
*۔۔۔عرب اور افریقن ممالک کے مسلمانوں میں کون سے بڑے بڑے فرق ہیں؟
اس سوال کے جواب میں حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اسلام میں کوئی اختلافات یافرق نہیں ہو سکتے کیونکہ اسلام خدا تعالیٰ کی وحدانیت کاقائل ہے۔ اگر آپ خدا کی توحید پرایمان لاتے ہیں تو تمام بنی نوع انسان کا اتحاد بھی لازم ہے ۔ آپ کو جو فرق دکھائی دیتے ہیں یہ اسلام کی تفہیم میں فرق کی وجہ سے ہیں۔ مختلف ممالک کے مسلمان دوسروں سے فرق رکھتے ہیں اور آپس میں لڑتے بھی ہیں ۔ فی الحقیقت اسلام کسی قسم کے اختلافات کی اجاز ت نہیں دیتا ۔ حضور نے فرمایا کہ احمدیوں کے اسلام میں کسی قسم کے اختلاف یا بنیادی فرق کی کوئی گنجائش نہیں اور ہم اس کا ثبوت دے سکتے ہیں۔ ہم ایک سو پچاس سے زائد ممالک میں پھیل چکے ہیں ۔ ان میں ایشیا کے ممالک بھی ہیں اور یورپ کے بھی لیکن اپنے اندر کوئی فرق یا اختلاف نہیں دیکھتے ، یہی حقیقی اسلام ہے ۔
*۔۔۔ایک سوال یہ کیا گیا کہ عورتوں کامقام کیا آپ کے ملک میں اور افریقہ میں ایک ہی جیساہے؟
حضور انور نے فرمایا کہ عورتوں کامقام ساری دنیا میں ایک ہی جیسا ہونا چاہئے۔ عورت ایک عالمی حیثیت رکھتی ہے جیسے مرد عالمی حیثیت رکھتے ہیں۔ لیکن شاید سوال اس لئے پوچھا گیاہے کہ مختلف ممالک میں عورتوں سے سلوک مختلف ہے ۔ حضور نے فرمایا کہ دراصل ان ممالک میں عورتوں سے جو سلوک کیا جاتا ہے وہ اسلامی نہیں بلکہ روایتی ہے مثلاً بعض افریقن ممالک میں عورتیں نیم برہنہ ہوتی ہیں اور بعض ممالک میں اوپر سے نیچے تک اس طرح بدن ڈھانپتی ہیں گویاوہ ایک خیمہ ہوں۔ اسے اسلام کیسے قرار دیا جا سکتاہے ۔ اسلام تو عالمی مذہب ہے اور سیرالیون ہو یا گھانا یاگیمبیا یا کوئی اورملک ہر جگہ اسلام ایک جیسا ہونا چاہئے۔
*۔۔۔ایک سوال یہ تھا کہ کیا جرمنی میں پناہ حاصل کرنے والوں کویہاں رہتے ہوئے اپنے مذہب پر عمل کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں؟
حضور رحمہ اللہ نے فرمایا ہرگز نہیں۔ ایسی کوئی مشکل جرمنی میں رہنے والے جرمن احمدی باشندوں کو بھی درپیش نہیں آئی۔ یہ آزاد ملک ہے اور ہر شخص اپنے نظریات پر آزادانہ عمل کرسکتا ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ جس طرح دوسرے جرمن احمدی آزادانہ اپنے مذہب کی تعلیمات پر عمل کرتے ہیں تو وہ پناہ گزین کیوں نہیں کرسکتے۔
*۔۔۔عورتوں کے متعلق ہی ایک سوال یہ ہوا کہ آپ کی جماعت میں عورتیں کیا کردار ادا کر رہی ہیں؟
حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہماری جماعت میں عورتیں زندگی کے ہر نیک کام میں بہت اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ و ہ علم کے ہر میدان میں نمایاں پیش رفت کر رہی ہیں۔ آپ یہاں کی احمدی بچیوں کو دیکھیں وہ اپنے اسلامی طرز زندگی پر قائم رہتے ہوئے ہر میدان میں جرمنوں کے شانہ بشانہ کام کررہی ہیں۔آپ کا خیال ہے کہ شاید وہ ایک خاص قسم کے پردہ یا برقعہ میں ہونے کی وجہ سے مشکل میں ہونگی۔حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی سے پوری طرح مطمئن ہیں۔ وہ دنیوی لذتوں کے پیچھے نہ بھاگنے کی وجہ سے اپنی تعلیم زیادہ توجہ اور انہماک سے حاصل کر رہی ہیں ۔ اس لئے بہت سے سکولز اور کالجز میں احمدی طلباء و طالبات جو پاکستان سے آئے ہیں وہ بہت سے جرمن طلباء و طالبات کو تعلیم میں پیچھے چھوڑ رہے ہیں ۔ ایک صحتمندانہ طرز زندگی کا یہ ایک زائد فائدہ ہے جو انہیں حاصل ہے ۔
*۔۔۔اسلامی نام رکھنے کے متعلق ایک سوال کے جواب میں حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اسلام ایک عالمی مذہب ہے اور اسلامی نام عالمی نام ہیں ۔ ہر جرمن نام اسلامی ہے جب تک کہ اس میں شرک یا بت پرستی سے کوئی تعلق نہ ہو ۔ صرف مشرکانہ نام اسلام میں منع ہیں۔آ پ اسلام کی ابتدائی تاریخ میں دیکھ سکتے ہیں کہ لاکھوں لوگ مسلمان ہوئے مگر ان کے نام تبدیل نہیں کئے گئے سوائے مشرکانہ ناموں کے ۔ حضور نے فرمایا کہ میرے خیال میں میرے علم کے مطابق تمام جرمن نام مسلم نام ہیں کیونکہ وہ مشرکانہ نہیں ہیں۔
*۔۔۔پاکستان میں اسلام کے نام پرمذہبی اقلیتوں سے سلوک کے بارہ میں ایک سوال پر حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ بدقسمتی سے اس ملک میں اسلام کا کچھ بھی باقی نہیں رہا۔ جو بھی سیاستدان طاقت میں آتاہے وہ اسلام کو اپنے ذاتی مفاد ات کی خاطر استعمال کرتاہے۔ عملاً وہاں اسلام نہیں ہے ۔ حضور انور رحمہ اللہ نے مثال کے طور پر فرمایا کہ بے نظیر بھٹو اپنے فوت شدہ والد کو شہیدکہتی ہے اور نواز شریف ، ضیاء الحق کو شہید کہتاہے جس نے بینظیر کے والد کو پھانسی چڑھایا تھا۔ سیاستدان صرف اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں۔
حضور رحمہ اللہ نے فرمایا وہ واحد اقلیت جو آزادانہ زندگی بسر کرتی ہے وہ احمدیہ جماعت ہے کیونکہ اسے زبردستی اقلیت میں ڈھالا گیاہے اور پھر اقلیت قرا ر دیتے ہوئے اسے تمام بنیاد ی حقوق سے محروم کیا گیا ہے اور ان کے خلاف ہر قسم کے ظلم و ستم روا رکھے گئے ہیں۔ حضور نے فرمایا کہ دنیا میں اقلیت کسی کو اس کی درخواست پر قرار دیا جاتاہے تاکہ ا س طرح سے ان کے مطالبات پر ان کے لئے خصوصی رعایتیں اور حقوق انہیں میسر آ جائیں لیکن پاکستان میں اس کے بالکل برعکس معاملہ ہے ۔ انہوں نے جماعت احمدیہ کو اس کی مرضی کے خلاف اقلیت قراردیا ہے اور پھر اسے اس کے تمام بنیادی حقوق سے محروم کر دیا ہے۔
*۔۔۔ہومیو پیتھی کے تعلق میں ایک سوال پر حضور نے فرمایا کہ مجھے ہومیو پیتھی سے ۴۰/۵۰ سال سے گہری دلچسپی ہے ۔ ایم ٹی اے پرہومیوپیتھی لیکچر ز بھی دئے ہیں اور کتاب بھی لکھی ہے لیکن ہومیو پیتھی ایک ایسا موضوع ہے جس میں ہمیشہ مزید جستجو اور تحقیق کی گنجائش ہے ۔ میں اپنے آپ کو ہومیو پیتھی کا ایک طالب علم کہہ سکتاہوں۔ کئی ایسی امراض میں جنہیں ڈاکٹرز لا علاج قرار دے چکے تھے مجھے شافی علاج بھی ملے ہیں لیکن یہ انسان کے بس میں نہیں کہ کسی کو شفا دے سکے۔ شافی مطلق اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے۔
*۔۔۔دنیا میں بہت سے مذاہب کیوں ہیں؟
حضور انور رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ سوال بکثرت پوچھا جاتاہے اور یہ ایک عالمی سوال ہے کہ اگر خدا ایک ہے تو اس نے بہت سے مختلف مذاہب کیوں پیدا کئے۔ حضور نے فرمایا کہ یقینامذہب کے بارہ میں لوگوں کی تفہیم درست نہیں ہے۔ میں نے ایک کتاب لکھی ہے Revelation, Rationality, Knowledge & Truth اس میں تفصیل سے اس بات پر بحث کی گئی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ آدم ؑ سے لے کر محمد ؐ رسول اللہ تک تمام مذاہب خدا کی توحید اور بنی نوع انسان کی ہمدردی کی تعلیم پرمشتمل ہیں۔ مذہب کے آغاز میں کوئی تفریق نہیں۔ لوگ بعد میں نئے نئے رجحانات پیدا کرکے نئے مذہب یا فرقے پیدا کرتے ہیں۔ میرے نزدیک صرف ایک ہی مذہب ہے جو آدم کی تخلیق سے لے کر جاری ہے اور وہ اس بات کا تقاضا کرتاہے کہ انسان پورے دل و جان سے اپنے خالق کے حضور سرتسلیم خم کرے۔
*۔۔۔کیافلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدوں کے نتیجہ میں وہاں حقیقی امن ممکن ہے؟
اس بارہ میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے حضور نے فرمایا کہ پہلے بھی امن کے معاہدے ہوتے رہے ہیں مگر دونوں کے درمیان بنیادی اختلافات کے نتیجہ میں مشکلات پیش آتی رہی ہیں۔ علاوہ ازیں یہود اور مسلمان دونوں میں ایسے انتہاپسند گروہ موجود ہیں جو امن کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں اور یہ ایسے گروہ ہیں جن پر نہ ان حکومتوں کا کوئی کنٹرول ہے اور نہ بیرونی حکومتوں کا ۔
*۔۔۔ایک سوال یہ کیا گیا کہ مرد اور عورتیں دونوں مسجد میں اکٹھے کیوں نہیں جاتے ؟
حضور رحمہ اللہ نے فرمایا وہ اکٹھے ہی جاتے ہیں مگر اپنی نمازیں الگ الگ جگہوں میں ادا کرتے ہیں ۔ ان کے لئے الگ حصے مقرر ہوتے ہیں تاکہ و ہ اپنی عبادت پوری توجہ اور انہماک سے ادا کرسکیں۔آنحضرت ﷺ کے زمانے میں عورتوں کو مردوں کے پیچھے کھڑے ہونے کا حکم تھا ۔ اگر اس کے برعکس ہوتا تو مسلم عبادت کے نظام میں ایک تہلکہ بپا ہو جاتا۔
*۔۔۔اسلام میں مرد ایک سے زیادہ شادیاں کیوں کرسکتے ہیں؟
اس سوال کے جواب میں حضور انور رحمہ اللہ تعالیٰ ز نے فرمایا کہ اگرانسانی تاریخ پر نظرڈالیں، خصوصیت سے جنگوں کی تاریخ پر،توہر جنگ میں مرد زیادہ ہلاک ہوئے ہیں اور عورتیں کم۔ ایسے حالات میں اگرمردوں کو ایک سے زیادہ عورتوں سے شادی کی اجازت نہ دی جائے تو یہ بات عورتوں کے مفاد کے خلاف ہے کیونکہ جو عورتیں شادی سے محروم ہو جائیں تو وہ معاشرتی نظام میں کئی قسم کی خرابیوں کی ذمہ دار ہو سکتی ہیں۔
حضور نے اس سلسلہ میں جرمنی کی مثال دی۔ اسی طرح امریکہ کی سوسائٹی میں موجود خرابیوں کی طرف اشارہ فرمایا اور فرمایا کہ اسلام عورتوں کاخیال رکھتاہے اور خصوصیت سے جنگوں کے بعد ایک سے زائدعورتوں سے شادی کی اجازت کے ذریعہ سوسائٹی کی عفّت کی حفاظت کرتاہے۔
*۔۔۔دنیا میں قیام امن کے لئے جماعت احمدیہ کے کردار کے متعلق ایک سوال پر حضور انور رحمہ اللہ نے فرمایاکہ ہم ایک عالمی مذہب (یعنی اسلام) کے ذریعہ عالمی امن کے حصول کے لئے کوشاں ہیں۔تمام مذاہب بنیاد میں ایک ہی تھے اس لئے ہم تمام مذاہب کے متبعین کو اس مرکزی نقطہ کی طرف لانے کی کوشش کررہے ہیں جوانہیں خدائے واحد تک لے جانے والا ہو۔
اس مجلس کے اختتام کاوقت چونکہ مہمانوں کو آٹھ بجے شام بتایاگیاتھا لہذا حضورانورنے عین وقت پراختتام کااعلان فرماتے ہوئے مہمانوں کاتوجہ اور دلچسپی کے ساتھ اس پروگرام میں حصہ لینے پرشکریہ ادا کیااورجرمن زبان میں "Auf Wieder Sehen"یعنی ’’خدا حافظ‘‘ کہہ کرمسجد نورفرینکفورٹ کے لئے روانہ ہوئے ۔ اس مجلس میں ۱۱۰جرمن مردوزن مہمان شامل ہوئے۔