لانگن(Langen)میں جرمن مہمانوں کے ساتھ سوا ل و جواب کی نشست (۱۹مئی ۱۹۹۹ء)
۱۹مئی ۱۹۹۹ء کی شام پونے سات بجے حضور انور رحمہ اللہ تعالیٰ فرینکفورٹ سے چندکلومیٹر کے فاصلے پر لانگن کے سٹی ہال میں تشریف لے گئے جہاں جرمن افرد کے ساتھ ایک مجلس سوال وجواب کا اہتمام کیا گیاتھا۔ تلاوت قرآن کریم اور اس کے جرمن ترجمہ کے بعد سوالات کا آغاز ہوا۔ محترم ہدایت اللہ ہبش صاحب کے پاس چونکہ تحریری طور پر سوالات جمع ہو چکے تھے لہذا انہوں نے حضور انور کی خدمت میں عرض کی کہ پچاس سوالات جمع ہوچکے ہیں۔ حضور رحمہ اللہ کی کوشش تھی کہ تمام سوالوں کے جوابات ارشاد فرماویں مگر مقررہ وقت میں صرف چالیس سوالات کے جوابات دئے جا سکے ۔ مجلس کے اختتام پر حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میں نے کوشش تو بہت کی کہ وقت کے اندر تمام سوالات کے جوابات دے دئے جائیں مگروقت اجازت نہیں دیتا۔ اس مجلس میں ۱۵۷جرمن مہمان مردوں اور عورتوں نے شامل ہو کر حضرت خلیفۃ المسیح رحمہ اللہ کی زیارت کی اور آپ کے ارشادات سے مستفیض ہوئے۔ بعض سوالات اور ان کے جوابات خلاصۃً ہدیہ قارئین ہیں:
*۔۔۔ایک سوال کے جواب میں حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جہاں تک بشریت کا تعلق ہے آنحضرت ﷺ دیگر انسانوں کی طرح ایک بشرہی تھے۔ ہاں آپ کویہ امتیاز حاصل تھا کہ آپ دیگر تمام انسانوں سے زیادہ خدا کے قریب ہوئے۔
*۔۔۔جہاد کے متعلق ایک سوال کاجواب دیتے ہوئے حضور انورنے فرمایا کہ آج جو دنیامیں مذہب اورخدا کے نام پرجنگیں لڑی جارہی ہیں ان میں سے اکثر مقدس جنگیں (Holy Wars)نہیں ہیں۔ وہ دہشت گردی پریقین رکھتے ہیں اوردہشت گردی کے فعل کو مقدس جہاد نہیں کہا جا سکتا ۔
*۔۔۔کیامرنے کے بعد بھی کوئی زندگی ہوگی؟
حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ قرآن کریم کے مطابق یہ بنیادی اصول ہے کہ اگر خدا ہے تو لازم ہے کہ مرنے کے بعد زندگی ہو۔ یہ ناممکن ہے کہ خدا ہو اور مرنے کے بعد جوابدہی نہ ہو ۔ لیکن اسلام کے مطابق مرنے کے بعد کی زندگی جسمانی نہیں بلکہ روحانی ہوگی۔
*۔۔۔ایک سوال یہ کیا گیا کہ آپ کوکیسے علم ہے کہ حضرت مسیح صلیب پرفوت نہیں ہوئے؟
حضور رحمہ اللہ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ نئے عہد نامہ سے بھی ہم یہ معلوم کرتے ہیں کہ وہ صلیب پر فوت نہیں ہوئے ۔جب انہیں صلیب پرلٹکایاجانے لگا تو انہوں نے کہا تھا ’’ایلی ایلی لما شبقتانی‘‘۔ اے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا ۔ اگر انہوں نے خدا سے یہ بشارت نہ پائی ہوتی کہ وہ ان کی حفاظت کرے گا تو وہ یہ فریاد بلند نہ کرتے ۔ اس دعا سے یہ بھی پتہ چلتاہے کہ یہ خیال درست نہیں کہ وہ لوگوں کی خاطر صلیب پر مرنا چاہتے تھے ۔ اگر ایسا ہوتا تو جب انہیں صلیب پر لٹکانے کے لئے لے گئے تھے وہ یہ کہتے کہ خدایا تیرا شکرہے ۔
پھریہ کہ صلیب پر سے اتارنے کے بعد انہیں ایک مرہم لگائی گئی ۔سوال یہ ہے کہ اگر وہ صلیب پر مرچکے تھے تو انہیں مرہم لگانے کی ضرورت نہیں تھی۔
فوت شدہ آدمی کوئی درد محسوس نہیں کرتا ۔ یوحنا کہتاہے کہ تمام یہودی جب مرتے تھے انہیں مرہم لگائی جاتی تھی مگر تمام محققین کہتے ہیں یوحنا خود یہودی نہیں تھا اگریہودی ہوتا تو اسے معلوم ہوتا کہ یہود کا یہ طریق نہیں تھا۔
پھر نئے عہدنامہ سے پتہ چلتاہے کہ صلیب سے اتارے جانے کے چند دن بعد حضرت مسیح حواریوں سے ملے جس کامطلب ہے کہ اس مرہم نے ان پر کام کیا جبکہ وہ زندہ تھے۔ اسی طرح یہ بھی ذکرہے کہ جب وہ رات کو اپنے کچھ حواریوں کے سامنے آئے جبکہ وہ روٹی اور مچھلی کھا رہے تھے تو انہوں نے باقی انسانوں کی طرح جسم اور روح کے تعلق کوواضح کرنے کے لئے کہا کہ تم کیا کھا رہے ہو اور پھر ان سے مچھلی اور روٹی لے کر کھائی جس پروہ حیران ہوئے ۔ ان کا خیال تھا کہ مسیح مرچکے ہیں۔ اس پرانہوں نے کہا کہ میں وہی مسیح ہوں آؤ اور مجھے ہاتھ لگا کر چھو کر دیکھو۔ نئے عہد نامہ کی یہ سب باتیں ثابت کرتی ہیں کہ مسیح علیہ السلام صلیب کے واقعہ کے بعد بھی زندہ تھے ۔
*۔۔۔مختلف قسم کی میڈیٹیشن (Meditation) کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے ؟
حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میڈی ٹیشن ایک بہت اہم مشق ہے جوخدا کے قرب کے حصول کے لئے ایک ذریعہ ہے کیونکہ خدا کوئی مادی چیز نہیں ۔ وہ اپنی صفات سے پہچانا جاتاہے۔ جب آپ اس کی صفات پرباربار اورگہرا غورکرتے ہیں توایک قسم کا اس کا قرب حاصل ہونے لگتاہے ۔ حضور نے فرمایا کہ اگرآپ خدا پر ایمان نہیں رکھتے تو انسان کا اپنی روح کے اندر غورو فکر بھی ایک قسم کا فائدہ رکھتا ہے۔ کئی نبی Contemplation کے ذریعہ نبوت کے مقام تک پہنچے ہیں۔
*۔۔۔ایک سوال یہ کیا گیا کہ غیرمسلم حکومتوں کے تابع رہتے ہوئے اسلامی شریعت پرعمل کس حد تک ممکن ہے ؟
حضور انور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہاں جرمنی میں جہاں ایک غیر اسلامی حکومت ہے میں اسلامی شریعت پر عمل پیراہوں اور ملکی قانون کے ساتھ تصادم کے بغیر عمل پیرا ہوں۔
*۔۔۔ایک صاحب کا سوال تھا کہ اگرآپ یہ پرچار کریں گے کہ مسیحؑ صلیب پرفوت نہیں ہوئے تو آپ زیادہ عیسائیوں کو اپنا دوست نہ بنا سکیں گے ؟
حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اصل بات سچائی ہے ۔اگر ہم دیانتداری اور سچائی کے ساتھ ایک بات کو تسلیم کرتے ہیں تو اس کا اظہار ضروری ہے ۔ لوگوں کو اپنے ساتھ ملانا اہم نہیں۔ اصل یہ ہے کہ لوگوں کو سچے خدا کی طرف لایا جائے۔
*۔۔۔اسلام میں بنیاد پرستوں (Fundamentalists) کے تعلق میں ایک سوال کے جواب میں حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جنہیں آپ بنیاد پرست کہتے ہیں حقیقت میں وہ بنیاد پرست نہیں ۔ اگروہ ہوتے تو آنحضرت ﷺ کے پاک اسوہ پرعمل کرتے لیکن ان لوگوں کی طرز زندگی اس سے بالکل متضاد اورمتصادم ہے۔ اور چونکہ وہ حقیقت میں اس بنیاد ی تعلیم پرعمل پیرا نہیں اس لئے وہ تشدد اور دہشت گردی کی روش کو اپنائے ہوئے ہیں جس کا اسلام اور بانی ٔ اسلام سے کوئی دورکا بھی تعلق نہیں۔حضور نے فرمایا کہ مبینہ اسلامی دنیا کو ان ’’بنیاد پرستوں‘‘ کے ذریعہ کنٹرول کیا جا رہا ہے۔ میرے نزدیک امریکہ انہیں ہتھیار فراہم کرتاہے ۔ اگر امریکہ ایسا نہ کرتا تو اس قسم کے بنیاد پرست افغانستان میں بھی نہ ہوتے ۔
*۔۔۔کیا کسووا کی جنگ تیسری عالمگیر جنگ پرمنتج ہوگی؟
حضور انور رحمہ اللہ نے فرمایا ایسا ہو بھی سکتاہے اور نہیں بھی۔ ابھی تک تو آزاد دنیا کے مغربی ممالک یہ سمجھتے ہیں کہ و ہ اس طرح حالات سے نباہ کر سکتے ہیں کہ وہ قابو میں رہیں گے لیکن بعض اوقات ایسا نہیں ہوتااوروہ ایسی غلطیاں کر بیٹھتے ہیں جوان کے قابو سے باہر ہوتی ہیں۔
*۔۔۔ایک سوال یہ کیا گیا کہ کیا ہم سب لوگ اسی خدا کی عبادت مختلف طریقوں سے نہیں کررہے ؟
حضور نے فرمایا کہ ایسا ہی ہونا چاہئے لیکن ایسا نہیں ہے ۔ ہم اکثر اپنے تصورات کی عبادت کر رہے ہیں ۔ لوگ اپنے محدود انفرادی تصور کے مطابق خدا کی عبادت کرتے ہیں اور ان کے پیش نظر و ہ عالمی خدا نہیں ہوتاجس کی عبادت ہونی چاہئے ۔
*۔۔۔ہر بچہ بغیر ختنہ کے پیداہوتاہے اور وہ خدا کے ہاں مقبول ہوتا ہے تو پھر ختنہ کی کیا ضرورت ہے؟
حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ختنہ جسمانی صحت میں ممد ہے ۔ طبی تحقیق بتاتی ہے کہ جن کا ختنہ ہوا ان میں Genetical بیماریاں بہت کم ہوتی ہیں۔ جہاں تک عورتوں کے ختنہ کی رسم کاتعلق ہے تو اس کے متعلق حضور نے فرمایا کہ اس کا اسلام سے ہرگز کوئی تعلق نہیں ۔ افریقہ میں جہاں کہیں یہ رسم تھی ہم نے اس کے خلاف مؤثر آواز اٹھائی اور احمدیوں میں وہاں یہ رسم ہرگز پائی نہیں جاتی۔ عورتوں کے ختنہ کی رسم نہایت ظالمانہ اور درندگی کی مظہرہے۔
*۔۔۔جرمنی میں احمدیت کی مقبولیت کیسی ہے ؟
حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کافی اچھی ہے ۔ بہت سے دوسرے یورپین ملکوں سے بہترہے اور یہ بات آپ کی وسعت ذہنی اورمعقولیت پسندی کے لئے ایک Complement ہے ۔
*۔۔۔ہم جنس پرستی(Homosexuality) کے متعلق ایک سوال کے جواب میں حضور نے فرمایا کہ پہلی بات تویہ ہے کہ میں کون ہوں کہ کسی کو بتاؤں کہ اسے کیا کرنا چاہئے یا کیا نہیں۔ میں خدا نہیں، مجھے سزا دینے کاحق نہیں۔ جب سدوم اور عمورہ کی بستیاں تباہ ہوئیں تو سوال یہ ہے کہ خدا نے انہیں کیوں سزا دی۔ یقیناًانہوں نے خدا کی سکیم اورمنصوبہ کے خلاف عمل کیا ہوگا جس کی وجہ سے انہیں سزا دی گئی۔ حضور نے فرمایا کہ اگرسب لوگ ہم جنس پرستی پرعمل کرتے تو انسانیت کاخاتمہ ہوجاتا۔ حضور نے مزید فرمایا کہ انسان کی فطرت میں قدرت نے ہم جنس پرستی کو رد کرنے کارجحان رکھاہے۔ خدا تعالیٰ نے مرد اور عورت کے درمیان تعلقات میں ایک لذت رکھ دی ہے اور اسی لذت کے حصول کے دوران ہی اولاد کا سلسلہ شروع ہوتاہے ۔