Hergershallsen میں البانین افراد کے ساتھ مجلس سوال وجواب(۲۲مئی۱۹۹۹ء)
۲۲؍مئی ۱۹۹۹ء بروز ہفتہ مسجد نور فرینکفورٹ سے چند کلومیٹر کے فاصلہ پر ایک مقام Hergershallsen کے سٹی ہال میں البانین افراد کے ساتھ ایک مجلس سوال وجواب کا انعقاد ہوا جس میں سیدنا حضرت امیرالمومنین خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مہمانوں کے سوالات کے جوابات ارشاد فرمائے۔شام ساڑھے چھ بجے تلاوت قرآن کریم اور اس کے البانین ترجمہ کے بعد ایک پاکستانی بچی کے ہمراہ دو البانین بچیوں نے سفید شلوار قمیص میں ملبوس اور سر پر دوپٹہ لئے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پرمعارف منظوم کلام ’’حمدوثنا اسی کو جو ذات جاودانی‘‘ سے چند اشعار نہایت ترنم اور خوش الحانی سے پڑھے۔ ان بچیوں کا غیر زبان میں اس محویت سے کلام پڑھنا دلوں پرایک عجیب پرمسرت کیفیت طار ی کر رہا تھا اور سفید پرندوں کی زبانوں پر امام وقت کے کلام کا جاری ہونا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دی جانے والی خوشخبریوں کی صداقت کا حسین ثبوت پیش کر رہا تھا ۔
اس کے بعد سوالات کا سلسلہ شروع ہوا جو کہ محترم ڈاکٹر محمد زکریا خان صاحب کے پاس حضور کی تشریف آوری سے قبل بعض حاضرین نے تحریر ی طورپر جمع کروا دئے تھے۔ چنانچہ ان سوالات اور جوابات کا البانین ترجمہ محترم زکریاخان صاحب نے ہی پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔ ان میں سے چند ایک سوالات اور ان کے جوابات خلاصۃًاحباب کے ازدیاد علم و ایمان کی خاطر اپنی ذمہ داری پر پیش ہیں۔
*۔۔۔بلقان میں جو جنگ لڑی جا رہی ہے خصوصیت سے بوسنیا اور کسووا میں کیا اس کامقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کومکمل طورپر ختم کر دیا جائے؟
حضور انور رحمہ اللہ نے فرمایاکہ مقصد تو اس سے کچھ ملتاجلتاہی ہے ۔ جہاں تک سربیاکے لیڈرملاسووچ کا تعلق ہے وہ نفسیاتی لحاظ سے شدید بیمار ہے ۔ دس سال پہلے اس نے یہ بیہودہ اعلان کیاتھا کہ مسلمانوں کو مٹا دیا جائے ۔ بدقسمتی سے جو جوابی کارروائی ہو رہی ہے اس کا بھی یہی نتیجہ نکل رہا ہے ۔ حضور نے فرمایاکہ مسلمانوں کوکلیۃً مٹانے کا توسوال ہی پیدا نہیں ہوتا مگر ابتداء میں شدید نقصان ضرورپہنچا سکتے ہیں جووہ پہنچا رہے ہیں۔
*۔۔۔کسووا کی لڑائی کے متعلق یہ سنا جاتاہے کہ یہ ایک مذہبی لڑائی ہے ۔ آپ کااس بارہ میں کیاخیال ہے ؟
حضور نے فرمایا کہ ایک پہلوسے تویہ بالکل درست ہے جیساکہ میں نے ابھی جواب دیاہے کہ مسلمانوں کے دشمن ہیں جنہوں نے مسلمانوں کو مٹانے کا تہیہ کیا ہوا ہے۔ اس پہلو سے تو یقیناًیہ مذہبی لڑائی ہے ۔ اور جو مظلوم مقابلہ کر رہے ہیں اور اس راہ میں مارے جارہے ہیں وہ میرے نزدیک شہیدہیں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں مرتبہ پائیں گے۔ لیکن ایک پہلو سے دیکھا جائے تو یہ بیچارے عملاً اسلام سے بہت دور ہٹ چکے تھے ۔ بوسنیا کے مسلمانوں کا بھی پہلے یہی حال تھا ۔ اس پہلو سے جب انہیں مسلمان سمجھ کر ان پرحملہ کیا گیا ہے تو اس کا نتیجہ یہ نکلاہے کہ اسلام ان کے اندر بیدار ہو گیا ہے۔ اس پہلوسے نقصان کے اندر فائدہ بھی ہے۔مسلمانوں کے دلوں میں شدید صدمہ ہے کہ بڑی تعداد میں ان کے مسلمان بھائی مارے جا رہے ہیں اور روحانی لحاظ سے ایک فائدہ یہ ہے کہ اسلام ان کے اندر بیدار ہو رہاہے۔
*۔۔۔کوسووا کی حمایت میں عالمی رائے کیاہے اور بالخصوص اسلامی ممالک کی کیا رائے ہے؟۔
حضور رحمہ اللہ نے فرمایا جہاں تک اسلامی ممالک کاتعلق ہے اس میں کچھ شک نہیں کہ ان کو بھی دکھ ضرور ہے اور تکلیف محسوس کرتے ہونگے۔ جہاں تک باقی دنیا کا تعلق ہے ان کی ہمدردیاں سوائے چین اور روس کے لازم ہے کہ کسوون کے ساتھ ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے اسلامی ممالک نے عملاً و ہ خدمت سرانجام نہیں دی جو ان کو کرنی چاہئے تھی۔ اگر کرتے تو آ ج کے بحران سے بہت پہلے سے کسوون کی اتنی مددکر سکتے تھے کہ وہ ایک بہت عظیم قوم کے طورپرابھر سکتے تھے کہ پھر ان پرحملہ کی جرأت کم ہوتی لیکن ان کی بلا سے جو گزر جائے ، گزر جائے ۔ بعد میں جب لڑائی ہو تو پھر زبانی جمع خرچ کرتے ہیں ۔ معمولی مالی مدد دیتے ہونگے لیکن جیسا کہ خدا نے انہیں دولت سے نوازا ہے اگر اس کا سوواں حصہ بھی اہل کسووا کے لئے خرچ کرتے تو کسوون کی یہ حالت نہ ہوتی۔
*۔۔۔کیا البانین لوگ بلقان میں اپنے بدترین دشمن سے نجات پالیں گے؟
اس سوال کے جواب میں حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ مجھے تو یقین ہے کہ نجات پا لیں گے ۔ سب سے بڑی وجہ اس سے نجات کی یہ ہے کہ چونکہ اسلام کی وجہ سے انہیں نشانہ بنا یا گیاہے اس لئے ساری دنیا میں جماعت احمدیہ روزانہ بلا ناغہ دعا کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ظالموں سے نجات دے ۔ اس لئے اس دعا کے نتیجہ میں نجات ملے گی ۔ اسکے بعد وہاں اسلام کی بنیادیں از سرنو رکھی جائیں گی ۔ اللہ کرے کہ وہ وقت جلد آ جائے ۔
*۔۔۔اس سوال کے جواب میں کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ حضرت محمد ﷺ کے بعد کوئی شخص وحی و الہام پائے؟
حضور نے فرمایا کہ وحی و الہام کا جاری ہونا قرآن کریم سے قطعی طور پرثابت ہے ۔ اور قرآن کریم جب وحی کو جاری رکھ رہا ہے تو کسی کاحق نہیں ہے کہ وحی کو بند کر دے۔ حضور نے فرمایا کہ خاص طورپر آپ پر جو مظالم ہو رہے ہیں آپ میں سے جو بھی اللہ کی خاطر صبر و استقامت دکھاتاہے اس کے متعلق اللہ تعالیٰ کی خوشخبری ہے کہ اس پروحی والے فرشتے نازل ہونگے۔ حضور رحمہ اللہ نے آیات کریمہ (اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْھِمُ الْمَلٰئِکَۃُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا ۔۔۔۔۔۔) (حٰم سجدہ:۳۱۔۳۳) تلاوت کی اور ان کا ترجمہ پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ جو (رَبُّنَا اللّٰہ)کہہ کر پھراس پر قائم ہوجاتے ہیں۔یعنی جس طرح آپ نے جھوٹے رب ملاسووچ کاانکار کر دیا ۔پھرجو صبر کرتے ہوئے اس بات پرقائم رہتے ہیں ان پر خدا کے کلام کے مطابق کثرت سے فرشتے نازل ہوتے ہیں بولنے والے، باتیں کرنے والے اور وہ کہتے ہیں تم کوئی خوف نہ کرو اور کوئی غم نہ کھاؤ۔ ہم تمہارے دوست اور ساتھی ہیں اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ہم تمہارے ساتھ رہیں گے۔ حضور نے فرمایا کہ ان آیات کریمہ سے اور بعض دوسری آیات کریمہ سے وحی کا جاری رہنا قطعی طورپر ثابت ہے لیکن حضرت جبرائیل کا براہ راست اترنا یہ الگ مضمون ہے۔ جبرائیل براہ راست صرف انبیاء پر اترتے ہیں۔ وہ سارے نظام کے سربراہ ہیں اس لئے چھوٹی وحی بھی ان کے تابع آتی ہے۔
حضور انور نے اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا اس کے علاوہ قرون اولیٰ میں بھی آنحضرت ﷺ کے وصال کے بعد قطعیت سے یہ بات ثابت ہے کہ خلفاء پر وحی اتری اور اس وحی کے کثرت سے گواہ ہیں۔ حضرت عمرؓ کے متعلق روایت ہے کہ آپ ایک دفعہ منبرپر خطبہ دے رہے تھے تواچانک مضمون بدل گیا اور آپ نے فرمایا: یَا سَارِیَۃَ الجَبَل ، یَا سَارِیَۃَ الجَبَل ۔ اے ساریہ پہاڑ کی طرف ہٹ جاؤ۔اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک لشکر دور لڑائی میں مصروف تھا تو ان کو متوجہ کرنے کے لئے فرمایا کہ پہاڑ کی طرف ہٹ جاؤ۔ اصل میں دشمن چاہتاتھا کہ پہاڑ کی طرف آگے بڑھ جائیں اس سارے لشکر نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آواز کو سنا ۔ انہوں نے اپنا آدمی بھیجا تو پتہ چلا کہ اس وقت خطبہ میں موجود سارے صحابہ بھی گواہ ہیں۔ پس آنحضرت ﷺ کے بعد بھی وحی کا سلسلہ جاری رہا مگر جبرائیل کے متعلق وہی بات ہے جو میں عرض کرچکا ہوں۔
*۔۔۔ایک سوال محترم ڈاکٹر محمدزکریا خان صاحب کے البانیہ کی امداد کے متعلق سفر کے بارہ میں تھا جس پر حضور انور نے انہیں اس کی تفصیلات بتانے کا ارشاد فرمایا تو انہوں نے بتایا کہ ان کی ٹیم جو پاکستانی اور البانین افراد پر مشتمل تھی تین دن تک ایک شہر میں رہ کر ان کی ضروریات کا جائز ہ لیتی رہی اوراشیاء ضروریات زندگی فراہم کرتی رہی جس سے مقامی لوگ بہت خوش ہوئے اور اس قدرمتأثر تھے کہ واپسی پراشکبار آنکھوں کے ساتھ جماعت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہوں نے الوداع کہا۔
اس ضمن میں حضرت امیرالمومنین رحمہ اللہ تعالیٰ نے بھی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ جماعت جرمنی کی طرف سے مسلسل ایسے وفود جا رہے ہیں جو خالصتاً امدادی ہیں عام شہری ہیں کوئی عالم دین نہیں ہوتا۔ وہ وہاں امداد کرتے ہیں اوراس کا اللہ کے فضل سے اتنا اچھا اثر پڑاہے کہ ایک علاقے کی حکومت کا پیغام ملاہے کہ آپ کاکام نمونے کاکام ہے ۔ آپ کے سب لوگ نظم وضبط میں بھی نمونہ ہیں پس آپ ہمارے سارے کام سنبھال لیں جو پیسہ ہے و ہ جماعت احمدیہ خرچ کرے ۔ چنانچہ تین ماہ کے لئے انہوں نے معاہدہ کیاہے جسے جماعت نے بڑی خوشی سے قبول کیا ہے۔ اگر تین ماہ کے بعد بھی ان کی خواہش ہوگی تو جماعت وہ فرض ادا کرے گی۔
*۔۔۔البانیہ کے اسلامی یونین میں شامل ہونے کی بناء پر حالیہ جنگ میں اسلامی یونین کے کردار کے متعلق ایک استفسار کاجواب دیتے ہوئے حضور نے فرمایا کہ البانیہ نے اسلامی یونین میں شامل ہوکر اپنی طرف سے اچھا قدم اٹھایا ہے لیکن ان کو کیافائدہ ہواہے ، کچھ بھی نہیں۔کیونکہ یورپ کو البانیہ کی مدد اس پس و پیش میں ڈالتی ہے کہ کہیں البانیہ پر بنیاد پرستوں کا قبضہ نہ ہو جائے ۔ اس لئے البانیہ کا یہ قدم بظاہر ان کے لئے فائدہ مند ہے لیکن عملاً اگر غو ر سے دیکھا جائے تو ان کے لئے نقصان دہ ہے۔ حضور نے فرمایا لیکن شکر کا پہلو یہ ہے کہ اسلامی یونین نے و ہ رسپانس نہیں دکھایا جو انہیں دکھانا چاہئے تھا ۔ اس لئے ہو سکتاہے کہ یورپ کا یہ تأثر ہے کہ خالی یہ مونہہ کی باتیں ہیں اورعملاً اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا بلکہ جیسا یہ لوگ پہلے ہمارے ہاتھ میں تھے اسی طرح اب بھی رہیں گے ۔
*۔۔۔ان لوگوں کے بارہ میں آپ کی ذاتی رائے کیاہے جو نومولود بچوں کومار کے ان کو جلا دیتے ہیں؟
اس سے متعلق حضور نے فرمایاکہ وہ اپنے لئے جہنم تیار کرتے ہیں ۔ نومولود بچوں کو جلا نا یا بڑوں کو جلانا نتیجہ کے لحاظ سے ایک ہی بات ہے ۔ نومولود کوجلانا زیادہ سخت ظلم دکھائی دیتاہے کیونکہ وہ بیچارہ اپنا دفاع نہیں کرسکتا ۔ نومولود کو مار کر جلانا یا بڑوں کو مار کر جلانا اتنا بڑا جرم ہے کہ وہ اپنے لئے جہنم تیار کرتے ہیں۔
*۔۔۔ایک سوال یہ کیا گیاکہ جنگ کی وجہ سے کوسووا کے البانین ایک لمبے عرصہ تک عبادت نہیں کر سکے کیا اب بھی اللہ ہماری مددکرے گا؟
حضور نے فرمایا کہ جنگ کی وجہ سے عبادت نہ کرسکنے کی بات غلط ہے۔ اگروہ پہلے ہی سے عبادت کرتے تو مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے جنگ کے حالات بدل سکتا تھا ۔ نام کی عبادت اور چیز ہے اور سچ مچ کی خدا کی عبادت کرنا اور بات ہے اور خدا تعالیٰ ہر گز یہ اجازت نہیں دیتا کہ کوئی اس کی سچی عبادت کرنے والوں کو ہلاک کر سکے۔ اس کی مثال جنگ بدر کی دیتاہوں۔ باوجودیکہ مسلمان تھوڑے تھے آنحضرت ﷺکی ایک دعا کے نتیجہ میں حالات بدل گئے ۔ وہ دعا کیا تھی کہ اے اللہ! اگر تو نے مسلمانوں کو جنہیں میں نے عبادت کے گُرسکھائے ہیں ان کو اگر تو آج ہلاک ہونے دے تو پھر دنیا میں تیری کبھی عبادت نہیں کی جائے گی۔ یہ اتنی سچی اور گہری دعا تھی کہ خدا نے اپنی ساری قدرت کو استعمال کیا اور ساری کائنات کی ہر چیز کو مسلمانوں کے حق میں کر دیا۔
حضور نے فرمایا کہ کسووا اور البانیہ کے حالات میں مسلمانوں نے عملاًعبادت کھو دی تھی۔ حضور نے فرمایا کہ جنگ کے دنوں میں تو عبادت اور بھی فرض ہو جاتی ہے ۔ رسو ل اللہﷺ نے عین جنگ کے دنوں میں عبادت کی ہے ۔ حضور نے فرمایا کہ میں امید رکھتاہوں کہ ان سب باتوں کو سمجھ کر البانین اور کسوون مسلمان اپنے لئے نئی راہیں تراشیں گے جو ان کو خدا کی طرف لے جاسکیں۔
*۔۔۔ایک سوال یہ کیا گیا کہ ہم نے کسووا میں اپنے مولویوں سے یہ بات سنی ہے اور اسلامی لٹریچر میں یہ بات پڑھی ہے کہ آنحضرت ﷺکے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا ۔ پھر جماعت احمدیہ نے کیسے اپنے لئے نبی بنایاہے؟
حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جماعت احمدیہ نے کوئی نبی نہیں بنایا ۔ نبی تو خداہی بنایا کرتاہے۔ اگر جماعتیں نبی بنائیں تو وہ ناکام ہو جایا کرتے ہیں اور خدا انہیں ذلیل و نامراد کرتاہے۔ اور جسے ہم نے نبی مانا ہے وہ تو دنیا میں ہر جگہ کامیاب ہو رہا ہے اور پھیلتا چلا جا رہاہے۔ اس لئے سوال کو درست کرنا چاہئے کہ اگر آنحضرت ﷺکے بعد کوئی نبی نہیں آنا تو پھر خدا نے نبی کیوں بھیجا ۔حضور رحمہ اللہ نے فرمایا مولویوں نے آپ کو غلط باتیں پڑھائی ہیں کہ آنحضرت ؐ کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا ۔حضور نے اجلاس کے آغاز میں تلاوت کردہ آیات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ان میں بھی میثاق النبیین کا ذکر تھا کہ اگر کوئی ایسا رسول آئے جو میرے بھیجے ہوئے کی باتوں کی تصدیق کرتاہے تو تم اس پر ایمان لانا او ر اس کی مدد کرنا ۔ثابت ہوا کہ امتی نبی آ سکتاہے جو نہ قرآن میں تبدیلی کرے بلکہ اس کی تصدیق کرے اور حضرت محمد ؐرسول اللہ کا غلام اور مطیع ہو ایسانبی آ سکتا ہے ۔ جماعت احمدیہ کا عقیدہ ہے کہ اللہ نے حضرت مرز ا غلام احمد قادیانی کو نبی بنایا مگرامتی نبی بنایا ۔ امّت محمدیہ پر قائم رہنے والا اور قائم رکھنے والا بنایا ۔
حضور نے فرمایا کہ جس میثاق النبیین کا حوالہ دیا گیاہے یہ قرآن کریم میں درج ہے ۔ بعض علماء عام لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے کہتے ہیں کہ یہ رسول اللہ ﷺسے پہلے لوگوں سے میثاق لیا گیاتھا اور مطلب یہ تھا کہ جب رسول اللہ ﷺ آئیں تو ان پر ایمان لانا اوران کی مدد کرنا۔ یہ درست ہے مگر اسی سورۃ الاحزاب میں جس میں آیت خاتم النبیین ہے میثاق النبیین کا بھی ذکر ہے اور یہ ذکر ہے کہ پرانے نبیوں سے بھی میثاق لیا اور مِنْکَ تجھ سے بھی ۔ اگر آپ ﷺکے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آنا تھا جو سو فیصد آپ کا غلام اور مطیع اورامتی ہونا تھا تو اس میثاق کے آنحضور ؐ سے لینے کا کوئی مطلب نہیں تھا جب تک ایسے نبی کے آنے کی قطعی پیشگوئی نہ ہوتی۔
*۔۔۔ایک صاحب نے تحریری طور پر جماعت احمدیہ کے امام یعنی حضرت خلیفۃ المسیح رحمہ اللہ تعالیٰ کی جرمنی میں آمد پر خوش آمدید کہا اورکوسووا کے مظلومین کی امداد کرنے پر شکریہ ادا کیا تھا جس پر حضور انور نے فرمایا ، جزاک اللہ ۔ یہ آپ کے اعلیٰ اخلاق کا اظہارہے لیکن جو مدد خدا کی خاطر کی جائے اس کی جزا اللہ تعالیٰ دیتاہے اور جو خدمت کرتاہے وہ شکریہ کی خواہش نہیں رکھتا بلکہ شکریہ اداکرنے پر شرمندگی محسوس کرتاہے کہ جتنی خدمت کرنی چاہئے تھی وہ نہیں کرسکا ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتاہے لَانُرِیْدُ مِنْکُمْ جَزَائً وَّلَا شکُوْراً۔
*۔۔۔ایک البانین مہمان نے کہا کہ ہم کسووا کے البانین اپنے وطن کی آزادی کے لئے لڑ رہے ہیں۔ ہم اپنے مسائل کوحل کرنے میں اتنے منہمک رہے کہ ہم حقیقی رنگ میں عبادت نہیں کرسکے۔
حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جن مسائل کے حل کی خاطر آپ نے عبادت سے منہ موڑا ہے ان مسائل کے حل کے لئے پہلے سے زیادہ عبادت کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔ رسول اللہﷺ نے توعین جنگ لڑتے ہوئے عبا دت کی ہے۔ آپ لوگوں کے لئے نمازیں پڑھنے کی راہ میں کوئی روک نہیں۔ نمازیں پہلے سے زیادہ پڑھنی چاہئیں کیونکہ نماز کے ذریعہ اللہ سے مدد مانگیں توخدا سے زیادہ مدد نصیب ہوگی۔ آ پ اگر واقعۃً اپنے مقصد سے ہمدردی رکھتے ہیں تو اپنے ماحول اورزیر اثر لوگوں کوعبادت کی طرف بلائیں۔
حضور نے فرمایا کہ یہ جو دعویٰ ہے کہ مشکل کے وقت عبادت کاوقت نہیں ملتا اصل معاملہ اس کے بالکل الٹ ہے۔ مشکل کے وقت ہی تو انسان کا دماغ عبادت کی طرف جایا کرتاہے۔ یہ انسانی نفسیات کا گہرا گر ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ قرآن مجیدمیں توجہ دلاتاہے کہ جب کشتی سمندر میں ہو اور طوفان گھیرلے تواس وقت مشرک و دہریہ بھی اللہ کو پکارتا ہے۔اور جب وہ خدا کو بلاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ انہیں بچا بھی لیتاہے لیکن جانتا ہے کہ جب طوفان ہٹ جائیں گے تو پھریہ خدا کو بھول جائیں گے۔ حضور نے فرمایا کہ مجھے یہ ڈرہے کہ اب جو خدا یاد آیاہے تو اسے بعد میں بھول نہ جائیں۔ جو خدا اب یاد آیاہے اسے مضبوطی سے پکڑ لیں اور اسے کبھی نہ بھولیں۔
*۔۔۔ایک سوال یہ کیا گیاکہ کیا کوئی ایسی اسلامی حکومت دنیا میں موجود ہے جہاں عملاً قرآن کریم کی تعلیمات اختیار کی جاتی ہیں۔اگر اس کا جواب اثبات میں ہے تو وہ کونسی حکومت ہے؟
حضور رحمہ اللہ نے فرمایا میرے علم میں کوئی بھی اسلامی سٹیٹ نہیں ہے جہاں عملاً قرآن کی حکومت ہو۔ وہاں سیاستدان کی حکومت ہے یاملاّں کی۔ لیکن لازماً ایک دن اسلامی حکومت قائم ہوگی اور جماعت احمدیہ اسی کے لئے کوشش کر رہی ہے اور امید رکھتا ہوں کہ اگلے چند سالوں میں اللہ جماعت کو ایک نمونہ کی حکومت قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے گا۔وہ کہاں ہوگی؟ اللہ بہتر جانتاہے۔ بظاہر تو افریقہ اس سلسلہ میں آگے نکلا ہوا لگتاہے مگر میں آپ کے حق میں دعا کرتاہوں کہ کیوں نہ البانیہ وہ حکومت بن جائے جہاں قرآن پرمبنی حکومت قائم ہو۔ حضور نے فرمایا کہ آپ کے سارے مسائل حل ہو جائیں گے اگر آپ احمدی ہوجائیں ۔ انشاء اللہ ۔
*۔۔۔کیا یہ ممکن ہے کہ جو کسوون گھر سے بے گھر ہوئے ہیں واپس اپنے گھروں میں جائیں اورکیا وہ دوبارہ امن کے ساتھ رہ سکیں گے ؟
حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میرے خیال میں یہ ممکن ہی نہیں بلکہ ضرور ایساہوگا۔ ان کو ضرور واپس لوٹناہے انشا ء اللہ۔ مگر وہ نمونہ اختیار کریں جو آنحضرت ﷺ اور آپ ؐ کے ساتھیوں ؓ نے مکہ سے ہجرت کے نتیجہ میں اختیار کیا تھا اور اس کے نتیجہ میں اللہ نے وعدہ کیا تھا کہ میں ضرور تجھے مکہ میں واپس لاؤں گا۔ پس آنحضرتﷺ کی سنت موجودہے ۔ اگرآپ کوواقعی وطن سے محبت ہے اور واقعی واپس جاناچاہتے ہیں تو حضرت محمد رسول اللہ ﷺنے نمونہ قائم کر دیاہے۔اپنا منہ کسوواکی طرف رکھیں کہ اے خدا ہمیں کسووا کی طرف واپس لے جا ۔ عبادت اوردعائیں کرتے رہیں۔ مجھے امیدہے کہ خدا ضرور لے جائے گا ۔اگر یہ نہ بھی کریں تو مجھے یہ یقین ہے کہ آپ واپس توجائیں گے مگر وہ واپسی بے معنی ہوگی۔ اگرامریکہ یایورپ رہ کر ان کی غیر اسلامی اقدار اپنا لیں تو پھرخواہ وہاں رہیں یاواپس جائیں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
*۔۔۔کیوں اسلامی ممالک نے ہمیں ریفیوجی کی حیثیت سے قبول نہیں کیاسوائے ترکی کے جبکہ وہ جانتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں؟
حضور رحمہ اللہ نے اس سوال کے جواب میں فرمایا کہ یہ توبڑے افسوس کی بات ہے اور اس کاجواب میں پہلے دے چکا ہوں کہ آپ نے تو اسلام کی خاطراسلامی یونین سے اتحاد کیا مگر آپ کی خاطر وہ اقدام نہیں کر رہے ۔ اسلامی ممالک کو چاہئے تھا کہ اگروہ کھلے دل سے آپ کا استقبال کرتے تو ایسا کرنے سے آپ کو غیرملکوں میں جانے کی ضرورت ہی نہ پڑتی ۔ان کے پاس روپیہ ہے ، وسائل ہیں مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا ۔ ایک پہلو سے یہ اچھا ہی ہوگیا کیونکہ اگر وہاں جاتے تو اسلام کا غلط تصور سیکھتے اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے تصور اسلام کے خلاف ایک تصور آپ پر غالب آ جاتا اور مغربی حکومتیں یہ سمجھتیں کہ آپ بنیاد پرست بن کر واپس لوٹے ہیں اور وہ آپ کے خلاف ہوتیں۔ اس لئے بظاہر بُرا ہواہے لیکن فی الحقیقت اچھا ہی ہواہے ۔
حضور نے فرمایا کہ اس سوال کرنے والے کو غلط فہمی ہے کہ ترکی نے بطور مسلمان ملک کے آپ کو قبول کیاہے۔ یہ درست نہیں۔ ترکی یورپ کاحصہ ہے اورنیٹو کاممبر ہے اوراس نے نیٹو کے ممبر کی حیثیت سے آپ کو قبول کیاہے۔ اور ترکی میں توحال یہ ہے کہ اسلام کے نام پروہاں لڑکیوں کو سرپر دوپٹہ رکھنے کی اجازت نہیں ہے ۔
اس کے بعدتحریری سوالات چونکہ ختم ہو چکے تھے اور مقررہ وقت سے بھی زائد وقت ہو چکا تھا مگر حضور انورکو جب ڈاکٹر محمدزکریا خان صاحب نے بتایا کہ سوالات ختم ہو چکے ہیں تو حضرت امیرالمومنین رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر ہال خالی کرکے فوراً نہیں دینا تو آپ مزید سوالات کرسکتے ہیں ۔ حاضرین کی دلچسپی کے ساتھ ساتھ حضور انور بھی اس مجلس سے محظوظ ہوتے رہے تھے لہذا حضور کی دعوت پر ایک صاحب نے سوال کیا ۔
*۔۔۔انہوں نے کہا کہ انہیں کچھ عرصہ ترکی میں رہنے کا موقع ملا ہے۔ وہاں پر ایک جگہ حضور اکرم ﷺ کے جوتے دیکھے ہیں جن کودیکھ کر لوگ شکرانے کے طورپر نوافل پڑھتے ہیں ۔ یہ کہاں تک درست ہے؟
حضور نے فرمایا کہ جہاں تک آنحضرت ﷺ کے لباس یا بالوں یاجوتی کا تعلق ہے اس میں شک نہیں کہ سب سے بڑا خزانہ ترکی میں ہے مگر سوال یہ ہے کہ وہ اصل ہے بھی یا نہیں۔ حضرت امیرالمومنین رحمہ اللہ نے فرمایا کشمیر میں ایک علاقہ ہے جسے حضرت بل شریف کہتے ہیں جہاں حضور اکرم ﷺکے بال کے متعلق کہا جاتاہے کہ اس کی لوگ حفاظت کرتے ہیں اوراس کی حفاظت کی خاطر مسلمانوں نے ہندوفوجوں کے حملہ کے مقابلے میں قربانیاں بھی دی ہیں مگر و ہ بال موٹاہے اور جیساکہ روایات سے پتہ چلتاہے کہ آنحضور ﷺ کے بال ریشم کی طرح نرم تھے ۔حضور نے فرمایا کہ لیکن جو مسلمان اخلاص کے ساتھ اس بات پرشکر ادا کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول کے لباس اور بال وغیرہ کی زیارت کی انہیں توفیق ملی ہے تو ان کے اس اخلاص کی اللہ انہیں ضرورجزا دے گا۔
حضرت امیر المومنین رحمہ اللہ کی نہایت محبت بھری نصائح اوردلنشین انداز بیان اور آپ کی بابرکت صحبت کا تمام حاضرین پرایک گہرا اثرتھا۔ آپ کی نظریں ان مظلوم مہاجرین کسوون البانین پردعائیں بن کرپڑ رہی تھیں اور ایک عجیب قسم کی سکینت دلوں پراترتی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔ آپ زیادہ سے زیادہ وقت ان میں گزارناچاہتے تھے ۔ جب تمام سوالات ختم ہوگئے تو حضور نے فرمایاکہ اگرچہ پروگرام میں تویہ شامل نہیں مگرمیری درخواست ہے کہ دعاکریں ۔ دعاکی طرف میں نے آپ کو توجہ دلائی ہے ۔ آپ کے حالات درست ہونے کے لئے میرے دل میں بڑا درد ہے ۔ میں آپ کے لئے بہت دعائیں کرتاہوں۔ اس کے بعد حضور رحمہ اللہ نے ہاتھ اٹھا کر پرسو ز اجتماعی دعا کروائی۔ پھر حالیہ دورہ جرمنی کی اس آخری مجلس سوال وجواب کے اختتام پرتمام حاضرین کو خدا حافظ اور السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہہ کر مسجد نورفرینکفورٹ تشریف لے گئے جہاں مغرب و عشاء کی نمازیں جمع کرکے پڑھائیں۔