مسلم ٹیلی ویژن احمدیہ (MTA)انٹرنیشنل ایک عظیم نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے جماعت احمدیہ کو عطا کی ہے ۔ یہ وہ واحد مسلم ٹی وی چینل ہے جو ساری دنیا میں روزانہ چوبیس گھنٹے اسلام کی سچی اور حقیقی تعلیمات کو پیش کرتا ہے ۔ رحمۃللعالمین حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ پر ربّ العالمین کی طرف سے نازل ہونے والی تعلیم کے فیض سے اس ٹی وی چینل کی نشریات عالمی نشریات ہیں اور اس کے پروگرام عالمی پروگرام ۔ یہاں سے وہی اسلام پیش کیا جاتا ہے جو عالمی دین ہے اور تمام بنی نوع انسان کے لئے ہدایت اور رحمت کا باعث ہے ۔ایم ٹی اے انٹرنیشنل کے سارے پروگرام غیر جانبدار، کامل عدل وانصاف اور سچائی و راستی پر مبنی ہیں ۔ ان میں کسی قسم کا تصنع اور بناوٹ یا جھوٹ یا مداہنت کی کوئی آمیزش نہیں۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ نورِ محمدیؐ کے فیض سےMTAنہ مشرقی ہے نہ مغربی بلکہ یہ ابدی صداقتوں کو پھیلانے والااور فطرت انسانی کو اپیل کرنے والا ایک عالمی چینل ہے۔کُل عالم کو ایک ہاتھ پر اکٹھا کرنے کے لئے ایم ٹی اے کو عظیم الشان خدمت کی سعادت حاصل ہے۔ عالمگیر جماعت احمدیہ مسلمہ کے امام حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطبات ، خطابات ، درس القرآن ، مجالس سوال و جواب سب کے سب عالمی حیثیت رکھتے ہیں اور تمام دنیا آپ کی مخاطب ہوتی ہے ۔ عالمی خطبہ جمعہ ، عالمی جلسہ سالانہ ، عالمی بیعت ، عالمی سجدہ تشکر ، عالمی نعرے ، عالمی دعائیں، عالمی درس القرآن ، عالمی مجالس عرفان غرضیکہ ہر چیز میں عالمی وحدت کے نظارے ایم ٹی اے پر دیکھنے میں آتے ہیں اورخلافتِ احمدیہ حقیقی معنوں میں کُل عالم کے سعید فطرت مسلمانوں کے دلوں پر حکمرانی کررہی ہے ۔ ساری دنیا کے احمدی باوجود رنگ ونسل اور زبانوں کے اختلاف کے ایک ہی رنگ میں ،جو رنگِ تقوی ہے ،نشوو نما پارہے ہیں اور باوجود ہزار ہا میل کے فاصلوں کے ان کے دل وحدت ایمانی سے اس طرح مربوط ہیں گویا بنیان مرصوص ہوں۔
ایک ہو خوش تو لاکھوں چہرے کھلتے ہیں
بانٹتے ہیں ہم سارے غم اک دُوجے کے
ایک کو دکھ ہو لاکھوں کے دل دُکھتے ہیں
سارے عالم اسلام میں کوئی اور جماعت ایسی نہیں جو حقیقت میں عالمی جماعت کہلا سکے۔ نہ ان کا کوئی عالمی امام ہے، نہ ان کی فکرونظر میں وحدت ہے اور نہ عملی طور پر اتفاق واتحاد۔ بلکہ ان کی کیفیت ان پراگندہ ومنتشر بھیڑوں کی سی ہے جن کا کوئی نگران نہ ہو اور خونخوار بھیڑئیے جب چاہیں اور جس بھیڑ کو چاہیں چیر پھاڑ کررکھ دیں۔
یوں تو کہنے کو دنیا بھر میں پچاس سے زائد مسلم حکومتیں موجود ہیں اور ان میں سے بعض بہت وسیع خزانوں اور وسائل کی مالک ہیں لیکن ان میں سے کسی کو بھی عالمگیر مسلم ٹیلی ویژن قائم کرنے کی توفیق حاصل نہیں ہوئی ۔ اگرچہ ان ممالک میں بیسیوں ٹی وی چینل جاری ہیں لیکن کوئی ایک بھی نہیں جسے فی الواقعہ مسلم ٹی وی کہا جاسکے ۔اگر یہ سعادت حاصل ہوئی ہے تو دنیوی لحاظ سے ایک نہایت کمزور اور غریب جماعت کو جس کے پاس نہ تو کوئی معدنی خزائن ہیں، نہ تیل کی دولت ، نہ حکومت اور اقتدار ۔ لیکن وہ خدا تعالیٰ کی قائم کردہ جماعت ہے جو زمین وآسمان کے تمام خزانوں کا مالک ہے ۔ اور اُس نے اِس جماعت کو اس لئے قائم فرمایا ہے کہ تا ساری نوع انسانی کو دین محمد ﷺ پر جمع کرکے امّت واحدہ میں تبدیل کرے ۔ سو اُس نے محض اپنے فضل سے اور اپنی تقدیر خاص سے عالمگیر مسلم ٹیلی ویژن کے اجراء کی توفیق اس جماعت کو عطا فرمائی اور ضرور تھا کہ ایسا ہی ہوتا ۔
قرآن وحدیث میں اور اُمّت مسلمہ کے صلحاء وبزرگان کی پیشگوئیوں میں بڑی صراحت سے ایسے اشارے موجود ہیں کہ مسیح موعود وامام مہدی علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ ایسے سامان مہیا فرمائے گا جن سے کام لے کر وہ اسلام کو ساری دنیا میں غالب کریں گے ۔ مثلاًبحار الانوار میں حضرت امام جعفر صادق5 ؒ سے روایت ہے کہ:
’’ایک منادی آسمان سے آواز دے گا جسے ایک نوجوان لڑکی پردے میں رہتے ہوئے بھی سنے گی اور اہلِ مشرق و مغرب بھی سنیں گے‘‘۔(بحار الانوار جلد ۵۲ صفحہ ۲۸۵از ملا محمد باقر مجلسی ۔داراحیاء التراث العربی ۔ بیروت)
حضرت امام باقر (وفات ۱۱۴ھ) سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:
’’ہمارے امام قائم جب مبعوث ہونگے تو اللہ تعالیٰ ہمارے گروہ کی شنوائی اور آنکھوں کی بینائی کو بڑھادے گا یہانتک کہ یوں محسوس ہوگا کہ امام قائم اور ان کے درمیان فاصلہ ایک برید( یعنی ایک سٹیشن )کے برابر رہ گیا ہے ۔ چنانچہ جب وہ امام ان سے بات کریں گے تو وہ انہیں سنیں گے اور ساتھ دیکھیں گے جبکہ امام اپنی جگہ ہی ٹھہرارہے گا‘‘۔ (بحار الانوار جلد۵۲۔صفحہ نمبر۳۳۶)
حضرت امام جعفر صادق (وفات۱۴۸ھ) کی پیشگوئیوں میں یہ بھی ذکر ہے کہ مومن جو امام قائم کے زمانہ میں مشرق میں ہوگا اپنے اس بھائی کو دیکھ لے گا جو مغرب میں ہوگا اور اسی طرح جو مغرب میں ہوگا وہ اپنے اس بھائی کو دیکھ لے گا جو مشرق میں ہوگا ۔ (بحارالانوار جلد ۵۲ صفحہ ۳۹۱)
حضرت شاہ رفیع الدین صاحب نے تحریر فرمایا کہ :
’’ بیعت کے وقت آسمان سے ان الفاظ میں آواز آئے گی یہ اللہ کا خلیفہ مہدی ہے اس کی آواز سنو ،اس کی اطاعت کرو اور یہ آواز اس جگہ کے تمام خاص وعام سنیں گے ‘‘۔(قیامت نامہ صفحہ نمبر۴، شاہ رفیع الدین۔مطبع مجتبائی دہلی)
یہ اور اس قسم کی اوربہت سی پیشگوئیاں ہیں جو اسلامی لٹریچر میں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ انجیل میں بھی مسیح علیہ السلام کی آمد ثانی کے وقت وحدت اقوام اور آسمانی پیغام کی عالمی اشاعت کا تذکرہ موجود ہے ۔ ان پیشگوئیوں میں آواز کے آسمان سے اترنے اور یکساں طور پر سب لوگوں کو پہنچنے اور اہل مشرق ومغرب کا اپنی اپنی جگہ پر رہتے ہوئے ایک دوسرے کودیکھنے کا جو تذکرہ ہے اس میں اس عالمی مواصلاتی نظام کی طرف بلیغ اشارہ ہے جو آج کی دنیا میں سیٹلائٹ کمیونیکشن ، فون ، فیکس، انٹرنیٹ اور ٹیلی ویژن وغیرہ کی صورت میں معروف ومشہور ہے ۔
پھر یہی نہیں کہ امام مہدی علیہ السلام کو ایسے وسائل مہیا ہونے کی پیشگوئیاں پہلے بزرگان نے کیں بلکہ خود حضرت اقدس مسیح موعوداورالامام المہدی علیہ السلام کو بھی الہامات اور رؤیا وکشوف میں ایسی خبریں دی گئیں۔
آج سے سو سال قبل ۸؍د سمبر۱۹۰۲ء کو مسجد مبارک قادیان میں حضرت اقدس مسیح موعودو مہدی معہود علیہ السلام نے عصر کی نماز سے قبل اپنے اصحاب کو ایک رؤیا سنائی جس میں ذکر فرمایا کہ :
’’ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میں ہوا میں تیر رہا ہوں اور ایک گڑھا ہے مثل دائرے کے گول ۔ اور اس قدر بڑا ہے جیسے یہاں سے نواب صاحب کا گھر اور میں اس پر اِدھر سے اُدھر اور اُدھر سے اِدھر تیر رہا ہوں۔ سید محمد احسن صاحب کنارے پر تھے ۔ میں نے ان کو بلاکر کہا کہ دیکھ لیجئے کہ عیسیٰ علیہ السلام تو پانی پر چلتے تھے اور میں ہوا پر تیر رہا ہوں۔ اور میرے خدا کا فضل اُن سے بڑھ کر مجھ پر ہے ۔ حامد علی میرے ساتھ ہے اور اس گڑھے پر ہم نے کئی پھیرے کئے ۔ نہ ہاتھ، نہ پاؤں ہلانے پڑتے ہیں اور بڑی آسانی سے اِدھر اُدھر تیر رہے ہیں‘‘۔(ملفوظات جلد دوم۔ جدید ایڈیشن صفحہ ۵۶۹۔۵۷۲)
حضرت مسیح پاک علیہ السلام کی سوسال قبل کی یہ رؤیا آپ کے مقدس خلیفۂ رابع کے مبارک دور میں بڑی شان کے ساتھ ایم ٹی اے کے ذریعہ پوری ہو کر کُل عالم میں آپ کی صداقت کو ثابت کررہی ہے ۔ ہوا کے دوش پر آپ کی شبیہ مبارک اور آپ کامقدس پیغام ڈش انٹینا کے ذریعہ ساری زمین پر نازل ہور ہا ہے اور گویا شش جہات اس آواز سے گونج رہے ہیں کہ
نیز بشنو از زمیں آمد امامِ کامگار
کوئی کہہ سکتا ہے کہ اور بھی بعض ٹی وی چینلز ایسے ہیں جن پر ’’اسلامی‘‘ پروگرام نشر ہوتے ہیں۔ لیکن قطع نظر اس کے کہ وہ کس حد تک اسلامی ہیں ،اور وہ اسلام کے کسی خاص محدود فرقہ کے نقطۂ نظر کو ہی پیش کرنے والے ہیں، اور وہ عالمی حیثیت بھی رکھتے ہیں یا نہیں، اصل بات جو نہایت اہم ہے وہ یہ ہے کہ الٰہی نوشتوں اور بزرگان سلف کی پیشگوئیوں میں ایسے ذرائع کاخاص طورپر حضرت امام مہدی علیہ السلام کے لئے مہیا ہونے کا ذکرہے اور مقصد یہ ہے کہ تا وہ اِن سے کام لے کر اسلام کی عالمگیر تبلیغ کی مہم چلائیں۔ آج روئے زمین پرمسیح موعود اور الامام المہدی ہونے کا مدعی صرف ایک ہی وجود ہے یعنی حضرت اقدس مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام۔ آپ ہی کے متعلق یہ وعدہ ہے کہ آپ دین ا سلام کوتمام ادیان پر غالب کریں گے اورحکَم وعَدَل بن کر اختلافات کو دور کریں گے اور زمین کو عدل وانصاف سے بھر دیں گے۔ پھر یہ صرف آپ ہی کا وجود گرامی ہے جس نے ان سب ایجادات کے متعلق یہ دعویٰ کیا کہ یہ سب سامان خدا تعالیٰ نے میرے لئے مہیا فرمائے ہیں اورآپ نے بڑی تحدی کے ساتھ اور قوی دلائل کے ساتھ ان باتوں کو اپنی صداقت کے ثبوت میں بطور نشان پیش فرمایا۔ مثلاً آپ فرماتے ہیں:
’’قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے اور احادیث صحیحہ اس کی تصدیق کرتی ہیں کہ مسیح موعود کے زمانہ میں ایک نئی سواری پیدا ہوگی جس سے اونٹ بیکار ہوجائیں گے جیسا کہ قرآن شریف میں ہے( وَاِذَاالْعِشَارُ عُطِّلَتْ) اور حدیث صحیح میں ہے وَلَیُتْرَکَنَّ الْقِلَاصُ فلَا یُسْعٰی عَلَیْھَا....... اسی طرح نہروں کا نکالے جانا ،چھاپے خانوں کی کثرت اور اشاعت کتب کے ذریعوں کا عام ہونا اسی قسم کے بہت سے نشان ہیں جو اس زمانے سے مخصوص تھے اور وہ پورے ہوگئے ہیں‘‘۔ (الحکم ۱۷؍ستمبر ۱۹۰۴)
اسی طرح آپ فرماتے ہیں:
’’(وَاِذَاالنُّفُوسُ زُوِّجَتْ) بھی میرے ہی لئے ہے ...... پھر یہ بھی جمع ہے کہ خدا تعالیٰ نے تبلیغ کے سارے سامان جمع کردئیے ہیں۔ چنانچہ مطبع کے سامان ، کاغذ کی کثرت، ڈاکخانوں،تار ، ریل اوردخانی جہازوں کے ذریعہ کُل دنیا ایک شہر کا حکم رکھتی ہے۔ اور پھر نت نئی ایجادیں اس جمع کو اور بڑھا رہی ہیں۔ کیونکہ اسباب تبلیغ جمع ہورہے ہیں۔ اب فونو گراف سے بھی تبلیغ کاکام لے سکتے ہیں۔ اور اس سے بہت عجیب کام نکلتا ہے ۔ اخباروں اور رسالوں کا اجراء ۔ غرض اس قدرسامان تبلیغ کے جمع ہوئے ہیں کہ اس کی نظیر کسی پہلے زمانہ میں ہم کو نہیں ملتی ‘‘۔ (الحکم ۳۰؍نومبر ۱۹۰۲ء)
نیز فرمایا:’’ یہ زمانہ اس قسم کا آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسے وسائل پیدا کردیئے ہیں کہ دنیا ایک شہر کا حکم رکھتی ہے اور (وَاِذَاالنُّفُوسُ زُوِّجَتْ) کی پیشگوئی پوری ہوگئی ۔ اب سب مذاہب میدان میں نکل آئے ہیں اور یہ ضروری امر ہے کہ ان کا مقابلہ ہو اور ان میں ایک ہی سچا ہوگا اور غالب آئے گا‘‘۔ (الحکم ۳۱؍اکتوبر ۱۹۰۲ء)
پس مسلم ٹیلیویژن احمدیہ (MTA) انٹرنیشنل کا جماعت احمدیہ کو عطا ہونا خدا تعالیٰ کا خاص احسان ہے اور اس کی خاص تقدیر ہے ۔ حضرت امیر المومنین
خلیفۃ المسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ایم ٹی اے کے متعلق اپنے یکم اپریل ۱۹۹۶ء کے خطاب میں فرمایا :۔
’’ اللہ تعالیٰ نے جو یہ وعدہ فرمایا کہ’ میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا‘دیکھو کس شان سے پورا فرمایا ہے .....یہ نظام خدا نے ہمیں عطا فرمایا ہے اور اس الہام کی برکت ہے نہ کہ ہماری کوئی شوخی ...... ہم اپنی عاجزانہ کوششیں جو اس راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کی توفیق عطا ہونا ہی خدا کا بڑا انعام ہے ۔...... ۔یہ سارے کا روبار اللہ کی تقدیر کے کاروبار ہیں(لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ) کا وعدہ ہے جو اللہ نے حضرت محمدؐ رسول اللہ سے فرمایااور فرمایا کہ ایسا کاروبار جو تیرے ہاتھ سے جاری ہورہا ہے خدا ہی اس کا نگران ہے ۔ خدا ہی اس کاولی ہے ۔ خدا ہی وکیل ہے جو تمام طاقتیں رکھتا ہے۔ ہر بات کی قدرت رکھتا ہے ۔ وہ کارساز ہے ۔ وہی ہے جو یہ کام بنائے گا اور یہ آخری اٹل وعدہ ہے جو ہرگز مٹایا نہیں جاسکتا (لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ) ۔ تاکہ محمد ؐ رسول اللہ اور آپؐ کے پیغام کو تمام دنیا کے ادیان پر غالب کردے ‘‘۔
سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ایم ٹی اے انٹرنیشنل کی چوبیس گھنٹے کی نشریات کے آغاز کے موقع پر
یکم؍ اپریل ۱۹۹۶ء کو اپنے تاریخ ساز اور روح پرور خطاب میں یہ وجد آفرین اعلان بھی فرمایا تھا کہ :
’’ آج کے بعد انشاء اللہ ہمیشہ پہلے سے بڑھ کر روشن تر دن ایم ٹی اے پر نمودار ہوگا‘‘۔
یہ بشارت جس پُر شوکت انداز میں ہر روز پوری ہورہی ہے آج ایک عالم اس کا گواہ ہے ۔
وہ لوگ جو سیٹلائٹ ٹی وی سسٹم سے متعلق معمولی سا علم بھی رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ بہت ہی محنت طلب اور بہت ہی مہنگا کام ہے اور اس کے لئے بہت سے فنّی ماہرین کی ضرورت ہے۔ بڑے بڑے تجارتی ادارے اور حکومتیں بھاری اخراجات کرکے سیٹلائٹ چینل جاری کرتی ہیں۔ لیکن ان کی غرض دولت کمانا ہوتی ہے۔ ان کے پروگرام دنیا داروں کے رجحانات کے مطابق ہوتے ہیں۔ فرضی ڈرامے ، لغو بیہودہ فلمیں ، ناچ گانے اور ہر قسم کے گندبھی ان ٹی وی چینلز پر دکھائے جاتے ہیں ۔ کثرت سے اشتہار بازی ہوتی ہے اور اکثر ٹی وی چینلز کے پروگرام لوگوں کو خریدنے پڑتے ہیں۔ مگر یہ ایم ٹی اے ایک ایسا ٹی وی چینل ہے جو ہر قسم کی بیہودگیوں سے پاک ہے ،جو نوع انسان کو پستی سے اٹھا کر انسانیت کے کمال تک پہنچانا چاہتا ہے ۔ اسے بااخلاق اور باخدا نسان بننے کی راہیں دکھاتا ہے ۔اور بغیر کسی دنیوی طمع کے ، بغیر کسی حرص کے ، بغیر کسی مالی منفعت کے ، سراسر بے غرض اور بے لوث خدمت کی راہ سے گویا پکار پکار کر لوگوں کو دعوت دیتا ہے کہ
لو تمہیں طور تسلی کا بتایا ہم نے
اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایم ٹی اے انٹرنیشنل اپنے پروگراموں کی افادیت اور صاف ستھری اور معیاری نشریات کی وجہ سے سیٹلائٹ چینلز کی دنیا میں خاص عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ کچھ عرصہ ہوا بی بی سی ٹیلی ویژن نے ایم ٹی اے پر ایک خصوصی پروگرام نشر کیا اور اس میں خاص طور پر اس امر کا ذکر کیا کہ یہ
ٹیلی ویژن تجارتی بنیادوں پر نہیں بلکہ بے لوث خدمت کے جذبہ سے کام کررہا ہے ۔اس کے تمام اخراجات احمدیہ مسلم جماعت کے افراد طوعی قربانی کے ذریعہ برداشت کرتے ہیں۔ انہیں کسی سیاسی یا سماجی تنظیم یا ادارہ یا حکومت وغیرہ سے کوئی مدد نہیں ملتی ۔ مکرم سید نصیر احمد شاہ صاحب چیئر مین ایم ٹی اے بورڈ نے خاکسار کو بتایا کہ گزشتہ دنوں ایک بینک کے افسران ایم ٹی اے دیکھنے آئے ۔ جب انہیں بتایا گیا کہ یہاں اس میں کام کرنے والے ۹۸فیصدافراد رضا کارانہ خدمت بجا لارہے ہیں اور ان میں ٹیکسی ڈرائیور بھی ہیں ، طالب علم بھی، بزنس مین بھی اور وکیل بھی تو وہ بہت حیران ہوئے ۔ انہیں یہ سب کچھ دیکھ اور سن کر یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ آج کی مادہ پرست دنیا میں ایسے لوگ بھی ہوسکتے ہیں جو اس جوش اور جذبہ اور اخلاص اور محنت کے ساتھ بے لوث کام کرنے والے ہیں کہ باوجود باقاعدہ پروفیشنل مہارت کے نہ ہونے کے چوبیس گھنٹے عالمی ٹی وی چینل چلا سکتے ہیں۔ لیکن یہ تو ایک زندہ حقیقت ہے اور صداقت احمدیت کا روشن اعجاز ۔
شاید بہت کم احباب کو علم ہوگا کہ پاکستان کا ٹیلی ویژن جو ۱۹۶۴ء میں شروع ہوا تھا اور جس کے پیچھے حکومت کی پوری طاقت اور مشینری اور تمام وسائل ہیں اس کی چوبیس گھنٹے کی نشریات کا آغازایم ٹی اے انٹرنیشنل کی چوبیس گھنٹے کی نشریات کے آغاز کے بھی دو دن بعد ہوا تھا ۔ اور اس کے باوجود پاکستان کے ٹی وی کو انٹرنیشنل نہیں کہا جاسکتا۔
احمدیت کے مخالف مُلّاں توحسد اور جلن کی وجہ سے ایم ٹی اے کے خلاف جو منہ میں آتا ہے کہتے چلے جاتے ہیں مگر آسمان پر تھوکنے والے کا اپنا منہ ہی گندا ہوا کرتا ہے۔جب ایم ٹی اے کا آغاز ہوا تو انہی دنوں کی بات ہے پاکستان کے ایک مولانا تقی عثمانی صاحب نے ٹی وی کے متعلق فتویٰ دیا کہ :
’’ شر کی چیز سے خیر نہیں پھیل سکتی اور یہ سنت کے بھی خلاف ہے کیونکہ اللہ کو نبیوں والا طریق پسندہے ‘‘۔
اس پر ایک اورمولوی یوسف لدھیانوی صاحب نے گرہ لگائی کہ :’’ مولانا نے صحیح فرمایا ہے ۔ ٹی وی ، وی سی آر اور ڈش انٹینا نَجَسُ الْعَیْن ہیں۔ ان کے ذریعہ تبلیغ اسلام کی توقع رکھنا خوش فہمی ہے۔ یہ شیطان کے ایجاد کردہ آلات ہیں ۔ ان کے ذریعہ شیطانیت تو پھیل سکتی ہے اور پھیل رہی ہے ۔ ان کے ذریعہ نیکی پھیل جائے ؟ ناممکن ہے ‘‘۔ (روزنامہ جنگ کراچی یکم نومبر ۱۹۹۶ء)
مولوی صاحب نے نَجَسُ الْعَیْن کی اصطلاح بھی خوب نکالی اور دلیل بھی خوب دی کہ ان کے ذریعہ صرف شیطانیت پھیل سکتی ہے ۔ شاید مولوی صاحب بھول گئے کہ لاؤڈا سپیکر ، ٹیلی فون ، فیکس ، انٹرنیٹ ، کیمرہ، ریل گاڑی ، کار اور جہاز وغیرہ سب چیزیں بھی تو ،ان کے کہنے کی رُو سے،’’ شیطان کے ایجاد کردہ آلات ہیں‘‘ لیکن مُلّاں لوگ ان سب کو بڑے شوق سے استعمال میں لاتے ہیں اور شاید اپنے مذکورہ اعتقادکی رُو سے ہی وہ ان چیزوں کو (یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اور مِنْہُمْ تَخْرُجُ الْفِتْنَۃُ کے مصداق) اکثرو بیشتر شیطانیت پھیلانے کے لئے ہی استعمال میں لاتے ہیں۔
جہانتک نَجَسُ العَین کی اصطلاح کا تعلق ہے شاید اس جگہ اس حدیث نبوی کا ذکر نا مناسب نہ ہوگا جس میں آنحضرت ﷺ نے کچھ نَجَسُ العَین لوگوں کا ذکر فرمایا ہے ۔ کنزل العمال میں لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میری امت پر ایک زمانہ اضطراب اور انتشار کا آئے گا ۔ لوگ اپنے علماء کے پاس ( رہنمائی کی امید سے ) جائیں گے تو دیکھیں گے کہ وہ تو بندر اور سؤر ہیں۔اور ایک حدیث میں اس وقت کے علماء کا ذکر یوں ہے کہ وہ آسمان کے نیچے بسنے والی مخلوق میں سے بد ترین ہو ں گے۔ اسے کہتے ہیں نَجَسُ الْعَین ۔
ہمارے سیدو مولا حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺنے فرمایا تھا کہ ہر انسان میں شیطان اس طرح دوڑ رہا ہے جس طرح خون انسانی رگوں میں دوڑتا ہے ۔ صحابہؓ نے عرض کی : یا رسول اللہ! کیا آپ کی رگوں میں بھی ؟ فرمایا: ہاں، لیکن میرا شیطان مسلمان ہوچکا ہے ۔
ہم بھی اُسی آقائے دوجہاں کے غلام مسیح الزمان کے ادنیٰ چاکر اور غلام ہیں۔ مولوی تقی عثمانی اور یوسف لدھیانوی اور ان کے ہمنوا مطلع رہیں کہ شیطان کے ایجاد کردہ یہ آلات ہمارے ہاں مسلمان ہوچکے ہیں اور شیطانیت پھیلانے کے لئے نہیں بلکہ اسلام کے زندگی بخش اور پُر امن پیغام کی اشاعت اور ترویج کے لئے استعمال ہورہے ہیں۔ یہاں سے بیہودہ میوزک ، رقص وسرود کی محفلیں ، لچر فلمیں اور فتنہ وفساد اور دہشت گردی کی باتیں نہیں نشر کی جاتیں بلکہ یہاں تو اللہ اور اس کے رسولؐ کی پاکیزہ تعلیمات کے تذکرے ہوتے ہیں اور حمد و نعت کے نغمے الاپے جاتے ہیں۔ ’’ یہ روحانی عالم محمد مصطفی ﷺ کے دین کا عالم ہے ۔ یہ اسلام کا عالم ہے ۔ خدائے واحدو یگانہ کے اس کلام کا عالم ہے جسے ہم قرآن کہتے ہیں اور اس قرآن کی برتری کے لئے ، اس کی عزت اور وقار کو دنیا پر قائم کرنے کی خاطر یہ نظام جاری فرمایا گیا ہے ‘‘۔
اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ ایم ٹی اے انٹرنیشنل بڑے مستحکم قدموں کے ساتھ اور بڑی عزت اور وقار کے ساتھ کامیابیوں کی نئی منزلیں طے کرتے ہوئے وسعت پذیرہے۔ اب جماعت کی مرکزی ویب سائٹ www.alislam.orgپر بھی اس کی تمام نشریات براہ راست دیکھی اور سنی جاسکتی ہیں ۔ یوں وہ تمام ممالک جہاں ڈش انٹینا کی سہولت ممکن نہیں تھی وہاں پر لوگ انٹرنیٹ کے ذریعہ اپنے کمپیوٹر کی سکرین پر ایم ٹی اے کے تمام پروگرام براہ راست مشاہدہ کرسکتے ہیں۔ خدا تعالیٰ کے فضل سے احمدی رضا کاروں کی محنتوں سے اس کے پروگراموں میں بہت حسین تنوع اور عمدہ ریکارڈنگ اور خوبصورت پیشکش سے اس کے ظاہری حسن میں بھی نکھار آتا چلا جارہا ہے ۔
یہ درست ہے کہ ایم ٹی اے اللہ تعالیٰ کا خاص احسان اور خاص عطا ہے جو اس کی تقدیر خاص سے جماعت کو عطا ہوا ہے ۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی غیر مستحق کو اپنے انعامات سے نہیں نوازتا۔ لَیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَاسَعٰی بھی اس کی تقدیر کا ایک حصہ ہے ۔ حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے یکم اپریل ۱۹۹۶ء کے خطاب میں اختصار کے ساتھ اس پہلو پر بھی روشنی ڈا لی ہے ۔ حضور ایدہ اللہ فرماتے ہیں :
’’یہ وہ دن ہے جس کے انتظار میں ہم نے بہت کٹھن وقت گزارے ۔ بہت محبت اور پیار اور خدا کے حضور التجاؤں کے ساتھ اس دن کی راہ میں آنکھیں بچھائیں اور دل بارہا اندیشوں میں دھڑکتا رہا۔کیونکہ بارہا کئی قسم کے ابتلا درپیش تھے۔ کئی قسم کی ٹھوکریں راہ میں تھیں ۔ لیکن ہر قدم پر ، ہر ہر قدم پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ، اس کی تقدیر ، اس کی حفاظت خاص نے ہمیں سنبھال لیا۔ اور جب کوئی راہ نہ پاتے تھے تو آسمان ہی سے وہ راہ اترتی تھی جس سے مستقبل کی امید یں پھر جاگ اٹھتی تھیں اور آگے بڑھنے لگتی تھیں۔ یہ ایک لمبی کہانی ہے مگر جماعت کی امانت ہے اور احمدیت کی تاریخ کا ایک حصہ ہے ‘‘۔
اس سلسلہ میں حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد پر مکرم سید نصیر احمد شاہ صاحب کو خاص خدمت کی توفیق اور سعادت حاصل ہوئی۔جب یہ کام ان کے سپرد ہوا تو وہ اس میدان سے کلیۃً نابلد اور ناآشنا تھے۔ خود حضور ایدہ اللہ فرماتے ہیں کہ:
’’ جب پہلی دفعہ میں نے ان سے بات کی تو یوں لگتا تھا جیسے دیوار سے بات کررہا ہوں۔ کچھ بھی ان کو علم نہیں تھا کہ یہ کونسا مضمون ہے ، کونسی دنیا ہے‘‘۔
نصیر شاہ صاحب نے خاکسار کو بتایا کہ اس نظام کو جاری کرنے میں حضور ایدہ اللہ کی ذاتی توجہ، رہنمائی ،دعائیں اور احمدیت کی سچائی میں خدا تعالیٰ کی خاص تائید قدم قدم پر حاصل رہی۔ انہوں نے بتایا کہ ایک بڑی سیٹلائٹ کمپنی سے جب ہم نے ایم ٹی اے کے سلسلہ میں رابطہ کیا تو جو عورت ہمارے پراجیکٹ پر مقرر کی گئی اس کا رویہ عدم تعاون کا تھا۔ کئی بہانوں سے وہ ہمیں ٹالتی رہی اور معاملہ کو التواء میں ڈالتی رہی۔ شاہ صاحب کہتے ہیں کہ میں نے حضور کی خدمت میں صورتحال عرض کرکے پریشانی کا اظہار کیا اور دعا کے لئے درخواست کی ۔ عجیب تصرف ہے کہ اس کے تین چار دن بعد ہی وہ خاتون کسی وجہ سے ملازمت سے فارغ کردی گئی اور اس کی جگہ جو ڈائریکٹر ہمارے پراجیکٹ پر مقرر ہوا وہ غیر معمولی طور پر ہمدرد اور متعاون ثابت ہوا اور اس نے ہماری بہت مدد کی ۔ کئی قسم کی رکاوٹیں جو حائل تھیں خود ہی اس نے ان کے حل ڈھونڈے اور ہمارے لئے راستے ہموار ہوتے چلے گئے۔
اس سارے عرصہ میں حضورانور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کن قلبی کیفیات سے گزرتے رہے اور کس کس طرح آپ مولا کریم کے حضور متضرعانہ دعاؤں سے، اپنی جان گداز کرکے، اس کے فضل اور نصرت کے طالب رہے اِس کا علم تو سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کسی کو نہیں ہوسکتا ۔ البتہ آپ کے درج ذیل الفاظ میں ان کیفیات کی ایک ہلکی سی جھلک ملاحظہ کی جاسکتی ہے ۔آپ ایم ٹی اے کے تعلق میں ہی فرماتے ہیں:
’’پس نظام کا محافظ خود خدا ہی ہے۔ ہم فکر تو کریں گے ہم عبدالمطلب کی طرح یہ نہیں کہیں گے کہ میں تو اونٹوں کا مالک ہوں۔ اس لئے اے بادشاہ میں اونٹوں کی فکر لے کر تیری خدمت میں حاضر ہوا ہوں۔ تُو خانہ کعبہ پر حملے کی غرض سے آیا ہے جو رب الکعبہ ہے، جو کعبہ کا رب ہے وہ اپنے گھر کی فکر آپ کرے گا۔
ہم اس سے آگے بڑھ کر محمد رسول اللہ ﷺ کے جذبات اور خیالات اور خدا تعالیٰ کی خاطر وقف ہونے کی تمناؤں کے غلام بنتے ہوئے خدا سے یہ عرض کریں گے کہ دین بھی تیرا ہے، دنیا بھی تیری ہے۔ یہ سب کائنات تیری ہے۔ مگر ہم اس فکر کو اپنے اوپر لگا بیٹھے ہیں، ہم اس غم سے آزاد ہو نہیں سکتے، ہم تیرے بن چکے ہیں اور تیری رضا پر نگاہ ڈالتے ہوئے، جانتے ہوئے کہ تیرا ارادہ یہ ہے کہ تمام دنیا پر اسلام غالب آ ئے ، اس فکر میں اب غلطاں ہیں اور غلطاں رہیں گے۔ یہ مرض ہمیں پیارا ہے۔ یہ وبال ہماری جان کی آسودگی کا موجب ہے۔اس لئے ہم اس وبال سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ہاں جانتے ہیں کہ یہ تیرا کام ہے۔ اس بات پر کامل یقین رکھتے ہیں کہ اس غم لگانے کی تیرے دین کو احتیاج نہیں۔ تو مستغنی ہے۔ ہم غم نہ لگائیں گے تب بھی تیری بات ضرور پوری ہوگی۔ ۔۔۔پس یہ تو تقدیر کی باتیں ہیں مگر ہمارے جگر کا خون ہونا بھی تو اس تقدیر کا ایک حصہ ہے‘‘
ہم نے گلشن کے تحفّظ کی قسم کھائی ہے
بلا شبہ ایم ٹی اے پر یہ نکھار یونہی نہیں آیا۔ خونِ دل نذر کیا ہے تو بہار آئی ہے ۔
مکرم سید نصیر شاہ صاحب نے خاکسار کو بڑے ہی جذباتی انداز میں بتایا کہ جب ایم ٹی اے کے لئے گلوبل بیم حاصل کرنے کی کوشش ہورہی تھی اس وقت بہت سی روکیں اس راہ میں حائل تھیں۔ لیکن حضور ایدہ اللہ کی رہنمائی ، دعاؤں اور روحانی توجہات سے قدم قدم پر اعجاز ظاہر ہوتے رہے اور ایک ایک کرکے تمام روکیں دور ہوتی چلی گئیں۔ گلوبل بیم پر جو جگہ ہمیں مطلوب تھی وہ ایک بڑی سیٹلائٹ کمپنی نے First Right of Refusal کے طور پر بُک کروائی ہوئی تھی۔ جون ۹۶ء میں ان کی بکنگ کی تاریخ ختم ہورہی تھی اور غالب امکان یہ تھا کہ وہ کمپنی اس میعاد کو بڑھالے گی اور یہ جگہ ہمیں نہیں مل سکے گی۔ اور بھی کئی بڑی بڑی تجارتی کمپنیاں اس جگہ کے حصول کے لئے کوشاں تھیں۔ مکرم نصیر شاہ صاحب کہتے ہیں کہ لیکن میں جب بھی حضور کی خدمت میں حاضر ہوا ، حضورانور نے بڑے پختہ یقین کے ساتھ فرمایا کہ انشاء اللہ یہ ہمیں مل جائے گی۔ حتیٰ کہ حضور نے اپنے خطبات میں بھی اس امر کا اظہار فرمایا کہ جب ہمیں یہ گلوبل بیم مل جائے گی تو اس سے
انشاء اللہ ایم ٹی اے کے پروگرام زیادہ صاف اور دور دور کے علاقوں تک دکھائی دینے لگیں گے ۔ میں اپنی جگہ پریشان ہوتا کہ اگر یہ جگہ ہمیں نہ ملی تو کیا ہوگا۔ آخر وہ دن آیا جس دن کمپنی کا بکنگ کا حق ختم ہونا تھا۔ رات قریباً ساڑھے گیا رہ بجے امریکہ سے مجھے فون آیا کہ چونکہ اس کمپنی نے معاہدہ میں توسیع نہیں کی اس لئے گلوبل بیم پر جو جگہ ہمیں مطلوب تھی وہ ہمیں مل گئی ہے ۔ یہ رمضان کا مہینہ تھا ۔ میں نے اس خیال سے کہ اب بہت دیر ہوگئی ہے حضور کو ڈسٹرب کرنا مناسب نہیں ہے ۔ یہی سوچا کہ صبح حضور کی خدمت میں اطلاع کردوں گا ۔ چنانچہ صبح ساڑھے نو بجے جب فون کرکے حضور کو یہ خوشخبری سنائی تو حضور نے اس پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے مبارکباد دی اور فرمایا:’رات جب بھی فون کی گھنٹی بجتی تھی میں سوچتا تھا کہ تمہارا فون ہے ‘۔نصیر شاہ صاحب کہتے ہیں کہ میں بتا نہیں سکتا کہ اس پر میری کیا حالت ہوئی ۔ میں احساس پشیمانی سے کٹ کر رہ گیا۔ کاش میں نے اسی وقت حضور کو یہ اطلاع دے دی ہوتی
تب کہیں یہ صبح نکلی ہے چمن پہنے ہوئے
ایم ٹی اے کے آغاز سے لے کر اب تک حضور ایدہ اللہ نے اسے کامیاب بنانے کے لئے جس طرح اپنا جگر خون کیا ۔روزانہ کئی کئی گھنٹے سٹوڈیو کی تیز روشنیوں کے آگے بیٹھ کر مختلف کلاسز اور درس القرآن اور سوال وجواب کے پروگرام ریکارڈ کروائے۔ رضا کارانہ خدمت کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کے لئے جس طرح آپ نے دن رات ایک کئے رکھا اور انہیں اپنی محبتوں اور دعاؤں سے نوازا ۔ اور جس طرح آپ کی وہ روحانی توجہات اور دعائیں ان سب پر افضالِ ربّانی کے باد ل بن کر برسیں اور ان کے اندر پاکیزہ تبدیلیوں کے پیدا کرنے اور اللہ تعالیٰ کی نصرت وتائید کے غیر معمولی نشانات دکھانے کا موجب بنیں اور یہ سلسلہ خدا تعالیٰ کے فضل اوررحم کے ساتھ مسلسل جاری ہے ۔ یہ ایک بہت ہی روح پرور ، دلگداز اور لمبی داستان ہے ۔ اور یہ صرف اور صرف خلافتِ حقّہ ہی کی شان ہے
اے چھاؤں چھاؤں شخص تیری عمر ہو دراز
(مطبوعہ :الفضل انٹرنیشنل ۲۶؍جولائی ۲۰۰۲ء تا ۸؍اگست ۲۰۰۲ء)