حضرت سلیمان علیہ السلام کے واقعات
حضرت داؤد ؑ کے بعد یہی سلوک بائبل نے حضرت سلیمان ؑ کے ساتھ کیا ۔ ایک طرف ان کو حکمت و دانش کا پتلا کہا تو دوسری طرف مشرک اور عیاش بنایا۔ حضرت داؤد ؑ کی مذمت بھی کی مگر حضرت سلیمان ؑ کے مقابلہ میں ان کی مدح بھی کی ہے۔ حضرت سلیمان ؑ کی تعریف میں بائبل کہتی ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت داؤدؑ کومخاطب ہو کر فرمایا:
’’ خداوند تجھ کو بتاتا ہے کہ خداوند تیرے گھر کو بنائے رکھے گا اور جب تیرے دن پورے ہو جائیں گے اور تو اپنے باپ داد ا کے ساتھ سو جائے گا تو میں تیرے بعد تیری نسل کو جو تیرے صلب سے ہوگی کھڑا کر کے اس کی سلطنت کو قائم کروں گا۔ وہی میرے نام کا ایک گھر بنائے گا اور میں اس کی سلطنت کا تخت ہمیشہ کے لئے قائم کروں گا۔ اور میں اس کا باپ ہوں گا اور وہ میرا بیٹا ہوگا۔ اگر و ہ خطا کرے تو میں اسے آدمیوں کی لاٹھی اور بنی آدم کے تازیانوں سے تنبیہ کروں گا ۔ پر میری رحمت اس سے جدا نہ ہوگی۔ جیسے میں نے اسے ساؤل سے جدا کیا جسے میں نے تیرے آگے سے دفع کیا۔ اور تیرا گھر اور تیری سلطنت سدا بنی رہے گی۔ تیرا تخت ہمیشہ کے لئے قائم کیا جائے گا‘‘۔ (۲۔ سموئیل باب ۷ آیات ۱۱ تا ۱۷)
*۔۔۔حضرت داؤدؑ نے سلیمان ؑ اور اپنی نسل کے بارہ میں اس بشارت کو پا کر خدا تعالیٰ کے حضور جو مناجات کی ہیں وہ اس طرح ہیں:
’’ اے خداوند خدا اس بات کو جو تو نے اپنے بندہ اور اس کے گھرانے کے حق میں فرمائی ہے سدا کے لئے قائم کر دے۔ اور جیسا تو نے فرمایا ہے ویسا ہی کر اور سدا یہ کہہ کہہ کر تیرے نام کی بڑائی کی جائے کہ ربّ الافواج اسرائیل کا خدا ہے اور تیرے بندہ داؤد کا گھرانہ تیرے حضور قائم کیا جائے گا کیونکہ تو نے اے ربّ الافواج اسرائیل کے خدا اپنے بندہ پر ظاہر کیا۔ اور فرمایا کہ میں تیرا گھرانہ بنائے رکھوں گا۔ اس لئے تیرے بندہ کے دل میں یہ آیا کہ تیرے آگے یہ مناجات کرے اور اے مالک خدا وند تو خدا ہے اور تیری باتیں سچی ہیں اور تونے اپنے بندہ سے اس نیکی کا وعدہ کیا ہے۔ سو اب اپنے بندہ کے گھرانے کو برکت دینا منظور کر تا کہ وہ سدا تیرے روبرو پائیداررہے کہ تو ہی نے اے مالک خداواند یہ کہا ہے اور تیری ہی برکت سے تیرے بندہ کا گھرانہ سدا مبارک رہے‘‘۔
(۲۔ سموئیل باب ۷ آیات ۲۵ تا ۲۹)
اس کتاب میں حضرت سلیمان ؑ اور حضرت داؤدؑ کی بقیہ نسل کے لئے یہ بشارت بھی ملتی ہے کہ خدا تعالیٰ’’ اپنے ممسوح داؤد اور اس کی نسل پرہمیشہ شفقت کرتا ہے‘‘۔(۲۔ سموئیل باب ۲۲ آیت ۵۱)
*۔۔۔بائبل سلیمان ؑ کو حضرت داؤد کا حقیقی جانشین قرار دیتی ہے اور بتاتی ہے کہ بادشاہت کے جھوٹے دعویداروں کے مقابل میں بادشاہ داؤد نے خود سلیمان کو جانشین مقرر کیا اور خدا کے نبی ناتن کی پوری تائید اسے حاصل تھی جیسے لکھا ہے:
’’ داؤد بادشاہ نے فرمایا کہ صدوق کاہن اور ناتن نبی اور یہویدع کے بیٹے بنایاہ کو میرے پاس بلاؤ۔ سو وہ بادشاہ کے حضور آئے ۔ بادشاہ نے ان کو فرمایا کہ تم اپنے مالک کے ملازموں کو اپنے ساتھ لو اور میرے بیٹے سلیمان کو میرے ہی خچر پر سوار کراؤ۔ اور اسے جیحون کو لے جاؤ۔ اور وہاں صدوق کاہن اور ناتن نبی اسے مسح کریں کہ وہ اسرائیل کا بادشاہ ہو اورتم نرسنگا پھونکنا اور کہنا کہ سلیمان بادشاہ جیتا رہے۔ پھر تم اس کے پیچھے پیچھے چلے آنا اور وہ آ کر میرے تخت پر بیٹھے کیونکہ وہی میری جگہ بادشاہ ہوگا اور میں نے اسے مقرر کیا ہے کہ وہ اسرائیل اور یہوداہ کاحاکم ہو۔ تب یہویدع کے بیٹے بنایاہ نے بادشاہ کے جواب میں کہا آمین۔ خداوند میرے مالک بادشاہ کا خدا بھی ایسا ہی کہے۔ جیسے خداوند میرے مالک بادشاہ کے ساتھ رہا ویسے ہی وہ سلیمان کے ساتھ رہے اور اس کے تخت کو میرے مالک داؤد بادشاہ کے تخت سے بڑا بنائے‘‘۔(۱۔ سلاطین باب ۱ آیات ۳۲ تا ۳۷)
*۔۔۔اس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے سلیمان بھی یہ یقین رکھتے تھے کہ ان کو خدا تعالیٰ نے بادشاہ بنایا ہے ۔چنانچہ لکھا ہے:’’ خداوند کی حیات کی قسم جس نے مجھ کو قیا م بخشا اور مجھ کو میرے باپ داؤد کے تخت پر بٹھایا اور میرے لئے اپنے وعدہ کے مطابق ایک گھر بنایا یقیناً ادونیاہ آ ج ہی قتل کیا جائے گا‘‘۔(۱۔سلاطین باب ۲ آیت ۲۴)
*۔۔۔پھر سلیمان کے متعلق لکھا ہے:
’’ سلیمان خداوند سے محبت رکھتا اور اپنے باپ داؤد کے آئین پر چلتا تھا‘‘۔(۱۔ سلاطین باب ۳ آیت ۳)
*۔۔۔سلیمان کا خدا تعالیٰ سے پیار کا تعلق بائبل میں اس طرح ظاہر کیا گیا ہے کہ :
’’ جبعون میں خداوند رات کے وقت سلیمان کو خواب میں دکھائی دیا اور خدانے کہا مانگ میں تجھے کیا دوں۔ سلیمان نے کہا تو نے اپنے خادم میرے باپ داؤد پر بڑا احسان کیا اس لئے کہ وہ تیرے حضور راستی اور صداقت اور تیرے ساتھ سیدھے دل سے چلتا رہا اور تو نے اس کے واسطے یہ بڑا احسان رکھ چھوڑا کہ تو نے اسے ایک بیٹا عنایت کیاجواس کے تخت پر بیٹھے جیسا آج کے دن ہے۔ اور اب اے خداوند میرے خدا تو نے اپنے خادم کو میرے باپ داؤد کی جگہ بادشاہ بنایا اورمیں چھوٹا لڑکا ہی ہوں اور مجھے باہر جانے اور بھیتر آنے کا شعورنہیں۔ اور تیراخادم تیری قوم کے بیچ میں ہے جسے تو نے چن لیا ہے ۔ وہ ایسی قوم ہے جو کثرت کے باعث نہ گنی جا سکتی ہے نہ شمار ہو سکتی ہے۔ اور تو اپنے خادم کو اپنی قوم کا انصاف کرنے کے لئے سمجھنے والا دل عنایت کر تاکہ میں برے اور بھلے میں امتیاز کر سکوں۔ کیونکہ تیری اس بڑی قوم کاانصاف کون کر سکتا ہے؟ اور یہ بات خداوند کو پسند آئی کہ سلیمان نے یہ چیز مانگی اور خدانے اس سے کہا چونکہ تو نے یہ چیز مانگی اور اپنے لئے عمر کی درازی کی درخواست نہ کی اور نہ اپنے لئے دولت کا سوال کیا اور نہ اپنے دشمنوں کی جان مانگی بلکہ انصاف پسندی کے لئے تو نے اپنے واسطے عقلمندی کی درخواست کی ہے تو دیکھ میں نے تیری درخواست کے مطابق کیا ۔ میں نے ایک عاقل اور سمجھنے والا دل تجھ کو بخشا ۔ ایسا کہ تیری مانند نہ تو کوئی تجھ سے پہلے پیدا ہو ااور نہ کوئی تیرے بعد تجھ سا برپا ہوگا اور میں نے تجھ کو کچھ اور بھی دیاجو تو نے نہیں مانگا یعنی دولت اور عزت۔ ایسا کہ بادشاہوں میں عمر بھر کوئی تیری مانند نہ ہوگا۔ اور اگر تو میری راہوں پر چلے اور میرے آئین اور احکام کو مانے جیسے تیرا باپ داؤد چلتا رہا تو میں تیری عمر دراز کروں گا‘‘۔ (۱۔ سلاطین باب ۳ آیات ۵ تا ۱۵)
*۔۔۔پھر سلیمان کی تعریف میں لکھا ہے کہ اللہ نے اسے اپنے مکالمہ مخاطبہ سے نوازا:
’’اور خداوند کاکلام سلیمان پر نازل ہو اکہ یہ گھر جو تو بناتا ہے سو اگر تو میرے آئین پرچلے اور میرے حکموں کو پورا کرے اور میرے فرمانوں کو مان کر ان پر عمل کرے تو میں اپنا وہ قول جو میں نے تیرے باپ داؤد سے کیا تیرے ساتھ قائم رکھوں گا۔ اورمیں بنی اسرائیل کے درمیان رہونگا اور اپنی قوم اسرائیل کو ترک نہ کروں گا‘‘۔(۱۔ سلاطین باب ۶ آیات ۱۱ تا ۱۳)
*۔۔۔سلیمان کی تعریف میں یہ بھی لکھا ہے کہ:’’ خدا نے سلیمان کوحکمت اور سمجھ بہت ہی زیادہ اور دل کی وسعت بھی عنایت کی جیسی سمندر کے کنارے کی ریت ہوتی ہے۔ اور سلیمان کی حکمت سب اہل مشرق کی حکمت او ر مصر کی ساری حکمت پر فوقیت رکھتی تھی‘‘۔(۱۔ سلاطین باب ۴ آیات ۲۹ تا ۳۱)
*۔۔۔بائبل کہتی ہے کہ یہ سعادت بھی سلیمان کے حصہ میں آئی کہ اس نے خدا کے لئے ایک گھر بنایا اور یہ عظیم برکت اسے حاصل ہوئی ۔ لکھا ہے:
’’ تب سلیمان نے کہا کہ خداوند نے فرمایا تھا کہ وہ گہری تاریکی میں رہے گا ۔ میں نے فی الحقیقت ایک گھر تیرے رہنے کے لئے بلکہ تیری دائمی سکونت کے واسطے ایک جگہ بنائی ہے۔ اور بادشاہ نے اپنا منہ پھیرا اور اسرا ئیل کی ساری جماعت کو برکت دی اور اسرائیل کی ساری جماعت کھڑی رہی اور اس نے کہا خداوند اسرائیل کا خدا مبارک ہو جس نے اپنے منہ سے میرے باپ داؤد سے کلام کیا اور اسے اپنے ہاتھ سے یہ کہہ کر پورا کیا کہ جس دن سے میں اپنی قوم اسرائیل کو مصر سے نکال لایا میں نے اسرائیل کے سب قبیلوں میں سے بھی کسی شہر کو نہیں چنا کہ ایک گھر بنایا جائے تا کہ میرا نام وہاں پر ہو پرمیں نے داؤد کو چن لیا کہ وہ میری قوم اسرائیل پر حاکم ہو۔ اور میرے باپ داؤد کے دل میں تھا کہ خداوند اسرائیل کے خدا کے نام کیلئے ایک گھربنائے ۔ لیکن خداوند نے میرے باپ داؤد سے کہا چونکہ میرے نام کے لئے ایک گھربنانے کاخیال تیرے دل میں تھا سو تو نے اچھا کیا کہ اپنے دل میں ایسا ٹھانا۔ تو بھی تُو اس گھر کو نہ بنانا بلکہ تیرابیٹا جو تیرے صلب سے نکلے گا وہ میرے نام کے لئے گھر بنائے گا اور خداوند نے اپنی بات جو اس نے کہی تھی قائم کی ہے کیونکہ میں اپنے باپ داؤد کی جگہ اٹھا ہوں اور جیسا خداوند نے وعدہ کیا تھا میں اسرائیل کے تخت پر بیٹھا ہوں اور میں نے خداوند اسرائیل کے خدا کے نام کے لئے اس گھر کو بنایا ہے۔ اور میں نے وہاں ایک جگہ اس صندوق کیے لئے مقرر کر دی ہے جس میں خدا وند کاوہ عہد ہے جو اس نے ہمارے باپ دادا سے جب وہ ان کو مصر سے نکال لایا ، باندھا تھا ۔
اور سلیمان نے اسرائیل کی ساری جماعت کے روبرو خداوند کے مذبح کے آگے کھڑے ہو کر اپنے ہاتھ آسمان کی طر ف پھیلائے اور کہا کہ اے خداوند اسرائیل کے خدا تیری مانند نہ تو اوپر آسمان میں نہ نیچے زمین پر کوئی خدا ہے۔ تو اپنے ان بندوں کے لئے جو تیرے حضور اپنے سارے دل سے چلتے ہیں عہد اوررحمت کو نگاہ رکھتا ہے ۔ تو نے اپنے بندہ میرے باپ داؤد کے حق میں وہ بات قائم رکھی جس کا تو نے اس سے وعدہ کیاتھا ۔ تو نے اپنے منہ سے فرمایا اوراپنے ہاتھ سے اسے پوراکیا جیسا آج کے دن ہے۔ سو اب اے خدا وند اسرائیل کے خدا تو اپنے بندہ پر میرے باپ داؤد کے ساتھ اس قول کو بھی پورا کر جو تو نے اس سے کیاتھا کہ تیرے آ دمیوں سے میرے حضور اسرائیل کے تخت پر بیٹھنے والے کی کمی نہ ہوگی۔ بشرطیکہ تیری اولاد جیسے تو میرے حضور چلتا رہا ویسے ہی میرے حضور چلنے کے لئے اپنی راہ کی احتیاط رکھے ‘‘۔(۱۔ سلاطین باب ۸ آیت ۱۲ تا ۲۶)
*۔۔۔ملکہ سبا کی زبان سے بائبل نے بادشاہ سلیمان کی اس طر ح تعریف بیان کی ہے:
’’خوش نصیب ہیں تیرے لوگ اور خوش قسمت ہیں تیرے یہ ملازم جو برابر تیرے حضور کھڑے رہتے اور تیری حکمت سنتے ہیں۔ خداوند تیرا خدا مبارک ہوجو تجھ سے ایسا خوشنود ہو ا کہ تجھے اسرائیل کے تخت پر بٹھایا ہے چونکہ خدا وند نے اسرائیل سے سدا محبت رکھی ہے اس لئے اس نے تجھے عدل اورانصاف کرنے کوبادشاہ بنایا‘‘۔( ۱۔ سلاطین باب ۱۰ آیات ۸ تا ۱۰)
*۔۔۔پھر بائبل سلیمان کے حق میں یوں مدح سرا ہے:’’ سلیمان بادشاہ دولت اور حکمت میں زمین کے سب بادشاہوں پر سبقت لے گیا اور سارا جہان سلیمان کے دیدار کا طالب تھا تاکہ اس کی حکمت کو جو خدا نے اس کے دل میں ڈالی تھی سنے‘‘۔(۱۔ سلاطین باب۱۰ آیات۲۳، ۲۴)
حضرت سلیمان ؑ کو اس بلند مقام پر پہنچا کرپھر بائبل جو بدسلوکی حضرت سلیمان ؑ سے کرتی ہے وہ اس سے بھی بدتر اور اس سے بھی زیادہ قابل یقین ہے جوبدسلوکی وہ حضرت داؤدؑ سے کرچکی ہے۔ بائبل کہتی ہے کہ وہ شخص جو حکمت او ر دانش مندی میں دنیا میں سب سے بڑھ گیا تھا ،جس نے خدا کا دائمی گھر بنا یا، جس سے خدا ہم کلام ہوتا تھا ،جس نے زندگی بھر خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت دیکھی تھی وہ خدا تعالیٰ سے پھر گیا اور جھوٹے مصنوعی دیوتاؤں کی عبادت کرنے لگا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
قصور سلیمان کا نہیں ان لکھنے والوں کا ہے جنہوں نے یہود کی حکومت کے دو حصوں میں بٹنے کے بعد حضرت داؤد ؑ اور حضرت سلیمان ؑ کے خاندان کی حکومت کے مقابل میں کھڑے ہو کر خود حضرت سلیمان اور داؤد کو ہی بدنام کرنے کا بیڑا اٹھا لیا اور قصور پادری صاحب کا ہے جو بائبل میں داخل ان انسانی تحریروں کو مقدس صحائف سمجھ کر پھر قرآن مجید پران کی تردید اور ان کی تصحیح کیوجہ سے ناراض ہوتے ہیں۔ دیکھئے بائبل نے کیسے ظالمانہ اور گھناؤنے الزام خو د اپنے ہیرو پر لگائے ہیں۔ لکھا ہے:
’’ اور سلیمان بادشاہ فرعون کی بیٹی کے علاوہ بہت سی اجنبی عورتوں سے یعنی مُوآبی، عمّونی، اوومی، صیدانی اور حِتّی عورتوں سے محبت کرنے لگا۔ یہ ان قوموں کی تھیں جن کی بابت خدا وند نے اسرائیل سے کہا تھا کہ تم ان کے بیچ نہ جانا اور نہ وہ تمہارے بیچ آئیں کیونکہ وہ ضرور تمہارے دلوں کو اپنے دیوتاؤں کی طرف مائل کر لیں گی۔ سلیمان ان ہی کے عشق کا دم بھرنے لگا۔ اور اس کے پاس سات سو شہزادیاں اس کی بیویاں اورتین حرمیں تھیں۔ اور اس کی بیویوں نے اس کے دل کو پھیردیا۔ کیونکہ جب سلیمان بڈھا ہو گیا تواس کی بیویوں نے اس کے دل کو غیر معبودوں کی طرف مائل کر لیا اور اس کا دل خداوند اپنے خدا کے ساتھ کامل نہ رہا۔ جیسااس کے باپ داؤد کا دل تھا‘‘۔(بائبل نویس بھول گئے ہیں کہ وہ حضرت داؤد پر بھی الزام لگا چکے ہیں۔ ناقل)۔ ’’ کیونکہ سلیمان صیدانیوں کی دیوی عستارات اور عمونیوں کے نفرتی ملکوم کی پیروی کرنے لگا۔ اور سلیمان نے خداوند کے آگے بدی کی اوراس نے خداوند کی پوری پیروی نہ کی جیسی اس کے باپ داؤد نے کی تھی‘‘۔(۲۔ سموئیل میں داؤد پر خدا تعالیٰ سے روگردانی ، اور اوریاہ کی بیوی سے زناکاری اور اس جرم پر پردہ ڈالنے کے لئے اوریّاہ کو قتل کروانے کا ذکر اوپر گزر چکا ہے)۔’’پھر سلیمان نے موآبیوں کے نفرتی کموس کے لئے اس پہاڑ پرجو یروشلم کے سامنے ہے اوربنی عمون کے نفرتی مولک کے لئے بلند مقام بنا دیا ۔ اوراس نے ایسا ہی اپنی سب اجنبی بیویوں کی خاطر کیا جو اپنے دیوتاؤں کے حضور بخور جلاتی اور قربانی گزرانتی تھیں اور خداوند سلیمان سے ناراض ہوا کیونکہ اس کا دل خداوند اسرائیل کے خدا سے پھر گیا تھا جس نے اسے دوبارہ دکھائی دے کر اس کواس بات کاحکم کیا تھا کہ وہ غیر معبودوں کی پیروی نہ کرے پر اس نے وہ بات نہ مانی جس کا حکم خداوند نے دیا تھا‘‘۔(۱۔ سلاطین باب ۱۱ آیات ۱تا ۱۰)
دیکھئے پادری صاحب یہ سلوک بائبل کا اپنے بزرگوں، اپنے بہادروں سے جن پر خدا کا کلام نازل ہوتاتھا، جن کو خدا نے بادشاہ بنایا تھا ، اپنے قرب سے نوازا تھا،اپنی حکمت انہیں عطا کی تھی، کہ ایک طرف تو بائبل ان کو آسمان پر بٹھاتی ہے دوسری طرف زمین کی پاتال میں گراتی ہے۔ اب پڑھئے قرآن شریف کا بیان ۔ فرماتاہے۔(ان آیات کریمہ کا مفہوم یہ ہے):
*۔۔۔’’ یہ (رسول اللہ ﷺ کے مخالفین ) اس طریق عمل کی پیروی کررہے ہیں جس کے پیچھے سلیمانؑ کی حکومت کے زمانے میں اس کی حکومت کے شرارت کرنے والے، حق سے دور باغی پڑے رہتے تھے اور سلیمان کافر نہ تھا‘‘ (بائبل نے جی بھر کے سلیمان پر کفر کا الزام لگایا ہے) ’’بلکہ باغی کافر تھے ۔ وہ لوگوں کو دھوکہ دینے والی باتیں سکھاتے تھے‘‘۔ (سورۃ البقرہ : ۱۰۳)
*۔۔۔ہم نے اے محمد(ﷺ) تم پر اسی طرح وحی نازل فرمائی جس طرح ہم نے نوح اور اس کے بعد تمام انبیاء پر وحی نازل فرمائی تھی اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب او ر اس کی اولاد اورعیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان پر بھی وحی نازل کی تھی اورہم نے ابراہیم کو اسحاق اور یعقوب دئے تھے ۔ اور ہم نے ان سب کو ہدایت دی تھی اور اس سے پہلے ہم نے نوح کو ہدایت دی تھی ۔ اورابراہیم کی اولاد میں سے داؤد اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسیٰ اور ہارون کو بھی اور اسی طرح ہم اچھی طرح کام کرنے والوں کو بدلہ دیا کرتے ہیں۔ اور داؤد اور سلیمان کو یاد کر و جبکہ وہ دونوں ایک کھیتی کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس وقت جبکہ ایک قوم کے عامی لوگ اس کو کھا گئے اور تباہ کر گئے اورہم ان کے فیصلہ کے گواہ تھے۔ اورہم نے اصل معاملہ سلیمان کو سمجھا دیا اور سب کو ہی ہم نے حکم اور علم عطا فرمایا تھا‘‘۔( سورۃ الانبیاء)
یہاں قرآن مجید بائبل کے ان بیانات کی تصحیح کرتا ہے جس کے نتیجہ میں مغربی مفکرین نے اس خیال کااظہار کیا ہے کہ حضرت داؤد کی بعض پالیسیاں صحیح تھیں مگر حضرت سلیمان نے غلط پالیسیاں اختیار کیں ۔
پہلا الزام بائبل نے یہ لگایا ہے کہ نعوذباللہ حضرت سلیمان نے غلط اور خلاف توحید عقائد اختیار کئے اس کی تردید قرآن شریف نے شروع میں ہی کر دی کہ، ماکفر سلیمان ، سلیمان نے کفر نہیں کیا تھا بلکہ اس کے مقابل پر سرکشی کرنے والے کافر تھے۔
دوسرا اعتراض بائبل نے یہ اٹھایا ہے کہ حضرت سلیمان نے دشمن کے خلاف غلط Strategy اختیار کی اور بڑی فوج کی بجائے چھوٹی اورمتحرک فوج کا استعمال کیا۔ چنانچہ بائبل نے پہلے ا س بات کو شریعت کا حصہ بنایا ہے کہ بادشاہ گھوڑے نہ رکھے اور مصر سے گھوڑے تو ہر گز نہ منگوائے۔ لکھا ہے تواپنے بھائیوں میں سے ہی کسی کو اپنا بادشاہ بنانا اور پردیسی کو جو تیرا بھائی نہیں اپنے اوپر حاکم نہ کر لینا۔ اتنا ضرور ہے کہ وہ اپنے لئے بہت گھوڑے نہ بنائے اور نہ لوگوں کو مصر میں بھیجے تا کہ اس کے پاس بہت سے گھوڑے ہو جائیں۔ (استثناء باب ۱۷ آیات ۱۵، ۱۶ )
اس حکم کو شریعت کا حصہ بنانے کے بعد پھر حضرت سلیمان پر ہی حکم کی نافرمانی کا الزام لگا یا گیا ہے ۔ لکھاہے:
’’جو گھوڑے سلیمان کے پاس تھے وہ مصر سے منگائے گئے تھے اور بادشاہ کے سوداگر ایک ایک جھنڈ کی قیمت لگا کر ان کے جھنڈ کے جھنڈ لیاکرتے تھے‘‘۔(۱۔ سلاطین باب ۱۰آیت ۲۸)
بائبل کا یہ الزام بالکل بے معنی ہے۔ حضرت سلیمانؑ نے بہت بڑی پیدل فوج کی بجائے ا س سے نسبتاً چھوٹی زیادہ متحرک اور فوری طورپر حرکت میں آنے والی گھڑ سوار فوج تیار کی اور بڑی فوج جہاں آج کے زمانے کے تیسری دنیا کے ممالک کے تجربے بتاتے ہیں ، ملکی وسائل کو سخت زیر بار کر دیتی ہے اور جنگی نقطہ نظر سے بھی حضرت سلیمان پراعتراض ایسا ہی ہے کہ کہا جائے کہ کسی ملک نے انفنٹری کے بجائے Motorised Divisions اختیار کر لئے ہوں تو اس پر اعتراض کیاجائے ۔
تیسرا اعتراض حضرت سلیمانؑ پر یہ کیا جاتاہے کہ حضرت سلیمان ؑ نے غیر یہودی اقوام سے تعلقات استوار کئے حالانکہ یہ حضرت سلیمانؑ کی خارجہ پالیسی کی کامیابی تھی نہ کہ قابل اعتراض بات ۔مگر بائبل نے اس بات کو بگاڑ کر اس رنگ میں پیش کیا ہے۔ لکھا ہے:
’’سلیمان بادشاہ فرعون کی بیٹی کے علاوہ بہت سی اجنبی عورتوں سے یعنی موآبی ، عمونی، ادومی ، صیدانی اور حِتّی عورتو ں سے محبت کرنے لگا ۔ یہ ان قوموں کی تھیں جن کی بابت خداوند نے بنی اسرائیل سے کہا تھا کہ تم ان کے بیچ نہ جانا اور نہ وہ تمہارے بیچ آئیں‘‘۔(۱۔ سلاطین باب ۱۱ آیت ۱،۲)
بائبل نے حضرت سلیمان کی نہایت زبردست خارجہ پالیسی کو مکروہ رنگ میں پیش کیاہے۔ انہوں نے فرعون سے ( اس دور کی سپر پاور سے ) اور ارد گرد کی اقوام سے نہایت عمدہ تعلقات قائم کئے۔ اور جب یہ تعلقات حضرت سلیمان کے بعد ختم ہوئے تو یہی سلاطین کی کتاب گواہ ہے کہ کس طرح انہیں حکومتوں اور طاقتوں نے بنی اسرائیل کی دونوں شمالی اور جنوبی حکومتوں کو باربار مغلوب کیا اور بالآخر ہمسایہ قوتوں کے ہاتھوں یہ دونوں حکومتیں یکے بعد دیگرے تباہ ہوئیں۔
چوتھا اعتراض بائبل کے بیانات کی روشنی میں مغربی مفکر حضرت سلیمان کی غلط پالیسیوں کے بارے میں لگاتے ہیں حالانکہ بائبل خود اقرار کرتی ہے کہ حضرت سلیمان نے نہ صرف اندرونی طورپر ضروریات زندگی کو پورا کرنے میں مد د دی بلکہ بیرونی قوموں کو بھی اپنے عطیات سے مرہون منت کرلیا چنانچہ ۱۔ سلاطین کے دس باب میں اور ۲۔ تواریخ باب ۹ میں یہ باتیں بیان ہیں۔
پھر قرآن کریم فرماتا ہے:
*۔۔۔’’اور سلیمان کے لئے ہم نے تیز ہوا کو بھی مسخر کر چھوڑا تھا ۔ ( دو زبردست بیڑے انہوں نے تیار کئے تھے ) جو اس کے حکم کے مطابق چلتی تھی۔ اس زمین کی طرف جس میں ہم نے برکت رکھی تھی اور ہم سب کچھ جانتے ہیں اور کچھ سرکش قبائل بھی تھے جو سرکشی چھوڑ کر سلیمان کے مفید کاموں کے لئے سمندروں میں غوطے لگاتے تھے اور اس کے سوا اور کام بھی کرتے تھے۔ اورہم ان کے کام کے نگران تھے‘‘۔ (سورۃ الانبیاء)
’’اور ہم نے داؤد اور سلیمان کو علم عطا کیا اور دونوں نے کہا اللہ ہی سب تعریف کا مالک ہے۔ جس نے ہم کو اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی ہے۔ اور سلیمان داؤد کا وارث بنا اور اس نے کہا اے لوگو ہمیں بلند پرواز روحانی لوگوں کی زبان سکھائی گئی ہے اور ہر ضروری مادی چیز اور روحانی تعلیم ہمیں عطا ہوئی ہے اور یہ کھلا کھلا فضل ہے۔ اور سلیمان کے سامنے جنّو ں اور انسانوں اور پرندوں میں سے اس کے لشکر ترتیب وار اکٹھے کئے گئے پھر انہیں کوچ کاحکم ملا یہاں تک کہ وہ جب وادی نمل میں پہنچے تو نملہ قوم میں سے ایک شخص نے کہا اے نملہ قوم اپنے اپنے گھروں میں چلے جاؤ ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور اس کے لشکر لاعلمی اور بے خبری میں تمہیں مسل دیں۔ پس سلیمان اس کی یہ بات سن کر مسکرایا ( کہ دشمن کو بھی احساس ہے کہ ہماری افواج لاعلمی میں کسی معصوم کو تکلیف پہنچا دیں تو پہنچا دیں ارادۃً ایسا نہیں کر سکتی) اور اس نے کہا اے رب مجھے توفیق دے کہ میں تیری نعمت کا جو تو نے مجھ پر اور میرے والد پر کی ہے شکر ادا کر سکوں اور ایسا مناسب عمل کروں جسے تو پسند فرمائے اور اے خدا اپنے فضل سے مجھے اپنے بزرگ بندوں میں داخل کر لے۔ اور اس نے سب پرندوں کی حاضری لی اور کہا کہ مجھے کیا ہوا ہے کہ میں ہدہد کو نہیں دیکھتا یا وہ جان بوجھ کر غیر حاضر ہے ۔ میں اس کو یقیناً سخت سزا دوں گا یا اسے قتل کر دوں گا یا وہ میرے سامنے اپنی غیر حاضری کا کوئی مضبوط جواز پیش کرے۔ پس وہ کچھ دیر ٹھہرا اتنے میں ہدہد حاضر ہوا اور اس نے کہا ۔ میں نے ایک ایسی چیز کا علم حاصل کیا ہے جو آپ کو حاصل نہیں۔ اور میں سبا کی قوم کے علاقہ سے آپ کے پاس ایک یقینی اطلاع لے کر آیا ہوں جو یہ ہے کہ میں نے وہاں ایک عورت کو دیکھا ہے جو ان کی ساری قوم پر حکومت کر رہی ہے اور ہر طرح کی نعمت اسے حاصل ہے۔ اور اس کا ایک بڑا تخت ہے اور میں نے اس کو اور اس کی قوم کو اللہ کو چھوڑ کر سورج کے آگے سجدہ کرتے دیکھا اور شیطان نے ان کے عمل ان کو خوبصورت کر کے دکھائے ہیں۔ اور ان کو سچے راستے سے روک دیا ہے جس کی وجہ سے وہ ہدایت نہیں پاتے کہ اللہ کو سجدہ کریں جو کہ آسمانو ں اور زمین کی ہر پوشیدہ تقدیر کو ظاہر کرتا ہے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو ان تدبیروں کو بھی وہ جانتا ہے ۔وہ اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ وہ ایک بڑے تخت کا مالک ہے ۔ اس پر سلیمان نے کہا ہم دیکھیں گے کہ تو نے سچ بولا ہے یاتو جھوٹوں میں سے ہے۔ تو میرا یہ خط لے جا اور اسے سبا کی قوم تک پہنچا دے پھر ان سے منہ موڑ لو دیکھو کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں ۔ جب اس نے ایسا کیا تو وہ ملکہ بولی اے سردارو! مجھے ایک معزز خط دیا گیا ہے جو سلیمان کی طرف سے ہے کہ اللہ کے نام کے ساتھ جو بے ا نتہا رحم کرنے والا بارباررحم کرنے والا ہے تم مجھ پر زیادتی نہ کرو اور میرے حضور فرمانبرداری اختیار کرتے ہوئے حاضر ہو ۔ ملکہ نے کہا اے سردارو میرے اس کام میں اپنی پختہ رائے دو کیونکہ میں قطعی فیصلہ نہیں کروں گی جب تک تم موجود نہ ہو ۔
سرداروں نے کہا ہم بڑی طاقت والے ہیں اور بڑے جنگجو ہیں اورمعاملہ آ پ کے ہاتھ میں ہے ۔ آپ غور کر لیں کہ آپ کیا حکم دینا چاہتی ہیں۔ اس نے کہا بادشاہ جب کسی ملک میں داخل ہوتے ہیں تو اسے تباہ کر دیتے ہیں اور اس کے معزز باشندوں کو ذلیل کر دیا کرتے ہیں اوروہ اسی طرح کرتے چلے آئے ہیں۔میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں ان کی طرف تحفہ بھیجوں گی کہ ایلچی کیا جواب لاتے ہیں۔ پھر جب وہ تحفہ سلیمان کے پاس آیا تو اس نے کہا کیاتم مال کے ذریعہ میری مددکرنا چاہتے ہو اگر یہ بات ہے تو یاد رکھو کہ اللہ نے جو کچھ مجھے دیا ہے وہ اس دنیوی مال سے جو اس نے تم کو عطا کیا ہے بہت بہتر ہے بلکہ تم اپنے تحفے پر بہت نازاں ہو۔ اے ہدہدتم ان کے پاس واپس جاؤ اور ان سے کہہ دو کہ ہم بڑے لشکروں کے ساتھ ان کے پاس آئیں گے جن کا مقابلہ کرنے کی انہیں طاقت نہیں اور ان کو سبا سے ذلیل ہونے کی حالت میں نکال دیں گے اور وہ نیچے ہو چکے ہونگے۔ پھر اس نے اپنے سرداروں سے کہا کہ تم میں سے کون اس تخت کو میرے پاس لائے گا قبل اس کے کہ وہ فرمانبردار ہو کر میرے پاس آئیں۔پہاڑی قوموں میں سے ایک سرکش سردار نے کہا آپ کے اس مقام سے جانے سے پہلے میں وہ تخت لے آؤں گا اور میں اس بات پر قدرت رکھنے والا امانت دار ہوں۔ اس پر اس شخص نے کہا جس کو الٰہی کتاب کا علم حاصل تھا کہ میں آپ کے پاس اس کو آنکھ جھپکنے سے پہلے لے آؤں گا۔ پس جب سلیمان نے اس کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو کہا یہ میرے رب کے فضل کی وجہ سے ہوا ہے تا کہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں اور جو شکر کرے وہ اپنی جان کے فائدہ کے لئے ایسا کرتا ہے اور جو ناشکری کرے تو یقیناً میرا رب بے نیاز اور بڑی سخاوت کرنے والا ہے۔ پھر سلیمان نے ارشاد کیا کہ اس ملکہ کے لئے اس کا تخت حقیر کر کے دکھاؤ ۔ ہم دیکھیں کیا وہ ہدایت پاتی ہے یا ان لوگوں میں سے بنتی ہے جو ہدایت نہیں پاتے۔ پس جب وہ آ گئی تو کہا گیا کہ کیا تیرا تخت ایسا ہی ہے۔ اس پر اس نے کہا یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہی ہے۔ اورسلیمان نے ملکہ کو اللہ کے سوا پرستش کرنے سے روکا وہ یقیناً کافر قوم میں سے تھی۔ اور اسے کہا گیا کہ محل میں داخل ہو جاؤ ۔ پس جب اس نے اس کو دیکھا تو اسے گہرا پانی سمجھا اور گھبرا گئی تب سلیمان نے کہا یہ تو محل ہے جس میں شیشے کے ٹکڑے لگائے گئے ہیں تب وہ ملکہ بولی اے میرے رب میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور میں سلیمان کے ساتھ رب العالمین پر ایمان لاتی ہوں۔(سورۃ النمل: آیات ۱۶ تا ۴۵)
’’اور سلیما ن کے لئے ایسی ہوا کام پر لگائی جس کا صبح کا چلنا ایک مہینے کے برابر ہوتاتھا اور شام کا چلنا بھی ایک مہینہ کے برابر ہوتا تھا ۔ اور ہم نے اس کے لئے تانبے کا چشمہ پگھلایا اور ہم نے بڑے بڑے سرکش لوگوں کی ایک جماعت بھی عطا کی تھی جو اس کے رب کے حکم سے اس کے تابع فرمان عمل کرتی تھی اور ہم نے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ ان میں سے جو کوئی ہمارے حکم سے کجروی اختیار کرے گا ہم اس کو بھڑکتا ہوا عذاب پہنچائیں گے۔ وہ جو کچھ چاہتا تھا وہ سرکش قوموں کے سردار اس کے لئے بناتے تھے ۔ یعنی مساجد اور ڈھلے ہوئے مجسمے اور بڑے بڑے لگن جو حوضوں کے برابرہوتے تھے اور بھاری بھاری دیگیں جو ہر وقت چولہوں پر دھری رہتی تھیں اورہم نے کہا اے داؤد کے خاندان کے لوگو شکر گزاری کے ساتھ عمل کرو اور میرے بندوں میں سے بہت کم شکر گزار ہوتے ہیں۔ (سورۃ سباء آیات ۱۲ تا ۱۴)
جناب پادری صاحب!یہ ہے قرآن کریم کا بیان جس میں بائبل کے بیان کے مقابل نہ تو کوئی تضاد ہے نہ کوئی تذبذب ہے ۔ نہ خدا کی طرف سے اہم اور عظیم الشان ذمہ داریوں پرفائز کئے جانے والوں پر شرک اور کفر اور اخلاقی جرائم کے ارتکاب کا کوئی الزام ہے، نہ ہی خدا کی پاک وحی اور اس کے مکالمہ مخاطبہ کا مورد بننے والوں پر کوئی داغ لگایا گیاہے۔اب یہ ہے قرآن شریف کی پاک تاریخ بائبل کے مقابلہ میں جسے آپ Garbled تاریخ کہتے ہیں۔
