In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » احمدیت یعنی حقیقی اسلام » صداقت کے نشان »

ایک مقدس خواہش اور اس کی حیرت انگیز تکمیل

عبدالسمیع خان ، ربوہ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ۱۲؍دسمبر ۱۹۰۲ء کو الہام ہوا:

’’یُنَادِی مُنَادٍ مِنَ السَّمَائِ ‘‘۔ (بدر۱۹؍دسمبر۱۹۰۲ء) ایک منادی آسمان سے پکارے گا۔ (تذکرہ صفحہ ۴۴۶ ۔الشرکۃ الاسلامیہ ربوہ ۱۹۶۹ء)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ۱۸۹۷ء کے الہامات میں یہ عظیم الشان الہام بھی شامل ہے :’’اَلْاَرْضُ وَالسَّمَآئُ مَعَکَ کَمَا ھُوَ مَعِی‘‘(سراج منیرروحانی خزائن جلد ۱۲ صفحہ ۸۳)

اس الہام کی تشریح کرتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:

’’اس الہام کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک ایسے ترجمے کے ساتھ پیش کیاہے جوخود اپنی ذات میں ایک تشریح اور تفسیر کے معنے رکھتا ہے۔ فرماتے ہیں: یعنی آسمان اور زمین تیرے ساتھ ہیں۔ اس کامطلب یہ ہے کہ آسمانی طاقتیں اور خدائی نوشتے تیری تائید کریں گے۔ اس زمین پر تو اپنی کوشش کر لیکن آسمان سے ایسی ہوائیں چلائی جائیں گی جو تیری مددگار ثابت ہونگی۔ اس زمانہ میں آسمان کس طرح ساتھ تھا یہ فرشتوں کا نزول ہو رہا تھا ۔ قادیان میں طرح طرح کے آسمانی نشان دکھائے جا رہے تھے ۔ خود اس سال میں یعنی ۱۸۹۷ء یعنی ۹۷کے لحاظ سے دہرایا جا رہا ہے ، عظیم الشان نشانات اس سال دکھائے گئے تھے ۔ ان کاذکر بعد میں کروں گا لیکن یہاں میں یہ بتانا چاہتاہوں کہ یہی الہام ایک نیا رنگ اختیار کر جاتاہے جب اس کو ۱۹۹۷ء میں پڑھتے ہیں۔

آسمان کا ساتھ ہونا ایم ٹی اے کی طرف بھی اشارہ کررہاہے۔ اور یہ امرواقعہ ہے کہ ایم ٹی اے کے ذریعہ کُل عالَم میں آسمان نے جو گواہیاں دی ہیں وہ حیرت انگیزہیں۔

اس کثرت کے ساتھ وحدت نصیب ہوئی ہے کہ جب ہم اس الہام کو ۱۸۹۷ء کی بجائے ۱۹۹۷ء میں پڑھتے ہیں تو پھراس کے معنی ہیں آسمان اورزمین تیرے ساتھ ہیں۔ یعنی خدا تعالیٰ کی وہ آسمانی طاقتیں جو ابھی ظہور میں نہیں آئیں وہ بھی تیرے ساتھ ہونگی جیسا کہ وہ میرے ساتھ ہیں۔ یعنی آنحضرت ﷺ نے جس خدا کو پیش کیا وہ جیساکہ آسمان پرتھا ویساہی زمین پرظاہر ہوا۔ مراد یہ نہیں ہے کہ نعوذباللہ مسیح موعود علیہ السلام کو باقی انبیاء پر فوقیت عطاہوئی ہے۔ ہر نبی کے ساتھ آسمان کا خدا اترتاہے اوراس کے زمین پراترنے کامطلب یہ ہوتاہے کہ زمینی طاقتیں آسمانی طاقتوں کے سائے تلے اس کے ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔

پس اس پہلو سے ہم جب اس سال اس الہام کو پڑھتے ہیں تو آسمان ہمارے ساتھ ہے اس سے مراد یہ کہ ہے آسمان کی متحرک طاقتیں اورریڈیائی وجود جس کا پہلے علم نہیں تھا اب کلیۃً جماعت احمدیہ کی تائید میں ظاہر ہو چکا ہے اور رونما ہورہا ہے اوراس کے نتیجے میں انشاء اللہ تعالیٰ دنیا میں ایک عظیم انقلاب برپا ہوگااورپہلے سے بڑھ کرہوگا‘‘۔ (ہفت روزہ الفضل انٹرنیشنل لندن۔ ۱۲؍ستمبر۱۹۹۷ء، خطبہ جمعہ ۲۵؍جولائی ۱۹۹۷ء)

*۔۔۔*۔۔۔*

کشف میں ہوا میں تیرنا اور اس کی تعبیر

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے ایک کشف میں ہوامیں تیرنے کا ذکر ہے۔ جس سے حضرت مصلح موعودؓ نے لطیف استنباط فرمایاہے۔

آپ کا ۸؍دسمبر ۱۹۰۲ء کا کشف ہے:

’’ایسا معلوم ہوتاہے کہ میں ہوامیں تیر رہا ہوں اور ایک گڑھا ہے مثل دائرہ کے گول اوراس قدر بڑاجیسے یہاں سے نواب صاحب کا گھر (مسجد مبارک سے نواب محمد علی خان صاحبؓ کا گھر) اور میں اس پر اِدھر سے اُدھر اور اُدھرسے اِدھرتیر رہا ہوں۔ سیدمحمد احسن صاحب کنارے پرتھے میں نے ان سے کہا کہ دیکھ لیجئے کہ عیسیٰ تو پانی پر چلتے تھے اور میں ہوا پرتیررہاہوں۔حامد علی میرے ساتھ ہے اور اس گڑھے پر ہم نے کئی پھیرے کئے نہ ہاتھ نہ پاؤں ہلانے پڑتے ہیں اور بڑی آسانی سے ادھر اُدھر تیررہے ہیں‘‘۔ (البدر ۱۲؍دسمبر۱۹۰۲ء صفحہ ۵۵۔ تذکرہ صفحہ ۴۴۵ ۔ الشرکۃ الاسلامیہ ربوہ ۱۹۶۹ء)

سیدنا حضرت مصلح موعودؓ اس کشف کی تعبیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’حضرت مسیح کے متعلق انجیل میں ذکر آتا ہے کہ وہ پانی پرچلے ۔ لوگ سمجھتے تھے کہ واقعہ میں حضرت مسیح علیہ السلام پانی پر اپنے پاؤں سے چلتے تھے۔ حالانکہ یہ ان کاایک کشف تھا جس میں انہیں بتایا گیاتھا کہ ان کی قوم کی بحری قوت زیادہ ہوگی۔ مگراس عقدہ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کشف نے ہی حل کیا ۔ آپ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک دفعہ دیکھا کہ میں ہوامیں تیر رہا ہوں۔ اس کشف میں جہاںیہ اشارہ ہے کہ حضرت مسیح ناصری علیہ السلام نے جب کہاکہ میں پانی پر چل رہاہوں تو درحقیقت آپ نے اپنا ایک کشف ہی بیان فرمایاتھا جسے لوگوں نے بعد میں بگاڑ کر کچھ کا کچھ بنا دیا اوراس کشف کا مطلب یہ تھا کہ میری قوم کسی زمانے میں بہت بڑی بحری طاقت حاصل کر ے گی۔ وہاں اس کشف میں اس امر کی طرف بھی اشارہ ہے کہ آئندہ ہوائی جہازوں کا زیادہ زور ہو جائے گا اور بحری جہاز صرف سیر و سیاحت کے لئے رہ جائیں گے زیادہ ترکام ہوائی جہازوں سے ہی لیا جائے گا۔ اور بحری جہازوں کے مقابلہ میں ان کی اہمیت بہت بڑھ جائے گی ۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں اب ایسا ہی ہو رہاہے ‘‘۔(روزنامہ الفضل قادیان ۳؍جون ۱۹۴۴)

اس زمانہ میں ہوا میں تیرنے کے یہ معنی بھی ظاہرہوتے ہیں کہ مسیح موعود ؑ کو ہواؤں پرغلبہ دیا جائے گا اور ان فضائی ذرائع سے وہ مسیح کی قوم پر غالب آئیں گے۔

اس رؤیامیں گول گڑھے سے ڈش مراد لینا بعیداز قیاس نہیں ہے ۔ جس پر تیرنے کے لئے ہاتھ پاؤں ہلانے کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ حامد علی حضرت مسیح موعود ؑ کے خادم تھے ۔ اس رویا میں حامد علی سے مراد علی کا مثیل چوتھا خلیفہ بھی ہو سکتاہے۔ جو ہمہ وقت حضور کی خدمت میں کمر بستہ ہے اور اس کو حامد کہہ کر اس لئے پکارا ہے کہ وہ کثرت سے حمد کرنے والا ہے اور مسیح موعود کے ساتھ ہوا میں تیر رہاہے ۔

ہواؤں میں اڑنے اور تیرنے کے اس مضمون کو حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ نے حمد اور شکر کے ساتھ باندھ کر یوں بیان فرمایاہے:

’’اسلام کی ترقی کی راہ پر آگے بڑھتے رہیں ۔ آ پ جو کل چل رہے تھے ، آج دوڑ رہے ہیں۔آپ کو جو آج دوڑ رہے ہیں ان کو فضا میں اڑنا بھی نصیب ہواہے۔ مگر میں جانتاہوں کہ جیساکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا اب یہ فیصلہ ہے کہ مسیح محمدی کے لئے آسمان کی فضائیں مسخر کی جائیں گی اور ان تمام مراتب میں جو آسمانی سفروں سے تعلق رکھتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے غلاموں کو سب دنیا کی دوسری قوموں اور انسانوں پرایک برتری عطا ہوگی۔

پس یہ آسمانی سفر کا آغاز ہواہے ۔ یہ ایم ٹی اے کی لہریں جو تمام دنیا میں آسمان سے اترتی ہیں یہ اس سفر کا آغاز ہے۔ ابھی بہت کچھ ہے جو آگے آنے والا ہے۔ اگلی صدیاں جو کچھ دیکھیں گی آپ یہ سب کچھ دیکھنے کے باوجود تصور بھی نہیں کر سکتے کہ کتنی بڑی عظمتوں کی بنا ڈالی جا چکی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا شکرادا کرتے ہوئے آگے بڑھیں ‘‘۔(ہفت روزہ الفضل انٹرنیشنل ۴؍جولائی ۱۹۹۷ء)

*۔۔۔*۔۔۔*

بلند سے بلند تر ، عظیم سے عظیم تر

قریب سے قریب تر خدائے مہربان ہے

ہے گونج شش جہات میں صدائے حق شناس کی

اب احمدی جیالوں کی زدمیں آسمان ہے

*۔۔۔*۔۔۔*

نزول بجلی کی مانند

اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے روحانی غلبہ کی کیفیات اور ذرائع کی خبر دیتے ہوئے فرمایا :

وَیَنْزِلُ الْاَمْرُ مِنَ الفَوقِ مِنْ غَیْرِ تَدْبِیْرِ الْمُدَبِّرِیْن۔کَانَ الْمَسِیْحَ یَنْزِلُ کَالْمَطْر مِنَ السَّمَاءِ وَاضِعاً یَدَیْہِ عَلَی اَجْنِحَۃِ الْمَلَا ئِکَۃِ لَا عَلَی اَجْنِحَۃِ حِیَلِ الدُّنْیَا وَالتَّدَابِیْرِ الْاِنْسَانِیَۃِ وَ تَبْلُغُ دَعْوَتُہٗ وَحُجَّتُہٗ اِلٰی اَقْطَارِالْاَرْضِ بِاَسْرَعِ اَوْقَاتٍ کَبَرْقٍ یَبْدُو مِنْ جِھَۃِ فَاِذَا ھِیَ مُشْرِقَۃٌ فِی جِھَاتٍ فَکذٰلِکَ یَکُونُ فِی ھٰذَاالزَّمَانِ۔ فَلْیَسْمَعْ مَنْ یَّکُوْنُ لَہٗ اُذْنَانِ۔ وَیُنْفَخُ فِی الصُّورِ لِاِشَاعَۃِ النُّوْرِ وَیُنَادِی الطَّبَائِعُ السَّلِیْمَۃُ لِلْاِھْتِدَاءِ ۔فَیَجْتَمِعُ فِرَقُ الشَّرْقِ وَالْغَرْبِ وَالشِّمَالِ وَالْجُنُوْبِ بِاَمْرٍ مِنْ حَضْرَۃِ الْکِبْرِیَاءِ۔ (خطبہ الہامیہ ۱۳۱۹ھ۔ مطبع ضیاء الاسلام قادیان، روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحہ ۲۸۴،۲۸۶)

یعنی مدبروں کی تدبیر کے بغیر تمام چیزیں اوپر سے نیچے آئیں گی گویامسیح بارش کی طرح فرشتوں کے بازوؤں پرہاتھ رکھ کر آسمان سے اترے گا۔ انسانی تدبیروں اوردنیاوی حیلوں کے بازوؤں پر اس کا ہاتھ نہ ہوگا۔ اور اس کی دعوت اور حجت زمین میں چاروں طرف بہت جلد پھیل جائے گی ۔ اس بجلی کی طرح جو ایک سمت میں ظاہر ہو کر ایک دم میں سب طرف چمک جاتی ہے ۔ یہی حال اس زمانہ میں واقعہ ہوگا۔ پس سن لے جس کودو کان دئے گئے ہیں۔ اور نور کی اشاعت کے لئے صور پھونکاجائے گا اورسلیم طبیعتیں ہدایت پانے کے لئے پکاریں گی۔ اس وقت مشرق اور مغرب، شمال اورجنوب کے فرقے خدا کے حکم سے جمع ہو جائیں گے۔

اس پیشگوئی میں آسمان سے نازل ہونے والی بارش، فرشتوں، بجلی اور چاروں سمتوں کا ذکر قابل توجہ ہے۔ کیونکہ یہ سب باتیں اس پیشگوئی میں مشترک ہیں جو حضرت مسیح علیہ السلا م نے اپنی آمد ثانی کے لئے کی ہے۔

*۔۔۔*۔۔۔*

ایک مقدس خواہش

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:

’’میر ی بڑی آرزو ہے کہ ایسامکان ہو کہ چاروں طرف ہمارے احباب کے گھر ہوں اور درمیان میں میرا گھر ہو اور ہر ایک گھر میں میری ایک کھڑکی ہو کہ ہر ایک سے ہر ایک وقت واسطہ و رابطہ رہے ‘‘۔ (سیرت حضرت مسیح موعودؑ از حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹیؓ ۔ صفحہ ۲۴۔ سٹیم پریس قادیان ، طبع سوم ۱۹۳۵ء)

دنیاکے کسی بھی قانون اور طریق سے اس خواہش کے پورا ہونے کاقطعاً کوئی امکان نہیں ہے کیونکہ ایک مکان کے گرد کروڑوں بلکہ اربوں احمدیوں کے مکانات ہوں اور ہر ایک گھرکی کھڑکی کھلے یہ ناممکن ہے۔ مگراس خدا نے جس نے خود ایک پاک دل میں یہ خواہش پیدا کی تھی اسے ممکن کر دکھایاہے اور آج ایم ٹی اے کی شکل میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایک ایسا عالمی مکان میسرآگیاہے جس کے چاروں طرف احمدی بستے ہیں اور ہر گھر سے ہر وقت رابطہ ہے ۔

حضرت مسیح موعودؑ کاخلیفہ اوراس کا مقرر کردہ نظام ہمہ وقت تمام احمدیوں کی رہنمائی پر مستعد ہے صرف ٹیلی ویژن کی کھڑکی کھولنے کی دیرہے اور روحانی مائدہ سے سیرابی شروع ہو جاتی ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس خواہش کو حضرت مولانا عبدالکریم صاحب سیالکوٹی نے جنوری۱۹۰۰ء میں تحریرفرمایا اور جیساکہ آئندہ سطور میں ذکر کیا جائے گا ۱۹۰۱ء سے خدا تعالی نے اس خواہش کی تکمیل کے سامان شروع فرمادئے جواس زمانہ میں اپنے کمال کو پہنچ گئے ہیں اورابھی مزید دو طرفہ تعلقات کے ذریعہ ٹیلی ویژن کی کھڑکی اور زیادہ مؤثر ہو جائے گی۔

حضرت مصلح موعودؓکی بشارت

حسن واحسان میں حضرت مسیح موعودؑ کے نظیر حضرت مصلح موعودؓنے بھی مختلف رنگوں میں اس عالمی مواصلاتی نظام کی خبر دی۔ کہیں واضح بشارات اور کہیں ایسی پاک خواہش کے طورپر جسے خدا نے پیشگوئی میں تبدیل کر کے پورا فرمایا ۔

۱۹۳۶ء میں جلسہ سالانہ کے موقع پر پہلی دفعہ لاؤڈ اسپیکر استعمال کیا گیا ۔ سیدنا حضرت مصلح موعودؓ نے اس ایجاد کوبھی حضرت مسیح موعود ؑ کی صداقت کا نشان قرار دیتے ہوئے فرمایا :

’’میں سمجھتاہوں یہ بھی حضرت مسیح موعودؑ کی صداقت کاایک نشان ہے کیونکہ رسول کریم ﷺ نے یہ خبر دی تھی کہ مسیح موعود اشاعت کے ذریعہ دین اسلام کو کامیاب کرے گا اور قرآن کریم سے بھی یہی معلوم ہوتاہے کہ مسیح موعود کازمانہ اشاعت کا زمانہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس نشان کی صداقت کے لئے پریس جاری کر دئے اور پھرآواز پہنچانے کے لئے لاؤڈ سپیکر اور وائر لیس وغیرہ ایجاد کرائے اور اب تو اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ایسا دن بھی آسکتاہے کہ مسجد میں وائر لیس کا سیٹ لگاہوا ہو اور قادیان میں جمعہ کے روز جوخطبہ پڑھا جارہاہو وہی تمام دنیا کے لوگ سن کربعدمیں نماز پڑھ لیا کریں ‘‘۔(روزنامہ الفضل قادیان ۲۹؍دسمبر ۱۹۳۶ء)

*۔۔۔*۔۔۔*

عالَمی درس القرآن

مسجد اقصیٰ قادیان میں پہلی دفعہ ۷؍جنوری ۱۹۳۸ء کو لاؤڈ سپیکر لگا۔ حضرت مصلح موعودؓ نے اس دن خطبہ جمعہ میں فرمایا :

’’اب وہ دن دور نہیں کہ ایک شخص اپنی جگہ پربیٹھا ہوا ساری دنیامیں درس وتدریس پرقادر ہوگا۔ ابھی ہمارے حالات ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتے ، ابھی ہمارے پاس کافی سرمایہ نہیں اورابھی عملی دقتیں بھی ہمارے راستے میں حائل ہیں ۔ لیکن اگریہ تمام دقتیں دورہو جائیں اور جس رنگ میں اللہ تعالیٰ ہمیں ترقی دے رہاہے اورجس سرعت سے ترقی دے رہاہے اس کو دیکھتے ہوئے سمجھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے قریب زمانہ میں ہی یہ تمام دقتیں دورہوجائیں گی توبالکل ممکن ہے کہ قادیان میں قرآن اور حدیث کا درس دیا جارہاہو اورجاوا کے لوگ اورامریکہ کے لوگ اور انگلستان کے لوگ اور فرانس کے لوگ اور جرمنی کے لوگ اور آسٹریلیا کے لوگ اور ہنگری کے لوگ اور اسی طرح تمام ممالک کے لوگ اپنی اپنی جگہ وائرلیس سیٹ لئے ہوئے وہ درس سن رہے ہوں ۔ یہ نظارہ کیا ہی شاندار نظارہ ہوگا اور کتنے ہی عالیشان انقلاب کی یہ تمہید ہوگی کہ جس کا تصور کرکے بھی آ ج ہمارے دل مسرت و انبساط سے لبریز ہو جاتے ہیں۔(روزنامہ الفضل قادیان ۱۳؍جنوری ۱۹۳۸ء)

الفضل کے مطالعہ کے دوران اس حوالے پر خاکسارکی نظر پڑی اورحضور کی خدمت میں بھجوانے کی توفیق ملی تو حضور نے اپنے عالمی درس القرآن ۱۹؍فروری ۱۹۹۵ء کے دوران یہ حوالہ پڑھ کر سنایا اور انتہائی عاجزی اور انکساری کے ساتھ فرمایا :

’’اس وقت میں دس سال کاتھا ۔۔۔۔۔۔ میرے جیسے جاہل نادان بچے کا وہاں موجود ہونا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتاتھا کہ یہ وہ لڑکا ہوگا جو اٹھے گااور اس پیشگوئی کا مصداق بنے گا‘‘۔

اللہ تعالیٰ کی عجیب شان ہے کہ ۷؍جنوری کو حضرت مصلح موعودؓ نے یہ اعلان فرمایا اور ۷؍ جنوری کو ہی ایم ٹی اے کی باقاعدہ نشریات شروع ہوئیں ۔

*۔۔۔*۔۔۔*

احمدیت کی فجر

سیدنا حضرت مصلح موعودؓ نے سورۃ الفجر کی ابتدائی آیات’’ وَالفَجْرِ وَلَیَالٍ عَشْرٍ وَ الشَّفْعِ وَالوَتْرِ وَالَّیلِ اِذَا یَسْر ‘‘سے استنباط کرتے ہوئے ٹھوس دلائل کے ساتھ احمدیت کی ترقی کے کئی ادوار کاذکرکیا اور ۱۹۴۵ء میں پیشگوئی کرتے ہوئے فرمایا :

’’آخر ی ترقی خواہ کچھ لمبے عرصے کے بعدہو احمدیت کی ایک فتح آج سے آٹھ سال بعد ہوگی یا آج سے ۳۷سال بعد ہوگی یاآج سے ۴۶سال بعد ہوگی یاان سالوں کے لگ بھگ وہ فتح ظاہر ہوجائے گی کیونکہ پیشگوئیوں میں دن نہیں گنے جاتے بلکہ ایک موٹا اندازہ بتایا جاتاہے اور جیساکہ میں نے بتایاہے یہ بھی ہو سکتاہے کہ ان چاروں اوقات میں چار مختلف قسم کی فتوحات ظاہر ہوں‘‘۔ (تفسیرکبیر جلد ۸ صفحہ ۵۲۹ تفسیر سورۃ الفجر)

۱۹۴۵ء میں جب حضور کے بیان کردہ سالوں کوجمع کیاجائے تویہ علی الترتیب ۱۹۵۳ئ، ۱۹۸۲ء اور ۱۹۹۱ء قرار پاتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک کے بعد جماعت ترقیات کے نئے ادوار میں داخل ہوتی ہے ۔

*۔۔۔۱۹۵۳ء کے فسادات کے بعد۔

*۔۔۔۱۹۸۲ء میں خلافت رابعہ کے قیام کے بعد۔

*۔۔۔ ۱۹۹۱ء میں حضور کے قادیان تشریف لے جانے کے بعد۔

اگست ۱۹۹۲ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ایدہ اللہ کے خطبات چار براعظموں میں نشرہونے شروع ہوئے ۔ اس طرح چاروں پہلوؤں سے سورۃالفجر کے باریک اشارے اظہر من الشمس ہو گئے ۔

*۔۔۔*۔۔۔*

حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کی تصریحات

جوں جوں ان پیشگوئیوں کے رو بہ عمل ہونے کازمانہ قریب آتاگیا ۔الٰہی تفہیمات بھی واضح ہوتی چلی گئیں اور حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کو خدا تعالیٰ نے معین سالوں کی بھی خبر دے دی جن میں اس واقعہ کا آغاز ہونا تھا ۔ چنانچہ آ پ نے منصب خلافت پر متمکن ہونے کے ایک ماہ بعد فرمایا:

’’میں جماعت کو یہ بتانا چاہتاہوں کہ آئندہ پچیس تیس سال جماعت کے لئے نہایت اہم ہیں کیونکہ دنیا میں ایک روحانی انقلاب پیدا ہونے والا ہے ۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ کونسی خوش قسمت قومیں ہونگی جو ساری کی ساری یا ان کی اکثریت احمدیت میں داخل ہونگی۔ وہ افریقہ میں ہونگے یا جزائر میں یا دوسرے علاقوں میں لیکن میں پورے وثوق اور یقین کے ساتھ آپ کوکہہ سکتاہوں کہ وہ دن دور نہیں جب دنیا میں ایسے ممالک پائے جائیں گے جہاں کی اکثریت احمدیت کوقبول کر لے گی اور وہاں حکومت احمدیت کے ہاتھ میں ہوگی‘‘۔ (خطبہ جمعہ ۱۰؍دسمبر ۱۹۶۵ء ۔روزنامہ الفضل ربوہ ۹؍جنوری ۱۹۶۶ء)

پچیس تیس سال کا یہ زمانہ ۱۹۹۰ء اور ۱۹۹۵ء کا درمیانی عرصہ ہے ۔ چنانچہ آپ نے بعد میں ان معین سالوں کاذکر کرتے ہوئے فرمایا:

’’۱۹۹۰ء سے ۱۹۹۵ء کے درمیان خدا تعالیٰ دنیا کو ایک ایسی روحانی تجلی دکھائے گا جس سے غلبۂ اسلام کے آثاربالکل نمایاں اور واضح ہوجائیں گے ‘‘۔(روزنامہ الفضل ربوہ ۱۴؍اگست ۱۹۷۳ء)

*۔۔۔*۔۔۔*

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی بشارات

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی نظم جو پہلی دفعہ ۲۷؍دسمبر ۱۹۸۳ء کوجلسہ سالانہ کے موقع پر پڑھی گئی اس میں آپ نے دشمنوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا :۔ ؂

یہ صدائے فقیرانہ حق آشنا پھیلتی جائے گی شش جہت میں سدا

تیری آواز اے دشمن بدنوا دو قدم دور دو تین پل جائے گی

یہ الفاظ توحضور کے تھے مگر الٰہی تقدیر اور تصرف کے تابع تھے جن میں شش جہات میں حضور کی آواز پہنچنے کی تحدی کی گئی تھی۔ حضور نے اس شعر کے متعلق ایک خط کاذکر کرتے ہوئے فرمایا:

’’ایک صاحب نے یہ لکھا کہ جب ہم یہ خطبہ سن رہے تھے تو مجھے آپ کا وہ شعر یاد آ گیا اورمیری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے کہ : ؂

یہ صدائے فقیرانہ حق آشنا پھیلتی جائے گی شش جہت میں سدا

تیری آواز اے دشمن بدنوا دو قدم دور دو تین پل جائے گی

اس نے لکھاکہ اب میں دیکھ رہاہوں کہ یہ آواز ساری دنیامیں پھیل رہی ہے ۔

اس پرمجھے خیال آیا کہ اللہ تعالیٰ نے جو بظاہر اتفاقی باتیں ہوتی ہیں خدا تعالیٰ جب ان میں تقدیر ڈالتاہے تو الفاظ درست ہو جایاکرتے ہیں ۔ عام طور پر ’’چاردانگ عالم میں‘‘ ’’ساری دنیا میں‘‘ ’’چاروں طرف‘‘ کے محاورے استعمال کئے جاتے ہیں ۔ آواز کے شش جہات میں پھیلنے کا محاورہ میرے علم میں نہیں آیا کہ پہلے کبھی استعمال ہوا ہو ۔ لیکن اس وقت میں نے بغیر سوچے ہوئے یعنی بغیر کوشش کے کہ میں کیا کہنا چاہتاہوں یاکیا کہہ رہا ہوں’شش جہات‘ کا لفظ مجھے اچھا لگا اور وہی محاورہ میرے منہ سے نکلا اور اب ٹیلی ویژن کے ذریعے شش جہات میں جو استعمال ہو رہی ہیں کیونکہ چاروں طرف کا سوال نہیں ہے ۔ آواز اور تصویر پہلے آسمان کی طرف جاتی ہے پھرآسمان سے زمین کی طرف اترتی ہے پھرچاروں طرف پھیلتی ہے تو خدا تعالیٰ نے شش جہات کے لفظ بھی پورے فرما دئے ۔ اس لئے میں سمجھتاہوں کہ بعض دفعہ تصرفات کے تابع بعض الفاظ انسان کے منہ سے نکلتے ہیں خودکہنے والے کو ان کی کنہہ کا علم ہی نہیں ہوتا کہ میں کیوں کہہ رہاہوں اور بعدمیں یہ بات کیا بن کرنکلے گی۔ تو یہ اللہ تعالیٰ کے احسانات ہیں‘‘۔ (روزنامہ الفضل ربوہ ۱۲؍جنوری ۱۹۹۳ء)

*۔۔۔*۔۔۔*

ایک رؤیا

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الرابعایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۹؍جون ۱۹۸۶ء کوخطبۂ عیدالفطر میں اپنی تازہ رؤیا بیان کرتے ہوئے فرمایا :

’’میں نے رؤیامیں دیکھا کہ قادیان میں بہشتی مقبرہ کے ساتھ جو بڑاباغ کہلاتاہے وہاں سڑک کے پاس کھڑاہوں اور حضرت اماں جان نصرت جہاں بیگم ایسی صحت کے ساتھ کہ اس سے پہلے میں نے اپنی زندگی میں آپ کو ایسی صحت میں کبھی نہیں دیکھا تھا سیدھی چلتی ہوئی اور تنہاہیں، کوئی اور ساتھ نہیں ہے وہ میری طرف ایک عجیب پیاری مسکراہٹ کے ساتھ بڑھتی ہوئی چلی آ رہی ہیں ۔ گویا میری ہی آپ کوتلاش تھی ۔ اس وقت میرے دل کی کیفیت عجیب ہے۔ میں بے قرار ہوں کہ دونوں ہاتھوں سے آپ کاہاتھ تھاموں اور اسے بوسے دیتا چلا جاؤں۔

حضرت اماں جان (جن کانام نصرت جہاں پیش نظررہناچاہئے۔ اسی میں دراصل بڑی خوشخبری ہے ۔ ویسے آپ کی ذات بھی بڑی مبارک تھی اس میں بھی کوئی شک نہیں۔ لیکن ذات کے ساتھ نام مل کر ایک مکمل خوشخبری بنتی ہے) آپ مجھے دیکھ کر ایک شعرپڑھتی ہیں ۔ وہ شعرتو مجھے یاد نہیں رہا اورمیں اسے خواب کے دوران بھی شرمندگی اور انکساری کی وجہ سے یاد رکھنا نہیں چاہتا تھا، یعنی مجھے دہراتے ہوئے بھی شرم محسو س ہو رہی تھی ۔اس شعرکامضمون کچھ اس قسم کاتھا کہ جیسے ’’شمع کو خود اپنے پروانے کی تلاش تھی اور شمع اپنے پروانے کے پاس آ گئی ہے‘‘۔

ناقابل بیان لذت تھی اس شعر میں ۔ایسا روحانی سرورتھا کہ کوئی دوسرا انسان جو اس تجربے سے نہ گزرا ہواس کو اس کا تصور بھی نہیں ہو سکتا۔ اس شعر کوحضرت اماں جان نے دو تین مرتبہ پڑھا اور وہی پاکیزہ فرشتوں کی سی مسکراہٹ آپ کے چہرے پرتھی۔۔۔۔۔۔ اس کے ساتھ وہ زیر لب وہ شعر پڑھتی رہیں اورمیں نے جوا ب میں کوئی شعر پڑھا اور یہ بتانے کی خاطر کہ میں اس لائق کہاں۔ اس شعر میں ایک پنجابی لفظ استعمال کیا ’’جی آیاں نوں‘‘۔

حضرت اماں جان مسکرائیں اور مجھے فوراً خیال آیاکہ اس لئے مسکرا رہی ہیں کہ تم اپنے جوش میں یہ بھول گئے ہو کہ اردو میں پنجابی ملا رہے ہو لیکن خواب میں اس رؤیا کے وقت اس سے بہتر محاورہ مجھے نظرنہیں آیاکہ آپ آئی ہیں تو جی آیاں نوں۔ اہل پنجاب اس محاورے کی لذت سے آشنا ہیں۔ بے اختیار جب بہت ہی پیارآئے کسی آنے والے پراور انسان اپنے آپ کو اس لائق نہ سمجھے کہ وہ آنے والا اسے اعزاز بخش رہاہے، اسکے گھر چلا آیا ہے ،تو بے اختیار پنجاب میں خصوصاً عورتوں کے منہ سے یہ آواز نکلتی ہے ، یہ نعرہ بلند ہوتاہے ’جی آیاں نوں‘۔’جی آیاں نوں‘۔

اس کے ساتھ حضرت اماں جان مجھے لے کر جودارالشیوخ کا علاقہ ہے سڑک کے پار کوئی حویلی ہے اس میں لے جاتی ہیں اوراس پر وہ خواب ختم ہو گئی‘‘۔

حضور نے اس رؤیا کی تعبیرکرتے ہوئے فرمایا کہ :

’’ اس میں جماعت کے لئے بھی پیغام ہے اوردشمنوں کے لئے بھی کہ تم ایک ملک میں اس کی ترقی روکناچاہتے ہو مگرخدا سارے جہان میں اپنی نصرتیں لے کر آئے گا اور تمام جہان میں اس جماعت کو غلبہ نصیب فرمائے گا‘‘۔(خطبہ عیدالفطر ۹؍جون ۱۹۸۶ء)

اس نصرت الٰہی کی تفصیل میں خصوصی بشارت بھی موجودتھی کہ امام یعنی شمع جواپنے پروانوں کے لئے بے قرار ہے اسے خدا یہ توفیق عطافرمائے گاکہ وہ اپنے پروانوں کے پاس پہنچ جائے ۔

اور اردو میں پنجابی ملانے سے یہ مراد ہو سکتی ہے کہ یہ واقعہ اردو دانوں اور اہل پنجاب کے لئے خاص طورپر خوشی کاموجب ہوگاجیساکہ واقعات ظاہر کر رہے ہیں۔

الغرض ان تمام پیشگوئیوں کے الفاظ مختلف ہیں ،تمثیلات مختلف ہیں مگر ان کے اندر ایک ربط موجودہے ۔ سب کامنشا ء ایک ہی ہے۔ سب کی انگلی ایک سمت اٹھ رہی ہے ۔ اور سب نے مل کر ایم ٹی اے کے وہ رنگ پیدا کئے ہیں جو آج کل احمدیت کی سچائی کودنیاپرآشکار کر رہے ہیں۔

*۔۔۔*۔۔۔*

ایم ٹی اے کا سفر

مسلم ٹیلی ویژن احمدیہ کا نظام جماعت احمدیہ کے لئے محض ایک سائنسی ایجاد نہیں ۔ قرآن اور احمدیت کی صداقت کا زبردست نشان ہے ۔ یہ محض ایک تکنیکی پروگرام نہیں امام اور جماعت کے باہم تعلق اور بے پناہ محبتوں کا مظہرہے۔ اس ٹی وی کی نس نس میں قربانیوں اورعقیدتوں کا زندہ لہو دوڑتاہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے سے امام اورجماعت کے مابین پیار کے ایسے اٹوٹ رشتے ہیں جو باہمی دید سے تسکین پاتے ہیں اور صوتی لہروں سے قرار پکڑتے ہیں ۔ جماعت آغاز ہی سے اپنے امام کودیکھنے اور سننے کی مشتاق رہی ہے اوراس میں ہمیشہ زیادتی ہی ہوئی ہے کمی کا کوئی عنصر نہیں لیکن ایک انسان کا دیدار اور سماعت کلام ایک محدود فاصلے سے ہو سکتی ہے۔ غیر معمولی فاصلوں کے لئے سائنسی ذرائع اختیار کرنے پڑتے ہیں اور یہ بھی خدا تعالیٰ کاعجیب فضل ہے کہ جوں جوں جماعت میں وسعت پیدا ہوتی چلی گئی اللہ تعالیٰ وہ تمام مطلوبہ ذرائع میسرفرماتا رہا۔

اس ارتقائی عمل کو نقشہ پر دکھایاگیاہے ۔ کس طرح براہ راست خطاب کانظام عروج کو پہنچتارہا۔ اور دوسری طرف ریکارڈنگ کا نظام بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں شروع ہو چکاتھا اوردونوں نظام ایم ٹی اے پر آ کر متصل ہو چکے ہیں۔

*۔۔۔*۔۔۔*

امام کا خطاب ۔

براہ راست خطاب .......ریکارڈنگ

آواز آگے پہنچانے کے لئے

آدمیوں کا انتظام.......ٹیپ ریکارڈنگ

لاؤڈ سپیکر.......ویڈیو ریکارڈنگ

ریڈیو پر جزوی استفادہ

ٹیلی فون کے ذریعہ خطاب

ٹیلی ویژن ......... ایم ٹی اے

آئیے اب دونوں نقشوں پرکسی قدرتفصیلی نظر دوڑائیں۔

بدلتے ہوئے مناظر

یہ ۲۷؍دسمبر ۱۸۹۱ء کا دن ہے ۔جماعت احمدیہ کا پہلا جلسہ سالانہ منعقد ہو رہاہے ۔ مسجد اقصیٰ قادیان میں ۷۵افراد ہمہ تن گوش ہوکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کلام سن رہے ہیں۔

۲۵؍مارچ ۱۹۰۹ء

جماعت احمدیہ کا دسمبر ۱۹۰۹ء کا جلسہ سالانہ ۲۵؍تا ۲۷؍مارچ ۱۹۱۰ء منعقد ہوا۔ ا س کے شرکاء ۳۰۰۰ سے زائد تھے۔ ۲۵؍مارچ کوجمعہ تھا اور کثرت مخلوق کی وجہ سے حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی آواز دور تک نہیں پہنچ سکتی تھی اس لئے آپ نے چار افراد کو مقررکیا تاکہ وہ آپ کے مبارک کلمات آگے پہنچا تے رہیں۔سلسلہ احمدیہ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا جب ایساانتظام کرناپڑا ۔ (تاریخ احمدیت جلد ۴صفحہ ۳۳۵)

اس کے بعد حسب حالات یہ سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ ۱۹۳۶ء کے جلسہ سالانہ پر پہلی دفعہ لاؤڈ سپیکر استعمال کیاگیا ۔ اس جلسہ کی حاضری ۲۵۰۰۰ سے زائد تھی

*۔۔۔۱۹۳۷ء کے جلسہ سالانہ مستورات پرحضرت مصلح موعودؓ کی تمام تقاریر بذریعہ لاؤڈ سپیکر مردانہ جلسہ گاہ سے سنی گئیں۔

*۔۔۔۷؍جنوری ۱۹۳۸ء کومسجد اقصیٰ قادیان میں پہلی دفعہ لاؤڈسپیکر لگااور حضرت مصلح موعودؓ نے اس کے ذریعہ خطبہ ارشادفرمایا۔

*۔۔۔۱۹؍فروری ۱۹۴۰ء کو حضرت مصلح موعودؓ کی اپنے عقائد کے بارہ میں تقریربمبئی ریڈیو اسٹیشن سے پڑھ کر سنائی گئی۔

*۔۔۔۲۵؍مئی ۱۹۴۱ء کو حضرت مصلح موعود ؓ نے لاہور ریڈیوسٹیشن سے عراق کے حالات پرتبصرہ کے موضوع پر تقریر فرمائی جسے دہلی اورلکھنؤ کے ریڈیو سٹیشنز نے بھی نشرکیا ۔

*۔۔۔دسمبر ۱۹۸۰ء :جلسہ سالانہ پرآنے والے غیرملکی وفود کے لئے غیر زبانوں میں تراجم کاانتظام کیاگیا ۔

*۔۔۔یکم جنوری ۱۹۸۵ء: ناروے کے سٹیٹ ریڈیو سٹیشن سے جماعت احمدیہ کا مستقل پروگرام نشرہونا شروع ہوا۔

*۔۔۔۲۴؍مارچ ۱۹۸۹ء: احمدیت کی دوسری صدی کاپہلا خطبہ جمعہ ماریشس اور جرمنی میں بذریعہ ٹیلی فون

براہ راست سنایاگیا ۔

*۔۔۔۱۸؍جنوری ۱۹۹۱ء: حضور کاخطبہ انگلستان سمیت چھ ممالک میں سنایاگیا۔ یعنی جاپان ، جرمنی ، ماریشس ،امریکہ ، ڈنمارک۔

*۔۔۔۲۳؍جون ۱۹۹۱ء:حضور ایدہ اللہ کاخطبہ عیدالاضحی ۲۴ممالک میں سنا گیا۔

*۔۔۔جولائی ۱۹۹۱ء: جلسہ سالانہ انگلستان پرحضور کے خطابات گیارہ ممالک میں براہ راست سنے گئے۔ ان کاسات زبانوں میں ترجمہ کیاگیا ۔

*۔۔۔جولائی ۱۹۹۲ء: جلسہ سالانہ انگلستان براہ راست ٹیلی ویژن پردکھایا گیا ۔

*۔۔۔۲۱؍اگست ۱۹۹۲ء : حضور کے خطبات جمعہ سیٹلائٹ کے ذریعہ چار براعظموں میں نشرہونا شروع ہوئے یعنی یورپ ، ایشیا، افریقہ ، آسٹریلیا۔

*۔۔۔۷؍جنوری ۱۹۹۴ء سے باقاعدہ مسلم ٹیلی ویژن احمدیہ کی روزانہ سروس کا آغاز ہوا اور یورپ میں تین گھنٹے روزانہ اورایشیااور افریقہ میں روزانہ بارہ گھنٹے کے پروگرام نشرہوناشروع ہوئے۔

*۔۔۔*۔۔۔*

یکم اپریل ۱۹۹۶ء ایک سنگ میل

اس تاریخی دن ایم ٹی اے کی ۲۴گھنٹے کی نشریات کا آغازہوا۔ اس موقعہ پر لندن میں ایک بہت ہی پرمسرت تقریب منعقد ہوئی جس سے حضور ایدہ اللہ نے خطاب فرمایا اور ایم ٹی اے کی تاریخ، مقاصد اوردرپیش مشکلات او ر افضال الٰہی پرجذب و کیف کے عالم میں وجدآفریں خطاب فرمایا۔ یہ خطاب تمام دنیا کی جماعتوں نے براہ راست سنا اور اس دن کو جشن کے طورپر منایا۔

*۔۔۔*۔۔۔*

۲۱جون ۱۹۹۶ء

اس نادرنظام نے ایک اور اہم موڑ لیا۔حضور کے سفرکینیڈا کے موقعہ پر دو طرفہ رابطوں کا سلسلہ شروع ہوا ۔اس طرح کہ انگلستان میں حضور کاخطبہ نشرہو رہا تھا اورلندن کی تصاویر کینیڈا پہنچ رہی تھیں اور تمام دنیا کے احمدی ان دونوں تصاویر کو بیک وقت دیکھ کر حمدوثنا کررہے تھے ۔ حضور نے اس موقعہ پر فرمایا :

’’ گزشتہ ایک موقعہ پرمیں نے جماعت سے یہ گزارش کی تھی کہ میں امید کرتاہوں کہ وہ دن آئیں گے جب ہم دوطرفہ ایک دوسرے کودیکھ سکیں گے ۔ پس آج کے مبارک جمعہ سے اس دن کا آغاز ہو رہاہے ۔ اس وقت انگلستان میں مختلف مراکز میں بیٹھے ہوئے احمدی ہمیں دیکھ رہے ہیں اور ان کی تصاویر یہاں پہنچ رہی ہیں اور بیک وقت ہم ایک دوسرے کو دیکھ سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔ اب دیکھ لیجئے امام مسجد فضل لندن عطاء المجیب راشدہمیں سامنے دکھائی دے رہے ہیں۔ وہ مجھے دیکھ رہے ہیں،میں انہیں دیکھ رہاہوں۔ ان کے پیچھے جومختلف احباب جماعت لندن کے کھڑے ہیں وہ بھی ہاتھ ہلارہے ہیں اور بیک وقت ہم ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہیں اورمجھے وہ سن رہے ہیں لیکن ان کے دل کی دھڑکن مجھے بھی سنائی دے رہی ہے۔ یہ دراصل ایک عظیم الشان پیشگوئی تھی جو ایک پہلوسے توبارہا پوری ہو چکی ۔ اب ایک نئے پہلو سے بھی پوری ہو رہی ہے۔

حضرت امام جعفر صادقؒ سے مروی ہے اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے ۔ بہت بڑے بزرگ بہت پائے کے امام تھے اور عار ف باللہ تھے اس میں قطعاً ایک ذرّے کابھی شک نہیں ۔ آپ نے فرمایا ہمارے امام القائم کے زمانے میں یعنی مسیح موعود و مہدی معہود کے زمانے میں مشرق میں رہنے والا مومن مغرب میں رہنے والے اپنے دینی بھائی کو دیکھ سکے گا۔ اسی طرح مغرب میں بیٹھا ہوا مومن اپنے مشرق میں مقیم بھائی کو دیکھ سکے گا ۔ جہاں تک دوطرفہ رؤیت کا تعلق ہے وہ توبالبداہت درج ہے اور بعینہ اسی طرح ہورہا ہے لیکن جہاں تک آواز کا تعلق ہے یہ پیشگوئی نہیں تھی کہ دونوں ایک دوسرے کوبھی سن سکیں گے ۔ پس ایک طرف سے تویہ آواز پہنچ رہی ہے اورتصویر بھی اوردوسری طرف بھی تصویریں بھی پہنچ رہی ہیں اور یہ آغاز ہے ۔ آگے انشاء اللہ ایسے دن آئیں گے کہ مشرق و مغرب کی جماعتیں ٹیلی ویژن کے اعلیٰ انتظامات کے ذریعہ بیک وقت ایک دوسرے کو دیکھ بھی سکیں گی ۔ ایک ایساعالمی جلسہ ہوگا جس کی کوئی نظیر کبھی دنیا میں پیش نہیں کی جا سکتی نہ کی جا سکے گی۔ اب بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے اتنے ہیں اوراتنے برس رہے ہیں کہ بارش کے قطروں کی طرح ان کا شمار ممکن نہیں رہا۔ لیکن اس کے باوجود جو عشق حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو اللہ سے تھا اس میں بارش کے قطروں کے ان گنت ہونے سے ذرہ بھربھی اظہار محبت میں کمی نہیں آتی تھی بلکہ آنحضور ؐکے متعلق یہ پختہ مصدقہ روایت ہے کہ بعض دفعہ بارش ہوتی توبارش کا پہلاقطرہ اپنی زبان نکال کر زبان پر لے لیاکرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی حمد کے گیت گاتے ۔ وہ بارش جوبے انتہاہوتی ہے ، جس کے قطروں کا شمار ممکن نہیں اس میں پہلے قطرے کو زبان پرلے لینا ایک بے انتہاعشق کا اظہار ہے‘‘۔(ہفت روز ہ االفضل انٹرنیشنل۹؍اگست ۱۹۹۷ء)

*۔۔۔*۔۔۔*

۷جولائی ۱۹۹۶ء

یکم اپریل ۱۹۹۶ء سے شروع ہونے والی ۲۴ گھنٹے کی نشریات سے مشرق وسطی کے بعض ممالک اور افریقہ اورمشرق بعید کے بعض ممالک محروم تھے۔ ۷؍جولائی ۱۹۹۶ء سے گلوبل بیم کے ذریعہ ان ممالک تک بھی ایم ٹی اے کی نشریات پہنچانے کاانتظام ہوگیا۔ اس سلسلہ میں محمود ہال لندن میں ایک نہایت مبارک تقریب ہوئی جس میں حضرت خلیفۃالمسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ کی موجودگی میں افریقن احباب، بچوں، نوجوانوں اور مستورات نے اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید پرمشتمل گیت گائے اور افریقن ممالک سے ا س دن تیارکردہ خصوصی پروگرام دکھائے گئے۔ (ہفت روز ہ االفضل انٹرنیشنل۱۹؍جولائی۱۹۹۶ء)

*۔۔۔*۔۔۔*

دوسرا رخ

اس سفرکی دوسری پٹڑی فونوگراف کے ذریعہ ریکارڈنگ سے تیارہوئی۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ حضرت نواب محمد علی خان صاحب مالیر کوٹلہ کے پاس ایک فونوگراف تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پتہ چلاتو آپ نے انہیں خط لکھا کہ جب قادیان آئیں توفونو گراف لیتے آئیں۔ حضور اقدس کا منشاء تھاکہ حضور کی تقریر اس میں ریکارڈ کر کے بیرونی ممالک میں بھیجی جائے جو دعوت الی اللہ کا موجب ہو۔

۲۰؍نومبر ۱۹۰۱ء کو قادیان میں فونوگراف میں ریکارڈنگ کی بابرکت تقریب منعقدہوئی ۔ حضرت مسیح موعود ؑ نے اس موقعہ پر ایک نظم تحریر فرمائی۔

آواز آ رہی ہے یہ فونوگراف سے

ڈھونڈو خدا کو دل سے نہ لاف و گزاف سے

حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹیؓ نے اسی وقت یہ نظم اور حضور کے نعتیہ قصیدہ

عجب نوریست در جان محمدؐ

عجب لعلیست درکان محمدؐ

کے اشعار خوش الحانی سے ریکارڈکئے۔ اس کے بعد حضرت مولوی صاحب کی آواز میں قرآن شریفکی تلاوت ریکارڈ کی گئی۔ اسی روز بعد نماز عصر قادیان کے آریوں شرمپت وغیرہ مردوں اور ہندو عورتوں کو یہ ریکارڈ سنایا گیا۔ بعد میں حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی ایک مختصر تقریر جو سورہ عصر کی تفسیر پرمشتمل تھی ریکارڈکی گئی۔ (اصحاب احمد جلد ۲صفحہ ۴۷۴ تا ۴۷۹۔ از ملک صلاح الدین صاحب ، طبع اول قادیان ۱۹۵۲ء)

گو حضرت مسیح موعودؑ کی مبارک آواز ریکارڈ نہ ہو سکی اور دیگر آوازیں بھی ضائع ہو گئیں مگر یہ واقعہ آئندہ ہونے والے واقعات کے لئے تمہید بن گیا ۔اس کے بعدجماعت میں ٹیپ ریکارڈنگ کا دور شروع ہوا اور جلسہ سالانہ ۱۹۵۱ء پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی تقاریر ریکارڈ کی گئیں۔ یہ سعادت سیدعبدالرحمن صاحب (متوطن امریکہ) کے حصہ میں آئی۔(اصحاب احمد جلد ۲صفحہ ۴۲۵حاشیہ۔ از ملک صلاح الدین صاحب ، طبع اول قادیان ۱۹۵۲ء)

*۔۔۔۲۷؍دسمبر۱۹۵۲ء :اس وقت حضرت مصلح موعود کی قدیم ترین ٹیپ شدہ تقریر جلسہ سالانہ ۱۹۵۲ء کی ہے بعنوان تعلق باللہ ۔

*۔۔۔دسمبر ۱۹۵۳ء: سیرروحانی کی مشہور تقریرنوبت خانے ریکارڈ کی گئی جو جماعت میں بہت مقبول ہے۔

*۔۔۔خلافت ثانیہ میں حضرت مصلح موعود ؓ کی چند ویڈیو فلمیں تیار کی گئیں۔

*۔۔۔دسمبر ۱۹۶۰ء:حضرت مصلح موعودؓ کے خطاب سے پہلے ۱۹۵۳ء کی تقریر کاریکارڈ سنایا گیا۔

*۔۔۔دسمبر ۱۹۶۱ء: جلسہ سالانہ مستورات میں حضرت مصلح موعودؓ کی تقریر جلسہ سالانہ ۱۹۶۰ سنائی گئی۔نیز مردانہ

جلسہ گاہ کی کئی تقاریر کی ریکارڈنگ سنائی گئی۔

*۔۔۔دسمبر ۱۹۶۲ء: جلسہ سالانہ مستورات میں مردانہ جلسہ گاہ کی کئی تقاریر کی ریکارڈنگ سنائی گئی۔

*۔۔۔دسمبر ۱۹۶۳ء و ۱۹۶۴ئ: جلسہ مستورات میں حضرت مصلح موعود کے پیغام کی ریکارڈنگ اور کئی دیگرتقاریر کے ریکارڈ سنائے گئے۔

*۔۔۔دسمبر ۱۹۶۵ء: جلسہ مستورات میں حضرت سیدہ چھوٹی آپا اور حضرت سیدہ مہر آپا کے خطاب بذریعہ ٹیپ سنے گئے۔

*۔۔۔۱۹۸۴ء: لندن سے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ایدہ اللہ کے خطاب کی کیسٹس تمام دنیا میں بھجوائی جاتی رہیں۔ یہ سلسلہ ایم ٹی اے کے آغاز تک جاری رہا۔

*۔۔۔۳؍اپریل ۱۹۸۷ء : ربوہ میں جماعت احمدیہ پاکستان کی ۶۸ویں مجلس شوریٰ کے لئے حضور کا خصوصی ریکارڈ شدہ پیغام سنایا گیا۔

*۔۔۔۱۹۸۹ء :صدسالہ جشن تشکر کے موقعہ پر حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا ویڈیوریکارڈ شدہ پیغام تمام عالم میں مشتہر کیا گیا۔

الحمد للہ ایم ٹی اے کے ذریعہ یہ دونوں نظام اکٹھے ہو گئے اور جماعت اپنے امام کے براہ راست خطاب بھی سن رہی ہے اور سابقہ خطابوں کی ریکارڈنگ بھی۔

(یہ مضمون مکرم عبدالسمیع خان صاحب کی کتاب ’’ احمدیت کا فضائی دور۔ایم ٹی کے اثرات و برکات‘‘ سے ماخوذ ہے ۔ یہ کتاب شعبہ اشاعت لجنہ اماء اللہ ضلع کراچی نے شائع کی ہے۔ )

(مطبوعہ :الفضل انٹرنیشنل۳۰؍جولائی ۱۹۹۹ء تا۱۲؍اگست ۱۹۹۹ء)

www.alislam.org/mta