In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Browse Al Islam

Archives of 2015 Friday Sermons

Delivered by the Head of the Ahmadiyya Muslim Community

Televised via Satellite by MTA International

Browser by year

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
25-Dec-2015   Urdu (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Jalsa Salana Qadian 2015
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Spanish | Persian | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا: یہ دن قادیان میں جلسہ سالانہ کے دن ہیں ، کل سے انشاء اﷲتعالیٰ قادیان کا جلسہ سالانہ شروع ہو رہا ہے، اسی طرح آج آسٹریلیا کا جلسہ سالانہ بھی شروع ہو چکا ہو گااور امریکہ کے ویسٹ کوسٹ کا جلسہ سالانہ بھی شروع ہو نے والا ہے ، وقت کا فرق ہے اس لئے کچھ دیر بعد شروع ہو اور شاید بعض اور ملکوں میں بھی ان دنوں جلسے ہو رہے ہونگے یا ہونے والے ہونگے، اﷲتعالیٰ ان تمام جلسوں کو بابرکت فرمائے، قادیان کے جلسہ سالانہ کی خاص طور پر اس لحاظ سے بھی اہمیت ہے کہ یہ حضرت مسیح موعودؑ کی بستی ہے اور یہیں آپؑ نے اﷲتعالیٰ سے اذن پاکر جلسے شروع کروائے تھے ، حضرت مصلح موعودؓ نے اپنے مختلف خطبات میں جلسہ سالانہ کے حوالہ سے اس زمانے سے بھی آگاہی دی ہے جو حضرت مسیح موعودؑ کا زمانہ ہے۔ قادیان پر بعد میں تقسیم ہند کے وقت ایسا دور بھی آیا جب صرف چند احمدی وہاں رہ گئے بلکہ چند سو کے سوا سب کو ہجرت کرنی پڑی لیکن آج پھر اﷲتعالیٰ کو فضل سے وسعت پیدا ہو رہی ہے اور وہاں جانے والے اب اس وسعت کو دیکھ رہے ہونگے ، تاریخ کے دریچے میں سے جھانک کر دیکھیں تو اﷲتعالیٰ کے فضلوں کی بارش نظر آتی ہے،آج ربوہ کے رہنے والے بھی ان دنوں میں بے چین ہونگے تو انہیں بھی یاد رکھنا چاہئے کہ حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے، انشاء اﷲتعالیٰ وہاں بھی حالات بدلیں گے اور رونقیں بھی قائم ہونگی لیکن پاکستان اور ربوہ میں رہنے والوں کو دعاؤں کی طرف توجہ دینی ہوگی ، اﷲتعالیٰ فرماتا ہے ’کمزوری نہ دکھاؤ اور غم نہ دکھاؤ جبکہ تم مومن ہو‘۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایاآج قادیان کی جلسہ گاہ اور بھی وسیع ہو گئی ہے ، میں جلسہ میں شامل ہونے والے جتنے بھی لوگ ہیں ان سے کہتا ہوں کہ ایک وسیع میدان جس میں تمام سہولتیں بھی میسر ہیں، جہاں ایک زبان کی بجائے اس زمانے میں تو کئی زبانوں میں آوازیں پہنچائی جا رہی ہیں ، جہاں اس وقت مختلف قوموں کے لوگ بھی بیٹھے ہوئے ہیں ، جہاں پاکستان سے آئے ہوئے اپنے حقوق سے محروم لوگ بھی بیٹھے ہیں ، اپنے آپ میں یہ سب لوگ وہ ایمان اور اخلاص پیدا کریں اور اﷲتعالیٰ سے تعلق پیدا کریں ، ایک جذبہ پیدا کریں جو ان 200لوگوں میں تھا جس کی مثال حضرت مصلح موعودؓ نے دی ہے ۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ نےخواہش ظاہر فرمائی کہ جماعت کہ وہ تمام دوست جن کا جلسہ پر آنا ممکن ہو وہ جمع ہوا کریں اور اﷲتعالیٰ کے ذکر کو سننے اور سنانے میں شامل ہوا کریں جو ان دنوں یہاں کیا جاتا ہے ،ابھی تک ہمارے ملک میں وسائل سفر اتنے آسان نہیں جتنے کہ یورپ میں آسان ہیں اور ہندوستان کے باہر تو کئی ممالک میں تو وسائل میں اور بھی کمی ہے جیسا کہ ایران ہے یا افغانستان ہے ، پھر ابھی ہماری جماعت میں ایسے لوگ شامل نہیں جو مالدار ہوں جو دور دراز ممالک سے جبکہ ہوائی جہاز کی آمدو رفت نے سفر کو بہت حد تک آسان کر دیا ہے ، جلسہ سالانہ کے ایام میں قادیان پہنچ سکیں۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ہر اس چیز کے ساتھ جو خوشی کا موجب ہوتی ہے، تکلیف بھی ہوتی ہے اور جہاں پھول پائے جاتے ہیں وہاں کانٹے بھی ہوتے ہیں ، اسی طرح ترقی کے ساتھ بغض اور حسداور اقبال کے ساتھ زوال لگا ہوا ہے، غرض ہر چیز جو اچھی اور اعلیٰ درجہ کی ہوتی ہے اس کے حاصل کرنے کے راستے میں کچھ مخالف طاقتیں بھی ہوا کرتی ہیں اور اصل بات یہ ہے کہ کو ئی شخص اس وقت تک اس بات کا مستحق ہی نہیں کہ اسے کامیابی حاصل ہو جب تک وہ مصائب اور تکالیف برداشت نہ کرے ، یہی وجہ ہے کہ انبیاء اور ان کی جماعتوں کو بھی کچھ نہ کچھ تکالیف اٹھانی پڑتی ہیں ، کبھی کبھی تو ان پر ایسے ابتلاء آتے ہیں کہ کمزور اور کچے ایمان والے مرتد ہوجاتے ہیں۔ یونس عبدالجلیل صاحب آف کرغزستان کی 22 دسمبر کو شہادت۔

These are days of Qadian Jalsa Salana. This year the Jalsa will commence tomorrow. Meanwhile Jalsa Salana has begun today in Australia and West Coast of USA. Jalsa Salana Qadian has special significance as it is the hometown of the Promised Messiah(as) and this is where Jalsa Salana was first initiated. Hazrat Musleh Maud(ra) has spoken about Jalsa Salana held during the lifetime of the Promised Messiah(as) in his various addresses and has also spoken of some of the revelations of the Promised Messiah(as). Qadian went through a time during the partition of India when everyone migrated to Pakistan and just a few people were left there. Now Qadian is progressing. Today people in Rabwah are anxious but it should be remembered that times change. InshaAllah, time will come when the bustling delights of Rabwah will return. What is needed is focus on prayers. God states: Slacken not, nor grieve; and you shall certainly have the upper hand, if you are believers. Indeed, today the progress and advancement is that much greater, the Jalsa venue in Qadian is huge by comparison and Jalsa proceedings are translated in seven to eight languages simultaneously, people of various nations have gathered there, including those from Pakistan who are deprived in their own country to openly practice their faith. People gathered in Qadian today should instil the same sincerity and belief that the 200-odd attendees of earlier Jalsa had. Hazrat Musleh Maud(ra) said the Promised Messiah(as) desired all those Ahmadis who could afford to attend Jalsa to go to it so that they could listen to discourses or give discourses about God. Hazrat Musleh Maud(ra) also mentioned that travel facilities in India were not the same as in Europe and he said that Jama'at did not have well-off people. He hoped that if well-off people were to join the Jama'at they could attend Qadian Jalsa from far off places. Hazrat Musleh Maud advised that everything that brings happiness also has a tinge of pain, just as flowers are accompanied with thorns, progress brings jealousy and prosperity is followed by decline. There are opposing powers in the path of attaining everything that is good. Fact is that one is not really worthy of success until one has endured pain and hardship. This is the reason that communities of Prophets of God have to endure some difficulty or the other. Martyrdom of Yunus Abdul Jalil Sahib of Kyrgyzstan who was martyred on 22 December.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
18-Dec-2015   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Promised Messiah: The exalted status of The Holy Prophet (saw)
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Spanish | Persian | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

سب سے بڑا الزام جو مسلمانوں کے جذبات بھڑکانے کیلئے لگاتے ہیں یہ لوگ وہ ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ نعوذ بااﷲ آنحضرت ﷺ سے بڑا سمجھتے ہیں ، بلکہ ان علماء کی اپنے مقاصد کے حاصل کر نے کیلئے جھوٹ اور ظلم کی یہ انتہا ہے کہ یہ بھی کہتے ہیں یہ لوگ کہ حضرت مسیح موعودؑ نے آنحضرتﷺ کے متعلق بعض ایسے الفاظ کہے ہیں جن سے آپؑ کی ہتک ہوتی ہے ، یہی الزام یہ لوگ افراد جماعت پہ بھی لگاتے ہیں جہاں جہاں ان کو موقع ملتا ہے کہ احمدی نعوذ باﷲ حضرت مسیح موعودؑ کو آنحضور ﷺ سے بڑا سمجھتا ہیں۔ وہ اعلیٰ درجہ کا نور جو انسان کو دیا گیا یعنی انسان کامل کو وہ ملائک میں نہیں تھا، نجوم میں نہیں تھا، قمر میں نہیں تھا، آفتاب میں نہیں تھا، وہ زمین کے سمندروں اور دریاؤں میں بھی نہیں تھا، وہ لعل اور یاقوت اور الماس اور موتی میں بھی نہیں تھا، غرض وہ کسی چیز عرضی اور سماوی میں نہیں تھا، صرف انسان میں تھا یعنی انسان کامل میں ، جس کا اکمل اور اتم اور اعلیٰ اور ارفع فرد ہمارے سید مولا ، سید الانبیاء ، سید الاحیاء محمد ﷺ ہیں، سو وہ نور اس انسان کو دیا گیا اور حسب مراتب اس کے تمام ہم رنگوں کو بھی، یعنی ان لوگوں کو بھی جو کسی قدر وہی رنگ رکھتے ہیں ۔ پس میں ہمیشہ تعجب کی نگاہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمدﷺ ہے (ہزار ہزار درود وسلام اس پر) یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے ، اس کے عالی مقام کا انتہا معلوم نہیں ہو سکتا اور اس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں ، افسوس کہ جیسا حق شناخت کا ہے اس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا ، وہ توحید جو دنیا سے گم ہو چکی تھی وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اس کو دنیا میں لایا ،اس نے خدا سے انتہائی درجہ پر محبت کی اور انتہائی درجہ پر بنی نوع کی ہمدردی میں اس کی جان گداز ہوئی اس لئے خدا نے جو اس کے دل کے راز کا واقف تھا ، اس کو تمام انبیا اور تمام اولین و آخرین پر فضیلت بخشی اور اس کی مرادیں اس کی زندگی میں اس کو دیں۔ یہ سوچنا چاہئے کہ کیا یہ عزت، کیا یہ شوکت ، کیا یہ اقبال، کیا یہ جلال، کیا یہ ہزاروں نشان آسمانی ، کیا یہ ہزاروں برکات ربانی جھوٹے کو بھی مل سکتی ہیں، ہمیں بڑا فخر ہے کہ جس نبی کریم ﷺ کا ہم نے دامن پکڑا ہے ، خدا کا اس پر بڑا ہی فضل ہے ، وہ خدا تو نہیں مگر اس کے ذریعے سے ہم نے خدا کو دیکھ لیا ہے ، اس کا مذہب جو ہمیں ملا ہے خدا کی طاقتوں کا آئینہ ہے ، اگر اسلام نہ ہوتا تو اس زمانے میں اس بات کا سمجھنا محال تھا کہ نبوت کیا چیز ہے اور کیا معجزات ممکنات میں سے ہے اور کیا وہ قانون قدرت میں داخل ہے ، اس نقظہ کو اس نبی کے دائمی فیض نے حل کیا اور اسی کے طفیل ہم دوسری قوموں کی طرح صرف قصہ گو نہیں۔ اﷲتعالیٰ ان مفاد پرستوں کے چنگل سے امت مسلمہ کو بچائے اور یہ آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق کو ماننے والے ہوں اور یہی ایک ذریعہ ہو جو امت مسلمہ کی ساکھ کو دوبارہ قائم کر سکتا ہے، اﷲتعالیٰ ہمیں بھی حضرت مسیح موعودؑ کی کتب اور ارشادات کو پڑھنے اور انہیں سمجھنےکہ توفیق عطا فرمائے اور اﷲتعالیٰ آنحضرت ﷺ کے ذریعہ سے ہمیں بھی اپنے تک پہنچنے کا ادراک بھی عطا فرمائے اور توفیق بھی عطا فرمائے (آمین)۔

The biggest allegation that they make to try and incite the Muslims is that the Promised Messiah(as) (God-Forbid) considers himself superior to Holy Prophet(saw). What is most heinous is that they fabricate such lies and make such false statements in order to achieve their nefarious objectives of inciting people that they even go as far as to allege that the Promised Messiah(as) has used disturbing language concerning the Holy Prophet(saw). They continue to raise these allegations towards members of the Jama'at. 'That light of high degree that was bestowed on perfect man was not in angels, was not in stars, was not in the moon, was not in the sun, was not in the oceans and the rivers, was not in rubies or emeralds, or sapphires, or pearls; in short, it was not in any earthly or heavenly object. It was only in perfect man whose highest and loftiest and most perfect example was our lord and master, the Chief of the Prophets, the Chief of all living ones, Muhammad, the chosen one, peace be on him. I always wonder how high was the status of this Arabian Prophet, whose name was Muhammad, (thousands of blessings and peace be upon him). One cannot reach the limit of his high status and it is not given to man to estimate correctly his spiritual effectiveness. It is a pity that his rank has not been recognized, as it should have been. He was the champion who restored to the world the Unity of God which had disappeared from the world. It is worthy of consideration whether this glory, this splendour, these thousands of heavenly signs and Divine blessings can be bestowed upon a false one. We take great pride in the fact that the Holy Prophet(saw) to whom we have attached ourselves, was bestowed great grace by God. He is not God, but through him we have seen God. His religion which has come to us is a mirror of Divine Powers. May Allah save Muslims from shackles of so-called scholars. May Allah enable them to accept the Promised Messiah(as) because this is the only way that the Muslims will again be able to re-establish their respect and honor in the world. May Allah also enable us to read and understand the literature of the Promised Messiah(as). May Allah enable us the proper understanding needed reach the Holy Prophet(saw). Aameen.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
11-Dec-2015   Urdu (mp3)Albanian (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: The Promised Messiah and True Islam
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Spanish | Persian | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

آجکل جو اسلام کے نام پر شدت پسند گروہ نے شام اور عراق میں کچھ علاقے پر قبضہ کر کے اپنی حکومت قائم کی ہے، اس نے مغربی ممالک کو بھی نہ صرف دھمکیاں دی ہیں بلکہ بعض جگہ ظالمانہ حملے کر کے معصوموں کو قتل بھی کیا ہے جس کا حضور گزشتہ خطبوں میں حضور ذکر بھی کر چکے ہیں، اس چیز نے جہاں عوام کو خوفزدہ کیا ہے وہاں ان لوگوں کو جو بعض لیڈر ہیں ملکوں کے ،لاعلمی کی وجہ سے یا اسلام مخالف خیالات کی وجہ سے اسلام کےخلاف کہنے کا موقع بھی دیا، کہنےوالے یہ کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے دوسرےمذاہب کی تعلیم میں بھی سختی ہے لیکن اس کے ماننے والے یا تو اس پر عمل نہیں کرتے یا اس میں حالات کے مطابق تبدیلیاں کر لیں ہیں۔ پس یہ باتیں جہاں مخالفین اسلام کے اعتراضات کا شافی جواب ہیں ، ان کا یہ کہنا ہی کہ دوسرے مذہب زمانے کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال چکے ہیں اس بات کا اعتراف ہے کہ وہ مذہب مردہ ہو چکے ہیں لیکن ساتھ ہی حضرت مسیح موعودؑ کے اس پر شوکت کلام میں مسلمانوں کو بھی دعوت ہے کہ اسلام پر حملے جو تحریر و تقریر کے ذریعے سے ہو رہے ہیں اس زمانے میں، ان کا توڑ کرنے کیلئے اس شخص کیساتھ رشتہ جوڑ کر اسلام کی خوبصورت تعلیم کی عظمت سے ان مخالفین کا منہ بند کریں جو اسلام پر دہشت گردی اور شدت پسندی کا الزام لگاتے ہیں ، جو گروہ اور لوگ تلوار کے زور سے اسلام پھیلانے کا دعویٰ کرتے ہیں ، حقیقت میں وہ اسلام مخالف طاقتوں کے آلہ کار ہیں ۔ گزشتہ دنوں یہاں برٹش پالیمنٹ میں گلاسگو کی ایک ممبر پارلیمنٹ نے اسلام کی حقیقت کے بارہ میں جماعت احمدیہ کے حوالہ سے بتایا کہ اسلام کی امن اور سلامتی کی تعلیم پر عمل کرنے والے احمدی مسلمان میں اور گلاسگو میں ان کا ایک پیس سمپوزیم تھا جس میں میں شامل ہوئی تھی اس پر وہاں بیٹھی ہوئی وزیر داخلہ نے بھی کہا کہ جو اسلام احمدی پیش کرتے ہیں وہ واقعی اس سے بہت مختلف ہے اس سے جو اسلام شدت پسند دکھاتے ہیں اور حقیقت میں احمدی امن پسند شہری ہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ نے ہمیں توجہ دلائی کہ دین کی خوبیوں کو پیش کرو اور وہ تبھی پیش ہو سکتی ہیں جب خود علم ہو ، اپنے علم کو بڑھاؤ اور دوسر افرمایا کہ نیک نمونوں سے اپنی طرف کھینچو ، پس یہ ہر احمدی کی بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ دین کی ذاتی خوبیوں کو پیش کرنے کیلئے قرآن کریم کا علم حاصل کرے اور پھر اپنے نیک نمونے قائم کر کے دنیا کو اپنی طرف کھینچے اور یہی علم اور عمل ہے جس سے اس زمانے میں ہم حضرت مسیح موعودؑ کی غلامی میں آتے ہوئے قرآن کریم اور اسلام کی حفاظت کے کام میں حصہ دار بن سکتے ہیں اور دنیا کو بتا سکتے ہیں کہ اگر دنیا میں حقیقی امن قائم کرنا ہے تو قرآن کریم کے ذریعہ ہی قائم ہونا ہے۔ دنیا اس وقت آگ کے گڑھے کے جس دہانے پر کھڑی ہے ، وہ کسی وقت بھی ایسے حالات ہو سکتے ہیں کہ وہ اس میں گر جائے ، ایسے وقت میں دنیا کو اس آگ میں گرنے سے بچانے کی کو شش کرنا اور امن اور سلامتی کا کام کرنا ایک احمدی کی ذمہ داری ہے اور ایک احمدی ہی کرسکتا ہے ، پس اس کیلئے کوشش کی ضرورت ہے ، سب سے بڑی چیز اس مقصد کو حاصل کرنے کیلئے خدا تعالیٰ سے ایک خاص تعلق کا پیدا کرنا ہے ، اس کے آگے جھکنا ہے، اس کا تقویٰ اختیار کر نا ہے ، اس کا تقویٰ اپنے دلوں میں پیدا کرنا ہے تبھی ہم اپنے آپ کو اور اپنی نسلوں کو بھی اور دنیا کو بھی امن اور سلامتی دے سکتے ہیں ۔ مربی سلسلہ عنایت اﷲ احمدی صاحب کی وفات، مولوی بشیر احمد درویش قادیان کی وفات، سیدہ قانتہ بیگم صاحب کی اوڑیسہ میں وفات۔

ISIS has captured regions of Iraq and Syria and have created their own state. They threaten the Western world and have also attacked it in a barbaric way killing innocent people. This has frightened people and has given some leaders, owing to their lack of knowledge or anti-Muslim views, the chance to speak against Islam. It is being written that other religions also had some harsh teachings but their adherents either do not follow those teachings or they have changed them in keeping with the times. These are the answers to the objections raised against Islam. The acknowledgement of people of other religions that they have changed their teachings to suit the times is an admission that their religions are but lifeless. But the words of the Promised Messiah(as) are for the Muslim world. They should connect with him and silence the opponents who allege Islam to be a religion of violence. And those who claim to spread Islam through use of force are in fact tools of anti-Muslim powers. Recently an MP from Glasgow spoke in the UK Parliament about the reality of Islam with reference to the Ahmadiyya Jama'at. She said Ahmadi Muslims practiced the teachings of Islam. She said she had attended our peace symposium in Glasgow and was full of praise. The Home Secretary who was also in the House responded by saying that the Islam practised by Ahmadi Muslims was indeed different from the one acted upon by the extremists. The Promised Messiah(as) has thus drawn our attention to present the inherent beauties of Islam by increasing our own knowledge and then attract people through good practice. It is indeed a huge responsibility on every Ahmadi to increase their knowledge of the Qur'an, present good models and attract the world. This is the way we can, in subordination of the Promised Messiah(as) serve Islam and the Holy Qur'an and inform the world about it. The world is teetering on the edge of a fire pit. The situation can arise anytime that would plunge it in the pit of fire. It is the responsibility of Ahmadis to try to save the world from falling in fire and to work towards peace and security and Ahmadis alone can do this task. Effort is needed for this task. The main aspect to attain this objective is to inculcate a special connection with God, to turn to Him and bow down to Him and to instil righteousness in hearts. Death of Missionary Inayat Ullah Ahmadi Sahib, Maulawi Bashir Ahmad Sahib dervish of Qadian and Syeda Qanita Begum Sahiba of Orissa.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
04-Dec-2015   Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: The Promised Messiah: Revelations and Companions
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Spanish | Persian | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ احمدی دن چڑھتے ہی عاشقوں کی طرح ادھر ادھر دوڑنے لگتے تھے کہ معلوم کریں کہ حضرت مسیح موعودؑ کو رات کو کیا وحی ہوئی ہے، وہ حضرت مسیح موعودؑ کے ہر بچے سے یہ سوال پوچھتے تھے، حضرت مصلح موعودؓ فرما تے ہیں کہ ہماری یہ حالت تھی کہ جونہی حضرت مسیح موعودؑ نماز کیلئے جاتے تو ہم کاپی اٹھا کے دیکھتے کہ کیا الہام ہوا ہے یا پھر مسجد جا کر خود آپ سے سنتے ، پس یہ ذوق و شوق اس لئے تھا کہ اپنے ایمانوں کو مزید مضبوط کریں، اس کی برکات حاصل کریں، اﷲتعالیٰ کا شکر اور حمد کریں۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ کے ایک مخلص صحابیؓ کا نام منشی اروڑے خان صاحبؓ تھا ، اس نام رکھنے کی وجہ بیان کرتے ہوے آپ فرماتے ہیں کہ اس زمانے میں جن کے بچے عام طور پر فوت ہو جایا کرتے تھے وہ بچے کو میل کے ڈھیر پر گھسیٹتے تھے کہ شاید اس طرح وہ بچ جائے ، یہ طریق اس وقت رائج تھا اور پھر اس کا نام اروڑا رکھ دیا جاتا تھا ، ان منشی صاحب کا نام اسی طرح ان کے والد صاحب نے اروڑا رکھا تھا مگر وہ خداتعالیٰ کی راہ میں اروڑا نہ تھے ، ماں باپ نے ان کا نپ اس لئے رکھا تھا کہ شائد میلے کے ڈھیر پر پڑ کر ہی یہ بچہ زندہ رہے ۔ جو لوگ خدا کے ہو جاتے ہیں ان کو تو مانگنا بھی نہیں پڑتا، بعض وقت وہ ناز کے انداز میں کہتے ہیں کہ ہم نہیں مانگیں گے اور اﷲتعالیٰ خود بخود ان کی ضروریات پوری کرتا ہے، حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ سے ہی میں نے یہ واقعہ سنا ہے کہ ایک بزرگ تھےان پر ایک دفعہ ایسی حالت آئی کہ وہ سخت مصیبت میں تھے ، کسی نے ان سے کہا کہ آپ دعا کیوں نہیں کرتے تو انہوں نے کہا کا کہ اگر میرا رب مجھے نہیں دینا چاہتا تو میرا دعا کرنا گستاخی ہے، جب اس کی مرضی نہیں تو میں کیوں مانگوں؟ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا کہ اب میں دنیا کے حالات کے بارہ میں مختصرا کچھ بتانا چاہتا ہوں کہ جس تباہی کی طرف دنیا تیزی سے جارہی ہے ، اس کیلئے احباب جماعت کو دعا کی طرف بہت زیادہ توجہ کرنی چاہئے، نام نہاد اسلامی حکومت جو عراق اور شام میں قائم ہے ، اس کے خلاف اب مغربی حکومتوں نے فرانس کے ظالمانہ واقعہ کے بعد جو سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ہوئی حملے کرنے کا منصوبہ بنایا ہے بلکہ شروع کر دئیے ہیں، اگر ان حکومتوں نے یہ حملے کرنے ہیں تو پھر ان پر کریں جو ظلم کر رہے ہیں ۔ بعض حالات اس طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ اگر یہ فتنہ ختم ہو بھی گیا تو حالات نہیں سدھریں گے بلکہ اس کے بعد بڑی طاقتوں کی آپس میں کھینچا تانی شروع ہو جائے گی اور بعید نہیں کہ جنگ شروع ہو جائے کیونکہروس اور دوسری بڑی طاقتوں میں رنجشیں بڑھتی چلی جارہی ہیں اور پھر عوام ہی ہے جو زیادہ تر مریں گے، گزشتہ جنگوں میں بھی ہم نے یہی دیکھا ہے ، عوام ہی مرتے ہیں، معصوم لوگ ہی مرتے ہیں ، اس لئے بہت زیادہ دعاؤں کی ضرورت ہے کہ اﷲتعالیٰ دنیا کو تباہی سے بچائے، اس کے علاوہ بھی احتیاط تدابیرو ں کے حوالہ سے حضور نے جماعت کو توجہ دلائی تھی۔

Hazrat Musleh Maud(ra) said that at day break Ahmadis used to wander around with keen expectation wishing to find out what revelation had been received the night before. They would ask whichever of the Promised Messiah's children they saw about this. Hazrat Musleh Maud(ra) says he and his siblings too would quickly look at the Promised Messiah's note book as soon as he left for Salat to see any revelation noted down or they would hear about the revelation in the mosque from his blessed mouth. Hazrat Musleh Maud relates that Munshi Aroora Khan Sahib was named Aroora according to a custom of the time. Families who suffered infant/child mortality would drag their children in dirt heaps in a ritualistic manner in the hope that they would survive; this was a mind-set, and they would then accordingly name the child Aroora. [The word aroora connotes 'of the dirt heap'). Munshi Aroora Sahib's parents had also named him in this way but in God's eyes he was not like that. Sometimes, those who become God's do not even have to ask Him for something and they indulgently say they will not ask God. Hazrat Musleh Maud says he heard from the Promised Messiah(as) that once a holy person was in great difficulty. People asked him as to why he did not pray? He replied that if his God did not want to give him what he wanted it would be impertinent of him to ask. If it was not God's will for him to have something, how could he ask? I want to briefly say something on the current world situation. Members of Jama'at need to greatly turn to prayers in light of the way the world is fast moving towards destruction. In wake of the barbaric events in France, and in their decision to take severe measures against the so-called Islamic State situated in Syria and Iraq, Western governments now plan air strikes there, in fact they have already begun air strikes. If these governments want to carry out air strikes they should aim them at those who are perpetrating cruelty. However, certain matters indicate that even if this evil is eliminated the situation will not get better. Rather, later on the big powers will start their own skirmishes and it is not unlikely for war to ensue. This is because grievances between Russia and other Western powers are on the increase and the outcome will once again be most loss of life among civilians. This is what we have seen in the past wars that most lives lost were those of innocent civilians.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
27-Nov-2015   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: The Japan Visit
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

ہر کام کیلئے اﷲتعالیٰ نے وقت رکھا ہوا ہے اور جب وقت آتا ہے تو اﷲتعالیٰ کے فضل سے کام ہو جاتا ہے، جب اﷲتعالیٰ نے چاہا کہ جاپان میں جماعت احمدیہ کی مسجد بنے تو تمام روکوں کے باوجود اﷲتعالیٰ نے ہمیں مسجد بنانے کی توفیق عطا فرمائی اور اسلام کا پیغام اس ملک میں پہنچانے کا پہلا مرکز قائم ہوگیا، اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک مرکز یا مسجد تمام ملک میں اسلام کی تعلیم کو پھیلانے کے مقصد کو پورا نہیں کرسکتی لیکن یہ بات یقینی ہے کہ اس کے ساتھ جاپان میں اسلام کے حقیقی پیغام کو پہنچانے کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ ایک جاپانی دوست جو سکول ٹیچر ہیں وہ کہتے ہیں: احباب نے مشکل حالات میں ہمیشہ ہماری مدد کی ، یہ بات میں پہلے نہیں جانتا کیونکہ وہاں بہت سے مقررین نے بتایا کہ زلزلوں میں اور سونامی میں جماعت احمدیہ نے مدد کی ہے ، کہتے ہیں میں یہاں قریب کے سکول میں ٹیچر ہوں ، کہتے ہیں آج کے بعد میں سکول کے بچوں کو یہ کہ سکتا ہوں کہ یہ لوگ خطرناک نہیں کیونکہ امام جماعت احمدیہ اور مختلف ملکوں سے آئے ہوئے لوگوں سے ملاقات کا موقع مجھے ملا، جماعت احمدیہ کے خلیفہ نے بہت آسان طریق سے اسلام کے بارہ میں بیان کیا ۔ ایک اور ٹی وی چینل جس کو دیکھنے والوں کی تعداد ایک کروڑ سے اوپر ہے ، اس نے بھی یہ خبر دی کہ پیرس حملوں کے بعد جبکہ اسلام کے بارہ میں منفی تاثر دوبارا پختہ ہوگیا ہے ، سوشیما میں ایک مسجد کا افتتاح کیا گیا ہے، یہ مسجد جماعت احمدیہ نے بنائی ہےاور یہ جاپان کی سب سے بڑی مسجد ہے ، امام جماعت احمدیہ نے پیرس حملوں کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مسجد ایسے تمام عناصر کی مذمت کرتی ہے، یہ مسجد امن و امان کا ذریعہ ہوگی ، جو چاہے اس مسجد میں آسکتا ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے 2013 میں جاپان کا دورہ کیا تو پاکستان کا ایک مولوی جاپان گیا اور اس نے کہا کہ میرے باپ کا یہ مشن تھا کہ جہاں بھی قادیانی جا کر تبلیغ کریں گے تو ہم ان کی تبلیغ کو روکیں گے ، اس مولوی نے 2013 میں حضور کے دورہ کے دوران یہ بھی کہا کہ احمدی اپنے عقیدے اور مشن کے ساتھ اس قدر مخلص ہیں کہ وہ اپنی جان مال اور وقت کو قربان کر تے ہیں اور حضور کے دورہ اور جماعت کی سرگرمیوں کی وجہ سےسے کہا کہ میں اب ہر سال جاپان آیا کروں گا اور اپنے والد کا ختم نبوت کا مشن پورا کرنے کیلئے ہر ممکن کوشش کروں گا ۔ مولویوں کے کینے اور بغض ہیں ان کے اظہار پاکستان میں وقتا فوقتا ہوتے رہتے ہیں ، جماعت کی ترقی دیکھ کر ان کی حسد کی آگ بھڑکتی رہتی ہے ، گزشتہ دنوں ایک ظالمانہ اور بیہمانہ اظہار ان مولویوں کی طرف سے اور شدت پسندوں کی طرف سے پاکستان میں جہلم میں بھی ہوا ، اک چپ بورڈ فیکٹری جو ایک احمدی کی ملکیت تھی، اس کو آگ لگا دی گئی اور کوشش ان کی یہی تھی کہ فیکٹری مالکان اور ورکرز کو اندر زندہ جلایا جائے لیکن اﷲتعالیٰ کا فضل ہے اس میں یہ کامیاب نہیں ہو سکے لیکن بہرحال مالی نقصان تو ہوا ، ان لوگوں کا خیال ہے کہ اس طرح وہ احمدیت کو ختم کر سکتے ہیں ، احمدیوں کے جذبہ ایمانی کو چھین سکتے ہیں، ان کو احمدیت سے دور کر سکتے ہیں۔

There is a time decreed by Allah, the Exalted, for each task and when the time arrives, the work gets done by the Grace of Allah, the Exalted. When Allah, the Exalted, decreed that this mosque should be constructed, He enabled us to construct the mosque despite all the obstacles and thus was established the first center for the spreading of the message of Islam in Japan. There is no doubt that one mosque or center cannot fulfill the needs for spreading the message of Islam in the whole country but this is certain that at least we have laid the foundation for spreading the true teachings of Islam in the whole country. A Japanese friend who is a Teacher says: I can say to the students that these people always came to our aid in difficult times. [He had heard the speeches of many guests telling about the Jama'at's work in these difficult times to serve the people of Japan. He says he is teacher in a nearby school] Now, after today I can say to the children in my school that these are not dangerous people because I was afforded a chance to meet the Imam of the Ahmadiyya Jama'at and many people who had come from different countries. Another news channel with an audience of more than 10 million said that a mosque has been inaugurated after the events in Paris when the negative image of Islam has become even stronger. This mosque has been made by the Ahmadiyya Community and is the largest mosque in Japan. The Imam of the Ahmadiyya Jama'at has declared the attacks in Paris to be un-islamic and has said that this mosque rejects all such violence and that this mosque will be a beacon of peace and anyone is free to enter our mosque. A Pakistani cleric opposed Huzoor(aba) in Japan in 2013 and said that this was the mission of his father that no matter where the Qadianis go to preach they will go to oppose because that is their mission. This cleric had said during that trip of his in 2013 that these Ahmadis are so sincere in their attachment to the Jama'at that they sacrifice their life, honour and time for the sake of the Jama'at. As I have mentioned, the clerics are full of malice and rancour especially in Pakistan and they go on expressing it here and there all the time. They are very envious when they witness our success. One extreme act of great violence occurred in Jehlum just recently. An Ahmadi owned chipboard factory was set on fire. They wanted the owner and the factory workers to be burned alive. But thank God they were not able to succeed in this nefarious goal. Nevertheless financial loss happened. They think by doig such things they can finish Ahmadiyyat or distance Ahmadis from their faith.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
20-Nov-2015   Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Baitul Ahad: The Japan Mosque
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا:الحمد ﷲ آج جماعت احمدیہ جاپان کو اپنی پہلی مسجد بنانے کی توفیق مل رہی ہے، اﷲتعالیٰ اس کی تعمیر کو ہر لحاظ سے بابرکت فرمائے اور اپ لوگ اس مسجد کے بنانے کے مقصد کو پورا کرنے والے ہوں، مسجد تو غیر از جماعت اور دوسرے مسلمان بھی بناتے ہیں اور لاکھوں کروڑوں ڈالر خرچ کر کے بہت خوبصورت مساجد بناتے ہیں ، یہاں جاپان میں گو جماعت احمدیہ مسلمہ کی یہ پہلی مسجد ہے لیکن ملک کی پہلی مسجد نہیں ہے ، کہا جاتا ہے کہ یہاں دوسرے مسلمانوں کی سو یا اس سے زیادہ مساجد ہیں ، پس صرف مسجد بنا لینا کوئی ایسی بات نہیں کہ ہم کہ سکیں کہ جاپان آنے کا ہمارا مقصد پورا ہوگیا۔ پس جاپان کی یہ مسجد جاپان میں رہنے والے احمدیوں پر ذمہ داری ڈال رہی کہ جہاں عبادتوں کے معیاروں کو پورا کریں وہاں تبلیغ کیلئے اپنے آپ کو تیار کریں ، ابھی افتتاح سے پہلی ہی میڈیا نے اس مسجد کی کافی کوریج بھی دے دی ہے اور ایک امن پسند اسلام کا تعارف اس حوالے سے پہلے ملک کے سامنے پیش کیا ہے، پس اس تعارف سے فائدہ اٹھا نا اب یہاں رہنے والے ہر احمدی کا کام ہے، جاپانیوں کیلئے مسجد تو کوئی نئی چیز نہیں ہے، یہاں کہا جاتا ہے کہ 100 کے قریب مساجد ہیں تو ہماری اس مسجد کے افتتاح کو اتنی اہمیت کیوں ، اس لئے کیونکہ عام مسلمانوں سے ہٹ کر اسلام کی تصویر ہم دکھاتے ہیں ، وہ حقیقی تصویر جو آنحضرت ﷺ نے دکھائی اور جس کے سکھانے کیلئے اﷲتعالیٰ نے آپؑ کے غلام صادق کو بھیجا ہے۔ ہر احمدی کو ہمیشہ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اپنے اعمال میں ترقی کر نے کی طرف توجہ دیتا چلا جائے، تبھی دنیا کو بھی اپنی طرف متوجہ کر سکیں گے،اور یہی چیز پھر اس تمکنت کا بھی باعث بنے گی جب حکومتیں بھی اس حقیقی تعلیم کے تابع ہو کر آنحضرتﷺ کی غلامی میں آئیں گی، پس بہت بڑے مقاصد کے حصول کی اﷲتعالیٰ حقیقی مسلمانوں کو خوشخبری دے رہا ہے لیکن ان مسلمانوں کو جو ظالم نہ ہوں بلکہ انصاف پر قائم ہوں، جو خدا تعالیٰ کو بھولنے والے نہ ہوں بلکہ اس کی عبادت کا حق ادا کرنے والے ہوں ، جو دوسروں کے حقوق غصب کرنے والے نہ ہوں بلکہ حقوق ادا کرنے والے ہوں۔ اﷲتعالیٰ کا یہ احسان ہے کہ اس نے زمانے کی ایجادات کو ہمارے تابع کر دیا، جماعت ہر سال لاکھوں ڈالر خرچ کرتی ہے ایم ٹی اے پر ، یہ تبلیغ اور تربیت کا بہترین ذریعہ ہے اور سب سے بڑھ کر خلیفہ وقت سے رابطے کا ذریعہ ہے ، ایک ماں نے حضرت خلیفۃ المسیح سے ملاقات میں ذکر کیا کہ بچوں کی تربیت کا انتظام نہیں ہے اور انتظام ہونا چاہئےتو بجائے اس کے کہ وہ مبلغ کو یا انتظامیہ کو مورد الزام ٹھئرائیں ، یہ سوچیں کہ ہفتہ میں چھ دن تو بچے ماں باپ کے پاس ہوتے ہیں یا سکول میں ہوتے ہیں ، ان کو گھر میں خلیفہ وقت کے پروگراموں کے سننے کی طرف توجہ دلائیں۔ مسجد کے کچھ کوائف بھی حضرت خلیفۃ المسیح نے پیش فرمائے، مسجد کی کل زمین کا رقبہ 1000 مربع میٹر ہے ، دو منزلہ عمارت ہے اور علاقے کی مین سڑک کے اوپر ہے ، یہ سڑک علاقے کی ساری بڑی سڑکوں کو آپس میں ملاتی ہے ، ہائی وے کی ایگزٹ کے قریب ہے اور دو ہائی ویز اس کے قریب ہیں، ریلوے سٹیشن قریب ہی ہے، اس ریلوے سٹیشن سے شہر کے ائرپورٹ تک سیدھی ٹرین جاتی ہے، مسجد کا نام بیت الاحد ہے، یہاں تبرک کیلئے مسجد مبارک قادیان اور دارلمسیح کی اینٹیں نسب ہیں ، عمارت کی پہلی منزل پر مسجد کا مین ہال ہے جہاں 500 سے زائد نمازیوں کی گنجائش ہے۔

Alhamdolillah, today Ahmadiyya Jama'at in Japan is enabled to have its first mosque inaugurated. May God bless this mosque in every way and may those who attend the mosque be able to fulfil all the objectives for which a mosque is made. Indeed, some beautiful mosques are also built by non-Ahmadis spending millions and hundreds of thousands of dollars. This is the first Ahmadiyya mosque in Japan but not the first mosque in the country, there are about 100 mosques in Japan. Simply having a mosque built does not fulfil our objective in Japan. The mosque in Japan puts responsibility on Ahmadis who live there as regards standards of their worship of God and tabligh. Media has given quite a bit of coverage to the opening of the mosque as presenting peaceful Islam. It is up to the Ahmadis in Japan to avail this introduction. Of course building of our mosque is nothing new in Japan. There are some 100 mosques in the country. The significance of our mosque is that unlike other Muslims we give true illustration of Islam. Every Ahmadi should be mindful to continue to focus on bettering our practice and this will continue to be a source of our Jama'at being firmly established and honoured and governments too will come under its umbrella and become subservient to the Holy Prophet(saw). This indeed is a great glad-tiding for true Muslims who are not oppressors, who are fair and just, who do not forget God, who worship Him and who do not usurp others, rather who fulfil rights of others. It is God's favour on us that we utilise modern inventions to our benefit. The Jama'at spends hundreds of thousands of dollar each year on MTA. It is a huge resource of tabligh as well as tarbiyyat and above all it is a means to be connected to Khalifa of the time. A mother recently complained about lack of Jama'at resources in Japan. Most of the week the children are either at school or at home with parents. When home parents should at least show them the programmes of Khalifa of the time. As regards facts and figures about the mosque the land it stands on is 1000 square metres. It has a ground floor and a first floor and is situated on a main road which is also a junction. It has exits to two highways close by. Also a close by is a train station from where direct trains run to Nagoya International Airport. As blessings bricks from Masjid Mubarak Qadian and Darul Masih Qadian were used in the mosque. Ground floor of the mosque has the main hall with the capacity for more than five hundred worshippers.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
13-Nov-2015   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Khalifatul Masih I
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا: حضرت خلیفۃ المسیح الاول ؓکو جو عشق اور محبت حضرت مسیح موعودؑ سے تھی ، اسے ہر وہ احمدی جس نے آپؑ کے بارہ میں کچھ کچھ نہ کچھ پڑھا ہو یا سنا ہو جانتا ہے، حضرت مسیح موعودؑ سے محض اﷲعقد اخوت اور محبت کی اگر کوئی مثال دی جاتی ہے تو حضرت حکیم نورالدین ؓ کی مثال ہے ، اقرار اطاعت کرنے کے بعد اگر اس کے انتہائی معیاری نمونے دکھا کر اس پر قائم رہنے کی مثال اگر دی جاسکتی ہے تو وہ حضرت مولانا نورالدین ؓکی ہے، تمام دنیاوی رشتوں سے بڑھ کر بیعت کا حق ادا کرتے ہوئے اگر کسی نے حضرت مسیح موعودؑ سے رشتہ جوڑا تو اس کی اعلیٰ ترین مثال حضرت خلیفۃ المسیح الاول ؓ کی ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ کے دعویٰ کے ابتدا میں ہی بعض ایسے لوگ آپؑ پر ایمان لائے جو کہ ذاتی جوہر کے اعتبار سے بہترین خدمات سرانجام دینے والے تھےاور اس کام میں آپ کی مدد کرنے والے تھے جو اﷲتعالیٰ نے آپ کے سپر دکیا تھا ، ان میں سے ایک حضرت خلیفۃ المسیح الاول ؓبھی تھے ، آپ نے حضرت مسیح موعودؑ کے دعویٰ سے قبل ہی آپؑ کی کتابیں پڑھنی شروع کیں، جب حضرت مسیح موعودؑ نے دعویٰ مسیحیت کیا تو نبوت کے متعلق تمام مضامین اپنی ابتدائی کتب فتح اسلام اور توضیح مرام میں بیان فرمائے، ایک شخص جو حضرت مسیح موعودؑ سے بغض رکھتا تھا اور اس نے ان کتابوں کے کچھ حصے چھپتے ہوئے دیکھے ،حضرت خلیفۃ المسیح الاول ؓ کو حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت سے ہٹا دینے کی غرض سے گیا۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعودؑ نے حضرت مولانا نورالدین ؓ سے فرمایا کہ جماعت کہ بڑھنے کا ایک ذریعہ کثرت اولاد بھی ہے ، اگر جماعت کے لوگ ایک سے زیادہ شادیاں کریں تو اس سے بھی جماعت بڑھ سکتی ہے، حضرت خلیفۃ المسیح الاول ؓ نے فرمایا کہ حضور میں تو آپؑ کا حکم ماننے کیلئے تیار ہوں لیکن اس عمر میں کوئی شخص مجھے لڑکی دینے کیلئے تیار نہیں ہوگا، اس پر حضرت مسیح موعودؑ ہنس پڑھے، حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں دیکھو یہ انکسار اور حضرت مسیح موعودؑ کا ادب تھا جس کی وجہ سے انہیں یہ رتبہ ملا۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ جب حضرت مسیح موعودؑ نےمیری اور حضرت مرزا بشیر احمدصاحب ؓ کی شادیوں کی تجویز فرمائی تو سب سے پہلے یہ سوال کرتے تھے کہ فلاں صاحب کے ہاں کتنی اولاد ہےوہ کتنے بھائی ہیں اور ان کے ہاں کتنی اولاد ہے، حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں جس جگہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ کی شادی کی تجویز ہوئی اس جگہ حضرت مسیح موعودؑ نے دریافت فرمایا کہ اس خاندان کی کس قدر اولاد ہے ، جب آپ کو معلوم ہوا کہ ان کے سات لڑکے ہیں تو آپ اور تمام باتوں پر غور فرمانے سے پہلے کہنے لگے بہت اچھا ہے، یہیں شادی کی جائے۔ آج جلسہ سالانہ ماریش کا آغاز ہو رہا اور ماریشس میں جماعت احمدیہ کو قائم ہوئے ایک سو سال ہو چکے ہیں ، اﷲتعالیٰ ان کا یہ جلسہ بھی ہر لحاظ سے بابرکت کرے اور یہ سو سال آئندہ نئی ترقیات کا پیش خیمہ ثابت ہوں، وہاں بعض فسادی لوگ بھی ہیں ، اﷲتعالیٰ ان سے بھی جماعت کو محفوظ رکھے اور ہر لحاظ سے ان کے جلسہ کو اور ان کے پروگراموں کو بابرکت فرمائے۔

Every Ahmadi who has read something about Hazrat Maulana Nur ud Din(ra) knows the ardent love he had for the Promised Messiah(as). If an example can be given of love for the Promised Messiah(as), a love that stems only for the sake of God, it can be the love of none other than Hazrat Maulana Nur ud Din(ra). His exemplary devotion encompassed the most excellent model after taking bai’at, fulfilment of the dues of bai’at and forging a connection, noteworthy devotion and humility. From the beginning when the Promised Messiah(as) made his claim people who served in excellent ways followed him. One of these people was of course Hazrat Maulana Nur ud Din(ra). He had of course started reading the Promised Messiah’s(as) books before he had made his claim. When the Promised Messiah claimed to be the Messiah, he wrote about the subject in his books ‘Fateh Islam’ and ‘Tauzeeh Maram’. While these books were still being published some ill-thinking individual saw their proofs and wanted to turn Hazrat Maulana Nur ud Din(ra), who had taken bai’at, against the Promised Messiah(as). Hazrat Musleh Maud(ra) writes that once the Promised Messiah(as) said to Hazrat Mualana Nur ud Din that one way of expanding our community was to have many children and for this purpose more than one marriage should be undertaken. Hazrat Mualana Nur ud Din most humbly said he was ready to obey the instruction but who would wed their daughter to him at his age. This made the Promised Messiah(as) laugh. Hazrat Musleh Maud(ra) said that when the Promised Messiah(as) was looking for matrimonial matches for him and his brother Hazrat Mirza Bashir Ahmad(ra) he would first ask how many children were there in the family and how many brothers did the father have. When looking for Hazrat Mirza Bashir Ahmad(ra) he asked the same question and when he was told that they have seven sons he gave this fact the foremost consideration and said the marriage should be arranged there. Today Jalsa Salana of Maurituis begins. They are celebrating their centenary. May their Jalsa be blessed in every way and may the past one hundred years herald new progress. May the Jamaat there make many new plans! There are some troublemakers in Mauritius, may God protect from them and may He bless the Jalsa and its programmes in every way.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
06-Nov-2015   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Sacrifice - A Prerequisite to Seek Love of God, Tehrik e Jadid New Year
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

آجکل کے مادی دور میں جب نئی ٹیکنالوجی نے دنیا کے مختلف ممالک میں رہنے والے انسانوں کو نہ صرف بہت قریب کر دیا ہے بلکہ اس ٹیکنالوجی اور معاشی نظام نے خواہشات کو بھی بہت بڑھا دیا ہے، قطع نظر اس کے کہ کسی کے پاس وافر دولت ہے یا نہیں ، خواہشات کی بھڑک اور روپیہ سے محبت اور اس کے حصول کیلئے کوشش انتہا کو پہنچی ہوئی ہے تاکہ ان تمام سہولتوں سے فائدہ اٹھایا جائے اور تمام عیاشی کی چیزوں تک پہنچ ہو جو دنیا میں کسی بھی ملک میں میسر ہیں ، اگر خدانخواستہ ان ملکوں کے حالات خراب ہوئے یا جنگ کی صورتحال ہوئی تو جو حالت یہاں کے رہنے والوں کی ہوگی وہ تصور سے باہر ہے۔ سیرالیون سے ہمارے مبلغ سلسلہ لکھتے ہیں کہ یہاں ایک جماعت میں ایک نابینا عورت رہتی ہے جنہوں نے تحریک جدید کے چندے کا وعدہ 2000 لیون لکھوایا ، جب چندہ کے حصول کیلئے ان کے پاس گئے تو انہوں نے کہا کہ مجھے چندہ کی ادائیگی کی فکر ہو رہی تھی مگر نابینا ہونے کی وجہ سے میرا ذریعہ آمدن اتنا نہیں کہ میں اچندہ ادا کرسکتی ، انہوں نے اپنی ایک بہن سے ادھار لےکر چندہ دینے کا ارادہ کیا لیکن بہن نے انکار کر دیا ، اس پر نابینا عورت فکرمند ہوئیں اور جو لوگ چندہ لینے آئے تھے ان سے کہا کہ آپ تھوڑی دیر بعد آئیں اور دعا میں مصروف ہوگئیں۔ ازبکستان کے ایک نئے احمدی دوست کہتے ہیں: میں ایک لمبے عرصے سے ماسکو میں مقیم ہوں اور معمول کے مطابق مجھے اندازہ ہوتا ہے کہ مجھے اس سال کتنی آمد ہوگی لیکن اس سال جب سے میں نے بیعت کی ہے اور چندہ دینا شروع کیا ہے ، میری آمدنی میں حیرت انگیز اضافہ ہوا ہے ، پچھلے تیرہ سال میں مجھے اتنی آمدنی نہیں ہوئی جتنی اس سال ہوئی ہےاور اب مجھے اس بات کا کامل یقین ہوگیا ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کی برکت ہے۔ کینیڈا کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ ایک دوست نے کاروبار شرع کیا اور ایک ہزار ڈالر کا وعدہ تحریک جدید میں لکھوایا، اس پر انہیں تحریک کی گئی کہ اگلے سال آپ نے اپنا وعدہ بڑھا کر کم از کم پانچ ہزار ڈالر لکھوانا ہے نیز حضرت خلیفۃ المسیح کو دعا کیلئے خط بھی لکھتے رہیں، اﷲتعالیٰ آپ کو وعدہ پورا کرنے کی توفیق دے، چنانچہ سال کے اختتام پر جب سیکرٹری صاحب مال چندہ کی وصولی کیلئے ان کے پاس گئے تو کہنے لگے اﷲتعالیٰ نے میرے کاروبار میں بہت برکت ڈالی ہے اور میں اسی سا ل پانچ ہزار ڈالر ادا کروں گا اور مزید کوشش کروں گا اگلے سال چندہ بڑھانے کی۔ اﷲتعالیٰ کے فضل سے تحریک جدید کا 82 واں سال شروع ہو گیا ہے، جو رپورٹس آئیں ہیں اب تک اس سال تحریک جدید کے مالی نظام میں کل وصولی 9،217،800 پاؤنڈ ہوئی ہے ، یہ وصولی گزشتہ سال کی نسبت 747،000 پاؤنڈ زیادہ ہے، پاکستان نے مخدوش حالات کے باوجود اﷲتعالیٰ کے فضل سے اپنی قربانی کے معیار پر قائم ہیں اور ان کا نمبر پہلا ہی ہے، اس کے بعد باہر کے ممالک میں جرمنی پہلے نمبر پر ہے ، پھر یوکے ، امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا، ہندوستان، مشرق وسطیٰ کی ایک جماعت،انڈونیشیا، مشرق وسطیٰ کی ایک جماعت،گھانا اور سوئٹزرلینڈ کا گیارہواں نمبر ہے۔

In this day and age when technology has not only brought the world together but along with the prevalent financial system technology has facilitated to heighten personal wishes whether or not an individual has copious means. These wishes have reached fever-pitch; to have access to every luxury item wherever in the world it is available; this is particularly so in the developed world. If God forbid the situation in the developed world was to deteriorate or they faced war, the people here would be in an unthinkable state. This is an incidental remark. Our missionary from Sierra Leone writes that a blind lady had promised Leone 2000 for Tehrik e Jadid. She was worried that owing to her disability her income was not much and fulfilling the promised amount was difficult but she had made the pledge and wanted to pay. She thought to take a loan for the purpose from a non-Ahmadi sister, but she refused because she felt the lady would not be able to pay back. When they went to collect Chanda from her, the lady asked if they could come another time. An Uzbek new Ahmadi says that he has been living in Moscow for a very long time and has always had an idea what his income would be. However, since he did bai'at and started paying Chanda his income has increased so exponentially that he had not earned in the last thirteen years what he has earned this year. He has perfect belief that this is due to the blessings of spending in the way of God. Ameer Sahib of Canada writes that an Ahmadi started his own business and pledged $1000 for Tehrik e Jadid. He was advised that he should pledged at least $5000 the next year and was also advised to write to Hazrat Khalifatul Masih for prayers. When it was time for him to pay at the end of the year he said his business had done very well and he wished to pay $5000 for the first year and would try to increase it in future. With the grace of God this is the start of 82nd year of Tehrik e Jadid. According to reports received thus far the total contributions for last year stand at £ 9,217,800.00. This is an increase of £747,000.00 from the year before. In spite of unfavourable circumstances Pakistan has maintained its spirit of sacrifice and is first among all countries. Outside Pakistan following is the order of the first ten countries this year: Germany, UK, USA, Canada, Australia, India, Middle Eastern country, Indonesia, Middle Eastern country and Ghana. Switzerland is number 11 this year.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
30-Oct-2015   Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Khalifatul Masih II: Pearls of Wisdom
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Indonesian | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں: لوگوں کو بڑی جلدی ہوتی ہے بددعا کرنے کی، ہمارا یہی اصول ہونا چاہئے کہ ہم کسی کیلئے بدد دعا نہ کریں بلکہ ہمیں اپنے مخالفین کیلئے دعا کرنی چاہئے ، آخر انہوں نے ہی ایمان لانا ہے، مولوی عبدالکریم صاحب ؓفرمایا کرتے تھے کہ میں چوبارہ میں رہتا تھا اور حضرت مسیح موعودؑ مکان کے نچلے حصے میں رہا کرتے تھے، ایک دفعہ مجھے مکان کے نچلے حصے سے اس طرح رونے کی آ واز آئی جیسے کوئی عورت درد زہ کی وجہ سے چلاتی ہو، جب میں نے غور سے سنا تو پتہ چلا کہ حضرت مسیح موعودؑ کام کر رہے ہیں اور کہ رہے ہیں کہ اے خدا طاعون پڑی ہوئی ہے اور اس کی وجہ سے لوگ مر رہے ہیں، اے خدا اگر یہ سب لوگ مر گئے تو تجھ پر ایمان کو ن لائے گا۔ ایک دفعہ ایک سکھ طالب علم نے جو حضرت مسیح موعودؑ سے اخلاص کا تعلق رکھتا تھا ، اس نے حضرت مسیح موعودؑ کو کہلا بھیجا کہ پہلے مجھے خدا پر یقین تھا لیکن اب میرے دل میں اس کے متعلق شکوک بڑھنے لگے ہیں، حضرت مسیح موعودؑ نے اسے کہلا بھیجا کہ کالج میں تم جہاں بیٹھتے ہو اس سیٹ کو بدل دو، چنانچہ اس نے جگہ بدل لی اور بتایا کہ اب خداتعالیٰ کے بارہ میں کوئی شک پیدا نہیں ہوتا ، جب یہ بات حضرت مسیح موعودؑ کو سنائی گئی تو آپؑ نے فرمایا اس پر ایک شخص کا اثر پڑ رہا تھا جو اس کے پاس بیٹھتا تھا اور وہ دہریہ تھا ، جب جگہ بدلی تو اس کا اثر پڑنا بند ہو گیا۔ ایک گاؤں میں تین مولوی تھے اور اس گاؤں کے لوگ کہتے تھے کہ ان تینوں میں سے کوئی حضرت مرزا صاحب ؑکو مان لے تو ہم سب کے سب مان لیں گے، ان میں سے ایک مولوی پر اﷲتعالیٰ نے فضل کیا اور اس نے بیعت کر لی تو سب لوگوں نے کہ دیا ایک نے مان لیا تو کیا ہوا اس کی تو عقل ماری گئی ہے، پھر ایک اور مولوی نے بیعت کر لی ، پھر مخالفین نے یہی کہا کہ ان مولویوں کا کیا ہے یہ تو بیوقوف لوگ ہیں ، ایک مولوی نے ابھی بیعت نہیں کی اس لئے ہم نہیں مانتے تو ایسے واقعات ہمیشہ ہوتے رہتے ہیں۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں: حضرت مسیح موعودؑ ایک واقعہ سنایا کرتے تھے کہ حضرت میر محمد اسماعیل صاحبؓ کے ساتھ ایک دہریہ پڑھا کرتا تھا ، ایک دفعہ زلزلہ آیا تو اس کے منہ سے بے اختیار رام رام نکل گیا ، پہلے ہندو تھا دہریہ ہو گیا ، تو پیر صاحب نے جب اس سے پوچھا کہ تم تو خدا کے منکر ہو تو پھر تم نے رام رام کیوں کہا، کہنے لگا غلطی ہوگئی مگر اصل بات یہ ہے کہ دہریہ جہالت پر ہوتے ہیں اور خداتعالیٰ کے ماننے والے علم پر، اس لئے مرتے وقت یا خوف کے وقت دہریہ کہتا ہے کہ ممکن ہے کہ میں ہی غلطی پر ہوں۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں : ہماری بعض معاملات میں ناکامیاں اور دشمنوں میں اس طرح گھرے رہنا اس لئے ہے کیونکہ ہمارا ایک حصہ ایسا ہے جو دعاؤں میں سستی کرتا ہےاور بہت سے ایسے ہیں جو دعا کرنا بھی نہیں جانتےاور ان کو یہ بھی نہیں پتہ کہ دعا کیا ہے، دعا موت قبول کرنے کا نام ہے اور آپؑ فرمایا کرتے تھے جو منگے سو مر رہے، جو مرے سو منگن جائے، یعنی کسی سے سوال کرنا یا مانگنا ایک موت ہےاور موت وارد کئے بغیر انسان مانگ نہیں سکتا، جب تک وہ اپنے اوپر ایک قسم کی موت وارد نہیں کر لیتا وہ مانگ نہیں سکتا کیونکہ جو شخص جانتا ہے کہ میں یہ کام کر سکتا ہوں وہ کب کسی کو مدد کیلئے پکارتا ہے۔

Hazrat Musleh Maud(ra) said people are quick to pray against others whereas our principle should be to pray for people and not against them. Hazrat Maulawi Abdul Karim related that he lived upstairs at the residence of the Promised Messiah(as). One night he heard the sound as if a woman was in the throes of childbirth. When he listened closely he realised it was the Promised Messiah(as) engaged in impassioned prayer saying, O God, people are dying of the plague! O God, if they all die who would believe in You! A Sikh student had a very sincere and faithful connection with the Promised Messiah(as). He sent a message to the Promised Messiah(as) that although he used to believe in the existence of God, he was developing some doubts. The Promised Messiah sent him a message in response asking him to change where he sat in college. The student did this and sent a message that his doubts were gone. The Promised Messiah(as) explained that the student was under the influence of an atheist. Once he changed where he sat the influence was gone. There were three maulawis in a village and the village people said if any one of these accepted Mirza Sahib we would also accept him. One of the three maulawis accepted Ahmadiyyat and took bai'at but the villagers said so what if just one of them has accepted? He has lost his senses. Later, the second maulawi accepted Ahmadiyyat and took bai'at but the villagers said they were both foolish and maintained that one maulawi had still not accepted and neither did they. Hazrat Musleh Maud(ra) said that the Promised Messiah(as) used to relate that during his student years Hazrat Mir Muhammad Ismael Sahib had an atheist in his class. One day an earthquake struck and the atheist involuntarily uttered 'Ram Ram'. He must be of Hindu background. Mir Sahib asked him why he uttered Ram Ram as he did not believe in God. The boy said he had made a mistake. The Promised Messiah(as) said: Our failure in certain matters and to be surrounded by enemies is only because a section of us is indolent about prayer and there are many who do not know how to pray and who do not even know what payer is. Prayer is the name of accepting death. Asking someone for something is a death and man cannot ask without assuming death. Prayer means man assumes a kind of death upon himself because a person who knows he can do something on his own does not call on anyone for help!

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
23-Oct-2015   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bulgarian (mp3)German (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Turkish (mp3)

Title: Proclaim the bounties of Allah: Tour of Holland and Germany 2015
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا: یہ خداتعالیٰ کا فضل و احسان ہے کہ ہر سفر میں اپنی تائید و نصرت کے نشانات دکھاتا ہے ، بعض دفعہ فکر ہوتی ہے کہ بعض جماعتیں بعض پروگرام بنانے میں تجربہ نہیں رکھتیں اور ایسے پروگرام بنا لیتی ہیں جو جماعت کے اپنے پروگرام نہیں ہوتے بلکہ غیروں کے ساتھ پروگرام ہوتے ہیں اور جو غیروں کے ساتھ پروگرام ہوں ان کو ان ذرائع کے ذریعے سے جو غیروں کے ہیں مشتہر بھی کرنا پڑتا ہے اور اس وجہ سے یہ فکر بھی ہوتی ہے کہ جماعت مخالف کچھ شرارتی عنصر پروگرام میں بد مز گی پیدا نہ کریں۔ ہالینڈ کے سابق وزیر دفاع بھی اس تقریب میں شامل ہوئے ، فنکشن کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح کے ساتھ بڑی دیر تک بیٹھے رہے اور باتیں کرتے رہے ، انہوں نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے پیغام سے اسلام کے حقیقی چہرہ کو دیکھنے کا موقع ملا ہےاور اب یہ خواہش ہےکہ آپ بار بار ہالینڈ آئیں تاکہ لوگوں کے دل سے اسلام کا ڈر نکل جائے، پھر کہتے ہیں کہ پارلیمانی کمیٹی کے سوالات پر آپ کے جوابات کسی بھی مناسب سوچ رکھنے والے شخص کی آنکھیں کھول دینے کیلئے کافی تھے۔ یونیورسٹی آف ایمسٹرڈیم کے ایک پروفیسر جو بدھ ازم اور اسلام اور دیگر مذاہب کے ماہر ہیں ، انہوں نے اپنے خیالات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ امام جماعت احمدیہ نے اسلام کی امن کی تعلیم کا جس واضح انداز میں ذکر کیا ہے ، اس س ے مجھے اس بات کا اندازہ ہوا ہے کہ ہمارے انٹر فیتھ ڈائیلاگ کے پروگراموں میں جماعت کی نمائندگی ناگزیر ہے ، اب جماعت کو ہمارے پروگراموں میں ضرور شریک ہونا چاہئے تاکہ اسلام کی اصل اور حقیقی تعلیم ہمارے سامنے آ سکے۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے نورڈھم میں ہالینڈ سے جرمنی جاتے ہوئے مسجد کا سنگ بنیاد رکھا ، وہاں ایک ٹی وی چینل نے انٹرویو بھی لیا، خبر بھی دی اس کی، ایک سابق میئر بھی وہاں آئے ہوئے تھے، فنکشن کے بعد کہنے لگے کہ میں نے اپنے ساتھیوں کو کہ دیا ہے کہ اس اتوار کو ہمیں چرچ جانے کی ضرورت نہیں، کیونکہ جو ہمارے لئے ضروری تھا وہ ان کے خلیفہ نے کہ دیا ہےتو اس طرح بھی بعض لوگ اظہار خیال کرتے ہیں، اﷲتعالیٰ حقیقت میں بھی ان کے دل کھولے۔ جامعہ احمدیہ جرمنی کی بھی پہلی کلاس سات سال میں اپنا کورس پورا کر کے پاس ہوئی ہے، سولہ مبلغین تیار ہوئے ہیں وہاں اور ان کا سالانہ کنوکیشن بھی تھا ، اصل مقصد تو جرمنی جانے کا یہی تھا، 2008 میں شروع ہوا تھا جامعہ ، بیت الصبوح کی چھوٹی سی بلڈنگ کے چند کمروں میں اور اب انہوں نے اﷲتعالیٰ کے فضل سے جامعہ کی عمارت تعمیر کی ہے جس میں ساری سہولیات ہیں ، اچھی خوبصورت عمارت ہے، کانوکیشن بھی اﷲتعالیٰ کے فضل سے اچھا رہا، اﷲتعالیٰ ان فارغ ہونے والے مربیان کو صحیح رنگ میں خدمت دین کی توفیق بھی عطا فرمائے اور وفا کے ساتھ اپنے وقت کو نبھانے کی توفیق بھی دے۔ محترم مرزا اظہر احمد صاحب ابن حضرت مصلح موعودؓ کی وفات۔

It is Allah's Favour upon us that in all tours Allah, the Exalted, shows Signs of His Help and Power. Sometimes one worries that certain Jama'ats don't have the required experience to organize certain types of events and sometimes make such programs as are not the Jama'ats own programs but are carried out jointly with others. Such programs obviously need to be advertised in the manner that the others participating in the program are accustomed to do. Holland's previous Minister of Defence also participated in this event. He met me and sat with me after the event for a lengthy period of time and kept discussing various things with me. While expressing his feelings about the event he said that having listened to your message I have seen the true face of Islam. He said that now I wish that you come to Holland repeatedly so that the fear that people have in their hearts of Islam is dispelled. A Professor from the University of Amsterdam who is an expert on Buddhism, Islam and other religions said that the clear manner in which the Imam of the Ahmadiyya Muslim Jama'at has made mention of the teachings of peace taught by Islam has made it clear to me that they must inevitably become part of our interfaith dialogues. And from now on this will be so, so that we can witness a true picture of Islam. Foundation stone was laid of Nordhorn mosque on my way to Germany from Holland. I was interviewed by a tv channel and also aired news of the event. A former Mayor had also come there and he said after the function that he had told his colleagues that we don't have to visit church this week on Sunday because all that was necessary for us has been said by their Khalifa. So there are people who also express their ideas in this manner. Jamia Ahmadiyya Germany First batch also had their convocation. 16 Missionaries passed after completing their seven years of study. This was the main purpose of visiting Germany. Jamia was started in 2008 in a small building. Now they have a full building with all needed facilities. The buildings are quite beautiful. The convocation also went well. May Allah enable the missionaries to fulfill their dedication in the proper manner. Aameen. Death of Respected Mirza Azhar Ahmad Sahib, son of Hazrat Musleh Maud (ra).

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
16-Oct-2015   Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: IslamAhmadiyya - Success and Rapid Progress
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Persian | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

گزشتہ دنوں جب حضور ہالینڈ میں تھے تو ایک صحافی نے حضور سے سوال کیا کہ کیا جماعت احمدیہ سب سے زیادہ بڑھنے والی جماعت ہے دنیا میں ، حضور نے ان سے فرمایا کہ اگر ایک بین الاقوامی جماعت کی حیثیت سے دیکھیں تو یقینا جماعت احمدیہ سب سے زیادہ ترقی کرنے والی جماعت ہے اور اب تو یہ بات غیر بھی مانتے ہیں اور یہی حضرت مسیح موعودؑ کی سچائی کی بہت بڑی دلیل ہےکہ ہندوستان کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے اٹھنے والی آواز آج دنیا کے ہر شہر اور گاؤں میں گونج رہی ہے اور پھر اس کی امتیازی شان اس وقت اور بھی نمایاں ہو جاتی ہے جب یہ دنیا میں جانی اور پہچانی جاتی ہے۔ آجکل ہم اس دور سے گزر رہے ہیں جب سلسلہ احمدیہ دنیا میں پھیل رہا ہےاور یہ تدریجی ترقی دنیا کو اب نظر بھی آرہی ہےتبھی تو اس صحافی نے مجھ سے پوچھا تھا کہ کیا یہ جماعت دنیا میں سب سے زیادہ پھیلنے والی جماعت ہےاور کئی اور جگہ غیر یہ سوال بھی کرتے ہیں اور اعتراف بھی کرتے ہیں کہ جماعت احمدیہ بڑی تیزی سے ترقی کرنے والی جماعت ہے، گو ابتلا بھی ساتھ ساتھ چل رہے ہیں لیکن اگر دشمن کی نیت اور کوشش کو دیکھیں تو یہ ابتلا کچھ بھی نہیں اور پھر چاہے وہ ابتلا کسی احمدی پر احمدیت کی وجہ سے ذاتی ہو یا بعض جگہ پوری جماعت اس ابتلا میں سے گزر رہی ہو، ہر ابتلا ء پہلے سے بڑھ کر اﷲتعالیٰ کی تائیدات اور جلسے دکھاتا ہے، ہر احمدی جو ان ممالک میں پاکستان سے آیا ہے، اگر اسکے اندر شکر گزاری کااحساس ہو تو اس بات سے انکار نہیں کرسکتا کہ یہاں آکر اﷲتعالیٰ نے اس پر کس قدر فضل فرمائے۔ کیرالہ ہندوستان سے ایک دوست کو ایک خواب کے ذریعہ احمدیت قبول کرنے کی توفیق ملی، موصوف کو ٹی وی پر ایم ٹی اے دیکھنے کا موقع ملا، ان کی دلچسپی بڑھتی گئی ، انہوں نے ایک پیر صاحب کی بیعت کی ہوئی تھی ، کچھ عرصہ ایم ٹی اے دیکھنے کے بعدانہوں نے خواب میں دیکھا کہ مزار حضرت مسیح موعودؑ کی زیارت کر رہے ہیں وہاں انہوں نے فوت شدہ پیر صاحب کو بھی زیارت کرتے ہوئے دیکھا ، اس خواب کے بعد انہوں نے بیعت کیلئے اصرار کیا ، ان کو مطالعہ کا کہا گیا پھر یہ قادیان بھی پہنچ گئے اور وہاں جا کر بیعت کر لی۔ مصر سے ایک صاحب کہتے ہیں کہ میں نے 2004 میں ایک خواب دیکھا تھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ ایک جگہ آرام کر رہے ہیں ، میں ان کے ساتھ بیٹھا ہوں اور وہ مجھے کہتے ہیں تمہیں اس معاملے میں تحقیق کرنی چاہئے ، ان کواس وقت تک سمجھ نہیں آئی اور انہوں نے کبھی حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒکو دیکھا بھی نہیں تھا ، خواب کے چار سال بعد میں نے ایم ٹی اے دیکھا اور تحقیق کرنے لگا، اس طرح خداتعالیٰ نے مجھے ہدایت دی،کہتے ہیں نومبر 2014 میں میں نے بیعت کرنے سے پہلے خواب میں دیکھا کہ میں ایک مسجد میں داخل ہوا ہوں جو نمازیوں سے بھر ی ہوئی ہے، حضرت مسیح موعودؑ جلوہ نشین ہیں اور میری طرف دیکھ رہے ہیں ۔ پس ہمیں اپنا جائزہ لینا چاہئے کہ کیا حضرت مسیح موعودؑ کی اس تعلیم کے مطابق ہمارےعمل اور سوچیں ہیں، اگر نہیں تو فکر کرنے کی ضرورت ہےکہ کہیں بعد میں آنے والی قومیں ترقی کر کے ہم سے بہت آگے نہ نکل جائیں کہ ہمیں جب احساس ہو کہ ہماری نسلیں پیچھے رہ رہیں ہیں تو پھر دہائیاں ان فاصلوں کو پورا کرنے میں لگ جائیں ، اگلی نسلوں کو اگلی نسلوں کو سنوارنے میں وقت لگ جائے ، کہیں اس دنیا میں ڈوب کر ہماری نسلیں بہت پیچھے نہ چلی جائیں ، نمازیں ادا کرنا بہت ضروری ہے، نئے آنے والے ان انعامات کا وارث بن کر جن کا حضرت مسیح موعودؑ سے اﷲتعالیٰ کا وعدہ ہے ، اپنے مقام کو ہم سے بہت بلند کر لیں، حضرت مسیح موعودؑ کے ان الفاظ پر بہت غور کر نے کی ضرورت ہے اور ان پر غور کر نا ہر احمدی کا فرض ہے۔

During his recent trip to Holland, a journalist who writes for a regional newspaper and is also published in national papers, asked Hazrat Khalifatul Masih if Jama'at Ahmadiyya was the fastest growing community in the world. Huzoor replied to him that on an international level indeed our community was growing the most. This is also now acknowledged by others and it is indeed a great testimony of the truthfulness of the Promised Messiah(as) that a voice that started in a small town of India is now resounding in every city and town around the world. The world is witnessing our gradual progress and that is why the journalist put the question to Hazrat Khalifatul Masih. Others too put this question and acknowledge our progress. Indeed, we are facing trials as well. However, these trials, whether personal or communal, are accompanied with signs of Divine succour more than ever. Every Pakistani who has come to the West from Pakistan and who has a sense of gratitude will not deny that God has blessed him a lot after migration. A person in Kerala, India was enabled to take bai'at some months ago through a dream. Later he had the opportunity to watch MTA and his interest grew. He had taken the bai'at of a Pir at the time. A couple of months after watching MTA he had a dream that he is at the tomb of the Promised Messiah(as) and his deceased Pir is with him. Following this the person insisted on taking bai'at although he was told twice to further read up on Ahmadiyyat. He ended up travelling to Qadian and took bai'at while there. A person from Egypt had a dream way back in 2004. He saw that he is present with Hazrat Khalifatul Masih IV(rt) who is relaxing and says to him, you must find out about this matter. The person did not understand the dream, he had never seen Hazrat Khalifatul Masih IV(rt). Some four years later he happened to watch MTA and went on to do some research. God guided him. In November 2014 prior to taking bai'at he saw a dream that he is in a mosque full of worshippers graced by the Promised Messiah(as) who is looking at him. If we do not have congruity in our word and deed it is a cause for concern. People who have joined later on will surpass us and we will be left behind and it will take decades to bring our generations back into form. It is important to offer Salat with understanding. We do not want our next generation to be left so far behind that the newcomers raise their standards so high that they are the recipients of the blessings that have been promised to the Promised Messiah(as). Ponder over these words of the Promised Messiah, it is the obligation of every Ahmadi.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
09-Oct-2015   Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Tamil (mp3)

Title: The Essence of being a true Ahmadi Muslim
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

یہاں احمدیوں کی اکثریت ان لوگوں کی ہے جو پیدائشی احمدی ہیں یا وہ لوگ جن کے گھر میں انتہائی بچپن میں احمدیت آئی اور وہ احمدی ماحول میں پلے بڑھےاور ان میں سے بھی اکثریت پاکستانیوں کی ہے، جن کو اس ملک میں اس لئے رہنے اور یہاں کا شہری بننے کی اجازت ملی کہ آپ نے یہاں آکر اس بات کا اظہار کیا کہ پاکستان میں آزادانہ طور پر اپنے مذہب کے مطابق، اسلامی تعلیمات کے مطابق اظہار اور عمل کی اجازت نہیں تھی یا نہیں ہے، کچھ ایسے بھی ہونگے جن پر براہ راست مقدمے بھی بنے ہوں۔ انسان کسی بھی کام کو یا تو اپنے فائدے یا مفاد کیلئے کرتا ہے یا اگر مرضی کا کام نہیں ہے تو اکثر خوف کیلئے بھی کرتا ہے ، مجبوری ہے نہ کیا تو پوچھا بھی جائے گا اور ہوسکتا ہے سزا بھی مل جائے یا محبت اور اخلاص اور وفا کے جذبے کے تحت کرتا ہے ، اکر دین کا صحیح فہم و ادراک ہو تو دین کے کام انسان صحیح محبت اخلاص و وفا کے جذبے کے تحت ہی کرے گا، پس حضرت مسیح موعودؑ نے ہم سے یہ توقع رکھی ہے کہ آپؑ کی بیعت میں آکر اس جذبے کو بڑھائیں ،جب تک یہ جذبہ اطاعت و خلوص اور تعلق پیدا نہیں ہوگا ، جو نصائح کی جاتی ہیں ان کا بھی اثر نہیں ہوگا، کیا کوئی احمدی یہ تصور کر سکتا ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے کو ئی بات قرآن سنت کے منافی کی ہوگی؟ یقینا نہیں۔ جو لوگ ذرا ذرا سی بات پر غصہ میں آجاتے ہیں انہیں خود ہی اپنی حالتوں پر غور کر نا چاہئےکہ وہ بھی تقویٰ سے دور ہو رہے ہیں، اگر ہم حضرت مسیح موعودؑ کے ان نصائح پر غور کریں تو یہ چیزیں ہمیں حضرت مسیح موعودؑ سے محبت میں بڑھاتی ہیں، کس طرح اور کس درد کے ساتھ آپؑ کو ہماری دنیا و عاقبت کی فکر ہے، ایک باپ سے زیادہ آپ ہمارے لئے فکر مند ہیں، ایک ماں سے زیادہ آپؑ ہمارے لئے بے چین ہیں ، بار بار ہمیں نصیحت فرمائی تاکہ کسی طرح ہمیں برے راستوں سے نکال کر خدا تعالیٰ کی رضا کی راہوں پر ڈال دیں ۔ خلیفہ وقت کے ہاتھ پر بھی ہر احمدی عہد بیعت باندھتا ہے، پس اس عہد کو نبھانا بھی ضروری ہےاور اس کیلئے خلافت کی طرف سے جو ہدایات آتی ہیں، جو نصائح کی جاتی ہیں ان پر عمل کر کے ہی اس عہد کو پورا کیا جاسکتا ہے، بیعت کے وقت ہر احمدی یہ وعدہ کرتا ہے کہ شرائط بیعت کی پابندی کرے گااور خلیفہ وقت جو بھی معروف فیصلہ کریں گے اس کی پابندی کرے گا،خلیفہ وقت کا کام بھی حضرت مسیح موعودؑ کے کام اور نصائح کو آگے پھیلانا ہے۔ اس زمانے میں احمدی خوش قسمت ہیں کہ جہاں اﷲتعالیٰ نے جدید سہولتیں اور ایجادات پیدا فرمائیں وہاں احمدیوں کو بھی ان سے نوازا ، دین کی اشاعت کیلئے بھی جماعت کو یہ سہولت مہیافرمائیں، ٹی وی انٹرنیٹ ویب سائٹس وغیرہ پہ جہاں آج حضرت مسیح موعودؑ کا پیغام موجود ہے، جن پر ہم جہاں چاہیں پہنچ سکتے ہیں، مختلف زبانوں میں ان کو دیکھ اور سن سکتے ہیں ، خلیفہ وقت کے خطابات اور نصائح کو بھی پڑھ اور سن سکتے ہیں جو قرآن حدیث اور حضرت مسیح موعود ؑ کے کلام پر مشتمل ہوتاہےاور انہی پر بنیاد ہے اس کی جو آج دنیا میں ایم ٹی اے کی وجہ سے ہر جگہ پہنچ رہا ہے۔ مربی حافظ محمد اقبال وڑائچ صاحب کی وفات۔

Majority of Ahmadis here are either those who were born as Ahmadis or those whose families accepted Ahmadiyyat when they were very small children and as such they grew up in Ahmadi environment. Also, most of these people are of Pakistani origin who live here and have been granted citizenship of this country because upon their arrival here they reported that they were/are not allowed freedom of religion according to the teachings of Islam in Pakistan. Man acts for gain or out of fear, fear of answerability or out of love and sincerity. Those who have correct insight of faith will follow it for love and loyalty. The Promised Messiah(as) expected us to enhance this sentiment after taking Bai'at. If this sentiment is not there any advice given will have no impact. Can any Ahmadi even imagine that anything the Promised Messiah(as) said would be contrary to the Holy Qur'an and Sunnah? Most certainly they would not. Those who are this way inclined should ponder over their condition. If we keep these words of advice of the Promised Messiah(as) in view and reflect and ponder over them, they increase our love and bond with him. Indeed, he agonised over the spiritual state of his Jama'at, he was more anxious than mothers and fathers in this regard and repeatedly advised us in order to take us away from the wrong path and put us on the right path. Ahmadis pledge Bai'at on the hand of the Khalifa of the time and it also important to fulfil this pledge. Therefore, advice, instructions and programmes issued by Khilafat should be implemented in order to fulfil this pledge. Every Ahmadi pledges at the time of Bai'at to abide by the conditions of Bai'at and obey the Khalifa of the time in everything good. The task of Khilafat e Ahmadiyya is to further the task of the Promised Messiah(as). It is God's great favour that the Jama'at is enabled to utilise modern technology, TV and the internet for propagation of faith. The written works of the Promised Messiah(as) are widely available on our web site and can be accessed whenever one wants. It is also translated in major languages of the world. Likewise, advice of the Khalifa of the time can also be heard and read and is based on the Holy Qur'an, hadith and writings of the Promised Messiah(as). Death of Missionary Hafiz Muhammad Iqbal Warraich Sahib.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
02-Oct-2015   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: The Essence of Trials and Tribulations
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ مصیبتوں کو برا نہیں ماننا چاہئے کیونکہ مصیبتوں کو برا سمجھنے والا مومن نہیں ہوتا،اﷲتعالیٰ فرماتا ہے اور ضرور ہم تمہیں کچھ خوف اور کچھ بھوک اور کچھ اموال اور جانوں اور پھلوں کے نقصان کے ذریعہ آزمائیں گےاور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دیدے، فرمایایہی تکلیف جب نبیوں پر آتی ہے تو ان کو انعام کی خوشخبری دیتی ہےاور یہی تکلیف جب بدوں پر آتی ہے توان کو تباہ کر دیتی ہے، غرض مصیبت کے وقت انا ﷲو انا الیہ راجعون پڑھنا چاہئے تاکہ تکالیف کے وقت خداتعالیٰ کی رضا طلب کرے ۔ بعض لوگ اﷲتعالیٰ پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ ہماری دعا کو قبول نہیں کرتا یا اولیا لوگوں پر طعن کرتے ہیں کہ ان کی فلاں دعا قبول نہیں ہوئی ، فرمایا کہ وہ نادان اس قانوں الٰہی سے محض نا آ شنا ہوتے ہیں ، جس انسان کو خدا سے ایسا معاملہ پڑا ہو گا وہ خوب اس قاعدے سے آگاہ ہو گا، اﷲتعالیٰ نے مان لینے کے اور منوانے کے دو نمونے پیش کئے ہیں ، انہی کو مان لینا ایمان ہے ، تم ایسے نہ بنو کہ ایک ہی پہلو پر زور دو، ایسا نہ ہو کہ تم خدا کی مخالفت کر کے اس کے مقرر کردہ قانون کو توڑنے کی کوشش کرنے والے بنو۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں : مشکلات پر صبر کرنے والے اﷲتعالیٰ کے بے حد ثواب کے وارث بنتے ہیں ، پس ایک مومن کو صبر کے معنی سمجھنے کی ضرورت ہے، صبر کے معنی یہ ہیں کہ کسی نقصان اور تکلیف کو اپنے اوپر اتنا وارد نہ کر لے کہ ہوش و ہواس کھو دے او رمایوس ہو کر بیٹھ جائے اور اپنی عملی طاقتوں کو استعمال میں نہ لاوے، ایک حد تک افسوس بھی ٹھیک ہےکسی نقصان پر لیکن اس کے ساتھ ہی ایک نئے عزم کیساتھ اگلی منزلوں پر قدم مارنے کیلئے پہلے سے بڑھ کر کوشش کا عزم اور عملی ضرورت ہے، پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ صبر کرنے والے کو ہی دعا کی حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ مسجد بیت الفتوح کے ساتھ واقع دو ہالوں میں آگ کی وجہ سے بڑا تقصان ہوا ہے ، بڑی خوفناک آگ تھی، اس پر جب ٹی وی چینلز اور دوسرے میڈیا نے خبر دی ہے تو بعض بغض اور کینہ میں بڑھے ہوئے لوگوں نے بڑی خوشی کا اظہار کیا کہ اچھا ہوا یہ مسجد جل رہی ہے بلکہ وہ تو یہ کہتے ہیں کہ یہ مسجد ہے ہی نہیں ، کیونکہ یہ مسلمان نہیں ہے اس لئے جو بھی ان کی عبادت کی جگہ ہے وہ جل رہی ہے، اور پھر افسوس کا جو اظہار کیا ان لوگوں نے وہ اس بات پر نہیں کہ کیوں حصہ جلا بلکہ اس بات پر افسوس کیا کہ ان کے صرف دو ہال کیوں جلے ہیں پوری مسجد کیوں نہیں جلی، تو یہ تو آجکل کے بعض مسلمانوں کا حال ہے لیکن سارے ایسے نہیں ہے۔ اﷲتعالیٰ نے جانی تقصان سے بھی محفوظ رکھا ، ایک صاحب لائبریری میں بیٹھے کام کر رہے تھے ، ان کو پتہ نہیں چلا کہ کیا ہو رہا ہے باہر، اپنا کام ختم کر کے جب دروازہ کھول کے کہتے ہیں جب میں باہر نکلا تو کالے دھوئیں کا ایک بگولا اندر داخل ہوا ہے، پریشانی کے عالم میں باہر نکلا لیکن کالے دھوئیں کی وجہ سے کچھ نظر نہیں آ رہا تھا، سانس رکنا شروع ہوگیا ، مشکلوں سے انہوں نے گلی کو دیوار کو ٹٹولا اور اس کیساتھ ساتھ چلنا شروع کیا، ساتھ ساتھ دعائیں بھی کرتا جارہا تھا۔ چوہدری محمود احمد مبشر صاحب درویش قادیان کی وفات، خالد سلیم صاحب جو پرانے مخلص احمدی تھے کی وفات، ملک شام میں ہی ایک اور احمدی کی جھڑپ میں آنے کی وجہ سے وفات۔

Tribulations should not be considered bad. One who considers tribulations as bad is not a true believer. Allah the Exalted states: 'And We will try you with something of fear and hunger, and loss of wealth and lives, and fruits; but give glad tidings to the patient, Who, when a misfortune overtakes them, say, 'Surely, to Allah we belong and to Him shall we return.' When such difficulties descend on Prophets of God they bring them glad-tidings of blessings and when the same difficulties descend on the wicked they ruin them. Some people allege that Allah the Exalted does not listen to their prayers or people are critical of saints that their such and such prayer was not accepted. In fact these people are foolish and unaware of Divine laws. Anyone who has experienced such a thing will be fully aware of the principle that Allah the Exalted has presented two aspects whereby He listens and also has Him listened to. The Promised Messiah(as) has said that those who are patient are blessed. Patience does not mean one is not saddened at a loss. It means one does not let it get the better of one and lose one's senses in the process. It is OK to be saddened but this should be followed by a renewed resolve to better one's practices more than ever. It should also be remembered that only those who are patient know the realities of prayer. A lot of damage was sustained in the recent fire in two ancillary halls of the Baitul Futuh Mosque. It was a very intense fire. When different media reported it some malicious people expressed joy at the burning of the Mosque, in fact they said it is not a mosque, these people are not Muslim, and so it is their place of worship which is on fire. Later they expressed regret that only two halls were burnt and the Mosque in itself did not burn! Such is the way of some Muslims today. But all are not the same. God saved us from any loss of life. One person was working in the library and had no idea what was going on outside. When he finished his work and tried to leave the library a gust of black smoke hit him. Anxious, he tried to run but jet black smoke filled the area and he could not see anything. He struggled to breathe. With great difficulty he fumbled for the corridor wall and started walking along it. Death of Chaudhry Mahmood Ahmad Mubasher Sahib, dervish of Qadian, Khalid Saleem Sahib, a long-term sincere Ahmadi from Syria and another Syrian Ahmadi who passed away after being hit by shrapnel in the Syrian conflict.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
25-Sep-2015   Albanian (mp3)

Title: Being Steadfast in Worship of Allah
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Indonesian | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

ایک دفعہ حضرت مسیح موعودؑ سے کسی نے پوچھا کہ عبادت میں شوق کس طرح پیدا ہوتا ہے، آپؑ نے فرمایا اعمال صالحہ اور عبادت میں شوق و ذوق اپنی طرف سے نہیں ہو سکتا ، یہ خداتعالیٰ کے فضل اور توفیق پر ملتا ہے، اس کیلئے ضروری ہے کہ انسان گھبرائے نہیں اور خداتعالیٰ سے اس کی توفیق اور فضل کے واسطے دعائیں کرتا رہےاور تھک نہ جائے، جب انسان اس طرح مستقل مزاج ہو کر لگا رہتا ہے تو اﷲتعالیٰ اپنے فضل سے وہ بات پیدا کردیتا ہے جس کیلئے اس کے دل میں تڑپ اور بیقراری ہوتی ہےیعنی عبادت کیلئے ذوق و شوق اور حلاوت پیدا ہونے لگتی ہے۔ خوب یاد رکھو کہ دل اﷲتعالیٰ کے ہی ہاتھ میں ہے، اس کا فضل نہ ہو تو دوسرے دن جاکر عیسائی ہو جائے یا کسی اور بے دینی میں مبتلا ہو جاوے، دین سے دور چلا جائے اس لئے ہر وقت اس کے فضل کیلئے دعا کرتے رہو، اس کی استعانت چاہو اور اس کی مدد مانگو کہ صراط مستقیم پر تمہیں قائم رکھے ، جو شخص خداتعالیٰ سے بے نیاز ہو جاتا ہے وہ شیطا ن ہو جاتاہے، اس کیلئے ضروری ہے کہ انسان استغفار کرتا رہےتاکہ وہ زہر اور جوش پیدا نہ ہو

Someone asked the Promised Messiah(as) how to inculcate fervour in worship of God. He replied: fervour in good works and worship of God cannot be instilled by itself or through one's own efforts. It comes with the grace and enablement of God. Therefore it is important not to feel perturbed and to continue to pray to God for His grace and enablement and not tire in praying for this.When a person consistently follows this, God, through His grace, ultimately creates the state for which man is eager and keen, that is, passion, fervency and pleasure is generated in worship of God. It should be well remembered that one's heart is in God's hand and without His grace, one could turn Christian or become irreligious any time. This is why prayers should be made all the time and God's help sought to remain on the right path. One who disregard God becomes satanic. This is why it is important for man to continually engage in istaghfar (seeking forgiveness of God) so that the toxin that ruins a person is not created.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
18-Sep-2015   Urdu (mp3)Albanian (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Khalifatul Masih II: Pearls of Wisdom
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam | Kannada
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Indonesian | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں : ان روایات حضرت مسیح موعودؑ سے جو بہت چھوٹی چھوٹی ہیں، بہت سی نصیحت کی اور اسلام کی بنیادی تعلیم کی باتیں اخذ کی ہیں وہ حضور پیش فرمائیں گے، حضرت مصلح موعودؓ کے وقت میں بہت سے صحابہؓ موجود تھے، اس لئے آپؓ نے صحابہؓ کو توجہ بھی دلائی، نصیحت بھی کی یا ان کے رشتہ داروں کو توجہ دلائی کہ یہ روایات جمع کریں کیونکہ یہی آئندہ آنے والی نسلی کیلئے نصیحت اور حقیقی تعلیم اور بعض مسائل کا حل پیش کرنے والی ہونگی۔ حدیث میں آتا ہے کہ رسول کریم ﷺ ایک دفعہ سجدہ میں گئے تو حضرت حسنؓ جو اس وقت چھوٹے بچے تھے، آپﷺ کے اوپر بیٹھ گئے اور رسول کریم ﷺ نے اس وقت تک سر نہ اٹھایا جب تک وہ خود بخود الگ نہ ہوگئے، اب کوئی اس قسم کی حرکت کرے تو ممکن ہے کوئی لوگ اسے بے دین قرار دے دیں اور کہیں اسے خدا کی بات کا خیال نہیں ، اپنے بچے کا خیال ہے مگر ایسا شخص جب بھی یہ واقعہ پڑھے گا اسے تسلیم کرنا پڑے گا کہ اس کا خیال غلط ہے۔ بہت سے صحابہؓ نے اپنی روایات لکھوانی شروع کیں، رجسٹر بن چکے ہیں روایات کے ، جن میں بہت سی روایات کو حضرت خلیفۃ المسیح بیان بھی کر چکے ہیں ، اب نئے سرے سے ان کو ترتیب دیا جارہا ہے تاکہ کتابی صورت میں شائع بھی کرنے ہوں تو شائع ہو جائیں ، کچھ روایات کو جو کمزور تھیں مضبوط روایات کے مقابلے پر چھوڑا بھی گیا ہے لیکن چھوٹی چھوٹی باتیں سامنے آجاتی ہیں ان سے ، بعض مرتب کرنے والے علماء بھی سفارش کر کے بھجوا دیتے ہیں کہ ان روایات کو مرتب کر نے کی ضرورت نہیں ہے لیکن حضرت خلیفۃ المسیح جب ان روایات کو پڑھتے ہیں تو آپ سمجھتے ہیں کہ بلاوجہ کی احتیاط ہے ان علماء کی۔ حضرت خلیفۃ المسیح فرماتے ہیں کہ مسجدیں اب ہماری اﷲتعالیٰ کے فضل و کرم سے ہر جگہ بن رہی ہیں لیکن ان کی آبادی کی طرف جس طرح سے توجہ ہونی چاہئے اس طرح نہیں ہے، بعض جگہ سے شکایات آتی ہیں، اس طرح قادیان میں، ربوہ میں ، پاکستان کی مختلف مساجد میں وہاں کے جو رہنے والے احمدی ہیں اس کو چاہئے کہ اپنی مساجد کو آباد کریں، اسی طرح دنیا کے دوسرے ممالک میں اپنی مساجد کو آباد کرنے کی کوشش کریں، دوسرے اس اعتراض کا بھی جواب مل جاتا ہے کہ نوجوانوں کو مسجد میں لانے کیلئے کھیلوں کا انتظام کر دیا ہے تو ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔ الحاج یعقوب صاحب آف گھانا کی وفات، مولانا فضل الٰہی بشیر صاحب کی وفات۔

Hazrat Musleh Maud(ra) has stated the significance of these traditions in his unique style and has derived counsel and much about the teachings of Islam from even apparently minor, ordinary accounts. Many of these companions lived during the time of Hazrat Musleh Maud(ra) and he advised them or their families to collect and collate these accounts because these accounts would provide advice and solutions of many issues for generations to come. Hadith relates that once the Holy Prophet(saw) was in the prostration posture of Salat that his young grandson Hazrat Hassan sat on top of him. The Holy Prophet(saw) did not lift his blessed head until his young grandson got off. One may consider such an act irreligious but this tradition will make him acknowledge his error with the blessed example of the Holy Prophet(saw) before him. Many companions wrote down their experiences and registers were created which Hazrat Khalifatul Masih has narrated in his discourses. Now these accounts are being collated in proper form once again and many minor details are coming to the fore. Some scholars who are composing the accounts tend to favour some accounts and feel that other accounts may have unfavourable effect. When Hazrat Khalifatul Masih reads the accounts for himself he feels this is unnecessary caution. Hazrat Khalifatul Masih said now we have mosques everywhere but attention is not given as it should be to fill these mosques. Ahmadis in Rabwah, Qadian and other places in Pakistan as well as rest of the world should fill mosques. Some people also write in criticising that in some mosques sports are organised in the evenings for youngsters and they thus are lured into offering Salat. This is not quite how it is. Death of Alhaj Yaqub Sahib of Ghana and Maulana Fazl Illahi Bashir Sahib.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
11-Sep-2015   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Faith and Islam
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

ایک شخص جو مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، اس کے مسلمان ہونے کی خوبصورتی تبھی ظاہر ہوگی جب وہ ایمان میں مضبوط ہو اور اسلام کی حقیقت کو سمجھتا ہو، ایمان یہ ہے کہ اپنے آپ کو مکمل طور پر خداتعالیٰ کے سپرد کر دےاور اس کے احکامات پر عمل کرنے والا ہواور اسلام یہ ہے کہ اﷲتعالیٰ کے حکموں پر نظر رکھتے ہوئے اپنے آپ کو بھی ہر شر سے بچا کر رکھے اور دوسروں کیلئے بھی سلامتی کے سامان کرے، پس یہ خلاصہ ہے ایمان اور اسلام کا، اگر دنیا اس بات کو سمجھ لے تو دنیا میں پائیدار اپن اور سلامتی قائم کرنے کے ایسے نظارے نظر آئیں جو دنیا کو جنت بنادیں۔ سب سے بڑھ کر تو جماعت احمدیہ ہے جو محبت اور پیار کی اسلامی تعلیم پھیلاتی ہےاور تمام دنیا میں لگن سے اس کام پر لگی ہوئی ہے، جس کے نتیجہ میں امن کے جھنڈے تلے امن پھیلانے اور سلامتی بکھیرنے کیلئے لاکھوں لوگ جماعت میں داخل ہوتے ہیں ، ان کےبارہ میں اگر میڈیا کو بتایا جائے بھی تو توجہ نہیں دی جاتی بلکہ بلکل بھی توجہ نہیں دیتے اور دنیا کے سامنے بعض مسلمان گروہوں کی منفی تصویر پیش کی جاتی ہے، جس کے نتیجہ میں دنیا کی غیر مسلم آبادی سمجھتی ہے کہ اسلام کا مطلب شدت پسندی اور ناانصافی ہے۔ گنی ملک میں ایک چھوٹی سی جگہ ہے جو دارلحکومت سے 500 کلومیٹر دور ہے، وہاں جب ہمارے لوگ تبلیغ کیلئے پہنچے تو وہاں ہمارے ایک احمدی دوست ابوبکر صاحب نے تبلیغی نشستوں کا آغاز کیا ، ابھی تبلیغ کا سلسلہ جاری تھا کہ وہاں ایک مولوی پہنچ گیا شر پھیلانے کیلئے ، کچھ دیر تو باتیں خاموشی سے سنتا رہا پھر بڑے غصے سے کہا کہ تمہیں یہاں تبلیغ کی اجازت نہیں ، وہاں کے نوجوان کھڑے ہوگئے اور کہا کہ تم تو یہ باتیں جو ہمیں سننے کو مل رہی ہیں ،اتنے عرصے میں کبھی ہمیں نہیں بتائیں ، چنانچہ وہ مولوی شرمندہ ہو کر وہاں سے گیا اور اس کے نتیجہ میں 15 افراد جماعت میں شامل ہو گئے۔ لکسمبرگ کے ایک شہر میں نمائش کے موقع پر جماعت کی طرف سے بک سٹال کا انعقاد کیا گیا، نمائش کے موقع پر شہر کے میئر بھی سٹینڈ پر آئے، اس کے بعد لکسمبرگ جماعت کے صدر نے انہیں جماعت کا مختصر تعارف کروایا، ان کو ایک کتاب بھی تحفہ میں دی جس پر میئر نے کہا کہ آپ کی کمیونٹی بہت اچھا کام کر رہی ہے، آپ کو چاہئے کہ اسلام کی اس خوبصورت تعلیم کو جلد از جلد دنیا میں پھیلائیں۔ گوئٹے مالا میں فلائرز کی تقسیم کے دوران ایک نوجوان سے رابطہ ہوا، مشن ہاؤس آئے، احمدیت قبول کی، انہوں نے کچھ عرصہ قبل اسلام قبول کیا تھا، کہتے ہیں غیر احمدی مسجد میں جا کر دلی سکون نہیں ملا، لوگ آپس میں ایک دوسرے سے کینہ اور بغض رکھتے ہیں ، ایک دن جب میں دعا کر کے سویا تو خواب میں ایک بزرگ دیکھے جو نہایت روحانی شکل و صورت کے مالک تھے، یہ بزرگ جس رستے پر چل رہے ہیں وہاں راکھ والا رستہ صاف ہوتا جا رہا ہے، ان کو حضرت مسیح موعودؑ کی تصویر دکھائی گئی تو انہوں نے کہا کہ یہی وہ بزرگ تھے جو خواب میں انہیں راستہ دکھائی دے رہے تھے۔

An individual who claims to be a Muslim can only be defined as true Muslim if he has strong faith and understands the reality of the teachings of Islam. Faith is to dedicate oneself solely to God and to act upon His commandments. Islam implies understanding all commandments and while saving oneself from every kind of evil, also be the source of spreading security for others. This is the essence of Faith and Islam. Jama'at Ahmadiyya is spreading the teachings of love and compassion which are the teachings of Islam above and beyond all and is involved in doing this devotedly all over the world, and as a result hundreds of thousands of people are joining Ahmadiyya and coming under the banner of peace pledging and helping to spread peace & security. Yet, no media covers this news or even looks upon this - even if we tell you about it. In Guinea in a small place some 500 Kms from the Capitol of the country, a delegation of Ahmadis went for propagation in a village. A cleric arrived and tried to cause disorder. He said you are not allowed to propagate. An individual in the gathering stood up against him. He said the cleric has been there for such a long time but has never taught us such beautiful teachings of Islam. As a result the cleric left and 15 individuals accepted Ahmadiyyat from that gathering. In Luxembourg a book stall/exhibition was arranged in a city and on this occasion the Mayor of the city also came and was introduced to Jama'at and he saw various books and the local President of the Jama'at gave him a brief introduction of the Jama'at and presented him a book as a gift. Upon hearing all this, the Mayor said that your community is doing great work and that you should spread this beautiful teaching of Islam throughout the world in the quickest time possible. In Guatemala an individual was contacted during flyer distribution. He accepted Ahmadiyyat. He had only accepted Islam a few months ago. He did not feel at rest by visiting non-Ahmadi mosques. He saw a dream, saw a saintly person who said to follow him. Wherever this person went the path became clear. He was shown image of Promised Messiah(as) & he realized that this was the saintly person from the dream.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
04-Sep-2015   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Righteousness, Trust in Allah and Remembrance of Allah
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam | Kannada
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت خلیفۃ المسیح فرماتے ہیں : مجھے سینکڑوں خط آتے ہیں جن میں اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ اﷲتعالیٰ ہم میں اور ہماری اولادوں میں تقویٰ پیدا کرے، یہ تبدیلی یقینا انہیں حضرت مسیح موعودؑ کو ماننے اور اپنا عہد بیعت نبھانے کے احساس کی وجہ سے ہے، اس خواہش نے اور اﷲتعالیٰ سے تعلق اور اس کی خشیعت اور خوف نے انہیں دنیا کی چیزوں سے بے پرواہ تو کیا ہےلیکن دنیا کی نعمتوں سے وہ محروم نہیں رہے، اﷲتعالیٰ اپنے انبیاء کو بھی نعمتوں سے نوازتا ہو اور ان کے ماننے والوں کو بھی، بعض دفعہ بعض عارضی تنگیاں ہوتی ہیں لیکن پھر اﷲتعالیٰ کے فضل ہوتے ہیں اور حالات بہتر ہو جاتے ہیں۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں : حضرت مسیح موعودؑ جب پیدا ہوئے تو آپؑ کے ماں باپ نے آپؑ کی پیدائش پر خوشی کی ہوگی، مگر جب آپؑ کی عمر بڑی ہوگئی اور آپؑ کے اندر دنیا سے بے رغبتی پیدا ہوگئی تو آپؑ کے والد آپؑ کی اس حالت کو دیکھ کر آہیں بھرا کرتے تھےکہ ہمارا بیٹا کسی کام کے قابل نہیں ، ایک دفعہ آپؑ کے والد صاحب نے ایک سکھ کو آپؑ کے سمجھانے کیلئے بھیجا، اس سکھ نے حضرت مسیح موعودؑ کو جا کر کہا کہ آپؑ کے والد صاحب کو اس خیال سے بہت دکھ ہوتا ہے کہ ان کا چھوٹا لڑکا اپنے بڑے بھائی کی روٹیوں پر پلے گا ۔ حضرت مسیح موعودؑ کے زمانے میں ایک شخص قادیان آیا ، اس نے کہا اگر مرزا صاحب کو کہا جاتا ہے کہ آپ ابراہیم ؑہیں، نوح ؑہیں، عیسیٰؑ ہیں ، موسیٰؑ ہیں، محمدﷺ ہیں تو مجھے بھی خداتعالیٰ کہتا ہے کہ تو محمدﷺ ہے، لوگ اسے سمجھانے لگے لیکن وہ کہتا تھا کہ خداتعالیٰ کی آواز مجھے آتی ہے ، جب لوگ سمجھاتے سمجھاتے تھک گئے تو انہوں نے اسے حضرت مسیح موعودؑ کی طرف بھیج دیا ، چنانچہ وہ شخص حضرت مسیح موعودؑ کے پاس لے جایا گیا اور اس نے یہی بات دہرائی۔ حقیقت یہ ہے کہ تغیر خداتعالیٰ پیدا کرتا ہے ، پس وہ لوگ جو بعض خوابوں کی وجہ سے غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور بڑے بڑے دعوے کرنے لگ جاتے ہیں وہ اصل میں شیطان کے زیر اثر ہوتے ہیں ، خداتعالیٰ تو جب کسی کو کچھ دیتا ہے تو اس کی چمک بھی دکھاتا ہے، اپنی تائیدات کا اظہار بھی کرتا ہے ، نشانات ظاہر ہوتے ہیں، اﷲتعالیٰ کی فعلی شہادت اس کے ساتھ کام کر رہی ہوتی ہے، یہی ہم نے حضرت مسیح موعودؑ کے ساتھ دیکھا اور یہی آپؑ کی پیشگوئی دربارہ حضرت مصلح موعودؓ جو تھی اس کو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓکے حق میں پورے ہوتے دیکھا اور خلافت احمدیہ میں بھی ہم نے اﷲتعالی ٰکی اس فعلی شہادت کو پورا ہوتے دیکھا۔ صاحبزادی امتہ الباری بیگم صاحبہ کی وفات جو حضرت مسیح موعوؑ کی پوتی اور حضرت مرزا شریف صاحبؓ کی بیٹی تھیں۔

Hundreds write to Hazrat Khalifatul Masih expressing the wish to have righteousness instilled in themselves and their children. This comes about after accepting the Promised Messiah(as) and taking his bai'at. Awe of God makes them nonchalant about materialism but they are not deprived of worldly bounties. God bestows worldly bounties on His Prophets and true believers. At times they face temporary hardships but with His grace times change for the better. Hazrat Musleh Maud(ra) said that his parents may have rejoiced at the birth of the Promised Messiah(as) but when he developed an aloofness to worldly matters later, his father used to feel great despondence. As mentioned before, a Sikh related that the Promised Messiah's father asked him to advice his son. The Sikh went to give advice and said to the Promised Messiah that his father was saddened that his younger son will have to live on the handouts of his older brother. A man came to Qadian during the time of the Promised Messiah(as) and said that if Mirza Sahib was known as Ibrahim, Nuh, Esa and Musa, he too was called Muhammad by God Himself. He said he heard God's voice telling him this. People tried to make him understand but to no avail. They decided to take him to the Promised Messiah(as). He repeated his claim when presented to the Promised Messiah and said God told him so all the time. Truth is that only God brings about and grants change. Some people misunderstand matters after experiencing a few true dreams and make big claims. They are in fact under the influence of Satan. When God grants something to someone He also grants brilliance and luminosity and signs can be observed with God's practical testimony corroborating on behalf of the person as we saw with the Promised Messiah(as). We also see this with Khilafat e Ahmadiyya. Death of Sahibzadi Amatul Bari Begum Sahiba who was was a granddaughter of the Promised Messiah(as).

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
28-Aug-2015   Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Blessings of Jalsa Salana UK 2015
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

آجکل دنیا کی ہم پر نظر ہو رہی ہے، احمدی اور غیر احمدی جلسہ کی کاروائی ایم ٹی اے پر دیکھتے ہیں ، خاص طور پر برطانیہ کے جلسہ کو بہت گہری نظر سے دیکھا جاتا ہے ، ہم لاکھوں پاؤنڈ ایم ٹی اے پر خرچ کرتے ہیں صرف اس لئے ، ایک بہت بڑا مقصد یہ ہے کہ جماعت کا ہر فرد اپنی زندگی کے مقصد کو پانے والا ہو، اس تک یہ پیغام پہنچ رہا ہو، پس ہماری خوشی اور مبارکباد جلسہ کی کامیاب انعقاد پر صرف مبارک بادوں تک محدود نہ رہے۔ اﷲتعالیٰ نے جلسہ کے ان رضاکاروں کو توفیق دی کہ انہوں نے جلسہ کے انتظامات کو بہترین شکل دینے کی کوشش کی، ٹرانسپورٹ ہے، رہائش ہے، کھانا پکانا ہے ، جلسہ گا ہ ہے ، ایم ٹی اے ہے غرض یہ کہ بے شمار شعبے ایسے ہیں جن میں مردوں نے بھی، عورتوں نے بھی، بوڑھوں نے بھی ،جوانوں نے بھی بچوں نے بھی ، بچیوں نے بھی خدمت کی اور جلسہ کے تمام انتظامات کو اپنی استعدادوں اور صلاحیتوں کے مطابق بہترین رنگ میں انطام دینے کیلئے بھرپور کوشش کی، تمام رضاکار مختلف شعبوں کے ہوتے ہیں اپنے کاموں میں ، کوئی کسی کمپنی کا ڈائیریکٹر ہے، کوئی ڈاکٹر ہے تو کوئی انجینیئر، کوئی سائنسدان ہے اور دوسرے شعبے ہیں لیکن سب ایک ہو کر کام کرتے ہیں ،لنگر خانے میں قطع نظر اس کے کہ وہ کیا ہے، آگ کے سامنے کھڑا ہے۔ ارجنٹینا سے ایک احمدی آئے تھے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سچے مذہب کی تلاش میں دس سال گزارے ہیں اور بالاخر جماعت احمدیہ میں شامل ہو کر مجھے سچا مذہب مل گیا، جلسہ سالانہ کے انتظام سے میں بہت متاثر ہوا ہوں ، سب سے زیادہ جس چیز نے مجھے متاثر کیا وہ نوجوان نسل کی موجودگی تھی، میں نے آج تک کسی مذہب میں کسی مذہبی پروگرام میں نوجوان نسل کی اس قدر شمولیت نہیں دیکھی جس طرح جماعت احمدیہ میں ہے، عالمی بیعت میں شمولیت میری زندگی کے خوش ترین لمحات تھے ، بیعت کے دوران میرا دل اور جسم لرز رہا تھا ، میرے لئے اس سے بڑھ کر خوشی کی کوئی بات نہیں کہ میں ارجنٹینا کا پہلا مسلمان ہوں جسے احمدیت قبول کرنے کی توفیق ملی۔ فرانس کے ایک بڑے خاندان نے جلسہ میں شمولیت کی، اس خاندان کے اکثر لوگوں نے احمدیت قبول کرلی تھی، انکے والد صاحب نے جنہوں نے بیعت نہیں کی تھی جمعہ کی نماز سے پہلے کہنے لگے کہ میں اس ماحول کو دیکھ کر بہت متاثر ہوا ہوں ، یہاں اس جلسہ میں شامل ہو کر اور اس جلسہ کا ماحول دیکھ کر اب مجھے پتہ چلا ہے کہ میرے بچے کیوں احمدی ہوئے ہیں اور جب سے احمدی ہوئے ہیں اﷲتعالیٰ کے فضل سے ان کی حالت ہی بدل گئی ہے، کہتے ہیں میں جب جوان تھا تو میں نے خواب دیکھا تھا کہ ایک عجیب سی جگہ ہے جہاں بہت سے لوگ جمع ہیں ، اب جلسہ پر آکر وہ خواب یاد آرہی ہے۔ گھانا کے ایک دوست نے فون کر کے بتایا کہ میں مذہبا عیسائی ہوں لیکن آپ کے جلسہ سالانہ کی نشریات دیکھ کر میرے پر جذباتی کیفیت طاری ہے ، اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت اسلام کی نمائندگی میں جماعت احمدیہ سب سے آگے ہے ، میری دعا ہے کہ میں آپ کی جماعت کا مبلغ بن کر جماعت احمدیہ کا پیغام پھیلاؤں، ایک خاتون نے گھانا سے فون کر کہا کہ جلسہ سے بہت متاثر ہوئی ہوں، میں مسلمان تو ہوں لیکن یہ جلسہ دیکھ کر میں احمدی مسلمان ہونا چاہتی ہوں۔ سیدہ فریدہ بیگم صاحبہ اہلیہ صاحبزادہ مرزا رفیق احمد صاحب کی وفات۔

The world has started noticing us. Ahmadis as well as some non-Ahmadis around the world watch Jalsa proceedings on MTA, in particular Jalsa UK is watched in-depth. Hundreds of thousands are spent on MTA so that every member of the Jama'at has access to our objective. Our delight should not be limited to attending Jalsa and watching MTA broadcasts. Jalsa volunteers were enabled to organise and carry out a vast number of departments, including MTA. These volunteers were men, women, children the elderly and youngsters who tried their best to serve. These volunteers come from different walks of life and include CEOs, doctors, engineers and other professionals but they carried out duties which may be far-removed from their day jobs. An Ahmadi from Argentina said that he had been looking for the true faith for the past ten years and he has now found it. He was most impressed by Jalsa organisation in particular the involvement of youngsters. He took part in International Bai'at and said those were the happiest moments of his life. He was delighted to be the first Ahmadi from Argentina. A large family had come from France most of whom had done bai'at. Their father, who had not done bai'at, was most impressed at Friday Prayers and said he realised after coming to Jalsa why his children had accepted Ahmadiyyat. He said he had a dream in his youth the memory of which was triggered by attending Jalsa because it was about being in a place where many people had gathered. A Ghanaian listener called in and said he was a Christian but felt very emotional after watching Live Jalsa proceedings. He was convinced that Ahmadiyya Jama'at was at the forefront of representing Islam. He said it was his prayer to serve as a missionary of the Jama'at. A lady called from Ghana and said that she was a Muslim and after seeing Jalsa coverage she wanted to become an Ahmadi Muslim. Death of Syeda Farida Begum Sahiba, wife of Sahibazada Mirza Rafiq Ahmad Sahib.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
21-Aug-2015    

Title: Jumu'ah and Jalsa Salana
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam | Kannada
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

آج انشاءاﷲ جمعہ کی نماز کے بعد جلسہ سالانہ کا باقاعدہ آغاز ہوگا، لیکن جمعہ کی بھی اہمیت ہے اور اس اہمیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہمیں اس کا بھی حق ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور آج جلسہ کی وجہ سے اس حق کی ادائیگی کیلئے جو دعائیں کریں اس میں جلسہ کے بابرکت ہونے کیلئے بھی دعائیں کرتے رہیں، جمعہ کی اہمیت کے بارہ میں حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ دنوں میں سے بہترین دن جمعہ کا دن ہے ، اس دن مجھ پر بہت زیادہ درود بھیجا کرو کیونکہ اس دن تمہارا یہ درود میرے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ ہمارے جلسوں کا ایک بہت بڑا مقصد تو یہی ہے جو حضرت مسیح موعودؑ نے بیان فرمایا ہے کہ اپنے مولا کریم اور رسول کریم ﷺ کی محبت دل پر غالب آ جائے، دل پر محبت اسی وقت غالب آسکتی ہے جب ہم آپﷺ پر دل کی گہرائی سے درود بھیجیں اور پھر اپنی حالتوں کو بھی اس کے مطابق ڈھالیں اور ڈھالنے کی کوشش کریں جس کا اسوہ آنحضرت ﷺ نے ہمارے سامنے پیش فرمایا ہے، آپﷺ کی محبت کی وجہ سے آپﷺ پر درود اور آپﷺ کی اتباع پھر اﷲتعالیٰ کی محبت کو بھی حاصل کرنے والافرمائے گی۔ یہ جلسہ ہمیں آپس کے باہمی تعلقات بڑھانے میں مدد دے گا، پس ہم میں سے ہر ایک کو اس بات کا خیال رکھنا چاہے کہ ہم نے ان دنوں میں جلسہ کے مقاصد کو پورا کرناہےاور جیسا کہ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا ہے کہ اس کو دنیاوی میلوں کی طرح میلہ نہیں سمجھنا ، ہماری توجہ ان دنوں میں ربانی باتوں کے سننے کی طرف ہونی چاہئے، آپس کی مجلسوں اور خوش گپیوں میں وقت نہیں گزارنا چاہئے، نہ ہی اپنے وقت کا حصہ بازاروں میں گزار کر ضائع کریں گے ، ریویو آف ریلیجن نے بھی اس سال اپنے سٹال کو وسعت دی ہے اور کفن عیسیٰ کے بارہ میں بھی بہت معلومات ہیں وہاں۔ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ میں اس بات کو سخت ناپسند کرتا ہوں کہ مقرر کی لفاظی اور خطابت کو ہی دیکھا جائے، آپؑ نے فرمایا کہ مسلمانوں میں زوال اور عزت صرف اس لئے ہوئی ہے کہ تقریر کی مغز کو نہیں دیکھا جاتا، صرف ظاہری خوبصورتی اور کھوکھلے پن کو دیکھا جاتا ہے، مجلسوں میں آنے والے مسلمان اخلاص لے کر نہیں جاتے، پس ہم میں سے ہر ایک کو اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہےورنہ اتنا خرچ کرکے یہاں آنا بے فائدہ ہے، اﷲتعالیٰ آپ سب کو ان تعلیمات پر عمل کرنےکی توفیق عطا فرمائے۔ مکرم اکرام اﷲصاحب کی تونسہ شریف پاکستان میں شہادت، پروفیسر محمد علی صاحب کی وفات۔

Today Insha'Allah after Jumu'ah, Jalsa will be inaugurated. Friday service is also important. We should realize the importance of Friday and pay dues of this day. Due to Jalsa, paying dues involves praying for the Jalsa to be blessed. With regards to the importance of Friday Service, the Holy Prophet(saw) said that the best of the days is Friday. Call down Allah's blessings upon me in abundance on this day as this is presented to me on this day. One of the great objectives of our Jalsa is to ensure that the love of God and Prophet envelops our heart. We can only fulfill this objective when we convey Durood Sharif upon Holy Prophet from bottom of our heart. And reform ourselves accordingly as per the commandments of God and the example set before us by the Holy Prophet(saw). Conveying Durood upon Holy Prophet(saw) through his love will help us attain love for God. This Jalsa will also help in forming mutual bonds and many other benefits will come about. Each of us should remember the objective of this Jalsa. We have to fulfill the conditions of this convention. This is not an ordinary convention. Our focus should be upon hearing religious teachings. We should not waste our time by engaging in meaningless discussions or walking around the stalls. See the newspapers, literatures, at stalls. Review of Religions has displayed the Shroud of Jesus Christ in their stall. One realizes the truthfulness of Promised Messiah(as) claims by seeing such exhibits. Do not merely pay attention to the style of delivery but focus upon the essence, the core of what is being delivered. Most only focus on the oration but fail to understand what is actually being said. Promised Messiah(as) did not like merely focusing upon oration. Muslims do not come with the required dedication in their conventions. What is the point of spending great amount when people fail to pay heed to the essence. May Allah enable all the participants to benefit from this Jalsa. Martyrdom of Mukarram Ikhramullah Sahib Shaheed from Taunsa Sharif, Death of Professor Muhammad Ali Sahib.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
14-Aug-2015   Urdu (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Jalsa Salana 2015: hospitality and our responsibilities
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت خلیفۃالمسیح نے فرمایا : اﷲتعالیٰ کے فضل سے اگلے جمعہ سےجماعت احمدیہ برطانیہ کے جلسہ سالانہ کا آغاز ہو رہا ہے، جلسہ کی تیاری کیلئے چند ہفتوں سے رضاکار کارکنان حدیقۃ المہدی جارہے ہیں اور گزشتہ عشرہ سے تو بھرپور طور پر خدام الاحمدیہ اور باقی کارکنان کام کر رہے ہیں، جنگل میں جلسہ کے انعقاد کیلئے تمام انتظامات کرنا کوئی معمولی بات نہیں لیکن برطانیہ کے مختلف حصوں سے آنے والے خدام اور رضاکار ایسی مہارت سے یہ کام کرتے ہیں کہ جس کی مثال دنیا میں کہیں اور نظر نہیں آتی اور کسی بھی تنظیم میں ہم یہ نہیں دیکھ سکتے۔ آنحضورﷺ جب مہمان سپرد کرتے تھے تو مہمانوں سے یہ بھی دریافت کرتے تھے کہ کیسے مہمان نوازی ہوئی، ایک دفعہ آنحضرت ﷺ نےانصار کو ایک قبیلہ کی مہمان نوازی کا ذمہ ٹھئرایا،صبح جب وہ لوگ حاضر ہوئے تو آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ رات کو تمہارے میزبانوں نے تمہاری کیسی خدمت کی؟ انہوں نے عرض کیا کہ انہوں نے ہمارے لئے نرم بستر بچھائے ، ہمارے آرام کا خیال رکھا ، ہمیں عمدہ کھانے کھلائے اور پھر کتاب و سنت کی تعلیم بھی دیتے رہے، پس یہ ہیں میزبانوں کے فرائض ، جن لوگوں کے گھر بھی جلسہ کو دوران مہمان رہ رہے ہیں ان کو بھی چاہئے کہ زیادہ سے زیادہ وقت مذہبی گفتگو میں گزاریں، نیکی کی باتیں کی جائیں اور سکھائی جائیں۔ حضرت مسیح موعود ؑ کےزمانہ میں ایک دفعہ انتظامیہ کی غلطی کی وجہ سے مہمانوں کو کھانا نہیں ملا اور ان کا خیال نہیں رکھا گیا تو اﷲتعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؑ کو اس واقعہ کی اطلاع دی چنانچہ آپؑ نے فرمایا کہ اﷲتعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے کہ لنگر خانہ میں رات کو ریا کیا گیا ہے اس کے بعد آپ ؑ نے لنگر خانے میں کام کرنے والوں کو چھ ماہ کیلئے نکالنے کا بھی ارشاد فرمایا ، باوجود آپؑ کی طبیعت کی نرمی کے آپؑ کو مہمانوں کی مہمان نوازی میں کمی اور ریا برداشت نہیں ہوئی۔ حضرت خلیفۃالمسیح نے فرمایا : آج 14 اگست بھی ہےجو پاکستان کا یوم آزادی ہے ، اس لحاظ سے بھی حضور نے دعا کی طرف توجہ دلائی کہ اﷲتعالیٰ پاکستان کو حقیقی آزادی نصیب کرے اور خود پسند لیڈروں اور مفاد پرست مذہبی رہنماؤں کے عمل سے ملک کو محفوظ رکھے، اﷲتعالیٰ عوام الناس کو عقل اورسمجھ بھی عطا کرے کہ وہ ایسے راہنما منتخب کریں جو ایماندار اور اپنی امانت کا حق ادا کرنے والے ہوں ، ان کو اس بات کی حقیقت بھی سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے کہ اس ملک کی بقا اور سالمیت انصاف اور ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی میں ہے، ظلموں سے بچنے میں اس ملک کی بقا ہے، خداتعالیٰ کی طرف جھکنے میں اس ملک کی بقا ہے، رب العالمین رحمان اور کریم خدا کے نام پر ہر طرف ظلم کے بازار گرم ہیں۔ کمال آفتاب صاحب آف یوکے کی ۳۳ سال کی عمر میں وفات، محمد نعیم صاحب بعمر 36 سال اور انکے صاحبزادے بعمر 12 سال کی وفات۔

With the grace of God Jalsa Salana of Jama'at Ahmadiyya UK starts from next week. Volunteers have been busy for past several weeks at Hadiqatul Mahdi preparing for Jalsa. These preparations by Khuddam and other volunteers have intensified in the last ten days. It is no mean feat to make all the arrangements on what is essentially farmland. Khuddam from various parts of the UK and other volunteers do this task with amazing skill, and no example of this can be found in the whole world in any other organisation. The Holy Prophet(saw) also used to inquire from the guests how they found the hospitality extended by the Companions. On one such occasion a guest said O Prophet of God they gave us soft bedding to sleep on and fine food to eat and they also educated us about the Book and Sunnah. Thus are the obligations of a host. People who are expecting Jalsa guests at their homes should not spend evenings in idle chatting but should have religious discussions and should impart religious knowledge. Once during the times of the Promised Messiah(as) due to management mistakes guests were not served food properly. God informed the Promised Messiah(as) of this and he said that God had informed him that the previous night there was hypocrisy in serving food to the guests. The Promised Messiah(as) dismissed the Langar workers for six months. In spite of his gentle nature he did not tolerate deficiency and hypocrisy in serving guests. Today is 14 August, Independence Day of Pakistan. In this regard prayers should be made that God grants real independence to Pakistan and keeps it protected against self-centred leaders and clergy. May God give sense to the public to choose leaders who are honest and will honour trusts! May they understand that the permanence of the country lies in justice, paying each other's dues and in turning to God! Barbarity is perpetrated in the name of Lord of all the worlds, Most Gracious and Ever Merciful God. Death of Kamal Aftab Sahib of Huddersfield UK at age of 33, Death of Muhammad Naeem Awan Sahib 36 and his 12 year old son.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
07-Aug-2015   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Khalifatul Masih II: Companions of Promised Messiah (a.s.)
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Persian | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت مولوی برہان الدین جہلمی صاحبؓ : آپؓ کی حضرت مسیح موعودؑ سے پہلی ملاقات بھی حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ایک لطیفہ ہی ہے، کہتے ہیں کہ میں ملاقات کیلئے قادیان آیا لیکن حضرت مسیح موعودؑ گورداسپور میں تھے اس لئے وہاں گیا، جس مکان میں حضرت مسیح موعودؑ ٹھئرے ہوئے تھے اس کے ایک طرف باغ تھا ، حامد علی صاحب دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے ، انہوں نے مولوی برہان الدین صاحب ؓ کو اندر جانے کی اجازت نہ دی مگر وہ کہتے ہیں کہ میں چھپ کر دروازے تک پہنچ گیا۔ حضرت سیٹھ عبدالرحمٰن صاحب مدراسیؓ: آپؓ حضرت مسیح موعودؑ کے زمانہ میں احمدی ہوئے، ان میں بڑا اخلاص تھا اور خوب تبلیغ کرنے والے تھے ان کا ایک واقعہ حضر ت مسیح موعودؑ بڑے درد کیساتھ سنایا کرتے تھے، ابتدا میں ان کی مالی حالت بڑی اچھی تھی اور اس وقت وہ دین کیلئے بڑی قربانی کرتے تھے، 300 سے 500 روپے ماہوار تک چندہ بھیجتے تھے ، خدا کی قدرت کہ وہ بعض کام تجارتی لحاظ سے غلط کر بیٹھے اور اس وجہ سے ان کی تجارت بالکل تباہ ہوگئی۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ مجھے وہ نظارہ یاد ہے جس دن ایک کیس کا فیصلہ سنایا جانا تھا ، ہماری جماعت میں ایک دوست تھے جن کو پروفیسر کہا جاتا تھا ، پہلے جب وہ احمدی نہیں تھے تو تاش وغیرہ کھیلا کرتے تھے بڑے اعلیٰ پیمانہ پر اور چار پانچ سو روپیہ صرف تاش کے کھیل سے کمالیا کرتے تھے مگر احمدی ہونے پر انہوں نے یہ کام چھوڑ دیا اور معمولی دکان کرلی، انہیں حضرت مسیح موعودؑ سے عشق تھا اور غربت کواخلاص سے برداشت کرتے تھے، اپنی دکان کے گاہکوں کو تبلیغ کیا کرتے تھےاور اگر کوئی حضرت مسیح موعودؑ کے خلاف کوئی بات کرتا تو لڑ پڑتے تھے۔ آجکل گرمیوں میں یورپ میں ننگ ہی ننگ نظر آتا ہے ، اﷲتعالیٰ نے تو لباس کو زینت بھی قرار دیا ہے اور ہم دیکھتے ہیں آجکل معاشرے میں عریانی کو ہی فیشن سمجھ لیا گیا ہے، اب انتہا یہاں تک ہوگئی ہے کہ خبر تھی کہ کسی جگہ مسلمان لڑکیوں کا گروپ سائیکل چلا رہا تھا، سائیکل چلاتے ہوئے انہوں نے گرمی محسوس کی تو انہوں نے کپڑے ہی اتار دئیے، گویا اب وہ زمانہ آگیا ہے کہ جسم کے بعض حصے اخلاقا اور طبعا بھی ننگےرکھنا مسلمانوں کیلئے بھی معیوب نہیں سمجھا جاتا۔ حضرت مسیح موعودؑ کی عادت تھی کہ آپؑ جب گفتگو فرماتے یا لیکچر دیتے تو اپنے ہاتھ کو رانوں کی طرف اس طرح لاتے جیسے کوئی ہاتھ مارتا ہے ، حضرت مسیح موعودؑ جب اس طرح ہاتھ ہلاتے تو مولوی یار محمد صاحب محبت کے جوش میں فورا کود کر آپؑ کے پاس پہنچ جاتے اور جب کوئی پوچھتا کہ مولوی صاحب یہ کیا کیا ہے آپ نے تو کہتے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے مجھے اشارہ سے بلایا تھا تو حضرت مصلح موعودؓ نے مثال سے کر فرمایا کہ یہ دیوانگی اور عشق کی حالت ہے کہ جب نہیں بھی توجہ دی جارہی تب بھی محبوب کے غیر ارادی طور پر ہلنے والے ہاتھ کو اپنے قریب آنے کا اشارہ سمجھتے ہیں۔

Hazrat Maulawi Burhan ud Din Jhelumi Sahib. His first meeting with the Promised Messiah(as) is a most interesting account. He arrived at Qadian to meet the Promised Messiah(as) but learnt that he had gone to Gurdaspur, so he travelled there. The residence where the Promised Messiah(as) was staying in Gurdaspur had an adjacent garden. Hamid Ali Sahib was at the door and did not allow Burhan Sahib to enter but he surreptitiously managed to get to the door. Hazrat Saith Abdul Rahman Sahib Madrassi. He became an Ahmadi during the lifetime of the Promised Messiah(as) and was a most sincere person with great keenness for Tabligh. The Promised Messiah used to relate an account of his most tender-heartedly. Saith Sahib was very well off in the early days and used to make huge financial sacrifice for faith and send rupee 300 to 500 every month as his donation. He made some bad business decision which resulted in ruination of his business. Hazrat Musleh Maud(ra) says he remembers the day the verdict of a court case was going to be passed. An Ahmadi friend was popularly known as Professor by everyone. Before becoming an Ahmadi he was an avid gambler who made a lot of money every month playing cards. He gave this up after accepting Ahmadiyyat and started keeping a small shop. His love and devotion for the Promised Messiah(as) was great and owing to this he happily endured poverty. These days during the summer months here in Europe one sees people wearing scanty clothing and exposing a lot of flesh. God has stated that clothing enhances beauty but society today considers nakedness as fashionable. It was in the news recently that a group of Muslim girls was cycling somewhere and when they felt hot while cycling they took their clothes off. So, a time has come when it is not considered erroneous for Muslims to inherently expose some parts of their body on the basis of morals. When the Promised Messiah(as) spoke or delivered lecture he had the habit of motioning his hand towards his thighs. When he moved his hand in this manner Maulawi Yar Muhammad Sahib jumped up and came close to him. When asked why he did so he would say the Promised Messiah(as) had gestured him to come close to him. Thus was his obsessive love for the Promised Messiah that he even considered his reflex actions to mean a beckoning gesture.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
31-Jul-2015   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Love and Reverence for The Holy Quran
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

پس اگر قرآن کریم اگر پڑھانا ہے تو ایسے طریقے سے پڑھانا چاہئے جس سے شوق اور محبت پیدا ہو، گزشتہ دنوں ایک جاپانی خاتون جو یہاں رہتی ہیں حضرت خلیفۃ المسیح سے ملنے آئیں ، انہوں نے کچھ عرصہ پہلے بیعت کی، انہوں نے بتایا کہ تین سال میں انہوں نے قرآن شریف ختم کر لیا ہے اور وہ کچھ سنانا بھی چاہتی تھیں ، انہوں نے آیت الکرسی اس طرح ڈوب کر پڑھی کہ حیرت ہوتی تھی، تو اصل چیز یہی ہے کہ قرآن کریم سے ایسی محبت ہو کہ ڈوب کر اسے پڑھا جائے، صرف دکھاوے کیلئے قاریوں کی طرح گلے سے آوازیں نکال لینا تو مقصد نہیں ہے۔ عرب احمدیوں کو اس بات کو سامنے رکھنا چاہئے، ایک بڑی اکثریت اس بات کو سامنے رکھتی ہے لیکن بعض کی طبیعتوں میں ایک فخر کی حالت بھی ہوتی ہے، ایک پاکستانی عورت ایک عرب سے بیاہی ہوئی ہے، وہ بھی اپنی طرف سے حلق سے آواز نکال کر سمجھتی ہے کہ میں نے صحیح تلفظ ادا کر دیا ہے حالانکہ وہ صحیح نہیں ہوتا، اگر اسکی ذات تک ہی بات ہوتی تو کوئی بات نہیں تھی اور مجھے کہنے کی ضرورت نہیں تھی، لیکن حضور کو پتہ چلا ہے کہ بعض مجالس میں بیٹھ کر استہزاء کے رنگ میں یہ بات ہوتی ہے کہ بعض حروف کی ادائیگی پاکستانیوں کو نہیں آتی، قرآن کریم پڑھنا نہیں آتا۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں : حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید ؓ کو دیکھ لو، انہوں نے جب احمدیت قبول کی اور قادیان میں کچھ عرصہ قیام کے بعد کابل واپس گئے تو وہاں کے گورنر نے انہیں بلایا اور کہا توبہ کر لو ، انہوں نے کہا میں توبہ کس طرح کروں، جب میں قادیان سے چلا تھا تو اسی وقت میں نے رویا میں دیکھا تھا کہ مجھے ہتھکڑیاں پڑی ہوئی ہیں، پس جب خداتعالیٰ نے کہا تھا کہ تمہیں اس راہ میں ہتھکڑیاں پہننی پڑیں گی تو اب میں ان ہتھکڑیوں کو اتروانے کی کس طرح کوشش کروں ، اب دیکھو انہیں یہ وثوق اور یقین اس لئے حاصل ہوا کیونکہ انہوں نے خود ایک خواب دیکھا تھا۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں :یہ ایک گروہ تھا جس نے عشق کا ایسا اعلیٰ درجہ کا نمونہ دکھایا کہ ہماری آنکھیں اب پچھلی جماعتوں کے آگے نیچی نہیں ہو سکتیں، ہماری جماعت کے دوستوں میں کتنی ہی کمزوریاں ہوں، کتی ہی غفلتیں ہوں لیکن اگر موسیٰ ؑ کے صحابی ہمیں اپنا نمونہ پیش کریں تو ہم ان کے سامنے اس گروہ کا نمونہ پیش کر سکتے ہیں ، اسی طرح عیسیٰؑ کے صحابی اگر قیامت کے دن اپنے اعلیٰ کارنامے پیش کریں تو ہم فخر کے ساتھ اپنے ان صحابہؓ پیش کر سکتے ہیں اور یہ جو رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں نہیں کہ سکتا کہ میری امت اور مہدیؑ کی امت میں کیا فرق ہے تو درحقیقت ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے فرمایا۔ مولوی خورشید احمد صاحب درویش کی 94 سال کی عمر میں وفات۔

The Holy Qur'an should of course be taught to foster its love and eagerness to read. Recently a Japanese lady who lives in the UK and took Bai'at some time ago came to meet Hazrat Khalifatul Masih. She said that with the grace of God she finished her first reading of the Holy Qur'an in three years and wished to read it to Hazrat Khalifatul Masih. She read Ayatul Kursi in a most moving manner. Indeed, the main thing is love for the Holy Qur'an and reading it in a moving way. Simply making guttural sounds for pretence like a qari is not the objective. Arab Ahmadis should keep this in view. The large majority of them understand but some people have the trait to be boastful. A Pakistan woman married to an Arab speaks with a guttural sound and thinks she has the correct pronunciation whereas she does not. Had she kept this to her person Hazrat Khalifatul Masih would not have mentioned it but it has come to his knowledge that she derides Pakistanis when in company and says they do not know how to read the Qur'an and cannot properly pronounce Arabic. Hazrat Musleh Maud(ra) said Hazrat Sahibzada Abdul Latif Shaheed accepted Ahmadiyyat and then returned to his homeland Kabul from Qadian. The governor of Kabul asked him to repent. Sahibzada Sahib told him that before he left Qadian he had a dream in which he had handcuffs on. How would he possibly change his stance after God had told him that he would be handcuffed in God's way! This firm belief of his stemmed from the fact that he had experienced it on a personal level in a dream. Hazrat Musleh Maud(ra) said this group of people established a high model of ardent love and devotion. Members of our Jama'at may have weaknesses and they may be negligent but if companions of Hazrat Musa(as) present their models we too can present the models of these people to match them and if companions of Hazrat Isa(as) were to present their model on the Day of Judgement we too can proudly present the model of these companions of the Promised Messiah(as). Death of Maualwi Khushid Ahmad Sahib Dervesh aged 94.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
24-Jul-2015   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Khalifatul Masih II: Pearls of Wisdom
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں : 1908 کے شروع میں حافظ احمد صاحب مرحوم کی دو لڑکیوں کی شادی کی تجویز ہوئی جن میں سے بڑی کا نام زینب اور چھوٹی کا نام کلثوم تھا ، زینب کے متعلق اور بھی لوگوں کی خواہش تھی اور ایک رشتہ مصری صاحب سے بھی آیا ہوا تھا جو حضرت مسیح موعودؑ نے ناپسند کی لیکن حسب عادت آپؑ نے زور نہیں دیا ، انہی دنوں حضرت مسیح موعودؑ کو الہام ہوا کہ لا تقتلو زینب یعنی زینب کو ہلاک مت کرو۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ایک سکھ میرے پاس آیااور کہنے لگا کہ آپ کے تایا حضرت مرزا غلام قادر صاحب تو بہت مشہور تھے اور ایک بڑے عہدے پر فائز تھے لیکن حضرت مسیح موعودؑ غیر معروف تھے ، وہ سکھ کہنے لگا کہ میرے والد ایک دفعہ مرزا غلام مرتضیٰ صاحب کے پاس گئے اور کہنے لگے کہ سنا ہے کہ آپ کا ایک اور بیٹا بھی ہے ، انہوں نے کہا وہ تو سارا دن مسجد میں پڑا رہتا ہےاور قرآن پڑھتا رہتا ہے، مجھے اس کا فکر ہے کہ وہ کھائے گا کہاں سے، تم اسکے پاس جاؤ اور کہو کہ دنیا کا بھی کچھ فکر کرو، میں چاہتا ہوں کہ وہ کوئی نوکری کر لے لیکن جب میں اس کیلئے کسی نوکری کا انتظام کرتا ہوں تو وہ انکار کر دیتا ہے۔ ایک اور صحابی منشی اروڑےخان صاحبؓ کے حضرت مسیح موعودؑ سے عشق کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؑ فرماتے ہیں کہ آپ کپورتھلہ میں رہتے تھے اور کپور تھلہ کی جماعت کی حضرت مسیح موعودؑ اس قدر تعریف فرمایا کرتے تھے کہ آپ نے نہیں ایک تحریر بھی لکھ دی تھی جو جماعت نے رکھی ہوئی ہے کہ اس جماعت نے ایسا اخلاص دکھایا ہے کہ یہ جنت میں میرے ساتھ ہونگے، وہ حضرت مسیح موعودؑ سے بار بار دریافت کرتے کہ حضور کبھی کپورتھلہ تشریف لائیں ، آپؑ نے بھی وعدہ کیا ہوا تھا کہ جب موقع ہوا آئیں گے، ایک دفعہ حضرت مسیح موعودؑ بغیر اطلاع کئے کپورتھلہ پہنچ گئے۔۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ دشمنان احمدیت کے ایسے ایسے گندے خطوط میں نے حضرت مسیح موعودؑ کے نام پڑھے ہیں کہ انہیں پڑھ کر جسم کھولنے لگتا ہے لیکن حضرت مسیح موعودؑ صبر سے کام لیتے تھے ، فرماتے ہیں کہ ایسے خطوط اتنی کثرت سے آپؑ کے نام پہنچتے کہ میں سمجھتا ہوں کہ اتنی کثرت سے میرے نام بھی نہیں آتے ، حضرت مسیح موعودؑ کی طرف ہر ہفتے دو تین خط ایسے ضرور پہنچ جاتے تھے اور وہ اتنے گندے اور گالیوں سے پر ہوا کرتے تھے کہ انسان دیکھ کر حیران ہو جاتا ہے ۔ جو چیز منع ہے وہ یہ ہے کہ مردے کے متعلق یہ خیال کیا جائے کہ وہ ہمیں کوئی چیز دے گا، یہ امر صریح ناجائز ہے اور اسلام اسے حرام قرار دیتا ہے ، باقی رہا اس کا یہ حصہ کہ ایسے مقامات پر جانے سے رقت پیدا ہوتے ہےیا یہ کہ حصہ کہ انسان ان وعدوں کو یاد دلا کر جو اﷲتعالیٰ نے اپنے نبی سے کئے ہوں ،دعا کرے کہ الٰہی ہمارے وجود میں تو ان وعدوں کو پورا فرما، یہ نہ صرف ناجائز نہیں بلکہ روحانی حقیقت ہے اور مومن کا فرض ہے کہ وہ برکت کے ایسے مقامات سے فائدہ اٹھائے ۔ مولوی محمد یوسف صاحب درویش قادیان کی 94 سال کی عمر میں وفات۔

Hazrat Musleh Maud(ra) writes that in early 1908 Hafiz Ahmad Sahib sought marriage proposals for his two daughter Zainab and Kalsoom. There were a few proposals for Zainab and among those the Promised Messiah(as) did not like a proposal from a Misri Sahib but as was his way he did not emphasise on the matter too much. It is during these days the Promised Messiah(as) received the revelation: Do not kill Zainab. Hazrat Musleh Maud(ra) said that a Sikh came to see him and spoke about Hazrat Musleh Maud's elders. He said his father had asked the father of the Promised Messiah(as) about his 'other son' and his father had replied that he spent all his time in the mosque reading the Qur'an. He said he worried about his livelihood and suggested to his acquaintance to talk to his son. He said he wanted his son to get an employment but he refused. Another companion of the Promised Messiah(as) Munshi Roora Khan Sahib was also ardently devoted to the Promised Messiah(as). He was from Kapoorthala. The Promised Messiah highly praised Kapoorthala Ahmadis for their sincerity and said that they showed so much sincerity that they would be with him in Paradise. Once the Promised Messiah(as) arrived at Kapoorthala unannounced. Hazrat Musleh Maud(ra) said that enemies wrote extremely filthy letters to the Promised Messiah(as) and reading them made one's blood boil but the Promised Messiah was most patient in response. Hazrat Musleh Maud said these letters arrived in large numbers, perhaps two or three a week, while he received perhaps four or five such letters a year. These letters were foul and full of abuse. What is forbidden is to assume about a deceased person that he can give us something. This is wrong and Islam deems it haram. Other than this going to such locations and praying generates tenderness and humility in heart or praying by remembering the promises God made to His Prophets and supplicating to have those promises fulfilled in our persons is a spiritual reality and it is obligatory on true believers to seek such blessed locations to avail of them. Death of Maulawi Muhammad Yusuf Sahib, dervish of Qadian at age 94.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
17-Jul-2015   Urdu (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: The Significance of Jumu'ah Prayers
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam | Kannada
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Indonesian | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

رمضان کا مہینہ اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے ، آج شائد کئ جگہ آخری روزہ ہو، بعض جگہ کل آخری روزہ ہےاور یوں اﷲتعالیٰ کے فرمان کے مطابق گنتی کے چند دن گزر گئے، ہم میں سے بہت سوں نے ان دنوں کے فیض سے فیض اٹھایا ہوگا ، بعض کو ان دنوں میں نئے تجربات ہوئے ہونگے ، اب یہ دعا اور کوشش ہونی چاہئے کہ یہ فیض اور یہ برکات ، یہ نئے روحانی تجربات ہماری زندگیوں کا حصہ بن جائیں اور اﷲتعالیٰ کی طرف بڑھنے والے ہمارے قدم اب یہاں رک نہ جائیں بلکہ ہمیشہ بڑھتے رہنے والے قدم ہوں اور ہر قدم بے شمار قدمات کو سمیٹنے والا قدم ہو۔ یہ آیات جو حضور نے تلاوت فرمائی ہیں ، ان میں خداتعالیٰ نے نماز جمعہ کی ادائیگی طرف توجہ دلائی ہے اور یہ کہ تقویٰ پہ قائم رہو اور تمام دنیاوی معاملات کو پس پشت ڈال کراﷲتعالیٰ کا تقویٰ دل میں پیدا کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے، اﷲتعالیٰ نے ان آیات میں رمضان کے جمعوں یا رمضان کے آخری جمعہ میں شامل ہونے کا ارشاد اور حکم نہیں فرمایا بلکہ بلا تخصیص نماز جمعہ کی اہمیت کی طرف توجہ دلائی ہے، فرمایا کہ ہر جمعہ بہت اہم ہے، اگر تم مومن ہو تو جمعہ کا خاص دن جو اہم دنوں سے بڑھ کر ہے اس میں پنے کاروبار ، اپنی تجارتیں، اپنی مصروفیات چھوڑ کر شامل ہو۔ نہ ہی قرآن کریم میں اﷲتعالیٰ نے اور نہ ہی آنحضرتﷺ نے کہیں یہ ارشاد فرمایا ہے کہ رمضان کا آخری جمعہ بہت اہمیت کا حامل ہےبلکہ تمام جمعوں کو ہی اہم بتایا ہے بلکہ ایک حدیث ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مسلمانو جمعہ کے دن کو اﷲتعالیٰ نے تمہارے لئے عید بنایا ہے ، پس اس روز خاص اہتمام سے نہا دھو کر تیار ہوا کرو، پس یہ اہمیت ہے ہر جمعہ کی جو ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ ہر جمعہ کو یہ اہتمام کریں کہ تمام مصروفیات کو ترک کر یں، تمام کاموں اور کاروباروں سے وقفہ لیں اور مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے آئیں۔ آنحضرت ﷺ نے پانچ نمازیں فرماکر اس طرف بھی توجہ دلادی کہ یہ پانچ نمازیں تم پر فرض ہیں اور ان کو ان تمام لوازمات کے ساتھ ادا کرنا تم پر فرض ہے جو اﷲتعالیٰ نے بتائے ہیں، اسی طرح جمعہ کی طرف توجہ دلائی کہ جمعہ میں شامل ہو کر جن برکات سے اور امام کے خطبہ سے ہمارے اندر جو نیکی کا احساس پیدا ہوا ہے اس کو اگلے جمعہ تک قائم کرنا ہے ، ان پر عمل کرنے کی کوشش کرنی ہے جو باتیں ہوئی ہیں اور اگر یہ ہوگا تو ایک جمعہ سے اگلا جمعہ تمہیں برائیوں سے نجات دے گا،اسی طرح رمضان کی اہمیت بیان فرمائی۔ پس یہ رمضان بھی اور جمعہ بھی اور ہماری عبادتیں بھی ہمیں اس طرف توجہ دلانے والی ہونی چاہئیں کہ ہم نے جہاں تقویٰ کے پہلے مرحلے میں بدیوں کو مکمل طور پر چھوڑنا ہے وہاں تقویٰ کے اگلے مرحلے پر چلتے ہوئے تمام نیکیوں کو پورے اخلاص سے ادا کرنا ہے ، یہ کوئی نیکی نہیں کہ نمازوں کی مثلا مجھے عادت پڑ گئی اور نماز پڑھنے کے بعد وہیں مسجد میں بیٹھ کر ایک دوسرے کی برائیاں شروع کر دیں یا ایسی باتیں کرنے لگ گئے جن کا نیکیوں سے کوئی تعلق نہیں تو یہ تو تم نے پہلا مرحلہ بھی طے نہیں کیا۔

The month of Ramadan is coming to an end. In places today is the last day of fasting and in places tomorrow will be the last day. And thus the fixed number of days of Ramadan will be over. Many among us would have attained the beneficence of Ramadan and would have gone through new spiritual experiences. Now the prayer and effort should be to make these spiritual experiences a part of life and steps taken towards God during Ramadan should not halt but should ever be onwards and upwards and may each of these steps garner limitless blessings. As the aforementioned verses clarify that God has drawn attention to attend Friday Prayers with righteousness and by putting everything else aside. There is no specific mention of Fridays during Ramadan or indeed the last Friday in Ramadan. Rather, the significance of Friday without any exception is stated and it is stated to leave off one's businesses on the day and attend Prayer, stressing the significance of attending an important aspect of faith. Thus, neither God in the Holy Qur'an nor the Holy Prophet(saw) laid emphasis on the last Friday of Ramadan. Rather, all Fridays are of significance. The Holy Prophet(saw) said God has made Friday a day of Eid for you. You should bathe and get yourself ready on this day. This demands that we take time off from everything on Fridays and go to the mosque. Our attention is drawn to the obligatory five daily Prayers, similarly attention is drawn to Friday Prayers. The sense of piety garnered by attending one Friday Prayers should be maintained till the next Friday. In such a situation one Friday till the next will deliver one from sin and be a source of pardon. Thus the significance of every single Friday is stated. Similarly the significance of Ramadan is stated. This Ramadan, Friday and our worship should make us realise that while we have abandoned evil as the first stage of righteousness, we also have to embark on the next stage of righteousness and fulfil all pieties with absolute sincerity. It should not be that we should feel proud that we have become regular in Salat and after saying Salat while still in the mosque we start criticising others or talk about matters which have nothing to do with piety. This way we would not have even traversed the first stage of righteousness!

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
10-Jul-2015   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Allah's Mercy, Forgiveness and Rewarding
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam | Kannada
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Indonesian | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

اﷲتعالیٰ کے فضل و کرم سے ہم رمضان کے آ خری عشرے میں سے گزر رہے ہیں اور آنحضر تﷺ کے ارشاد کے مطابق ہم اﷲتعالیٰ کی رحمت اور مغفرت کے عشروں میں سے گزرتے ہوئے جہنم سے نجات دلانے والے عشرے میں سے گزر رہے ہیں، پس یہ اﷲتعالیٰ کا بے حد احسان ہے کہ اس نے ہمیں یہ موقع نصیب فرمایا لیکن ایک مومن جس کا اﷲتعالیٰ پہ ایمان ہے اور اس کا تقویٰ اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہے، اس کے دل میں خداتعالیٰ کا خوف بھرا ہوا ہے، وہ صرف اس بات پر خوش نہیں ہو سکتا کہ یہ دن اور عشرے میری نجات کا باعث بن گئے۔ پس اﷲتعالیٰ اپنے بندوں پر مہربان ہے لیکن جب قانون الٰہی سے تجاوز کرنے پر غضب یا سزا کا مورد انسان بنتا ہے ، چھوٹی غلطیوں کو تو اﷲتعالیٰ معاف کر دیتا ہے لیکن جب انتہائی حد سے انسان بڑھنا شروع کر دے تو پھر اﷲتعالیٰ کی عدل کی صفت کام کرتی ہے لیکن عموما اﷲتعالیٰ کی رحمت نے ہر چیز کو گھیرا ہوا ہے، لیکن بعض دفعہ قانون الٰہی کو توڑنے کا تقاضا ہوتا ہے کہ سزا ملے لیکن اﷲتعالیٰ پھر بھی رحم کرتے ہوئے بخش دیتا ہے ، لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ یہ کیفیت مومنوں کیلئے نہیں ہے، جو حقیقی مومن ہیں ان کا مقام کچھ اور ہے ، ایمان کا تقاضا ان ایمانی حالتوں کو درست رکھنا اور اﷲتعالیٰ کو حکموں پر چلنے کی حتی المقدور کو شش کرنا ہے۔ پس رمضان میں جو ہمیں مغفرت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے تو اس روح کو سامنے رکھنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ استغفار کرو ، اس فیض سے حصہ لینے کیلئے جو محسنین سے مخصوص ہے نیکیوں کے بجا لانے کیلئے طاقت پکڑنے کی ایک مومن کوشش کرے وہاں استغفار سے اﷲ تعالیٰ کی روشنی سے روشنی لے اور اﷲتعالیٰ کی طاقت سے طاقت پکڑے تاکہ کبھی اﷲتعالیٰ کی روشنی سے محروم ہو کر اندھیروں میں نہ بھٹکنے لگے، یا اﷲتعالیٰ کی طاقت سے بے فیض ہو کر شیطان کی جھولی میں نہ گرے، اگر خداتعالیٰ کی طاقت ساتھ نہ ہو تو شیطان کے حملے بڑے سخت ہیں ، اس لئے استغفار کرنا بہت ضروری ہے۔ قرآن کریم کے ارشاد کے مطابق جہنم سے بچنا اور جنت کا اصول صرف اخروی جنت اور جہنم نہیں ہے بلکہ اس دنیا کی بھی جنت اور جہنم ہے اور اس سے بچنا صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب انسان اﷲتعالیٰ سے ڈرے جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ حقیقی محسن وہ ہے جو ہر وقت خیال رکھتا ہے کہ خداتعالیٰ مجھے دیکھ رہا ہے اور جب یہ احساس ہو کہ خداتعالیٰ مجھے دیکھ رہا ہے تب خداتعالیٰ کا خوف پیدا ہوتا ہے اور تبھی انسان برائیوں سے بچتا ہے اورجو برائیوں سے بچتا ہے وہ دل کی بے چینیوں سے بھی بچتا ہے ، پس اﷲتعالیٰ کا خوف رکھنے والا اس دنیا اور آخرت میں جنت کما رہا ہوتا ہے اور برائیوں اور شہوات نفسانی میں مبتلا اس دنیا میں بھی اور اگلے جہاں میں بھی جہنم کما رہا ہوتا ہے۔ ہم جو آنحضر تﷺ کے عاشق صادق کو ماننے والے ہیں ، ہمیں اپنی حالتوں میں انقلاب پیدا کرتے ہوئے اپنے ایمانوں کو اس مقام تک لے جانے کی ضرورت ہے جہاں ہمارا ہر قول و فعل خداتعالیٰ کی رضا کی حصول کیلئے ہو جائے، ہم اپنا محاسبہ کرتے ہوئے اپنی زندگیاں گزارنے والےبن جائیں اور رمضان کی برکات ہمیشہ ہمارے اندر قائم رہیں۔

With the grace of Allah today we are going through the twenty second day of fasting and are in the third ashra (ten days) of Ramadan. According to a saying of the Holy Prophet(saw) we have passed Ramadan's ten days of God's mercy and then ten days of God's forgiveness and are now going through ten days of salvation from the fire of Hell. It is God's favour on us that He has granted us the opportunity to experience this. Indeed, God is Gracious but when man violates His law and is guilty of chastisement God's attribute of justice comes into play. Generally God's mercy encompasses everything but in places violation of Divine law requires punishment, yet God can have mercy and forgive. Such a situation is not becoming for a Muslim. A true believer has special status and his belief demands to keep his spiritual state in check and abide by God's commandments to the best of his abilities. However, if owing to human frailties he happens to commit sin, God's mercy covers him. Drawing attention to Divine mercy during Ramadan signifies that God's favours and grace specifically come into play during this month and during the ten days of mercy His special beneficence which is specific to forgiveness is dispensed. During this time one should seek power to do good and seek light from God's light so that one does not turn to darkness again. Man is inherently weak and thus in order to safeguard against this weak state and to take power from God's power, Istighfar is necessary. The Islamic concept of Heaven and Hell is not limited to the Hereafter. There is also heaven and hell in this world. As the hadith of the Holy Prophet(saw) explained if we think that we can see God or that God is seeing us at all times, it will stop us from going astray. Those who do wrong are always in fear of being caught and this in itself puts them in a hellish state. One who fears God attains paradise in this world and the Hereafter and one who is embroiled in evil selfish and base desires is embroiled in hell in this world and the Hereafter. We, the followers of the true and ardent devotee of the Holy Prophet(saw), the Promised Messiah(as) need to bring about a revolutionary change in ourselves and elevate our state of faith to the level where our each word and deed is to attain pleasure of God and where we spend our lives holding ourselves accountable. May the blessings of Ramadan always remain with us!

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
03-Jul-2015   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Self-Reformation and helping others Reform
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam | Kannada
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Indonesian | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

یہاں یہ چیز ہر ایک کو واضح ہونی چاہئے، کسی بھی عہدیدار کو یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ نصیحت کرنا میرا کام نہیں ہے ، یہ تو صرف امیر جماعت، صدر جماعت یا سیکرٹری یا مربی یا دوسرے سیکرٹریان کا کام ہے یا اسی طرح صدر انصاراﷲ یا ان کے تربیتی شعبہ کاکام ہے، یا صدر خدام الاحمدیہ یا ان کے تربیتی شعبہ کا کام ہے، نہیں بلکہ ہر سیکرٹری چاہے وہ سیکرٹری ضیافت ہے یا ذیلی تنظیموں میں کھیلوں کا نگران ہے ، اس کو چاہئے کہ وہ اپنے نیک نمونے قائم کرے، اگر یہ ہوجائے تو پچاس فیصد سے زیادہ جماعت اﷲتعالیٰ کے فضل سےاﷲتعالیٰ کے حکموں پہ چلنے والی بن سکتی ہے، چاہے وہ مسجدوں میں نمازوں کی حاضری ہو یا دوسری قربانیوں اور حقوق العباد کا معاملہ ہو۔ ہم میں سے اکثر کو خداتعالیٰ کی عبادت کی طرف توجہ صرف اس لئے ہوئی ہے کہ رمضان کا مہینہ برکتوں کا مہینہ ہے اور دعاؤں کی قبولیت کا مہینہ ہے ، اس لئے ہم بھی اﷲتعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے والے بنیں اور اس رمضان کے مہینے سے فائدہ اٹھائیں ، اس بارہ میں ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ خداتعالیٰ کی نظر ہمارے دل کی گہرائیوں تک ہے ، وہ ہماری نیتوں کو جانتا ہے اور ہمارے اعمال کو ہماری نیتوں کے مطابق دیکھتا ہے ، تو پھر ہمیں اس نیت سے مسجدوں کی آبادی اور عبادت کی طرف توجہ دینی چاہئےکہ ہم اﷲتعالیٰ کا تقویٰ اختیار رکریں اور اس مہینے کی عبادتوں کو پھر زندگی کا حصہ بنانے کی کوشش کریں۔ آنحضرتﷺ نے فرمایا: کسی شخص کے دل میں ایمان اور کفر، نیز صدق اور کذب اکٹھے نہیں ہو سکتے اور نہ ہی امانت اور خیانت اکٹھے ہو سکتے ہیں، پس ایمان کی نشانی سچائی ہے اور امانت کی ادائیگی بھی ، اس لئے ایک موقع پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا مومن میں جھوٹ اور خیانت کے علاوہ بری عادتیں ہو سکتی ہیں، جھوٹ بولنے والا اور خیانت کرنے والا مومن ہے ہی نہیں ، امانتوں کا حق ادا کرنے کا مضمون اور خیانتوں سے بچنے کا مضمون بڑا وسیع مضمون ہے اور ایک مومن سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اس کی اہمیت اور وسعت کو سمجھے۔ امانتوں کے حق ادا کرنے کے بارہ میں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ لڑکا لڑکی جب شادی کے بندھن میں بندھ جاتے ہیں تو ایک دوسرے پر ان کے کچھ حقوق ہیں اور ان حقوق کی ادائیگی ایک امانت ہے، ان میں خاوند کے ذمہ جو امانت ہے وہ عورت کا حق مہر ہے وہ اسے ادا کرنا چاہئے، بہت سے معاملات آتے ہیں جب جھگڑے پڑ جاتے ہیں تو کوشش یہی کی جاتی ہے کہ حق مہر نہ اد ا کیا جائے، آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ جس نے کسی عورت سے شادی کیلئے مہر مقرر کیا اور نیت یہ کہ کہ وہ اسے نہیں دے گا تو وہ زانی ہےاور جس نے کسی سے قرض اس نیت سے لیا کہ وہ اسے ادا نہیں کرے گا تو وہ چور ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: مومن وہی ہے جو غصہ کو کھا جاتے ہیں اور ظالم لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں اور بیہودگی کا بیہودگی سے جواب نہیں دیتے، آپؑ نے جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اس جماعت کو تیار کرنے سے غرض یہی ہے کہ زبان ،کان ، آنکھ اور ہر ایک عضو سے تقویٰ سرایت کر جائے، تقویٰ کا نور اس کے اندر اور باہر ہو ،اخلاق حسنہ کا اعلیٰ نمونہ ہو اور بے جا غصہ اور غضب وغیرہ بالکل نہ ہو۔

It should be clear to all office-holders that advising others is not just the responsibility of the Ameer, or the presidents of Ansar, Khuddam or Lajna or their respective tarbiyyat secretaries. Each secretary, for example those serving for hospitality or sports should all present themselves as role models in this regard. If this was put in practice it would ensure that more than fifty percent of Jama'at would abide by commandments of God, be they regarding attending the mosque or be they about paying dues of mankind. Most people focus on worship of God during Ramadan because it is a month of blessings and acceptance of prayers and they wish to seek the beneficence. It should be remembered that God knows what is in the depth of our hearts and knows our intentions and sees our practices in accordance with our intentions. Therefore we should focus on worship of God with the intention of abiding by righteousness and make the worship offered in this month part of our life. The Holy Prophet(saw) said that belief and disbelief, veracity and falsehood cannot co-exist in a person's heart. Similarly trust and betrayal of trust cannot co-exist. The Holy Prophet(saw) also said: A believer may have bad habits aside from falsehood and betraying trusts; he cannot (by definition) have these two habits. The subject of betrayal of trusts is a vast subject and it is expected of a believer to know its significance and its scope. It should also be remembered that in domestic matters after marriage young men and women have some rights over each other and fulfilling these rights is a trust. A husband holds a trust to pay his wife haq mehr (dower). Many cases are brought up where in instances of conflict efforts are made not to pay haq mehr. The Holy Prophet(saw) said that a man who has haq mehr fixed at marriage with no intention to pay it is an adulterer and a person who takes a loan with no intention of paying it back is a thief. The Promised Messiah(as) said: True believers are those who suppress anger and forgive attacks of crude and cruel people and do not respond to rudeness with rudeness. He advised his Jama'at and said, the purpose of preparing this Jama'at is to instil righteousness in speech, sight hearing and every other faculty and a person has the light of righteousness inside and outside and is an excellent model of courtesy with no unwarrantable anger and fury.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
26-Jun-2015   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Ramadhan: Self-Reformation and Our Responsibilities
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں ہماری جماعت کو قیل و قال پر محدود نہیں ہونا چاہئے،یہ اصل مقصد نہیں،تزکیہ نفس اور اصلاح ضروری ہے، اس کیلئے اﷲتعالیٰ نے مجھے مامور کیا ہے، پس آپؑ چاہتے ہیں کہ جماعت میں عملی تبدیلی پیدا ہو، یہ نہ ہو کہ جہاں اپنا مفاد دیکھو وہاں اپنی بات کو بدل لو، اپنے اخلاق کے معیاروں کو قائم نہ رکھ سکو بلکہ ایمان اور اﷲتعالیٰ کی باتوں پر عمل اور اپنے نفس کی اصلاح اور اسے ہمیشہ پاک رکھنا اپنی زندگیوں کا حصہ بنا لو اور جب یہ ہوگا تبھی آپؑ کی بیعت میں آنے کا حق ادا ہوگا، پس ایک احمدی کو یاد رکھنا چاہئے کہ آپؑ کی بیعت کا حق ادا کرنے کیلئے اﷲتعالیٰ کے احکامات کی طرف نظر رکھنے کی ضرورت ہے، ان پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ خداتعالیٰ نے مجھے فرمایا ہے کہ اس حد تک انکساری اختیار کرو کہ کوئی کسی پر فخر نہ کرے ، اس معیار کو جانچنے کیلئے کوئی بیرونی آلہ یا طریقہ نہیں ہے، ہر شخص جو حقیقت میں ایمان کا دعویٰ کرتا ہے تو پھر اس کو اپنا محاسبہ خود ہی کرنا چاہئے، وہی صحیح بتا سکتا ہے کہ کہا ہم فخر سے بالکل پاک ہیں، کیا ہمیں اپنے اعلیٰ خاندان ہونے پر فخر تو نہیں، ہمیں اپنی مالی حالت دوسروں سے بہتر ہونے پر فخر تو نہیں، ہمیں اپنی اولاد کے تعلیم یافتہ ہونے پر فخر تو نہیں، ہمیں اپنی علمی قابلیت پر فخر تو نہیں،ہمیں اپنی کسی نیکی پر فخر تو نہیں، آنحضرت ﷺ نے فرمایا کسی عربی کو عجمی پر فوقیت نہیں اور نہ عجمی کو عربی پر ۔ رمضان کے ان دنوں میں ہمیں اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے، اپنے گھروں کے جھگڑوں کو خداتعالیٰ کی خاطر ختم کر کےسلامتی اور امن کی فضا ہر احمدی کو پیدا کرنے کی ضرورت ہے، اپنے بھائیوں سے جھگڑوں کو ختم کر کے جس کی بنیاد اکثر انا اور تکبر ہوتی ہے، معاشرے میں سلامتی پھیلانے کی ہر احمدی کو کوشش کرنی چاہئے،مخالفین کی باتوں پر صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کی ہدایت کیلئے دعائیں کرنے کی ضرورت ہےتاکہ دنیا کے فساد بھی ختم ہوں، ہم امن اور سلامتی اور محبت کو دنیا میں قائم کرنے کی باتیں تو بہت کرتے ہیں لیکن حقیقت اس وقت سامنے آتی ہے جب ہم خود اس معاملے میں ملوث ہوں اور خداتعالی کی خاطر قربانی دے کر اس امن اور پیار کو قائم کرنے کی کوشش کریں جس کا اﷲتعالیٰ ہمیں حکم دیتا ہے۔ پس یہ رمضان کے دن جو اﷲتعالیٰ کے فضل سے پاک تبدیلیوں کے پیدا کرنے اور قبولیت دعا کے اﷲتعالیٰ نے ہمیں مہیا فرمائے ہیں، ان میں اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے، جس جس کو جس بات پر فخر ہے یا جو چیز ہمیں ہماری عاجزی اور انکساری میں بڑھانے میں روک ہے یا جو چیز بھی ہمارے ماحول میں ہماری وجہ سے فتنے کا باعث بن سکتی ہے ، اسے ہمیں اﷲتعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے ، اس سے مدد مانگتے ہوئے دور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ ہمارا وجود ہر جگہ سلامتی پھیلانے والا وجود بن جائے نا کہ بے چینی اور فساد پھیلانے کا ذریعہ۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں اگر تم چاہتے ہو کہ آسمان پر خدا تم سے راضی ہو تو باہم ایسے ہو جاؤ جیسے ایک پیٹ میں سے دو بھائی، تم ماتحتوں پر اور اپنی بیویوں پر او راپنے غریب بھائیوں پر رحم کرو تا آسمان پر بھی تم پر رحم ہو، تم سچ مچ اس کے ہو جاؤ تاکہ وہ بھی تمہارا ہو جائے، جو کوئی اپنی زندگی بڑھانا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ نیک کاموں کی تبلیغ کرے اور مخلوق کو فائدہ پہنچاوے۔ ہدایت بی بی صاحبہ اہلیہ مکرم عمر احمد صاحب درویش قادیان کی وفات، مولوی محمد احمد ثاقب صاحب کی وفات۔

Promised Messiah(as) wanted practices of the Jama'at to change. By saying not to limit ourselves to discussions and debates he meant not to confine ourselves to words and perhaps change our stance to suit ourselves and not able to uphold good moral standards. He wanted us to make purification of self a constant part of our lives in order to fulfil the dues of Bai'at. Ahmadis should remember that in order to fulfil dues of Bai'at we have to keep God's commandments in view and put them in practice. The Holy Prophet(saw) taught us to adopt humility to such a degree that none should be proud of anything. There is no external way to gauge this and each person who claims to have faith needs to self-reflect and see if he is free from all pride; pride of lineage, pride of wealth, pride of highly educated offspring, pride of one's academic prowess etc. The Holy Prophet(saw) said that no Arab is superior to a non-Arab and no non-Arab is superior to an Arab. We need to self-reflect during Ramadan and end family disputes for the sake of God and create an environment of peace. Disputes among brothers are usually caused by egotistical reasons and should be ended and prayers should be made for our opponents so that disorder and chaos in the world ends. We talk a lot about peace but it comes to the crunch when we are also embroiled in disputes and end them for the sake of God. We should spend these days in Ramadan available to us to bring about pure changes and gain acceptance to prayers and we should reflect over these matters. We should turn to God, seek His help to remove any and every kind of pride and arrogance we may harbour and which are impediments in developing humility and also play a part in spreading restlessness and discord. So that peace and accord may spread and no one endures restlessness due to us. The Promised Messiah(as) said: If you wish God in the heavens to be pleased with you then be as one with each other just as two brothers in a mother's womb. Be kind to your subordinates, your wives and your needy brothers so that kindness is shown to you in the heavens. If you become truly His, He will also become yours'. Death of Hadayat Bibi Sahiba, wife of a dervish of Qadian and Death of Maulawi Muhammad Ahmad Saqib Sahib

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
19-Jun-2015   Urdu (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Harnessing the blessings of Ramadhan
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam | Kannada
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Indonesian | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا : آج جمعہ کا بابرکت دن ہے اور رمضان کے بابرکت مہینہ کا پہلا روزہ ہے، پس آج کا دن بے شمار برکتوں سے شروع ہونے والا دن ہے، آنحضرت ﷺ نے جمعہ کے بابرکت دن ہونے کے بارہ میں خبر دی کہ اس میں ایک ایسی گھڑی آتی ہے جس میں مومن اپنے رب کے حضور جو دعا کرے وہ قبول کی جاتی ہےاور پھر رمضان کے بارہ میں آپﷺ نے فرمایا کہ جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں، پس اﷲتعالیٰ کی رحمت اس مہینہ میں جوش میں آتی ہےاور مومنوں پر اﷲتعالیٰ کی رحمتوں اور برکتوں کی بارش ہوتی ہے۔ عام طور پر رمضان میں اﷲتعالیٰ نے شیطان کو باندھ کر جنت کے دروازے کھول دیئے ہیں اور بندوں کے قریب آگیا ہے، اور پھر رمضان کے جمعوں سے بھی بھرپور فائدہ اٹھانا چاہئے لیکن سب سے اہم دعا جو ان دنوں میں کرنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ انتہائی عاجزی سے اور خالص ہوتے ہوئے اﷲتعالیٰ سے یہ دعا انسان کرے کہ اے اﷲمجھے صرف رمضان میں ہی نہیں بلکہ عام حالات میں بھی ان لوگوں میں شامل کر لے جن کی دعائیں رات کو بھی قبول ہوتی ہیں اور دن کو بھی قبول ہوتی ہیں تاکہ رمضان ایک پاک تبدیلی پیدا کرنے والا ہو، تقویٰ پر چلانے والا ہو، میں مستقل ہدایت پانے والوں میں شامل ہوجاؤں۔ اﷲتعالیٰ کا احسان ہے کہ ہم نے حضرت مسیح موعودؑ کو مانا، آپؑ نے بار بار افراد جماعت کو تقویٰ پر قائم رہنے کی نصیحت فرمائی، پھر ایسا روحانی نظام(خلافت) اﷲتعالیٰ نے ہمیں عطا فرمایا جو تقویٰ کے بیج کو قائم رکھنے کیلئے توجہ دلاتا رہتا ہے،پھر رمضان کے مہینے میں اس بیج کے پنپنے کے سامان اﷲتعالیٰ نے مہیا فرما دئیے، اور پھر ہمیں اس بیج کی نشونما کے طریق بتاتے ہوئے اسے پھلدار بنانے کی خوشخبری بھی دے دی، پس اس مہینے کی برکات سے فیض اٹھانےکیلئے ہم میں سے ہر ایک کو اﷲتعالیٰ کا عبد بننے کی کوشش کرنی چاہئے۔ بدر کی جنگ میں جب دشمن شکست کھا چکا تھا اور جنگ تقریبا ختم تھی اور کفار کے بڑے بڑے سپاہی اپنی سواریو ں پر میدان جنگ سے بھاگنے کو کوشش کر رہے تھے، اس وقت ایک عورت میدان جنگ میں بغیر کسی خوف کے پھر رہی تھی اور اس پر جوش و جنون طاری تھا، اور کبھی ایک بچہ کو اٹھاتی اور کبھی دوسرے کو، جب آنحضرت ﷺ نے اس عورت کو دیکھا تو صحابہؓ سے فرمایا : اس عورت کا بچہ گم گیا ہے اور یہ اسے تلاش کر رہی ہےاور ماں کی محبت اس قدر غالب ہے کہ اس کو کوئی فکر نہیں کہ یہ میدان جنگ میں ہےاور یہاں ہر طرف تباہی مچی ہوئی ہے، وہ عورت اس طرح دیوانہ وار پھرتی رہی، جس بچے کو دیکھتی ، اسے گلے لگالیتی لیکن جب غور کرتی تو اس کا بچہ نہ ہوتا۔ پس یہ رمضان کے دن جو اﷲتعالیٰ نے ہمیں مہیا فرمائے ہیں ، ان میں ہمیشہ یہ بات یاد رکھنی چاہئے اور التزام سے یہ دعا کرنی چاہئے کہ اﷲتعالیٰ اسلام اور احمدیت کی فتح کے جلد سامان پیدا فرمائے، ہم آنحضرتﷺ کی مٹھی کے کنکر بن جائیں جن کی مدد کیلئے اﷲتعالیٰ نے کروڑوں کنکروں کی آندھی چلا دی تھی اور کفار کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، اﷲتعالیٰ ہماری کمزوریوں کو دور کر کے ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں سے چشم پوشی فرمائےاور اپنے فضل سے ایسے سامان پیدا فرمائے کہ ہم اپنا مقصود پانے والے ہوں اور ہماری کمزوریوں اور کوتاہیاں غیروں کو خوشی کے مواقع فراہم کرنے والی نہ ہوں۔

Today is Friday and the first day of the blessed month of Ramadan thus making it a day of countless blessings. The Holy Prophet(saw) said that there is an hour on Friday when whatever a true believer supplicates gains acceptance by God. And he told us about Ramadan that during this month doors to Paradise are opened while doors to Hell are shut. God's grace and mercy is particularly stirred in Ramadan and true believers are showered with blessings. Generally speaking during Ramadan God puts Satan in fetters, opens doors to Paradise and comes closer to man. On top of this, Fridays during Ramadan should be fully availed of. The main prayer of a believer should be made with humility to be included among those whose prayers of night and day are accepted all the time and not only in Ramadan; so that one may be permanently guided. We are most fortunate that we accepted the Promised Messiah(as) who repeatedly told us to abide us by righteousness. After him we have been given a spiritual system [of Khilafat] which reminds us time and again regarding the essence of righteousness. Indeed, Ramadan too comes each year to nourish and sustain this essence. Everyone should try and avail the beneficence of this sacred month and become servant of God. When the enemy was completely defeated in the Battle of Badr and prominent and daring disbelievers were whipping their mounts to retreat from the frontline a woman was found fearlessly going around the battlefield. She would pick up any child she saw and then put it down. The Holy Prophet(saw) said, this woman has lost her child. Mother love was so overwhelming that she had no fear of being in the middle of destruction filled battlefield and hugged every child she saw and then let go realising it was not hers. We should especially pray a lot during these days of Ramadan for the triumph of Islam. May we become like the handful of pebbles of Badr. May God overlook our negligence and mistakes and make such arrangements that we attain our objective. May our negligence never be a source of joy for others and with His grace, may God strengthen our weak hands to do the task that needs doing.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
12-Jun-2015   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Jalsa Salana Germany 2015: Proclaim the Bounties of Allah
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam | Kannada
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا: جب حضور سفر پر جاتے ہیں تو اﷲتعالیٰ کے فضل کئی گنا بڑھ کر ہوتے ہیں ، اﷲتعالیٰ اپنے فضل سے پروگراموں میں برکت ڈالتاہے اور تبلیغ اور حقیقی اسلام کا پیغام بھی بڑی کثرت سے لوگوں تک پہنچتا ہےاور پھر لوگوں پر اس کا اثر بھی ہوتا ہے، گزشتہ دنوں جب حضور جلسہ سالانہ جرمنی میں شمولیت کیلئے تشریف لے گئے ہیں تو اصل مقصد تو جلسہ سالانہ جرمنی میں شمولیت تھی لیکن اس کے ساتھ ہی خداتعالیٰ خود ہی ایسے پروگرام بھی کروا دیتا ہے جو اسلام کے حقیقی تعارف اور تعلیم کو لوگوں تک پہنچانے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ ہنگری سے ایک دوست جلسہ میں شامل ہوئے، کہتے ہیں کہ چھوٹا بڑا ہر ایک کو سلام کر رہا تھا ، پیار سے مل رہا تھا، مجھے ان لوگوں کی زبان تو سمجھ میں نہیں آئی لیکن ان کے چہرے کے تاثرات سے لگ رہا تھا کہ یہ لوگ پیار بانٹ رہے ہیں، میں نے دنیا دیکھی ہے او رمشرق سے لیکر مغرب تک اس قسم کا نظارہ نہیں دیکھا، مجھ پر جلسہ کا عجیب اثر ہوا ہے، یقینا میں اپنے دوستوں اور جاننے والوں کو جماعت احمدیہ کے جلسہ کے بارہ میں بتاؤں گا۔ ملک شام سے ایک مہمان جن کے والد احمدی ہیں ، ان کے والد صاحب کے ذریعہ انہیں تبلیغ تو ہوتی رہی لیکن ابھی انہوں نے بیعت نہیں کی تھی، جلسہ سے پہلے ان کے سوال و جواب ہوتے تھے مبلغ صاحب کے ساتھ صداقت حضرت مسیح موعودؑ کے بارہ میں لیکن وہ نہیں مان رہے تھے، مبلغ نے ان کہا کہ آپ درد سے دعا کریں کہ اﷲتعالیٰ آپ کی راہنمائی کرے، جلسہ کے دوسرے روز حضرت خلیفۃ المسیح کا خطاب تھا اور تبلیغی مہمانوں کے ساتھ میٹنگ تھی، اس کے بعد مہمان نے مبلغ سے کہا کہ مجھے قرآن کریم سے حضرت مسیح موعودؑ کی صداقت کی صرف ایک دلیل دے دیں۔ اٹلی سے آنے والے ایک عیسائی مہمان جو ایک تنظیم ریلیجن آف پیس کے جنرل سیکرٹری ہیں اور ویٹی کن سٹی میں کافی اثر و رسوخ رکھتے ہیں، وہ بڑا اچھا اثر لے کر گئے ہیں، بلکہ انہوں نے واپس اٹلی جاکر ایک مضمون لکھا جس میں وہ لکھتےہیں کہ مجھے اعتراف کرنا پڑے گا کہ جلسہ سالانہ کا منظر نہایت حیران کن تھا ، انسان کی نظر جب بڑے بڑے حروف میں لکھے پیغام محبت سب کیلئے نفرت کسی سے نہیں پر پڑتی ہے تو پہلا سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا یہ لوگ واقعی مسلمان ہیں ، اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ لوگ واقعی مسلمان ہیں ، وہاں کا ماحول عجیب محبت اور یگانگت سے پر ہوا ہوا تھا، میں نے خود مشاہدہ کیا کہ ہزاروں کی تعداد میں مختلف اقوام سے تعلق رکھنے والے جوان ، بوڑھے، بچے اور فیملیاں ایک نہایت منظم جماعت کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ پس جلسہ سالانہ جہاں اپنوں کیلئے تربیتی اور روحانی ترقی کا باعث بنتا ہے وہاں غیروں کو بھی اسلام کی حقیقی تصویر پیش کرنے کا باعث بنتا ہے، کئی لوگ جو پہلے انتظامیہ کے علم کے مطابق بیعت کیلئے تیار نہیں تھے، حضور سے ملاقات کے بعد اور چند سوال پوچھنے کے بعد بیعت کیلئے تیار ہوگئے ، پس کس کس فضل اور احسان کا انسان شکر ادا کرے، اﷲتعالیٰ کرے کہ اب جماعتیں ان فضلوں کو سنبھالنے والی بھی ہوں اور یہ نئی بیعتیں کرنے والے جو لوگ ہیں ان کو بھی صحیح رنگ میں اپنے میں سمو سکیں اور جلسہ کی یہ برکات وسیع تر پھیلتی چلی جائیں، اﷲتعالیٰ ان تمام احباب جماعت کو جلسہ میں شامل ہوئے ان کو بھی برکات سے مستقل فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ رشیدہ بیگم صاحبہ زوجہ درویش قادیان کی وفات۔

Hazrat Khalifatul Masih said that during his trips abroad God's bounties increase manifold. With His grace God blesses the programmes and the true message of Islam reaches a large number of people impressing them along the way. The main purpose of Huzoor's recent German tour was to grace the German Jalsa Salana, however many programmes took place through which true Islam was introduced to others. A guest from Hungary said he was very impressed how everyone, young and old greeted each other warmly at Jalsa. Although he did not understand the language people spoke their faces showed him that they were all dispensing feelings of love. He said he had seen the east and the west but had never seen what he saw at Jalsa ever before. A guest from Syria whose father is an Ahmadi and had done Tabligh to him but the son had not taken Bai'at. He had a question and answer session with our missionary but was still not convinced. He was asked to pray, he said he prayed anyhow, he was told to pray fervently. On the second day of Jalsa a meeting was held with Hazrat Khalifatul Masih after his address. The guest said to our missionary on the day to give him one proof of the truthfulness of the Promised Messiah(as) from the Holy Qur'an. A Christian guest from Italy came to Jalsa who is the general secretary of an organisation called 'Religions for Peace'. He also has influence in the Vatican. He took a very positive impression of Jalsa and wrote an article in which said he had to acknowledge that he was impressed by what he saw. He said Ahmadis are truly Muslims. He said it was his personal observation that thousands belonging to different ethnicities came together at Jalsa which was managed by hundreds of volunteers. While Jalsa Salana facilitates spiritual development for our own it also provides a true illustration of Islam to others. Many people who were not ready to take Bai'at previously felt ready after meeting Hazrat Khalifatul Masih and after asking some questions. We have so much to be grateful for! May God enable the Jama'at to look after these new comers and may the blessings of Jalsa spread far and wide. May God enable every attendee of Jalsa to enjoy its lasting benefits! Death of Rasheeda Begum Sahiba, wife of a dervish of Qadian.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
05-Jun-2015   Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Jalsa Salana Germany 2015: Striving for Revolutionary Self-Reformation
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam | Kannada
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Indonesian | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا: ایک زمانہ تھا کہ جلسہ سالانہ میں شرکت کیلئے ہندوستان میں رہنے والے احمدیوں کیلئے بھی جلسے کیلئے آنا ، کرایوں وغیرہ کے اخراجات کی وجہ سے بہت مشکل تھا، اسی لئے حضرت مسیح موعودؑ نے جماعت کو تحریک فرمائی کہ سال بھر اس مقصد کیلئے کچھ نہ کچھ جوڑتے رہیں تاکہ جلسہ سا لانہ کیلئے زاد راہ میسر آجائے لیکن آج ہم دیکھتے ہیں کہ ترقی یافتہ ممالک میں جلسہ میں شامل ہونے والوں کی کاروں کی تعداد ہی اتنی ہوتی ہےکہ انتظامیہ کو کار پارکنگ کیلئے خاص طور پر انتظام کرنا پڑتا ہے جو محنت طلب ہے، آپ میں سے بہت سے ایسے ہونگے جو جلسہ میں شمولیت کیلئے اپنے اوپر تنگی وارد کر کے اور تکلیف اٹھا کر جاتے ہونگے۔ پس یہ بات جہاں اس لحاظ سے خوش کن ہے کہ اﷲتعالیٰ نے حالات بدل دیئےہیں وہا ں ان بزرگوں کی اولادوں کیلئے اپنے جائزے لینے کی طرف متوجہ ہونے کی بھی ضرورت ہےکہ ہم اپنے جائزے لیں کہ ہم اپنے تعلق باﷲ، اپنے ایمان اور اﷲتعالیٰ کے حکموں پر چلنے کی باپندی کرنے کے لحاظ سے کس مقام تک پہنچے ہیں،اگر ہمارے خاندانوں میں ہمارے بزرگوں کے نیکی کے معیاروں کے مقابلے میں تیزی سے تنزل ہو رہا ہے تو ہماری حالت قابل فکر ہے، ہمارئ کشائش اور ہماری کھل بے فائدہ ہے،ہم دنیا تو کمار ہے ہیں لیکن ہمارا دین کا خانہ خالی ہے، ایسی حالت میں پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ انسان دنیا کے دھندوں میں پڑ کر خداتعالیٰ سے بالکل ہی تعلق ختم کر لیتا ہےاور شیطان کی جھولی میں جا گرتا ہے ، جلسہ پر آنا ایک رسم بن جاتا ہے۔ کئی علوم ایسے ہوتے ہیں جن کو نبی سمجھ سکتا ہے، اگر ایسا نہ ہو تو نبی کی ضرورت ہی کیوں نہ ہو، حضرت مسیح موعودؑ نے 1400 سال بعد ایسی باتیں بتائیں جو موجود تھیں لیکن مسلمانوں کو ان کا علم نہ تھا یا صحیح فہم نہ تھا مثلا تمام مذاہب کی صداقت بیشک بعد میں ان کی تعلیم میں تحریف ہو گئی اور وہ مذہب اپنی اصلی حالت میں نہ رہا ، جس طرح بدھا ہیں ، زرتشت ہیں، کرشن ہیں ، اپنے زمانے کے خداتعالیٰ کے بھیجے ہوئے اور صداقت کے حامل تھے، جو لوگ اپنے پیشواؤں کی صحیح تعلیم کو مانتے ہیں ، دوسروں کی نسبت ان کی حالت بہتر ہے۔ پس اس روحانی لڑائی کیلئے ہر احمدی کو کوشش کرنی چاہئے اور آگے بڑھنے کی ضرورت ہے او ر یہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک ہم اپنی روحانیت کے نئے زمین و آسمان پیدا نہ کریں ، حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ خداتعالیٰ کے دو حکم ہیں ، ایک یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو ، خدا کی ذات میں نہ صفات میں نہ عبادات میں اور دوسرے نوع انسان سے ہمدردی کرو ، صرف قریبی رشتہ دار ہی نہیں بلکہ کوئی بھی ہو ، مت خیال کرو کہ وہ ہندو ہے یا عیسائی ، میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ خداتعالیٰ نے تمہارا انصاف اپنے ہاتھ میں لیا ہے ، وہ نہیں چاہتا کہ تم اپنے بدلے خود لو، جس قدر نرمی اختیار کرو گے ، جس قدر فروتنی کروگے ، اﷲتعالیٰ اسی قدر خوش ہوگا، اپنے دشمنوں کو تم خدا کے حوالے کرو۔

There was a time when it was difficult for even some people within India to afford to travel to Qadian for Jalsa Salana. In this regard the Promised Messiah(as) urged Ahmadis to save up during the year to afford travel expenses to Qadian for Jalsa. Today the number of cars in which Ahmadis living in developed countries travel to Jalsa is so huge that organisers have to make diligent car parking arrangements. Ancestors of many participants of today's Jalsa would have endured hardship to travel to Jalsa. While it is heartening that things have changed for the better and God's message is spreading fast around the world, families of elders should self-reflect as to where do they stand as regards connection with God, faith and compliance of all Divine commandments. It is a cause for concern if there is decline in this matter. We may be successful in worldly terms but our spiritual condition may ring hollow. At times man is so sunk in worldliness that he ends up in the lap of Satan and coming to Jalsa becomes a mere ritual. There are many matters which only Prophets of God understand. The Promised Messiah(as) expounded many matters after 1400 years which existed but Muslims did not have correct insight into them. For example the matter of all world religions being truthful although their teachings were distorted at later stages. Buddha, Zoroaster and Krishna were all truthful. People who follow the correct teachings of their leaders are in much better condition than the rest. Every Ahmadi needs to step up for this purpose and forge new spiritual earth and new spiritual heaven. The Promised Messiah(as) said that Divine commandments are two-fold. Firstly not to associate any partner with God in His Being, His attributes and His worship and secondly to be compassionate to mankind, not just your near and dear ones but all mankind regardless of race or religion. God wishes one to entrust the matter of one's enemies to Him and not seek revenge oneself. The humbler one is the greater is God's pleasure.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
29-May-2015   Urdu (mp3)English (mp3)German (mp3)

Title: The Blessings of Khilafat
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam | Kannada
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Indonesian | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

اسلام کی تاریخ میں مختلف سربراہان مملکت اپنے آپ کو خلفاء کہلاتے رہےلیکن اس کے باوجود مسلمانوں کی اکثریت آنحضرت ﷺ کے بعد پہلے چار خلفاء کو ہی خلفاء راشدین کا مقام دیتی ہے، انہی کا دور خلافت راشدہ کا دور کہلاتا ہے یعنی وہ دور جو ہدایت یافتہ اور ہدایت پھیلانے والا دور تھا، جو نظام کو اس طرح چلاتے رہے جس طرح انہوں نے آنحضرت ﷺ کو چلاتے دیکھا تھا، بعد ازاں حالات تبدیل ہوئے اور حرف بحرف آنحضرت ﷺ کی یہ پیشگوئی پوری ہوئی۔ ہر وہ شخص جو اپنے آپ کو حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت میں شمار کرتا ہے ، اس کا فرض ہے کہ اپنے ایمان کو دلوں میں بٹھا کر اس پر ہمیشہ قائم رہے، یہ ان ماننے والوں کا فرض ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کے بعد آپ کے طریق پر چلنے والے نظام خلافت کے ساتھ جڑ کر اس ایمان کے مظہر بنتے ہوئے اس کو دنیا کے کونے کونے میں پھیلائیں اور توحید کو دنیا میں قائم کریں، اس کام کیلئے اﷲ تعالیٰ ہمارے آقا و متاع ﷺ کو دنیا میں بھیجا تھا اور اس کام کیلئے اﷲ تعالیٰ نے آپ ؑ کے غلام صادق کو بھیجا ہےاور اس کام کیلئے آنحضرت ﷺ نے خلافت کے تاقیامت رہنے کی پیشگوئی فرمائی تھی۔ پس ایمان کو زمین پر قائم کرنے کیلئے اﷲ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؑ کے بعد اس دوسری قدرت کو جاری فرمایا، اﷲتعالیٰ نہیں چاہتا کہ مخالفین دین خوش ہوں کہ دین دوبارہ دنیا سے ختم ہوگیا، اﷲتعالیٰ نہیں چاہتا کہ شیطان دندنا تا پھرے، اﷲتعالیٰ نے مخالفین کی جھوٹی خوشیوں کو پامال کر نا ہے،اس لئے ایمان کو حضرت مسیح موعودؑ کے بعد جاری نظام خلافت کی مدد کرتے ہوئے دنیا میں قائم رکھنا ہےلیکن اﷲتعالیٰ نے ان لوگوں کو بھی فرض قرار دیا ہے جو اس نظام سے جڑنے کا دعویٰ کرتے ہیں کہ اس ایمان کو دنیا میں قائم رکھنے کیلئے خلافت کے مددگار بنیں اور اپنے عہد بیعت کو سامنے رکھتے ہوئے یہ مسمم ارادہ کریں کہ ہم نے اپنے ایمان کی بھی حفاظت کرنی ہے اور دوسروں کو بھی ایمان کی روشنی سے آشکار کرنا ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ فرماتے ہیں کہ مولوی محمد علی صاحب کو میں نے کہا کہ آپ کے خدشات میں نے دور کر دیئے ہیں، اس لئے آپ کے سامنے یہ سوال ہونا چاہئے کہ خلیفہ کون ہو، یہ نہیں کہ خلیفہ ہونا نہیں چاہئے، اس پر مولوی صاحب نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ اس لئے آپ زور دے رہے ہیں کہ آپ کو پتا ہے کہ خلیفہ کون ہوگا ، حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا کہ میں نے ان سے کہا کہ مجھے تو نہیں پتاکہ کون ہوگا، حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓنے فرمایا کہ میں اس کی بیعت کر لوں گا جسے آپ چنیں گے،جب میں آپ کے منتخب کردہ کی بیعت کرلوں گا تو پھر خلافت کی تائید کرنے والے میری بات مانیں گے ، مخالفت کا خدشہ پیدا ہی نہیں ہوسکتا، لیکن مولوی صاحب نے نہ ماننا تھا نہ مانے۔ گزشتہ دنوں کینیڈا سے سو سے اوپر خدام اور امریکہ سے دو سو سے اوپر خدام ، مختلف عمروں کے حضور سے ملاقات کرنے کیلئے لندن آئے، ان میں نئے بیعت کرنے والے بھی شامل تھے، تین دن رہے ہیں، اس کے بعد ان کے تاثرات بالکل مختلف تھے، عجیب اخلاص اور وفا کا اظہار ان سے ہو رہا تھا جس کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے اور بعد میں جاکر بھی انہوں نے اس بات کا اظہار کیا، یہ عہد کیا کہ نمازوں میں باقاعدگی رکھیں گے، یہ عہد کیا کہ جماعت سے وابستگی میں باقاعدگی رکھیں گے، یہ عہد کیا کہ خلافت سے اپنے تعلق کو بڑھاتے چلے جائیں گے۔

During different periods of Islamic history many rulers called themselves Khalifa, yet the large majority of Muslims only consider the four Khulafa who followed the Holy Prophet(saw) as the Rightly Guided Khulafa. That is, theirs was an era of guidance when the prevailing system was run in line with the model of the Holy Prophet(saw) and in accordance to the teachings of the Qur'an. Later, circumstances changed and the aforementioned prophecy of the Holy Prophet(saw) was fulfilled word for word. It is thus the duty of each person who takes Bai'at to always stay firm on it and adhere to Khilafat which operates in the ways of the Promised Messiah(as). And also spread Oneness of God in the world. God sent the Holy Prophet(saw) for this task and it was also for this task that his servant the Promised Messiah was sent and it was also indeed for this task that the Holy Prophet(saw) foretold of Khilafat that would last till the Day of Judgement. When God sent the second Manifestation to establish faith in the world He did not want opponents of faith to be joyous at faith being diminished once again. Thus Khilafat has been established by God after the Promised Messiah(as) in order for faith to prevail. God also deemed it the duty of those who claim to adhere to the system of Khilafat to become its helpers and be resolute in safeguarding their own faith as well as taking the message of faith to others. Hazrat Khalifatul Masih II(ra) related that he told Maulawi Muhammad Ali that the question before him should be who could be the next Khalifa and not should there be a Khalifa or not! Maulawi Muhammad Ali replied that Hazrat Khalifatul Masih II only stressed upon this because he knew who the next Khalifa would be but he responded by saying he did not know and he would take Bai'at of whoever Maulawi Sahib chose. However, Maulawi Muhammad Ali was not to agree and he did not. Recently hundreds of Khuddam of various ages from Canada and USA came to meet Huzoor in London. Some of them had recently taken Bai'at. They stayed for three days. Following the visit their feelings changed, they expressed amazing sincerity and loyalty which was astonishing to behold. They also expressed their feelings on their return home and mentioned bringing about changes in themselves. They promised to be regular in Salat, they promised to be regular in their association with Jama'at, they promised to continue and develop/enhance their connection with Khilafat.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
22-May-2015   Malayalam (mp3)Tamil (mp3)

Title: Suspicion and Faith
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam | Kannada
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Indonesian | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
15-May-2015   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Promised Messiah (a.s.): The exalted status of The Prophet (saw)
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Persian | Malayalam | Kannada
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Indonesian | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

پنجاب حکومت نے جماعت کے بعض جرائد اور کتب پر پابندی لگائی ہے کہ انکی اشاعت نہیں ہوسکتی اور اس بات کی وہاں کے چند اخبارات نے خبریں بھی دیں، آج کو فون پر ہی تصویری عکس، میسجز اور مختلف قسم کے جو طریقے ہیں پیغام بھیجنے کے، انکے ذریعے سے منٹوں میں خبریں دنیا میں گردش کر جاتی ہیں، حضوکو بھی لوگ خط لکھتے ہیں اور پریشانی کا اظہار کرتے ہیں ، ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ یہ باتیں کوئی نئی چیز نہیں ہے ، جماعت احمدیہ کی تاریخ میں ان نام نہاد علماء کے کہنے پر اسی طرح کی حرکتیں پہلے بھی ہوتی رہی ہیں اور کرتے رہیں گے۔ حضور نے فرمایا ایم ٹی اے پر بھی حضرت مسیح موعودؑ کی کتب کا درس پہلے سے زیادہ وقت بڑھا کر دیا جائے گااور اس طرح پاکستان کے ایک صوبے کے قانون کی وجہ سے دنیا میں پھیلے ہوئے احمدیوں کا فائدہ ہو جائے گا، ہر روک جو ہوتی ہے مخالفت کی ہمیں فائدہ پہنچاتی ہے، نئے نئے راستوں کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے اور اس سے صرف یہ نہیں ہوگا کہ اصل زبان میں کتابیں چھپیں گیں یا درس ہونگے بلکہ بہت سی قوموں کی مقامی زبانوں میں بھی یہ مواد میسر آجائے گا، پس جن کے دلوں میں کسی بھی قسم کی پریشانی ہے تو وہ اسے دلوں سے نکال دیں، ہمارے لٹریچر کے خلاف جو کاروائی کی گئی ہے اس سے ایک بات واضح ہےکہ یہ لوگ جو دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم عشق رسول ﷺ میں بہت بڑھے ہوئے ہیں اور اس وجہ سے ہماری مخالفت کرتے ہیں، انہوں نے کبھی انصاف کی نظر سے جماعت کے لٹریچر کو نہ کبھی پڑھا ہے اور نہ پڑھنے کی کوشش کی ہے۔ جرائم کو معاف کرنے کے بارہ میں ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ ایسا عفو دکھایا کہ جو مخالفوں کو اپنے گناہوں کی وجہ سے لگتا تھا کہ بڑا مشکل ہے، ہمیں معاف نہیں کیا جائے گا، جب وہ اپنی شرارتوں کو دیکھتے تھے تو سمجھتے تھے کہ ہماری سزا صرف یہی ہے کہ ہمیں قتل کیا جائے گا لیکن آنحضرت ﷺ نے ان کو معاف کردیا، ہزاروں انسانوں نے ایک ساتھ میں دین اسلام قبول کر لیااور حقانی صبر آنجنابﷺ کا جو ایک زمانہ دراز تک ان کی سخت سخت ایذاؤں پر کیا تھا آفتاب کی طرح ان کے سامنے روشن ہوگیا۔ آنحضرت ﷺ نے اس اس دن سے جس دن ظہور فرمایا اس دن تک جس دن رفیق اعلیٰ سے جا ملےیعنی ابتدائی زندگی سے وصال تک بجز اپنے مولا کریم کے کسی کو کچھ چیز نہ سمجھا اور ہزاروں دشمنوں کے مقابلہ پر معرکہ جنگ میں کہ جہاں قتل کیا جانا یقنی امر تھاخالصۃ خدا کیلئے کھڑے ہو کر اپنی شجاعت اور وفاداری اور ثابت قدمی دکھلائی، غرض سخاوت اور زہد اور قناعت اور شجاعت اور محبت الٰہیہ کے متعلق جو جو اخلاق فاضلہ ہیں وہ بھی خداوند کریم نے حضرت خاتم النبیاء ﷺ میں ایسے ظاہر کئے جن کی مثل دنیا میں نہ کبھی ظاہر ہوئی اور نہ آئندہ ظاہر ہوگی۔ محمد موسیٰ صاحب درویش قادیان کی وفات، صاحبزادی امتہ الرفیق صاحبہ بنت حضرت میر محمد اسماعیل صاحب کی وفات۔

The government of Punjab in Pakistan has recently banned the publication and display of some Jama'at publications. With the use of mobile technology and messaging apps news travels very fast these days. People from Pakistan write in to Huzoor expressing their anxiety at the matter. It should be remembered this opposition against the Jama'at is nothing new. Through the history of the Jama'at the so-called religious leaders have raised objections and created difficulties for the Jama'at and they are not going to stop. Huzoor has decided that dars (lesson) on the Promised Messiah's(as) books should now be given more than ever. Thus restrictions placed in one province of Pakistan will end up being beneficial for everyone. The dars will be in the original language of the books but material will be available in many other languages. Those who are worried about the situation should let go their concerns. This restriction yet again clarifies a point: these people claim to have great ardent love for the Prophet(saw) and say that their opposition against us is borne of this ardent love but they have never read our literature fair-mindedly. On account of this forgiveness of offences—which had appeared impossible in the estimation of his opponents who, considering their own misdeeds, deemed themselves condemned to death in the hands of their avengers—thousands of people accepted Islam instantly. Thus, the sincere steadfastness of the Holy Prophet(saw) which he had demonstrated for a long period under their severe persecution became illumined in their eyes like the sun. In contrast, the good qualities of the Holy Prophet(saw) were demonstrated and put to test on hundreds of occasions and their truth shone forth like the sun. The good qualities of kindness, large-heartedness, munificence, selflessness, manliness, bravery, chastity, contentment and withdrawal from the world were demonstrated so clearly and brilliantly in the case of the Holy Prophet(saw), that, let alone the Masih, there never was a Prophet before him who demonstrated them to such perfection. Death of Muhammad Musa Sahib, dervish of Qadian and Sahibzadi Amatul Rafiq Sahiba, daughter of Hazrat Mir Muhammad Ismael Sahib.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
08-May-2015   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Khalifatul Masih II: Pearls of Wisdom
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam | Kannada
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Indonesian | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ اﷲتعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؑ کی ذات میں کتنا عظیم الشان نشان دکھایا ہے، گو تم نے اس زمانہ کو نہیں پایا لیکن ہم نے اس کو پایا اور دیکھا ہے، مسجد مبارک میں حضرت مسیح موعودؑ کے زمانہ میں کبھی ایک اور کبھی دو سطریں ہوتی تھیں، انہوں نے اس کا موازنہ ان کے زمانہ میں کی گئی توسیع سے فرمایا، اس زمانہ میں کبھی ایک قطار نمازیوں کی ہوتی اور کبھی دو ہوتی تھیں ، جب اس حصہ مسجد سے نمازی بڑھے اور تیسرے حصہ میں نما زی کھڑے ہوئے تو ہماری حیرت کی انتہا نہ رہی، گویا جب پندرہواں یا سولہواں نمازی آیا تو ہماری حیرت کی انتہا نہ رہی۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں : ایک دفعہ جب میں جمعہ کیلئے جارہا تھا اور میری عمر 15،16 سال کے قریب تھی، جب گھر سے نکلا تو ایک شخص مسجد سے واپس آرہا تھا اور اس نے کہا کہ مسجد میں کوئی جگہ نہیں ہے، اس لئے اس کی بات سن کر میں بھی واپس آگیااور ظہر کی نماز پڑھ لی، آپ فرماتے ہیں کہ میری شامت کہ تحقیق کر لینے چاہئے تھی مجھےکہ مسجد بھری ہوئی ہے بھی یا نہیں ۔ اب اس صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے جو بھی اس پیشگوئی پر غور کرے اور آج کے قادیان کو بھی دیکھے جو ابھی گو بیاس تک تو نہیں پھیلا لیکن اﷲ کے فضل سے ترقی کر رہا ہے تو پھر بھی آج کے قادیان کو دیکھ کر اس کو نشان قرار دے گابشرطیکہ عقل بھی ہو اور انصاف کی نظر بھی ہو،ایک احمدی کیلئے تو یہ باتیں یقینا ایمان میں اضافے کا باعث بنتی ہیں،ایک پروفیسر یہاں سے تحقیق کی غرض سے قادیان گئے اور واپس آکر انہو ں نے تاثرات لکھے اور وہ تاثرات ایسے ہیں کہ آدمی حیران ہوتا ہےکہ کس طرح بعض غیر بھی باریکیوں میں جاکر نکات نکالتے ہیں ، بہرحال ان کا مضمون شائع ہو جائے گا۔ آج ہی پاکستان سے خبر آئی ہے کہ پنجاب حکومت نے فرقہ واریت کے نام پر کچھ کتابوں کی اشاعت پر پابندی لگادی ہے، اس میں کچھ جماعتی کتب بھی ہیں جس کا فرقہ واریت سے کوئی تعلق نہیں، الفضل اور روحانی خزائن پر حکومت نے فرقہ واریت کے خاتمہ کے نام پر پابندی لگا دی ہے، کبھی پڑھ کر یہ لوگ غور نہیں کریں گے کہ کس طرح حضرت مسیح موعودؑ نے اسلام کی حقیقی تعلیم کا خوبصورت نقشہ کھینچا ہے، بہرحال جیسے بھی حالات ہوں ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہئے، حضرت مسیح موعودؑ کے بارہ میں خداتعالیٰ نے بار بار فرمایا ہے کہ خداتعالیٰ کی مدد اچانک آئے گی۔ حاجی منظور احمد صاحب درویش قادیان کی وفات۔

Hazrat Musleh Maud(ra) explained this progress as a tremendous sign of the Promised Messiah(as). He recounted the original size of Masjid Mubarak in the times of the Promised Messiah where perhaps only two rows of worshippers could be accommodated and he compared it to its extension in his time. He encouraged people to visit the mosque and imagine how Ahmadis had been astonished when the small mosque which could only accommodate two rows of around five worshipers per row had a third row and around fifteen worshippers. Hazrat Musleh Maud(ra) narrates an incidence from his adolescence days. As he walked for Friday Prayers he saw a person walking back from the mosque. On inquiring the person told him that the mosque was packed and had no more room. So Hazrat Musleh Maud also walked back home where he offered his Zuhr Salat. With the benefit of hindsight he felt he should have at least checked for himself if there really was no space in the mosque. Reflecting over the prophecy in light of the how Qadian has developed today, though it has not reached the banks of Beas, anyone would call it a sign. These matters are faith-enhancing for Ahmadis but they also interest others. A professor from here who is an expert on Islam went to Qadian for the purpose of research. His impressions and comments are amazing and will be published. News came from Pakistan today that in the name of containing sectarianism the government has banned certain publications. Al Fazl and Ruhani Khaza'ain are included in this ban although they have nothing remotely to do with sectarianism. Indeed these people have not even bothered to open these publications and read that they are written in defence of Islam. No matter what the situation we should not despair. God has stated many a time that help will come suddenly for the Promised Messiah(as). Death of dervish of Qadian Haji Manzoor Ahmad Sahib.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
01-May-2015   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)Uzbek (mp3)

Title: Khalifatul Masih II: Pearls of Wisdom
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam | Kannada
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Indonesian | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہےکہ اب بتاؤ تمہارا ایسا آقا ہے کہ جو کچھ آسمان و زمین میں ہے، سب کچھ اسی کا ہے، اس کے مقابلے میں اور کسی کو تم کس طرح اپنا آقا بنا سکتے ہو، لوگ کہتے ہیں کہ ہم خدا کے سوا کسی کو نہیں پوجتے اور غیراﷲ کی عبادت نہیں کرتے، البتہ ان کی نیازیں دیتے ہیں اور ان سے مرادیں مانگتے ہیں کہ وہ خداتعالیٰ کے مقرب ہیں اور وہ ہماری شفاعت خداتعالیٰ کے حضور کریں گے۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرتﷺ کو جب اذن ہوگا تب سفارش کریں گے، پس کیسا نادان وہ شخص ہے جو کہتا ہے میری سفارش دوسرا کر سکے گا، اس غلط تصور نے ہمارے معاشرے میں قبر پرستی کی برائی ڈال دی ہے، اس میں مبتلا ہو چکے ہیں، پیروں کو پوجتے ہیں، پس اس بات کو ہر احمدی کو یاد رکھنا چاہئے کہ اﷲتعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو بھی یہی فرمایا ہے کہ جب اذن ہوگا اسی کی سفارش ہوگی۔ حضرت مصلح موعودؓ نے حضرت مرزا مبارک احمد صاحبؓ کی وفات کا اس طرح بھی ذکر فرمایا ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے وفات کے بعد گھر سے باہر نکلتے ہی تقریر کی اور فرمایا کہ یہ خداتعالیٰ کی طرف سے ابتلا ہے اور ہماری جماعت کو اس قسم کے ابتلاؤں پر غم نہیں کرنا چاہئے، پھر فرمایا کہ مبارک احمدکے متعلق مجھے فلاں وقت میں الہام ہوا تھا کہ چھوٹی عمر میں اٹھا لیا جائے گا، اس لئے یہ تو خوشی کا موجب ہے کہ خداتعالیٰ کا نشان پورا ہوا۔ پس یہ واقعات حضرت مسیح موعودؑ کی سیرت کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہیں ، بچے کی خدمت، اس کے علاج کی فکر، اپنے قریبی ساتھی کی فکر ، اس کے علاج کی طرف توجہ، پھرنشانات پورے ہونے پر خوشی کا بھی اظہار اور تقدیر جب غالب آگئی تو پھر ایسا اظہار کے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ، احباب جماعت کو خداتعالیٰ کی طرف توجہ اور اعلیٰ مقاصد حاصل کرنے کیلئے برپور کوشش کی تلقین، اصل مقصد خداتعالیٰ کی رضا ہے اور خوشنودی حاصل کرنا ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ کے زمانہ میں کپورتھلہ کے احمدیوں اور غیر احمدیوں کا وہاں کی ایک مسجد کے متعلق مقدمہ ہو گیا ، جس جج کے پاس یہ مقدمہ تھا اس نے مخالفانہ رویہ اختیار کرنا شروع کیا، اس پر کپور تھلہ کی جماعت نے گھبرا کر حضرت مسیح موعودؑ کو دعا کیلئے لکھا ، حضرت مسیح موعودؑ نے جواب میں لکھا کہ اگر میں سچا ہوں تو مسجد تم کو مل جائے گی، دوسری طرف جج نے مخالفت بدستور جاری رکھی اور آخر اس نے احمدیوں کے خلاف فیصلہ لکھ دیا، اگلے دن وہ عدالت جانے کیلئے تیار ہو رہا تھا کہ اس کو دل کا دورہ پڑا اور اس کی وفات ہوئی۔ نسیم محمود صاحبہ زوجہ سید محمود احمد صاحب آف کراچی کی وفات۔

Hazrat Khalifatul Masih II(ra) says that Allah says, "tell me now when your Lord is He to Whom belongs all that is in the heavens and the earth then how can you make anyone else in His stead your lord?" People say that we do not worship anyone other than God and do not pray to any beside Allah and yet they make sacrifices to them and ask them to fulfill their hearts desires because they are the loved ones of God Almighty and so they will make an intercession in front of God Almighty for us. It is evident from Ahadith that the Holy Prophet(saw) would only intercede when he was given permission. So how foolish is the one who says that someone would be able to intercede on his behalf. This false notion has led to many bad customs in our societies such as worship of the graves of people and has led to association of partners with God because the people have begun to worship their religious divines. At another place Hazrat Musleh Maud(ra) describes the event immediately after the death of Mubarak Ahmad that upon leaving the house he addressed the people saying that this was a trial from Allah, the Exalted, and the members of our Jama'at should not be saddened by such trials. Then the Promised Messiah(as) said that with regard to Mubarak Ahmad I had been given the revelation at such and such a time that he would be taken from us at a young age. So these incidents from the life of the Promised Messiah(as) make clear to us various aspects and responsibilities. Serving the needs of the child, concern for his health and treatment, concern for a nearby friend, attention to his care and treatment, expression of happiness upon fulfilment of Allah's Signs, and when the Decree of Allah manifested itself then feeling as if nothing at all had happened, drawing the attention of the member of Jama'at towards Allah. Then Hazrat Musleh Maud(ra) mentions the case of a mosque in Kapoorthala that became a sign of the truth of the Promised Messiah(as) and showed how much trust he had in Allah. This case went to the courts and the members of the Jama'at became concerned over the attitude of a judge handling the case and so they wrote for prayers to the Promised Messiah(as). He told them in response that if I am indeed true you will be given the mosque while on the other hand the judge continued with his opposition and wrote a decision against the Ahmadis. On the next day of delivering this decision the judge was getting ready to go to court when he had a heart attack and died. Death of Naseem Mahmood Sahiba, wife of Syed Mahmood Ahmad Shah Sahib of Karachi.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
24-Apr-2015   Urdu (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Uzbek (mp3)

Title: Religion, morality and material success
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam | Kannada
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

دین سے ہٹانے کی کوشش میں مختلف طریق سے ، مختلف نقاط پیش کر کے ہمارے بچوں اور نوجوانوں کے ذہنوں کو زہر آلود کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، خاص طور پر مغربی ممالک میں جو طرز تعلیم ہے اس میں جستجو اور تحقیق کی طرف زیادہ توجہ دلائی جاتی ہے، بہرحال جب نوجوان اپنے ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالوں کے حل کیلئے اپنے والدین کی طرف جاتے ہیں تو یا تو والدین کے پاس اپنی معاشی اور معاشرتی مصروفیات کی وجہ سے جواب دینے کا وقت نہیں ہوتا یا علم نہیں ہوتا، اس وجہ سے ان کے سوالوں کا جواب دینے کی بجائے بسا اوقات انہیں دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مذہب اور اخلاق اور انسان کی وہ ضروریات جو اس کے جسم کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں، ایسی مشترک ہیں کہ ان میں فرق کرنا مشکل ہے، جو شخص مذہب پر یقین رکھتا ہے وہ اخلاق کو مذہب سے جدا نہیں کرسکتا نہ وہ یہ کہ سکتا ہے کہ مذہب نے مجھے دنیا سے بے پرواہ کر دیا ہے، اگر یہ سوچ ہو کہ مجھے اب کسی چیز کی ضرورت نہیں تو مادی ترقی کا پہیہ رک جاتا ہے ،گویا یہ آپس میں ملی ہوئی ہیں تینوں چیزیں ، لیکن اس کے باوجود ان میں فرق بھی ہے، مذہب پر یقین نہ رکھنے واے تو یہ کہ کر آزاد ہونے کی کوشش کرتے ہیں کہ اچھے اخلاق اور مادی ترقی انسان کی ضرورت ہے۔ غور کرنے سے معلوم ہو گا کہ اخلاقیات، مذہب اور مادیات اس قدر قریب ہیں کہ عام آدمی کو معلوم نہیں ہوتا کہ کہاں سے ایک حد ختم ہوتی ہے اور کہاں سے ایک حد شروع ہوتی ہے،اس کو سمجھنے کیلئے ہم آنحضرت ﷺ کی حیات طیبہ کو دیکھتے ہیں، آپﷺ دنیا کے اخلاقی مصلح بھی ہیں، مادی مصلح بھی ہیں اور روحانی مصلح بھی ہیں ، آپﷺ کی حیات طیبہ تمام کی جامع ہے، ایک طرف آپ ﷺفرماتے ہیں کہ دعا کے بغیر عبادت نامکمل ہے تو دوسری طرف روحانیت کی تکمیل کی طرف زور بھی دیتے ہیں۔ ہم احمدی خوش قسمت ہیں کہ ہمیں حضرت مسیح موعودؑ نے ان چیزوں سے بچا کر ایسی راہنمائی فرمائی ہے کہ اصل حقیقت جاننے کیلئے فرمایا ہے کہ تم آنحضرتﷺ کی طرف دیکھو، آنحضرت ﷺ نے یہ حقیقت بیان فرمائی ہے کہ ہر معاملے میں اعتدال اور اس کا حق ادا کرنا ہے، آپﷺ نے فرمایا بے شک عبادت انتہائی ضروری ہے، مقصد ہے پیدائش کالیکن تیرے نفس کا بھی تجھ پر حق ہے، تیری بیوی کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیرے ہمسائے کا بھی تجھ پر حق ہے۔ مسلمانوں کی بدحالی کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے خدا کے مذہب کو مقدم کر کے ان باتوں کا خیال نہیں رکھا جو ابھی بیان کئے گئے ہیں بلکہ اپنے نفسانی جذبات کا نام مذہب رکھ لیا ہے، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ خود اس خود ساختہ نفسانی مذہب کی پیروی کر کے مسلمان مسلمان کی گردن زدنی کر رہا ہے، نہ انکو دین ملا نہ انکو دنیا ملی، سوائے اس کے کہ دنیا داروں کے سامنے ہر مسئلے کیلئے ہاتھ پھیلا رہے ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ دنیا میں اخلاقی، روحانی اور مادی ترقی کیلئے الگ الگ ذرائع ہیں لیکن ایک ذریعہ مشترک بھی ہے اور وہ خداتعالیٰ سے کامل تعلق پیدا کرنا ہے، اخلاق کیلئے کوشش کرنے سے اخلاق مل جائیں گے، مادیات کیلئے کوشش کرنے سے مادیات مل جائے گی، دنیاوی ترقی حاصل ہوجائے گی مگر ہر ایک کوشش کا نتیجہ اس دائرے کے اندر محدود رہے گا، اس سے باہر نہیں نکل سکتا، مگر روحانیت کی درستی کرنے والوں کو ساری چیزیں مل جائیں گی۔

Efforts are made to influence our youth against religion. A good aspect of Western education is that it emphasises research and exploration but this needs to be done methodically. Parents are not able to answer adolescents when they question them on these issues, either due to lack of time owing to societal or economic pressures or because they simply do not have the knowledge. Many a time rather than answer the adolescents parents suppress them. It is difficult to separate religion, morality and man's material needs. A religious person cannot separate morality from religion and he also does not abandon the thought of having material needs. Indeed, this would stop the cycle of material progress. However, although correlated these matters are also distinguishable. People who do not follow religion maintain that man needs good morals and material success. Reflecting on morality, spirituality and material success tells us that they are so intertwined that not everyone realises where and how they are linked. We look at the blessed life of the Holy Prophet(saw) to understand the correlation. He was the world reformer for spiritual, moral and material aspects. His blessed life is a composite of them all. He said without prayer man's faith cannot be perfected. That is, while worship of God was essential he also stressed upon spiritual development. We are fortunate as Ahmadis that the Promised Messiah(as) saved us from these issues and guided us to follow the blessed model of the Holy Prophet(saw) who of course taught moderation in everything. He taught that most certainly worship of God is most important, it is the objective of our creation; however, one's own self also has rights as does one's wife and neighbours. The dire strait of the Muslim world today is borne of the fact that they have discounted all of this and have given their selfish desires the name of religion. As a result rather than extol Islam's qualities to others they follow their fictitious creed and are killing each other. They have lost both in worldly terms and spiritual terms and are reduced to begging others in every matter. There are different ways to attain moral, spiritual and material success but there is also a mutual way and that is to forge perfect connection with God. Morality is attained by trying for it and material success is attained by trying for it but the results of both these efforts are limited within their own sphere. However, those who try to attain spirituality are granted everything.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
17-Apr-2015   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)Uzbek (mp3)

Title: Khalifatul Masih II: Pearls of Wisdom
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Kannada
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت مصلح موعودؓ نے حضرت مسیح موعودؑ کا ایک واقعہ بیان فرمایا جو حضرت صوفی احمد جان صاحبؓ کے متعلق ہے، حضرت صوفی احمد جان صاحبؓ نے ایک پیر کے ساتھ رہ کر مجاہدہ کیا کیا تھا لیکن بعد میں پھر انہیں حضرت مسیح موعودؑ سے عقیدت پیدا ہوگئی تھی اور دعویٰ سے پہلے ہی انہوں نے حضرت مسیح موعودؑ کے مقام کو پہچان لیا تھا، حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ نے ابھی دعویٰ نہیں کیا تھا، صرف براہین احمدیہ لکھی تھی کہ اس کی صوفیاء اور علماء میں بہت شہرت ہوئی، صوفی احمد جان صاحب ؓ نے جن حضرت مسیح موعودؑ کا اشتہار پڑھا تو آپ سے خط و کتابت شروع کردی۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ قومی ترقی کیلئے ضروری ہے کہ تمام سچائیوں کو اپنے اندر جذب کیا جائے، یہ نہیں کہ صرف وفات مسیح کو مان لیا جائے اور کہ دیا جائے کہ ہمارے لئے صرف اتنا ہی کافی ہے بلکہ وفات مسیح کے مسئلہ کو سامنے رکھ کر اس پر غور کیا جائے کہ وفات مسیح کا ماننا کیو ںضروری ہے؟ ہمیں جو چیز حیات مسیح کے عقیدے سے چبھتی ہے وہ یہ ہے کہ ایک تو حیات مسیح کے عقیدے سے حضرت عیسیٰ ؑکی فضلیت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺپر ثابت ہوتی ہے، حالانکہ آنحضرت ﷺ کی شان کا نہ کوئی نبی ہوا ہے اور نہ ہوگا۔ حضرت مصلح موعودؓ لکھتے ہیں کہ 1904 میں جب حضرت مسیح موعودؑ لاہور تشریف لے گئےتو وہاں ایک جلسہ میں آپؑ نے تقریر فرمائی، کچھ غیر احمدی مہمان بھی وہاں موجود تھے ، وہ کہتے ہیں کہ دوران تقریر میں نے حضرت مسیح موعودؑ کے سر سے نور کا ستون آسمان کی طرف نکل کر جارہا تھا ، انہوں نے ساتھ بیٹھے اپنے دوست کو کہا کہ دیکھو کیا چیز ہے، انہوں نے بھی فورا کہا کہ یہ نور کا ستون ہےجو حضرت مرزا صاحب ؑکے سر سے نکل کر آسمان کی طرف جارہا ہے، اس واقعے کا ان پر ایسا اثر ہوا کہ انہوں نے اسی دن حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت کر لی۔ حضرت مسیح موعودؑ کی سچائی سے متعلق نشانات کے ذکر میں حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کی زندگی کے وقت کےسارے واقعات چونکہ محفوظ نہیں ، اسلئے اس قسم کی زیادہ مثالیں اب نہیں مل سکتیں، ورنہ میں سمجھتا ہوں کہ سینکڑوں مثالیں آپ کی زندگی میں مل سکتی ہونگی مگر حضرت مسیح موعودؑ کے زمانے میں جبکہ دہریت کا بہت زور ہےاور اس کو توڑنے کیلئے آسمانی نشانوں کی حد درجہ کی ضرورت ہے، خداتعالیٰ نے بہت سے نشان اس قسم کے دکھائے ہیں جن پر ہم رسول کریم ﷺ کے نشانات کا قیاس کر سکتے ہیں۔ ایک دفعہ ایک مولوی حضرت مسیح موعودؑ کے پاس آیا اور کہنے لگا میں آپؑ کا کوئی نشان دیکھنے آیا ہوں، آپؑ ہنس پڑے اور فرمایا میاں تم میری کتاب حقیقۃ الوحی دیکھ لو، تمہیں معلوم ہوگا کہ خداتعالیٰ نے میری تائید میں کس قدر نشان دکھائیں ہیں، تم نے ان سے کیا فائدہ اٹھایا ہے جو اور دیکھنے آئے ہو، حضرت مسیح موعودؑ کی پیشگوئیاں آپکی زندگی میں پوری ہوئیں اور آج تک پوری ہو رہی ہیں، جماعت کی روزانہ ترقی اس کا ثبوت ہے۔

Hazrat Musleh Maud(ra) narrated an account from the life of the Promised Messiah(as) regarding Sufi Ahmad Jan Sahib. Sufi Sahib had spent many years serving a Pir and performed spiritual exercises and endeavours. Later, he became devoted to Hazrat Mirza Ghulam Ahmad(as) whom he identified before his claim that this person would be the Messiah. Before his claim of messiahship the Promised Messiah had written his book 'Baraheen e Ahmadiyya' which gained huge popularity among saintly and scholarly Muslims. When Sufi Sahib, who was one of the most God-fearing holy people of his time, saw the Promised Messiah's(as) poster he started correspondence with him. Hazrat Musleh Maud(ra) said it is important to absorb all truths in order to progress as a community. It is not simply sufficient to accept death of Jesus(as) in fact one should reflect over death of Jesus and try and understand why is it important to accept it! For one, the belief of Jesus being alive, is indicative of Jesus' excellence over the Holy Prophet(saw) although no Prophet of God had the glory of the Holy Prophet(saw). Hazrat Musleh Maud(ra) writes that the Promised Messiah(as) visited Lahore in 1904. He addressed a convention during this visit. There were some non-Ahmadi guests present at the convention who narrate that as the Promised Messiah(as) spoke he saw a large column of light as if emerging from the Promised Messiah's head and heading skywards. He mentioned this to the person sitting next to him who also saw the column of light. This experience left a huge impact of them and they accepted Ahmadiyyat on the same day. With reference to signs of the Promised Messiah(as), Hazrat Musleh Maud said that all accounts of the times of the Holy Prophet(saw) are not on record, otherwise there would have been hundreds and thousands of examples of his signs. As atheism is rampant in the time of the Promised Messiah(as) God has shown many signs for him which we can assume to be those of the Holy Prophet(saw). Once a Maulawi came to the Promised Messiah(as) and said he had come to see his sign. The Promised Messiah laughed and said have a look at my book Haqiqatul Wahi and you will realise how many signs God has shown in my corroboration. What benefit have you derived of the signs in Haqiqatul Wahi that you have now come to see more signs.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
10-Apr-2015   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Kyrgyz (mp3)Malayalam (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)Uzbek (mp3)

Title: The Essence of Worship of Allah
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا: ان آیات میں سے پہلی آیت میں اﷲتعالیٰ نے قد افلح المومنون کہ کر مومنوں کی کامیابی کی یقینی خوشخبری عطا فرمائی ہے، لیکن کون سے مومن، ان کی بہت سی شرائط اگلی آیات میں بیان فرمائیں ہیں، ان شرائط یا اوصاف میں سے جس سے ایک مومن کو متصف ہونا چاہئے پہلی خصوصیت یا حالت یہ ہے کہ وہ اپنی نمازوں میں خشوع دکھانے والے ہیں، عام معنی خاشع کے یہی کئے جاتے ہیں کہ نماز میں گریہ و زاری کرنے والے لیکن اس کے اور بھی معنی ہیں اور جب تک سب معنے پورے نہ ہوں، ایک مومن کی حقیقی معیار کی حالت پیدا نہیں ہوتی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ فرماتے ہیں کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ ایک بزرگ کا واقعہ سنایا کرتے تھےکہ انہوں نے کئی سال تک باقاعدہ مسجد میں نمازیں پڑھیں تا کہ لوگ انکی تعریف کریں لیکن خداتعالیٰ نے ان کی کسی گزشتہ نیکی کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں ان کے متعلق یہ بات ڈال دی کہ لوگ انہیں منافق کہتے تھے آخر ایک دن ان کو خیال آیا کہ اتنی عمر ضائع ہوگئی کسی نے مجھے نیک نہیں کہا، اگر خدا کیلئے عبادت کرتا تو خداتعالیٰ تو راضی ہوجاتا، یہ خیال انکے دل میں اتنے زور سے آیا کہ وہ اسی وقت جنگل میں چلے گئے، روئے اور دعائیں کیں اور توبہ کی۔ حضرت مسیح موعودؑ لکھتے ہیں: اول مرتبہ مومن کے روحانی وجود کا وہ خشوع اور رقت اور سوز و گداز کی حالت ہے جو نماز اور یاد الٰہی میں مومن کو میسر آتی ہے یعنی گدازش اور رقت اور فروتنی اور عجز و نیاز اور روح کا انکسار اور ایک تڑپ اور قلق اور تپش اپنے اندر پیدا کرےاور ایک خوف کی حالت اپنے اوپر وارد کر کرے خدائے عزوجل کی طرف اپنے دل کو جھکاناجیسا کہ اس آیت میں بیان فرمایا گیا ہے یعنی وہ مومن مراد پاگئے جو اپنی نماز میں اور ہر ایک طور کی یاد الٰہی میں فروتنی اور عجزونیاز اختیار کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ ابتدائی حالت میں اپنی نمازوں میں روتے اور وجد کرتے اور نعرے مارتے اور خدا کی محبت میں طرح طرح کی دیوانگی ظاہر کرتے ہیں اور چونکہ اس ذات ذولفضل سے جس کا نام رحیم ہے کوئی تعلق پیدا نہیں ہوتا اور نہ اس کی خاص تجلی سے اس کی طرف کھنچے جاتے ہیں اس لئے ان کا تمام سوز و گداز اور حالت خشوع بے بنیاد ہوتی ہے اور بسا اوقات ان کا قدم پھسل جاتا ہے ، یہاں تک کہ پہلی حالت سے بھی بدتر حالت میں جا پڑتے ہیں۔ اگر آنحضرت ﷺ جن کی عبادتوں کی خوبصورتی اور خشوع کا ہم تصور بھی نہیں کرسکتے ، یہ فرماتے ہیں کہ میں بھی جنت میں خداتعالیٰ کے فضل سے جاؤں گا تو پھر اور کسی کا عمل اسے کس طرح جنت میں لے جاسکتا ہے یا اﷲتعالیٰ اس سے راضی رہ سکتا ہے، آنحضرت ﷺ ان تمام باتوں کے باوجود کہ اﷲتعالیٰ نے ان کو ضمانت دی ہوئی تھی اور انہوں نے دنیا کی اصلاح کرنی تھی اور آپﷺ کے عمل جیسا تو کسی کا عمل نہیں ہوسکتا وہ بھی اپنے خشوع و خضوع کو اس طرح بڑھاتے ہیں کہ نوافل میں یہ احساس ہی نہیں رہتا کہ میرے پاؤں بھی متحرم ہوگئے ہیں۔

The first of the aforementioned verses gives certain glad-tiding of success to believers. However, what sort of believers does it refer to? The verses that follow give out many conditions and requisites of being a believer. The first of these requisites or qualities that a believer must have is that they are humble in their Prayer/Salat. Being humble in this context usually means weeping during Salat, however, it has many other meanings and connotations and unless all of those are fulfilled the true condition of being a believer is not achieved. Hazrat Khalifatul Masih II(ra) narrated that Hazrat Khalifatul Masih I(ra) used to relate an account of an elder. The elder offered Salat at mosque for many long years with the thought that people would praise him. But owing to some past virtue of his, God put it in the hearts of people that they used to call him a hypocrite. One day he realised that he had spent a lifetime worshipping at mosque but no one ever called him virtuous, he felt had he prayed for the sake of God, God would have been pleased with him. The Promised Messiah(as) writes: The first stage of a believer's spiritual state is that humility, weeping and tender-heartedness which a believer experiences during Salat and remembrance of Allah. That is, to generate in oneself a spirit of supplication, poignancy, humility, extreme humbleness, meekness of soul, ardour and warmth. To assume a state of fear while turning to the Glorious God as this verse states: 'Surely, success comes to the believers, Who are humble in their Prayers. Many people weep and cry during Salat while they are in the early spiritual stages. They exhibit strange mannerisms and passion in their love of God but because they do not forge a connection with the Source of Grace, that is Raheem God, and they are not drawn to Him owing to His special manifestation, all their pathos and state of humility is baseless and at times they slip and stumble so much so that they regress beyond their initial spiritual stage. Indeed, the Holy Prophet(saw) whose standard and level of worship of God is beyond our imagination said that even he would be granted Paradise only by the grace of God. How can anyone else's practice then take them to Paradise! In spite of being given guarantee by God the Holy Prophet(saw), who had come to reform the entire world, so intensified his humility and meekness during Prayer at night by standing for long periods of time that his feet would swell.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
03-Apr-2015   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Kyrgyz (mp3)Malayalam (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)Uzbek (mp3)

Title: The Countless Blessings of Allah
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں : اﷲتعالیٰ حق کے چمکانے اور ہمارے اس سلسلہ کی تائید میں اس قدر کثرت کے ساتھ زور دے رہا ہے پھر بھی ان لوگوں کی آنکھیں نہیں کھلتیں، آپؑ نے فرمایا ایک مخالف نے مجھے ایک دفعہ خط لکھا کہ آپؑ کی مخالفت میں لوگوں نے کچھ کمی نہیں کی مگر ایک بات کا جواب ہمیں نہیں آتا کہ باوجود اس مخالفت کے آپؑ ہر بار میں کامیاب ہی ہوتے جاتے ہیں ، پس یہ اﷲتعالیٰ کے وعدے تھےآپؑ سے جس کے نتیجے ظاہر ہوئے، صرف اس وقت ہی نہیں بلکہ آج تک مخالفین اپنا زور لگاتے چلے جارہے ہیں لیکن سلسلہ اﷲتعالیٰ کے فضل سے بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ تنزانیہ سے ہمارے مبلغ سلسلہ لکھتے ہیں کہ ٹبورا شہر سے کچھ فاصلے پر ایک بڑی جماعت کا قیام عمل میں آیا، اس جگہ جماعت کا قیام ایک احمدی دوست سلیمان صاحب کے ذریعہ سے ہوا، سلیمان صاحب وہاں تبلیغ کیلئے جاتے تھے اور پمفلٹ تقسیم کرتے تھے، اس پر کچھ افراد نے بیعت کر لی، اس کے بعد معلم سلسلہ نے بار بار وہاں دورہ کر کے تبلیغ کی جس پر کچھ اور افراد نے بیعت کی اور اﷲتعالیٰ کے فضل سے وہاں تعداد بڑھتی چلی جارہی ہے، افراد جماعت غریب ہیں لیکن ایمان کے جذبہ سے سرشار ہیں اور اپنی مدد آپ کے تحت انہوں نے ایک کچی مسجد بھی وہاں بنا دی ہے۔ گھانا سے ہمارے ایک مشنری جو وفات پاگئے ہیں ، انہوں نے اپنا ایک واقعہ لکھا کہ وہاں کے مقامی لوگوں نے ہمارے ایک داعی الی اﷲ کو تبلیغ کے دوران بارش کیلئے دعا کرنے کیلئے کہا ، جس پر انہوں نے اعلان کیا کہ کیونکہ وہ امام مہدی کے بیغام کو پہنچانے کیلئے دعا کرر ہے ہیں اس لئے دعا ضرور قبول ہوگی اوررات کو بارش ہوگی، اﷲتعالیٰ کے فضل سے اسی رات ایک بجے اس علاقے میں موسلا دھار بارش ہوئی اور قبولیت دعا کے اس نشان کو دیکھتے ہوئے اس علاقے سے ایک بڑی تعداد کو قبولیت احمدیت کی توفیق ملی۔ مبلغ انچارچ گنی کناکری لکھتے ہیں کہ کہ 200 کلومیٹر دور ایک بہت بڑا گاؤں ہے ، اﷲتعالیٰ کے فضل سے اس سال مسلسل رابطے کے نتیجے میں سارا گاؤں اور آس پاس کے دیہات احمدی ہوگئے، کہتے ہیں اتنی بڑی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمارا خیال تھا کہ یہاں باقاعدہ جماعت کا قیام کیا جائے، ہم جماعتی نظام کے قیام کیلئے وہاں پہنچے تو احباب جماعت پہلے سے ہمارے منتظر تھے ، گاؤں کے چیف نے کہا کہ ہمارا مال و اسباب اور سب کچھ حاضر ہے ، یہ بڑی مسجد آپکی ہے بلکہ سارا گاؤں آپکا ہے،کہنے لگے کہ ہم انتہائی خوش ہیں اور اسلام احمدیت کو قبول کر کے ہم نے اس نعمت کو پالیا ہے جو انتہائی قیمتی ہے اور اب ہماری آنکھیں کھلی ہیں۔ یادگیر، انڈیا کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ یادگیر کے ایک نوجوان جن کا تعلق ہندو مذہب سے تھا، وہ بی ایس سی کی تعلیم حاصل کرر ہے تھے، ان کے ساتھ ہمارے ایک خادم بھی پڑھائی کر رہے تھے،ایک دن ان کو نوٹ بک کی ضرورت پڑی تو انہوں نے ہمارے خادم کی نوٹ بک لے لی جس پر محبت سب کیلئے نفرت کسی سے نہیں لکھا ہوا تھا، یہ پڑھ کر ان کے دل پر بہت اگہر ااثر ہوا، ان کو مزید جماعت کا لٹریچر مہیا کیا گیا، گہرے مطالعہ کے بعد ان کو اس بات کا علم ہوا کہ جماعت احمدیہ منظم اور سچی جماعت ہےجو قیام امن اور انسانیت کیلئے بے انتہا کوشش کر رہی ہے، موصوف نے مارچ 2014 میں بیعت کر لی۔ بہر حال یہ ان بے شمار واقعات میں سے چند ایک ہے جن کو اکثر حضرت خلیفۃ المسیح اپنی رپورٹس میں دیکھتے ہیں کہ کس طرح اﷲتعالیٰ اپنے نشانات دکھا رہا ہے، کس طرح لوگوں کی خوابوں کے ذریعے راہنمائی فرما رہا ہے، یقینا یہ باتیں حضرت مسیح موعودؑ کے حق میں خداتعالیٰ کی تائید و نصرت کا پتہ دیتی ہیں، حضرت مسیح موعودؑ کی صداقت کا ثبوت ہیں، آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی کے مطابق جو آخری زمانہ میں امام آیااس کی سچائی ظابت کر کے آنحضرت ﷺ کے لائے ہوئے دین کی برتری ثابت کر رہی ہیں، لیکن افسوس ہے ان لوگوں پر جو آنحضرت ﷺ کی پیشگوئیوں پر باوجود مسلمان ہونے کا دعویٰ کرنے کے ایمان نہیں لاتے، جو اپنے نام نہاد علماء کی باتوں میں آکر سچائی کا انکار کر رہے ہیں۔ انتصار احمد ایاز صاحب کی وفات، وسیم احمد صاحب طالب علم جامعہ احمدیہ قادیان کی وفات۔

The Promised Messiah(as) once remarked: Allah the Exalted is employing great emphasis on making the truth shine and in support of our mission but the eyes of these people do not open. He said once an opponent wrote to me saying that people have not been backward in opposing you yet we do not understand one thing, in spite of opposition you are successful in everything you do. This was of course by virtue of fulfilment of Divine promises. Our opponents continue to exert themselves to this day but with the grace of God the community continues to progress. Our missionary from Tanzania writes that a large jama'at was established outside Tabora through an Ahmadi called Sulaiman Jummah Sahib. He had distributed pamphlets in the area which was followed by Tabligh and this resulted in Bai'ats. With the grace of God the number of Ahmadis is increasing in the area. Although they are poor in worldly terms but they are filled with faith. They have even built a clay mosque. A missionary from Ghana who has passed away wrote that once an Ahmadi doing Tabligh was asked to pray for rain. He said since he was preaching to propagate the message of Imam Mahdi(as) it would certainly rain. With the grace of God rain came and a large number of people accepted Ahmadiyyat. Our missionary of Guinea Conakry writes that with the grace of God a large village situated 200 km away and some adjoining villages accepted Ahmadiyyat. When the Jama'at thought to properly establish itself in the area the chief of the village said all their resources were at the disposal of the Jama'at. He said they were delighted to have joined Ahmadiyyat, true Islam which had opened their eyes. Ameer Sahib of Yadgir, India writes that a Hindu student saw the motto of Love for all hatred for none on the notebook of his Ahmadi fellow student. This motto had a deep impact on him and he asked for further information. He was given books and literature to read. After in-depth study and having watched the Jama'at's service to humanity he was satisfied and took Bai'at in March 2014. These are just a few glimpses from among countless accounts received in Huzoor's reports of how God is guiding people to the truth of Ahmadiyyat, true Islam. These are signs of the truth of the Promised Messiah(as). These accounts prove, in accordance with the prophecy of the Holy Prophet(saw) the truth and excellence of the faith brought by him. It is most regrettable that Muslims are drawn in by the so-called religious scholars and reject to accept the truth. Death of Intisar Ahmad Ayaz Sahib and Waseem Ahmad, student of Jamia Ahmadiyya Qadian.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
27-Mar-2015   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Kyrgyz (mp3)Malayalam (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Khalifatul Masih II: Pearls of Wisdom
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam | Kannada
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت مسیح موعودؑ نے اپنے دعویٰ سے پہلے سے لے کر وصال تک بے شمار اشتہار آپ نے شائع کروائے، یہ تمام اشتہار مذہبی دنیا کا ایک خزانہ ہے، آپؑ کی ایک تڑپ تھی کہ مسلمانوں کو بھی، عیسائیوں کو بھی اور دوسرے مذہب والوں کو بھی تباہ ہونے سے بچائیں، آپ اکیلے یہ کام کرتےتھے اور اس کیلئے سخت محنت کرتے تھے، بڑی بڑی تصنیفات تو آپ کی ہیں ہی ، آپ کی ہمدردی خلق کی طرف چھوٹے اشتہارات سے بھی دنیا کی اصلاح کا درد ظاہر کرتی ہے، دنیا کی اصلاح کے اس درد کو قائم رکھنا اور آگے چلانا آپؑ کی جماعت کے افراد کا بھی فرض ہے۔ تین چار سال پہلے حضرت خلیفۃ المسیح نے جماعتوں کو فرمایا تھا کہ ورقہ دو قرقہ بنا کر تبلیغ کا کام کریں اور اس کا ٹارگٹ بھی دیا تھا کہ لاکھوں کی تعداد میں ہونا چاہئے جس سے اسلام کی خوبصورت تعلیم کا دنیا کو پتہ چلے ، دنیا کو پیغام ملے کہ اس زمانے میں اﷲتعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؑ کو بھیج کر پھر سے اسلام کی نشعت ثانیہ فرمائی ہے اور اسلام کی حقیقی تعلیم کو جاری فرمایا ہے، جن جماعتوں نے اس سلسلےمیں کام کیا اس کے بڑے مثبت نتائج نکلے ہیں ، سپین میں حضور نے جامعہ کے طلباء کو بھیجا تھا انہوں نے بڑا کام کیا ہے وہاں ، اسی طرح جامعہ کینیڈا کے طلباء نے سپینش ممالک میں اور میکسیکو میں جا کر یہ اشتہارات تقسیم کئے اور اﷲتعالیٰ کے فضل سے اس سے تبلیغ کے میدان بھی وسیع ہوئے ہیں اور بیعتیں بھی ہوئیں ہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ اور آپؑ کے صحابہؓ کے وااقعات کا ذکر کرتے ہوئے ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ جب شہدائے افغانستان پر پتھر پڑتے تھے تو وہ گھبراتے نہیں تھے بلکہ استقامت اور دلیری کے ساتھ ان کو قبول کرتے تھے اور جب بہت زیادہ ان پر پتھر پڑے تو صاحبزادہ عبداللطیف شہید ؓ ، نعمت اﷲخان صاحب اور دوسرے شہداء نے یہی کہا کہ یا الٰہی ان لوگوں پر رحم کر اور انہیں ہدایت دے، بات یہ ہے کہ عشق کا جذبہ جب انسان کے اندر ہو تو اس کا رنگ ہی بدل جاتا ہے ، اس کی بات میں تاثیر پیدا ہو جاتی ہے اور اس کے چہرہ کی نورانی شعائیں لوگوں کے کھینچ لیتی ہیں،قادیان میں ہزاروں لوگ آئے ، جب انہوں نے حضرت مسیح موعودؑ کو دیکھا تو کہا کہ یہ چہرہ کسی جھوٹے کا نہیں ہوسکتااور کوئی لفظ سنے بغیر بیعت کر لی۔ آج اﷲتعالیٰ کے فضل سے دنیا میں سینکڑوں سکول اور کالج جماعت کے چل رہے ہیں اور آج اﷲتعالیٰ کے فضل سے بڑے بڑے ماہرین اور افسران بھی جماعت میں شامل ہیں دنیا کے مختلف ممالک میں، ملکی پارلیمنٹوں کے ممبر احمدی ہیں اور اخلاص میں بھی بڑھے ہوئے ہیں یہ نہیں کہ صرف دنیا داری ان میں آئی ہوئی ہے،بلکہ افریقہ میں بعض اہم وزارتوں پر بھی احمدی فائز ہیں۔ آج بھی گو خاص طور پر پاکستان میں اور عام طور پر بعض دوسرے مسلمان ممالک میں کچھ شدت ہے، احمدیوں کے حالات تنگ ہیں ، لیکن اس کے باوجود کسمپرسی کی وہ حالت نہیں ، مالی لحاظ سے بھی بہتر ہیں اور باقی انتظامات بھی اﷲتعالیٰ کے فضلوں سے بہت بہتر ہیں اور اﷲتعالیٰ کے فضلوں کا اظہار کر رہے ہیں، دنیا کے کونے کونے میں اب اﷲتعالیٰ کے فضل سے احمدیت پہنچ چکی ہے،جب مشکلات ہوتی بھی ہیں تو الیس اﷲ بکاف عبدہ کی آواز آج بھی سہارا بنتی ہے ہمارا، دنیا کے کونے کونے میں حضرت مسیح موعودؑ کے لنگر قائم ہیں، پس اﷲتعالیٰ نے نہ ہمیں کبھی چھوڑا ہے اور نہ کبھی چھوڑے گا انشاء اﷲاگر ہم اس کے ساتھ چمٹے رہیں، قربانیاں بیشک دینی پڑتی ہیں اور احمدی اﷲتعالیٰ کے فضل سے دیتے ہیں لیکن ہر قربانی اﷲتعالیٰ کے فضلوں کو لئے ہوئے نئی راہیں ہمیں دکھاتی ہے۔ نعمان احمد انجم صاحب آف کراچی کی شہادت، انجینئر فاروق احمد خان صاحب نائب امیر ضلع پشاور کی وفات۔

The Promised Messiah(as) had numerous posters published even before he made his claim and he continued to have them published till his passing away. All these posters are a treasure for the religious world. It was his deep and intense wish to save Muslims, Christians and people of other faith from ruin. And for this he worked most diligently by himself. Even his smaller posters show his profound concern and compassion for mankind and its reformation. A few years ago Hazrat Khalifatul Masih V instructed the Jama'at to prepare small pamphlets and distribute them so that the world may come to know the reality of Islam and is also informed that God has sent the Promised Messiah in this age to revive the message of Islam. The pamphlet distribution around the world was very successful. Jamia students in Spain were instructed to take on the task and students of Canadian Jamia distributed them in Central American countries which widened Tabligh and resulted in bai'ats. Relating various accounts of the Promised Messiah(as) and his companions Hazrat Musleh Maud(ra) said when the Afghan martyrs were being stoned they accepted the situation valiantly. They only prayed for the guidance of those who stoned them. Ardent love of God transforms the way one thinks and one's words have great impact and one's face radiates spiritual glow. Thousands came to see the Promised Messiah(as) in Qadian and seeing his face they said this cannot be the face of a liar and accepted him without hearing him say a single word. Today with the grace of God the Jama'at runs hundreds of schools and colleges around the world and members of the Jama'at include prominent experts and important people. In place Ahmadis are members of national parliaments and in Africa many Ahmadis have high ministerial positions. Not only have they attained high status in worldly terms they are also enhanced in sincerity. Today Ahmadis are persecuted in the world, mainly in Pakistan yet the situation is not as it once was. Ahmadis have migrated to all parts of the world. When faced with difficulties God's Words act as support even today. Today Messiah's Langar operates in all parts of the world. God did not ever leave us and if we stay connected to Him, He will not do so in future either. Indeed sacrifices are needed which Ahmadis readily give and each sacrifice opens new avenues with God's grace. Martyrdom of Noman Ahmad Anjum of Karachi, Death of Engineer Farooq Ahmad Khan Sahib, Naib Ameer district Peshawar.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
20-Mar-2015   Urdu (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Kyrgyz (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Solar and Lunar Eclipses
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam | Kannada
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضور نے فرمایا : آج یہاں (یوکے میں) سورج گرہن تھا ، اسی طرح بعض اور ممالک میں بھی یہ گرہن نظر آیا، آنحضور ﷺ نے اس موقع پر خاص طور پر دعاؤں ، استغفار ، صدقہ خیرات اور نماز پڑھنے کی طرف ہدایت فرمائی ہے ، اس لحاظ سے جماعت کو جہاں جہاں بھی گرہن لگنے کی خبر تھی، ہدایت کی گئی تھی کہ نماز کسوف ادا کریں ، ہم نے بھی یہاں آنحضرت ﷺ کی سنت کے مطابق نماز کسوف ادا کی۔ آنحضور ﷺ نے ان گرہنوں کو خاص طور پر بڑی اہمیت دی ہے، اس لئے جب آپﷺ کی زندگی میں گرہن لگا تو اس حوالے سے بہت سی احادیث ہیں، حضرت اسماء ؓ سے روایت ہے ، وہ کہتی ہیں کہ جب سورج گرہن ہوا تو میں حضرت عائشہؓ کے پاس آئی تو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہیں ہیں، میں نے کہا کہ لوگوں کو کیا ہوا ہے کہ اس وقت کھڑے نماز پڑھ رہے تھے، حضرت عائشہ ؓ نے آسمان کی طرف اشارہ کیا اور سبحان اﷲکہا۔ حضرت غلام محمد صاحب ؓ بیان کرتے ہیں کہ خاکسار کے گاؤں میں پہلے پہل ایک صاحب مولوی بدرالدین نامی تھے ، ان دنوں میں فدوی کی عمر تقریبا پندرہ برس کی ہوگی، بندہ مولوی بدرالدین کے گھر کے سامنے ان کے ہمراہ کھڑا تھا کہ دن میں سورج کو گرہن لگا اور مولوی صاحب نے فرمایا ، سبحان اﷲ مہدی صاحب کی آمد کے علامات ظہور میں آگئے اور ان کی آمد کا وقت آپہنچا ، بعد کچھ عرصہ گزرنے کے مولوی صاحب احمدی ہوگئے ، مولوی صاحب بہت ہی مخلص اور نیک فطرت اور پر اخلاص تھے،انہوں نے اپنے والدین اور بیوی کو ایک سال کی کوشش کر کے احمدی کیا۔ حضرت سید زین العابدین ولی اﷲشاہ صاحب فرماتے ہیں کہ اس زمانے میں اس بات کا عام چرچا تھا کہ مسلمان برباد ہوچکے ہیں اور تیرہوی صدی کا آخر ہےاور یہ وہ زمانہ ہے جس میں امام مہدیؑ تشریف لائیں گےاور ان کے بعد حضرت عیسیٰؑ بھی تشریف لائیں گے چنانچہ حضرت والدہ صاحبہ اس مہدی اور مسیح کی آمد کا ذکر بڑی خوشی سے کیا کرتی تھیں کہ وہ زمانہ قریب آرہا ہے اور یہ بھی ذکر کیا کرتی تھیں کہ چاند گرہن اور سورج گرہن کا ہونا بھی امام مہدی کیلئے مخصوص تھااور وہ ہوچکا ہے۔ حضرت بھائی عبدالرحمٰن صاحب قادیانی بیان فرماتے ہیں کہ 1894 کے آخر میں مہدی آخر و الزماں کی مشہور علامت کسوف خسوف پوری ہوگئی، وہ نظارہ آج تک میری آنکھوں کے سامنے ہے جب ہمارے ہیڈماسٹر مولوی جمال الدین صاحب نے اس علامت کے پورا ہونے پر مدرسے کے کمرے کے اندر ساری جماعت کے سامنے کہے تھے کہ مہدی و آخر الزماں کی اب تلاش کرنا چاہئے، باوجود اس نشان کے اعلان کرنے کے خود قبول مہدی و آخرالزماں سے محروم ہی چلے گئے،بھائی عبد الرحمٰن صاحب امام مہدی کے بارہ میں کچھ نہ جانتے تھے ۔ شیخ نصیر الدین صاحب صحابی حضرت مسیح موعودؑ ایک خواب کی بناء پر حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت سے مشرف ہوئے ، اہلحدیث مسلک سے تعلق رکھتے مگر سکون قلب میسر نہ تھا ، ان کا دل گواہی دیتا تھا کہ آنے والے کا وقت یہی معلوم ہوتا ہے لیکن امام مہدی کا ظہور کیوں نہیں ہو رہا، اسی طرح ایک دفعہ مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے کہ مولوی صاحب پریشانی کے عالم میں اپنی رانوں پر ہاتھ مار مار کر سورج اور چاند گرہن کا ذکر کر کر کے کہ رہے تھے کہ اب تو لوگوں نے مرزا صاحب کو مان لینا ہے ، شیخ صاحب کو سمجھ نہ آئی کہ مولوی کیوں پریشان ہے ۔ احمدیحییٰ باجوہ صاحب طالب علم جامعہ احمدیہ جرمنی کی وفات۔

A solar eclipse took place in the UK today and also in some other countries. The Holy Prophet(saw) instructed to particularly pray, engage in istaghfar, give alms and offer Salat during eclipse. Today special Salat known as Salatul Kusoof [Kusoof is solar eclipse] was offered by the Jama'at in areas of solar eclipse in accordance with the Sunnah of the Holy Prophet(saw). The Holy Prophet(saw) gave particular significance to solar and lunar eclipses. There are Ahadith regarding an eclipse that took place in the life time of the Holy Prophet(saw). Hazrat Asma(ra) related: 'I came to 'Aishah during solar eclipse and saw her Praying. I asked her what is wrong with the people that they are Praying at this hour? She gestured with her hand towards the sky and said: SubhanAllah. Hazrat Ghulam Muhammad Sahib said that during his adolescence there was a Maulawi Sahib called Badr ud Din in his village. He remembered being with him when the eclipse occurred and Maulawi Sahib said SubhanAllah this is a sign of the Mahdi. Maulawi Sahib accepted the Promised Messiah(as) and worked assiduously on his family for a year after which they also accepted Ahmadiyyat. Hazrat Sayed Zainul Abideen Waliullah Shah Sahib writes that it was widely held in those days that Muslims were ruined. It was the end of the thirteenth century [Hijrah] and it was said that Imam Mahdi was going to appear and Hazrat Isa(as) was also going to appear after him. My dear mother used to mention Imam Mahdi and Hazrat Isa delightedly and would say that solar and lunar eclipse was specific to the advent of Imam Mahdi. Bhai Abdul Rahman Sahib writes that he was in Year/Grade 8 when the solar eclipse of Ramadan 1894 took place. The headmaster at his school declared that Imam Mahdi should be searched for because his sign had been fulfilled. In spite of making this announcement, the headmaster did not accept the Imam Mahdi. Bhai Abdul Rahman Sahib did not have any knowledge about Imam Mahdi but did not feel comfortable asking his teachers. Sheikh Naseer ud Din Sahib, companion of the Promised Messiah(as) was inspired to take bai'at after a dream. He belonged to Ahle Hadith community. His heart bore witness that it was time for the Promised One to come but he had not yet appeared. Once he saw a Maulawi in mosque perturbed and lamenting that the solar eclipse had taken place and people were going to accept Mirza Sahib. Sheikh Sahib could not quite understand why the Maulawi was worried if the eclipse had taken place. Death of Ahmad Yahya Bajwa Sahib Jamia student from Germany.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
13-Mar-2015   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Kyrgyz (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Khalifatul Masih II - Pearls of Wisdom
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں: حضرت مسیح موعودؑ کو تبلیغ اسلام کیلئے عجیب عجیب خیالات آتے تھے اور وہ رات دن اسی فکر میں رہتے تھے کہ یہ پیغام دنیا کے ہر کونے میں پہنچے، ایک دفعہ آپ نے تجویز کی کہ ہماری جماعت کا لباس ہی الگ ہو تاکہ ہر شخص خود تبلیغ کر سکے، اس پر مختلف تجاویز ہوئیں، یعنی یہ پہچان ہو جائے کہ یہ احمدی ہے، اب صرف علیحدہ پہچان تو کوئی چیز نہیں ہے، یقینا آپ کہ یہی خواہش ہوگہ کہ اس طرح جہاں لباس دیکھ کر اور پھر عملی اور اعتقادی حالت دیکھ کر غیروں کی توجہ ہوگی وہاں خود بھی احساس رہے گا کہ میں ایک احمدی کی حیثیت سے پہچانا جاؤں گااس لئے میں نے اپنی عملی اور اعتقادی حالت کو درست بھی رکھناہے۔ حضرت مسیح موعودؑ کے ایک صحابی جن کا نام شیر محمد صاحب تھا ، ان پڑھ آدمی تھے، حضرت مسیح موعودؑ کے پرانے صحابہؓ میں سے تھے ،وہ فنا فی الدین قسم کے آدمیوں میں سے تھے ، یکہ چلاتے تھے ، اخبار الحکم منگواتے تھے، سواریوں سے پوچھتے آپ میں سے کوئی پڑھا ہوا ہے ، اگر کوئی پڑھا ہوا ہوتا تو اسے کہتے یہ اخبار میرے نام آئی ہے ذرا اسےسنا تو دیجئے، یکے میں بیٹھا آدمی جھٹکے کھاتا ہے اور چاہتا ہے اسے کوئی شغل مل جائے، وہ خوشی سے پڑھ کے سنانا شروع کر دیتا ہے، جب وہ پڑھنا شروع کرتا تو آپ جرح شروع کر دیتے کہ یہ کیا لکھا ہوا ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ سے جب کوئی دوست یہ ذکر کرتے کہ ہمارے ہاں بڑی مخالفت ہےتو آپ فرماتے کہ یہ تمہاری ترقی کی علامت ہے، جہاں مخالفت ہوتی ہے وہاں جماعت بھی بڑھتی ہےکیونکہ مخالفت کے نتیجے میں کئی ناواقف لوگوں کو بھی سلسلہ سے واقفیت ہوجاتی ہے اور پھر رفتہ رفتہ ان کے دل میں سلسلہ کی کتابیں پڑھنے کا شوق پیدا ہوجاتا ہے اور جب وہ کتابیں پڑھتے ہیں تو صداقت ان کے دلوں کو موہ لیتی ہے ، حضرت مسیح موعودؑ کی خدمت میں ایک دفعہ ایک دوست حاضر ہوئے اور انہوں نے آپکی بیعت کی ، بیعت لینے کے بعد حضرت مسیح موعودؑ نے ان سے دریافت فرمایا کہ آپ کو کس نے تبلیغ کی تھی ، وہ بے ساختہ کہنے لگے مجھے مولوی ثناءاﷲ نے تبلیغ کی۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں: بعض دفعہ جب بات حد سے بڑھ جاتی ہے تو پھر کسی حد تک ان باتوں کا جواب بھی دینا پڑتا ہے، عیسائی ہمیشہ رسول کریمﷺ پر حملے کیا کرتے تھے اور مسلمان چونکہ ان کے حملوں کا جواب نہیں دیا کرتے تھے اس لئے عیسائی یہ سمجھا کرتے تھے کہ اسلام کے بانی میں عیب ہی عیب ہیں ، اگر کسی میں عیب نہیں تو وہ یسوع کی ذات ہے، حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ دنوں کے بعد دن گزرے، ہفتوں کے بعد ہفتے ، سالوں کے بعد سال اور صدیوں کے بعد صدیاں ، سات آٹھ سو سال تک عیسائی متواتر گند اچھالتے رہے آنحضرت ﷺ کی ذات پر اور مسلمان انہیں معاف کرتے رہے۔ حضرت شعیب ؑ جب لوگوں سے کہتےکہ تم دوسروں کا مال نہ لوٹو ، اپنے مال کو ناجائز کاموں میں خرچ نہ کرو تو آپؑ کی باتوں سے آپؑ کی قوم حیران ہوتی تھی اور کہتی تھی کہ شعیب (نعوذباﷲ) پاگل ہوگیا ہےاور دیوانوں کی سی باتیں کرتا ہے، حضرت مصلح موعود ؓفرماتے ہیں کہ اس زمانے میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ کو بھی لوگوں نے (نعوذباﷲ) پاگل کہا، جب آپؑ نے وفات مسیح کا مسئلہ لوگوں کے سامنے پیش کیا تو مسلمان سمجھ ہی نہ سکے کہ 1300 سال سے یہ مسئلہ امت محمدیہ کا اکابر پیش کرتے چلے آرہے ہیں کہ عیسیٰ آسمان پر زندہ ہیں تو وہ فوت کس طرح ہوگئے۔

The Promised Messiah(as) always felt most fervently about Tabligh. He would think of all kinds of wondrous ways and means to carry out Tabligh that would take his message to the ends of the earth. He once suggested that people of the community should have special clothing which would distinguish them from the rest. Indeed his wish would have been for Ahmadis to be mindful of their practice and their belief when wearing specific clothes. One of the devout companions of the Promised Messiah(as) called Sher Muhammad Sahib was uneducated and drove a carriage. He subscribed to Al Hakm journal. When taking his customers around he would chat with them and after determining if they could read he would give them his copy of Al Hakm and ask them to read it to him. Customers would take him on to pass their time. When an Ahmadi would tell the Promised Messiah(as) that they faced a lot of opposition in their area, the Promised Messiah(as) always said that this was a sign of progress for the area. Through opposition people who do not know about us find out who we are and when they read our books the truth captures their heart. The Promised Messiah(as) once asked someone taking bai'at who had done Tabligh to him. He said Maulawi Sana Ullah. Sometimes when a matter exceeds limits it needs to be responded to. Through the ages Christians have always attacked the Holy Prophet(saw) and because Muslims could not respond Christians always assumed that the founder of Islam was, God forbid, full of flaws. Thus, days, months, years and centuries passed and Christians sullied the name of the Holy Prophet(saw) and Muslims kept pardoning them. When Hazrat Shuaib(as) told his people not to usurp others and not to spend their own wealth in wrong ways they said that Shuaib had gone mad. In this age when the Promised Messiah(as) presented the concept of death of Jesus to Muslims they too said that, God forbid, the Promised Messiah had gone mad. Owing to the creed that had been prevalent for 1300 years Muslims could not believe that Hazrat Isa(as) had indeed died.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
06-Mar-2015   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Kyrgyz (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Taqwa (Righteousness)
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضور نے فرمایا : عموما دیکھا جاتا ہے کہ ہر برائی اور گناہ کی جڑ ان برائیوں اور گناہوں کو معمولی سمجھتے ہوئے ان سے بچنے کی کوشش نہ کرنا ہے لیکن یہی بے احتیاطی پھر انسان کو بڑے گناہوں میں مبتلا کر دیتی ہے کیونکہ پھر انسان آہستہ آہستہ نیکیوں کو بھول جاتا ہےاور ان معیاروں کو بھول جاتا ہے جو ایک مومن کو حاصل کرنے چاہئیں، اﷲتعالیٰ کا خوف اور یوم آخرت پر ایمان کم ہوجاتا ہے ، انسان عملا ایمان سے دور ہوتا چلا جاتاہے، ان آیات میں اﷲتعالیٰ نے اسی طرف مومنوں کی توجہ دلائی ہے، اﷲتعالیٰ نے فرمایا کہ اس دنیا کی آرام اور آسائشوں کی فکر نہ کرو بلکہ اپنی کل کی فکر کرو۔ پس وہ خاندان جو اپنے گھروں کو چھوٹی چھوٹی باتوں پر برباد کر رہے ہوتے ہیں ، اﷲتعالیٰ کے حکموں پر غور کرنے والے اور ان پر عمل کرنے والے بن جائیں تو نہ صرف اپنے گھروں کے سکون کے ضامن ہو جائیں گے ، اپنے بچوں کی صحیح تربیت اور ان کو تقویٰ پر چلنے کی طرف راہنمائی کرنے والے بھی بن جائیں گےاور ان کی زندگیاں سنوارے والے بن جائیں گے، پس ایسے گھروں کو جو چھوٹی چھوٹی باتوں پر صرف دنیا داری کی خاطر اپنے گھروں کو برباد کر رہے ہیں ، سوچنا اور غور کرنا چاہئے،اگلی نسلیں صرف آپ کی ہی اولاد نہیں، بلکہ جماعت اور قوم کا بھی سرمایہ ہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے فرمایا: مومن کو چاہئے کہ جو کام کرے اس کے انجام کو پہلے سوچ لے کہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا ، فرمایا کہ انسان غضب کے وقت قتل کر دینا چاہتا ہے ، گالی نکالتا ہے مگر سوچے اس کا انجام کیا ہوگا ، اس اصل کو مدنظر رکھے تو تقویٰ پر قدم مارنے کی توفیق ملے گی، تمام برائیاں اور گناہ اس لئے سرزد ہوتے ہیں کہ ان کے کرتے وقت ہمارے دعماغ میں شیطان آیا ہوتا ہے، نتائج سے بے پرواہ ہو کر کام ہوتا ہے۔ پس یہ یقین ہمیں اپنے اندر پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ اﷲتعالیٰ ہمارے ہر عمل کو دیکھ رہا ہےاور اس بات پر بھی یقین کہ وہ ہمارے ہر قسم کے دھوکے، فریب چاہے وہ ہم معمولی سمجھ کر تھوڑا سا منافع کمانے کیلئے کر رہے ہیں یا اپنے کام میں سستی دکھا رہے ہیں تو یاد رکھیں ایسی باتیں خداتعالیٰ کو پسند نہیں اور جب خداتعالیٰ کو پسند نہیں تو پھر اس کا بدلہ سزا کی صورت میں ہوگا، پس مومن کو کل پر نظر رکھنے کا کہ کر ، اپنے معمولی گھریلو معاملات سے لے کر اپنے معاشرتی ، ملکی ، بین الاقوامی ، تمام معاملات پر تقویٰ سے چلنے کی طرف توجہ دلا دی۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا مجھے یاد ہے ،جب کینیا حضور دورہ پر گئے تھے تو وہاں ایک دعوت پر وہاں کے ایک پرانے سیاستدان ملے اور کہنے لگے کہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کو بھی ملا ہوں ، انہوں نے مجھے ایک نصیحت کی تھی جس کا مجھے بڑا فائدہ ہےاور وہ نصیحت یہ تھی کہ تم ہر کام کرنے سے پہلے یہ سوچ لو کہ خداتعالیٰ مجھے دیکھ رہا ہےاور اس کے پاس تمہاری تمام باتوں کا ریکارڈ بھی ہے ،وہ غالبا عیسائی تھے ، اگر ان کو فائدہ ہوسکتا ہے تو ایک حقیقی مومن جس کو خاص طور پر خداتعالیٰ نے تاکید فرمائی ہے اس کو کس قدر فائدہ ہوگاکہ اپنے کام کے انجام پر نظر رکھے۔

Generally speaking the root cause of every badness or sin lies in not making any effort to avoid it by considering such action unnecessary, although this very carelessness leads to bigger sins. Man gradually forgets virtues and the standards that are expected of a believer. Fear of God diminishes and one's belief in the Hereafter also weakens. In practice one becomes distant from the requisites of faith. The aforementioned Quranic verses draw attention to this subject. One is reminded not to merely be concerned with the interests, comforts and connections of this world. If families that ruin their home lives over small, trivial matters reflected on commandments of God and also practised them, not only would they be guarantors of peaceful family life they would also be adorning the future of their children. Families that are ruining their homes over trivial worldly matters should reflect and ponder over this. Your next generation does not only belong to you, it is also an asset of the Jama'at and the nation. Hazrat Khalifatul Masih I(ra) said that a believer should first think of the consequences of any task that he embarks upon. When enraged man is given to murderous tendencies and is also verbally abusive. But he should reflect over the consequences of this conduct. Reflecting over the consequences will lead him to abide by righteousness. All badness or evil stems from the fact that we have Satan in our thoughts/mind and we do whatever we do without giving any thought to the consequences of the matter. We need to instil the belief that God watches every act of ours and we also need to instil the belief that every kind of deception, no matter how insignificant we may consider it to be, or any sloth or indolence on our part is not liked by God. By asking believers to look for what one sends for the morrow God has commanded us to abide by righteousness in family matters, in business matters to matters of national and international scope. When Hazrat Khalifatul Masih visited Kenya he met with a politician who related to him that he had also met Hazrat Khalifatul Masih IV(rh) who had advised him something which had proved very beneficial. The advice was to think before doing anything that God is watching you and that He also has a record of everything one does. Perhaps this person was Christian. If he could benefit from this advice, how much more beneficial would the advice be for a true believer who has been enjoined by God to follow it.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
27-Feb-2015   Urdu (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Kyrgyz (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Khalifatul Masih II - Pearls of Wisdom
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam | Kannada
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت مسیح موعودؑ کے پاس ایک شخص آیا ، اس نے کہا کہ میں آپؑ کا بہت مداح ہوں لیکن ایک بہت بڑی غلطی آپ سے ہوئی ہے، آپ جانتے ہیں کہ علماء کسی کی بات نہیں مانا کرتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر مان لی تو ہمارے لئے موجب ہتک ہوگی، ان سے منوانے کا یہ طریق ہے کہ ان کے منہ سے ہی بات نکلوائی جائے ، جب آپ کو وفات مسیح کا مسئلہ معلوم ہوا تھا تو آپ کو چاہئے تھا کہ چیدہ چیدہ علماء کی دعوت کرتے اور ایک میٹنگ کر کے یہ بات ان کے سامنے پیش کرتے کے عیسائیوں کو حیات مسیح کے مسئلے سے بہت مدد ملتی ہےاور وہ اعتراض کر کے اسلام کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کااپنی کتاب میں حضرت ابراہیمؑ کے آگ میں پھینکے جانے کے متعلق یہ جواب کہ اس جگہ آگ سے ظاہری آگ مراد نہیں بلکہ مخالفت کی آگ ہے تو حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ اس تاویل کی کیا ضرورت ہے، مجھے بھی خداتعالیٰ نے ابراہیم کہا ہے، کیا طاعون آگ سے کم ہے اور دیکھ لو کہ کیا ہی کم معجزہ ہے کہ چاروں طرف طاعون آئی مگر ہمارے مکان کو اﷲتعالیٰ نے اس سے محفوظ رکھا ، پس حضرت ابراہیمؑ کو اﷲتعالیٰ نے آگ سے بچا لیا ہو تو کیا بعید ہے، ہماری طرف سے مولوی صاحب کو کہ دو کہ یہ مضمون کاٹ دیں۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ میں جب گھر میں آیا تو حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا اﷲتعالیٰ کے ہم پر جو احسانات ہیں ان میں سے ایک حکیم صاحب کا وجود ہے اور یہ ہمارا ناشکرا پن ہوگا اگر اس کو تسلیم نہ کریں ، اﷲتعالیٰ نے ہم کو ایک ایسا عالم دیا ہے جو سارا دن درس دیتا ہے پھر طب بھی کرتا ہے جس کے ذریعے ہزاروں جانیں بچ جاتی ہیں اور آپ اسی طرح میرے ساتھ چلتے ہیں جس طرح انسان کے ساتھ نبض چلتی ہے۔ ایک ترک سفیر حضرت مسیح موعودؑ کی زندگی میں ایک دفعہ قادیان آیا، ترک حکومت کو مضبوط بنانےکیلئے اس نے مسلمانوں سے بہت سا چندہ لیااور اس نے جب جماعت احمدیہ کا ذکر سنا تو قادیان بھی آیا، حضرت مسیح موعودؑ سے اس کی گفتگو ہوئی، حضرت مسیح موعودؑ نے اس کا وہ احترام کیا جو ایک مہمان کاکرنا چاہئے، حضرت مسیح موعودؑ نے اسے کچھ نصائح کیں کہ دیانت اور امانت پر قائم رہناچاہئے، لوگوں پر ظلم نہیں کرنا چاہئے، آپ نے فرمایا کہ ترکی کی سلطنت کی اچھی حالت نہیں ہے اور میں کشفی طریق سے اس کے ارکان کی حالت اچھی نہیں دیکھتااور میرے نزدیک ان حالتوں کے ساتھ انجام اچھا نہیں۔ سمیر بخوتہ صاحب کی جرمنی میں وفات، چوہدری بشیر احمد صاحب کی پاکستان میں وفات۔

Once a person came to see the Promised Messiah(as) and presumed to advise him on how to get self-absorbed religious leaders to agree on something. For example, he said, it should be put to important religious leaders by the Promised Messiah(as) that Christian belief on death of Christ has caused Islam great damage. And they should be asked how it could be responded to. In other words, the person suggested that words should be fed to the religious leaders so they may assume they are the ones who have come up with the answer. The point that Hazrat Maulana Nur ud Din(ra) had initially written in his manuscript about the fire of Ibrahim being a metaphor for opposition was mentioned to the Promised Messiah(as) as a very exquisite view at another time as well. The Promised Messiah(as) countered this and spoke of the (aforementioned) revelation he had received. He cited the miracle of the plague and said it struck all around us but we remained safe from it, small wonder then if Hazrat Ibrahim(as) was saved from fire! Hazrat Musleh Maud(ra) said once he heard the Promised Messiah(as) pay great tribute to Maulana Nur ud Din Sahib in the family home. He said Hakim Sahib (his way of addressing Maulana Nur ud Din) was a blessing of God for him and if he did not acknowledge this it would be ingratitude. He cited his ubiquitous lessons on the Holy Qur'an and his commitment to people as a physician. Indeed, the Promised Messiah(as) has written elsewhere that Hazrat Maulana Nur ud Din Sahib(ra) operated in synchronisation with the Promised Messiah like the pulse. A Turk diplomat visited Qadian during the lifetime of the Promised Messiah(as). He was collecting donations from Muslims to strengthen the Turkish government. The Promised Messiah(as) honoured him as a guest and also advised him. He counselled about honesty, trustworthiness and said persecution of people should be shunned. He forewarned him about the state of affairs and told him that he had experienced visions with bad premonitions about treachery within Turkey. Death of Sameer Bakhota Sahib in Germany and Death of Chaudhry Bashir Ahmad Sahib in Pakistan.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
20-Feb-2015   Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)Indonesian (mp3)Kyrgyz (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Prophecy of Musleh Maud - The Promised Reformer
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam | Kannada
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Indonesian | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

آج 20 فروری کا دن ہے اور یہ دن جماعت احمدیہ میں پیشگوئی مصلح موعودؓ کے نام سے جانا جاتا ہے، حضرت مسیح موعودؑ نے اسلام کی سچائی ظاہر کرنے کیلئے اﷲتعالیٰ سے نشان مانگا تھا کیونکہ غیر مسلموں کے اسلام پر حملے انتہا تک پہنچ چکے تھے ،اس لئے آپؑ نے چلہ کشی فرمائی اور اﷲتعالیٰ نے غیر معمولی نشان کی دعا کے قبولیت کے نتیجے میں آپ کو خبر دی ، اس کی تفصیلات کا حضور ابھی ذکر نہیں فرمائیں گے۔ بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ آپؓ مصلح موعود نہیں، بلکہ مصلح موعودؓ حضرت مسیح موعودؑ کی کسی آئندہ نسل سے تین چار سو سال بعد پیدا ہونگے ، موجودہ زمانے میں نہیں آسکتا، مگر ان میں سے کوئی خدا کا خوف نہیں کرتا کہ وہ پیشگوئی کے الفاظ کو دیکھے اور ان پر غور کرے، حضرت مسیح موعودؑ لکھتے ہیں کہ اس وقت اسلام پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس وقت اسلام نشان نمائی کی کوئی طاقت نہیں رکھتا، چنانچہ پنڈت لیکھرام اعتراض کر رہا تھا کہ اگر اسلام سچا ہے تو کوئی نشان دکھاوے۔ لوگوں کے یہ کہنے پر کہ آپ مصلح موعودؓ ہیں تو اعلان کیوں نہیں کرتے کیونکہ اعلان تو آپؓ نے 1944 میں کیا تھا، اس پر آپؓ نے فرمایا کہ لوگوں نے کوشش بھی کی ہے کہ مجھ سے دعویٰ کروائیں کہ میں مصلح موعودہوں لیکن میں نے کبھی اس کی ضرورت نہیں سمجھی، مخالف کہتے ہیں کہ آپ کے مرید آپ کو مصلح موعودؓ کہتے ہیں مگر آپ خود دعویٰ نہیں کرتے ، مگر میں کہتا ہوں کہ مجھے دعویٰ کی ضرورت کیا ہے ، اگر میں مصلح موعودؓ ہوں تو میرے دعویٰ نہ کرنے سے میری پوزیشن میں کوئی فرق نہیں آ سکتا۔ جب 1944 میں آپ نے مصلح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تو فرمایا: ہماری جماعت کے دوستوں نے یہ اور اسی قسم کی دوسری پیشگوئیاں بار بار میرے سامنے رکھیں اور اصرار کیا کہ میں ان کا اپنے آپ کو مصداق ظاہر کروں، مگر میں نے ہمیشہ انہیں یہی کہا کہ پیشگوئی اپنے مصداق کو آپ ظاہر کرتی ہے، اگر یہ پیشگوئیاں میرےمتعلق ہیں تو زمانہ خود بخود گواہی دے دےگا کہ میں ان پیشگوئیوں کا مصداق ہوں اور اگر میرے متعلق نہیں تو زمانے کی گواہی میرے خلاف ہوگی۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں: میں نے اپنی خلافت کے ابتداء میں ہی انگلستان، سیلون اور ماریشس میں احمدیہ مشن قائم کئے، پھر یہ سلسلہ بڑھا اور بڑھتا چلا گیا، چنانچہ ایران میں ، روس میں، عراق میں، مصر میں، شام میں ، فلسطین میں ، لاگوس نائیجریا میں ، گولڈ کوسٹ میں (گھانا)، سیرالیون میں ، مشرقی افریقہ میں ، یورپ میں ، سپین میں ، اٹلی میں، چیکوسلواکیہ میں، ہنگری میں ، پولینڈ میں، یوگوسلاویہ میں، البانیہ میں، جرمنی میں ، امریکہ میں، ارجنٹینا میں، چین میں، جاپان میں، ملائیشیا میں ، سماٹرا میں ، جاوا میں، سلو ویا میں، کاشگر میں خداتعالیٰ کے فضل سے مشن قائم ہوئے۔ مکرم و محترم مولانا محمد صدیق شاہد صاحب گورداسپوری مربی سلسلہ کی وفات۔

Today is the 20th of February and this day is known in the Ahmadiyya Jama'at with reference to the Musleh Maud [Promised Reformer] Prophecy. The Promised Messiah(as) had sought a SIGN from Allah, the Exalted, in support of the truth of Islam, and this he did because the attacks on Islam by the non-Muslims had reached their very maximum of intensity. So he undertook a forty day effort of worship in solitude and Allah, the Exalted, informed him of an extraordinary sign in response to and accepting his prayers. Some people raise the objection that he was not the Musleh Maud. He says that some people say that the Musleh Maud would be born from some future progeny of the Promised Messiah after some three or four hundred years, cannot come in the present age. Does no one from among them have the fear of God and look at the words of the prophecy and ponder over them? The Promised Messiah(as) writes that at this time a criticism is levelled against Islam that it does not have the power to manifest any signs in its own support. Then upon the people saying that if you are the Musleh Maud why do you not announce it - and the announcement he made in 1944 - Hazrat Musleh Maud(ra) said that people have tried that I should make the claim that I am the Musleh Maud but I have never understood the need for this. The opponents say that your followers call you the Musleh Maud but you do not yourself make the claim. But I say what need have I to make the claim? Then, in 1944 when Hazrat Musleh Maud(ra) made the claim and announced being the Musleh Maud, he said: The members of our Jama'at repeatedly placed this and other such prophecies in front of me again and again and insisted that I should declare being the one in whose person these have been fulfilled. But I always said to them that the prophecy itself manifests the person in whom it has been fulfilled and if these prophecies are about me then the age shall itself attest to it that I am the one whom these prophecies relate to. Hadhrat Musleh Maud(ra) said: So in the early days of my Khilafat I established missions in England, Ceylon and Mauritius. Then this movement kept growing and growing. Missions were established in this way in Iran, Russia, Iraq, Egypt, Syria, Palestine, Lagos, Nigeria, Gold Coast (now Ghana), Sierra Leone, East Africa, Europe, England, Spain, Italy, Czechoslovakia, Hungary, Poland, Yugoslavia, Albania, Germany, USA, Argentina, China, Japan, Malaysia, State Settlements, Java, Sumatra, Solovia, and Kashgar. Death of Respected Maulana Muhammad Siddique Shahid Sahib Gurdaspuri, a missionary of the Jama'at.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
13-Feb-2015   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Kyrgyz (mp3)Malayalam (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Essence of Conscious Nation Building
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

نقائص اور کمزوریاں ہمیشہ دو قسم کی ہوتی ہیں، ایک فردی کمزوریاں اور نقائص اور ایک قومی کمزوریاں اور نقائص ، اسی طرح خوبیاں بھی دو قسم کی ہوتی ہیں، ایک فردی خوبیاں اور ایک قومی خوبیاں ، نیکی اور بدی اپنے ماحول کے اثرات کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے، اس کی مثال اسی طرح ہے جیسے کوئی بیج زمین کے بغیر نہیں اگ سکتا، اس کے بغیر بیج اگر اگے کا بھی تو تھوڑے عرصے میں مر جائے گا، اسی طرح بدی یا نیکی جو نقائص یا خوبی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے وہ ماحول کے اثرات کے نتیجے میں پیدا ہوتتی ہے۔ اگر کوئی شخص زہر کھالے تو یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ زہر ہاتھ پاؤں دعماغ یا دوسرے اعضاء پر اثر نہ کرے، یہ تمام جسم پر اثر کرے گا، اسی طرح جو کھانا ہم کھاتے ہیں اس سے جسم کا ہر حصہ فائدہ اٹھائے گا، ، اسی طرح نیکی اور بدی جو قومی طور پر پیدا ہو وہ تمام قوم پر اثر ڈالتی ہے، بہرحال یہی قاعدہ ہے کہ اگر سب کو فائدہ ہو تو جزو کو بھی فائدہ ہوگا اور اگر سب کو نقصان پہنچے تو جزو کو بھی نقصان پہنچے گا، پس افراد کی بدیاں تو ان کی تشخیص کر کے پھر ان کا علاج کر کے دور کرنے کی کوشش ہوسکتی ہے لیکن قومی بدیوں کو دور کرنے کیلئے تمام قوم کو غور کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جماعت احمدیہ کے حوالے سے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ جماعت اگر بعض پہلوؤں سے اس پر غور کرے اور اس کا علاج کرے تو فائدہ ہوسکتا ہے، جب بدعات پیدا ہوتی ہیں تو اس کی وجہ سے برائیاں پیدا ہوتی ہیں، اگر کسی مذہب میں غلط عقائد اور باتیں ہیں تو اس سے ہر شخص متاثر ہوگا ، معاشرتی اور تمدنی زندگی میں بھی اس کے بد نتائج ہونگے، لیکن ہم جو مسلمان ہیں ، قرآن کریم کو خداتعالیٰ کا کلام سمجھتے ہیں اور اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اس تعلیم میں کوئی نقص نہیں اور اس کے برائی نتائج نہیں نکل سکتے یا یہ ہو نہیں سکتا کہ ا س سے کوئی بدی پیدا ہو۔ عموما اﷲتعالیٰ کے فضل و کرم سے جماعت کے مساجد بھی اور سنٹر بھی ہیں جہاں احمدی باجماعت نماز پڑھ سکتے ہیں لیکن ابھی بعض علاقے ایسے بھی ہیں جہاں ایک دو گھر احمدیوں کے ہیں، اس لئے وہ گھروں میں نماز پڑھ لیتے ہیں ،بعض اس بات پر کہ مصروفیت ہے اپنی نماز علیحدہ پڑھ لیتے ہیں، بعض کام کی مصروفیت کی وجہ سے نماز جمع کر لیتے ہیں، نماز باجماعت کی طرف عموماتوجہ نہیں ہے اور نمازیں جمع کرنے کی طرف بلاوجہ توجہ ہوگئی ہے، گویا یہ ایک قومی بیماری بن رہی ہے ،اس لئے اس کے شدت سے علاج کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ جو حفظ ماتقدم کرتے ہیں ، علاج کراتے ہیں وہ ظاہری بیماریوں سے دوسروں کی نسبت زیادہ محفوظ رہتے ہیں ، پس اپنے آپ کو روحانی بیماریوں سے محفوظ رکھنے کیلئے ہر سطح ہر قومی سوچ کیساتھ حفظ ماتقدم کی ضرورت ہے، ہمیں اپنی اصلاح کے بعد بہت زیادہ توجہ سے گمراہی سے بچنے کی ضرورت ہے، ہمیں غور کرتے رہنے چاہئے کہ کہاں کہاں دوسرے مسلمانوں میں نقائص پیدا ہوئے اور ہم نے جس طرح ان سے بچنا ہے، خلافت کے ساتھ تعلق مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، اس زمانے میں ایم ٹی اے اور جماعت کی ویب سائٹ بھی اﷲتعالیٰ نے ہمیں مہیا کی ہے، ان ذریعوں سے حقیقی تعلیم ہمیں ملتی ہے۔ رضیہ مسرت صاحبہ کی وفات، عامر شیراز صاحب کی وفات، الحاج رشید احمدصاحب کی امریکہ میں وفات، حسن عبداﷲصاحب کی امریکہ میں وفات۔

Shortcomings are of two kinds, individual and communal just as good qualities are also both individual and communal. It should be remembered that flaws and shortcomings develop due to the influence of the environment. Just as seed cannot germinate without soil and even if it did it would wither away very soon, shortcomings and virtues which are borne of flaws and good qualities are influenced by environment, making environmental factors a necessary element. If swallowed toxin will impact one's entire body adversely just as good, wholesome food impacts one's body in a positive way. Thus communal virtue or communal evil impacts the entire community. A whole certainly impacts all its elements and the principle is that benefit or loss to a whole is beneficial or adverse for every element. An individual can correct himself but the entire community needs to reflect and make effort for communal reformation. Hazrat Musleh Maud(ra) said that with reference to Ahmadiyya Jama'at it can be beneficial if the Jama'at reflects over nation's shortcomings and remedies them. Harmful innovations in religion can spread badness and erroneous beliefs influence everyone and this can also negatively impact culture. However, we are Muslim and consider the Holy Qur'an to be Word of God and believe its teachings to be flawless. Indeed, flawless teachings do not have adverse impact. In general our Jama'at has mosques and centres all over the world but there are some areas where there are only a few Ahmadi homes and instead of offering their Salat together Ahmadis offer it at home. This happens because some are busy while other combine their Salat due to hectic work schedule. There is not much focus on congregational Salat and there is too much inclination to combine Salat. As if these aspects are becoming our communal shortcomings. There is a critical need to remedy this. Those who take precautionary measures remain somewhat safe from apparent ills. Thus, we need to take precautionary measures. After reforming ourselves we need to constantly safeguard against such ills. We should ponder on the areas where ills have entered in the lives of other Muslims and they have lost the way. We should not go with the flow; in fact we should mould situations to suit us. We need to remain connected with Khilafat and also need to keep in touch with MTA and our website alislam.org. They provide us the true teachings. Death of Razia Mussarat Sahiba, Amir Shiraz Sahib, Al Haaj Rasheed Ahmad Sahib of Milwaukee, USA and Hassan Abdullah Sahib of Detroit, USA.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
06-Feb-2015   Urdu (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Kyrgyz (mp3)Malayalam (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Khalifatul Masih II: Pearls of Wisdom
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت مسیح موعودؑ کی کتب پر بہت سے لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ ان میں یہ لکھا ہوا ہے اور وہ لکھا ہوا ہے، اس لئے کیونکہ وہ پڑھتے ہی اعتراض کرنے کیلئے ہیں اور سیاق و سباق سے بھی نہیں ملاتے، تو یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے، اعتراض کرنے والے تو خدا تعالیٰ کے کلام میں بھی اعتراض نکال لیتے ہیں، اسی لئے قرآن کریم کے بارہ میں خداتعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ مومنوں کیلئے تو شفاء اور رحمت ہے لیکن اعتراض کرنے والے ظالم لوگوں کو یہ خسارہ میں ڈالتا ہے،ایسے لوگ مزید دور ہٹنا شروع ہو جاتے ہیں اور مذہب کی ضرورت پر اعتراض کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ ایک واقعہ سنایا کرتے تھے، ایک دفعہ رستم کے گھر چور آگیا، اس کی شہرت فنون جنگ میں تو تھی ، تلوار چلانی خوب جانتا تھا لیکن ضروری نہیں کہ وہ کشتی کے فن میں بھی ماہر تھا، بہرحال چور آگیا، اس نے چور کو پکڑنے کی کوشش کی، چور کشتی کرنا جانتا تھا ، اس نے رستم کو نیچے گرا دیا، جب رستم نے دیکھا کہ اب تو میں مارا جاؤں گا تو اس نے کہا آگیا رستم، چور یہ سن کر فورا اسے چھوڑ کر بھاگ گیا۔ آج جو لوگ آنحضرت ﷺ کے ساتھ تمسخرانہ رویہ اپنائے ہوئے ہیں یا بیہودہ گوئیاں کرتے ہیں، آپﷺ تو اﷲتعالیٰ کے سب سے پیارے نبی ہیں، کیا آپﷺ کے بارہ میں لوگوں کی بیہودہ گوئیوں کو اﷲتعالیٰ یونہی جانے دے گا؟ نہیں، بلکہ اﷲتعالیٰ ایسوں کو دنیا میں بھی عبرت کا نشان بناتا ہے، پس ایسے لوگوں کا علاج مسلمانوں کو بندوق سے نہیں کرنا بلکہ دعاؤں کے ذریعے سے کرنا چاہئے۔ ایک واقعہ کا ذکر حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ سیالکوٹ میں گئے تو مولویوں نے فتویٰ دیا کہ جو ان کے لیکچر میں جائے گا اس کا نکاح ٹوٹ جائے گا، لیکن حضرت مسیح موعودؑ کی کشش ایسی تھی کہ لوگوں نے اس فتوے کی بھی فکر نہ کی ، راستوں پر پہرے لگا دیئے گئے تاکہ لوگوں کو جانے سے روکیں، سڑکوں پر پتھر جمع کر لئے گئے کہ جو نہ رکے گا اسے ماریں گے پھر جلسہ گاہ سے لوگوں کو پکڑ پکڑ کر لے جاتےتھے کہ لیکچر نہ سنیں۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ دن بھر گھر کے اندر کام کرتے لیکن روزانہ ایک دفعہ سیر کیلئے ضرور جاتے ، اپنی عمر اور کام کو باوجود سیر کی اس قدر باقاعدگی رکھتے جو آج ہم سے نہیں ہوسکتی، کھلی ہوا میں چلنا پھرنا اور اس سے فائدہ اٹھانا دعماغ کیلئے مفید ہوتا ہے، حضرت مصلح موعودؓ نصیحت فرماتے ہیں کہ کھلی ہوا میں مشقت کرنے سے جہاں صحت اچھی رہے گی وہاں ان کا دعماغ بھی ترقی کرے گا، اور وہ دنیا کیلئے مفید وجود بن جائیں گے۔

Many people level criticisms at the Promised Messiah(as)'s writings - that this is written there, and that is written and they do this because their reason for reading is only for the purpose of making a criticism. They do not look at the context and such people even find objections in the Word of God. This is why Allah Himself says in the Holy Quran that it is for the believers a cure and a mercy but for those who seek to make objections or those who exceed all bounds it causes them to fall into a state of loss and they continue to become more and more distant from God and faith. Hazrat Musleh Maood(ra) says that the Promised Messiah(as) used to relate an event that once a thief came into the house of Rustam [a famous figure renowned for his bravery] and although, without doubt, Rustam was very brave, and although he was very expert in warfare, and knew how to wield a sword very well, not necessarily was it the case that he could overcome someone in wrestling. In any case, when the thief entered the house and he tried to catch him but the thief was expert in wrestling and he managed to throw Rustam to the ground. Today those who do such things against the Holy Prophet(saw) should know that he is the most beloved Prophet of Allah, the Exalted. Do they imagine that Allah, the Exalted, will let them off free for having committed such atrocious blasphemy against him? Never. Indeed Allah, the Exalted, will make such people the target of His wrath so that they serve as warnings to others who have eyes to see. Another incident that Hazrat Musleh Maood(ra) mentions. That the Promised Messiah(as) went to Sialkot. The mullahs gave a fatwa that whoever goes to his lecture his Nikah would become null as a result. But the attraction and pull of the Promised Messiah(as) was such that the people paid no heed to this fatwa even. People were posted on the roads so that those wishing to go to the lecture could be prevented from going. Stones were piled up on the roads so that those who would still try to go would be targeted and hit with them. Then Hazrat Musleh Maood(ra) says about the Promised Messiah(as) that I have seen that he would work all day long inside the house but daily he would also go for a walk at least once. And he was very strict in this despite his age and occupations. He used to say that walking in the open fresh air is of great benefit for the brain. And so Hazrat Musleh Maood is advising that if this is done then we would become of benefit to the world with good health and also good brains.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
30-Jan-2015   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Kyrgyz (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: In faith exercise your abilities, help the weaker brother
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

جب ہم انسان کی حالت کا جائزہ لیتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ ہر انسان کی حالت مختلف ہے، اس کی دعماغی حالت ، اس کی جسمانی ساخت، اس کا علم، ذہانت وغیرہ مختلف ہے، پس اﷲتعالیٰ نے انسان کی کمزوریوں، اس کی حالت اور اس کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے احکامات میں ایسی لچک رکھ دی ہے جس کے کم سے کم معیار بھی ہیں اور زیادہ سے زیادہ معیار بھی مقرر ہیں، پس جب ایسی لچک ہے تو خداتعالیٰ فرماتا ہے کہ تم میرے احکامات پر دیانت داری سے عمل کرو، پس یہ خوبصورت تعلیم ہے اسلام کی جو انسانی فطرت کو سامنے رکھتے ہوئے دی گئی ہے، کسی کو اس اعتراض سے گنجائش نہیں رہنے دی۔ لوگوں کی عقل اور سمجھنے کے مختلف معیار ہوتے ہیں، کسی میں زیادہ صلاحیتیں اور استعدادیں ہیں اور کسی میں کم ہیں ، دنیاداری کے معاملات میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ کسی کے دعماغی رجحان اور حالت کے مطابق کوئی اعلیٰ کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہ صلاحیت رکھتے ہوئے آگے نکل جاتا ہے اور کوئی بہت پیچھے رہ جاتا ہے، پھر پیشوں کے لحاظ سے بھی ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی کسی پیشے میں آگے نکلنے کی صلاحیت رکھتا ہے ، کوئی کسی پیشے میں، تعلیم کے لحاظ سے کسی کا رجحان کسی مضمون کی طرف ہوتا ہے اور کسی کا کسی طرف تو یہ ایک فطری چیز ہے کہ رجحان مختلف کاموں کے کرنے اور ان میں کامیابی حاصل کرنے کی طرف لے جاتے ہیں ، بہر حال کوئی انسان برابر نہیں ہوسکتا ، نہ حالات اس کو برابر رکھ سکتے ہیں ۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ خداتعالیٰ انسانی نفوس کو ان کی وسعت علمی سے زیادہ کسی بات کو قبول کرنے کیلئے تکلیف نہیں دیتا اور وہی عقیدے پیش کرتا ہی جن کا سمجھنا انسان کی حد استعداد میں شامل ہے، تاکہ اس کے حکم تکلیف میں داخل نہ ہوں ، پس ہر ایک کے عمل اور سمجھ کے استعداد کی جو حد ہےوہی اس کی نیکی کا معیار ہے ، یہاں یہ بھی واضح ہونا چاہئے کہ اﷲتعالیٰ کی نظر ہماے دل کے پاتال تک ہے ، کسی بھی قسم کا بہانہ اپنی کم علمی، کم عقلی اور استعدادوں کی کمی کا اﷲتعالیٰ کے حضور نہیں چل سکتی، اس لئے اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے پھر اپنی استعدادوں کے جائزے لیکر اپنے ایمان اور عمل کو پرکھنا چاہئے۔ نماز باجماعت مردوں پر فرض ہے، اس میں بھی اگر باقاعدہ آنے والےسہارا بننے کی کوشش کریں تو بہتری آسکتی ہے، حضرت مصلح موعودؓ نے بھی اس موضوع پر بات کرتے ہوئے ایک دفعہ فرمایا کہ ایک دن میں عشاء کی نماز پر آیا تو میں نے دیکھا کہ صرف دو صفیں تھیں تو میں نے کہا کہ لوگ ہمسایوں کے بھی ساتھ لے آیا کریں، حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھاکہ اگلے دن تعداد بڑھنی شروع ہوگئی، یادہانی بھی استعدادوں کو پہتر کرنے کا موجب بنتی ہیں۔ جے آنی صاحبہ شام کی رہنی والی کی ترکی میں وفات، حبیبہ صاحبہ آف میکسیکو کی وفات۔

Every human is different from the other in his mental and physical ability and in his knowledge and intellect. Thus God has made His commandments flexible in the sense that they have minimal as well as maximum standards of attainment which should be practiced with honesty. This leaves no room for objection that God has given someone a nature which does not correspond with God’s commandments. People have varying levels of intelligence; some have more capacities than others. This can be seen in worldly matters, some people have high level of ability, some have mediocre while some lag behind. Some people excel in one particular profession while others excel in another profession. In education people are inclined to different subjects. All these are natural aspects. All people are not the same. Neither God created them the same nor do circumstances allow them to be the same. The Promised Messiah(as) said that God does not ask anyone to accept anything that is beyond their capacity so that His commandments are not inconvenient to practice. It should be very clear that God knows the state of the inner recesses of our heart and no excuse about lack of knowledge, lack of wisdom or capacity will stand before God. Therefore we should keep it in view that we have to test our belief and our practice. God knew that different kinds of people would be needed to run the world therefore He stated that some of them should invite others to goodness. Waaqfeen e Zindagi devote their lives for this purpose and do so of their own accord. They should pay its dues. It is true everyone is not the same in learning knowledge and indeed imparting knowledge and every one cannot equally benefit others. However, effort should be made to use one’s capacities to attain the most excellent standard. Congregational Prayer is obligatory for men. If those who come to mosque regularly are supportive to others things could improve. Hazrat Musleh Maud(ra) said that once he came for Isha Prayers and saw only two rows. He suggested to people to bring their neighbours along next time. The number of worshippers started increasing from the next day. Indeed reminding polishes one’s capacities. If people who regularly came for Prayers brought their acquaintances and friends along and shared drives things could improve. Death of J Aani Sahiba of Syria in Turkey, Habiba Sahiba of Mexico.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
23-Jan-2015   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)Dutch (mp3)French (mp3)Indonesian (mp3)Kyrgyz (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Khalifatul Masih II: Pearls of Wisdom
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں: حضرت مسیح موعودؑ کا سلوک اپنی اولاد سے ایسا اعلیٰ درجہ کا تھا کہ قطعا خیال نہیں کیا جاسکتا تھا کہ آپ کبھی ناراض بھی ہوسکتے ہیں ، ہم چھوٹے ہوتے تھے تو سمجھتے تھے کہ حضرت مسیح موعودؑ کبھی غصہ ہوتے ہی نہیں، حضرت مسیح موعودؑ نے ایک دفعہ فرمایا کہ میری پسلی میں درد ہے، دیکھا گیا تو معلوم ہوا کہ آپؑ کی جیب میں اینٹ کا ایک روڑا پڑا تھا جس کی وجہ سے پسلی میں درد ہوگیا، پوچھا گیا کہ حضورؑ یہ کس طرح آپکی جیب میں آگیا ، فرمایا محمود(حضرت مصلح موعودؓ) نے مجھے یہ اینٹ کا ٹکڑا دیا تھا کہ سنبھال کر رکھنا ، میں نے جیب میں ڈال دیا کہ جب مانگے گا تو نکال دوں گا۔ حضرت مسیح موعودؑ کا ایک عیسائی پادری عبداﷲ آتھم سے مباحثہ ہوا تھا جو کتاب جنگ مقدس میں چھپا ہے، یہ مباحثہ اس وقت ہوا جب آپؑ نے مسیح موعودؑ ہونے کا اعلان کردیا تھا اور مولوی آپؑ کے کافر ہونے کا اعلان کر چکے تھےاور فتویٰ دے چکے تھے کہ آپؑ واجب القتل ہیں، اس کے باوجود جب ایک غیر احمدی کا عیسائی سے مقابلہ ہوتا ہے تو آپ جھٹ کھڑے ہوگئے ، اسلام اور آنحضرتﷺ کی عزت قائم کرنے کیلئے ، خداتعالیٰ کی وحدانیت قائم کرنے کیلئے آپؑ مباحثہ کیلئے تشریف لےگئے۔ جب عبداﷲ آتھم پندرہ ماہ کی میعاد کے اندر نہ مرا تو ظاہر بین لوگوں نے شور مچانا شروع کردیا کہ حضرت مسیح موعودؑ کی پیشگوئی جھوٹی نکلی، ایک دفعہ حضرت مسیح موعودؑ کے ایک صحابیؓ سے کسی نے ذکر کیا کہ حضرت مسیح موعودؑ کی پیشگوئی جھوٹی نکلی جس پر آپ جوش میں آگئے اور بڑے زور سے فرمایا کہ کون کہتا ہے کہ آتھم زندہ ہے ، مجھے تو اس کی لاش نظر آ رہی ہے، حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں: بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو بظاہر زندہ معلوم ہوتے ہیں لیکن حقیقت میں مردہ ہوتے ہیں اور بعض مردہ نظر آتے ہیں لیکن حقیقت میں زندہ ہوتے ہیں ، آتھم کو نہ صرف روحانی موت آگئی تھی بلکہ جسمانی موت بھی کچھ عرصہ بعد آگئی تھی۔ جب آتھم نے پیشگوئی کے الفاظ سنے تو وہ کانپا اور اس کا رنگ زرد ہوگیا، ایک جماعت کثیر کے سامنے اس کا یہ رجوع دیکھا گیا ، پھر اس پر خوف غالب ہوا اور وہ شہر شہر بھاگتا پھرا، اس نے اپنی مخالفت کو چھوڑ دیا اور کبھی اسلام کے مخالف کوئی تحریر شائع نہ کی، جب انعامی اشتہار دے کر قسم کیلئے بلایا گیا تو وہ قسم کھانے کو نہ آیا ،اخفاء شہادت حقہ کی پاداش میں اس پیشگوئی کے موافق جو اس کے حق میں کی گئی تھی وہ ہلاک ہوگیا ، آتھم کے متعلق پیشگوئی مشروط تھی، اگر اس کو خداوند مسیح پر یقین اور بھروسہ ہوتا تو پھر اس قدر گھبراہٹ کے کیا معنی ،پیشگوئی میں لکھا تھا کہ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے ، یہ تو نہیں لکھا کہ بشرطیکہ مسلمان ہو جاوے۔ حضرت مسیح موعودؑ ہمیشہ حضرت ابو ہریرہؓ کے متعلق فرمایا کرتے تھےکہ حضرت ابو ہریرہؓ میں تفقع کا مادہ دوسرے صحابہؓ سے کم تھا ، مولویوں نے اس پر شور مچایا مگر جو صحیح بات ہو وہ صحیح ہوتی ہے ، آجکل عیسائیوں کی جس قدر مفید مطلب احادیث ملتی ہیں وہ سب حضرت ابوہریرہؓ سے ہی مروی ہیں ، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ سیاق و سباق کو نہ دیکھتے اور گفتگو کے بعض ٹکڑے بغیرپوری طرح سمجھے آگے بیان کر دیتے، مگر باقی صحابہؓ سیاق و سباق کو سمجھ کر روایت کرتے، اسی طرح اب حضرت مسیح موعودؑ کے متعلق روایتیں چھپنی شروع ہوئی ہیں، جن میں سے کئی ایسے لوگوں کی طرف سے بیان کی جاتی ہیں جنہیں تفقع حاصل نہیں۔ حضرت مصلح موعودؓ نے ایک دفعہ خطبہ ارشاد فرمایا اور اس میں آپؓ نے جماعت کے افراد کو تلقین کی کہ جھگڑوں اور فساد وں سے بچو ، اس کے بعد آپ نے ایک شخص کے متعلق فرمایا کہ اس وجہ سے اس کا اخراج بھی ہوا ہے ، جب خطبہ ثانیہ شروع ہوا تو اس خطبہ کے دوران ہی ایک شخص کھڑا ہو کر پوچھنے لگا کہ حضور جس شخص کے اخراج کا اعلان ہوا ہے اس کا نام کیا ہے، اس پر ایک دوسرے صاحب بولے کہ خطبہ میں بولنا نہیں چاہئے۔

The Promised Messiah(as) adored his children, especially his young son Mubarak Ahmad. He once felt pain in his ribs when lying down which was not alleviated by warm compress. It turned out that there was a broken piece of brick in his pocket which had caused the pain. The piece of brick was in his pocket because young Mahmood (Hazrat Musleh Maud) had given it to his blessed father for safekeeping and he had lovingly kept it in pocket. A debate with Abdullah Atham, a Christian missionary is published in the Promised Messiah’s book ‘Jung e Muqadas’. This was after the Promised Messiah(as) had claimed to be the Messiah and the Maulawis had passed their edicts of disbelief and ‘liable to be killed’ on him. Yet when he was asked by non-Ahmadis to speak at a debate with a Christian he readily agreed to uphold the honour of the Holy Prophet(saw) and Islam. When Abdullah Atham did not die within 15 months people raised clamour and derision that the prophecy was false. One of the companions of the Promised Messiah(as) responded with grandeur that who said Atham was alive, he was like a dead man walking. Indeed, some people appear alive but are in fact dead while others appear dead but are living, like those who die in the cause of God. And some ‘living’ people appear dead to those with spiritual insight. Atham not only met his spiritual death but also physical death after a short while. When Atham had heard the words of the prophecy he went pale, started trembling and repented. He was frightened and following this he stopped his opposition and did not write anything hostile, and ultimately met his end. The prophecy about Atham was indeed conditional and had he had confidence in his belief of Jesus Christ he would not have been so perturbed. The prophecy said that if he was inclined to the truth, it did not say if he became a Muslim. The Promised Messiah(as) often said that Hazrat Abu Huraira(ra) was not as judicious as the other Companions. Most of the Ahadith that Christians quote to make their points are narrated by Hazrat Abu Huraira(ra) who could narrate traditions out of context. Similarly there are some traditions of the Promised Messiah(as) which have been narrated out of context. Hazrat Musleh Maud(ra) gave a sermon in which in advised Jama’at to avoid conflicts as he said the Jama’at had attained maturity. He then informed the congregation that a person had been excommunicated after which he started the second [Arabic] part of his sermon when a person stood up and asked what was the person who had been excommunicated while another remarked that one does not talk during sermon.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
16-Jan-2015   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)Indonesian (mp3)Kyrgyz (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: The Essence of Invoking Blessings on The Prophet (sa)
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

پس آنحضرت ﷺ جن کو اﷲتعالیٰ نے ہر زمانے اور ہر قوم کیلئے نبی بنا کر بھیجا ہے، اس کی مدد کے سامان بھی اﷲتعالیٰ اپنی رحمت اور فضل سے خود فرما رہا ہے، آپ ﷺ کے مخالفین نہ پہلے کبھی کامیاب ہو سکے ، نہ اب کامیاب ہوسکتے ہیں، یہ اﷲتعالیٰ کا فیصلہ ہے اس لئے اس کی تو ایک حقیقی مسلمان کو فکر ہی نہیں ہونی چاہئےکہ اسلام کے یا آنحضرت ﷺ کو کوئی دنیاوی کوشش نقصان پہنچا سکتی ہے، ہاں جو کام اﷲتعالیٰ نے حقیقی مسلمان کے ذریعہ لگایا ہےوہ یہ ہے کہ جس طرح اﷲتعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی کے مقام کو اونچا کرنے کیلئے اس پر رحمت بھیج رہے ہیں ، تم اپنا فرض ادا کرتے ہوئے اﷲتعالیٰ کے پیارے کامل ، مکمل اور آخری نبی ﷺ پر بے شمار درود و سلام بھیجو۔ وہ لوگ جنہوں نے اس میگزین کے دفتر پر حملہ کیا ، انہوں نے نہ صرف اسلام کی تعلیم کے غلط تصور کو ہوا دی ہے بلکہ مرتے دشمن کو زندہ کرنے کا کردار بھی ادا کیا ہے، کاش کے مسلمان تنظیمیں جو اسلام کے نام پر ظلم کرتی ہیں سمجھیں کہ اسلام کی پیار و محبت کی تعلیم زیادہ جلدی دنیا کو اسلام کی آغوش میں لاسکتی ہے، اسلام جس طرح صبر اور حوصلہ کی تعلیم دیتا ہے، اس کا کوئی دوسرا مذہب مقابلہ ہی نہیں کرسکتا،یہ دنیا دار تو وہ لوگ ہیں جن کی دین کی آنکھ اندھی ہے، جو اﷲتعالیٰ کے نبیوں کی بات تو ایک طرف ، خود خداتعالیٰ کااستہزاء کرنے سے بھی باز نہیں آتے، ان جاہلوں کے عمل پر اگر ہماری طرف سے بھی جاہلانہ عمل ہو تو وہ ضد میں آکر مزید جاہلانہ باتیں کریں گے، پس اﷲتعالیٰ فرماتا ہے کہ ان لوگوں کے منہ لگنے کے بجائے ان لغویات سے پر لوگوں سے اعراض کرتے ہوئے علیحدہ ہو جاؤ۔ آجکل میڈیا دنیا پہ چھایا ہوا ہے اور کہیں بھی آگ لگانے یا آگ بجھانے ، فساد پیدا کرنے یا فساد روکنے میں بڑا کردار ادا کرتا ہے یہ، اس مرتبہ اس واقعہ کے بعد پہلی مرتبہ یوکے اور دنیا کے میڈیا نے جماعت سے بھی ہمارا رد عمل اس بارہ میں پوچھا جس میں ہم نے اس واقعہ کے بارہ میں بتایا کہ یہ غیر اسلامی فعل ہے اور ہم اس پر افسوس کرتے ہیں لیکن آزدی رائے کی بھی کچھ حدود ہونی چاہئں ورنہ دنیا میں فساد پیدا کرنے والے وہ لوگ ہونگے جو دوسروں کے جذبات کو انگیخت کرتے ہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: ہمارے سید و مولا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا صدق و وفا دیکھئے ، آپ نے ہر قسم کی بد تحریک کا مقابلہ کیا ، طرح طرح کے مصائب اٹھائے لیکن پرواہ نہ کی، یہی صدق و وفا تھا جس کے باعث اﷲتعالیٰ نے فضل کیا، اسی لئے تو اﷲتعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اﷲتعالیٰ اور اس کے فرشتے رسولﷺ پر درود بھیجتے ہیں ، اے ایمان والو تم بھی نبیﷺ پر درود و سلام بھیجو، فرمایا کہ اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے اعمال ایسے تھے کہ اﷲتعالیٰ نے ان کی تعریف کیلئے کوئی لفظ خاص نہ فرمایا۔ جب ہم دوسرے کیلئے دعا کرتے ہیں تو یہ دعا ہمارے لئے بھی ایک رنگ میں درجات کی بلندی کا موجب بنتی ہے، چنانچہ جب ہم درود پڑھتے ہیں اس کے نتیجہ میں جہاں رسول کریم ﷺ کے درجات بلند ہوتے ہیں وہاں ہمارے درجات میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور ان کو انعام مل کر پھر ان کے واسطہ سے ہم تک پہنچتا ہے ، اس کی مثال ایسی ہے جیسے چھلنی میں کوئی چیز ڈالو تو اس میں سے نکل کر نیچے جو کپڑا پڑا ہو اس میں بھی آ کر گرتی ہے، اسی طرح محمدﷺ کو اﷲتعالیٰ نے اس امت کیلئے چھلنی بنایا ہے۔ مولوی عبدالقادر دہلوی صاحب درویش قادیان اور مبارکہ بیگم صاحبہ زوجہ بشیر احمد صاحب حافظ آبادی درویش قادیان کی وفات۔

The Holy Prophet(saw) was sent for all ages and all nations by God and for this He is facilitating ways and means through His grace. Neither did the Prophet’s opponent succeed in the past nor will they now. This is God’s decree and a true Muslim should not be concerned about this at all. However, true Muslims should be cognisant of the task given to them which is to profusely invoke Durood (salutations and blessings) on the Holy Prophet ﷺ to exalt him just as God and His angels do. Those who attacked the offices of this magazine not only fanned wrongful image of the teachings of Islam but also resurrected a dead enemy. If only Muslim organisations which perpetrate atrocities in the name of Islam understood that the loving teaching of Islam will bring people sooner into the fold of Islam. Worldly people are blind to faith. Let alone the Prophet ﷺ they even mock God. If we respond to ignorance with ignorance we would be committing greater ignorance. God commands to remove oneself from such situations. The media is most influential all over the world and plays a role in igniting a given situation and well as diffusing it. After this incident for the first time media approached us and asked Jama’at Ahmadiyya’s views here in the UK and also in other places. We told them this was an un-Islamic act and we expressed our commiseration but we maintained that freedom of speech should have limits otherwise those who inflame others’ sentiments are responsible. The Promised Messiah(as) wrote: Observe the sincerity and faithfulness of our Holy Prophet ﷺ in how he dealt with every evil scheme. He endured all kind of difficulties and hardships but remained sanguine. It was owing to this sincerity and faithfulness that Allah the Exalted blessed him and stated: ‘Allah and His angels send blessings on the Prophet. O ye who believe! you also invoke blessings on him and salute him with the salutation of peace.’ When we pray for others in a way our prayer also becomes a source of elevation of our station. While our recitation of Durood elevates the station of the Holy Prophet ﷺ it also increases our station and blessings reach him and then through him also reach us. For example when something is placed in a sieve it passes through it and cascades down. Similarly God has made the Holy Prophet ﷺ like a sieve for the Ummah. Death of Maulawi Abdul Qadir Dehlvi Sahib, dervish of Qadian and Mubaraka Begum Sahiba, wife of a dervish of Qadian Bashir Ahmad Sahib Hafizabadi.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
09-Jan-2015   Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Kyrgyz (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Righteousness, Obedience and Financial Sacrifice
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Persian | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت خلیفۃ المسیح فرماتے ہیں : جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہے اﷲتعالیٰ مومنوں کو اس طرف توجہ دلا رہا ہے کہ تقویٰ اختیار کرو اور کامل اطاعت سے اﷲتعالیٰ کے احکامات کی بجا آوری کرو اور اﷲتعالیٰ کے بے شمار حکموں میں سے ایک حکم اﷲتعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا بھی ہے ، پس مومن کو مالی قربانی کے وقت کبھی تردد اور ہچکچاہٹ سے کام نہیں لینا چاہئے، کیونکہ یہ مالی قربانی جو مومنین کرتے ہیں، ایک نیک مقصد کیلئے ہوتی ہے ، آج حضرت مسیح موعودؑ کی جماعت ہی وہ جماعت ہے جو اﷲتعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کیلئے، اس کے نیک مقاصد کی ترقی کیلئے خرچ کرتی ہے اور خرچ کرنے کی خواہشمند ہے۔ دور دراز علاقوں میں بھی احمدیوں اور ان کے بچوں کو بھی بے نتہا اخلاص دیا ہوا ہے اور چندے کی اہمیت کو سمجھتے ہیں ، کون ہے جو ان کے دلوں میں تحریک پیدا کرتا ہے، یقینا خداتعالیٰ کے علاوہ کوئی نہیں ہو سکتا پھر بھی ان دنیا کے اندھوں کو نظر نہیں آتا کہ حضرت مسیح موعودؑ خداتعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے ہیں ، یہ بھی یاد رکھیں کہ نئے آنے والے اخلاص و وفا میں بڑی تیزی سے ترقی کر رہے ہیں نیکیوں میں آگے بڑھنے کی روح کو پرانے احمدیوں کو بھی توجہ دینی چاہئے اور بڑی فکر سے توجہ دینی چاہئے۔ بینن سے ایک خاتون لکھتی ہیں کہ گزشتہ سال میری یہ حالت تھی کہ میں جو کام یا کاروبار شروع کرتی، خسارہ اٹھاتی اور کوئی بھی کام سرے نہ چڑھتا، ایک دن معلم صاحب نے مجھے دیانت داری کے ساتھ اﷲتعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے اور باقاعدگی اختیار کرنے کی طرف توجہ دلائی ،تو میں نے سوچا کہ یہ بھی کر کے دیکھ لیتے ہیں کیافائدہ ہوتا ہے کہ صحیح طرح ایمانداری سے جو آمد ہے اس پر چندہ دوں، کہتی ہیں جب سے میں باقاعدہ چندہ دینا شروع کیا ہے میرا کاروبار چلنے لگا ہے، گھر میں مالی فراخی ہے، میرے سارے کام درست ہونے لگے ہیں، خدا کا وعدہ سچا ہے کہ وہ خرچ کرنے والوں کو بہت دیتا ہے۔ وقف جدید کے نئے سال کا اعلان کرتے ہوئے حضور نے فرمایا کہ وقف جدید کا 57 واں سال اپنے فصلوں کوجذب کرتے ہوئے 31 دسمبر 2014 کو ختم ہوا اور 58 واں سال یکم جنوری سے شروع ہوگیا، جماعت ہائے احمدیہ عالمگیر کو اس سال اﷲتعالیٰ کے فضل سے 6،209،000 پاؤنڈ کی قربانی کرنے کی توفیق ملی جو گزشتہ سال سے 730،000 پاؤنڈ زیادہ ہےالحمداﷲ، پاکستان سرفہرست ہے، گزشتہ سال برطانیہ اوپر تھا ، اس کے بعد برطانیہ، پھر امریکہ، پھر جرمنی، پھر کینیڈا ، پھر ہندوستان ، پھر آسٹریلیا، آسٹریلیلا میں بھی تعداد بڑھانے کے لحاظ سے اور وصولی کے لحاظ سے بہت کام ہوا ہے۔ مسلمان دنیا اور یورپ میں رہنے والے مسلمانوں کیلئے بھی دعا کریں، فرانس میں جو ایک ظالمانہ واقعہ ہوا ہے اور اسلام اور آنحضرت ﷺ کے نام پر جس کا اسلام کی تعلیم سے دور کا بھی واسطہ نہیں ، قانون ہاتھ میں لیکر کسی کو اس طرح مارنا، قتل کرنا ، یہ ہم ہمیشہ کہتے ہیں کہ اسلام کی تعلیم سے اس کا واسطہ نہیں اور ثابت کرتے ہیں کہ تعلیم سے اس کا واسطہ نہیں لیکن پھر بھی نام نہاد مسلمان اور مسلمان تنظیمیں اپنی حرکتوں سے اور ان ظلموں سے باز نہیں آتے۔

As evident from these verses God is drawing attention of true believers to adopt righteousness and abide by His commandments with complete obedience. One general commandment of God is to spend in His cause. A true believer should not hesitate when spending in God’s way because a true believer’s financial sacrifice is for good causes. Today it only the Jama’at of the Promised Messiah(as) which spends to seek God’s pleasure and for good causes and indeed is desirous of this. God has immensely blessed Ahmadis and their children living in far-off places with sincerity and they understand the significance of chanda. Who could inspire their hearts but God! Even then the blind of the world do not see that the Promised Messiah(as) was sent from God. It should also be remembered that newcomers to Ahmadiyyat are developing most rapidly in sincerity and long-term Ahmadis should also pay attention to develop in doing good and should pay attention with great concern. A lady from Benin says that last year whatever she did incurred loss and nothing got done. Mu’allim Sahib drew her attention to paying chanda honestly and regularly. She thought she would try it out and see what would be the benefit of paying according to her income. She says when she started paying properly and regularly her business took off and now there is prosperity in the family and everything is falling in place. God’s promise that He gives abundantly to those who spend in His way is true! Announcing the new year of Waqfe Jadid Huzoor said its 57th year completed on 31 December 2014 and the 58th years commenced on 1 January 2015. Last year Ahmadiyya Jama’at worldwide was enabled to offer financial sacrifice of £6,209,000 which is an increase of £731,000 from the year before. Pakistan stands first as ever. Last year UK came first. After Pakistan, it is the UK, USA, Germany, Canada, India and Australia. Prayers should also be made for Muslims living in the world and in Europe. An atrocity has taken place in France in the name of Islam and the Holy Prophet(saw) although it did not have anything even remotely to do with teachings of Islam. As we always maintain and prove that to take the law in one’s own hands and kill and murder someone in this manner has nothing to do with the teachings of Islam. Yet so-called Muslims and Muslim organisations do not desist from their misdemeanours and atrocities.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
02-Jan-2015   Urdu (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)Indonesian (mp3)Kyrgyz (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: 2015 New Year Resolutions for Ahmadis
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Indonesian | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

ایک دوسرے کو مبارکباد دینے کا فائدہ ہمیں تبھی ہوگا جب ہم اپنے یہ جائزے لیں کہ گزشتہ سال میں ہم نے اپنے احمدی ہونے کے حق کو کس قدر ادا کیا اور آئندہ کیلئے ہم اس حق کو ادا کرنے کیلئے کتنی کوشش کریں گے، پس ہمیں اس جمعہ سے آئندہ کیلئے ایسے ارادے قائم کرنے چاہئے جو نئے سال میں ہمارے لئے اس حق کی ادائیگی کیلئے چستی اور محنت کے سامان پیدا کرتا رہے، یہ تو ظاہر ہے ایک احمدی ہونے کی حیثیت سے ہمارے ذمہ جو کام لگایا گیا ہے اس کا حق نیکیوں کے بجا لانے سے ہی ادا ہوگا لیکن ان نیکیوں کے معیار کیا ہونے چاہئیں؟ آجکل یہاں اور یورپین ممالک میں بھی سیاسی پناہ کیلئے لوگ آتے ہیں لیکن باوجود حضور کے بار بار سمجھانے کے، وکیلوں کے کہنے پر جھوٹ بول دیتے ہیں ، جھوٹ پر مبنی کہانی لکھواتے ہیں اور پھر بھی کیس مسترد ہوجاتے ہیں بہت ساروں کے ، باقی دنیا میں بھی اور یہاں بھی ہماری وکیلوں کی مرکزی ٹیم ہے جو سیاسی پناہ لینے والوں کی مدد کرتی ہے، انہیں وکیلوں کی طرف راہنمائی کرتی ہے یا انہیں بعض ایسی ضروری باتیں جو ان کےکیس کیلئے مفید ہوں ، بتاتے ہیں، کئی مرتبہ ہوا ہے کہ مجھے کمیٹی کے صدر نے بتایا ہے کہ فلاں کا کیس اس لئے مسترد ہوا ہے کیونکہ اس نے بے انتہا جھوٹ بولا ہے۔ ایک عہد یہ لیا گیا ہے بیعت کرنے والے سے کہ ظلم نہیں کرے گا، ظلم ایک انتہائی بڑا گنا ہ ہے، کسی کا حق غلط طریق سے دبانا بہت بڑا ظلم ہے، آنحضرت ﷺ سے جب پوچھا گیا کہ کونسا ظلم سب سے بڑا ہے تو آپﷺ نے فرمایا کہ سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے بھائی کے حق میں سے ایک ہاتھ زمین دبا لے، فرمایا اس زمین کا ایک کنکر بھی جو اس نے از راہ ظلم لیا ہوگا تو اس کے نیچے کی زمین کے جملہ طبقات کا طوق بن کر قیامت کے روز اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا، پس بڑے خوف کا مقام ہے، وہ لوگ جو مقدمات میں اناؤں کی وجہ سے یا ذاتی مفادات کو حاصل کرنے کی وجہ سے لوگوں کے حق مارتے ہیں، ان کو سوچنا چاہئے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ احمدیت میں داخل ہو کر تم نے اﷲتعالیٰ کے اس حکم کی بھی پابندی کرنی ہے کہ نمازوں کو پانچ وقت، اس کی تمام شرائط کے ساتھ ادا کرنا ہے ، اس بات کا بھی عہد کرو، دس سال کی عمرکےبچے پر بھی نماز فرض ہے ، پس والدین کو اس کی نگرانی کی ضرورت ہے، اور اس نگرانی کا حق تبھی ادا ہوگا جب خود والدین نمازوں میں نمونہ ہونگے، بہت ساری شکایتیں حضور کے پاس آتی ہیں، بعض بچےبھی کہتے ہیں کہ ہمارے والدین نماز نہیں پڑھتے یا بیویاں کہتی ہیں کہ ہمارے خاوند نماز نہیں پڑھتے۔ ایک عہد ہم نے یہ کیا ہے کہ اﷲتعالیٰ کی عام مخلوق کو تکلیف نہیں دیں گے، پھر یہ عہد ہے کہ مسلمانوں کو خاص طور پر اپنے نفسانی جوشوں سے ناجائز تکلیف نہیں دیں گے، جس حد تک عفو کا سلوک ہوسکتا ہے کرنا ہے لیکن اگر مجبوری سے کسی کے حد سے زیادہ تکلیف دہ رویہ سے اصلاح کی خاطر کسی کو سزا دینی ضروری ہے تو پھر اپنے ہاتھ میں معاملہ نہیں لینا بلکہ حکام تک بات پہنچانی ہے، جو اصلاح بھی کرنی ہے وہ صاحب اختیار نے کرنی ہے، ہر کسی کا کام نہیں کہ اصلاح کرتا پھرے، خود کسی سے بدلے نہیں لینے۔ لقمان شہزاد صاحب کی گوجرانوالہ پاکستان میں شہادت، شہزادے ستانوس صاحبہ کی مقدونیہ میں وفات۔

Mutual New Year greetings would be only be beneficial when we reflect to see how much we fulfilled our obligations of being an Ahmadi last year and how much we will try to do in the New Year. This Friday onwards resolutions which would create alertness and effort in the New Year should be made. It is obvious that the tasks we are expected to do as Ahmadis can only be done through virtue and piety. However, the question is what should be our level of piety and virtue! Currently people seeking asylum here and in Europe indulge in falsehood on the behest of lawyers in spite Hazrat Khalifatul Masih’s repeated admonishment in this regard. They make up stories and yet cases of many are still rejected. Here and in the rest of the world a central team of lawyers has been formed which helps asylum seekers, guides them regarding lawyers and offers consultation. Their president often reports that asylum case of such and such was rejected because it was based on a lot of falsehood. Another pledge sought from one taking Bai’at is that he will stay away from cruelty. Cruelty is indeed a big sin. The Holy Prophet(saw) once thus described a big sin: If a person usurps even a hand span of land from his brother, the entire land underneath even a small pebble of the land usurped will be placed as a millstone around his neck on the Day of Judgement. It is indeed a grave cause for concern when owing to egotistical and personal interest people usurp others in court cases. The Promised Messiah(as) said that after joining Ahmadiyyat pledge to offer five daily Prayers/Salat with all their requisites. Salat is obligatory on a ten year old child and parents should supervise in this regard. This can only be fulfilled when parents also offer Salat with due care. Many complaints are received regarding this matter; some children say their parents do not offer Salat or wives say husbands do not offer Salat. We also pledge not to cause harm to God’s creatures. We also pledge in particular not to cause undue harm to Muslims due to our passions and that we will forgive as much as possible. However, where it cannot be helped and others exceed in limits with their persecution, we will inform the authorities. This will be done for reformation and will not be borne of any personal enmity or anger. Reformation will be done by those in authority and there will be no personal settling of scores. Martyrdom of Luqman Shehzad Sahib Shaheed in Gujranwala, Pakistan and Death of Shehzade Satanos from Macedonia