In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Browse Al Islam

Archives of 2016 Friday Sermons

Delivered by the Head of the Ahmadiyya Muslim Community

Televised via Satellite by MTA International

Browser by year

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
30-Dec-2016   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: The Islamic way of celebrating the New Year
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

تشہد وتعوذ اور سورة فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا : دنیا میں رائج کیلنڈر کے مطابق دو دن بعد انشاء اللہ نیا سال شروع ہورہا ہے۔ دنیا والے تو گزشتہ سال کا اختتام بھی بیہودہ طریقہ سے کرتے ہیں اور نیا سال کا آغاز بھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی دینی آنکھ اندھی ہو چکی ہے۔ مومن کو ان لغویات سے نہ صرف بچنا چاہئے بلکہ اپنے گزرے سال پر اپنا دینی اور روحانی محاسبہ کرنا چاہئے کہ کیا پایا اور کیا کھویا۔ ہم احمدی خوش قسمت ہیں کہ جنہیں اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود ؑکو ماننے کی توفیق عطا فرمائی ۔ حضرت مسیح موعودؑ نے ہمارے سامنےاللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی تعلیم کا خلاصہ نکال کر رکھ دیا اور ہمیں کہا کہ تم اس معیار کو سامنے رکھو تو تمہیں پتا چلے گا کہ تم نے اپنی زندگی کے مقصد کو پورا کیا ہے یا نہیں ۔ پس ہم سال کی آخری رات اور نئے سا ل کا آغاز جائزہ اور دعا سے کریں گے تو اپنی عاقبت سنوارنے والے ہونگے ۔اگر کمزوریاں رہ گئیں اور جائزہ تسلی نہیں دلا رہا تو یہ دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہمارا آنے والا سال گزشتہ سال کی طرح روحانی کمزوری دکھانے والا نہ ہو اور ہر قدم اللہ کی رضامیں اُ ٹھنے والا ہو، ہماراہر دن اسوہ رسول ﷺپر چلنے والا ہو،ہمارے دن و رات حضرت مسیح موعود ؑکے ساتھ عہد بیعت نبھانے کی طرف لے جانے والے ہوں ۔ حضور انور نے فرمایا: اصل سوال تو یہ ہے کہ کیا ہم نے گزرے سال میں شرک سے اجتناب کا وعدہ پورا کیا، حضرت مسیح موعود ؑنے فرمایا ہے کہ توحید صرف اس چیز کا نام نہیں کہ منہ سے لا الہ الا اللہ کہہ دیا جائے جبکہ دل میں ہزار بت ہوں، پھر یہ سوال ہے کہ کیا ہمارا سارا سال جھوٹ سے پاک ہونے پر گزرا ؟ کیا ہم نے اپنے آپ کو ٹی وی ،انٹر نیٹ وغیرہ جو خیالات کو گندا کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں ان سے دور رکھنے کی کوشش کی ہے؟کیا بد نظری سے بچے کی کوشش کی ہے ؟ کیا ہم نے گناہ سے بچنے کی کوشش کی ہے۔ کیا ہم نے اپنے آپکو ظلم سے بچایا ہے یعنی کسی کا مال ناجائز طور پر تو نہیں دیا۔ کیا فساد سے بچنے کی کوشش کی ہے ۔چغل خوری کرنے والے فسادی ہیں محبت کرنے والوں کے درمیان جو بگاڑ پیدا کرتے ہیں وہ فسادی ہیں ،کیا ہم نفسانی جوشوں سے مغلوب تو نہیں ہو جاتے ، پھر کیا ہم پانچ وقت نمازیں پڑھتے رہے ہیں ؟ کیا نماز تہجد پڑھنے کی طرف توجہ رہی ؟اس کی عادت گناہوں سے روکتی ہے برائیوں کو ختم کرتی ہے اور جسمانی بیماریو ں سے بھی بچاتی ہے ۔ پھر ہم نے سوال کرنا ہے کہ کیا ہم آنحضرت صلى الله عليه وسلم پر دورد بھیجنے کی باقاعدہ کوشش کرتے ہیں ۔ باقاعدگی سے استغفار کرتے رہے ہیں ۔ کیا ہم نے دوسروں کو تکلیف پہچاہنے سے بچیں ہیں ۔عاجزی ہمارا امتیاز رہا ہے خوشی غمی اور تنگی آسائش جگہ خدا سے وفا کی ہے شکوہ تو نہیں پیدا ہوا ،ہرقسم کی رسوم سے بچیں ہیں ۔ جوبدعات کی طرف لے جاتی ہیں ۔کیا قران کریم اور رسول کریم صلى الله عليه وسلم کے احکامات کو مکمل طور پر اختیار کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں ؟ کیا ہم اس عہد پر قائم رہے کہ ہم دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گےاور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اطاعت کریں گے۔ کیا ہم خلافت سے تعلق رکھتے ہیں اور اپنے اہل و عیال کو بھی اس طرف توجہ کرواتے رہے ہیں۔ اگر تو ان سوالوں کے اکثر جواب مثبت ہیں تو ہم نے باوجود کمزوریوں کے بہت کچھ حاصل کیا۔ اگر جواب نہیں ہے تو پھر ہمیں فکر سے نئے سال میں داخل ہوتے ہوئے دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہماری کمزوریوں کو دور فرمائے، پھر حضورِ انور نے حضرت مسیح موعود ؑکے چند اقتباسات پیش فرمائے جس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کو اپنی جماعت سے کیا توقعات تھیں اور نیکی کے کس معیار پر آپ ہمیں دیکھنا چاہتے تھے، پھر دعا فرمائی کہ اللہ کرے کہ ہم اس نصیحت کو سامنے رکھتے ہوئے زندگی گزارنے والے ہوں عہد بیعت کو پورا کرنے والے ہوں زندگیاں خدا کی رضا کے حصول میں گزرنے والی ہوں ۔ نیا سال برکتوں کے ساتھ آئے اور دشمنوں کے تمام منصوبے ناکام کرتے ہوئے تمام احمدیوں کو امن میں رکھے خصوصا پًاکستان اور الجزائر میں۔ آمین

After reciting THANA, TAWUZ and Surah Fatiha Hazoor-e-Anwar(aba) Said: According to the Gregorian Calender, the New Year will insha’Allah start after two days. Worldly people pass these days in worldly pleasures, thus ending the previous year and starting the New Year in vein and useless activities. The reason is that they have lost their spiritual senses. The true believers stay away from such actions. The Promised Messiah(as) has presented the essence of Islam for us and has given us the conditions of Bai’at as our guideline. So if we start this New Year by evaluating ourselves and with prayers, only then we will be able to improve our hereafter. If the weaknesses still prevail and the self-evaluation does not give us peace then we should pray to Allah that the coming year may not be the one that would show us a reduction in spiritual enhancement. Our everyday should be reflective of the good model of the Holy Prophet(saw). Our days and nights should be spent in a way that help us fulfill our pledge to the Promised Messiah(as). We can evaluate ourselves by asking the question that did we try to stay away from Shirk in this year. The Promised Messiah (as) has said that oneness of God doesn’t mean that you just say La Ilaha with your mouth but have thousands of idols in your heart. It is shirk to give the status of God to any other thing in your life.The question is that did we stay away from falsehood in this year? Did we keep ourselves away from all sources of indecent thoughts? These days there are many such vile programs on TV and internet which is also a form of Zina. Do we keep ourselves away from trespasses of eyes? The question is that did we keep ourselves away from all quarrels with other believers? Did we stay away from all Zulm or oppression meaning devouring other’s wealth unlawfully? Did we stay away from becoming a source of any disorder for anyone? It is also fasad or disorder to misguide a person who follows his faith and Nizam-e-Jama’at faithfully. Do we offer prayers and Namaz-e-Tahajjud as instructed by Allah and the Holy Prophet(saw). The Holy Prophet(saw) has said that leaving prayer takes one close to Shirk and Kufr. Did we do istighfaar regularly during this year? The Holy Prophet(saw) has said that whoever does istighfaar regularly, Allah takes away all of his difficulties. Did we maintain a relationship of love and affection with Allah in this year and did we try our best to follow the Holy Quran and the commandments of the Holy Prophet(saw)? Did we fulfill this promise that we will give precedence to our faith over all worldly matters and will obey the Promised Messiah(as) in all matters? Did we keep a relationship with Hazrat Khalifatul-Masih(aba) in this year and advise our families in this regard? If the answer is yes to many of these questions, then we have gained a lot in this year despite our weaknesses. If the answer is no, then we should be worried about ourselves and enter the New Year with prayers that may Allah remove our weaknesses. May Allah enable us to live our lives according to the wishes of the Promised Messiah(as), may Allah hide our weaknesses, may Allah show us the victories destined for this Jama’at in our lives and may Allah destroy the evil plans of our enemies and keep all Ahmadis safe worldwide, especially in Pakistan and Algeria.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
23-Dec-2016   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)Uzbek (mp3)

Title: Persecution of Ahmadi Muslims: Steadfastness and Prayers
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

تشہد اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اﷲتعالیٰ نے فرمایا:جماعت احمدیہ کی مخالفت کوئی نئی بات نہیں ، ہمیشہ سے خدا کی جماعتوں کی مخالفت شیاطین اور زمانہ کے علماء کرتے ہیں، قرآن کریم میں بھی اﷲتعالیٰ فرماتا ہے کہ ہر نبی کی مخالفت ہوتی ہے، مثلا فرمایا ہم نے ہر جن اور سرکشوں میں سے ہر ایک کا دشمن بنا دیا اور وہ وہ بعض بعض کو ملمع کی ہوئی باتیں دلوں میں ڈالتے ہیں ، یہ سرکش علماء دین کے نام پر دھوکہ دیتے ہیں اور عوام الناس کو بھڑکاتے ہیں بعض لیڈر بھی ان کے ساتھ ملے ہوئے ہیں ۔ حضور نے فرمایا کہ بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہمیں سختی سے جوا ب دینا چاہئے ، یہ جہالت کی بات ہے اور نہایت غلط سوچ ہے ، یہ لوگ حضرت مسیح موعودؑ کی اصل تعلیم کو بھول گئے ہیں کہ ہم نے سختی کا جواب سختی سے نہیں بلکہ صبر، نرمی اور دعاؤں سے دینا ہے ، حضرت مسیح موعودؑ نے امن کا شہزادہ بن کر آنا تھا اور آپ نے ماننے والوں کو کہ دیا تھا کہ میرے راستے آسان نہیں ہیں ، ان میں سختیاں ہیں، یہاں جذبات کو بھی مارنا ہوگا اور جانی و مالی نقصان کو بھی برداشت کرنا ہوگا ، حضور انور نے حضرت مسیح موعودؑ کے متعدد اقتباسات کی روشنی میں اس بات کو پیش کیا کہ ہمارااصل مقابلہ ہتھیاروں سے نہیں بلکہ دعاؤں سے ہیں ۔ حضور نے فرمایا دوسرے مسلمان تو بغیر راہنما کے ہیں اس لئے ان کا یہ حال ہے کہ لاکھوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجوددنیا میں ذلیل و خوار ہو رہے ہیں ، اسلام کی تبلیغ اور شان اب حضرت مسیح موعودؑ سے اور آپ کی جماعت سے مقدر ہے۔ غلبہ اور فتح کیلئے ضروری ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کی تعلیم پر چلتے ہوئے تقویٰ پیدا کیا جائے ، اسی طرح ہمیں نور اور وہ طاقتیں عطا ہونگی جن کا مقابلہ کوئی دنیوی طاقت نہیں کر سکتی ، اﷲتعالیٰ نے بھی قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ ’ان اکرمکم عندﷲ اتقاکم‘۔ ہمارے عمل اگر اسلامی تعلیم کے مطابق نہیں تو تقویٰ نہیں ہے ، اس صورت میں ہمیں اپنے تقویٰ کی فکر کرنی چاہئے ، نامساعد حالات میں اگر زمانہ کے امام کی ہدایات پر عمل نہیں کر رہے تو ہم اس نور سے دور چلے جائیں گے ، پس ہمیں پہلے اپنے جائزہ لینے کی ضرورت ہے ، کیا ہماری دعائیں ایسی ہیں جیسا خداتعالیٰ چاہتا ہے ، پس ہمیں پہلے اپنے جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ کیا ہماری دعائیں ایسی ہیں جیسی خدا تعالیٰ چاتا ہے تو پھر ہم کو یقین ہونا چاہیے کہ اس کی مدد قریب ہے اور اللہ تعالیٰ ہی ہمارے لئے ملک بھی بنائے گا اور ہمارے لئے زمینیں بھی ہمو ار کرے گا اور اگر اس سے ہٹ کر حاصل کرنا چا ہیں گے تو کچھ نہیں ملے گا، اسلام کی خدمت اب مقدر ہے حضرت مسیح موعود ؑاور آپ کی جماعت کے ذریعہ سے اور یہ اسی صورت ممکن ہے جب ہم اس کے بھیجے ہوئے کے نقش قدم پر چلیں ورنہ دنیاوی لحاظ سے جتنی کوشش کر لیں ہمارے پاس طاقت ہے نہ وسائل ہیں ۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ خدانے مجھےمخاطب کر کے فرمایا کہ میں تمھیں بتاؤں کہ جو لوگ ایمان لائے اور دنیاوی ملونی سےپاک ہیں وہ لوگ خداکےپسندیدہ لوگ ہیں یہی ہیں جن کے صدق کے قدم ہیں ،پس اس صدق کے قدم پر چلنے کی ضرورت ہے ،تاکہ ان فتوحات کے نظارے ہم دیکھ سکیں جو آپؑ کے ساتھ وابستہ اور مقدر ہیں ،یہ ابتلاءء کا دور ختم ہونے والا دور ہے ،اس میں تیزی پیدا کرنے کے لئے تقوی کے معیاروں کو بڑھانے اور بڑھاتے چلے جانے کی ضرورت ہے تاکہ سب دینوں پر اسلام کو غلبہ حاصل ہو، اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمایا ہواہےکہ اس جماعت نے بڑھنا ہے اور پھلنا اور پھولنا ہے کوئی دنیاوی طاقت اس کو ختم نہیں کر سکتی ۔ اللہ تعالیٰ کرے ہم میں سے ہر ایک اس درخت کی پھلنے پھولنے والی شاخ بن جائے اور آپ ؑکی توقعات پر پورا اترنےوالے ہوں اور صبر و دعا کے ساتھ دشمن کے ہر حملہ کو ناکام و نامراد کرتے چلے جانے والے ہوں ۔ آمین۔ آخر پر حضورِ انور نے دوالمیال حادثہ میں شہید ہونے والے مکرم ملک خالد جاوید صاحب کی نماز جنازہ غائب کا اعلان کرتے ہوئے انکی متعدد خوبیوں کا ذکر کیا اور فرمایا کہ آپ نے اپنے بیٹے حافظ سبحان ایوب کو قرآ ن حفظ کروایا۔

In his Friday Sermon today, Huzoor(aba) said that the enmity of Jama’at is not a new concept. The communities of all Prophets were opposed by religious clerics and leaders of the time. For example, Allah says in Holy Quran: “And in like manner have We made for every Prophet an enemy, evil ones from among men and Jinn.” Huzoor(aba) said that some Ahmadis say that we should now respond harshly to this enmity. This is absolutely ignorant and wrongful. These people have forgotten the true teachings of the Promised Messiah(as) that we should respond to such cruelty through love, kindness and prayers. The Promised Messiah(as) was supposed to come as the king of peace and he told his people that my ways are not easy. There are hardship and we will have to forget emotions and bear all types of financial and bodily loss. Huzoor(aba) presented various excerpts of the Promised Messiah(as) to illustrate that our encounter is not with weapons but with prayers. Huzoor(aba) said that the other Muslims are without any leadership and are giving bad name to Islam despite having and spent millions of dollars. The revival of Islam and its true message is now associated with the Promised Messiah(as) and his Jama’at. Huzoor(aba) said that we need to inculcate Taqwa and righteousness in ourselves by following the true teachings of the Promised Messiah(as). Only this can bring us victories and rid us of opposition and oppression. The Promised Messiah(as) said that Taqwa will give you such light that no worldly power would be able to fight you. Allah has also said in the Holy Quran: “that the most honorable among you are those who are most righteous.” Huzoor(aba) said, if our actions are not in line with the teachings of Islam, then there is no Taqwa. In such case, We need to worry about our Taqwa and if we are not following the guidance of the Imam of the time then we are moving away from noor (light). Hence we need to take our accountability. Are our prayer’s in line with the desire of Allah? Then we are certain that God’s help and support is with us. Allah will create for us the sky and land, and if we desire anything else beside that then we will achieve nothing. The service to Islam is destined with the Promised Messiah(as) and his Jama’at. This can only happen if we tread on the path of whom God has appointed and sent otherwise no matter how much we strive worldly we will achieve nothing. The Promised Messiah(as) said, God has told me that I will tell you, those who have believed and are pure from worldly desire, they are loved by God. They walk on the path of truthfulness. Hence, it is necessary to walk on the path of truthfulness in order to witness the victories which are destined with you. In order to finish the time period of opposition faster we must increase the standard of Taqwa and that Islam becomes victorious all over the world. God has promised that this Jama’at will grow and flourish and no government power can stop it. May Allah enable everyone to be part of that branch which will spread and grow. And face the enemy with prayers and patience. Ameen! At the end, Huzoor(aba) announced the funeral prayer of Malik Khalid Javed sahib who had passed away of heart attack during the attack on the mosque in Dulmial, Pakistan.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
16-Dec-2016   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)Uzbek (mp3)

Title: The Holy Prophet (sa) - Mercy for all the worlds
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Malayalam | Kannada
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Indonesian | Bengali
Slide Deck: Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

تشہد اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اﷲتعالیٰ نے فرمایا:آجکل اسلامی دنیا میں ربیع الاول منایا جا رہا ہےجس کی اہمیت یہ ہے کہ اس میں ہمارے آقا و مطاع رسول اﷲﷺ کی ولادت ہوئی۔ لیکن مسلمانوں کی حالت پر افسوس ہے کہ رحمۃ العالمین کی پیدائش کو مناتے ہوئے بھی ان کے دل آپس میں پھٹے ہوئے ہیں ۔ قرآن کریم میں اﷲتعالیٰ حقیقی مومنوں کے متعلق فرماتا ہے کہ رحماء بینہم لیکن اس کے برعکس ہم دیکھتے ہیں کہ اﷲاور رسول کے نام پر مسلمان ایک دوسرے کو قتل کر رہے ہیں اور عورتوں اور بچوں کے بے گھر کیا جا رہا ہے۔ لیکن جماعت کی مخالفت میں یہ لوگ اکٹھے ہوگئے ہیں۔ رسول اﷲﷺ نے فرمایا تھا کہ جب مسلمانوں کی حالت نہایت بد ہوگی اور ان کے علماء بدترین مخلوق قرار پائیں گےاس وقت مسیح موعودؑ کا نزول ہوگا جو اسلام کی حقیقی تعلیم لوگوں کے سامنے بیان کرے گا ۔ اور اسی بات سے یہ علماء انکاری ہیں اور عام مسلمانوں کو بھی غلط باتیں پھیلا کرفساد کرتے اور گمراہ کرتے ہیں کہ (نعوز باﷲ) احمدی رسول اﷲﷺ کو خاتم النبین نہیں مانتے ۔ یہ صریح جھوٹ ہے ۔ خاتم النبین کی تعریف ہم وہ کرتے ہیں جو رسول اﷲﷺ نے کی ہے اور وہ یہ کہ امت محمدیہ سے نکل کر کوئی نبی نہیں آ سکتا اور ہم مسیح موعودؑ کو نبی ، رسول اﷲﷺ کی غلامی میں مانتے ہیں۔ اور جو نبی کریمﷺ کے خاتم النبیین نہ مانے وہ فاسق و فاجر ہے اور احمدیت سے خارج ہے۔ حکومت پاکستان کو بڑا فخر ہے کہ انہوں نے ہمیں غیر مسلم کہلا کر مسئلہ ختم نبوت حل کر دیا۔عامۃ المسلمین کو یہ دیکھنا چاہئے کہ کیا یہ زمانہ ایک مصلح کو نہیں چاہتا جو مسلمانوں میں پھر اتحاد پیدا کرے ۔ یقینا رسول اﷲﷺ کی پیشگوئی پوری ہوچکی ہے لیکن یہ مولوی ہر گز نہیں مانیں گے کیونکہ ان کی روزی روٹی کا انحصار اسی کاروبارپر ہے ۔ حال ہے میں دوالمیال میں ہماری مسجد پر ایک گروہ نے حملہ کیا ۔ ہم نے قانون سے نہیں لڑنا اور نہ ہم لڑتے ہیں ۔ نقصان تو انہوں نے ضرور کیا ہے لیکن جہاں تک ہمارے ایمان کا تعلق ہے اس پر ہم اپنی جانیں قربان کرنے کیلئے بھی تیار ہیں ۔ لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ کے نعرہ سے ہم کبھی نہیں ہٹیں گے ۔ ان لوگوں کا کام تو گالی گلوچ اور فساد کرنا ہے لیکن اسلام کی نشعت ثانیہ کا کام اب ہمارا ہے اور اس کو ہم جاری رکھیں گے، یہ لوگ تو رسمی طور پر میلاد النبی ﷺ مناتے ہیں مگر اس کا حقیقی ادراک تو احمدیوں کو ہے ۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ نے جماعت میں جلسہ ہائے سیرۃ النبی ﷺ کا آغاز کیا اور پورے ہندوستان میں یہ جلسے منعقد ہوئے۔ جو آج بھی باقاعدہ جاری ہیں ، جس میں احمدیوں اور غیر احمدی شرفاء کو رسول اﷲﷺ کی حقیقی سیرت کا بتایا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں ہر ملک میں جماعت احمدیہ یہ جلسے منعقد کر رہی ہے۔ یہ کوشش اس لئے کہ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ مخالفین کو بھی مقام محمد ﷺ کا پتہ چلے۔ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ یہ ہم پر بہتان ہے کہ ہم رسول اﷲﷺ کو خاتم النبیین نہیں مانتے۔ جس درجہ پر ہم رسول اﷲﷺ کو خاتم الانبیاء یقین کرتے ہیں اس کا لاکھواں حصہ بھی یہ لوگ نہیں سمجھتے۔آپ نے مزید فرمایا کہ تمام کمالات رسول اﷲﷺ پر ختم ہوگئے اور کمال تک پہنچے اور اﷲتعالیٰ نے آپ پر وہ کتاب نازل کی جو خاتم الکتب ہے ۔ کوئی شخص خداتعالیٰ کی رضا حاصل نہیں کرسکتا اور خداتعالیٰ سے انعامات حاصل نہیں کرسکتا جب تک رسول اﷲﷺ سے محبت اور آپﷺ کی اطاعت نہ کرے ۔اسی لئے اﷲتعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا قل ان کنتم تحبون اﷲ فا تبعونی ئحببکم اﷲ۔ حضور نے فرمایا کہ دشمن جو چاہے کہے ہمارے دلوں میں رسول اﷲکی محبت ہے اور آپﷺ کے خاتم النبیین ہونے کا ادراک ہے۔ اﷲکرے کہ ہر حملہ کے بعد ہم رسول ﷲﷺ کی محبت میں بڑھنے والے ہوں اور ہم مزید درود پڑھنے والے ہوں تاکہ دنیا کو ہدایت کا راستہ ملے۔ اور درود اس غرض سے پڑھنا چاہئے تاکہ خداوند کریم اپنے نبی کریم ﷺ کی تمام برکات نازل کرے اور اس کو تمام عالم کے لئے سرچشمہ ہدایت کا بنادے۔

Hudhur said: These days the month of Rabiul-Awal is being celebrated which is significant because the Holy Prophet (saw) was born in this month. It is sad to see that while celebrating the person who was a mercy for mankind, the hearts of Muslims are divided. The Quran says that true Muslims are merciful and kind towards each other, but we see thousands of Muslims being killed by other Muslims. They only seem to be united on their opposition of Jama‘at Ahmadiyya which is directly against the commandment of the Holy Prophet(saw). He had foretold that when the conditions of Muslims will become worse and their scholars will be the worst of creations, Allah will send the Promised Messiah(as) to restore the true teachings of Islam. These people make false claims against Jama‘at that we do not consider the Holy Prophet (saw) to be Khatam-un-Nabiyeen (the seal of the prophets). This is an open lie and we can only say that may Allah curse the liars. However, it is true that we do not take our definition of be Khatam-un-Nabiyeen from these Maulvis. We translate be Khatam-un-Nabiyeen as it was done by The Holy Prophet(saw) which is, no prophet can come outside the circle of Holy Prophet(saw). We believe the Promised Messiah(as) to be under Holy Prophet(saw) servant ship and his leadership. Those who do not believe Holy Prophet(saw) to be be Khatam-un-Nabiyeen are liars and are not of Jama‘at Ahmadiyya. We believe that the Promised Messiah(as) and Imam Mahdi was a Prophet of Allah, but as a servant of the Holy Prophet(saw). Our definition is in line with many previous great scholars of Islam and the companions of the Holy Prophet (saw). Huzoor(aba) said that the government of Pakistan is proud that they have declared us non-Muslim, but Muslims should ponder whether this time demands that a reformer should be sent for Muslims. These Maulvis or the clerics will never accept the Promised Messiah(as) because that would affect their livelihood. Huzoor(aba) mentioned the recent incident in Dulmial in Chakwal, Pakistan where a mob attacked and burned a mosque of Jama‘at. Huzoor(aba) said that it is true that they caused damage, but we will never leave our faith and we can also sacrifice our lives for “La Ilaha Illah”. Huzoor(aba) said that they can do whatever they want. We know that the revival of Islam is now decreed with us. This is why Hazrat Musleh Maud(ra) started these conferences on the life of the Holy Prophet(saw) through which the true character of the Holy Prophet(saw) is explained to the entire world. Even many newspapers and non-Ahmadis of that time congratulated Jama‘at that it united Muslims on one page and gave a strong response to the enemies of Islam. Huzoor(aba) said, we do all of this because the Promised Messiah(as) had taught us that if you want to reach Allah, then attach yourself with the Holy Prophet(saw). The Promised Messiah(as) says that this is a false charge against us that we do not accept the Holy Prophet(saw) as be Khatam-un-Nabiyeen. The comprehension of this status given to us is so magnificent that these people do not even come near it. The Promised Messiah(as) said that all qualities and excellences came to their absolute perfection in the being of the Holy Prophet(sa). This is also why Allah revealed the book upon him which is Khatam-ul-kutb. No one can attain the pleasure of Allah and cannot receive blessings from Allah if he has not lost himself in the love of the Holy Prophet(saw). This is why Allah has said in the Holy Quran that, Say, ‘If you love Allah, follow me: then will Allah love you and forgive you your faults. And Allah is Most Forgiving, Merciful.’ Huzoor(aba) said, that our enemies can say whatever they want, Our hearts are filled with the love of the Holy Prophet (saw). May Allah enable us to increase in this love after every such attack and may we read even more Durood so that the world may find a path to guidance. Ameen.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
09-Dec-2016   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: IslamAhmadiyyat - Divine Signs of Truth
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Malayalam | Kannada
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Indonesian | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : مخالفین جن لوگوں کی آنکھوں پر پردے پڑے ہوں ۔ ان کے حد سے بڑھ جانے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کے دل بند کر دیتا ہے اور وہ ہدایت نہیں پاتے اوروہ عبرت کا نشان بنتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ان کے مخالفین بالکل ایسے ہی تھے اور ان میں سے بعض پھر عبرت کا نشان بھی بنے۔ حضرت مسیح موعود نے اپنی صداقت کیلئے بہت سے نشانات اور پرانی پیشگوئیاں پیش کیں لیکن ان لوگوں نے پھر بھی آپ کا انکار کیا۔ مثلاً کسوف و خسوف نشان کے متعلق آپ فرماتے ہیں کہ جب تک یہ نشان پورا نہ ہوا تھا اس وقت تک مولوی رو رو کر اس حدیث کو پڑھتے تھے اور جب یہ پورا ہو گیا تو پھر یہ لوگ اپنی بات سے پھر گئے ۔ اسی طرح اور بہت سے نشانات قرآن میں بیان ہوئے ہیں مثلاً طاعون کا نشان ، نہروں کا بننا، پہاڑوں کا پھاڑا جانا، کتب کی اشاعت وغیرہ۔ غرض بہت سے نشانات ہیں جن کی خبر قرآن کریم میں ہے اور نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے بھی دی ۔ حضرت مصلح موعود ایک جگہ پر فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو رویا میں دکھایا گیا کہ آپ نظام الدین کے گھر گئے۔ اس سےحضور نے مراد یہ لی کہ نظام الدین کا مطلب ہے کہ دین کا نظام یعنی ایک وقت آئیگا کہ یہ جماعت باقی تمام نظاموں پر غالب ہو گی۔لیکن فرمایا کہ اس کیلئے دونوں حَسنی اور حُسینی طریقوں کی ضرورت ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ حضرت حسنؓ نے امن اور صلح سے کامیابی حاصل کی اور حضرت حسینؓ نےشہادت سے کامیابی حاصل کی ۔ آج ہم یہ دونوں نمونے دیکھ رہے ہیں کہ صلح اور امن کے پیغام کے ساتھ ساتھ ہم جماعت کی خاطر قربانیاں بھی دے رہے ہیں۔ پس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم خود بھی اپنی تربیت کریں اور اپنے آنے والی نسلوں کو بھی اس کام کیلئے تیار کریں۔جہاں ترقی ہو وہاں مخالفتیں بھی ہوتی ہیں یہ ترقی کی علامت ہے۔ ربوہ میں حال ہی میں جماعتی دفاتر پر پاکستان کی پولیس کی طرف سے ریڈ کی گئی۔ فرمایا کہ ربوہ سے بہت سے لوگوں نے مجھےلکھا ہے کہ ہم ان سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ تو جماعت کی خاطر مخالفتوں یا قربانیوں سے گھبرانا نہیں چاہئے کیونکہ حضرت مسیح موعود نے فرمایا ہے کہ ایسا ضرور کرنا پڑے گا۔ فرمایا کہ پاکستان کے مولوی حقیقی دہشت گرد ہیں ۔ اللہ تعالیٰ الجیریا کی حکومت کو بھی عقل دے جو جماعت پر ظلم کر رہی ہے۔ حضرت مصلح موعود نے بیان کیا ہے کہ کس طرح دعویٰ کے بعد اپنے ہی خاندان میں سے بہت لوگوں نے حضرت مسیح موعود کی مخالفت کی۔آپ کؑو بتایاگیا کہ اس خاندان میں سے تیری نسل ہی آگے چلے گی اور باقی سب کی نسلیں کٹ جائیں گی۔ اب سوائے ان کے جو حضرت مسیح موعود کے یا تو روحانی یاجسمانی اولاد میں سے تھے آگے کسی کی اولاد نہیں چلی۔ یہ صداقت کا ایک بڑا نشان ہے ۔اس کے بعد ‘‘تائی آئی’’، کا جو الہام حضرت مسیح موعود کو ہواتھا اس کی صداقت کو حضو ر انور نے تفصیلا بًیان کیا ۔ یہ حضرت مصلح موعودؓ کی تائی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بھاوج تھیں۔ آپ کے زمانہ میں انتہائی مخالف تھیں اور آخرکار انہوں نے حضرت مصلح موعودؓ کے ہاتھ پر بیعت کی اور یہ نشان پورا ہوا۔پھر حضورؑ دہلی میں اولیاء کے مزاروں پر دعا بھی کرتے اور فرماتے تھے کہ میں دعا اس لئے کرتا ہوں تا اللہ تعالیٰ ان کی اولادوں کو ہدایت دے کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہونے والے کوماننے والے ہوں۔ حضرت مصلح موعود نؓے فرمایا کہ حضرت مسیح ناصری اور ان کی جماعت کو دیکھا جائے تو ان کا غلبہ تقریبا 300 سال میں ہوا لیکن جماعت کے حالات اور ترقی کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ہمارا غلبہ اس سے بہت کم وقت میں ہو جائےگا۔ انشاء اللہ۔ حضور انور نے فرمایا کہ پاکستانی مولوی ہوں یا کوئی دنیوی طاقت ہو االلہ تعالیٰ کے ہاں ان کی کوئی حیثیت نہیں۔یہ لوگ جماعت کی ترقی کو روک نہیں سکتے۔ لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ ہم سب نہ صرف تبلیغ کے میدان میں آ گےبڑھیں بلکہ اس مقصد کیلئے دعائیں بھی بہت کرنے والے ہوں اور تعلق با للہ کو بھی بڑھائیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آخر پرحضورإ انور نے مکرم سوتنی ظفر احمد صاحب مبلغ انڈونیشیا کا جنازہ غائب پڑھایا ۔

Hazur (aba) said: on whom Allah’s has sealed their eyes, they cannot see the signs of Allah. Allah has sealed their hearts, nor are they able to seek any guidance. They became a lesson and example for everyone.There were similar opponents present during the lifetime of Promised Messiah (as) and some became an example. Promised Messiah (as) presented countless sings and old prophecies for his truthfulness but the opponents rejected all of them. For example, regarding the solar and lunar eclipse Hazur (aba) says, before the prophecy being fulfilled the moulvis used to cry and recite it day and night. And when the prophecy was actually fulfilled they rejected it and started to find excuses. There are many other things as well which are mentioned in the Holy Quran i.e plague, rivers flowing, mountains been ripped open, publications of books etc. Hence, there are so many things which the Holy Quran and Holy Prophet (saw) tell us. Hazrat Musleh Maoud (ra) mentioned that once Promised Messiah (as) was shown in a dream that he has gone in the house of Nazamu-deen. Hazur (ra) has interpreted the meaning of Nizamu-deen to be, religious’s administration. That, a time will come when the admin of Jama’at will be superior and better than all other administrations. For this to take place, Hassni and Husseini path are needed. We know that Hazrat Hassan (ra) was successful through peace and reconciliation and Hazrat Hussain (ra) was successful by attain martyrdom. Through both these means Jama’at will enter the house of Nizamudeen, meaning, every Jama’at will have religious administration. Hazur (aba) we are witness both of these examples today, we are preaching the message of peace and reconciliation, and people are sacrificing for the Jama’at as well. We are witnessing God’s signs day by day, and we will also see the days of victory when the Jama’at’s administration will be victorious. The important thing is that, we must reform ourselves and engage our progeny in this effort as well. Where there is success there is also opposition, but we should not be scared from this opposition or lose hope but in reality this is a sign of progress. In Rabwah, anti terrorist police raided the Tehreeke- Jadeed offices. Hazur (aba) says, many people have written to me that we are not scared or lose of hope, We must not panic by seeing opposition because the Promised Messiah(as) says, we must go through this opposition. The real terrorist are the Pakistani molvis and the police responsible for this department should show courage and bravery by not injuring or opposing peaceful Ahmadis and catch the real culprit. Likewise, in Algeria Jama’at is facing a lot of opposition. May God give wisdom to the government. Ahamdis all over the world are peaceful law abiding citizens and governments should not be scared or threaten by us. Hazrat Musleh Maoud (ra) said that after Promised Messiah’s claim his own family and relatives started to oppose him. Promised Messiah (as) was told that only from your family the progeny will continue and all others will cut off. This is a matter which is not in control of any human being. Hazrat Musleh Maoud (ra) says, in the family there are about 70 men, except Promised Messiah’s spiritual and physical progeny no other families or relatives progeny continued. This is also a massive sign of Promised Messiah’s truthfulness. After this a revelation “ Tayi Ayi“ which Promised Messiah received by Promised Messiah (as) was explained by Hazur (as) and how it was fulfilled. She was the aunt of Hazrat Musleh Maoud (as) and accepted Promised Messiah during the time of Hazrat Musleh Maoud (ra). She was a bitter opponent of Hazur (as) during his lifetime. Then Hazrat Musleh Maoud (ra) mentioned Hazur (as) incident in Delhi, how he used to pray at the graves of passed saints. Hazur (aba) the reason I do this is so that the progeny of these deceased saints can accept the prophet whom Allah has sent. Hazur (aba) said: When looking at the Christians and Jesus (as), they attained success and power after 300 years. But when looking Jama’at’s success and its current state we shall achieve success in less time. Hazur (aba) said: we should all progress and work more on tabligh. And to achieve success in this field we must focus on prayers and increase in connection with God. May God allow us to do so. Hazur (aba) led janaza gaib of Sonti Zafar Ahmad sb, missionary of Indonesia.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
02-Dec-2016   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)Uzbek (mp3)

Title: Fault-Finding and Complaining
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Malayalam
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Indonesian
Slide Deck: Powerpoint | Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

بعض لوگ عہدیداروں اور کچھ اور جو عہدیدار نہیں ان کے بارہ میں شکایت کرتے ہیں لیکن اپنی شکایتوں میں اپنا نام نہیں لکھتے ایسے لوگوں کی شکایتوں پر کاروائی نہیں ہوتی۔ بے نام شکایتیں لگانے کی بیماری زیادہ تر پاکستان اور انڈیا کے لوگوں میں ہے ۔ جو بے نام شکایتیں لکھنے والے ہوتے ہیں ان میں یاتو منافقت ہوتی ہے یا جھوٹ ہوتاہے ۔ قرآن مجید کی تعلیم یہ ہے کہ اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبرلیکر پہنچے تو تحقیق کر لیا کرو۔اور تحقیق کی ابتداء بات پہنچانے والے سے ہوتی ہے۔ فاسق کا مطلب اطاعت نہ کرنے والا ،فیصلہ کرنے میں تیز،اور ایسا شخص جو کسی کی چھوٹی سی برائی بھی بڑھ چڑھ کربیان کرے اور سزا دینے میں تیزہو تحقیق سے پہلے یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ شکایت کرنے والا مومن ہے یا فاسق ہے ۔ جو نام بھی چھپاتا ہو اور ایمان میں بھی کمزور ہو تو وہ ان معنوں کی رو سے فاسق ہی ٹھہرتاہے یہ امر قرآن کریم کے خلاف ہے۔ اگر ہم جانتے بھی ہوں کہ شکایت کرنے والا شخص بہت محتاط اور راست باز ہے پھر بھی جس کے بارہ میں شکایت ہو اس کی تحقیق ہو گی(حضرت مصلح موعودؓ)۔ اصل چیز قرآن کریم اور سنت پر عمل کرنا ہے اور جب دلائل دیئے جائیں تو ساتھ ثبوت بھی دیئے جائیں ۔ قرآن کریم اور آنحضرت ﷺ کی تعلیم پر عمل کرنا یہی نیکی ہے یہ ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے۔ اگر کسی کو کوئی بات بری لگے اگر قرآن کریم اورآنحضرتﷺ کی تعلیم کے مطابق وہ صحیح ہے تو وہ صحیح ہے ۔ بعض لوگ دوسروں پر اعتراض کرتے ہیں لیکن ان کا طریقہ مجرمانہ ہوتا ہے لہذا انہی کو سزا مل جاتی ہے ۔ اگر قرآن کریم کی حکومت کو قائم کرنا چاہتے ہو تو اپنے پر بھی خدا تعالیٰ کی حکومت قائم کرو۔ ہم نے تو اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلنا ہے جب اللہ سے ہر چیز لے رہے ہیں توبات اللہ کی مانی جائے گی ناکہ الزام لگانے والوں کی۔ یہ ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ کسی کی شکایت پر فیصلہ اس کے بتائے اصول پر نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق پر ہوگا۔ ہماری کامیابی اسی میں ہے کہ ہم اللہ کے حکم کے مطابق اپنے معاملات اور فیصلہ کرنے والے بنیں اور اپنی ذاتی اناوں کو بنیاد بنا کر خلیفہ وقت اور جماعت کو مجبور کرنے والے نہ ہو۔ اگر لوگ دیکھیں کے نظام جماعت میں رخنہ آ رہا ہےتو ثبوت کے ساتھ سامنے آئے اور جرات سے مقابلہ کریں ۔ شیخ ساجد محمود صاحب جو کہ کراچی کے رہنے والے تھے ان کو 27 نومبر 2016شہید کر دیا گیا۔مرحوم خلافت سے بہت محبت کرنے والے ، چندہ جات کے حوالہ سے فکر مند ، اپنی اولاد کو بھی تلقین کرتے ، لین دین میں بہت دیانتدار،سچائی سے کام لینےوالے ، کبھی ناراض نہ ہوتے ، رحمی رشتہ داروں کا خیال رکھنے والے، طبیعت میں بغض اور کینہ نہیں تھا۔عبادات میں بہت باقاعدہ تھے۔ دوسرا جنازہ شیخ عبدالقدیر صاحب درویش قادیان کاہے ۔جو 92 سال کی عمر میں فوت ہوئے نظام خلافت سے والہانہ محبت اللہ پر کامل یقین اور ہر ناکامی اور کامیابی کو خدا کی رضا سمجھ کر قبول کرتے ۔ تیسرا جنازہ تنویر احمد لون صاحب کا ہے ناصر آباد کشمیر میں پولیس میں نوکری کرتے تھے نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے ، یہ بھی شہید کا درجہ رکھتے ہیں۔

Some lodge complaints against office bearers and others and want an investigation conducted Many such individuals fail to mention their names or are ambiguous. Such complaints are not investigated nor can any investigation occur Complaining whilst remaining nameless is common amongst Pakistanis and Indians. Those who fail to recognize themselves or make up a name, this is a form of hypocrisy and they are liars. Holy Qur'an commands to investigate if an issue arises. Investigations cannot be conducted right away but the foremost requirement is to evaluate the complainant. 'Fasiq' in Arabic also implies one who is haste in decision making, disobedient one, abusive one also means one who exaggerates vices and the complains one should be punished to the utmost Those who fail to recognize themselves are actually acting against the teachings of Qur'an. It should be made clear that one who objects will be investigated regardless of their loyalty & dedication. At the end of the day, our duty is to obey the commandments of Qur'an and Sunnah. Obeying teachings of Holy Qur'an and teachings of Holy Prophet (SAW) is true virtue. Some make accusations in such a manner that they themselves should be punished. We have to follow the commandments of our God. We will obey Allah the Almighty, not those who object. We should recall that decisions will be made based on the teachings of God. Our success lies in following the commandments of Allah and making decisions accordingly. We should not try to force Jama'at and Khalifatul Masih based on our ego. Funeral in absentia: Sheikh Sajid Mahmood Sahib Shaheed - 55 years old - Karachi, martyred after Maghrib on 27 Nov 2016-Mahmud sb was dedicated to Khilafat. He was regular in financial sacrifices He would remain restless with respect to financial obligations. He was honest and truthful. He was kind with his siblings. 2nd funeral: Sheikh Abdul Qadeer sahib - who was Derveysh Qadian. He died at the age of 92. He had deep love for khilafat, strong believe in Allah and accepted all trials as God's will. Third funeral: Tanveer Ahmad Lone sahib from Nasirabad Kashmir, passed away on 25 November. He served in the police،He was shot by unknown assailants. He has attained status of martyr.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
25-Nov-2016   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)Uzbek (mp3)

Title: Equity, Justice and Good Conscience
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Malayalam
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Indonesian | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
18-Nov-2016   Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)Uzbek (mp3)

Title: The Canadian Tour 2016
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Malayalam | Kannada
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Indonesian | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

کینیڈا کے دورہ کے حوالہ سے جلسہ کے علاوہ پروگرامز کا ذکر۔ اللہ کے فضل سے کینیڈا میں تین نئی مساجد بنائی ہیں ،پارلیمنٹ میں ،یورک یونیورسٹی اور ٹورنٹو اور کیلگری میں Peace Symposium ہوا ۔ حضور نے پارلیمنٹ سے خطاب مٰیں واضح فرمایا کہ صرف مسلمانوں کو الزام نہ دو تمہارے اپنے لوگوں نے بھی ایسے کام کئے ہیں جن سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ خطاب سن کر اسرائیل کے سفیر نے کہا کہ امن کے لئے اہم پیغام تھااور اسلام کے بارہ میں تاثر بالکل بدل گیا ہے ۔ سینئیر امیگریشن جج نے کہا کہ امام جماعت احمدیہ نے نہایت صاف زبان میں ہماری کمزوریوں اور کمیوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ایک سنی امام: اس تقریر نے دنیا میں امن کی بنیاد رکھی ہے کسی ایک فریق پر الزام نہیں لگایا بلکہ تمام دنیا کی کمزوریوں کی وجہ سے ہے ۔کوئی انسان غلطیوں سے پاک نہیں ہے وہ سب مضمون بیان ہوئے جن کی ضرورت تھی۔ ساڑھے چار ملین افراد تک حضور اور وزیر اعظم کینیڈا کی ملاقات کی خبر پہنچی۔ (پارلیمنٹ میں موجود ایک مہمان)جب میں نے پارلیمنٹ میں خلیفہ کا خطاب سنا تو میں سوچ نہیں سکتاتھا کہ اس طرح ایک مسلمان لیڈر نڈر ہو کر خطاب کریگا۔ یورک یونیورسٹی جو کینیڈا کی تیسری بڑی یونیورسٹی ہے جس میں 53 ہزار طالب علم اور 7000 طلبأء ہیں اس میں بھی خطاب ہوا۔ سسکاٹون میں پریس کے ذریعہ سے 1.78 ملین لوگوں تک پیغام پہنچا ۔ (رجائنا میں خطاب)مذاہب عالم کے ایک پروفیسر کہتے ہیں کہ یہ خطاب ان تمام خطابات سے بالا تھا جو میں نے مذاہب عالم کے پروفیسر کے طور پر سنے ہیں ۔پیغام بہت ہی واضح تھا ۔ رجائنا میں مسجد کے افتتاح کی وجہ سے 1.97 ملین تک اسلام کا پیغام پہنچا۔ Lloydminsterمیں بھی مسجد کا افتتاح ہوا جس میں مختلف غیر از جماعت نے شرکت کی۔ جماعت احمدیہ نے ہمیشہ امن کا پیغام لوگوں تک پہنچایا ہے (سٹیفن ہارپرسابق وزیر اعظم کینیڈا)۔ کیلگری میں بھی Peace Symposium ہوئی اور 600 سے زائد مہمانوں نے شرکت کی۔ کیلگری کے میئیر جو آغاخانی ہیں انہوں نے بھی خطاب کو سراہااور کہا کہ اسلام کی امن پسند تعلیمات بہت ہی جرات کے ساتھ پیش کی گئی ہیں ۔ (ایک مہمان ) امام جماعت کے خطاب کا مرکزی نقطہ امن تھا ،میں اسلام سے ڈرتا تھا لیکن آج خطاب سن کر اسلام کے بارہ میں تمام خدشات ختم ہو گئے ہیں ۔ احمدیوں کو چاہئے کہ جن سے واقفیت ہے ان کو اسلام کی خوبصورت تعلیم بتائیں نہ صرف دنیاوی باتیں کریں۔اس طرف توجہ دینی چاہیے۔ (ایک مہمان) مجھے بہت اچھا لگا جب امام جماعت احمدیہ نے سابق وزیر اعظم کے سامنے یہ ذکر کیا کہ مشرقی دنیا فساد کی وجہ ہے ۔ کیلگری میں میڈیا کی کوریج مجموعی طور پر 5 ملین لوگوں تک پیغام پہنچا ہے ۔ مجموعی طور پر میڈیا کوریج 32 چینلز سے 40 ملین ،ریڈیو سے 8 لاکھ لوگوں تک ،227 اخبارات سے 4.8 ملین لوگوں تک ، سوشل میڈیا سے 14.6 ملین تک ،مجموعی طور پر 60 ملین سے زائد افراد تک پیغام پہنچا۔ اللہ کے اس فضل کی ہمیں قدر کرنی چاہئے اور اسے سنبھالنا بھی چاہیے۔ ہمارے ہر کام میں احمدیت اور حقیقی اسلام کا پیغام پہنچانے کی نیت ہونی چاہئے توحید کو قائم کرنے اور آنحضرت ﷺ کے جھنڈے کو دنیا میں لہرانےکی نیت ہونی چاہیے۔ Peace Village میں رہنے والے احمدیوں کو کو چاہیے کہ اپنے مقصد کو نہ بھولیں اور اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کریں۔

Huzoor(aba) has already alluded to the activities of Jalsa Canada۔Now he will narrate the remainder of the six-week tour. Hazrat Khalifatul-Masih(aba) inaugurated three mosques in Canada and Hudhur delivered various addresses at peace symposiums in Parliament, York University, Toronto and Calgary. Hazrat Khalifatul-Masih(aba) during his speech in Parliament explained that muslims only should not be blamed, your actions have caused issues as well. Israel delegate: t was important message of peace and my view about Islam has changed . Address should published & spread throughout the world. Senior Immigration Judge said that It was a clear message which made us aware of our shortcomings and weaknesses. One Sunni Imam: This speech has laid foundation of peace in the world, no one party was blamed and it is because of whole world. Anyone can commit mistake. All those subjects which were required were explained. Parliament Hill media coverage included Prime Minister tweeting the picture of the meeting This coverage through news reached 4.5 million. Guest: When I listened to the Hudhur's speech in parliamnet, I could not imagine that one Muslim leader will speak with such zeal and courage. 3rd function was held in York university, which is the 3rd biggest university of Canada, with 11 faculties, 53K students, 7K teachers. Saskatoon: 1.78 million people in total got the message through press and media. Professor: This message was though provoking This was the best lecture that I have ever heard in context to a religious message. The Media coverage in Regina was notable due to inauguration of the mosque. The message reached around 1.97 million people. Lloydminster was next stop, there too new mosque was inaugurated. Mosque Inauguration function was attended by many non-ahmadi guests. Former PM of Canada Stephen Harper: I have seen Imam Jamat's speeches at various places, and he always spread the beautiful message of Islam. Huzoor(aa) then visited Calgary. A Peace Symposium was organized on Nov 11. About 600 guests attended. Mayor of Calgary whose Aga Khani, said: Islamic teachings were presented with great courage. That there’s no extremism in Islam. Guest: Imam Jamat's sermon was focused on peace. I used to be afraid of Islam, but today my fear has vanished. Guest: I really liked that Imam Jama'at mentioned in front of former PM that west is involved in world crisis. Various channels and newspapers gave coverage - Calgary Reach: 5 million received the message. During the tour of Canada, media coverage caused the message to reach 40 million 30 Radio stations resulted in 800K reach Social Media, electronic media - 14.6 million reach Roughly 60 Million people were reached through media whether news channels or newspapers throughout Canada Tour. This is Grace of Allah and we should pay heed. We should recall that in all of our tasks, our intentions should be to convey teachings of Islam, establish Unity. Ahmadis of Peace Village should understand true objective of forming a relationship with Allah.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
11-Nov-2016   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Swahili (mp3)Turkish (mp3)

Title: Essence of Financial Sacrifice, Tehrik e Jadid 83rd year
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Malayalam | Kannada
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Indonesian | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
04-Nov-2016   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)Uzbek (mp3)

Title: The Mosque at Regina, Canada
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Malayalam | Kannada
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Indonesian | Bengali
Slide Deck: Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
28-Oct-2016   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)Uzbek (mp3)

Title: The Essence of Waqfe Nau
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Malayalam | Kannada
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Indonesian | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

اﷲتعالیٰ کے فضل سے جماعت میں بچوں کو وقف کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے ، روزانہ مجھے والدین کے خط ملتے ہیں، بعض دنوں میں ان کی تعداد 20-25 ہو جاتی ہے جس میں والدین اپنے ہونے والے بچوں کو وقف نو میں شامل کرنے کی درخواست کرتے ہیں، حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے جب یہ تحریک فرمائی تھی تو پہلے مستقل نہیں تھی پھر آپ نے اسے مستقل کر دیا اور جماعت نے بھی اور خاص طور پر ماؤں نے اس پر ہر ملک میں لبیک کہا ، آج سے 13-12 سال پہلے جماعت کی اس طرف توجہ ہوئی تھی تو واقفین نو کی تعداد 28 ہزار تھی ، اب یہ تعداد اﷲتعالیٰ کے فضل سے61 ہزارکے قریب ہو چکی ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا : میں ان ماؤں اور باپوں سے سب سے پہلے یہ کہنا چاہتا ہو ں کہ وقف نو کا صرف نام ہونا ہی کافی نہیں ہے بلکہ وقف نو ایک اہم ذمہ داری ہے، ایک وقف نو کے جوانی تک پہنچنے تک ماں باپ کی اور اس کے بعد خود اس کی اپنی ذمہ داری بن جاتی ہے ، بعض لڑکے لڑکیاں جنہوں نے دنیاوی تعلیم حاصل کی ہے بظاہر بڑا جوش دکھاتے ہیں اور اپنی خدمات پیش کر دیتے ہیں لیکن بعد میں ایسی مثالیں بھی سامنے آٗئیں، اس لئے بھی چھوڑ جاتے ہیں کہ جماعت جو الاؤنس دیتی ہے اس سے ان کا گزارہ نہیں ہوتا ، جب ایک اعلیٰ مقصد حاصل کرنا ہے تو تنگی اور قربانی تو کرنی پڑتی ہے ۔ حضور نے فرمایا: اس سلسلسہ میں بعض انتظامی باتوں اور واقفین کیلئے لائحہ عمل کی طرف بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں ، بعض لوگ سوال اٹھاتے ہیں اور بعض واقفین نو کے ذہنوں میں غلط فہمیاں ہیں کہ وقف نو ہو کر ان کی علیحدہ شناخت بن گئی ہیں، شناخت بیشک بن گئی ہے لیکن اس شناخت کی ساتھ ان کے ساتھ غیر معمولی طور پر امتیازی سلوک نہیں ہوگا بلکہ اس شناخت کے ساتھ ان کو اپنی قربانیوں کے معیار بڑھانے ہونگے ، بعض لوگ اپنے واقفین نو بچوں کے دعماغوں میں یہ بات ڈال دیتے ہیں کہ تم بڑے خاص بچے ہو جس کا نتیجہ یہ ہے کہ بڑے ہو کر بھی ان کے دعماغوں میں خاص ہونا رہ جاتا ہے۔ واقفین نو لڑکے اور لڑکیاں بھی رشتوں کے وقت دنیا دیکھنے کی بجائے دین دیکھنے والے ہیں اور پھر رشتے نبھانے والے بھی ہیں تب کہ سکتے ہیں کہ ہم خالصۃ دینی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اپنے رشنے نبھانے والےہیں تو تب سپیشل کہلائیں گے، ان میں برداشت کا مادہ دوسروں سے زیادہ ہے، لڑائی جھگڑا اور فتنہ فساد کی صورت میں اس سے بچنے والے ہیں بلکہ صلح کروانے والے ہیں تو سپیشل ہیں ، تبلیغ کے میدان میں سب سے آگے آکر اس فریضہ کو انجام دینے والے ہیں تب سپیشل ہیں ، خلافت کی اطاعت اور اس کے فیصلوں پر عمل میں صف اول پر ہیں تو سپیشل ہیں۔ حضور نے فرمایا: ماں باپ کو بھی میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وہ جتنی چاہے اپنے بچوں کی زبانی تربیت کر لیں ، اس کا اثر اس وقت تک نہیں جب تک اپنے قول و فعل کو اس کے مطابق نہیں کریں گے، ماں باپ کو اپنی نمازوں کی حالتوں کو نمونہ بنانا ہوگا ، قرآن کریم کے پڑھنے پڑھانے کیلئے اپنے نمونے قائم کرنے ہونگے ، اعلیٰ اخلاق کیلئے نمونہ بننا ہوگا دینی علم سیکھنے کی طرف خود بھی توجہ کرنی ہوگی ، جھوٹ سے نفرت کے اعلیٰ نمونے قائم کرنے ہونگے، گھروں میں باوجود اس کے کہ بعض کو کسی عہدیدار سے تکلیف پہنچی ہو نظام کے خلاف یا عہدیداروں کے خلاف بولنے سے پرہیز کرنا ہوگا۔

By grace of Allah, the trend to dedicate children in the Jama'at is rising. I receive letters from parents daily. On certain days, the count reaches twenty to twenty-five. In them, the parents request their yet to be born children to be included in Waqfe Nau. When Hazrat Khalifatul Masih IV(ra) started this movement, it was not permanent, but later, he made it permanent. And Jama'at, especially mothers in every country, said, "Here we are!" Twelve or thirteen years ago, due to Jama'at's attention to this, the number of Waqfeene Nau was over 28 thousand. By grace of Allah this number has now neared 61 thousand. So, I want to convey to all such mothers and fathers that just the name of Waqfe Nau is not enough. Rather, Waqfe Nau is an important responsibility. It is the responsibility of the parents until Waqfe Nau becomes an adult and thereafter it becomes his own responsibility. Some boys and girls, who have got secular education, apparently show great enthusiasm and present their services. Later on, leave because they cannot survive with the allowance that the Jama'at pays them. When a larger objective is to be achieved, you have to sacrifice and bear hardship. Briefly, I want to draw the attention toward certain administrative matters and the line of action of Waqfeene Nau as well. Some people raise questions and some Waqfeene Nau have certain misconceptions in their minds that by joining Waqfe Nau they have got a new identity. No doubt the identity is made, but with that identity they will not receive an extraordinarily preferential treatment. Instead, they will have to raise their bars of sacrifice with that identity. Some people infuse into the minds of their Waqfeene Nau children that they are very special children. At the time of matrimonial match, if they look for faith rather than worldly material, and then get along with their relationships, and can say that while acting upon the religious directions they are the ones who carry on with their relationships. Then they will be called special. They are special if are more forbearing than others and in case of altercation and disorder, they not only refrain from them but become peacemakers. If, in the field of propagation, they take the lead position to fulfill this duty, then they are special. I want to tell the parents that no matter how much training they impart verbally, it will ineffective until their words and actions do not conform to that. The parents will have to model their praying conditions. They will have to establish the patterns of reciting and teaching of the Holy Quran. They will have to become a role model of high morals. They themselves will have to turn to acquiring religious knowledge. High standards of hating falsehood will have to be founded. Despite harm done to some by some office bearer, they will have to refrain from talking in their homes, against the Jama'at system or the office bearers.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
21-Oct-2016   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)Uzbek (mp3)

Title: True Servants of Allah: Bashir Ahmad Rafiq and Dr. Nusrat Jehan
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Malayalam | Kannada
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Indonesian | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

تشہد اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضر ت خلیفۃ المسیح نے فرمایا : آج میں جماعت کے دو خادموں کا ذکر کروں گا جن کی گزشتہ دنوں وفات ہوئی ہے، جن میں سے ایک مکرم بشیر احمد رفیق خان صاحب ہیں اور دوسری فضل عمر ہسپتال کی شعبہ گائنی کی ڈاکٹر نصرت جہاں ، جو انسان بھی دنیا میں آیا اس نے دنیا سے رخصت ہونا ہے لیکن خوش قسمت ہوتے ہیں وہ جن کو اﷲتعالیٰ دین کی خدمت کی بھی توفیق عطا فرمائے اور انسانیت کی خدمت کی بھی توفیق عطا فرمائے ، بشیر احمد رفیق خان صاحب پرانے خادم سلسلہ اور مبلغ سلسلہ تھے پھر مختلف انتظامی کاموں پر ان کو مقرر کیا گیا ، بڑی خوش اسلوبی سے اپنے فرائض سرانجام دیتے رہے ، ان کا 11 اکتوبر 2016کو تقریبا85 سال کی عمر میں لندن میں انتقال ہوا۔ 1964-1971 اور پھر اس کے بعد 1971-1979 امام مسجد فضل لندن رہے ، مسلم ہیرالڈ کے بانی ایڈیٹر 1961-1979، پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفۃ المسیح 1970-1971، نومبر 1985 میں آپ وکیل الدیوان تحریک جدید مقرر ہوئے اور 1987 تک رہے، وکیل تصنیف ربوہ 1982 تا 1985، ایڈیشنل وکیل التبشیربوہ 1983تا ا1984, ایڈیشنل وکیل التصنیف لندن 1987 تا 1997،ایڈیٹر ریویو آف ریلیجنز 1983تا 1985، چیئرمین بورڈ آف ایڈیٹرز ریویو آف ریلیجنز 1988-1995، ممبر صدر انجمن احمدیہ پاکستان 1971 تا 1985،ممبر افتاء کمیٹی 1971-1973۔ اﷲتعالیٰ کے فضل سے بڑی بھرپور زندگی انہوں نے گزاری ہے ، خلافت سے ان کا بڑا وفا کا تعلق تھا ، ان کا دل کا آپریشن بھی ہوا تھا اور ایک وقت میں تو بالکل ناامیدی تھی پھر اﷲتعالیٰ نے نئی زندگی دی، اس بیماری کی وجہ سے ان کو کمزوری بھی ہوتی تھی لیکن بڑی باقاعدگ سے حضور کو خط لکھتے تھے اور وفا اور اخلاص کا اظہار کیا کرتے تھے بلکہ جہاں بھی ان کو پتہ چلتا کہ جس فنکشن میں حضور آرہے ہیں یہ ضرور وہاں آیا کرتے تھے ، اور پھر واکر کے ذریعہ یا کسی اور طرح حضور نے دیکھا ہے ان کو جمعہ کی نماز پر ضرور شامل ہوا کرتے تھے۔ دوسرا ذکر جیساکہ حضور نے فرمایا محترمہ ڈاکٹر نصرت جہاں مالک صاحبہ کا ہے جو مولانا عبدالمالک خان صاحب کی بیٹی تھیں ، 11 اکتوبر 2016 کو لندن میں وفات پا گئیں، انا ﷲ و انا الیہ راجعون، ہائش ان کی ربوہ میں تھیں لیکن برطانوی شہری تھی ، ہر سال آیا کرتی تھیں، کچھ تو اپنی پیشہ ورانہ مہارت بڑھانے کیلئے مختلف ہسپتالوں میں جاتی تھی اور کچھ بیمار تھیں کچھ عرصے سے تو اپنا علاج بھی کر وا رہی تھیں ، یوکے کے جلسہ کے بعد ان کو انفیکشن ہوا جو بڑھتا چلا گیا پھر پھیپھڑوں نے کام کرنا بند کر دیا لیکن اﷲتعالیٰ نے فضل فرمایا اور کافی بہتری آگئی تھی اور ڈاکٹر پر امید بھی تھے لیکن ساتھ ہی خطرہ بھی تھا کہ اگر دوبارہ انفیکشن ہوا تو بچنا مشکل ہے۔ فضل عمر ہسپتال میں آکی خدمات کا آغاز ایک چھوٹے سے کمرے سے ہوا جس کے ایک طرف صوفہ اور دوسری طرف سادہ سی کرسی میز پڑی ہوئی تھی ، ان کی خدمت کے جذبے اور دعاؤں نے پہلے انہیں لیبر وارڈ اور پھر شعبہ گائینی کی علیحدہ عمارت عطا فرمائی جس کو انہوں نے اور ان کی ٹیم نے ایک کامیاب یونٹ بنا دیا ، میڈیکل سامان خریدنے خود لاہور اور فیصل آباد جایا کرتی تھیں ، آپ کی بیٹی بھی کچھ سفروں میں آپ کے ساتھ تھی ، ہر دکاندار سے قیمت پوچھتی اور کوشش کرتیں کہ جماعت کے پیسہ کو بچایا جائے ۔

After Tashahhud and Surah Fatihah Huzoor said: Today I am going to talk about two servants of the Jamaat who recently passed away. One of them is Bashir Ahmad Rafiq Khan Sahib and the second is Dr. Nusrat Jehan of Fazle Umar Hospital, Rabwah. Whoever comes in this world, has to depart. But blessed are those whom Allah enables to serve religion as well as humanity. Bashir Ahmad Rafiq Khan Sahib was an old servant of the Jamaat and was also a Mubaligh. He was appointed on various administrative positions in the Jamaat. He passed away on October 11 in London at the age of 85. From 1964 to 1970 and then from 1971 to 1979, he remained Imam Masjid Fazl London. From 1961-1979, he served as the founding editor of the Muslim Herald. He served as Private Secretary of Hazrat Khalifatul Masih III(rm) from 1970-1971. Then in November 1985, he was appointed as Wakilul Deewan, Tehrike Jadid and served until 1987. From 1982-1985, he served as Wakilul Tasnif in Rabwah. He became Additional Wakilul Tabshir Rabwah from 1983-84. And then he served as Additional Wakilul Tasnif London, from 1987-1997. By the Grace of Allah, he lived life to its fullest. He was extremely loyal to Khilafat. He was a heart patient. He had heart surgery too and at one point the condition of hopelessness developed. However, Allah Almighty gave him new life and he became better. He was extremely weak because of this medical condition, but he would regularly not only write letters to me in which he would express his sincerity and loyalty to Khilafat, but would also try to attend all those events where I would be expected to attend. Also, with the help of a walker he would try to attend Jumma prayers. Secondly, as I mentioned earlier, I will talk about Nusrat Jehan Malik Sahiba, who was the daughter of Abdul Malik Khan Sahib. She passed away on October 11 in London, To Allah we Belong and to Him shall we Return. She was residing in Rabwah but was a British national. Therefore, she would come every year. She would visit partly to update her professional skills in various hospitals and also because she had been sick for some time and was getting treatment here. After the UK Jalsa, she got a chest infection which kept increasing. Then her lungs stopped working. In Fazl-e-Omer Hosptial, she started her work at a small consultation room with a couch on one side of the room and simple desk and chair on the other side. Due to her prayer and passion of serving, Allah Almighty rewarded them with a labor ward first and then with an independent building of the Gynecology Department. The wing has now become a successful unit with her and her staff's hard work and efforts. She would go to Lahore and Faisalabad to buy equipment. I accompanied her a few time too. She would gather quotes from different stores and would try her best to save the Jamaat money.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
14-Oct-2016   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)

Title: Jalsa Salana and Allah's Grace
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Malayalam | Kannada
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Indonesian
Slide Deck: Powerpoint | Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

تشہد اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضر ت خلیفۃ المسیح نے فرمایا : اﷲتعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ کینیڈا کا جلسہ سالانہ گزشتہ ہفتہ منعقد ہوا اور اﷲتعالیٰ کے فضلوں کو ظاہر کرتے ہوئے اختتام کو پہنچا ، اس بات پر ہم اﷲتعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے، یہ اﷲتعالیٰ کا ہی فضل ہے جو ہمیں توفیق دیتا ہے کہ ہم باوجود محدود وسائل کے دنیا میں ہر جگہ جلسے منعقد کرتے ہیں اور صرف اور صرف اﷲتعالیٰ کے خاص فضل سے انتظامات بھی عمومی طور پر اچھے ہوتے ہیں ، ہمارے پاس ہر شعبہ کی پیشہ ورانہ مہارت رکھنے والے لوگ نہیں ہیں جو مختلف شعبہ جات میں کام کر کے اس کے بہتر معیار پیدا کرسکیں۔ حضور نے فرمایا: پس جہاں ہم اس بات پر اﷲتعالیٰ کا شکر ادا کریں وہاں تمام شامل ہونے والوں کو، جلسہ میں بیٹھ کر سننے والوں کو ان کارکنوں کا بھی شکر ادا کرنا چاہئے، جن میں سے کئی ایسے ہیں جو جلسہ کے انتظامات کیلئےجلسہ سے پہلے بھی کام کر رہے ہیں اور بعد میں بھی وائنڈ اپ کے کام کیلئے بھی وقت دیتے ہیں ، نہ اپنے ذاتی کاموں کے حرجوں کی پرواہ ہے ان کو اور نہ مالی نقصان کی پرواہ کی انہوں نے، بعض لوگوں نے حضور کو بتایا کہ اگر انہیں جلسہ کی وجہ سے چھٹی نہیں ملی تو انہوں نے نوکریاں چھوڑ دیں ، نہ ہی یہ لوگ اپنی نیند اور آرام کو دیکھتے ہیں ۔ حضور نے فرمایا: اس دفعہ انتظامیہ کی طرف سے یہ خوش کن پہلو بھی سامنے آیا ہے کہ بجائے اپنی کمزوریاں چھپانے کے انہوں نے اپنی کمزوریوں پر نظر رکھ کر ان کا اظہار بھی کردیا لیکن اصرف اتنا ہی کافی نہیں ہے بلکہ اپنی لال کتاب جو ہے جلسہ کی انتظامیہ کے پاس ، یہ سب کچھ اس میں لکھیں اور آئندہ بہتر منصوبہ بندی بھی کریں ، حضور نےفرمایا ساتھ ہی میں یہ بھی بتادوں کہ یہ جگہ اب زیادہ سے زیادہ 18 سے 20ہزار لوگوں کو سنبھال سکتی ہے ، اب اﷲتعالیٰ کے فضل سے جماعت پھیل رہی ہے تو بڑی جگہ کا بھی یہاں کی جماعت کو سوچنا چاہئےیا کم از کم جب حضور کو جلسہ پر بلانا ہو تو بہرحال یہ جگہ اب ناکافی ہے۔ حضور نے فرمایا گزشتہ کچھ عرصہ سے مسلمان ممالک کے حالات اور اس کی وجہ سے دنیا کے حالات جو سامنے آ رہے ہیں ، اس نے میڈیا کی نظر بھی جماعت احمدیہ کی طرف پھیری ہے ، پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ اﷲتعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے ان کی توجہ ہماری طرف دلوائی ہے کیونکہ پہلے تو باوجود کہنے کے یہ لوگ نہیں آتے تھے لیکن اس کے بعد ہمارے نوجوانوں کا بھی بڑا کردار ہے جنہوں نے میڈیا کے ساتھ تعلقات بنائے اور اﷲتعالیٰ کے فضل سےرابطے بڑے وسیع پیمانے پر کئے ، کینیڈا کی میڈیا ٹیم میں بھی جس میں اکثریت نوجوانوں کی ہے بڑی محنت سے پریس اور میڈیا سے رابطوں میں اضافہ کیا ۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا: بہرحال میڈیا نے جو جلسہ کی کوریج دی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے ، کینیڈا کے سب سے بڑے تین اخبار ٹورنٹو سٹار ، گلوب اینڈ میل اور نیشنل پوسٹ نے جلسہ کی اشاعت کی، ان کے خیال کی مطابق 3.9 ملین سے زائد افراد تک یہ پیغام پہنچا ، تین بڑے اخبارات کے علاوہ 25 سے زیادہ دوسرے بڑے اخبارات کے ذریعے 5لاکھ لوگوں تک پیغام پہنچا، اردو کے آٹھ، پنجابی کےدس ، ہسپانوی، عربی اور بنگالی کے تین تین اخبار وں کے ذریعے تین لاکھ لوگوں تک پیغام پہنچا، سماجی روابط کے ذریعے جن میں ٹویٹر، انسٹا گرام، فیس بکاور پیری سکوپ شامل ہے ان کے ذریعے ان کا خیال ہے کہ 20 لاکھ سے زائد لوگوں تک پیغام پہنچا۔

After Tashahhud and Surah Fatihah he said that by the Grace of God Almighty last week annual Jalsa Salana of Canada Jama'at commenced and ended by showing the Grace and Mercy of God Almighty. For this whatever thankfulness we offer to God Almighty is low. It is His Grace that despite of this that our resources are very little we hold Jalsa all over the world. And it is just mercy of God Almighty that usually the arrangements are also good. We don't have experts with professional skills for all the departments who can produce the best quality in all the departments. Huzoor(aba) said that on this where we thank God Almighty there we all who are attending or who have joined this Jalsa should be thankful to all the workers also. Many among these workers for the arrangements of the Jalsa have been working before the start of Jalsa and many will be working after the Jalsa for wind up. Neither they were worried about their jobs or personal things nor monetary losses. Some of them met me and told me that they did not get time off from their work for the Jalsa so they resigned from their jobs. Neither these people are worried about their sleep nor rest. Huzoor(aba) said that this time the administration had shown another good moral that instead of concealing and hiding their weaknesses they kept an eye on them and expressed them also. But this is not sufficient they should write them in their Red Book and do a better planning. Huzoor(aba) further said that let me tell you that this place can hold eighteen to twenty thousand people and not more than that. And by the Grace of God Almighty the Jama'at is now spreading so Jama'at and administration should think about having a larger place. Huzoor(aba) said that for last few years the affairs of the Muslim countries and the world affairs are such that it had turned the media attention towards Jama'at Ahmadiyya. The first thing is that it is the Grace of God Almighty that He had turned media attention towards us. Otherwise earlier despite of our calls they were not paying attention towards us. Next to that it is the role of our youths who by the Grace of God Almighty created extensive relationship with media and connected with them. Huzoor(aba) said that anyhow the summary of the coverage is as follows. Three largest newspapers of Canada Toronto Star, Globe & Mail, and National Post covered extensively the news of Jalsa. In their view message reached to 3.9 million people. Other than these three newspapers the message reached to another 5 million people through more than 25 other newspapers. Message reached to another three hundred thousand people through eight Urdu, ten Punjabi, and three each Spanish, Arabic, and Bengali newspapers. Through social media in which Twitter, Instagram, Facebook, and Periscope are included they think that through them the message reached to twenty million people.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
07-Oct-2016   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)Uzbek (mp3)

Title: Jalsa Salana Canada 2016
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Malayalam | Kannada
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Indonesian
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

آج اﷲتعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ کینیڈا کا جلسہ سالانہ شروع ہو رہا ہے ، اﷲتعالیٰ کے فضل سے ہر سال دنیا کی جماعتیں اپنے اپنے ملک کے جلسہ سالانہ منعقد کرتی ہیں ، کیوں؟ اس لئے کیونکہ حضرت مسیح موعودؑ نے اﷲتعالیٰ سے اذن پا کر اس کا اجراء فرمایا تھا اور فرمایا کہ سال میں تین دن قادیان میں جمع ہوں ، اس لئے جمع نہ ہوں کہ ہم نے کوئی میلہ کرنا ہے کوئی کھیل کود کرنی ہے دنیاوی مقاصد کو حاصل کرنا ہے، نہیں بلکہ اس لئے جمع ہوں تاکہ دینی علم میں اضافہ ہو اور معلومات وسیع ہوں ، اسلئے جمع ہوں تاکہ معرفت ترقی پذیر ہو، مرفت کیا ہے؟ کسی چیز کا علم ہونا اور اسکی گہرائی کو جاننا۔ پس آپ بھی یہاں اس لئے جمع ہیں کہ اس مقصد کو پورا کریں جو حضرت مسیح موعودؑ نے بیان فرمایا تھا ، ہر سال آپ اس مقصد کیلئے جمع ہوتے ہیں اور اس سال خاص طور پر آپ اس مقصد کیلئے جمع ہوئے ہیں کہ جماعت کے قیام کے 50 سال پورے ہوگئے ہیں ، بعضوں کو اس سے اختلاف بھی ہوگا لیکن کوئی نہ کوئی معیار بھی رکھنا پڑتا ہے، جب سے جماعت کی رجسٹریشن ہوئی ہے اس کو معیار مقرر کر کے 50 سال گنے جاتے ہیں، تو بہرحال جماعت اس ملک میں قیام کے 50 سال منا رہی ہے اور اسی وجہ سے امیر صاحب نے خاص طور پر زور دے کر حضور کے بھی بلایا کہ جماعت کینیڈا اس سال 50 سال کے حوالے سے مختلف فنکشن بھی کر رہی ہےاور یہ جلسہ اس وجہ سے بھی امید ہے کہ بڑا ہوگا ۔ جیسا کہ حضور نے فرمایا کہ پاکستان کے حالات کی وجہ سے بہت سےاحمدی ہجرت کر کے دوسرے ممالک میں گئے اور آپ میں سے اکثریت اس ہجرت کے نتیجے میں یہاں آئی ہے ، آپ نے دینی آزادی کے حصول کیلئے ہجرت کی ہے اور یہاں کی حکومت سے آپ کو اس لئے یہاں کی شہریت دی تاکہ آپ آزادی سے اپنی مذہبی تعلیمات پر عمل کر سکیں ، پس یہاں (کینیڈا) میں رہنے والے ہر احمدی کی علاوہ اس عہد کے جو وہ کرتا ہے کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا ، ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ جس مقصد کیلئے ہجرت کی اس کو حاصل کرنے کی کوشش کریں، اپنی نسلوں کو بتائیں کہ ہم پاکستان میں ایسے حالات سے آئے۔ ایک دفعہ چند اشخاص حضرت مسیح موعودؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پھر بیعت بھی کر لی، بیعت کے بعد حضرت مسیح موعودؑ نے انہیں چند نصائح بھی فرمائیں، آپؑ نے فرمایا آدمی کو بیعت کر کے صرف یہی نہیں ماننا چاہئے کہ یہ سلسلہ حق ہے اور اتنا ماننے سے اسے برکت ہوتی ہے ، فرمایا کہ نیک بنو، متقی بنو اور یہ وقت دعاؤں میں گزارو ، پھر مزید نصیحت فرماتے ہوئے آپؑ نے فرمایا کہ قرآن شریف میں اﷲتعالیٰ نے ایمان کے ساتھ عمل صالح بھی رکھا ہے ،عمل صالح اسے کہتے ہیں جس میں ایک ذرہ فساد نہ ہو، یاد رکھو کے انسان کے عمل پر ہمیشہ چور پڑا کرتے ہیں۔ پس یہ اصل ہے کہ ہم خداتعالیٰ سے تعلق مضبوط کریں اور جہاں اﷲتعالیٰ کے حق ادا کریں ، اس کے بندوں کے بھی حق ادا کرنے والے ہوں ، ان حسنات کو حاصل کرنے کی کوشش کریں جو خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے اصول کے مطابق حسنات ہیں اور برائیوں سے بچنے کی کوشش کریں، ان برائیوں سے بچنے کی کوشش کریں جو خداتعالیٰ کے نزدیک برائیاں ہیں ، جن کو اﷲتعالیٰ نے کھول کر ہمیں قرآن کریم میں بیان فرما دیا ہے ، ہمیں حضرت مسیح موعودؑ پر ایمان لانے کے بعد اعتقادی اور عملی لحاظ سے مظبوط سے مظبوط تر ہونے کی کوشش کرنی چاہئے ، یہی چیزیں ہیں جو ہماری نجات کا باعث ہیں۔

By the grace of Allah, Jalsa Salana of Jama'at Ahmadiyya, Canada is starting today. With Allah's blessing, all the world's Jama'ats hold their annual conventions every year. Why? It is because after being told by God, the Promised Messiah(as) started it. He asked to gather in Qadian for three days every year. Not to hold a fair, to engage in material pursuits, to play games, or to attain worldly objectives. Rather we should get together to increase religious knowledge and to broaden information. Gather to progress in sublimity. You are also gathered here only to fulfill the purpose that was told by the Promised Messiah(as). Every year you gather here for that purpose and particularly so because it is fifty years that the Jama'at was established here. Some people may differ but some criterion has to be established. Fifty years have passed since the Jama'at was registered here and that is the criterion used here. The Amir sahib requested me to come particularly so because the Jama'at is celebrating the fifty years of establishment and holding many functions in that context. As I said that due to the situation in Pakistan, many Ahmadis also migrated to other countries and a majority among you came here as a result thereof. You have migrated to get religious freedom and the government here gave you citizenship so that you can act upon your religious doctrines. In addition to the promise to give precedence to faith over worldly matters, every Ahmadi has additional responsibility to try to achieve the purpose for which he has migrated. Tell your generations that the circumstances in which we migrated from Pakistan. Once, some people came to his attendance and then did the Bai'at. The Promised Messiah(as) gave them some pieces of advice. He advised that at doing the Bai'at, one should not accept only that this system is true and there will be a blessing just for accepting that. He asked us to become noble, to be righteous, and always busy ourselves in praying. He further advised that Allah has placed righteous deeds along with faith. The righteous deeds are the ones that do not have even the slightest discrepancies. So the reality is that we should strengthen our relationship with God. As we fulfill Allah's rights, at the same time, we should fulfill the rights of His men. Try to achieve that good that is good according to the principles told to us by Allah, try to avoid evil, that evil which is evil according to the rules told to us by God and He has made them manifest in the Holy Quran. We should become stronger and stronger in our faith and deeds after accepting the Promised Messiah(as). These are the things that will bring deliverance to us.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
30-Sep-2016   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)Uzbek (mp3)

Title: The path to spiritual evolution
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Malayalam | Kannada
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Indonesian | Bengali
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

تشہد اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا آج سے مجلس انصار اﷲ یوکے اور لجنہ اماء اﷲ کا اجتماع شروع ہو رہا ہے ، ہمارے اجتماعات کی اصل روح تو یہ ہے کہ اﷲتعالیٰ سے تعلق اور آپس میں محبت و اخوت میں بڑھا جائے ، علمی پروگرام اور مقابلے اس روح کے ساتھ ہونے چاہئیں کہ ہم نے ان باتوں سے کچھ سیکھ کر اپنی زندگیوں کا حصہ بنانا ہے ، بعض کھیلوں کے پروگرام ہوتے ہیں تو اس لئے کہ حقوق اﷲاور حقوق العباد کی ادائیگی کیلئے صحت مند جسم بھی ضروری ہے ورنہ نہ ہی انصار اﷲ کی کھیل کود کی عمر ہے اور نہ ہی 22-23 سال کی عمر کے بعد عورتیں عموما کھیل کود میں کوئی شوق رکھتی ہیں۔ لجنہ اماء اﷲ کا بھی ایک عہد ہے جسے انہیں ہمیشہ اپنے سامنے رکھنا چاہئے، اﷲتعالیٰ کا بڑا فضل اور احسان ہے کہ اس کے فضل سے لجنہ اماء اﷲ کی اکثریت دین پر وفا کے ساتھ قائم ہے ، اعتقادی لحاظ سے اکثر مظبوط ہیں لیکن ہر لجنہ ممبر کو ہر احمدی عورت کو اپنی عملی حالتوں کو بھی اس معیار پر لانا ہوگا جو اﷲتعالیٰ اور اس کے رسو ل کا حکم ہے ، جیسا کے حضور نے فرمایا لجنہ اما ء اﷲ کا بھی ایک عہد ہے اور اپنے فنکشنز اور اجتماعوں پر یہ عہد دہراتی بھی ہیں کہ ہم اپنے مذہب کی خاطر ہر قربانی کیلئے تیار رہیں گی تو پہلی قربانی جو مذہب مانگتا ہے وہ یہ ہے کہ اپنی تمام دنیاوی خواہشات کو پیچھے کر کے اپنی عملی حالت کو مذہب کی تعلیم کے مطابق ڈھالیں۔ اسی طرح ناصرات الاحمدیہ کا اجتماع بھی لجنہ اماء اﷲ کے ساتھ ہورہا ہے، ناصرات بھی یہ عہد کرتی ہیں ان کو بھی اپنے عہدوں کو نبھانا چاہئے ، 14سے 15 سال کی عمر ہوش کی عمر ہوتی ہے اور اچھا برا سمجھنے کی عمر ہوتی ہے اور اس عمر میں بہت سی خواہشات بھی ہوتی ہیں ،اگر دنیا کی طرف نظر ہو تو دنیاوی خواہشات دین پر ہاوی ہو جاتی ہیں ، اس لئے ہر احمدی بچی کو بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے اور اپنے عہد کو بار بار دہراتے رہنے کی ضرورت ہے تاکہ ہر احمدی بچی بجائے فضول دنیاوی خواہشات کے پیچھے چلنے کے اعلیٰ مقاصد کے حصول کے لئے کوشش کرنے والی ہو اور وہ اعلیٰ مقاصد ناصرات کے عہد میں بیان کئے گئے ہیں ۔ حضور نے فرمایا اجتماع کے حوالے سے اس مختصر بات کے بعد میں ایک پیارے عزیز کا ذکر خیر کرنا چاہتا ہوں جو گزشتہ دنوں ہم سے جدا ہوا ، چند ہفتے پہلے ایک حادثے کے نتیجہ میں ایک عزیز ہم سے جدا ہوا تھا اور چند دن پہلے ایک اور جامعہ احمدیہ یو کے کا ایک اور بہت پیارا طالب علم اور نوجوان جو جامعہ احمدیہ کی تعلیم بالکل مکمل کر چکا تھا ، کچھ عرصہ بیمار رہنے کے بعد ہم سے جدا ہوا انا ﷲو انا الیہ راجعون، جس بچے کا میں ذکر کر رہا ہوں اس کا نام مظہر احسن تھا ، آخری سال کا امتحان نہیں دیا تھا بیماری کی وجہ سے لیکن جیسی اس عزیز نوجوان نے زندگی گزاری ہے ، وہ مربی اور مبلغ ہی تھا امتحان پاس کرتا یا نہ کرتا۔ حضور نے فرمایا جب بھی میری مظہر صاحب سے بیماری کے دوران فون پر ان سے بات ہوئی تو بڑے حوصلہ سے جواب دیا کرتے تھے بلکہ ایک دو دفعہ تو ان کی والدہ نے کہا کہ دوائیوں کی وجہ سے ان کے منہ میں چھالے پڑے ہوئے ہیں اور بولا نہیں جاتا لیکن جب حضورسے بات کی تو صحیح طرح بول رہا تھے، حضور نے فرمایا کہ آپ آرام کریں لیکن انتہائی خلوص سے کہنے لگے کہ چھالے مجھے تکلیف نہیں دے رہے اور اﷲتعالیٰ نے فضل بھی کیا وہ چھالے ٹھیک بھی ہوگئے ، انتہائی وفادار اور اپنی زندگی کے مقصد کو سمجھنے والا احمدی بچہ تھا، اﷲتعالیٰ ہمیشہ اس پر رحمتیں برساتا رہے، اس کے درجات بلند کرتا رہے ، اس جیسے ہزارو ں واقفین پیدا ہوں جو اس باریکی سے اپنے مقصد کو سمجھنے والے ہوں،جمعہ کی نماز کے بعد حضور نے مظہر احسن صاحب کی نماز جنازہ پڑھائی۔

After Tashahhud and Surah Fātiḥah Huzoor preceded that Majlis Ansarullah UK and Lajna Imaillah UK Ijtema is starting from today. The true essence of our Ijtemas is to progress in the relationship with Allah and with another. The spirit of these religious and sport competitions should be with the thought that we have to progress in knowledge and make it a part of our daily lives. There are some sport events too which are essential to be healthy in order to fulfill our duties towards Allah and towards the people. Otherwise, neither it is the age of the Ansar's to indulge in such sports nor the women of this age have interest in such activities. Lajna Imaillah also has a pledge that they should always be aware of! It is indeed a great blessing of Allah that by His grace, majority of the Lajna Ma shaa Allah are following the religion with utmost sincerity. They are strong even when it comes to their beliefs. But every Lajna member and every Ahmadi women should elevate their spirituality as per the commandments of Allah and the Holy Prophet(saw). Lajna members also have a pledge that they repeat on their functions and programs which states that we are ready for any kind of sacrifice for the sake of our religion. Like Nasiraat are also having their Ijtema along with Lajna and they should also be fulfilling their pledges. Fourteen to Fifteen years of age is when you can differentiate between good and bad. And even in this age you have a lot of desires and wishes. If one has more focus towards worldly things then they are driven towards them. Therefore, every Ahmadi girl should be very conscious about it. Also there is a need to reemphasize the pledge so that every Ahmadi girl should be concentrating on achieving spiritual goals. Now I would take the opportunity to discuss about a beloved one who left us very recently. A few days ago we lost a lovely individual due to a tragedy and now we saw an individual pass away due to sickness. This young man who had almost completed the education of Jami'a and after fighting an illness left us ('Ina Lilah e Waina Alla-e-Rajeehoon'). The boy whom I am talking about is Mazhar Ahsan Sahib. He had not yet given exam of the final year due to his illness but he through his blessed model proved to be a missionary. Huzoor says that whenever he had a chance to talk to Mazhar Sahib on phone he seemed to be very composed. His mother said that due to medicine intake his mouth had developed ulcers but whenever he talked to Huzoor it was very clear. He was a very loyal and dedicated person who understood the reason for his creation. May Allah always shower His blessings on him (Ameen), exalt his standard and give him place among His beloveds (Ameen). May Allah give us more devotees like him who understand their responsibilities diligently (Ameen). After the Friday prayer, Hazoor led the funeral prayer of Mazhar Ahsan Sahib.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
23-Sep-2016   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Uzbek (mp3)

Title: The Key to Peace and Harmony
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Indonesian | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

آنحضرت ﷺ نے ایک موقع پر حقیقی مومن کی نشانی بتاتے ہوئے فرمایا کہ حقیقی مومن وہی ہے جو جو چیز اپنے لئے چاہتا ہے وہی اپنے بھائی کیلئے چاہتا ہے ، ایک ایسا راہنما اصول ہے یہ جو دنیا میں ہر سطح پر گھر سے لیکر بین الاقوامی تعلقات تک پیار محبت اور صلح کی بنیاد ڈالتا ہے ، جھگڑوں کو ختم کرتا ہے، دلوں میں نرمی پیدا کرتا ہے ، ایک دوسرے کے حق ادا کرنے کی طرف توجہ دلاتا ہے ، حضور نے کئی موقعوں پر غیروں کے سامنے یہ بات رکھی تو بڑے متاثر ہوتے ہیں لیکن ہمارا مقصد صرف اچھی بات بتا کر لوگوں کو متاثر کرنا نہیں ہے بلکہ اپنے عمل سے اس بات کی اور ہر اسلامی حکم کی خوبصورتی ثابت کرنا بھی ہے ۔ پس اﷲتعالیٰ کی محبت کی خواہش رکھنے والوں، اﷲتعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے والوں کے یہ رویے ہوتے ہیں کہ نہ صرف قصور وار کا قصور معاف کردیں ، اس پر احسان بھی کردیں ، حضرت مسیح موعودؑ اس آیت کے حوالہ سے ایک جگہ فرماتے ہیں کہ یاد رکھو جو شخص سختی کرتا ہے اور غضب میں آجاتا ہے اس کی زبان سے معارف اور حکمت کی باتیں ہر گز نہیں نکل سکتیں ، وہ دل حکمت کی باتوں سے محروم کیا جاتا ہے جو اپنے مقابل کے سامنے جلدی طیش میں آکر آپے سے باہر ہو جاتا ہے ، گندہ دہن اور بے لگام کے ہونٹ لطائف کے چشمے سے بے نصیب اور محروم کئے جاتے ہیں ۔ پس عفو اور معاف کر نا اس وقت ہے جب قصور وار کا رویہ نظر آتا ہے کہ وہ آئندہ یہ غلط کام نہیں کرے گا ، بعض عادی مجرم ہوتے ہیں اور ہر دفعہ مرتبہ جرم کر کے معافی مانگتے ہیں ، ایسے لوگوں کیلئے سزا ضروری ہوتی ہے اور سزا بھی اس طرح ہو کہ اصلاح کا پہلو نکلتا ہو اس سے، پھر ایک جگہ آپؑ نے فرمایا کہ بدی کا بدلہ اسی قدر بدی ہے جو کی گئی لیکن جو شخص عفو کرے اور گناہ بخش دے اور اس عفو سے کوئی اصلاح پیدا ہوتی ہو نہ کوئی خرابی تو خدا اس سے راضی ہےاور اسے اس کا بدلہ دے گا ، پس قرآن کی رو سے نہ ہر جگہ انتقام محمود ہے اور نہ ہر جگہ عفو قابل تعریف ہےبلکہ محل شناسی کرنی چاہئے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ خدا کے مقربوں کو بڑی بڑی گالیاں دی گئیں ، بہت بری طرح ستایا گیا مگر ان کو عارض انالجاہلین کا ہی خطاب ہوا، خود اس انسان کامل ہمارے نبی ﷺ کو بہت بری طرح تکلیفیں دیں گئیں اور گالیاں، بدزبانی اور شوخیاں کی گئیں مگر اس خلق مجسم ذات نے اس کے مقابلہ میں کیا کیا ، ان کیلئے دعا کی لیکن چونکہ خدا تعالیٰ نے وعدہ کر لیا تھا کہ جاہلوں سے اعراض کرے گا تو تیری جان اور عزت کو صحیح و سلامت ہم رکھیں گے اور یہ بازاری آدمی اس پر حملہ نہ کر سکیں گے ، چنانچہ ایسا ہی ہوا، حضورﷺ کے مخالف آپﷺ کی عزت پر حرف نہ لا سکے اور خود ہی ذلیل و خوار ہو کر آپ کے قدموں پر گرےیا سامنے تباہ ہوگئے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں بعض آدمی کسی قسم کے اخلاق میں اگر عمدہ ہیں تو دوسری قسم میں کمزور ، اگر ایک خلق کا رنگ اچھا ہے تو دوسرے کا برا ، فرمایا لیکن تاہم اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اصلاح ناممکن ہے ، انسانوں کی مختلف طبیعتیں ہوتی ہیں، بعض اخلاق بعضوں کے بہت اچھے ہوتے ہیں لیکن دوسرے میں کمزوری ہے ، ہر انسان میں اچھائیاں بھی ہیں اور کمزوریاں بھی ہیں لیکن حضرت مسیح موعودؑ ہم سے چاہتے ہیں کہ اﷲتعالیٰ کے حکموں پر چلتے ہوئے ہمیں اپنی اصلاح کی کوشش کرنی چاہئے اور وہ اعلیٰ اخلاق اپنانے چاہئیں جو ایک حقیقی مومن کا معیا رہیں۔

The Holy Prophet(saw) said at an occasion that a true believer is the one who wants the same thing for others that he wants for himself. What a guiding principle it is that lays the foundation of love and conciliation at all levels from home to international relations. It ends the conflicts, mellows the hearts and draws attention to grant each other's rights. At many occasions, when I put forth this matter, before others, they were very impressed. Our purpose is not only to impress others by relating a pleasant matter but also to prove the beauty of every Islamic commandment through our deeds. Those who wish to be loved by God adopt His taqwah, have such a conduct that they not only forgive the offenders but also do a favor to them. Referring to the above quoted verse, the Promised Messiah(as) says at an occasion, "Remember that a person who is harsh and enraged, cannot utter wise and meaningful words from his tongue. The heart that flies into a rage and quickly gets out control is deprived of sage matters. The lips of the unbridled and foul mouthed become unfortunate and kept away from the spring of profundity". Pardoning and forgiving is done when it is apparent that the offender will not repeat the offence. Some habitual criminals ask for forgiveness every time they commit the crime. For such people, punishment is necessary. The nature of punishment should lead to reform. According to the Holy Quran, neither punishment in all cases is commendable nor pardon in all cases is commendable. It depends on circumstances in each case. This is the intent of the Holy Quran that revenge or forgiveness be exercised in the light of the situation and discretion. Hazrat Promised Messiah(as) says those who were close to God, were called names and were wronged badly, but they were given the title "Avoiders of The Ignorant". The Perfect Human, our Holy Prophet(saw) was subjected to wrong doing, cursing, foul language and excesses. Since Allah promised that if he ignored the ignorant, his honor and life will be protected by Him. So, it happened and his opponents could not tarnish his honor and were themselves humiliated at his feet or were destroyed before him. The Promised Messiah(as) further says, "Some people are excellent in one kind of conduct but poor in another. If one behavior has a good tinge the other one is bad, but this doesn't necessarily mean that reformation is impossible". Humans have different natures. They have virtues and weakness, but they don't have only weaknesses and no virtues. The Promised Messiah(as) wants us to try to reform ourselves by following Allah's commandments and adopt high standards of our conduct that belong to the believers.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
16-Sep-2016   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)Uzbek (mp3)

Title: Raza Saleem: A Model Youth
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Indonesian | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا: ہر ایک کے قریبی رشتہ دار کو اپنے قریبیوں کے دنیا سے رخصت ہونے کا غم ہوتا ہے ، چاہے وہ کسی بھی عمر میں رخصت ہوا ہو لیکن بعض وجود ایسے ہوتے ہیں جن کے اس دنیا سے رخصت ہونے پر افسوس کرنے والوں کا دائرہ بڑا وسیع ہوتا ہے اور اگر کوئی ایسی پسندیدہ شخصیت نوجوانی میں اور اچانک رخصت ہو جائے اس دنیا سے تو دکھ اور افسوس بہت بڑھ جاتا ہے لیکن اﷲتعالیٰ نے ہمیں ہر تکلیف اور مشکل اور افسوس اور صدمہ کی حالت میں اﷲتعالیٰ کی رضا پہ راضی رہتے ہوئے انا ﷲ و انا الیہ راجعون کی دعا سکھائی ہے کہ ہم اﷲتعالیٰ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ پچھلے دنوں ہمارے بہت ایک بہت ہی پیارے عزیز جامعہ احمدیہ کے طالب علم رضا سلیم کی 20 سال کی عمر میں وفات ہوئی انا ﷲ و انا الیہ راجعون، ایک عزیز نے حضور کو بتایا کہ ان کے دوست اپنی اہلیہ کے ساتھ وہ اطلاع ملنے کے 2 گھنٹے کے اندر ہی مرحوم کے والدین کے پاس افسوس کیلئے گئے تو کہتے ہیں کہ میری بیوی کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب عزیز مرحوم کی والدہ نے کہا کہ وہ میرا بہت ہی پیارا بیٹا تھا لیکن اس کو بلانے والا اس سے بھی پیارا ہے ، یہ ہے وہ مومنانہ شان کا جواب جو ہمیں حضرت مسیح موعودؑ کو ماننے والوں میں نظر آتا ہے ، کوئی چیخنا چلانا نہیں، ہاں افسوس ہوتا ہے، اس میں انسان روتا بھی ہے ،صدمہ کی انتہائی حالت بھی ہوتی ہے ۔ ربوہ کی ڈاکٹر نصرت جہاں صاحبہ آجکل بیمار ہیں کافی ، اﷲتعالیٰ ان کو بھی صحت دے، ان کا خاندان سے بہت تعلق تھا ، وہ کہا کرتا تھا کہ میں ان کیلئے بہت دعاکرتا ہوں اﷲتعالیٰ ان کو صحت دے اور اس کی دعائیں بھی قبول کرے ان کیلئے ، وہ لکھتی ہیں کہ میں نے جمعہ کی رات خواب میں دیکھا کہ میرے گھر بڑے لوگ آرہے ہیں اور بڑی تصویریں بن رہی ہیں ، میں ڈر کر اٹھی اور اہنے شوہر کو کہا کہ مجھے خواب آئی ہے جس میں ڈر کر اٹھ گئی ہوں ، اچھا تاثر نہیں ہے اس خواب کا تو صدقہ دے دیں صبح ہوتے ہی، انہوں نے کہا میں دفتر جاؤں گا تو صدقہ دے دوں گا لیکن اس سے پہلے ہی افسوسناک اطلاع آگئی۔ ان کے ایک ہم مکتب مکرم سفیر احمد لکھتے ہیں کہ میرا تعلق بیلجیئم سے ہے اور رضا سلیم مرحوم کو پتہ تھا کہ میں وہاں سے ہوں اور ہفتہ کے اختتام پر گھر نہیں جاتا تو ہفتہ کے اختتام پر ہمیشہ مجھے اپنے گھر کا کھانا کھلانے ضرور لے کر جاتا ، اسی طرح ہمیشہ انگریزی کے امتحان کی سمجھا کر میری تیاری کرواتا کیونکہ میری انگریزی کمزور ہے ، اسر طرح شاہ زیب اطہر ہے ایک عزیز وہ بھی کہتا ہے بڑا نرم مزاج اور خوشی سے دوسروں سے ملنے والا شخص تھا ، ہر وقت دوسروں کی مدد کیلئے تیار رہنا ، جب ہمیں وقف عارضی کیلئے بھیجا گیا اور بازار میں ہم نے تبلیغی سٹال لگایا تو بہت احسن رنگ میں لوگوں تک پیغام پہنچایا۔ حضور نے فرمایا: جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا، وہ بچہ جامعہ پاس کرنے سے پہلے ہی بہترین مربی اور بہترین مبلغ تھا اور خلافت کیلئے بے انتہا غیرت رکھنے والا تھا ، اﷲتعالیٰ دنیا کے جامعات کے تمام طلباء کو یہ توفیق عطا فرمائے کہ وہ بھی اخلاص و وفا میں آگے بڑھنے والے ہوں اور اپنے فرائض کو ادا کرنے والے ہوں ، عزیزم کے دوست صرف اس کی خوبیاں بیان کرنے والے نہ ہوں بلکہ دوستی کا حق تو یہ ہے کہ اسے اب اس طرح ادا کریں کہ اس کی خوبیاں اپنا کر اپنی تمام تر صلاحیتیں دین کی خدمت کیلئے استعمال کریں اور حضور کو بھی آئندہ آنے والے خلفاء کو بھی بہترین سلطان نصیر اور مددگار بھی ملتے رہیں۔

No matter what the age is of the departed soul, it leaves the relatives in grief and utter sorrow. However, certainly there are some people who when depart this world leave behind a very large circle of grieving people and if such a favorite personality passes away in a very young age and very suddenly, the intensity of sorrow increases many folds. Allah Almighty has always advised the sufferers of any kind of loss to recite 'Ina Lilah e Waina Alla-e-Rajeehoon'. It means that we belong to Allah and it is to Allah to whom we all shall return. Recently, a very beloved young student of Jami'a, Raza Saleem passed away at the age of 20 years. (Ina Lilah e Waina Alla-e-Rajeehoon). One of his relatives told that after hearing the sad news when I went to express my condolences to his family, we were surprised to see that the mother of the deceased said that my son was very dear to me but the One who has called him back is much more dearer that than. This is the exemplary reply and the grace of the momin that is found in the followers of the Promised Messiah(as). There is no crying or wailing even though the intensity of the sorrow is great. Dr. Nusrat Jahan Sahiba from Rabwah is here these days and suffering from an illness. May Allah bless her with health. She had a relationship with their family. He used to say that I pray a lot for her and may Allah give her health. May Allah listen to his prayers for her. She writes that I had a dream that on Friday evening many people are coming to my home and many photos are being clicked. She got scared and woke up and told her husband that I saw a dream which has scared me so please give charity while going to office. But we received the sad news before that. His class fellow Safeer Ahmad Sahib writes that I belong to Belgium and Raza was aware of the fact that I do not travel to home on the weekends. Therefore, he would always take me to his home for food. He would always help me and guide me for English language exams as I am weak at the subject. Another class fellow exclaims that he was a very soft natured person who would meet others very happily. He was always ready to help others. When we set up Jamaati stalls, Raza used to engage very effectively with the people who used to come to gain information. As I have mentioned before, this young boy was already a religious scholar and a missionary even though he had not yet passed out from Jami'a. He had special love, honor and respect for the institution of Khilafat. May Allah bless every Jami'a student throughout the world to advance in sincerity and faithfulness towards their duties and the Jama'at. The friends of Raza shall not only be mentioning his good qualities but the requirement of good friendship is that they should adopt the same qualities and use them for the service of religion.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
09-Sep-2016   Urdu (mp3)English (mp3)Bengali (mp3)Bulgarian (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Russian (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Review of Jalsa Salana Germany 2016
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Indonesian | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

اﷲ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ جرمنی کا جلسہ سالانہ گزشتہ اتوار تین دن کے بھرپور پروگراموں کے بعد اپنے اختتام کو پہنچا ، جلسہ سالانہ کی تیاری کے سلسلہ میں سارا سال کوششیں اور کام ہوتا ہے ، سینکڑوں رضاکار کچھ دن پہلے اپنا کام شروع کر دیتے ہیں اور جب جلسہ شروع ہو تو لگتا ہے ایک دم میں اختتام بھی ہو گیا ، تین دن پلک چھپکنے میں گزر جاتے ہیں ، شاید دوسرے ملکوں میں رہنے والوں کا خیال ہو کہ جرمنی کا جلسہ تو بڑے تعمیر شدہ ہالوں میں ہوتا ہے، سب کچھ بنا بنایا مل گیا ان کو ، یہاں رضاکاروں کا کیا کام ہوتا ہوگا؟ جلسہ سالانہ پر یورپ کے مختلف ممالک سے غیر مہمان جو آتے ہیں وہ بھی بہت متاثر ہو کر جاتے ہیں ، احمدی اگر نہیں بھی ہوتے ، متاثر ضرور ہوتے ہیں بلکہ بعض جماعت احمدیہ کے سفیر بن کر تبلیغ کا بھی کہتے ہیں ، اس سال جلہ کے موقع پر جو وفود باہر سے آئے ،ان میں لیتھونیا ، میسی ڈونیا ، لاٹویا، مالٹا ، بوسنیا ، البانیہ، کوسووو، بلغاریہ، کازکستان، رومانیہ ، بیلجیئم، کروشیا اور ہنگری سے لوگ آئے تھے، حضرت خلیفۃ المسیح سے وفود کی ملاقات بھی ہوئی تھی۔ ایک مہمان علی صاحب جن کا تعلق ملک شام سے ہے، کہتے ہیں مجھے جماعت کا تعارف ایک عرب احمدی کے ذریعے ہوااور ایک جماعتی تبلیغی میٹنگ میں شامل ہونے کا موقع ملا جس میں جماعت کے تفصیلی عقائد پر بات چیت ہوئی جس سے کافی حد تک تسلی ہوئی ، اس کے بعد فیملی کے ساتھ جلسہ جرمنی پر جانے کا اتفاق ہوا ، وہاں جماعت کی تنظیم اور روحانی ماحول دیکھ کر بہت تعجب ہوا ، میرے لئے یہ بہت ہی خوبصورت موقع ہے کہ میں آپ کے ساتھ وقت گزار رہا ہوں ، میں آپ کی حسن ضیافت اور بھائی چارے اور مہمانوں کو خوش آمدید کہنے اور مہمانوں کیلئے اپنی راتیں قربان کرنے پر شکر گزار ہوں۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا: میئر صاحب نے فرمایا کہ کہ مجھے بڑا گھمنڈ تھا کہ میں آپ کی جماعت کو جانتا ہوں مگر آج مجھے اسلام کے بارہ میں اور خاص طور پر آپ کی اسلامی ہمدردی کےجذبات سے بھری دنیا بھر میں امداد کے بارہ میں مزید سیکھنے کو ملا ، مجھے بہت خوشی ہوئی جب خلیفہ نے کہا کہ اسلام گرجہ گھروں کی حفاظت کی تعلیم بھی دیتا ہے اور دیگر تمام مذاہب کے مقتدیوں کی بھی ، ایک مہمان مسٹر سٹیفن کہتے ہیں جو میں نے سوچا تھااس سے یہ انوکھا اور مختلف واقعہ تھا ، مجھے نہیں معلوم میں نے کیا امید کی تھی لیکن یہ اس کے بالکل برعکس تھا ۔ حضور نے فرمایا یہ بھی بتادوں کے جلسہ اور مساجد کے فنکشنز کی مجموعی طور پر میڈیا میں 80 سے زائد خبریں شائع ہوئی ہیں اور کہا جاتا ہے کہ دیکھنے سننے والوں کی تعداد 72 ملین لوگوں تک ہے ، جلسہ جرمنی پر پانچ ٹی وی چینلز نے خبریں دیں ، ایک دیڈیو سٹیشن نے، تین مرکزی اخباروں نے اور اس کے علاوہ بہت سے دوسرے اخباروں نے کوریج دی ، ٹی وی چینل ہیں SWR TV, Baden TV, RTL TV, ZDF TVاور البانین ٹی وی ۔

By the Grace of Allah the Jalsa Salana of Juma'at Ahmadiyya Germany completed its three full of programs days and ended on last Sunday. Hudhur said efforts are made throughout the year to prepare for the Jalsa Salana. Hundreds of workers start their work few days earlier but ones Jalsa starts it looks like that it ended suddenly. Three days pass in a blink of an eye. People living abroad may think that here Jalsa is conducted in huge constructed hall. They get everything readymade so what efforts volunteers may have to do? Huzoor(aba) said the European people who attend our Jalsa they are impressed by our Jalasa. Some of them may not accept Ahmadiyyat but they take good impression. Rather some of them become ambassador of the Juma'at and spread the message also. This year many delegations came from many different countries. Among those there were delegations from Lithuania, Macedonia, Latvia, Malta, Bosnia, Albania, Kosovo, Bulgaria, Kazakhstan, Romania, Belgium, Croatia, and Hungary. Huzoor(aba) said that a guest from Syria Mr. Ali said, "I was introduced to Juma'at by an Arab Ahmadi and had attended a Juma'at meeting also where a very detailed discussion took place and I got some level of satisfaction there. I attended the Jalsa Germany with family and was astonished to see the organization of the Juma'at and spiritual environment of the Jalsa. It was a great opportunity that I was spending time with you. I am thankful for the hospitality, brotherhood, and welcoming the guests, and sacrificing nights by the volunteers for the service of the guests. Huzoor(aba) said that the Mayor said, "I was proud that I know your Juma'at but today I learned more about Islam and especially about your full of Islamic compassion humanitarian help. I am very happy to hear that Islam safe guards the churches and the followers of other faiths also." Huzoor(aba) said that he was referring to what I have just said. Huzoor(aba) said that another guest Mr. Stephan said, "it was uniquely different experience than what I had thought. Huzoor(aba) said that let me tell you that due to Jalsa and mosques functions more than 80 news has been published in the media. It is estimated that through media the news reached to 72 million viewers and listeners. Five TV channels covered news during Jalsa Germany. One radio station and 3 main news papers and many other news papers covered the Jalsa. The TV channels are SWR TV, Baden TV, RTL TV, ZDF TV, and Albanian TV.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
02-Sep-2016   Urdu (mp3)Arabic (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Tamil (mp3)

Title: Jalsa Salana Germany 2016
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Indonesian | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

افراد جماعت کی اصلاح کیلئے جلسہ سالانہ کے انعقاد کی بنیاد جو اﷲتعالیٰ کے حکم سے حضرت مسیح موعودؑ نے ڈالی تھی ، اس پہلے لسہ کو اس سال 125 سال پورے ہونے والے ہیں، وہ جلسہ جو قادیان کی چھوٹی سی بستی میں ہواتھا اور مسجد کے ایک حصہ میں 75 افراد نے اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے اور دنیا کی اصلاح اور اسلام کے پیغام کو حضرت مسیح موعودؑ کے مددگار بنتے ہوئے دنیا میں پھیلانے کا جو عہد کیا تھا اس کا نتیجہ آج ہم دیکھ رہے ہیں ۔ ان دنوں میں فرض اور نفل عبادتوں کے علاوہ ذکر الٰہی بھی کرتے رہیں ، ذکر الٰہی سےخیالات پاک رہتے ہیں اور اﷲتعالیٰ کی طرف توجہ رہتی ہے اور انسان برائیوں سے بچا رہتا ہے ، یہی مقصد عبادات کا ہے اور ذکر الٰہی لازمی عبادات کی طرف بھی توجہ دلاتی رہتی ہے اور اگر انسان صحیح عبادت کر رہا ہے تو اس کی وجہ سے ذکر الٰہی کی طرف توجہ رہتی ہے ، پس اس بات کو ہر ایک کو یاد رکھنا چاہئے ، اﷲتعالیٰ نے اسلام میں عبادت کا ایک رکن رکھا ہے جو ہر حالت میں ہر مسلمان پر تو فرض نہیں ہے لیکن اس کے باوجود لاکھوں مسلمان اس فریضہ کو انجام دیتے ہیں یعنی حج بیت اﷲ کا فریضہ۔ حضرت مسیح موعودؑ نے جو جلسہ کی تین اغراض بیان فرمائی ہیں وہ انہی تین باتوں کے گرد گھومتی ہیں کہ ہمیں اپنی اصلاح کا موقع ملے ، اپنے نفس کی اصلاح ہو فضولیات سے پرہیز ہو، اﷲتعالیٰ کی طرف توجہ پیدا ہو اور اس کے حکموں پر کامل اطاعت سے چلنے کی طرف خاص توجہ پیدا ہو اور اپنے بھائیوں سے خاص رشتہ محبت اور بھائی چارے کا قائم ہو اور ہر قسم کی خود غرضی اور جھگڑے کو ختم کریں ، جب حضرت مسیح موعودؑ نے ایک سال دیکھا کہ ایک دوسرے کے حقوق اداکرنے کی طرف لوگ توجہ نہیں دے رہے تو آپ نے ناراضگی کا اظہار فرماتے ہوئے ایک سال جلسہ کا انعقاد نہیں فرمایا۔ یہ اﷲتعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے ہماری پردہ پوشی فرمائی ہوئی ہے اور ہماری غلطیاں ابھر کر غیروں کے سامنے نہیں آتیں ورنہ ہم میں سے ہر ایک اگر اپنا جائزہ لے تو ہمیں پتہ چلے گا کہ کتنی کتنی غلطیاں ہیں اور ہم میں حضرت مسیح موعودؑ کے معیار کے مطابق کتنی کمزوریں پائی جاتی ہیں اور یہ کمزوریاں جماعت اور حضرت مسیح موعودؑ کے نام کو بدنام کرنے کا باعث بن سکتی ہیں ، اسی لئے حضرت مسیح موعودؑ نے اپنی جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا ہے کہ ہماری طرف منسوب ہو کر ہمیں بدنام نہ کرو۔ جلسہ کی انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کریں، حالات کی وجہ سے اگر بعض دفعہ داخلی راستوں میں وقت لگ جائے تو وہاں بھی برداشت کریں ، حوصلہ اور صبر سے کام لیں ، بے شمار یہ جو کام کرنے والے کارکنان اور کارکنات ہیں مرد اور عورتیں ہیں، بچے بچیاں ہیں، ان سے بھرپور تعاون کریں ، یہ نہ دیکھیں کون کس عمر کا ہے، یہ دیکھیں کہ اس کےذمہ جو کام دیا گیا ہے وہ اس کو سر انجام دینے کیلئے آپ کو کچھ باتیں کہ رہا ہے جس پر آپ نے عمل کرنا ہے ، ان کیلئے دعائیں بھی بہت کریں کہ اﷲتعالیٰ انہیں صحیح رنگ میں کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے ،اﷲتعالیٰ کرے کہ ہم جلسہ سے صحیح فیض پانے والے ہوں۔

Under the direction of the Almighty, The Promised Messiah(as) laid the foundation of the annual convention (Jalsa Salana) for the reformation of the members of the Community. We are approaching 125 years to that first convention this year. That convention was held in the small hamlet of Qadian in a part of a mosque. Seventy-five people attended to bring about positive changes in themselves. We are seeing today the result of the pledge they made for the reformation of the world and to spread the message of Islam in the world by becoming the helpers of the Promised Messiah(as). During these days engage in remembrance of Allah in addition to the obligatory and voluntary worship. Thought stay pure with the remembrance of Allah and the attention is towards the Almighty, and man is prevented from vice. This is the purpose of worship. Remembrance of Allah continues to bring to attention the obligatory worship. If a person is engaged in real worship, it in turn diverts him to remembrance of Allah. Everyone should keep this in view. The objectives of Jalsa outlined by the Promised Messiah(as), in fact revolve around these three items that we get an opportunity for our reformation, reformation of our self, and avoidance of frivolities, and that attention towards Allah sprouts and special attention develops to act upon His injunction with complete obedience, and that a special relationship of love and brotherhood is established with our fellows in faith, and that we annihilate all kind of selfishness and discord. This is a blessing of Allah that He has sheltered us and our mistakes do not eminently come before others. If everyone of us surveys themselves then we will find how many mistakes there exist and how many weaknesses reside among us in comparison to the standard expected by the Promised Messiah(as). These weaknesses can become a source of the defamation of the Community and the Promised Messiah(as). Therefore, the Promised Messiah(as), has given this advice to his Community: Do not defame us by affiliating yourself with us. Cooperate with the administration of the convention. Due to circumstances if some times at the entrances due to checking bear if there is delay and be patient and persevere. These large number of volunteers, men and women, boys and girls, cooperate with them wholly. Do not see what age he/she is, you should look at that the work assigned to that person and listen to what he is saying to have his/her work accomplished and that you have to act upon his/her instructions. Also pray for them that may Allah allow them to do their work adequately.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
26-Aug-2016   Urdu (mp3)

Title: Proclaim the bounties of Allah
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

برطانیہ کے جلسہ کے دوسرے دن، اﷲتعالیٰ کے افضال کی بارش کا ذکر ہوتا ہے جہاں مختلف شعبہ جات کے اعداد و شمار پیش ہوتے ہیں ، جماعت کی ترقیات کا ذکر ہوتا ہے ، ان اعداد و شمار کے ساتھ حضور ان سے متعلقہ واقعات بھی بیان فرماتے ہیں لیکن ڈیڑھ دو گھنٹے میں اعداد و شمار کی تفصیل بیان نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی واقعات بیان کئے جاسکتے ہیں اور جو کاغذ حضور پڑھنے کیلئے لاتے ہیں وہ اسی طرح واپس چلے جاتے ہیں ، یہ اعداد و شمار تحریک جدید نے کتابی شکل میں شائع کرنے شروع کئے ہیں ، جہاں تک واقعات کا تعلق ہے وہ حضور مختلف وقتوں میں بیان کرتے رہتے ہیں ۔ حضور نے فرمایا: میں کچھ واقعات پیش کرتا ہوں، کوناکری گنی کے مبلغ لکھتے ہیں جماعتی تعارف سے متعلق دو صفحوں کا لیف لیٹ خداتعالیٰ کے فضل و کرم سے ملک کو طول و عرض میں پھیل چکا ہے اور ہمیں ملک کے دور دراز علاقوں سے فون کالز موصول ہو رہی ہیں کہ ہم اپنے بزرگوں سےا مام مہدی اور مسیح کے بارہ میں سنا کرتے تھے ، اب آپ کا یہ لیف لیٹ دیکھ کر ہمیں اشتیاق ہے کہ ہم آپ سے ملیں کیونکہ ہمیں لگتا ہے کہ وہ وقت آگیا ہے جب امت مسلمہ کو ایک مصلح کی ضرورت ہے ، اسی طرح اﷲتعالیٰ کے فضل سے بہت سے لوگوں سے ہمارے رابطے ہوئے اور وہ لوگ بیعت کر کے جماعت میں شامل ہوئے۔ برکینا فاسو ایک اور افریقہ کا ملک ہے جہاں فرنچ بولی جاتی ہے ، وہاں کے مبلغ لکھتے ہیں کہ دوران سال جماعت کو ٹینکوڈ گو میں بہت خوبصورت مسجد تعمیر کرنے کی توفیق ملی ، اس گاؤں میں جب احمدیت کا نفوذ ہوا تو گاؤں کو لوگوں نے امام سمیت بیعت کی تھی ، اس وقت مخالف مولوی اس گاؤں میں گئے اور ان سے کہا کہ آپ احمدیت چھوڑ دیں تو ہم آپ کو اپنی بہت خوبصورت مسجد دے دیں گے ، اﷲتعالیٰ کے فضل سے احمدی امام نے جماعت احمدیہ کا دامن تھامے رکھا اور جماعت کی کچی مسجد کو کویت کے پیسے یا عرب ملکوں کے پیسے سے بنائی جانے والی مسجد پر ترجیح دی۔ بیلجیئم کے مشنری انچارج لکھتے ہیں کہ ایک نو مبائع ادریس صاحب نے خواب میں ایک بزرگ کو دیکھا، اس وقت وہ جماعت احمدیہ کے بارہ میں کچھ نہیں جانتے تھے ، دو سال قبل ٹی وی پر چینلز بدل رہے تھے کہ اچانک ایم ٹی اے العربیہ پر نظر پڑی ، موصوف نے ٹی وی پر جب حضرت مسیح موعودؑ کی تصویر دیکھی تو فورا اپنا خواب یاد آگیا ، انہوں نے خواب میں انہی بزرگ کو دیکھا تھا ، چنانچہ انہوں نے باقاعدگی کے ساتھ ایم ٹی اے دیکھنا شروع کردیا اس طرح ان کا دل احمدیت کی طرف مائل ہونا شروع ہوگیا۔ اﷲتعالیٰ کے فضل سے جس طرح مخالفین ہمارے راستہ میں روکیں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں ، مخالفت میں بڑھتے چلے جارہے ہیں، اﷲتعالیٰ اسی طرح ان کے منہ بند کرنے کے سامان بھی کر رہا ہے اور جو نئے احمدی شامل ہو رہے ہیں ان کے ایمان میں اضافہ کا سامان بھی کر رہا ہے ، یادگیر کرناٹک انڈیا کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ گزشتہ سال یہاں غیر از جماعت کی وجہ سے سخت مخالفت شروع ہوئی اور مخالفین باہر سے علماء کو بلا کر جماعت کے خلاف تقاریر کر واتے تھے ، حضرت مسیح موعودؑ پر نہایت گندے اور جھوٹے الزامات لگائے گئے ، جماعت کے خلاف عوام کو بھڑکایا گیا۔

On the second day of the Jalsa in Britain, we relate Allah's countless blessings. Facts and figures of different departments are presented, progress of jama'at is reported and I talk about the incidents related to the statistics. In that one or one and a half hour, neither the details of the figures can be given nor all the incidents can be related and the notes that I bring with me to read, go back as they were. Tehrik-e- Jadid has started publishing those statistics in the form of a book on yearly basis. As far as the incidents are concerned, I mention them at different occasions. Hudhur said: Instead of Tabligh, I present some events. The missionary from Conakry, Guinea writes that a two-page leaflet has been distributed far and wide in the country. We are receiving phone calls from far flung areas of the country that the people used to listen from their fore fathers about Imam Mahdi(as) and the Promised Messiah(as). Now after reading your leaflet, we are eager to meet you because we feel that it is time now that the Muslim Ummah needs a reformer. Burkina Faso is another French speaking country of Africa. The missionary from there states that this year they were able to build a beautiful mosque in Tenkodgo. When Ahmadiyyat was introduced in that village, the people had done the Bai'at with their Imam. At that time the opposing Maulvis offered to give their own beautiful mosque to them if they would abandon Ahmadiyyat. They held on to Ahmadiyyat and at that time preferred their own modest mosque to the opponents' grand mosque built with Kuwaiti money. Missionary-in charge from Belgium writes that a new convert Mr. Idrees who knew nothing about Ahmadiyyat when he saw a saint in a dream. About two years ago when he was changing channels of the TV that he looked at the Al-Arabia MTA and sew the picture of the Promised Messiah(as) and remembered his dream. He had seen the same saint in his dream. He started watching MTA regularly and in this way he was inclined toward Ahmadiyyat. By grace of Allah, the way the opponents are trying to impede our ways, He is providing means to stifle their arguments and increasing the faithfulness of the new converts. The emir of Yadgir, Karnataka, in India writes, "Extreme opposition was started by the non- Jama'at people, last year. The opponents brought their scholars from outside to deliver speeches there. Dirt and baseless accusations were leveled against The Promised Messiah(as). Public was instigated against the Jama'at.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
19-Aug-2016   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)

Title: Review of Jalsa Salana UK 2016
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Indonesian | Bengali
Slide Deck: Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

جلسہ کا جو روحانی ماحول تھا جس کا اپنوں اور غیروں سب نے اظہار کیا ، جوکیفیت سب نے اپنے اندر محسوس کی ، اﷲ تعالیٰ کرے کہ اس کے اثرات ہمیشہ قائم رہیں اور ہم ہمیشہ اﷲتعالیٰ کے شکر گزار بندے بنتے ہوئے اﷲتعالیٰ کے آگے اس عہد کے ساتھ جھکے رہیں کہ دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا عہد ہم نے کیا ہے اورجن باتوں نے ہم پر اثر کیاہے، ان کو ہمیشہ اپنی زندگیوں کا حصہ بنانے کی کوشش کرتے رہیں گے۔ اﷲتعالیٰ کے فضل سے جلسہ کے کام جلسہ سے پہلے شروع ہو جاتے ہیں اور ان کو کرنے کیلئے خدام اطفال اور انصار اپنے آپ کو وقار عمل کیلئے پیش کرتے ہیں اور جلسہ سے دو تین ہفتے قبل یہ کام شروع ہو جاتے ہیں اور تقریبا دو ہفتے بعد تک یہ سلسلہ سارے کام او ر سامان کے سمیٹنے کی وجہ سے جاری رہتا ہے اور بڑی محنت اور اخلاص سے لوگ وقار عمل کرتے ہیں اور جلسہ کہ ڈیوٹیاں بھی دیتے ہیں، جماعت احمدیہ برطانیہ کا جلسہ خلیفہ وقت کی یہاں موجودگی کی وجہ سے ایک طرح سے انٹرنیشنل جلسہ ہی ہوگیا ہے ، تمام دنیا کے نمائندے یہاں آتے ہیں ۔ بینن سے شامل ہونے والے ایک صحافی کہتے ہیں کہ اس جلسہ کے اعلیٰ انتظامات کے بارہ میں اگر کسی کو بتایا جائے تو وہ اس وقت تک یقین نہیں کرے گا جب تک خود اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لے ، آپ کے جلسہ میں شامل ہو کر مجھے امید کا پیغام ملا ہے، ہر طرف دنیا میں ذاتی مفادات کی خاطر فسادات کئے جارہے ہیں لیکن آپ کے جلسے میں شامل ہو کر نوجوانوں اور بچوں کو دیکھ کر جو اپنی پرواہ اور فکر کئے بغیر دوسروں کی خدمت کیلئے تیار رہتے ہیں، ان نوجوانوں اور بچوں کے ذریعے ایک نئی دنیا جنم لے گی جس میں خود غرضی نہیں ہوگی بلکہ دوسروں کی خدمت کرنا اعلیٰ مقصد ہوگا اور اس اعلیٰ طریق کے ساتھ اسلام احمدیت دوسروں کیلئے ایک آج ایک خوبصورت آئینہ کی طرح ہے جو اسلام کا ایک حسین چہرہ ہے دنیا کو دکھاتا ہے ۔ جلسہ کے ماحول کو دیکھ کر لوگ بہت متاثر ہوتے ہیں پھر بھی بعض دفعہ ایسے واقعات ہو جاتے ہیں جو بعض دفعہ برا اثر ڈالتے ہیں ، یہ تو اﷲتعالیٰ کا شکر ہے اور پردہ پوشی ہے کہ ان لوگوں کے سامنے اس طرح کے واقعات نہیں ہوتے ، اس سال بھی کچھ ایسے واقعات تھے جو نہیں ہونے چاہئے تھے ، بعض لوگوں نے آپس میں لڑائیاں بھی کیں اور ایسے لوگوں کو خیال رکھنا چاہئے کہ نہ صرف جماعت کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں بلکہ باہر سے آنے والوں کو ایک ایسا پیغام دے رہے ہیں جو اسلام سے بھی دور کر رہا ہے ، ہر احمدی کو جلسہ کے دنوں میں خاص طور پر اس بات کا خیال رکھنا چاہئے۔ اس دفعہ اﷲتعالیٰ کے فضل سے میڈیا پر بھی گزشتہ سالوں کی نسبت بہت زیادہ کوریج ہوئی ہے ، مرکزی پریس اینڈ میڈیا کی رپورٹ کے مطابق کوریج جلسہ سے پہلے شروع ہو گئی تھی اور بی بی سی، ریڈیو 4، دی اکانومسٹ، دی گارڈین، دی انڈیپینڈینٹ ، چینل 4، ڈیلی ٹیلی گراف، ڈیلی میل (یہ دنیا کی سب سے زیادہ آن لائن پڑھی جانے والی اخبار ہے) ڈیلی ایکسپریس ، دی سن( یہ یوکے میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی اخبار ہے) ، ریڈیو ایل بی سی ، لندن لائیو ٹی وی، سکائی نیوز، چینل فائیو، سکاٹش ٹی وی، بیلفاسٹ ٹیلی گراف اور ناٹنگھم پوسٹ وغیرہ سب میں جلسہ کی کوریج ہوئی ، پرنٹ اور آن لائن میڈیا کے قارئین کی تعداد 41 ملین ہے۔

The Spiritual environment that was experienced at the Jalsa by Ahmadis and non-Ahmadis was expressed by all. May the effects of this spiritual condition that the guests and Ahmadis felt in their hearts, may it become everlasting. May we always remain ever grateful and prostrate before God and may we fulfill our pledge of giving preference to faith over worldly matters. The things that have impressed us , may we continue to make them a part of our life in future. By the Grace of Allah, Jalsa organization and works begin well in-advance and Khuddam, Atfal, Ansar present themselves for service. The waqar e amal starts two to three weeks prior to the Jalsa and it continues till almost two weeks after the Jalsa concludes.There is a lot of hardwork and dedication displayed and then these volunteers are allocated Jalsa duties as well. Jalsa Salana UK has now become an international Jalsa due to the presence of Khalifa Waqt here in the UK. Many representatives from various countries come here. A journalist from Benin also attended the Jalsa. He said if someone was told about the organized event of this Jalsa, they won't believe it until they witnessed it for themselves. I have been given a message of hope in this Jalsa, he said. Today the world is busy focussing on their selfish pursuits. Seeing the spirit of youth in this Jalsa, I can see that these selfless youngsters will cause a new world to be born. A world that will focus on helping others. Islam Ahmadiyya is a beautiful mirror that today is showing the world a beautiful face of Islam. The atmosphere and ambience that is created during Jalsa often greatly affects people. But this year as well, we witnessed some events which should not have occurred. Some people had fights and such individuals should pay heed. It can have a negative effect upon the guests and can send the wrong message across. Each Ahmadi should realize this especially more so during Jalsa days but even in normal days as well. Allah covers our shortcomings and guests don't see such things but we should be more careful. By the Grace of Allah, media covered the Jalsa this year much more than last year. Central Press and Media officers reported that coverage started before jalsa and BBC, Radio 4, The economist, the Guardian, the independent, channel 4, daily telegraph, daily mail (most read newspaper online), daily express, the sun (most read newspaper in the UK) , Radio LBC, London Live tv, Sky News, Channel 5, Scottish TV, Belfast Telegraph, Nottingham Post covered the Jalsa. Print and online media reach was about 41 million.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
12-Aug-2016   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bulgarian (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Sindhi (mp3)Tamil (mp3)Uzbek (mp3)

Title: Jalsa Salana UK 2016
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Indonesian | Bengali
Slide Deck: Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

تشہد اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا آج اﷲتعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ برطانیہ کا جلسہ سالانہ شروع ہو رہا ہے انشاءاﷲ، باقاعدہ افتتاح شام کو ہوگا ، اﷲتعالیٰ سب شامل ہونے والوں کو ان توقعات پر پورا اترنے والا بنائے جو حضرت مسیح موعودؑ نے شاملین جلسہ سے رکھیں ہیں اور تمام شامل ہونے والوں کو ان دعاؤں کا وارث بنائے جو حضرت مسیح موعودؑ نے جلسہ میں شامل ہونے والوں کیلئے کی ہیں ، یہ تو ہر احمدی جانتا ہے اور اسے علم ہونا چاہئے اور اس بات کا خاص طور پر حضرت مسیح موعودؑ نے ذکر فرمایا ہے کہ جلسہ میں شمولیت کسی دنیاوی میلے میں شمولیت نہیں ہے ۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا کہ اس بارہ میں بھی شکایات موصول ہوتی ہیں کہ مردوں اور عورتوں میں جو مارکی کے آخری حصہ میں بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں ، اگر یہ شکایات درست ہیں تو ان کو چاہئے اور ڈیوٹی والوں کو بھی چاہئے کہ وہ شکایت کا موقع نہ دیں ، وہ جلسہ کی کاروائی غور سے سنیں اور اس نیت سے سنیں کہ اس سے ہم نے صرف ذہنی فائدہ نہیں اٹھا نا یا کسی علمی نقطہ کو سن کر وقتی فائدہ نہیں اٹھانا بلکہ اس لئے سننا ہے کہ ہمیں مستقل علمی اور روحانی فائدہ ہو ، کچھ لوگوں نے اپنے پسندیدہ مقرر چنے ہوئے ہوتے اور صرف ان کی تقاریر سننے کیلئے جلسہ گاہ میں آتے ہیں ۔ اﷲتعالیٰ نے ہم پر احسان کیا کہ ہم نے حضرت مسیح موعودؑ کو مانا ، اس احسان کا حق ہم اسی صورت ادا کر سکتے ہیں اور اﷲتعالیٰ کا اس بات پر ہی ہم حقیقی شکر ادا کرسکتے ہیں جب ہم خالص ہو کر ہر کام اﷲتعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کیلئے کرنے والے ہوں پس جب حضرت مسیح موعودؑ ہمیں بظاہر چھوٹی چھوٹی باتوں کی طرف توجہ دلاتے ہیں تو اس لئے کہ چند ایک کی کمزوری کی حالت اکثریت کی سوچ نہ بن جائے ، چند ایک کو دیکھ کر نئی آنے والی نسلیں یہ نہ سمجھ لے کہ جلسوں میں بیٹھ کر باتیں کرنا اور توجہ نہ دینا جائز ہےاور اگر حضور اس حوالے سے بات کرتے ہیں تو اس لئے تاکہ یادہانی ہوتی رہے اور اگر کوئی کمزوری ہے تو ساتھ کے ساتھ دور ہوتی رہے، تاکہ ہمارے نئے آنے والے اور ہمارے بچے اور ہمارے نوجوان اس بات کو سامنے رکھیں کہ جلسہ کی کیا اہمیت ہے ۔ حضور نے فرمایا کہ حضور کو بتایا گیا کہ گزشتہ سال جلسہ میں شامل ہونے والی ایک خاتون نے کہا کہ مارکیوں میں ائیر کنڈیشنگ کا انتظام ہونا چاہئے ، موسم گرم ہوتا ہے ، علم ہے ہمیں اور انتظامیہ کو بھی علم ہے لیکن ایئر کنڈیشنگ کا انتظام کرنا بہت مشکل ہے ، اگر ایسی صورت ہو تو دروازے کھول دینے چاہئے کہ ہوا آتی رہے ، لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ معمولی چیز ہے یا اگر پنکھوں کا بھی انتظام ہے تو یہ معمولی چیز ہے ، بعض تکنیکی روکیں اور مسائل سامنے آجاتے ہیں جن کی وجہ سے یہ انتظام نہیں ہو سکتا، پنکھوں کا انتظام کرنا بھی بعض دفعہ مشکل ہو جاتا ہے اور پھر اخراجات کو بھی مدنظر رکھنا پڑتا ہے ۔ جلسہ میں شامل ہونے والے اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ نمازوں کے اوقات میں وقت پر آکے بیٹھ جایا کریں تاکہ بعد میں آنے کی وجہ سے شور نہ ہو، اگر کھانے کی وجہ سے دیر ہو رہی ہے تو کھانا کھلانے کی انتظامیہ، جلسہ گاہ کی انتظامیہ یا جس کے سپرد نماز کے اوقات کا انتظام ہے ،انہیں اطلاع کر دیں کہ مہمان ابھی کھانا کھا رہے ہیں نماز میں دس پندرہ منٹ انتظار کر لیا جائے اور وہ حضور کو اطلاع کر دیں تو اس کا انتظار کر لیا جائے گا ، حضرت خلیفۃ المسیح کو بھی باوجود کوشش کے مصروفیت کی وجہ سے چند منٹ دیر ہو جاتی ہے اور بعض دفعہ زیادہ دیر بھی ہو جاتی ہے ، خاص طور پر جب غیر از جماعت مہمانوں کی ملاقاتیں ہو رہی ہوں تو دیر ہو جاتی ہے۔

After Tashahhud and Surah Fatihah Hudhur said that by the Grace of God today Jama'at Ahmadiyya Britain will start its annual convention. Formal inauguration will be held this evening. May God make all the attendees to meet those expectations which Promised Messiah(as) expected from the members of the Juma'at. May all the attendees be the recipient of the prayers of the Promised Messiah(as). All Ahmadis know this and should know that and Promised Messiah(as) specially mentioned this that attending the Jalsa is not like attending any worldly convention. Huzoor (May Allah be his Helper) said that another area of complaint both in men side and women side is from those who sit at the end of the marquee. He said if those complaints were true then this time they should make it sure that the duty worker in those area should not have any complaint. They should listen the Jalsa proceedings with utmost seriousness and should not listen just to take a temporary intellectual delight or appreciate a scholarly point. Rather we should listen so as to have permanent academic and spiritual benefit. It is a beneficence of God that we accepted the Promised Messiah(as) and to be thankful to Him and to pay His right only if we are doing everything solely and purely for Him and for His satisfaction. Promised Messiah(as) move our attention towards small things so that a weakness of a few may not become the thinking of the most. From those few the new generations may not think that it is normal not pay attention and talk during the Jalsa meetings. And if I talk regarding this it is only to remind so that if there is any weakness it should be removed so that our new comers our children our young know the importance of the Jalsa. Huzoor (May Allah be his Helper) said that it is reported to me that a woman participant last year complaint that air conditioners should be provided in the marquees. It is hot and we know it, and administration knows it also but to arrange air conditioning is very difficult. If there is such situation that weather is hot then door should be opened to let the air pass through. People think that it is an easy task but even to arrange fans is not easy. Some technical hardships and problems arise due to which even fans cannot be arranged. Those who come to Jalsa they should be mindful towards the congregational prayers. When it is time for prayer they should come and site quietly so that those who come late may not disturb others. If people are getting late due to food service. Then the department who arrange prayers timing should coordinate with the people who serve the food. And if due to any reason people are getting late due to food service then they should let me know also. Huzoor (May Allah be his Helper) said that due to my busy schedule and engagements I also get late especially when I have outside guests and meetings are going on.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
05-Aug-2016   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)Uzbek (mp3)

Title: Preparing for Jalsa Salana UK 2016
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Indonesian | Bengali
Slide Deck: Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

اﷲتعالیٰ کے فضل سے جلسہ پر آنے والوں مہمانوں کی خدمت کیلئے برطانیہ کے طول عرض سے بوڑھے نوجوان بچے عورتیں اپنے آپ کو خدمت کیلئے رضاکارانہ طور پر پیش کرتے ہیں ، اور جوں جوں شامل ہونے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے ، جلسہ کے انتظامات بڑھ رہے ہیں ، خدمت گاروں کی بھی زیادہ ضرورت ہوتی ہے، اور اﷲتعالیٰ کے فضل سے بغیر کسی دقت کے اور خوشی سے بچے بھی نوجوان بھی مرد بھی عورتیں بھی اپنے آپ کو خدمت کیلئے پیش کرتے ہیں ، اکثریت نوجوانوں اور بچوں کی بھی یہ خدمت سر انجام دے کر سمجھ رہی ہوتی ہے کہ یہ اﷲتعالیٰ کا بڑا فضل اور احسان ہے کہ اس نے ہمیں حضرت مسیح موعودؑ کے مہمانوں کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔ بعض دفعہ بعض لوگوں کا جذبہ خدمت بیشک بہت زیادہ ہوتا ہے لیکن مزاج ہرایک کا مختلف ہوتا ہے، بعض عدم حوصلہ کا شکار ہوتے ہیں ، بعض عدم علم کی وجہ سے ایسی باتیں کر جاتے ہیں یا ایسی باتیں ان سے سرزد ہوجاتی ہیں جو مہمانوں کیلئےتکلیف کا باعث بن سکتی ہیں اور یادہانی کروانے سے رضاکارانہ طور پر کام کرنے والے کارکن ہوشیار بھی ہو جاتے ہیں اور زیادہ توجہ سے اپنے فرائض سر انجام دینے کی کوشش کرتے ہیں ور نہ حضور کو اس معاملے میں معمولی سا بھی تحفظ نہیں ہے کہ کارکن خدمت کے جذبے سے سرشار ہو کر عموما کام نہیں کرتے ، یقینا سب کارکن خدمت کے جذبے سے کام کرنے والے ہیں ۔ آج ہمارا ہر کارکن قربانی اس لئے دیتا ہے اور اس جذبے کے تحت اسے قربانی دینی چاہئے کہ وہ آنحضرتﷺ کے غلام صادق کے مہمانوں کی خدمت کر رہا ہے، گو کہ یہ مہمان کو کھانا کھلانے کی قربانی حتیٰ کہ بچوں کو بھوکا سلا دینے کی قربانی بہت بڑی قربانی ہے اور آجکل تو یہ نہیں دینی پڑتی، اﷲتعالیٰ کے فضل سے حضرت مسیح موعودؑ کے ساتھ اﷲتعالیٰ کے وعدہ کے مطابق دنیا میں ہر جگہ جہاں جماعتیں مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں لنگر چل رہے ہیں اور خاص کر جلسے کے دنوں میں تو اس کا خاص اہتمام ہوتاہے، ہم نے تو صرف اتنی خدمت کرنی ہے کہ کھانا لنگر سے مہمان کے سامنے پیش کرنا ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ کے وقت بعض دنوں میں مہمانوں کی اتنی کثرت ہوجاتی تھی کہ ان کے رہنے کیلئے انتظام بھی مشکل لگتا تھا کیونکہ قادیان چھوٹی سی جگہ تھی ،لیکن حضرت مسیح موعودؑ اﷲتعالیٰ کے اس ارشاد کے مطابق کہ پریشان نہیں ہونا اور تھکنا نہیں ، بے تکلفی کے ماحول میں جو بھی سہولت مہمانوں کیلئے میسر ہو سکتی تھی ، فرمایا کرتے تھے، بعض دفعہ ایسے موقع بھی آئے کہ سردیوں میں مہمانوں کی زیادتی کی وجہ سے اپنے اور اپنے بچوں کے گرم بستر مہمانوں کو مہیا کر دئیے ، ایک دفعہ ایک دفعہ اتنے مہمان آگئے کہ حضرت اماں جانؓ پریشان ہوگئیں کہ اتنے مہمان ٹھئریں گے کہاں۔ سب سے بڑھ کر کارکنوں کو بھی اور عمومی طور پر افراد جماعت کو بھی یہ دعا کرنی چاہئے کہ اﷲتعالیٰ ہر ایک کو احسن رنگ میں اپنے فرائض ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، تمام کارکن جو اس وقت کام کر رہے ہیں جلسہ گاہ میں ان کو ہر طرح سے محفوظ رکھے، بعض وفعہ بڑے بھاری بھاری کام کرنے پڑتے ہیں اور بعضوں کو بعض دفعہ چوٹ لگنے کا بھی خطرہ ہوتا ہے ، اﷲتعالیٰ ہر لحاظ سے ہر ایک کو محفوظ بھی رکھے ، اﷲتعالیٰ جلسہ کو ہر لحاظ سے بابرکت اور کامیاب بھی فرمائے ، کسی بھی مخالف اور بد فطرت کے شر سے اﷲتعالیٰ جماعت کو ہر طرح محفوظ رکھے۔

By the grace of Allah, old, young, children, women, from the width and breadth of Britain, present themselves as volunteers to serve the guests. As the number of attendees is increasing, arrangements for the convention are expanding, more volunteers are needs. By the grace of Allah, without any difficulty and with pleasure, children, youth, women, men, present themselves to serve. Majority of the serving youth and children takes it as a favor and grace of Allah that He gave them an opportunity to serve the guests of the Promised Messiah(as). Some time, some people have great enthusiasm for service but everyone has their own temperament. Some lack patience. Some due to lack of knowledge may act or act in a way that may cause inconvenience for guests. Reminding alerts volunteers. They try to carry out their duties more attentively. I do not have any doubt that workers carry out their responsibilities with great enthusiasm. Certainly all volunteers work with the spirit of service. Today each of our workers presents a sacrifice and he should present sacrifice with this passion that he is serving the guests of the True Servant of the Holy Prophet(saw). Though the sacrifice of one's own food and that of the children and to have them sleep hungry is a great sacrifice and it has not to be offered these days but with the grace of Allah, according to the promise of Allah with the Promised Messiah(as), in the world, everywhere there is the Ahmadyya Community is established on firm ground, kitchens (Langars) are operational. There were so many guests of the Promised Messiah(as) some days during his time that the arrangements for their stay appeared to be difficult as Qadian was a small place. According to the directive of Allah that do not be overburdened and do not get tired, the Promised Messiah(as) made informal arrangement that could be arranged. Sometimes it so happened that due to the large number of guests in winter he gave his and his children's beds to guests. At one time there were so many guests that even his wife (Ḥaḍrat Amman Jan, may Allah be pleased with her) was troubled as to where the guests will stay and how the arrangements will be made. All the workers and the member of the Ahmadiyya Community should pray that may Allah allow everyone to discharge their responsibilities in an adequate way. All the workers who are working at the convention site, may Allah keep them safe in all ways. Sometimes heavy work has to be done and there is chance of getting hurt. May Allah keep everyone safe in every way. May Allah make the convention blessed and successful in every aspect. May Allah keep Ahmadiyya Community safe from every adversary and mischievous person.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
29-Jul-2016   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)Uzbek (mp3)

Title: Spreading the True Message of Islam
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

آجکل دنیا کے حالات بڑی تیزی سے خراب ہو رہے ہیں اور بدقسمتی سے اس کی وجہ مسلمانوں کے بعض گروہ بن رہے ہیں ، مسلمان ممالک کے سربراہ بھی یہ نہیں سمجھتے کہ ان کو مسلمان مخالف طاقتیں گھیرے میں لینے کی کوشش کررہی ہیں ، اسلام کے نام پر اور جہاد کے نام پر جو ظلم ہو رہے ہیں ، ان کا اسلام کی تعلیم سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے ، اسی طرح جو حکومتیں اپنے لوگوں پر ظلم ڈھا رہی ہیں ان کا بھی اسلامی تعلیم سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے ، یہ کہاں لکھا ہے اسلام میں کہ معصوموں کو قتل کرو اور پھر یہ اسلام کے نام پر نہ صرف غیر مسلموں کو قتل کر رہے ہیں بلکہ مسلمانوں کے بھی قتل کر رہے ہیں۔ دہشت گرد تنظیموں نے مغربی ممالک میں ان معصوم جانوں کو قتل کرنے کے انتہائی بیہمانہ اور ظالمانہ عمل کر کے اسلام کو بدنام کرنا شروع کیا ہوا ہے ، یہ بھی بعید نہیں کہ اسلام کو بدنام کرنے کیلئے اسلام مخالف طاقتیں ہی غیر مسلم ممالک میں ایسی حرکتیں ان لوگوں سے کر وارہی ہوں، جس سے اسلام بھی بدنام ہو اور ان کو مدد کے نام پر ، دنیا کو دہشت گردی سے بچانے کے نام پر اپنے اڈے ان ممالک میں قائم کرنے کیلئے ایک وجہ ہاتھ آجائے ، اگر صحیح اسلامی تعلیم سے یہ لوگ آگاہ ہوں تو ان کو پتہ ہو نا چاہئے کہ یہ کوئی اسلامی تعلیم نہیں ہے کہ معصوموں کی قتل و غارت ہو ۔ دنیا کے جو حالات ہیں اس کیلئے ہر احمدی کو ہر شر کی اور جماعت کو من حیث الجماعت دنیا میں ہر جگہ شریروں کے شر سے بچنے کیلئے ہمیں صدقات اور دعاؤں پر توجہ دینی چاہئے ، خاص طور پر اس طرف توجہ دینی چاہئے جیسا کہ حضور نے فرمایا آجکل حالات خراب سے خراب تر ہوتے جارہے ہیں ، اﷲتعالیٰ شریروں کے شر ان پر الٹائے جو اسلام کو بدنام کر رہے ہیں ، اسلام کے نام پر ظلم اور تعدی کر کے اﷲتعالیٰ کے دین کو بدنام کر رہے ہیں، اﷲتعالیٰ ان کے پکڑ کے سامان جلد پیدا فرمائے اور تمام بلاؤں اور مشکلات کو دور فرمائے ۔ آنحضور ﷺ نے صدقات کے بارہ میں فرمایا کہ ابتلاؤں اور آگ سے بچنے کیلئے صدقات دو بلکہ آپﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ صدقہ کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے ، صحابہؓ کے پوچھنے پر کہ جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو تو وہ کیا کرے تو آپﷺ نے فرمایا کہ وہ معروف باتوں اور اسلامی احکامات پر عمل کریں ، نیکیوں پر عمل کرے اور بری باتوں سے روکے ، یہی اس کیلئے صدقہ ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ جس نے مال کا صدقہ دے دیا وہ بیشک معروف باتوں پر عمل نہ کرے۔ مخالفین کے جماعت کے خلاف ہر حربے اور ہر حملے کو ناکام ونامراد کرے ،اﷲتعالیٰ نے ہمیں قرآن کریم میں بعض دعائیں سکھائیں ہیں وہ بھی پڑھنا چاہئیں اور سمجھ کر پڑھنا چاہئے ، حضرت مسیح موعودؑ نے قرآنی دعاؤں کے بارہ میں ہماری یہ بھی راہنمائی فرمائی اور یہ نقطہ بیان فرمایا کہ اﷲتعالیٰ نے قرآن کریم میں جو دعائیں سکھائیں ہیں وہ بتائی ہی اس لئے گئی ہیں کہ جب ایک مومن خالص ہو کر یہ دعائیں مانگے تو اﷲتعالیٰ انہیں قبو ل فرمائے ، پس بلاؤں سے دور رہنے اور شرور سے محفوظ رہنے کیلئے ہمیں بھی ان قرآنی دعاؤں پر بھی زور دینا چاہئے ۔ ایوون برنان صاحب، سید نادر سیدین صاحب اور نذیر احمد ایاز صاحب صدر جماعت نیو یارک کی وفات۔

The situation in today's world is deteriorating at a very fast pace and unfortunately the reason behind these circumstances are some Islamic groups. Even the leaders of the Islamic countries do not understand that the powers against Islam are trying to capture them in their traps. The atrocities being conducted in the name of Islam and Jihad have no link with the teachings of Islam. Similarly the injustices being committed by the governments do not relate to Islamic teachings even in the remote sense. The terrorist organizations in the western countries are killing innocent people and are undertaking extremely brutal steps that have brought bad name to Islam. This may be true that in order to defame Islam these anti-Islamic forces in foreign countries are responsible for all these brutalities in order to bring bad name to Islam. These countries in the name of aid and in the name of protecting the people from terrorism may be able to get an excuse to get a strong hold in Islamic countries. Keeping in view the current situation of the world, every Ahmadi needs to be protected from the evil. Therefore, we have to give immense importance to prayers and charity in order to be protected collectively as a community from the mischievous doings of these people. Particularly in these days we need to pay attention because the condition is becoming worse with every passing day.May Allah Almighty protect us from these mischiefs and from those who are doing injustice in the name of Islam. Holy Prophet(saw) regarding the charity said that for the protection from fire you must always give charity and giving charity in the way of Allah (sadqa) is obligatory upon all Muslims. The companions asked that if somebody doesn't have anything than what one should give in the name of charity. Holy Prophet(saw) said that then he/she must act upon the teachings of Islam. Live according to the code of Islam and do good things and abstain from bad doings. May Allah fail all the plans of the opponents of Ahmadiyya community and bring to them frustrations. Allah has taught us a prayer in the Holy Quran which must be recited and one should recite them with full understanding. Promised Messiah regarding the Quranic prayers has guided us and this point has been highlighted that the prayers taught to us in the Holy Quran are taught with this purpose that when a true believer whole heartedly prays in those wordings, Allah will accept them. Death of Evon Bernaan Sahib, Syed Nadir Sayeedain Sahib and Nazir Ahmad Ayaz Sahib (President of New York Jama'at).

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
22-Jul-2016   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)Uzbek (mp3)

Title: Khalifatul Masih II : Pearls of Wisdom
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت مسیح موعودؑ کی محنت و مشقت اور صحت کے قائم رکھنے اور جسم کو چست رکھنے کیلئے کیا آپ کا معمول تھا ، اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ آپ سست ہر گز نہ تھے بلکہ انتہائی محنت کش تھے اور خلوت کے دلدادہ ہونے کے باوجود مشقت سے نہ گھبراتے تھے اور بارہا ایسا ہوتا تھا کہ آپ کو جب کسی سفر پر جانا پڑتا تو سواری کا گھوڑا نوکر کے ہاتھ آگے روانہ کر دیتے اور آپ پیادہ 20-25 میل کا سفر طے کر کے منزل مقصود پر پہنچ جاتے بلکہ اکثر اوقات آپ پیادہ ہی سفر کرتے اور سواری پر کم چڑھتے اور یہ عادت پیادہ چلنے کی آپ کو آخر عمر تک تھی۔ جب عبدالحکیم نے اپنے ارتداد کا اعلان کیا تو حضرت خلیفۃ المسیح الاول ؓنے گھبرا کر اپنے طالب علموں کو بلایا اور فرمایا جاؤ اور جاکر میرے کتب خانے سے عبدالحکیم کی تفسیر نکال دو فرمایا کہ ایسا نہ ہو کہ اس کی وجہ سے مجھ پر خدا کی ناراضگی نازل ہو، حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ حالانکہ وہ قرآن کریم کی تفسیر تھی اور اس کی بہت سی آیات کی تفسیر اس شخص نے خود حضرت خلیفۃ لمسیح الاول ؓسےپوچھ کر لکھی تھی مگر اس لئے کیونکہ اس پر خدا کا غضب نازل ہوا اور اس نے ارتداد کا رستہ اختیار کیا ، اس کی تفاسیر کو کتب خانے سے نکال دیا اور اپنے ذوق کے مطابق سمجھا کہ یہ کتب دوسری کتب کے ساتھ مل کر ان کو پلید کر دے گی۔ بعض لوگ اعتراض کر دیتے ہیں کہ مثلا جماعتی طور پر کسی کو سزا ملی ہے یا کسی شخص کے متعلق کاروائی ہوئی ہے تو وہ کہتا ہے اپنے متعلق کہ میرے خلاف فلاں کاروائی ہوئی ہے وہ غلط ہوئی ہے اور فلاں شخص کے خلاف نہیں ہوئی اور اس کی حمایت کی گئی ہے ،اس قسم کے اعتراض کوئی نئی چیز نہیں ہے ، ہر زمانے میں ایسے اعتراض لوگ کرتے ہیں، آج بھی لوگ کرتے ہیں پہلے بھی لوگ کرتے تھے چنانچہ ایسے لوگوں کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ حقیقت یہ کہ نظام کی درستی کیلئے اتحاد خیالات کا ایک دائرہ ہوتا ہے ۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں : درحقیقت بعض باتیں وقتی فتنہ کے لحاظ سے بڑی ہوتی ہیں حالانکہ وہ اصل میں چھوٹی ہوتی ہیں او ر بعض باتیں وقتی فتنہ کے لحاظ سے چھوٹی ہوتی ہیں حالانکہ اصل میں وہ بڑی ہوتی ہیں ، پس وقتی فتنہ کے لحاظ سے کبھی بڑی بات کو نظر اندا زکر دیا جاتا ہے اور چھوٹی بات پر ایکشن لے لیا جاتاہےلیکن ان لوگوں نے جو اعتراض کرنے والے ہیں کبھی عقل سے کام نہیں لیا ، ان کا مقصد صرف اعتراض کرنا ہوتا ہے ، بہت سارے لوگ دوسرے کیلئے کہ دیتے ہیں اور کچھ حمایتی پیدا ہوجاتے ہیں ان کے جن کو سزا ملتی ہے ، ان کو پتہ نہیں ہوتا کہ اصل بات کیا ہے۔ تبلیغ کیلئے کیا ذرائع استعمال کرنے چاہئیں اور کس طرح کرنی چاہئے ،اس بارہ میں ایک موقع پر حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا کہ اس وقت نظارت دعوت و تبلیغ پمفلٹ کے ذریعہ تبلیغ کرتی ہے لیکن پمفلٹ ایسی چیز ہے جس کا بوجھ زیاد ہ دیر تک نہیں اٹھایا جا سکتا ، حضرت مسیح موعودؑ کے زمانہ میں تبلیغ اشتہارات کے ذریعہ ہوتی تھی ، وہ اشتہارات 2 سے 4 صفحات پر مشتمل ہوتے تھے اور ان سے ملک میں تہلکہ مچ جاتا تھا ، ان کی کثرت سے اشاعت کی جاتی تھی، اس زمانے میں کثرت کے معنی ایک دو ہزار کے ہوتے تھے ، بعض اوقات دس دس ہزار کی تعداد میں بھی اشتہار شائع کئے جاتے تھے ۔ محترم الحاج ادریش بکورہ صاحب نائب امیر سیرا لیون اور منصور بیگم صاحبہ اہلیہ خالد سیف اﷲصاحب نائب امیر آسٹریلیا کی وفات۔

In talking about the Promised Messiah(as) and his daily routine Hazrat Musleh Maud(ra) says that The Promised Messiah(as) worked hard to maintain his health and to keep his body very active. He was not lazy or inactive at all. Instead he was very hard working and very much liked to be in seclusion. He did not ever shun the hard work and many a times it happened that whenever he had to go on a journey then the horse was sent by the servant ahead of him and he used to walk on foot, sometimes covering 20 to 25 miles he would reach the destination. When Abdul Hakeem announced his renunciation of Ahmadiyyat, Hazrat Khalifatul Masih I called upon his students and asked them to take out Abdul Hakeems's commentary from his library so that Allah Almighty be not unhappy or angry to me because of that. Although it was the commentary of the Holy Quran and the commentary of several verses were written in consultation with Hazrat Khalifatul Masih I but still he ordered such an action because he had left the religion and so the wrath of Allah is on him. Some people make an objection that when there is sort of a punishment from the Jama'at towards someone or some action has been taken, then that person says that the action taken against me is wrong and presents a comparative situation where other people have not been penalized.This objection is not something new. In every era, such objections have arisen. People do it today and have been doing it in the past too. Therefore, mentioning such people Hazrat Musleh Maud(ra) says that the fact of the truth is that in order to keep the system right there is one circle of unity and oneness. Hazrat Musleh Maud(ra) says that certain things due to their particular trial (fitna) are considered very significant due to the specific situation. Due to the trial which is instantly there, sometimes the actions are taken in a very different way. But the people who criticize the decisions they do not consider this and are simply very fond of criticizing. Many people say like this and then they gather supporters, thus these punished people are not aware. What methods should be adopted for spreading the word of God (tabligh) and how shall this be done? Regarding this Hazrat Musleh Maud(ra) has mentioned that at this time the preaching work is done through distribution of pamphlets and brochures but these pamphlets cannot be carried for long due to their weight. At the time of the Promised Messiah(as), preaching was conducted through the hand bills which were on a total of 2 to 4 pages. Death of Mukkaram Al Haaj Idrees Bakoora Sahib (Naib Ameer of Sierra Leone) and Mansoor Begum sahiba wife of Khalid Saifullah sahib (Naib Ameer of Australia)

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
15-Jul-2016   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bosnian (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)Uzbek (mp3)

Title: Essence of Tarbiyyat
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

کچھ عرصہ پہلے حضور نے خطبہ میں ذکر کیا تھا کہ یہ جماعتی عہدیداران کے انتخاب کا سال ہے ، اکثر جگہوں پر انتخابات ہو چکے ہیں ، ملکوں میں بھی اور مقامی جماعتوں میں بھی اور نئے عہدیداروں نے اپنا کام سنبھال لیا ہے ، عہدیداروں میں بعض جگہ صدران، امراء اور دوسرے عہدیدار نئے منتخب ہوئے ہیں لیکن بہت سی جگہوں پر پہلے سے کام کرنے والوں کا ہی دوبارہ انتخاب کیا گیا ہے نئے آنے والوں کو بھی جہاں خداتعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ انہیں اﷲتعالیٰ نے جماعتی خدمت کیلئے چنا وہاں عاجزی سے اﷲتعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے اﷲتعالیٰ کی مدد مانگنی چاہئے کہ اﷲتعالیٰ انہیں اس امانت کا حق ادا کرنے کی توفیق دےجو ان کے سپرد کی گئی ہے۔ اﷲتعالیٰ کے حقوق میں سب سے بڑ ا حق عبادت کا ہےاور اس کیلئے مردوں کو یہ حکم ہے کہ نماز کا قیام کرو اور نمازوں کا قیام باجماعت نماز کی ادائیگی ہے ، پس امراء ، صدران، عہدیداران اپنی نمازوں کی حفاظت کر کے اس کے قیام اور باجماعت ادائیگی کی بھرپور کوشش کریں تو جہاں اس سے ہماری مسجدیں آ باد ہونگی ، نماز سنٹر آباد ہونگے وہاں وہ اﷲتعالیٰ کے فضلوں کو بھی حاصل کرنے والے ہونگے اور اپنے عملی نمونہ سے افراد جماعت کی تربیت کرنے والے ہونگے ، اﷲتعالیٰ کے فضلوں کے وارث بھی ہونگے، ان کے کاموں میں آسانیاں بھی ہونگی، صرف باتیں کرنے والے نہیں ہونگے۔ ایک خصوصیت عہدیداران کی یہ بھی ہونی چاہئے کہ وہ ماتحتوں سے حسن سلوک کریں ، جماعت کے اکثر کام تو رضاکارانہ ہوتے ہیں، جماعت کے افراد وقت دیتے ہیں ، جماعتی کام کیلئے اس لئے وقت دیتے ہیں کہ وہ خداتعالیٰ کی رضا چاہتے ہیں ، اس لئے وقت دیتے ہیں کہ ان کو جماعت سے تعلق اور محبت ہے ، پس عہدیداروں کے بھی اپنے کام کرنے والوں کے جذبات کا خیال رکھنا چاہئے اور ان سے حسن سلوک سے پیش آنا چاہئے اور یہی اﷲتعالیٰ کا بھی حکم ہے اور پھر اسی حسن سلوک کے ساتھ اپنے نائبین اور ماتحتوں کو کام سکھانے کی بھی کوشش کرنی چاہئے ۔ بعض دفعہ عہدیداروں کو اپنی حدود کا ہی پتہ نہیں ہوتا ، ایک شعبہ ایک کام کر رہا ہوتا ہے بلکہ قواعد ضوابط میں دوسرے شعبہ میں وہ کام لکھا ہوتا ہے، بعض دفعہ ایسا باریک فرق کاموں میں ہوتا جس پر غور نہ کرتے ہوئے دو شعبے ایک دوسرے کی حد میں شامل ہورہے ہوتے ہیں، گزشتہ دنوں حضور نے یوکے کی مجلس عاملہ سے میٹنگ تھی وہاں حضور کو احساس ہوا کہ اس باریک فرق کو نہ سمجھنے کی وجہ سے بلا وجہ کی بحث شروع ہو جاتی ہے ، اگر قواعد کو پڑھیں تو اس طرح وقت ضائع نہ ہو مثلا تبلیغ کے شعبہ نے تبلیغ کی مہم بھی چلانی ہے اور رابطے بھی پیدا کرنے ہیں ۔ حضور نے فرمایا: ایک بات میں مبلغین اور مربیان کے حوالہ سے بھی کہنا چاہتا ہوں ، بعض جگہ مبلغین ، مربیان کی ہر ماہ باقاعدہ میٹنگ نہیں ہوتی ، مبلغ انچارج اس بات کا ذمہ دار ہے کہ یہ میٹنگ باقاعدہ ہوں، جماعتی تبلیغی اور تربیتی کاموں کا بھی جائزہ ہو، جو بہتر کام کسی نے کیا ہے اس کے بارہ میں تبادلہ خیال ہو اور بہتر کام کرنے کیلئے جو طریقہ کار اپنایا گیا تھا اس سے دوسرے بھی فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں ، اسی طرح جو جماعتی سیکرٹریان جماعتوں کو ہدایت دیتے ہیں یا مرکز کی ہدایت پر جماعتوں کو ہدایت بھجوائی جاتی ہے ، اس بارہ میں بھی رپورٹ دیں، مربیان یہ بھی دیکھا کریں کہ ہر جماعت سلسلہ میں کتنا کام ہوا ہے اور جہاں سیکرٹریان فعال نہیں خاص طور پر تبلیغ اور تربیت اور مالی قربانی کے معاملہ میں وہاں مربیان و مبلغین ان کو توجہ دلائیں۔ صاحبزادی طاہرہ صدیقہ صاحبہ اہلیہ مکرم صاحبزادہ منیر احمد صاحب کی وفات۔

Sometimes ago, I mentioned this in a sermon that this is the year of the elections of the officer-holders of Jama'at (Ahmadiyya Muslim Community). Elections have taken place at most places at national level and in local chapters. New office bearers have taken charge of their responsibilities. At some places new office bearers have been elected at national or local level but at many places the previous office bearers have again been elected. Newly elected officer-holders should be grateful to Allah that they have been elected to serve the community and should seek the help of Allah bowing before Him humbly that may Allah allow them to discharge the trust they have been made responsible for. Worship is the greatest among the rights of Allah. Male members are directed to establish Prayers to this end. Establishment of Prayer is offering Prayers in congregation. Thus Amirs, presidents, and office bearers should make a concerted effort by offering Salat and by its establishment in congregation. As a result our mosques will be populated, Salat centers will be populated, they will also be gathering the blessings of Allah. Another quality of the office bearers should be that they treat their subordinates with favor. Most of the work of the Community is voluntary. Members of the community give time. They give time to the work of the Community to gain pleasure of Allah. They give time because they have relation with and love for the Community. The office bearers should have regard for the feelings of the subordinates and should treat them favorably. This exactly is the directive of Allah. Sometimes office bearers do not even know their limitations. One department is engaged in an activity while that activity is listed under another department. Sometimes there is such fine difference in activities that not pondering over it two departments are intruding in each other's responsibilities. Recently I had a meeting with the executive committee of UK. There i felt that due to not understanding this fine difference unnecessary discussion starts. If we read the regulations then time would not be wasted in this manner. Hudhur said: I also want to say something concerning missionaries and Murabbis. Some places a regular monthly meeting of missionaries and trainers is not held. Missionary-in-charge is responsible that these meetings are held regularly. Outreach and training work should be reviewed, notable accomplishments should be discussed, and the rest should try to take advantage of the methods used in the notable work. Reports should be given about the directives of secretaries to chapters from themselves or from Markaz. Death of Sahibzadi Tahira Siddiqa, wife of Sahibzadah Mirza Munir Ahmad.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
08-Jul-2016   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)Uzbek (mp3)

Title: Khalifatul Masih II : Pearls of Wisdom
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا کہ حضرت مصلح موعودؓ نے تقسیم ہند کے بعد جلسہ سالانہ قادیان کے موقع پر پیغام بھیجا تھا اس میں توجہ دلائی تھی کہ آپ لوگوں کا کام ہے کہ تبلیغ کریں اور اس پہلو سے بہت محنت کی ضرورت ہے، بیشک اﷲتعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؑ کو الہام میں یہ فرمایا تھا کہ میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گااور یہ بھی فرمایا کہ خداتعالیٰ تیرے نام کو اس وقت تک جب تک دنیا منقطع ہو جائے ، عزت کے ساتھ قائم رکھے اور تیری دعوت کو دنیا کے کناروں تک پہنچا دے گا ۔ تبلیغ کو آگے بڑھانے کے کام کو دنیا کے باقی ممالک کی جماعتوں کو اپنے سامنے رکھنا چاہئے کہ اﷲتعالیٰ نے تبلیغ کے کام کو کرنے اور اسے وسعت دینےکی ہمیں ہدایت فرمائی ہے ، قرآن شریف میں اﷲتعالیٰ نے یہی فرمایا ہے، حضرت مسیح موعودؑ نے بھی یہی فرمایا ہے، آنحضرت ﷺ کو بھی خداتعالیٰ نےیہی حکم دیا تھا ، لیکن ہمیں اس کیلئے مضبوط منصوبہ بندی کرنےکی ضرورت ہے، ہر جگہ ہر ملک میں تاکہ اس سے اس کام میں مزید وسعت دی جاسکے اور پھر تبلیغ کے ساتھ ان لوگوں کو سنبھالنا بھی بہت بڑا کام ہے جو بیعتیں کر کے جماعت میں شامل ہوتے ہیں ۔ حضور نے فرمایا : پھر قبولیت دعا کا راز کیا ہے ؟ اس کی حکمت کو بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ اس قسم کے نشان دکھانے آئے تھے اور اس قسم کے بندے پیدا کرنا آپؑ کا مقصد تھا جن کی دعاؤں سے اﷲتعالیٰ دنیا میں بڑے بڑے انقلاب پیدا کردے ، حضرت مسیح موعودؑ فارسی زبان کے شعر میں فرماتے ہیں کہ جو ساری دنیا نہیں کر سکتی وہ ایک دعا سے ہو جاتا ہے مگر اس کے یہ معنی بھی نہیں کہ خداتعالیٰ ہر دعا کو ضرور قبول کر لیتا ہے ، حضرت مسیح موعود ؑ کا صاحبزادہ مرزا مبارک احمد فوت ہوا ، مولوی عبدالکریم صاحبؓ فوت ہوئے آپؑ نے دعائیں بھی کیں مگر وہ فوت ہو گئے۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا کہ ایک دفعہ کھیل میں غلط باتیں ہوئیں ، دین اور سلسلہ کی روایات کا خیال نہیں رکھا گیا ، اس پر تنبیہ کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا کہ دیکھو ہنسی اور مذاق کرنا جائز ہے ،منع نہیں ہے، رسول کرم ﷺ بھی مذاق کیا کرتے تھے ، حضرت مسیح موعودؑ بھی مذاق کرتے تھے ، ہم بھی مذاق کر لیتے ہیں،ہم یہ نہیں کہتے کہ ہم مذاق نہیں کرتے ، ہم سو دفعہ مذاق کرتے ہیں لیکن اپنے بچوں سے کرتے ہیں، اپنی بیویوں سے کرتے ہیں ، قریبیوں سے کرتے ہیں لیکن اس طرح نہیں کہ اس میں کسی طرح تحقیر کا رنگ ہو ، اگر کسی کی تحقیر ہو رہی اور ، عزت نفس متاثر ہو رہی ہو تو ایسا مذاق صحیح نہیں ہے۔ حضور نے فرمایا کہ اب صرف قادیان اور ربوہ کی بات نہیں ہے، باقی جگہوں پہ بھی کھیلیں ہوتی ہیں جو جماعتی طور پر منعقد کی جاتی ہیں، وہاں اگر ایسی باتیں ہونگی تو جماعت بعض دفعہ بدنام ہوتی ہے، اس لئے ہر جگہ ان باتوں کی احتیاط کرنی چاہئے ، پس ہمارے ہر عمل میں اس بات کا اظہار ہو نا چاہئے چاہے وہ کھیل کود ہے، تفریح ہے، مشاعرے ہیں کہ ہم نے جماعت کے وقار کو مجروح نہیں ہونے دینا ، پس یہ جو چند باتیں حضور نے بیان فرمائیں ہیں، ہر نصیحت سبق آموز تھی ، ان باتوں کا خیال رکھنا چاہئے۔

Huzoor(aba) said after partition Hazrat Musleh Maud(ra) sent a message on the occasion of Jalsa Salana Qadian in which he draw attention of the community towards preaching. He said that it is your duty to do preaching and propagate Islam Ahmadiyyat. Hazrat Musleh Maud(ra) said though Allah Almighty has informed the Promised Messiah(as) in revelation that until the day this world ends I shall keep your name exalted and keep it there with honor and establish with honor your preaching. Jama'at in other countries of the world should keep these things before them also that Allah Almighty has instructed us to spread the message. Same is the commandment of the Holy Quran and Promised Messiah(as) has also said that same commandment was given to the Prophet Muhammad(as). But for this we must plan well in all the countries and everywhere. And then the biggest task is to take care of the new converts who enter in the fold of Islam Ahmadiyyat. Huzoor(aba) said that what is the secret of acceptance of prayers? For that Hazrat Musleh Maud(ra) said that Promised Messiah(as) came to show such miracles and to create such people through whose prayers establish big revolutions. Promised Messiah(as) said a prayer can do that what a whole world can't do (Persian couplet). But that does not mean that Allah Almighty accepts all prayers. Huzoor(aba) said that once it so happened during playing the decorum of the Jama'at was not taken care of. On this Hazrat Musleh Maud(ra) admonished them and said that it is your right to enjoy, Prophet Muhammad(saw) used do so, Promised Messiah(as) used to do so also. Hazrat Musleh Maud(ra) said that we also make jokes; we don't say that we don't make jokes; we joke hundreds of times. We make joke with our children, we make joke with our wives, we make joke with our close friends. But not to degrade or insult someone. Huzoor(aba) said that now it is not only Qadian or Rabwah we arrange games everywhere, now if any such thing will happen in any chapter it will bring bad name the Jama'at. Hence we should be careful in all our events, that may be a games or other programs arranged by the Jama'at it should be evident from our demeanor that we will keep the honor of the Jama'at we will not let it down. Huzoor(aba) said that all that I said has lessons in it and everybody must remember and adhere to it.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
01-Jul-2016   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)Uzbek (mp3)

Title: Significance of Jumu'ah Prayers
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

اﷲتعالیٰ نے جو رمضان کے روزوں کی فرضیت کا حکم دیا تو ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ یہ گنتی کے چند دن ہیں ، جب رمضان شروع ہوا تو ہم میں بہت سے سوچتے ہونگے کہ گرمیوں کے لمبے دن ہیں اور یہ تیس روزے پتہ نہیں کیسے گزریں گے لیکن جیسا کہ اﷲتعالیٰ نے فرمایا کہ یہ گنتی کے چند دن ہیں ، یہ دن بھی گزر گئے اور آج 25 واں روزہ ہے ، حضور نے فرمایا کہ بہت سے لوگ مجھے لکھتے ہیں کہ یہ دن گزر بھی گئے اور پتہ بھی نہیں چلا، حقیقت میں یہ بات صحیح ہے کہ جب رمضان آتا ہے تو ابتدا میں لگتا ہے کہ بڑے لمبے دن ہیں لیکن جب دن گزرنے شروع ہوتے ہیں تو احساس نہیں ہوتا ، آج رمضان کا آخری جمعہ ہے۔ جب ہم نے دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کا عہد کیا ہے تو پھر نمازیں چھوڑنا کیسا اور جمعہ چھوڑنا کیسا ؟ ہمارے لئے اگر جمعۃ الوداع کا تصور ہے تو بالکل اور تصور ہے اور ایک حقیقی احمدی کیلئے یہی تصور ہونا چاہئے اور وہ یہ ہے کہ ہم بڑے بھاری دل کے ساتھ اس جمعہ کو وداع کر رہے ہیں اور اس سوچ او ردعا کے ساتھ کر رہے ہیں کہ دراصل جمعہ کو نہیں بلکہ اس مہینے کو ان بابر کت دنوں کو ہم وداع کر رہے ہیں اور جمعہ چونکہ ہماری بڑی تعداد میں جمع ہونے کا ذریعہ بنا ہے اور یہ اس رمضان کا آخری جمعہ ہے اس لئے ہم سب جمع ہو کر اﷲتعالیٰ سے یہ دعا کرتے ہیں کہ اﷲتعالیٰ پھر ہمیں توفیق دے کہ جو دن اور جمعے ہم نے رمضان میں گزارے ہیں اور جو برکات ہمیں رمضان میں حاصل ہوئیں ان پر قائم رہتے ہوئے اپنی تمام تر صلاحیتوں اور استعدادوں کے ساتھ اگلے رمضان کا استقبال کریں گے۔ اس رمضان میں حضرت خلیفۃ المسیح نے جو خطبات دیئے ہیں ان میں تقویٰ دعا اور اﷲتعالیٰ کے احکامات پر عمل جن میں سب سے اہم عبادت کا حکم ہے ، ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی طرف توجہ کرنا اور اعلیٰ اخلاق کے مظاہرے وغیرہ کے مضامین شامل تھے ، ہر خطبہ کے بعد حضور کو بہت سے لوگوں کے خط آتے تھے کہ ہمیں یاد ہانی ہوئی اور حضرت مسیح موعودؑ کے اقتباسات کے حوالے سے ہمیں ان مضامین کو سمجھنے کی توفیق بھی ملی ، ان باتوں کا فائدہ تبھی ہے جب ہم ان باتوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں ، ہر جمعہ کی اہمیت ہے ، جمعہ کی اہمیت نہ ہی رمضان کے ساتھ وابستہ ہے اور نہ ہی جمعۃ الوداع کے ساتھ وابستہ ہےبلکہ رمضان کی اہمیت اس میں ہے جب مستقل طور پر نمازوں اور جمعہ کی ادائیگی کی طرف ہماری توجہ رہے۔ روز جمعہ ایک عظیم الشان اسلامی تہوار ہے اور قرآن شریف نے خاص طور پر اس دن کو تعطیل کا دن ٹھئرایا ہے اور اس بارہ میں خاص ایک صورت قرآن شریف میں موجود ہے جس کا نام سورۃ الجمعہ ہے اور اس میں حکم ہے کہ جب جمعہ کی آ ذان دی جائے تو تم دنیا کا ہر کام ختم کر دو اور مسجدوں میں جمع ہو جاؤ اور نمازجمعہ اس کی تمام شرائط کے ساتھ ادا کرو اور جو شخص ایسا نہ کرے گا وہ سخت گناہگار ہے اور قریب ہے کہ اسلام سےخارج ہوا اور جس قدر جمعہ کی نماز اور خطبہ سننے کی قرآن شریف میں تاکید ہے ، اس قدر عید کی نماز کی بھی تاکید نہیں ، اسی غرض سے جمعہ کی تعطیل مسلمانوں میں چلی آتی ہے۔ آج نام نہاد علماء حضرت مسیح موعودؑ پر الزام لگاتے ہیں کہ جماعت احمدیہ انگریزوں کا خود کاشتہ پودا ہے لیکن انگریز حکومت کو مسلمانوں کے مذہبی حقوق کی طرف توجہ دلائی تو حضرت مسیح موعودؑ نے، کسی اور مسلمان لیڈر کو توفیق نہ ملی، یہ زمانہ جس میں اسلام کی حقیقت دنیا پر واضح کرنا اور اس کی تعلیم پر عمل کروانا ، یہ آپؑ کے ذریعہ سے ہونا تھا اور اﷲتعالیٰ نے یہ کام آپؑ کے سپرد کیا تھا ، پس ہم جو حضرت مسیح موعودؑ کو ماننے کا دعویٰ کرنے والے ہیں ، ہمارے ہر قول اور عمل سے اسلام کی تعلیم کی حقیقت ظاہر ہونی چاہئے ، ہمیں یہ عہد کرنا چاہئے کہ یہ رمضان جو برکات لے کر آیا تھا اور جو برکات چھوڑ کر جارہا ہے ، اسے ہم نے اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہے۔

When Allah gave the commandment for fasting, he also remarked that these days are numbered. When Ramadan started, many amongst us thought that these are long summer days and wondered how will these 30 days go by. But as Allah has remarked, these days are numbered and now these days have gone by and today we are on the 25th Ramadan Fast. Huzoor says that many people write to me and say that Ramadan went by too quickly. Huzoor says that it is actually true that when Ramadan starts, we feel as though the days are very long but as time passes by, one doesn't feel it that much. When we have promised to give precedence to faith over all the worldly matters then how can one think of missing Salat or Fridays prayers? Farewell Friday for us has a completely different meaning. For a true Ahmadi, we bid farewell to this Friday with a heavy heart, we are bidding farewell to these blessed days. Friday is a means for us to convene in a congregation so we pray that May Allah enable us to witness these blessed days again next year and welcome Ramadan again next year. During this Ramadan, Hazrat Khalifatul-Masih(aba) has delivered sermons on Taqwa, acceptance of prayers, Worship etc. After each sermon, Huzoor(aba) would receive many letters saying that we were once again reminded and hence understand better the Promised Messiah's(as) message. These discourses will only help when we make such discourses part of our daily lives. Each Friday is important. It is not associated with Ramadan Friday prayers nor with Farewell Friday. The importance of this Friday is only to help us take care of all of our Five daily prayers and Friday prayers. Friday is a very Important day for Muslims and is mentioned as a holiday in the Holy Quran, he wrote. Friday is mentioned in Surah Jummah in the Holy Quran. In this Surah there is a commandment that when the Adhaan is called for Friday prayers , leave aside all trades of the world and come and say your prayers properly. The one who does not do this is a sinner and is going to be expelled from Islam. Qur'an deems this day as extremely important. Today clerics raise objections against Promised Messiah(as) that his community was planted by the British Government but he is the only one who made British government recognize their duties and rights of Muslims. In this era, it is important to make the true teachings of Islam apparent. This was the task of the Promised Messiah(as). We who claim to believe in the Promised Messiah(as) should have true Islam reflected from our words and our actions. We have to make virtues and blessings of this Ramadan part of our daily lives, Insha'Allah.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
24-Jun-2016   Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)Uzbek (mp3)

Title: Essence of Worship of Allah
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu
Slide Deck: Powerpoint | Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

اﷲتعالیٰ نے جب یہ فرمایا کہ میرے بندے میرے حکم کو قبول کریں ، وہ حکم جو قرآن کریم میں موجود ہیں ، اس کے نتیجے میں اﷲتعالیٰ دعائیں بھی قبول کرے گا اور رشد بھی حاصل ہو گا ، اﷲتعالیٰ فرماتا ہے تاکہ بندے ہدایت پائیں، اور اس ہدایت کی وجہ سے میرے قرب کے نظارے دیکھیں ، وہ سیدھے راستے پر چلنے والے ہوں، ان کی راہنمائی ہو ، نیکیوں پر چلنے والے ہوں، برائیوں سے بچنے والے ہوں ، اپنے مقصد پیدائش کو بھی پورا کرنے والے ہوں اور اعلیٰ اخلاق پر چلتے ہوئے ایک دوسرے کے حق بھی ادا کرنے والے ہوں ، کیا ان چیزوں کی ضرورت صرف رمضان میں ہے؟ عہدیدار جن پر افرادکی نظر ہے اور ان کو منتخب بھی اس لئے کیا ہے کہ ہم میں سے بہتر ہیں، وہ ایک نمونہ ہونے چاہئیں ، ان کو اس بات کی پوری کوشش کرنی چاہئے کہ صرف رمضان میں ہی اﷲتعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق عبادت پر زور نہیں دینا اور دن ہی نہیں گنتے رہنا کہ باقی بارہ تیرہ دن رہ گئے ہیں اور پھر ہم اپنی پرانی روش پر آ جائیں گے بلکہ یہ کوشش ہو کہ اس رمضان کی تربیت اور مجاہدہ نے ہم میں جو عبادتوں کی طرف توجہ میں جو بہتری پیدا کی ہے اسے ہم نے مستقل اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہے ۔ اﷲتعالیٰ فرماتا ہے کہ اپنی نمازوں کی حفاظت کرو بالخصوص مرکزی نماز کی ، اگر رات کو دیر تک جاگنے کی وجہ سے صبح فجر کی نماز کیلئے جاگنا مشکل ہے تو وہ نماز ایسے شخص کیلئے مرکزی نماز ہے، اگر کاروباری آدمی کیلئے ظہر عصر کی نماز پڑھنا مشکل ہے تو یہ اس کیلئے مرکزی نماز ہے ، مطلب یہ ہے کہ ایسی حفاظت جو کسی چیز کو ضائع ہونے سے بچائے ، پس ایک مومن کی وفاداری اسی وقت ہوتی ہے جب وہ ان نمازوں کو وقت پر ادا کرنے والا ہواور ا ن کا حق ادا کرتے ہوئے نماز ادا کرنے والا ہو، یہ نہیں کہ جلدی جلدی آئے اور ٹکریں مار کر چلے گئے ۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ یاد رکھو عقل اور جوش میں خطرناک دشمنی ہے ، جب جوش اور غصہ آتا ہے تو پھر عقل قائم نہیں رہ سکتی لیکن جو صبر کرتا ہے اور بردباری کا نمونہ دکھاتا ہے اس کو ایک نور دیا جاتا ہے جس س ے اس کی عقل و فکر کی قوتوں میں ایک نئی روشنی پیدا ہو جاتی ہے اور پھر نور سے نور پیدا ہوتا ہے ، غصہ اور جوش کی حالت میں چونکہ دل و دعماغ تاریک ہوتے ہیں ، اس لئے پھر تاریکی سے تاریکی پیدا ہوتی ہے ، جو شخص سختی کرتا ہے اور غضب میں آجاتا ہے اس کی زبان سے حکمت اور معارف کی باتیں ہر گز نہیں نکل سکتیں ، وہ دل حکمت کی باتوں سے محروم کیا جاتا ہے۔ پس رمضان میں جب ہم چاہتے ہیں کہ خداتعالیٰ کا تقویٰ اختیار کریں ، اس کا قرب ہمیں ملے، اپنی دعاؤں کو قبول ہوتا ہوا دیکھیں تو ان برائیوں سے بچنے کی اور اﷲتعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے کی ہمیں بہت زیادہ کوشش کرنی چاہئے، اﷲتعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے کہ ہم اس کے تمام احکام پر عمل کرتے ہوئے اس کا قرب حاصل کرنے والے ہوں اور رمضان کے بعد بھی ہم میں یہ نیکیاں قائم رہیں ، اﷲتعالیٰ کے حقیقی عابد ہم بنیں اور اسی کی کامل فرمانبرداری اختیار کرنے والے ہم ہوں۔ مکرم چوہدی خلیق احمد صاحب کی کراچی میں شہادت۔

God asked His men to accept all His commandment in the Holy Quran, so that their prayers will be accepted, they will get the right guidance, see His nearness due to that guidance, tread on the right path, do the good deeds, refrain from the evils, serve the purpose of their creation and fulfill their covenants among them by following the high moral standards. Are all these things needed only during Ramadan? The office bearers who the people look forward to and have picked them for being the best among them should be an example for them. It is not only during the Ramadan that the they need to pray according to Allah's ways and keep counting the days as they pass and say that now only about twelve days are left and then we will return to the routine or to their old ways. They should try to incorporate the training of the Ramadan, their struggle and their attention toward the prayers in their lives permanently. Allah asks us to safeguard our prayers especially the central ones. If due to late sleeping time, it becomes difficult to join Fajr, then that becomes the central prayer and if due the business, Zuhr and Asr become difficult to offer then they become the central prayers. Safeguarding means to protect things from going to waste. A believer is obedient only if he says the prayers on time and does justice to them and not by coming and leaving quickly by prostrating like hitting the ground with head. Then Hazoor says at another place that remember that the person who is harsh and flies into a rage, can never talk using wisdom and insight. Foul mouthed and unbridled, the lips are deprived of and kept away from the spring of the subtleties. The wisdom and rage cannot stay together. Rage is half of insanity. When it flares up, it becomes complete insanity. A man should use his powers appropriately and at justifiable occasions. For example there is a power of passion. When it is out of proportion, it foreruns insanity. In Ramadan, when we want to be righteous, to get closer to God, and to see our supplications accepted by God, we should try hard to refrain from these vices and try vigorously to act upon the commandments of Allah. May Allah grant us the ability that acting upon His commandments, we should become closer to Him and continue to do good deeds even after the Ramadan. We should become His men and become the ones who follow Him perfectly. Martyrdom of Ch. Khalique Ahmad Sahib in Karachi, Pakistan.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
17-Jun-2016   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)Uzbek (mp3)

Title: Ramadhan: Living in the presence of Allah
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

پس صرف رمضان کا مہینہ دعاؤں کی قبولیت کی وجہ سے نہیں ہو سکتا جب تک کہ اسے تقویٰ سیکھنے، تقویٰ سے زندگی بسر کرنے اور قرب الٰہی کے حصول کا ذریعہ بنانے کی کوشش نہ کی جاوے اور جب یہ صورت ہوگی تو اﷲتعالیٰ سے رمضان میں پیدا کیا ہو اتعلق صرف رمضان تک محدود نہیں ہوگا بلکہ مستقل تبدیلی کا آثار ظاہر ہونگے ، اﷲتعالیٰ نے بھی یہی اس آیت میں بتایا ہے کہ میں قریب ہوں، آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ اس مہینے میں شیطان جکڑ دیا جاتا ہے اور اﷲتعالیٰ قریب آجاتا ہے ان لوگوں کے جو خداتعالیٰ کا قرب محسوس کرنا چاہتے ہیں اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کیلئے لبیک کہتے ہیں۔ دعا بھی کسی کام کے کرنے کیلئے چھپا ہوا سبب ہے دعا بذات خود ایک سبب ہے، جب دعا قبول ہوتی ہے تو دوسرے اسباب پیدا ہوجاتے ہیں اس کام کے کرنے کیلئے ، کسی انسان کو قرض کی ضرورت ہے، پیسوں کی ضرورت ہے ، کسی مدد کی ضرورت ہے تو ﷲتعالیٰ کسی ذریعہ سے اس کو وہ مہیا کر وا دیتا ہے ، اس کیلئے آسانیاں پیدا کروادیتا ہے، آسمان سے تو نہیں ٹپکتی کو ئی چیز ، اگر کسی کو پیسوں کی ضرورت ہے تو آسمان سے نہیں اتریں گے بلکہ کوئی ذریعہ بنے گا اور وہی سبب ہے جو دعا کے ذریعہ سے اﷲ تعالیٰ نے بنایا ۔ اگر ہم دعا کا کام زبان سے کبھی نہ لیں تو یہ ہماری بد قسمتی ہے ، بہت سی بیماریاں ایسی ہیں کہ وہ اگر زبان کو لگ جاویں تو یک دفعہ ہی زبان اپنا کام چھوڑ بیٹھتی ہے یہاں تک کہ انسان گونگا ہو جاتا ہے، پس یہ کیسی رحیمیت ہے کہ ہم کو زبان دے رکھی ہے، ایسا ہی کانوں کی بناوٹ میں فرق آ جا وے تو خاک بھی سنائی نہ دے، ایسا ہی قلب کا بھی حال ہے ، وہ جو خشوع و خضوع کی حالت رکھی اور سوچنے اور تفکر کی قوتیں رکھی ہیں ، اگر بیماری آ جاوے تو سب تقریبا بیمار ہو جاتی ہے ، مجنونوں کو دیکھو کہ ان کے قواع کیسے بیمار ہو جاتے ہیں ، کیا یہ ہم کو لازم نہیں کہ ان خدا دا د نعمتوں کی قدر کریں ۔ نماز کی اصلی غرض اور مغزدعا ہی ہے اور دعا مانگنا اﷲتعالیٰ کی قانون قدرت کے عین مطابق ہے ، مثلا ہم عام طور پر دیکھتے ہیں کہ بچہ روتا دھوتا ہے اور اضطراب ظاہر کرتا ہے تو ماں کس قدر بے قرار ہو کر اس کو دودھ دیتی ہے ، الوہیت اور عبودیت میں اسی قسم کا تعلق ہے جس کو ہر شخص سمجھ نہیں سکتا ، جب انسان اﷲتعالیٰ کے دروازے پر گر پڑتا ہے اور نہایت عاجزی اور خشوع و خزوع کے ساتھ اپنے حالات کو اس کے سامنے پیش کرتا ہے اور اس سے اپنی حاجات کو مانگتا ہے تو الوہیت کا کرم جوش میں آتا ہے اور ایسے شخص پر رحم کیا جا تاہے۔ پس رمضان میں اکثر کی توجہ مسجد کی طرف بھی ہے اﷲتعالیٰ کے فضل سے اور نماز باجماعت ادا کرنے کی طرف بھی توجہ ہے ، اس کے ساتھ نوافل کی طرف بھی توجہ دینی چاہئے ، پھر وہ دعائیں جو دین کو دنیا پر مقدم رکھنے اور اﷲتعالیٰ کا قرب پانے وہ ہمیں ترجیح کے ساتھ کرنی چاہئیں، پہلی دعائیں یہی ہیں، باقی دعائیں دنیاوی دعائیں بعد میں آنی چاہئیں ، ہماری دنیاوی حاجات پھر اﷲتعالیٰ خود ہی پوری کر دیتا ہے۔ راجہ غالب احمد صاحب اور محترم ملک محمد احمد صاحب کی وفات۔

Thus, the month of Ramaḍān alone cannot be the source of the acceptance of prayers unless it also is made a source to learn righteousness, spending life in righteousness, and making it the source of attaining nearness to Allah. And when it so happens then the relationship garnered with Allah during Ramaḍān will not be limited only to Ramaḍān but rather signs of permanent change will appear. Allah has clarified the same in this verse by saying, "I am near." Prayer is a hidden means for the accomplishment of an objective. It becomes a means for doing the task and sprouts other means. Prayer in itself is a means. With the acceptance of prayer, other means appear for the accomplishment of the desired matter. Someone needs a loan, needs funds, needs some help, Allah arranges that through some means. Makes it easy for him. Nothings trickles from heavens. If someone needs money, it will not descend from skies rather there will be some means. If we never take the chore of prayer from tongue then it is our misfortune. Numerous diseases are such that if they afflict the tongue, tongue instantly quits its function so much so that man becomes dumb. Thus, Rahimiyyat is this that we have been given tongue. Same way if a change takes place in the structure of ears, nothing would be heard. Same is the condition of heart. The condition of humility and fear and the powers of thought and pondering, if a disease takes over they all become dysfunctional. The real purpose and essence of Salat is prayer. Praying conforms with the law of nature. As an example, generally we see that as a child cries and wails and shows restlessness, how mother rushes to gives it milk. There is a same kind of relationship amongst divinity and worship which cannot be understood by every person. When a person falls on the door of Allah, and presents his matter with much humbleness and apprehension, and asks for his needs then the mercy of divinity is excited and mercy is shown to such person. Thus in Ramdan, as the attention of most is towards mosque too, with the grace of Allah, and attention also is towards offering prayers in congregation, attention should also be paid towards offering Voluntary Prayers, and then the prayers which are for giving preference to faith over world and to attain the nearness of God, they should be offered in preference. These should be the first prayers, other prayers should come after. Then Allah takes care of our worldly needs Himself. Death of Raja Ghalib Ahmad Sahb and Respected Malik Muhammad Ahmad Sahb.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
10-Jun-2016   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Russian (mp3)Uzbek (mp3)

Title: Ramadhan, Reformation and Righteousness
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

روزہ کیا ہے؟ یہ خداتعالیٰ کی رضا کی خاطر ایک مہینہ اپنے آپ کو ان جائز باتوں سے بھی روکنا ہے جن کی عام حالات میں اجازت ہے ، پس جب اس مہینے میں انسان اﷲتعالیٰ کی رضا کی خاطر جائز باتوں سے رکنے کی کوشش کرتا ہے تو پھر یہ تو نہیں ہو سکتا کہ ناجائز باتوں اور برائیوں کو انسان کرے ، اگر کوئی اس روح کو سامنے رکھتے ہوئے روزے نہیں رکھتا کہ میں نے یہ دن اﷲتعالیٰ کی رضا کو مقدم رکھتے ہوئے گزارنے ہیں اور ہر اس بات سے بچنا ہے جس سے بچنے کا خداتعالیٰ نے حکم دیا ہے اور ہر اس بات کو کرنا ہے جس کو کرنے کا خداتعالیٰ نے حکم دیا ہے ، اگر یہ روح مدنظر نہیں تو یہ روزے بے فائدہ ہیں ۔ آج دین کے نام پر نام نہاد علماء مسلمانوں سے ایسے کام کر روارہے ہیں جو مسلمانوں کی مر ضی کے سراسر خلاف ہیں اور تقویٰ سے دور ہیں ، وہاں احمدی خوش قسمت ہیں جنہیں زمانے کے امام اور آنحضرتﷺ کے عاشق صادق ہونے کی توفیق ملی ، جنہوں نے ہمیں اسلام کی تعلیم کی ہر باریکی سے آگاہ فرمایا ، تقویٰ کیا ہے اور تقویٰ کا حصول کن کن چیزوں سے ہوتا ہے اور اپنی جماعت کے افراد سے اس بارہ میں حضرت مسیح موعودؑ کیا توقع رکھتے ہیں ، ان باتوں کو سمجھنے اور جاننے کیلئے حضرت خلیفۃ المسیح نے حضرت مسیح موعودؑ کے چند حوالے لئے ہیں۔ جس طرح دشمن کے مقابلہ پر سرحد پر گھوڑا ہونا ضروری ہوتا ہے تاکہ دشمن حد سے نہ نکلنے پاوے اسی طرح تم بھی تیار رہو ، ایسا نہ ہو کہ دشمن حد سے نکل کر اسلام کو صدمہ پہنچائے ، اگر تم اسلام کی حمایت اور خدمت کرنا چاہتے ہوتو پہلے خود تقویٰ اور طہارت اختیار کروجس سے تم خود خداتعالیٰ کی پناہ کے مظبوط قلعے میں آسکو اور پھر تمہیں اس خدمت کا شرف اور استحقاق حاصل ہو، تم دیکھتے ہو کہ مسلمانوں کی بیرونی طاقت کیسی کمزور ہو گئی ہے ، قومیں ان کو نفرت اور حقارت کی نظر سے دیکھتی ہیں ، اگر تمہاری اندرونی اور قلبی طاقت بھی پست اور کمزور ہو گئی تو پھر تو بس خاتمہ ہی سمجھو۔ خوامخواہ کے ظن فاسد کرنے اور بات کو انتہا تک پہنچانا بالکل بے ہودہ امر ہے ، سب سے زیادہ ضروری بات یہ ہے کہ لوگوں کو چاہئے کہ خداتعالیٰ کی طرف رجوع کریں ، نمازیں پڑھیں، زکو ٰۃ دیں، اتلاف حقوق اور بدکاریوں سے باز آئیں ، یہ امر بخوبی ثابت ہے کہ جب بعض اوقات ایک شخص ہی بدکاری کا ارتکاب کرتا ہے تو سارے گھر اور شہر کی ہلاکت کا موجب ہو جاتی ہے ، پس بدیوں کو چھوڑ دو کہ وہ ہلاکت کا موجب ہیں ، اگر تمہارا ہمسایہ بد گمانی کرتا ہے تو اس کی بدگمانی رفع کرنے کی کوشش کرو اور اسے سمجھاؤ، انسان کہاں تک غفلت کرتا جائےگا۔ ہماری جماعت کیلئے خاص کر تقویٰ کی ضرورت ہے ، خصوصا اس خیال سے بھی کہ وہ ایسے شخص سے تعلق رکھتے ہیں اور اس کے سلسلہ بیعت میں ہیں جس کا دعویٰ ماموریت کا ہے تا وہ لوگ جو کسی قسم کے بغضوں، کینوں یا شرکوں میں مبتلا تھے ، ان تمام آفات سے نجات پاویں ، اگر کوئی بیمار ہو جاوے تو چاہے اس کی بیماری چھوٹی ہو یا بڑی ، اگر اس بیماری کیلئے دوا نہ کی جاوے اور علاج کیلئے دکھ نہ اٹھایا جاوے ، بیمار اچھا نہیں ہو سکتا ، ایک سیاہ داغ منہ پر نکل کر ایک بڑا فکر پیدا کر دیتا ہے ، کہیں یہ داغ بڑھتا بڑھتا پورے منہ کو کالا نہ کردے ، اسی طرح گناہ اور معصیت کا بھی ایک داغ ہے ۔

What is Fasting? It is a duty for the desire of Allah, an obligation for a month to refrain oneself from those actions that are otherwise allowed in day to day life. Thus in this holy month, a human merely for the desire of Allah refrains oneself from the otherwise allowed actions. Thus in this condition it is not possible that one performs unsavory acts or commits sins. If someone does not fast with this essence of 'Fasting' that I will undertake and spend these days keeping in mind Allah's desire and wish and refrain myself from everything that is not permitted and undertake every action that has been commanded and instructed by Allah. In Today's world when the so called religious leaders are compelling Muslims to perform deeds that are truly against the teachings of Islam, the followers of Islam Ahmadiyyat are blessed that they had the opportunity to accept the Messiah of time who had true love of Islam and the Holy Prophet(saw). We, Ahmadis are lucky because the Promised Messiah(as) made us understand even the minutest detail of the teachings of Islam. As it is crucial to deploy horsemen/army at the borders in a war against enemies, likewise you should also be well equipped if you want to protect your religion from the hurtful doings of foes of Islam. If you want to truly present yourself for the service of Islam then you must first attain highest levels of purity and righteousness. This will help you achieve Allah's love and blessing which is an essential pre requisite for this service. The Muslims have lost their superfluous power and other nations display disrespect and hatred towards them. Irrelevantly creating issues and taking them to an extreme is a very disgraceful sin. The most important and essential action is to turn towards Allah for guidance, perform Salat, pay zakat and refrain from defrauding and bad deeds. It is evident that sinful actions of a single person can lead to punishment of the entire household and the city. Thus quit performing wrong and vicious doings because they lead to a dreadful end. If your neighbor holds misunderstandings regarding you, try your best to eliminate them. Our Jama'at most importantly needs righteousness because they have accepted the advent of the Messiah of time. So the people who had indulged in any kind of ill acts accepted Hazrat Messiah Maud as the Promised Messiah(as) and are now associated to him so that they can get rid of all those sins. If someone has fallen ill and no treatment is undertaken, the illness does not finish. Just like a mole on face results in concern that it might grow very large to darken the entire face.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
03-Jun-2016   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)Uzbek (mp3)

Title: The Advent of the blessed month of Ramadhan
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

روزے اسلام کے بنیادی رکنوں میں سے ہےاور انہیں پورا کرنا بھی ضروری ہے ، روزوں کے متعلق بعض چھوٹے چھوٹے سوال بھی اٹھتے ہیں ، سحری کے وقت کے متعلق، افطاری کے متعلق ، بیماری اور مسافر کے متعلق اور اس طرح مختلف سوال ہوتے ہیں ، جماعت میں اﷲتعالیٰ کا فضل ہے کہ ہر سال لاکھوں لوگ شامل ہوتے ہیں ، مسلمانوں کے مختلف فرقوں میں سے بھی اور غیر مذاہب میں سے بھی ، مسلمانوں کے مختلف فرقوں میں بھی بعض احکامات کے بارہ میں بھی مختلف فقہی نظریات ہیں ، ان نظریات کے ساتھ وہ جماعت میں آتے ہیں تو بعض باتیں ان میں بے چینیاں پیدا کر دیتی ہیں اور بعض وضاحتیں وہ لوگ چاہتے ہیں۔ بعض بچے سوال کرتے ہیں کہ رمضان اور عید وغیرہ ہم غیر احمدی مسلمانوں سے مختلف وقتوں میں کیوں پڑھتے ہیں یا شروع کرتے ہیں ، اول تو یہ کوئی اصول نہیں کہ ضرور مختلف ہو اور نہ ہی ہم جان بوجھ کر اس میں اختلاف کرتے ہیں ، کئی سال ایسے بھی آئے ہیں جب ہمارے اور دوسروں کے روزے اور عید ایک ہی دن ہوتے ہیں ، پاکستان میں اور دوسرے مسلمان ممالک میں جہاں رویت ہلال کمیٹیاں حکومت کی طرف سے بنی ہوئی ہیں ، جب وہ اعلان کرتی ہیں کہ گواہوں کی موجود گی میں چاند نظر آ گیا ہے ، ہم احمدی مسلمان بھی اس کے مطابق روزے رکھتے ہیں اور روزے ختم بھی اس کے مطابق ہوتے ہیں اور عید بھی اس کے مطابق منائی جاتی ہے ۔ روزے اس لئے فرض کئے گئے تاکہ مومنین کی تنگیاں دور ہوں ، یہ ایسا نقطہ ہے جو مومن کو مومن بناتا ہے ، روزہ میں بھوکا رہنا یا دین کیلئے قربانی کرنا انسان کیلئے کسی نقصان کا موجب نہیں بلکہ سراسر فائدہ کا باعث ہے، اصل غذا روحانی غذا ہے جو روح کیلئے ہے ، اگر کھانے کا مقصد صرف پیٹ بھرنا ہے تو وہ صرف نفس کیلئے ہے ، جب تک خدا کیلئے تکلیف اور مصیبت نہ برداشت کرو تم سہولت نہیں اٹھا سکتے، بعض لوگ ایسے ہیں جن کے رمضان میں وزن کم ہونے کی بجائے بڑھ جاتے ہیں ، کچھ لوگوں کیلئے اپنا پیٹ بھرنا زیادہ ضروری ہوتا ہے نا کہ ماہ رمضان۔ حضرت مسیح موعودؑ ان لوگوں کو جو مسافر ہوتے تھے، روزہ افطار کرلینے کا ارشاد فرمایا کرتے تھے، فرمایاجیسا کہ خداتعالیٰ کا حکم روزہ رکھنے کا ہے ویسا ہی سفر میں روزہ نہ رکھنے کا حکم ہے، ایک دفعہ ایک رمضان میں ایک مہمان آپؑ سے ملنے آئے ، اسے اس وقت روزہ تھا اور دن کا زیادہ حصہ گزر چکا تھا بلکہ شاید عصر کے بعد کا وقت تھا ، حضرت مسیح موعودؑ نے اسے فرمایا آپ روزہ کھول دیں، اس نے کہا اب تھوڑا سا دن رہ گیا ہے ، اب کیا کھولناہے، حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا آپ سینہ زوری سے خداتعالیٰ کو خوش کرنا چاہتے ہیں، خداتعالیٰ سینہ زوری سے نہیں بلکہ فرمانبرداری سے راضی ہوتا ہے ۔ بے خبری سے کھانا کھالینے روزہ نہیں ٹوٹتااور اس کی کوئی سزا نہیں ، یہ امر یاد رکھنا چاہئے کہ شریعت نے چھوٹی عمر کے بچوں کو روزہ رکھنے سے منع کیا ہے لیکن بلوغت کے قریب ان کو کچھ روزے رکھنے کی مشق ضرور کروانی چاہئے ، 12، 13 سال کی عمر سے بچوں کوکچھ روزہ رکھنے کی عادت ڈالنی چاہئے لیکن بعض بے وقوف چھ سات سال کے بچوں سے روزہ رکھواتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہمیں اس کا ثواب ہوگا، اٹھارہ سال کی عمر روزہ کی بلوغت کی عمر ہے اور باقاعدگی سے روزہ رکھنے چاہئے، چھوٹی عمر میں بچوں کو روزہ کا شوق ہوتا ہے اور یہ ماں باپ کا کام ہے کہ انہیں روزہ رکھنے سے روکیں اور پھر ایک عمر ایسی آتی ہے کہ اس میں چاہئے کہ بچوں کو جرات دلائیں کہ وہ کچھ روزے ضرور رکھیں۔

Fasting is one of the fundamental pillars of Islam and one has to fulfill this. Huzoor says that there are some questions that are raised with respect to Fasting, about time of Suhoor, time of Iftar, traveling, sickness etc. By the Grace of Allah, hundreds of thousands join the fold of Jama'at each year from amongst Muslim sects & non-Muslims. Other Muslim sects have various views on issues of Fiqh. When these individuals join the Jama'at they require detailed explanations and answers for their questions. Sometimes children raise questions as to why we start our Ramadan or celebrate Eid on different days to other Muslims? There is no such commandment. We do not do so on purpose and it is not necessarily always on different days. There have been times when we have celebrated it on the same day. In Pakistan and other Muslim majority countries, where the Moon sighting committees announce the sighting of the moon and there have been witnesses (Shahadah), in such countries we Ahmadi Muslims also start and finish Ramadan and celebrate Eid accordingly. Fasting was made obligatory to make things easier for a believer and to take away his hardship. Someone who thinks that he remains hungry in Ramadan is actually insulting the commandments of the Quran. Real food is spiritual food which is for the soul rather than food that is for satisfying one's nafs. One should make sure that they realize that they are fasting and eat accordingly. Some end up gaining weight instead of losing weight during Ramadan. For some people the focus is on food and filling their bellies rather than Ramadan. The Promised Messiah(as) would tell individuals to open their fast if they were travelling. When Allah has commanded to not fast whilst traveling, then one should not fast. Once there was very little time left till Iftar, it was after Asr time, the Promised Messiah(as) told his guest to open his fast as he was travelling. He said just a little time is left. The Promised Messiah(as) said you cannot make Allah happy by forcing Him to accept your Fasts rather you can make Allah happy with your obedience. For eating unknowingly by mistake there is no penalty and one can continue fasting. Shariah has commanded children to not fast. They are allowed to offer some fasts when they are closer to puberty. One should not make children fast as it is sinful. At the age of 12 to 13, one should start offering some (one or two) fasts and by 18 years, one should become regular in fasting. It is the responsibility of parents to prevent their young children from fasting.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
27-May-2016   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)Uzbek (mp3)

Title: Khilafat Ahmadiyya
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

رسالہ الوصیت میں بھی خلافت کے قیام کی خوشخبری عطا فرما کر حضرت مسیح موعودؑ نے ان باتوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی ہدایت فرمائی ہے، چنانچہ رسالہ الوصیت میں ایک جگہ آپؑ فرماتے ہیں کہ اگر تم پورے طور پر خداتعالیٰ کی طرف جھکو گے تو میں خدا کی منشاء کے موافق تمہیں کہتا ہوں کہ تم خدا کی ایک قوم برگزیدہ ہو جاؤ گے، خدا کی عظمت دلوں میں بٹھاؤ اور اس کی توحید کا اقرار نہ صرف زبان سے بلکہ عملی طور پر کرو تاکہ خدا بھی عملی طور پر اپنا لطف اور احسان تم پر ظاہر کرے، کینہ پروری سے پر ہیز کرواور بنی نوع سے سچی ہمدردی سے پیش آؤ، ہر ایک راہ نیکی کی اختیار کرو۔ گزشتہ دنوں حضور سکینڈینیوین ممالک کے دورہ پر تھے، بعض اخباری نمائندوں نے اور دوسرے پڑھے لکھے لوگوں نے یہ سوال پوچھا کہ تمہارے مقاصد کیا ہیں، میں ان کو یہی بتاتا رہا کہ خلافت احمدیہ اور جماعت احمدیہ کے مقصد وہی ہیں جن کو حاصل کرنے کیلئے اﷲتعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؑ کو بھیجا تھا اور وہ یہی ہیں کہ بندے کو خداتعالیٰ کے قریب کرنے کیلئے پوری کوشش کرنا اور بنی نوع انسان کے حق ادا کرنا ، اس سے زیادہ ہمارا کوئی مقصد نہیں ہے کیونکہ آج کی دنیا میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ دنیا خدا تعالیٰ کو بھول رہی ہے اور عموما خدمت انسانیت کے نام پر خدمت اپنے مفادات حاصل کرنے کیلئے کی جاتی ہےجس سے مزید بے چینیاں پیدا ہو رہی ہیں ۔ ایک ڈینش خاتون نے کہا کہ آج سے پہلے وہ اسلام کے بارہ میں صرف منفی باتیں جانتی تھی لیکن آج جو میں نے سنا وہ اچھااور محبت سے بھرا پیغام تھا ، میں نے سیکھا کہ آئسس اسلام نہیں ہے اور اسلام کی تعلیم تویہ ہے کہ تمام مذاہب کے عبادت گاہوں کی رکھوالی کرنی چاہئے، ایک اور ڈینش مہمان نے کہا کہ ایسے آدمی سے ملی جس نے یہ ثابت کر کے دکھایا کہ میڈیا کے ذریعہ جو اسلام کی تصویر دکھائی جا رہی ہے وہ غلط ہے، میں بہت جذباتی اور پر جوش ہو گئی ،مجھے جہاد کا مطلب سمجھایا گیا، میڈیا کی آزادی رائے اور دنیا کے امن کو بر قرار رکھنے کے بارہ میں ان کی باتیں مجھے بہت اچھی لگیں۔ ایک خاتون جو عیسائی پریسٹ ہیں اور ہسپتال میں کام کرتی ہیں کہنے لگیں کہ میرا یہ خیال درست ہے کہ یہاں مالمو اور یورپ میں لوگ مسلمانوں اور مسجد سے خوفزدہ ہیں اور خلیفہ نے امن کے متعلق اور اس حوالہ سے کہ لوگوں کی ذمہ داریاں کیا ہیں ، بڑی اہم باتیں کیں ہیں ، انہوں نے ہمیں ایک مسجد کے مقاصد کے بارہ میں بتایا اور میں امید رکھتی ہوں کہ وہ لوگوں کو ان مقاصد کے بارہ میں قائل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے، مسجد کے مقاصد کا موضوع بہت ضروری تھا اور اس کا ہر لفظ گہری اور با معنی تھا ، تقریر کا بہترین حصہ یہ تھا کہ انہوں نے کہا کہ انسانیت کو اپنے خالق کو پہچاننا ہوگااور خدا پر یقین رکھنا ہوگا اور میرا بھی یہی نظریہ ہے۔ احمدیہ خلافت اور یہ نظام ہمیشہ جاری رہنے کیلئے ہے، اگر ہم وسائل کو دیکھیں تو اس بات کا تصور بھی نہیں کر سکتے کہ اتنی بڑی تعداد تک اسلام کا پیغام پہنچا سکتے ہیں لیکن جب اﷲتعالیٰ کی تقدیر نے یہ فیصلہ کر لیا ہو کہ اس نے یہ پیغام زمین کے کناروں تک پہنچانا ہے ، پھر ان ترقیات کو کون روک سکتا ہے، کوئی دنیاوی طاقت نہیں ہے جو روک سکتی ہے ، ہمیں یہ دعا کرنی چاہئے کہ اﷲتعالیٰ ہر احمدی کو وفا کے ساتھ خلافت احمدیہ کے ساتھ منسلک رکھے اور ہم اﷲتعالیٰ کے وعدوں کے مزید شان کے ساتھ جلد از جلد پورا پورا ہوتے دیکھے، آمین۔

In the treatise "Al-Wasiyyat" also, after telling the good news of the establishment of Khilafat, the Promised Messiah(as) has told us to make these very things a part of our lives. So he says elsewhere in the same writing that if you bow completely before God, I tell you, according to the will of God, that you will become a pious community of His. Set your hearts to the Greatness of God and show His oneness not only by words but also through actions so that He blesses you with His bounties practically. In the past few days I was visiting Scandinavian countries. There, the news correspondents and other educated people as well asked the question that what are our objectives. I kept on telling them that the objectives of Khilafat and the Jama'at are the same for which God sent the Promised Messiah(as). And they are to try to bring humanity closer to God and to serve humanity. We don't have aims other than that. We observe that the world is forgetting God and generally service to humanity is done to further own interests. A Danish lady said that before that day she had negative ideas about Islam but what she heard that day was good and a message full of love. She learned that ISIS is not Islam. Islamic teaching is to protect all places of worship. She said she met such a person who proved that the media presents a wrong picture of Islam. She was quite excited that a person has told her the meaning of Jihad. She liked his ideas about freedom of speech and bringing peace in this world. A lady who is a Christian priest and works in ahospital said that she thinks that it is true that people of Malmo and Europe are afraid of Muslims and mosques, but the Khalifa has convinced me about the objectives of the mosque and I hope that he will be sccessful in convincing others also. All his words were deep and meaningful. He gave the message that we should not be afraid of each other and should exchange our ideas. The best part of his speech was that mankind will have to recognize their creator and have firm faith in God. And this is my idea as well. Ahmadiyya Khilafat and system is to stay always by Allah's grace. If we look at our resources, we cannot even imagine spreading the message of Islam to such large number of people. When Allah has decided to take the message to all the corners of earth, who on earth can prevent this progress. We should pray that Allah keeps every Ahmadi faithfully connected with Ahmadiyya Khilafat and we are able to see the promises of God being fulfilled with more grandeur in lesser and lesser time. Ameen.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
20-May-2016   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)Uzbek (mp3)

Title: Teachings of The Promised Messiah (a.s.)
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu
Slide Deck: Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

اﷲتعالیٰ نے بنی آدم اور مومنوں کو شیطان سے بچنے اور اس کے قدم پر نہ چلنے کی ہدایت اور تنبیہ فرمائی ہے، یہ حکم اس لئے ہے کہ شیطان اﷲتعالیٰ کا نافرمان ہے، اﷲتعالیٰ کے حکموں کے مخالف چلتا ہے، ان سے بغاوت کرتا ہے اور ظاہر ہے جو خداتعالیٰ کا نافرمان ہو وہ اپنے پیچھے چلنے والوں کو بھی وہی کچھ سکھائے گا جو وہ خود کرتا ہے اور پھر اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ انسان خود تو جہنم کا ایندھن ہے ہی، اپنے پیچھے چلنے والوں کے بھی جہنم کا ایندھن بنا دیتا ہے ، اﷲتعالیٰ نے واضح طور پر فرمایا ہے شیطان کو کہ تیرے پیچھے چلنے والوں کو جہنم سے بھروں گا۔ بعض دفعہ نیکی کے نام پر، انسانی ہمدردی کے نام پر، ایک دوسرے کی مدد کے نام پر مرد اور عورت کی ا ٓپس میں واقفیت پیدا ہوتی ہےجو بعض دفعہ پھر برے نتائج کی حامل بن جاتی ہے ، اسی لئے آنحضرت ﷺ ایسی عوتوں کے گھر میں جانے سے منع فرمایا کرتے تھے ، جن کے خاوند گھر پر نہ ہوں اور اس کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑ رہا ہے ، اسی حکم میں آپﷺ نے اصولی ارشاد فرما دیا کہ نامحرم کبھی آپس میں آزادانہ جمع نہ ہوں ۔ برائیوں میں سے آجکل ٹی وی ہے،انٹرنیٹ ہے ، اکثر گھروں کے جائزے لے لیں ، بڑے سے لے کر چھوٹے تک صبح فجر کی نماز اس لئے وقت پر نہیں پڑھتے کہ یا تو دیر تک ٹی وی دیکھتے رہے یا انٹرنیٹ پر بیٹھے رہے ، نتیجہ یہ ہوا کہ صبح آنکھ نہیں کھلی، بلکہ ایسے لوگوں کی توجہ بھی نہیں ہوتی کہ صبح نماز کیلئے اٹھنا ہے ، یہ دونوں چیزیں اور اس قسم کی فضولیات ایسی ہیں کہ صرف ایک آدھ دفعہ آپکی نماز ضائع نہیں کرتیں بلکہ جن کو عادت پڑ جائے ان کا روزانہ کا یہ معمول بن جاتا ہے۔ اس بات کو ہر احمدی گھر کو لازمی اور ضروری بنانا چاہئے کہ تمام گھر کے افراد کم از کم ایم ٹی اے پر خطبہ جمعہ ضرور سنا کریں ، اس کے علاوہ کم از کم ایک گھنٹہ روزانہ ایم ٹی اے کے دوسرے پروگرام بھی دیکھیں ، جن گھروں میں اس پر عمل ہو رہا ہے وہاں اﷲتعالیٰ کے فضل سے نظر آتا ہے کہ پورا گھرانہ دین کی طرف مائل ہے ، بچے بھی دین سیکھ رہے ہیں اور بڑے بھی دین سیکھ رہے ہیں ، جو بھی اس پر عمل کرے گا، جہاں دینی فائدہ حاصل ہوگا وہاں شیطان سے بھی دوری ہوگی، اﷲتعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی طرف توجہ ہوگی۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں : شیطان انسان کو گمراہ کرنے کیلئے اور اس کے اعمال کو فاسد بنانے کے واسطےہمیشہ تاک میں لگا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ نیکی کے کاموں میں بھی اس کو گمراہ کرنا چاہتا ہے اور کسی نہ کسی طرح فساد ڈالنے کی تدبیر کرتا رہتا ہے، مثلا اگر بندہ نماز پڑھتا ہے تو اس میں ریا ء وغیرہ کا شعبہ فساد کا ملانا چاہتا ہے، تاکہ نماز خالص نہ رہے، ایک امامت کرانے والے کو بھی اس بلاء میں مبتلا کرنا چاہتا ہے، پس اس کے حملے سے کبھی بے خوف نہیں ہونا چاہئے۔

Allah, the Exalted, has warned the son of Adam and believers to save themselves from Satan and against treading upon the footsteps of Satan in this and other verses. This directive is given because Satan is disobedient to God, the Exalted, treads against the directives of Allah, the Exalted, rebels against them. It is apparent that one who is disobedient to God, the Exalted, will teach the same to the ones who follow him as he practices himself. Its result will be that Satan who himself is the fuel for the hell, will also make his followers the fuel of the hell. Sometimes in the name of good, in the name of human sympathy, in the name of helping someone, man and woman get acquainted with each other and end up becoming the bearers of adverse consequences. That is why the Holy Prophet(saw) forbade men going into the homes of women whose husbands are not at home. This directive was supported by the reason that Satan is running in the veins of man like blood. Of the some of the evils these days are TV and internet. You can observe that in most homes, from the youngest to eldest do not offer the Morning Prayers (Fajr) because they were either watching the TV or were sitting at internet until late and were watching some program and as a result, they did not get up in the morning. Rather, such people's attention is not at getting up for Salat in the morning. Every Ahmadi home should make it imperative and necessary that all members of the house together at least watch sermon on MTA. Additionally, watch other programs on MTA for at least one hour daily. The homes that are engaged so, there, by the grace of Allah, it is seen that the whole household is inclined towards faith. Children are learning faith and the elders are learning faith. Whoever will do so while will benefit spiritually and will be distanced from Satan The Promised Messiah(as) says at another place relating to the efforts of Satan to attack, Satan is on the look at all times to take man astray and to malign his actions so much so that he wants to mislead him even in his good works and plans to create some kind of trouble. How? For example, if he offers Prayers, he wants to malign them and mix a portion of show in it. A person is offering Prayers but Satan want to add some aspect of show in his heart to create trouble so that Salat is not sincere anymore.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
13-May-2016   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)Uzbek (mp3)

Title: Mahmood Mosque: The Malmo Mosque
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

الحمداﷲ آج اﷲتعالیٰ نے جماعت احمدیہ سویڈن کو دوسری مسجد بنانے کی توفیق عطا فرمائی ہےجس کا نام مسجد محمود رکھا گیا ہے ، سب مردوزن نے ماشاءاﷲ بڑے اخلاص کا مظاہرہ اس مسجد کی تعمیر میں کیا ہے، یہ ایک بڑا منصوبہ تھا جبکہ یہاں کی جماعت چھوٹی سی جماعت ہے ، کئی لوگ بے روزگار بھی ہیں یہاں، بوڑھے بھی ہیں ، بچے بھی ہیں ، خانہ دار عورتیں بھی ہیں لیکن جہاں کمانے والوں نے بڑھ چڑھ کر قربانیاں کی ہیں اور اس مسجد کی تعمیر میں حتی المقدور قربانیاں پیش کیں ہیں ، وہاں عورتیں اور بچے بھی پیچھے نہیں رہے اور اﷲتعالیٰ کے گھر کیلئے دین کو دنیا پر مقدم کرنے کی مثال قائم کی ہے۔ اﷲتعالیٰ مالی قربانی کرنے والوں اور ان لوگوں کو بہترین جزا دے جنہوں نے اس مسجد اور اس کمپلیکس کی تعمیر میں کسی طرح بھی حصہ لیا ہے، بڑی خوبصورت مسجد تعمیر ہوئی ہے اور علاقے کو لوگ بھی اس کی تعریف کر رہے ہیں ، دو دن پہلے اخبار اور ریڈیو کے نمائندے یہاں آئے ہوئے تھے ، حضور کو بھی انہوں نے یہی کہا کہ بہت خوبصورت مسجد تعمیر ہوئی ہے اور اس سے علاقے کی خوبصورتی میں اضافہ ہوا ہے، قربانی کے روح کا اظہار کس طرح بچوں بڑوں نے کیا، اس کے کچھ واقعات کا حضور نے ذکر کیا۔ آج باہر سے بہت مہمان آئے ہوئے ہیں اس لئے مسجد بھری نظر آ رہی ہے لیکن عام حالات میں گنجائش کے لحاظ سے یہ بہت وسیع مسجد ہے ، پورے ملک کی جماعت بھی جمع ہو جائے تو پھر بھی نصف جگہ نماز پڑھنے والوں کیلئے خالی رہے گی ہالوں میں ، پس یہ سویڈن کے احمدیوں کی ذمہ داری ہے کہ اپنی تعداد بڑھائیں ، یہاں کے لوگوں میں اسلام کے بارہ میں غلط فہمیاں دور کریں اور انہیں دور کر کے توحید کی طرف لائیں ، ان لوگوں سے یہ ہمدردی کا تقاضا ہے اور ان کا حق ہے یہ کہ جو احسان یہاں کے رہنے والوں نے آپ کو جگہ دے کر کیا ہے اس کا بہترین بدلہ یہ ہے کہ انہیں اﷲتعالیٰ کے قریب لائیں ۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں نماز میں جو جماعت کا ثواب رکھا ہے اس میں یہی غرض ہے کہ وحدت پیدا ہوتی ہے اور پھر اس وحدت کو عملی رنگ میں لانے کی یہاں تک تاکید ہے کہ جب صف بنا کے کھڑے ہوں تو ایڑیاں ایک سیدھ میں ہوں اور صف سیدھی ہو اور ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہوں ، فرمایا اس سے مطلب یہ ہے کہ گویا ایک ہی انسان کا مطلب رکھیں، اور ایک کے انوار دوسرے میں سرایت کرسکیں ، وہ تمیز جس سے خودی اور خود غرضی پیدا ہوتی ہے وہ نہ رہے، یہ خوب یاد رکھو کہ انسان میں یہ قوت ہے کہ وہ دوسرے کے انوار کو جذب کرتا ہے۔ متقی بننے کے واسطے یہ ضروری ہے کہ بعد اس کے کہ موٹی باتوں جیسے زنا، چوری، تلف حقوق، ریا ، حقارت ، بخل کے ترک میں پکا ہو ، اخلاق رذیلہ سے پرہیز کر کے ان کے مقابلہ میں اخلاق فاضلہ میں ترقی کرے ، گندے اور فضول اخلاق اور بد اخلاقیوں کو چھوڑے ، عمدہ اور اعلیٰ اخلاق کو نہ صرف اختیار کر ے بلکہ اس میں ترقی کرے ، لوگوں سے مروت، خوش خلقی اور ہمدردی سے پیش آؤ قطع نظر اس کے کہ وہ اپنا ہے یا پرایا ہے،اﷲتعالیٰ کے ساتھ سچی وفا اور صدق دکھلاوے ، خدمات کے مقام محمود تلاش کرے، ان باتوں سے انسان متقی کہلاتا ہے۔

Alhamdolillah, God has enabled Swedish Jama'at to build their second mosque which has been named Mahmood Mosque. Both men and women demonstrated great sincerity in the work of the building of the mosque. Considering the small size of Jama'at in Sweden, this was a huge project. Many in the Jama'at are unemployed, there are also the elderly, children and housewives. While the earning members have made great sacrifices, women and children have not fallen back and have been exemplary in giving precedence to faith over worldly matters in the building of this house of God. May God reward those who have made financial sacrifices or have taken any part in the building of the mosque! It is a beautiful mosque and the locals are also appreciative of its aesthetics. Two days ago newspaper and radio representative visited and commented that it was a beautiful mosque and has enhanced the beauty of the area. Hudhur mentioned some examples of the spirit of sacrifice that adults and children displayed. With many guests present today the mosque was quite packed but for everyday use it is a very large mosque and even if the entire Swedish Jama'at was to gather here only half of it will get filled. It is the responsibility of the Swedish Ahmadis to increase their own numbers and dispel the misconceptions of native Swedes regarding Islam and bring them towards Unity of God. It is the right of Swedes that borne of sympathy and consideration for them and owing to their favour that they have accepted us. The Promised Messiah(as) said: 'Congregational Prayer is more meritorious because it creates unity. In order to further foster this unity the details of guidance and advice stretch to the point that even the feet should be aligned during Salat and the rows be straight and individuals should be standing literally shoulder to shoulder. The significance of this is that they follow one person and spiritual light of one permeates into the other and there is no dissimilarity that engenders self-centredness and selfishness. In order to become righteous it is important that after resolutely giving up primary sins like fornication, theft, usurping others, hypocrisy, egotism, disdain and parsimony one avoids base morals and on the contrary develops in high morals. He should treat people with courtesy, civility and sympathy and show true loyalty and sincerity to Allah the Exalted and look for the lauded station of serving others. Man is called righteous by following this.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
06-May-2016   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)Uzbek (mp3)

Title: The essence of Gratitude to Allah
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu
Slide Deck: Powerpoint | Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا: تقریبا 11 سال پہلے میں یہاں آیا تھا ، کئی بچے تھے آج جوان ہو گئے ہونگے، کئی ایسے ہونگے جو بچوں کے ماں باپ بن چکے ہونگے ، اﷲتعالیٰ نےبہت فضل فرمایا ہے یہاں جماعت پر اور مسجد کے ساتھ ایک بڑا ہال ،دفاتر ، لائبریری اور دوسری سہولیات مل گئیں ، اسی طرح مسجد کے سامنے جو مکان لیا تھا اس میں بھی بڑی وسعت پیدا ہوگئی، مشنری کی رہائش گاہ، گیسٹ ہاؤس اور ایک بڑا ہال میسر آگیا ، یہ سب اﷲتعالیٰ کے فضل ہیں ، اگر آپ کے گھروں کی آبادیاں مال بڑھے اور جماعت کو اﷲتعالیٰ نے وسعت عطا فرمائی ہے تو یقینا ہمیں اﷲتعالیٰ کا شکر گزار ہونا چاہئے۔ اﷲتعالیٰ نیکی کا اجر دیتا ہے اور ضرور دیتا ہے، اولادیں بھی اس سے فیض پاتی ہیں اگر خالص اﷲتعالیٰ کیلئے نیکی ہو لیکن ساتھ ہی اﷲتعالیٰ یہ بھی فرماتا ہے کہ تمہیں اپنے عمل درست کرنے ہونگے تاکہ اﷲتعالیٰ کے فضلوں کا فیض ہمیشہ جاری رہے ، جن کے بزرگ احمدی ہوئے ان بزرگوں نے تو اپنے عہد بیعت کو نبھایا اور دنیا سے رخصت ہوئے ، اس خواہش اور دعا کے ساتھ رخصت ہوئے کہ ان کی نسلیں بھی عہد نبھانے والی ہوں ، پس اس وقت آپ میں سے بہت سے ایسے ہیں جن کو یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم اس عہد کو نبھانے والے ہیں یا روایت کے طور پر بڑوں کے دین پر قائم ہیں ۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ ہماری جماعت کیلئے ضروری ہے کہ اس پر آشوب زمانے جبکہ ہر طرف ذلالت ، غفلت اور گمراہی کی ہوا چل رہی ہے ، تقویٰ اختیار کریں، دنیا کا یہ حال ہے کہ اﷲتعالیٰ کے احکامات کی عظمت نہیں ہے ،حقوق اور وصایا کی پرواہ نہیں ہے ، نہ اپنے ذمہ حق ادا کرتے ہیں اور نہ اپنی وصیتوں کو پورا کرنے والے ہیں ، دنیا او راس کے کاموں میں حد سے زیادہ انہماک ہے، ذرا سا نقصان دنیا کا ہوتا دیکھ کر دین کے حصہ کو ترک کر دیتے ہیں ، اس وقت دین مقدم ہونے کی بجائے دنیا مقدم ہو جاتی ہےاور اﷲتعالیٰ کے حقوق ضائع کردیتے ہیں جیسا کہ مقدمہ بازیوں میں یہ باتیں دیکھی جاتی ہیں۔ اس سلسلہ کو اﷲتعالیٰ نے خود اپنے ہاتھ سے قائم کیا ہے اور اس پر بھی ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے لوگ آتے ہیں وہ صاحب اغراض ہوتے ہیں ، اگر اغراض پورے ہوگئے تو خیر ورنہ کدھر کا دین اور کدھر کا ایمان لیکن اگر اس کے مقابلہ پر اگر صحابہؓ کی زندگی پر نظر کی جائے تو ان میں ایک بھی ایسا نظر نہیں آتا ، ہماری بیعت بیعت توبہ ہی ہےلیکن صحابہؓ کی بیعت تو سر کٹانے کی بیعت تھی ، اس زمانے میں تلوار کا جہاد تھا جس کیلئے ہر کوئی ہر وقت تیار تھا۔ اس سلسلہ کو اﷲتعالیٰ نے خود اپنے ہاتھ سے قائم کیا ہے اور اس پر بھی ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے لوگ آتے ہیں وہ صاحب اغراض ہوتے ہیں ، اگر اغراض پورے ہوگئے تو خیر ورنہ کدھر کا دین اور کدھر کا ایمان لیکن اگر اس کے مقابلہ پر اگر صحابہؓ کی زندگی پر نظر کی جائے تو ان میں ایک بھی ایسا نظر نہیں آتا ، ہماری بیعت بیعت توبہ ہی ہےلیکن صحابہؓ کی بیعت تو سر کٹانے کی بیعت تھی ، اس زمانے میں تلوار کا جہاد تھا جس کیلئے ہر کوئی ہر وقت تیار تھا۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں یہ زمانہ بھی روحانی لڑائی کا ہے ، شیطان سے جنگ شروع ہے ، شیطان اپنے تمام ہتھیاروں کو لے کر اسلام کے قلعہ پر حملہ آور ہو رہا ہے اور چاہتا ہے کہ شیطان کو شکست دے اور خدا تعالیٰ نے شیطان کی اس آخری جنگ میں اس کو ہمیشہ کیلئے شکست دینے کیلئے اس سلسلے کو قائم کیا ہے ، مبارک وہ جو اس کو شناخت کرتا ہے ، عنقریب وہ وقت آتا ہی کہ خداتعالیٰ اس سلسلے کی سچائی کو آفتاب سے بھی زیادہ روشن کر کے دکھائے گا۔

Hazrat Khalifatul Masih said that his last visit to Denamrk was eleven years ago. Those who were little children at the time would be youth now and many among the youth of eleven years ago would now be parents. There are many blessings on the Jama'at in Denmark in the physical sense. They now have offices, hall and a library adjacent to the mosque. The house has been extended and now comprises of accommodation for missionary, guest house and a hall. All this is with God's grace. God certainly rewards piety and one's children also benefit from this reward but God also states that one must also correct one's practices. Our forefathers have departed from this world with the hope that their families would fulfil the pledge of bai'at. Many among the Ahmadis in Denmark should see if they are fulfilling pledge of bai'at in that spirit. It is needed to self-reflect whether the pledge of bai'at is being fulfilled for real or merely out of family and societal connections. The Promised Messiah(as) said that in these turbulent times when misguidance, negligence and misdirection are rampant our Jama'at should adopt righteousness. God's commandments are not held in greatness and there is no care about duties and advice given. People are too engrossed in the world and all that is worldly. Any minor worldly loss makes people abandon faith. This can be observed in court cases and matters of inheritance. God Almighty has established this mission/movement with His own hands, even then we see that many people join it out of vested interests. If their interests are met, well and good, if not, their faith and creed goes out of the window! On the other hand if the life of the Companions(ra) is looked at, one cannot find a single such account. They did not ever act in this way. My bai'at is a matter of repentance but the bai'at of the Companions entailed putting their lives on the line. The Promised Messiah(as) said this is also an age for spiritual warfare. War is on with Satan who is attacking the fortress of Islam with all his weaponry and scheming and wants to defeat Islam. However, God Almighty has established this movement to forever defeat Satan in his last war. Blessed are those who recognise it…Soon the time will come when God Almighty will illuminate the truth of this movement brighter than the sun.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
29-Apr-2016   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)Uzbek (mp3)

Title: The Teachings of Promised Messiah (a.s.)
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

بہرحال ختم نبوت کو بنیاد بنا کر دوسرے مسلمان ہمیشہ سے احمدیوں کی مخالفت کرتے آئے ہیں اور وقتا فوقتا کسی بات پر اس میں زیادہ ابال آجاتا ہے یا نام نہاد علماء اور تنظیموں کی طرف سےمسلمانوں کو اس سلسلہ میں بھڑکانے کی کوشش کی جاتی ہے ، پچھلے دنوں جو گلاسگو میں ایک احمدی کی شہادت ہوئی تھی ، اس وجہ سے اس معاملے کو مخالفین نے اپنی جان بچانے کیلئے مذہبی جذبات کا ایشو بنانے کی کو شش کی لیکن پھر حکومت کے مثبت رویے اور پریس کی بے انتہا دلچسپی کی وجہ سے ظاہری طور پر معذرت خواہانہ رویہ بھی اختیار کر لیا لیکن ساتھ ہی اس بات ہٹ دھرمی سے اظہار کیا کہ احمدی مسلمان نہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک میں یہ ابال وقتا فوقتا اٹھتے رہتے ہیں اور اب چونکہ میڈیا اور سفر کے تیز وسائل اور سہولتوں کی وجہ سے مخالفین اور مخالفتیں ہر جگہ پہنچ جاتے ہیں ، اس لئے دنیا کا کوئی ملک ان فساد پھیلانے والے نام نہاد مسلمانوں سے محفوظ نہیں ، افریقہ میں بھی بعض جگہ پہنچ جاتے ہیں اور جہاں کبھی یہ لوگ پہنچے نہیں تھے اور وہ لوگ لا مذہب تھے یا عیسائی تھے وہاں جب احمدیوں نے جماعتیں قائم کیں اور مسجدیں بنائیں تو وہاں بھی پہنچ جاتے ہیں کہ یہ مسلمان نہیں ، یورپ میں بھی جس طرح کی تعلیم یہ اپنے گھروں میں اور مسجدوں اور مدرسوں میں دے رہے ہیں ، ان کے بچوں کے ذہن زہر آلود ہو رہے ہیں ۔ یہ ظلم اور شرارت کی بات ہے کہ ختم نبوت سے خداتعالیٰ کا اتنا ہی منشاء قرار دیا جائے کہ منہ سے ہی خاتم النبین مانو اور کرتوت وہی کرو جو تم خود پسند کرتے ہو اور اپنی الگ شریعت بنا لو ، جیسا کہ بغدادی صلوٰۃ اور معقوص صلوٰۃ ایجاد کی ہوئی ہیں بعض مسلمان فرقوں نے، فرمایا کہ کیا قرآن شریف آنحضرت ﷺ کے عمل میں بھی اس کا کہیں پتہ لگتا ہے؟ ،کیا شریعت اسلام کی پابندی اور التزام اسی کا نام ہے، اب خود ہی فیصلہ کرو کہ ان باتوں کو مان کر تم اس قابل ہو کہ مجھے الزام دو کہ میں نےخاتم النبیین کی مہر کو توڑا ہے۔ ایک دفعہ ایک عبدالحق نامی شخص جو پہلے مسلمان تھے لیکن پھر عیسائی ہوگئے ، علمی تحقیق کیلئے قادیان آئے اور حضرت مسیح موعود ؑ کے پاس ٹھئرے، مختلف ملاقاتوں میں آپؑ ان کو مسائل بیان فرماتے تھے ، ایک دن انہوں نے کہا کہ ایک عیسائی کے سامنے آپؑ کانام لیا تو اس نے آپؑ کو گالی دی، کہنے لگا کہ مجھے یہ بہت ناگوار کزرا ، حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا گالیاں دیتے ہیں اس کی تو مجھے پرواہ نہیں ہے ، بہت سے خطوط گالیوں کے آتے ہیں جن کا مجھے محصول بھی دینا پڑتا ہے اور کھولتا ہوں تو گالیاں ہوتی ہیں۔ پس یہ چند باتیں ہیں جو حضرت خلیفۃ المسیح نے بیان فرمائی ہیں ، یہ اس عظیم ذخیرے سے ہیں جو حضرت مسیح موعودؑ نے صحیح اسلامی تعلیم اور آنحضرت ﷺ کے اسوہ کے مطابق رکھا ہے جس سے ظاہر ہو تا ہے کہ آپؑ نے ہی آنحضرت ﷺ کی تعلیم اور قرآنی تعلیم کو اپنانے اور اپنے اوپر لاگو کرنے کا حق ادا کیا ہے ، ختم نبوت کا صرف نعرہ نہیں لگایا بلکہ آپؑ کا ہر قول و فعل اپنے آقا و متاع کی اتباع میں تھا اوراسی تعلیم اور اسی شریعت کو ہی قائم کرنے کی آپؑ کو تڑپ تھی۔

They have always opposed Ahmadis on the basis of finality of Prophethood. Time and again something causes an upsurge in this and so-called religious leaders and organisations try and provoke Muslims. In order to save their skin following the recent martyrdom of an Ahmadi in Glasgow our opponents have tried to make it an issue of religious sentiments. However, due to the very positive stance of the Government on the matter and the intense interest shown by media, Muslim organisations, in fact the biggest Muslim organisation here, tried to adopt an apparently sympathetic position. This upsurge of hostility against Ahmadis rises in different countries time and again and because of media and ease of travel the enmity reaches everywhere. Thus no country in the world is safe from the so-called Muslims who spread disorder and chaos. They reach everywhere, including Africa. Ahmadis built mosques in Africa, so they reached there to pronounce that Ahmadis are not Muslims! Those who live here, in Europe give the same teaching in their mosques and madrassas and are thus filling their children's minds with venom. It is unfair and mischievous to consider that God Almighty only willed this much regarding finality of Prophethood that one should verbally accept the concept of finality of Prophethood but carry on doing whatever one wanted to do. And make new religious law of one's own. Just as they have invented Baghdadi Salat and Ma'akoos Salat etc. Do we find any indication towards it in the Holy Qur'an or the practice of the Holy Prophet(saw)? A young man named Abdul Haq who had converted to Christianity from Islam came to Qadian and met the Promised Messiah(as) and discussed many issues. He said that when he told a Christian that he was about to travel to Qadian the person verbally abused the Promised Messiah(as) which Abdul Haq found very unpleasant. The Promised Messiah(as) replied: 'I am not concerned that people are verbally abusive to me. I receive many abusive letters even those letters for which I have to pay the postage. These are just a few extracts from the huge treasure-trove that the Promised Messiah(as) has given us and we see that he fulfilled the dues of adopting and implementing the teachings of the Holy Prophet(saw) and the Holy Qur'an. He did not simply raise a slogan of finality of Prophethood, in fact his each word and deed was in subordination of his master. He instructed and advised his followers to also abide by this teaching.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
22-Apr-2016   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)Uzbek (mp3)

Title: Salat and Fiqah Masih
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ سے میں نے خود سنا ہے بعض دفعہ جب آپؑ سے کوئی فقہی مسئلہ پوچھا جاتا تو چونکہ یہ مسائل انہی لوگوں کو یاد ہوتے ہیں جو کسی کام میں لگے رہتے ہیں تو بسا اوقات آپؑ فرمایا کرتے تھے کہ جاؤ مولوی نورالدین صاحبؓ سے پوچھ لو یا مولوی عبدالکریم مرحوم ؓ کا نام لیتے یا کسی اور مولوی صاحب کا نام لے لیتے اور بعض دفعہ آپ دیکھتے کہ مسئلہ کا حل کسی ایسے امر سے متعلق ہے جہاں بحیثیت مامور آپؑ کیلئے دنیا کی راہنمائی کرنا ضروری ہے تو آپؑ خود وہ مسئلہ بتا دیتے مگر جب کسی مسئلہ کا جدید اصلاح سے تعلق نہ ہوتا تو آپؑ فرمادیتے فلاں مولوی صاحب سے پوچھ لیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا: گزشتہ دنوں حضور لیسیسٹر میں ایک مسجد کے افتتاح کیلئے تشریف لے گئے، وہاں صرف تھوڑی دیر کیلئے جانا تھا اس لئے حضور نے عشاء کی نماز پوری پڑھائی اس پر بعض لوگوں کو سوال پیدا ہوا کہ نماز قصر نہیں کروائی گئی ، اس وقت حضور کے ذہن میں حضرت مسیح موعودؑ کا یہی ارشاد تھا کہ سفر کی نیت سے گٹھری اٹھا کر جو سفر کیا جاتا ہے وہ سفر ہے اور وہ چونکہ اس قسم کا سفر نہیں تھا اور حضور نے تھوڑی دیر بعد واپس آجانا تھا اس لئے قصر نہیں کہ تھی اور پھر انما الاعمال بالنیات کو بھی سامنے رکھیں ۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ مجھ سے سوال کیا گیا ہے کہ جمعہ کی نماز کے وقت بعض دوستوں میں اختلاف ہوا ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کا فتویٰ ہے کہ اگر نمازیں جمع کی جائیں تو پہلی پچھلی اور درمیان کی سنتیں معاف ہوتی ہیں ، اس میں شک نہیں کہ جب نماز ظہر اور عصر جمع ہو تو پہلی اور درمیان کی سنتیں معاف ہوتی ہیں یا اگر نماز مغرب اور عشاء جمع ہو تو دمیان کی اور آخری سنتیں معاف ہو جائیں گی، لیکن اختلاف یہ ہے کہ میں نے سفر میں جمعہ اور عصر کی نماز قصر کر کے پڑھائیں اور پہلے کی سنتیں بھی پڑھیں، یہ دونوں باتیں صحیح ہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعودؑ نے ساری جماعت کو آتش بازی کرنے کا حکم نہیں دیا ، اگر بچے کبھی کبھی کر لیں تو کوئی حرج نہیں اور اس نیت سے بھی کئے جائیں کہ فضا بھی صاف ہوگی تو دونوں چیزیں مل جاتی ہیں ، بچے اگر تھوڑی سی تفریح کرلیں تو کوئی حرج نہیں ہے ، ان کے جذبات کو بالکل دبایا نہ جائے ، بچوں میں یہ احساس بھی رہے کہ ان کی کھیل کود کی جو عمر ہے اس میں اسلام ان کے جائز مطالبات کو رد نہیں کرتا مثلا چراغاں ہے آتش بازی ہے جہاں انہیں ملک کی مجموعی خوشی میں شامل کرتی ہے ، اس سے ملک سے ایک تعلق کا اظہار بھی ہوتا ہے ۔ حضرت مسیح موعودؑ کی مخالفت علما ء کی طرف سے ان کی جہالت اور ذاتی مفادات کیلئے تھی لیکن لوگوں کو وہ مذہب کے نام پر اکسا کر اپنے مقصد پورے کر رہے تھے ، حالانکہ جس بات کو مخالفت کا ذریعہ بنایا جا رہا تھا یا بنایا جاتا ہے، حضرت مسیح موعودؑ آئے ہی اس بات کو قائم کرنے کیلئے تھے یعنی اسلام کی حقیقی تعلیم بتانا اور آنحضرت ﷺ کے مقام ختم نبوت کو قائم کرنا ، آپؑ تو آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق تھےاور غلام صادق تھے ، آپؑ تو آئے ہی اس لئے تھے کہ دنیا کو بتائیں کہ اب دنیا کی نجات اس آخری نبی اور خاتم الانبیاء ﷺ کے ذریعہ سے ہی ہے۔ امتہ الحفیظ رحمان صاحبہ کی وفات۔

Hazrat Musleh Maud(ra) said that he had heard the Promised Messiah(as) refer any questions on matters of Islamic jurisprudence to those who were well versed in the matter and had recollection of the answers. He would refer to people like Hazrat Maulana Nur ud Din or Hazrat Maulawi Abdul Karim(ra) or other maulawis. At times however the Promised Messiah(as) felt that the matter necessitated that the guidance came from one commissioned by God and he would explain the matter himself. Hazrat Khalifatul Masih said that state of being on travel is when one starts off with the intention of travel. He said he went to Leicester recently on a day trip and while there led full Isha Salat. Question was raised why Salat was not shortened. Huzoor had the Promised Messiah's pronouncement in mind at the time that state of travel is when one packs one's bag to travel. While travel to Leicester was not like this and was the reason why Salat was not shortened. Hazrat Musleh Maud(ra) said that he was told that during Friday Prayer some friends had a disagreement. It was said that the Promised Messiah(as) had passed an edict that if Friday Prayers were combined with Asr then the first, middle and latter Sunnah Salat were not offered. When Zuhr and Asr were combined the first and middle Sunnah Salat were not offered. Or when Maghrib and Isha were combined the middle and latter Sunnah Salat were not offered. Hazrat Khalifatul Masih said the Promised Messiah(as) did not say that the Jama'at could go ahead and indulge in fireworks, he only allowed children to occasionally enjoy them especially as it also helps clean the air. It is fine for children to have some fun, their sentiments should not be completely suppressed so that they understand that Islam does not dismiss their rightful demands during their playing days, like illuminations and fireworks. All this animosity from clerics was based on their ignorance and vested interests but they provoked the public in the name of religion. Although what they based their animosity on is precisely the reason of the advent of the Promised Messiah(as). Which is to establish the true teachings of Islam and to establish the station of finality of the Prophethood of the Holy Prophet(saw) and it was for this task that his true servant and his true ardent devotee came, so that he could tell the world that today salvation was only possible through the Seal of all Prophets. Death of Amatul Hafiz Rahman Sahiba.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
15-Apr-2016   Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)Uzbek (mp3)

Title: Salat is it
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Persian | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

عبادت کی غرض کس طرح پوری ہوتی ہے؟ اس کے لئے اسلام نے ہمیں پانچ وقت کی نمازوں کی ادائیگی کا حکم دیا ہے ، ایک حدیث میں ہے کہ نماز عبادت کا مغز ہے، پس اس مغز کو حاصل کر کے ہی ہم عبادت کا مقصد پوراکرسکتے ہیں، ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم نے اس زمانے کے امام کو ماناہےجنہوں نے ہمیں عبادتوں کے صحیح طریق سکھائے ، ہمیں حکمت سکھائی، اس لئے ہمارے لئے عبادت کرنی بھی ضروری ہے ، بار بار متعدد موقعوں پر اپنی جماعت کو نمازوں کی طرف توجہ دلائی ہے، اس کی تفصیلات بتائیں، اس کی حکمت اور ضرورت بتائی ہےتاکہ ہم نمازوں کی اہمیت کو سمجھیں۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: اﷲتعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے عورت اور مرد کو جوڑا پیدا کیا اور مرد کو رغبت دی ہے، اب اس میں زبردستی نہیں بلکہ ایک لذت بھی دکھلائی ، فرمایا خداتعالیٰ کی علت غائی بندوں کا پیدا کرنا تھا اور اس کیلئے ایک تعلق مرد عورت میں قائم کیا اور ضمنا اس میں ایک حد رکھ دیا جو اکثر نادانوں کیلئے مقصود با الذات ہوگیا ، اسی طرح خوب سمجھ لو کہ عبادات میں کوئی بوجھ اور ٹیکس نہیں، اس میں بھی ایک لذت اور سرور ہے اور یہ لذت اور سرور دنیا کی تمام لذتوں سے بالا تر اور بلند ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں : یاد رکھو صلوٰۃ میں حال اور قال دونوں کا جمع ہونا ضروری ہے یعنی ایسی کیفیت پیدا ہو جو نماز کی حالت ہونی چاہئے اور دوسری یہ بھی احساس ہو کہ انسان اﷲتعالیٰ کے سامنے کھڑا ہے ، بعض دفعہ ایسی تصویر دکھائی جاتی ہے جس سے دیکھنے والے کو پتہ ملتا ہے کہ اس کا منشاء یہ ہے، ایسا ہی صلوٰۃ میں منشاء الٰہی کی تصویر ہے ، نماز کی جو حالتیں ہیں ان میں کیا چاہتا ہے اﷲتعالیٰ انسان سے اس کا تصویری نمونہ قائم کیا گیا ہے ، فرمایا جیسا کہ نماز میں زبان سے کچھ پڑھا جاتا ہے، ایسا ہی اعضاء سے کچھ دکھایا بھی جاتا ہے ، جب انسان کھڑا ہوتا ہے اور تسبیح و تحمید کرتا ہے، اس کا نام قیام رکھا۔ ترک نماز کی عادت اور کسل کی وجہ یہ بھی ہے کیونکہ جب انسان غیر اﷲکی طرف جھکتا ہے تو روح کی طاقتیں اس درخت کی طرح جس کی شاخیں ایک طرف کر دیں جاویں اور وہ اس طرف جھک کر پرورش پالیں ، ادھر ہی جھکتا ہے، خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک سختی اور تشدد اس کے دل میں پیدا ہو کر اسے منجمد اور پتھر بنا دیتا ہے ، فرمایا کہ جیسے وہ شاخیں پھر دوسری طرف مڑ نہیں سکتیں اسی طرح دل اور روح دن بدن خدا تعالیٰ سے دور ہوتی جاتی ہے، پس یہ بڑی خطرناک اور دل کو کپکپا دینے والی بات ہے کہ انسان اﷲتعالیٰ کو چھوڑ کر دوسرے سے سوال کرے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: جب تک انسان کامل طور پر توحید پر کاربند نہیں ہوتا ، اس میں اسلام کی محبت اور عظمت قائم نہیں ہوتی، نماز کی لذت اور سرور اسے حاصل نہیں ہوسکتا ، مدار اسی پر ہے کہ جب تک برے ارادے ، ناپاک اور گندے منصوبے بھسم نہ ہوں ، انانیت اور دشمنی دور ہو کر نیستی اور فروتنی نہ آئے، خدا کا سچا بندہ نہیں کہلا سکتا، فرمایا عبودیت کاملہ کے سکھانے کیلئے بہترین معلم اور افضل ترین ذریعہ نماز ہے ، آپؑ نے فرمایا میں پھر تمہیں بتلاتا ہوں کہ اگر خداتعالیٰ سے سچا تعلق قائم کرنا چاہتے ہو تو نماز پر کاربند ہوجاؤ۔ اصغری بیگم صاحبہ اہلیہ شیخ رحمت اﷲصاحب کی وفات۔

How does one fulfil the purpose of worship of God? Islam commands five daily Prayers for this. A Hadith relates that Salat is the core of worship of God. We are fortunate to have accepted the Imam of the age who taught us the correct ways of worship of God, and gave us the wisdom into the requisite of worship. He repeatedly drew attention of his Jama'at to this matter in detail so that we would understand its significance and would adorn our worship of God. God states that He has created man and woman as a couple and has placed delight in their relationship. If procreation was the only objective here, the purpose would not have been fulfilled. God has placed delight for men and women in it. God willed to create human beings and for this He made a connection between man and woman and made it pleasurable, although this became the sole purpose for some foolish. It should be understood in the same vein that there is no burden and levy in worship of God. The Promised Messiah(as) said that it is important to offer Salat while being mindful of its words as well as being mindful of the physical state in which it is offered. Words of Salat correspond with its different postures. The posture when one stands up in Salat and glorifies and praises God is called qiyyam [this Urdu word can also signify 'to establish']. The appropriate position to submit glorification and praise is indeed in a standing posture. One reason people give up Salat is also this that when man turns to others besides God his heart and soul is also drawn to that source just as branches of a shrub or tree are trained to grow in a certain direction. His heart develops severity towards God and makes him stony and cold and he cannot change his direction and his heart and soul grow distant from God by the day. This is a dangerous and frightening matter that man should leave God and seek from another. The Promised Messiah(as) said that unless a person completely abides by Unity of God he cannot have love and greatness of Islam instilled in him. And he cannot attain delight and pleasure in Salat. It is all dependent that unless bad, impure intentions and wicked scheming are not incinerated arrogance and conceit will not be removed in order to attain humility and humbleness. In such instance a person cannot be called a true servant of God for the best teacher and most excellent means to impart perfect devotion is Salat alone. Death of Asghari Begum Sahiba, wife of Sheikh Rehmatullah Sahib.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
08-Apr-2016   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)Uzbek (mp3)

Title: Khalifatul Masih II: Pearls of Wisdom
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Persian | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

پس خوابوں کو بنیاد بنانا کسی بات کے متعلق چاہے وہ نیکی کی بات ہی کیوں نہ ہواور اپنے آپ کو ایسی تکلیف میں ڈالنا جس کی طاقت نہ ہو نہ صرف غلط ہے بلکہ غیر صالح عمل ہے اور بعض دفعہ گناہ بن جاتا ہے ، ہاں جن کو خداتعالیٰ نے مامور من اﷲ کے طور پر کھڑا کرنا ہو ، ان کے ساتھ خداتعالیٰ کا سلوک مختلف ہوتا ہے ، ان کا کسی عام فرد سے مقابلہ نہیں کیا جاسکتا ، اس واقعہ سے شاید کسی کو بھی یہ بھی خیال ہو کہ حضرت مسیح موعودؑ نے چھ ماہ کے متواتر روزے رکھے تھے تو اس کے متعلق ایک تو یہ واضح ہو کہ اﷲتعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؑ کو خود نبوت کے مقام پر کھڑا کرنا تھا۔ حضرت مسیح موعودؑ پر ایک یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ آپؑ نے ایک جماعت بنا کر فساد پیدا کردیا اور مسلمانوں میں بقول آپ کے 73واں فرقہ بنا دیا ، ضرورت تو اس بات کی تھی کہ تفرقے کم کئے جاتے ، الٹا ایک زائد فرقہ بنا کر مزید تفرقہ ڈال دیا ، یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ انبیاء کی بعثت کے وقت یہ باتیں کہیں جاتی ہیں ، آنحضرت ﷺ پر بھی یہی الزام مکہ والے لگاتے تھے کہ بھائی بھائی کو آپس میں جدا کر دیا ، ہم میں تفرقہ پیدا کردیا اور دشمنیاں ڈال دیں حالانکہ فساد کی حالت تو ان میں پہلے سے تھی اور یہی حال آجکل کے مسلمانوں کا ہے ، نبی تو اﷲتعالیٰ اس لئے بھیجتا ہے کہ فساد کی حالت کو دور کرے اور ایک ہاتھ پر جمع ہو کر یہ لوگ وحدت میں آجائیں، پس جو ایمان لاتے ہیں وہ امن میں آجاتے اور فسادوں سے دور ہو جاتے ہیں ۔ غیروں میں بیٹیاں بیاہنے کے کچھ عرصے بعد ہی لوگوں کو اپنی غلطی کا احساس بھی ہو جاتا ہے ، ابھی بھی کئی لوگ لکھتے ہیں کہ ہم ان کئے گئے فیصلوں کا خمیازہ بھگت رہے ہیں ، دین سے بھی دورہ ہوگئی ہے اور بعض سسرال والوں نے تو ماں باپ اور رشتہ داروں سے ملنے پر بھی پابندی لگا دی ہے، لیکن وہ لوگ بھی ہیں جو اپنی انا میں آکر بعض دفعہ اچھے بھلے احمدی رشتوں کو ٹھکرا دیتے ہیں جبکہ لڑکیاں بھی راضی ہوتی ہیں اور لڑکے بھی راضی ہوتے ہیں ، حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا کہ بعض جگہ میں نے بھی کہا کہ رشتہ کر لو لیکن انا کی وجہ سے انکار کر دیا۔ بیاہ شادی کے بارہ میں ایک یہ مسئلہ بھی واضح ہونا چاہئے کہ باوجود اس کے کہ لڑکی کی پسند بھی رشتہ میں شامل ہونی چاہئے اور آنحضرت ﷺ نے لڑکی کی پسند کو قائم فرمایا ہے کہ لڑکی مر ضی شامل ہولیکن اسلام اس بات کی پابندی بھی ضرور کرواتا ہے کہ ولی کی اجازت کے بغیر نکاح جائز نہیں ، حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ اﷲتعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؑ کو بھیجا ہے اور واقع میں آپؑ اسی کی طرف سے ہیں تو اسلام کی شریعت یہی کہتی ہے کہ ولی کی اجازت کے بغیر سوائے ان استسنعات کے جہاں استثناء خود شریعت نے رکھا ہے کوئی نکاح جائز نہیں اور اگر ہوگا تو ناجائز ہوگا۔ ایک خطبہ میں حضرت مصلح موعودؓ یہ مضمون بیان فرما رہے تھے کہ ذکر الٰہی کیلئے اور خداتعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے کیلئے ، اس سے محبت کیلئے ضروری ہے کہ اﷲتعالیٰ کی صفات کو سامنے لا کر غور کیا جائے اور ان صفات کے ذریعے سے ذاتی تعلق بڑھایا جائے ، اﷲتعالیٰ کی محبت کا صحیح ادراک تبھی حاصل ہوتا ہے اور یہ عام قانون قدرت ہے کہ ظاہری تعلق محبت پیدا کرنے کیلئے بھی یہ ضروری ہے کہ یا تو جس سے محبت کی جاتی ہے یا اس کی قربت ہو یا اس کی کوئی تصویر سامنے ہو، اس بات کو بیان کرتے ہوئے آپؓ فرماتے ہیں کہامثلا اسلام نے یہ کہا ہے کہ جب شادی کرو تو شکل دیکھ لو اور جہاں شکل دیکھنی مشکل ہو وہاں تصویر دیکھی جاسکتی ہے۔ سکینہ ناہید صاحبہ کی وفات، شوکت غنی صاحب شہید کی شہادت۔

It is wrong and not pious to make one's dream the basis of something and put oneself through unnecessary trouble and this can also be sinful. Indeed, people who are sent by God are not like ordinary people and God's treatment with them is different. It should be clear to anyone who has any thoughts here that the Promised Messiah(as) also fasted for six months that God was going to bestow prophethood on him. Some criticise the Promised Messiah(as) that by making a separate Jama'at he created a 73rd sect and caused friction rather than reduce discord. Matters such as thus regularly arise at the time of advent of Prophets of God. The Meccans used to allege that the Holy Prophet(saw) had torn families and brothers apart although there was so much existing disorder at the time of his advent. The situation among Muslims is the same today. God sends His Prophets to remove disorder as those who accept him come into peace. People who marry their daughters outside soon realise the mistake. People still write acknowledging that they are suffering due to the decisions they made. Some girls are restricted from meeting their families and are also deprived of their faith. There are also parents who owing to egotistical tendencies do not agree on good Ahmadi marriage proposals although the young man and woman are happy. Hazrat Khalifatul Masih said at times people have not accepted his suggestions for marital matches. Another matter which should be clear as regards marriage is that in Islam a girl's choice as to where she gets married counts. The Holy Prophet(saw) gave young women the right to choose. However, Islam also restricts that any nikah without the presence of a wali(guardian) of the girl is not valid. Hazrat Musleh Maud(ra) said that if God sent the Promised Messiah(as) and if he truly was from God then apart from the exemptions that our Islamic Shariah itself makes, no nikah is valid without a wali. In one of his sermons Hazrat Musleh Maud(ra) said that in order to instil love of God it was important to ponder over different Divine attributes when engaged in remembrance of God. He said it was a common law of nature that even for worldly love one either needs to be close to one's beloved or have a photograph. For example Islam says that one may look at the other party before getting married and where it is difficult to see each other a photograph may be sent. Death of Sakina Naheed Sahiba and Shaukat Ghani Shaheed Sahib.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
01-Apr-2016   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)Uzbek (mp3)

Title: Khalifatul Masih II: Pearls of Wisdom
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Persian | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

ہم احمدی یقینا ان خوش قسمت لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت کی اور ان لوگوں میں شامل ہوئے جو اﷲتعالیٰ کے حکموں پر عمل کرنے والے ہیں ، ان بدقسمتوں میں نہیں جن کو باوجود حضرت مسیح موعودؑ کا زمانہ میسر آنے کے بیعت کرنے کی توفیق نہیں ملی بلکہ بعض ایسے بدقسمت بھی ہیں جو مخالفت میں بھی بڑھے ہوئے ہیں اور یوں اﷲتعالیٰ کے فرستادے کی راہنمائی سے محروم ہو کر بھٹکے ہوئے اور بکھرے ہوئے ہیں ، پس اس بات پر ہم اﷲتعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے کہ اس نے ہماری سیدھے راستے کی طرف راہنمائی فرمائی۔ آجکل اسلامی ممالک میں جو ہڑتالیں اور بغاوتیں ہوتی ہیں، سوائے اس کے جہاں شیطانی طاقتیں کام کر رہی ہیں، عموما عوام اور حکومت کے درمیان بے چینیاں ایک دوسرے کے حق ادا نہ کرنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں، اگر حکومت انصاف پر مبنی نظام چلا رہی ہو تو شیطانی طاقتیں فساد پھیلاتی ہیں یا بیرونی طاقتیں فساد پھیلاتی ہیں انہیں بھی موقع نہ ملے ، اﷲتعالیٰ مسلمان ممالک، پاکستان کو خاص طور پر کی حکومتوں کو عقل دے کہ وہ اپنی رعایا کے حق ادا کرنے والے ہوں ، اسی طرح ہر احمدی کو دعا کے ساتھ ساتھ اگر کہیں زبردستی شامل کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے تو مجبوری میں ایسی حرکت کوئی نہ کرے جو جائیدادوں اور حکومتی اموال کو نقصان پہنچانے والی ہو۔ اسلام میں عورت کیلئے شادی کے وقت حق مہر رکھا گیا ہے اس لئے اس کی ادائیگی ہونی چاہئے، بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ صرف طلاق یا علیحدگی کی صورت میں ہی حق مہر ادا کرنا ہے ، حق مہر کا مقصد یہ ہے کہ یہ وہ رقم ہے جو عورت کے پاس ہو کہ اگر اس کے اوپر کوئی خاص خرچ آپڑے جس کا وہ خاوند سے مطالبہ کرتے ہوئے ہچکچائے اور شرم محسوس کرے تو اس میں سے وہ خرچ کر سکتی ہے یا بعض وقت ایسی ضرورت پیش آجاتی ہے جو موقع پر خاوند بھی پوری نہیں کرسکتا ، عورت کی ضرورت کچھ بھی ہوسکتی ہے مثلا کسی رشتہ دار کی مدد کرنا ، ایسی رقم جو اس کی اپنی ضروریات، ہنگامی ضروریات اور اپنی مرضی کے خرچ کیلئے پوری کرسکے۔ حضرت مسیح موعودؑ کو ایک شخص نے لکھا کہ دعا کریں کہ فلاں عورت کے ساتھ میرا نکاح ہو جائے ، آپؑ نے فرمایا کہ ہم دعا کریں گے لیکن نکاح کی کوئی شرط نہیں ہے خواہ نکاح ہوجائے خواہ اس سے نفرت پیدا ہوجائے، آپؑ نے دعا فرمائی اور چند دن بعد اس نے لکھا میرے دل میں اس سے نفرت پیدا ہوگئی ہے، اسی طرح حضرت مصلح موعودؓ کو بھی ایک شخص نے ایسا لکھا تھا اور میں نے بھی حضرت مسیح موعودؑ کی سنت میں اسے یہی جواب دیا تھا اور اس نے بعد میں مجھ اطلاع دی کہ اس کے دل سے اس کا خیال جاتا رہا پس اﷲتعالیٰ دونوں صورتوں میں مدد کرتا ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا : کچھ عرصہ ہواا یک شخص حضرت خلیفۃ المسیح کے پاس آیا کہ میں نے بہت دعائیں کیں ہیں لیکن میری دعائیں قبول نہیں ہوئیں، کیا وجہ ہے؟ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا کہ اﷲتعالیٰ تو یہ کہتا ہے کہ میرے حکموں پر چلو تو کیا تم خداتعالیٰ کے تمام حکموں پر چلتے ہو؟ وہ کہنے لگا نہیں، تو پھر پہلے اپنی حالتوں کو ہمیں دیکھنا چاہئےکہ ہم کس حد تک عمل کر رہے ہیں اور پھر خیال کرتے ہیں کہ ظاہری طور پر دعا قبول نہیں ہوئی، ایمان تو حضرت ابراہیمؑ والا چاہئے کہ اپنی کمزوری کو اپنی طرف منسوب کریں اور کامیابی کو اﷲتعالیٰ کی طرف منسوب کریں، اﷲتعالیٰ ہمیں اپنے حکموں پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری دعاؤں کو قبولیت کا درجہ عطا فرمائے۔ اسدالاسلام شاہ صاحب ابن سید نعیم شاہ صاحب آف گلاسگو کی وفات۔

We Ahmadis are indeed among those fortunate people who took bai'at of the Promised Messiah(as) and are thus included among those who practiced what God commanded. There are those unfortunate people who did not take his bai'at in spite of experiencing his age. There are also some unfortunate people who exceed in enmity and opposition and are deprived of the guidance of one sent by God and these people are scattered and dispersed. We cannot thank enough that God guided us to the right path. These days strikes take place in Muslim countries usually due to strife between governments and the general public. If Muslim governments were fair, outside powers with wicked motives would not get the chance to create restlessness among them. May God give sense to Muslim governments, especially Pakistani government and they give people their rights! If Ahmadis are forcibly involved in such matters, they should pray that they do not cause any loss to governmental property. There is a dower in Islamic marriage called haq mehr. People think it is only payable to the wife in the event of divorce or separation whereas haq mehr is a wife's entitlement. It is a sum of money for her to keep and spend when there is a need for which she hesitates to ask for her husband's help or if the husband cannot meet some need. Her need could be anything, like helping a relative or someone else. This money is for her own use, emergency use, as and when she pleases. Someone wrote to the Promised Messiah(as) for prayers that he may be able to marry such and such woman. The Promised Messiah(as) responded to him and said he would pray but on the condition that marriage would not necessarily be the outcome of prayer. He may be able to marry her or he may start disliking her. The Promised Messiah(as) prayed and the man wrote after a few days that he had started disliking the woman. Hazrat Khalifatul Masih said someone came to see him and said he had been praying a lot but why his prayers did not gain acceptance. Huzoor asked him, God says abide by my commandments, do you? The person replied, no. We should first see our own condition, if our faith is weak or not. What is needed is faith like Hazrat Ibrahim's(as) which associates weakness to one's self and success to God. May God enable us to abide by His commandments and may our prayers gain acceptance. Death of Syed Asadul Islam Shah of Glasgow, son of Syed Naeem Shah.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
25-Mar-2016   English (mp3)Albanian (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Uzbek (mp3)

Title: The Promised Messiah (a.s.)
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Persian | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu
Slide Deck: Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

مارچ 23 کا دن جماعت احمدیہ میں بڑا اہم دن ہے، اس دن اﷲتعالیٰ نے جو آنحضرت ﷺ سے ایک وعدہ فرمایا تھا وہ پورا ہوا ور آنحضرتﷺ کی پیشگوئی پوری ہوئی اور اسلام کی نشعت ثانیہ کے دور کا آغاز ہوا ، اﷲتعالیٰ نے حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ کو مسیح موعودؑ اور مہدی موعودؑ کے اعلان کرنے کی اجازت دی، جنہوں نے جہاں خداتعالیٰ کی وحدانیت کو دنیا میں قائم کرنے کیلئے براہین و دلائل پیش کرنے تھے وہاں دین اسلام کی برتری تمام ادیان پر کامل اور مکمل دین ثابت کرنی تھی اور اﷲتعالیٰ کے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی محبت سے دلوں کو بھرنا تھا۔ پس ہمارا سب سے بڑا فرض ہے کہ خداتعالیٰ سے تعلق میں بڑھیں ، دنیا کو بتائیں کے مسیح موعودؑ کی آمد کے ساتھ مذہبی جنگوں کا خاتمہ ہو چکا ہے ، اور دنیا کے امت واحدہ بنانے کیلئے آنحضرت ﷺ کا یہ غلام صادق ہی ہے جسے اﷲتعالیٰ نے تمام نبیوں کے لباس میں بھیجا ہے ، آپ ؑ کے مشن کے مطابق اسلام کی خوبصورت تعلیم اور اس کی سچائی ہم نے دنیا پر واضح کرنی ہے اور اس کیلئے ہمیں اپنے عملوں کو بھی نمونہ بنانا ہوگا، روحانیت میں بڑھنے کے نمونے بھی ہمیں قائم کرنے ہونگے، اپنی نفسانی خواہشات کو دور کرنا ہوگا، دنیا کو دکھانا ہوگا کہ اﷲتعالیٰ آج بھی اپنے بندوں کی دعاؤں کو سنتا ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا : یہ اسلام کے نام پر جو حملے ہوتے ہیں یہ اسلام کی حمایت نہیں ہیں بلکہ بدنامی کا ذریعہ ہیں اور معصوموں کا قتل اﷲتعالیٰ کی ناراضگی کا ذریعہ بن رہے ہیں، گزشتہ دنوں میں جو بیلجیئم میں معصوموں کا قتل ہوا ، یہ دہشت گردی جو ہوئی ہے اس سے درجنوں معصوم قتل ہوئے ہیں اور سینکڑوں زخمی بھی ہوئے ہیں ، یہ کبھی بھی خداتعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے نہیں ہوسکتے ، اس زمانے میں جبکہ حضرت مسیح موعودؑ نے کھل کر بتا دیا ہے کہ اب دین کیلئے جنگ و جدل حرام ہے ، یہ حرکتیں خداتعالیٰ کی ناراضگی کا باعث بن رہی ہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کا صلیب سے زندہ اتر آنے اور اس حادثہ سے زندہ بچ جانے کا بھی قرآن کریم میں صحیح اور یقینی علم دیا گیا ہے مگر افسوس ہے کہ پچھلے ہزار برس میں جہاں اسلام پہ اور بہت سی آفتیں آئیں وہاں یہ مسئلہ بھی تاریکی میں پڑ گیا اور مسلمانوں میں بدقسمتی سے یہ خیال راسخ ہوگیا کہ حضرت مسیحؑ زندہ آسمان پر اٹھائے گئے ہیں اور وہ قیامت کے قریب آسمان سے اتریں گے مگر اس چودہویں صدی میں خداتعالیٰ نے مجھے مامور کر کے بھیجا تاکہ میں اندرونی طور پر جو غلطیاں مسلمانوں میں پیدا ہوگئی ہیں ان کو دور کروں اور اسلام کی حقیقت دنیا پر ظاہر کروں۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا: گزشتہ دنوں 23 مارچ کے حوالہ سے بعض لوگ ایک دوسرے کو میسجز کے ذریعے سے فون پر مبارکباد دے رہے تھے ، اگر تو اس نیت سے مبارکباد دیں تھیں کہ ہم نے حضرت مسیح موعودؑ کو مانا اور اس بات پر شکر ادا کیا کہ آپؑ کو ماننے سے ہم ان ہدایت یافتہ مسلمانوں میں شامل ہوگئے جو دین کے مددگار اور اس کی خوبیوں کو دنیا میں پھیلانے والے ہیں تو یقینا یہ مبارکباد دینا ان مبارکباد دینے والوں کا حق تھا اور اس میں کوئی حرج نہیں اور اس میں کوئی بدعت بھی نہیں ۔ محمودہ سعدی صاحبہ کی وفات، نورالدین چراغ صاحب کی وفات، سیدہ مبارکہ بیگم صاحبہ کی وفات۔

23 March, which was two days ago, is a very significant day for Ahmadiyya Community. This is the day the Divine promise made to the Holy Prophet(saw) was fulfilled and his prophecy came true and the second phase/renaissance of Islam began. God gave permission to Hazrat Mirza Ghulam Ahmad of Qadian(as) to announce that he was the Promised Messiah and Mahdi. He was to re-established Unity of God with proofs and reasoning, prove the superiority of Islam over all other world religions and instil hearts with love of the final [law-bearing] Prophet(saw). It is our great obligation to enhance and strengthen our connection with God. To inform the world that with the advent of the Messiah, religious wars have come to an end and now it is the true and ardent devotee of the Holy Prophet(saw) alone who can make the Ummah one and who has come in the mantle of the Prophet. In order to make these verities evident we have to demonstrate good role-models and models of spirituality. Hazrat Khalifatul Masih said that the attacks carried out in the name of Islam do not support Islam but bring it in disrepute. Killing innocent people causes displeasure of God. Those who carried out the recent killing of innocent souls in Belgium, the terrorist atrocity, killing dozens of innocents and injuring hundreds can never attain God's pleasure The Promised Messiah(as) has made is explicitly clear that in this age fighting for the sake of religion is forbidden and it garners God's displeasure. The Promised Messiah(as) said that the Qur'an gives definitive knowledge of Jesus(as) coming down from the cross alive. In the thousand years (preceding him) while Islam faced many calamities, this matter was also lost on Muslims and the erroneous creed entered among them that Jesus was raised alive to the heavens and he will descend down to earth near to the Day of Judgement. However, he said that God commissioned him in to remove the erroneous beliefs. Hazrat Khalifatul Masih said: Recently in light of 23 March Ahmadis sent each other messages of felicitations (Mubarak) on their phones as it is done these days through Whatsapp. If these message of felicitations were sent with the intention that having accepted the Promised Messiah(as) they had joined those Muslims who are guided and are helpers of faith, then certainly they were justified in sending the messages of felicitations, there was nothing wrong doing so and it was not a harmful innovation. Death of Mehmooda Saadi Sahiba, Nur ud Din Chiragh Sahib and Syeda Mubaraka Begum Sahiba.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
18-Mar-2016   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)German (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Uzbek (mp3)

Title: Khalifatul Masih II: Pearls of Wisdom
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

ماں باپ بعض اوقات بچوں کو غلط کام کرنے پر بے انتہا سختی کرتے ہیں اور بعض لوگ بچوں کی غلطیوں پر اتنی زیادہ صرف نظر کرتے ہیں کہ بچے کی نظر میں اچھے اور برے کی تمیز مٹ جاتی ہےاور یہ دونوں باتیں بچے کی تربیت پر برا اثر ڈالتی ہیں ، زیادہ سختی اور بات بات پر بلاوجہ بغیر دلیل کے روکنا ٹوکنا بچوں کو باغی بنا دیتا ہے اور پھر وہ ایک عمر کے بات جائز بات کی بھی پرواہ نہیں کرتے، اسی طرح بچے کی ہر معاملے میں ناجائز طرف داری بھی بچوں کی تربیت پر برا اثر ڈالتی ہے ، خاص طور پر ایسے بچے جو بچپن سے نکل کر جوانی میں قدم رکھ رہے ہوں ، انکو والدین اور خاص طور پر باپوں کے رویے خراب کرتے ہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا: پس ان لوگوں پر واضح ہوجانا چاہئے جو یہ کہتے ہیں کہ ایم ٹی اے پر پروگراموں میں میوزک آ جائے تو کوئی حرج نہیں یا وائس آف اسلام ریڈیو جو شروع ہوا ہے اس پر بھی آ جائے تو کوئی حرج نہیں ، ان باتوں اور بدعات کو ختم کرنے کیلئے حضرت مسیح موعودؑ آئے تھے ہمیں اپنی سوچوں کو اس طرح ڈھالنا ہوگا جو آپؑ کا مقصد تھا ، نئی ایجادات سے فائدہ اٹھانا حرام نہیں لیکن ان کا غلط استعمال انہیں غلط بنا دیتا ہے ، بعض لوگ یہ تجویز بھی دیتے ہیں کہ ڈرامے کے رنگ میں تبلیغی یا تربیتی پروگرام بنائے جائیں ، انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ غلط پروگراموں سے سو قسم کی بدعات خود بخود داخل ہوجائیں گی۔ خطبہ الہامیہ کے دوران حضرت مصلح موعودؓ نے حضرت مسیح موعودؑ کو جس طرح دیکھا اسے بیان کرتے ہوئے آپؓ فرماتے ہیں: آپؑ کو اﷲتعالیٰ نے فرمایا کہ آپؑ عربی میں عید کا خطبہ پڑھیں ، آپؑ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے علم دیا جائے گا، آپؑ نے اس سے پہلے کبھی عربی میں تقریر نہ کی تھی لیکن جب تقریر کرنے کیلئے اور تقریر شروع کی تو مجھے خوب یاد ہے گو میں چھوٹی عمر میں ہونے کی وجہ سے عربی نہ سمجھ سکتا تھا مگر آپؑ کی ایسی خوبصورت اور نورانی حالت بنی ہوئی تھی کہ میں اول سے آخر تک برابر تقریر سنتا رہا حالانکہ ایک لفظ بھی سمجھ نہ سکتا تھا۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں : امام کی آواز کے مقابلے میں افراد کی آواز کوئی حقیقت نہیں رکھتی، تمہارا فرض ہے کہ جب بھی تمہارے کانوں میں خداتعالیٰ کے رسول کی آ واز آئے ، تم فورا ا س پر لبیک کہو اور اس کی تعمیل کیلئے دوڑ پڑو کہ اسی میں تمہاری ترقی کا راز مضمر ہے بلکہ اگر انسان اس وقت نماز پڑھ رہا ہو تب بھی اس کا فرض ہے کہ وہ نمازتوڑ کر خداتعالیٰ کے رسول کی آواز کا جواب دے ، حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ہمارے ہاں اﷲتعالیٰ کے فضل سے اس قسم کی مثالیں بھی پائی جاتی ہیں۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں ایک وقت میں وہابی فرقہ کا یہ فتویٰ تھا کہ ہندوستان میں جمعہ کی نماز ہوسکتی ہے لیکن حنفیوں کے نزدیک ہندوستان میں جمعہ کی نماز جائز نہیں کیونکہ وہ کہتے تھے کہ جمعہ پڑھنا اس وقت جائز ہوتا ہے جب مسلمان سلطان ہو ، بادشاہ مسلمان ہو ، جمعہ پڑھانے والا مسلمان قاضی ہو اور جہاں جمعہ پڑھا جائے وہ شہر ہو، ہندوستان میں انگریزی حکومت کی وجہ سے نہ مسلمان سلطان رہا تھا نہ قاضی اس لئے وہ جمعہ کی نماز پڑھنا جائز نہیں سمجھتے تھے ، ادھر وہ قرآن کریم میں لکھا ہوا پاتے تھے کہ جب تمہیں جمعہ کیلئے بلایا جائے تو تمام کام چھوڑ کر جمعہ کیلئے چل پڑو اس لئے ان کے دلوں میں اطمینان نہ تھا۔ عبدالنور جبی صاحب کی ملک شام میں وفات۔

Some parents severely reprimand their children over things while others are so lenient when children do something wrong that children lose their sense of right and wrong. Both ways have a very bad effect on the upbringing of children. Too much strictness and repetitive rebuking turn children rebellious and they even stop caring about what is right. Unnecessary indulgence also has a negative effect on children, especially adolescents. It is mostly the attitude of fathers that make matters worse. Hazrat Khalifatul Masih V said that this should clarify matters to those who suggest that it is all right if some music is used in MTA programmes or it is all right if there is some music on Voice of Islam radio, which has just started. The Promised Messiah(as) had come to stop these harmful innovations and we have to mould our thoughts in accordance. It is not forbidden to take advantage of new inventions but their wrong use makes them harmful. Recalling the time when the Promised Messiah(as) delivered his Revealed Sermon, Hazrat Musleh Maud(ra) said this was when God told the Promised Messiah that his Eid sermon was going to be in Arabic and he would be given the knowledge for it. He had indeed never formally spoken in Arabic before. Hazrat Musleh Maud(ra) says he was a child at the time so he did not understand the sermon at all but he recalled listening to the entire sermon intently owing to the highly spiritual state of the Promised Messiah(as). Hazrat Musleh Maud(ra) said that call of people has no significance compared to the call of the Imam. It is obligatory that the moment believers hear the words of Prophet of God they promptly respond and hasten to put in practice what he has said. Even if one is offering Salat at such a time, one should break one's Salat and respond to Prophet of God. With the grace of God such examples can be found in our Jama'at. Hazrat Musleh Maud(ra) said that at a time the Wahhabi sect believed that Friday Prayers could be offered in India but the Hanafi sect believed it could not. They believed Friday Prayers could only be offered when the governance of the country was in Muslim hands and at the time the British ruled India. They did realise what the Qur'an says about offering Friday Prayers so they were not quite satisfied with the situation. Marturdom of Abdul Noor Jabi Sahib of Syria.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
11-Mar-2016   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Good and Evil
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

شیطان انسان کا ازل سے دشمن ہے اور ہمیشہ رہے گا ، یہ اس لئے نہیں کہ اس میں کوئی طاقت ہے ہمیشہ رہنے کی بلکہ اس لئے کہ انسان کے پیدا ہونے پر اﷲتعالیٰ نے اسے یہ اختیار دیا تھا کہ وہ آزاد ہے، اﷲتعالیٰ جانتا تھا کہ اس کے بندے شیطان کے حملے سے محفوظ رہیں گے، شیطان کی یہ دشمنی کو ئی کھلی دشمنی نہیں ہے کہ سامنے آکے لڑ رہا ہے بلکہ مختلف حیلوں بہانوں سے، مکر و فریب سے ، دنیاوی لالچوں کے ذریعے سے انسان کی اناؤں کو ابھارتے ہوئے انسانوں کو نیکیوں سے دور لے جاتا ہےاور برائیوں کے قریب کر دیتا ہے۔ قرآن کریم میں متعدد جگہ خداتعالیٰ نے ہمیں شیطان کے حملوں اور اس کے حیلوں اور مکروں سے ہوشیار کیا، تلاوت کی گئی آیت میں بھی اﷲتعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ شیطان ہمیشہ انسان کے پیچھے پڑا رہتا ہے، اس نے جب خدا تعالیٰ کو کہا کہ میں اس کے دائیں بائیں آگے پیچھے سے حملہ کروں گا تو پھر اس نے بڑی مستقل مزاجی سے یہ حملے کرنے تھے اور کرتا ہے، حتیٰ کہ شیطان یہ بھی کہتا ہے کہ میں صراط مستقیم پر بیٹھ کر انسان پر حملے کروں گا ، اب ایک شخص سمجھتا ہے کہ میں صراط مستقیم پر چل رہا ہوں تو میں شیطان کے حملے سے بچ گیا ہوں تو یہ خیال ایسے شخص کی غلط فہمی ہے، جن پر خداتعالیٰ کا غضب نازل ہوا اور وہ ضالین بنے، پہلے وہ بھی صراط مستقیم پر چلنے والے تھے۔ بعض لوگوں کے دل میں کیال پیدا ہوتے ہیں کہ اﷲتعالیٰ نے شیطان کو بنایا کیوں ، پہلے دن اس کی بیباکی پر اس کو سزا دے کر ختم کیوں نہ کر دیا، حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: یہ بات ہر ایک کو ماننی پڑتی ہے کہ ہر ایک انسان کیلئے دو جاذب موجود ہیں ، ایک جاذب خیر ہے جو نیکی کی طرف اسے کھینچتا ہے اور دوسری جاذب شر ہے جو بدی کی طرف کھینچتا ہے ، بسااوقات انسان کے دل میں بدی کے خیال پڑتے ہیں اور وہ ایسا بدی کی طرف مائل ہوتا ہے کہ گویا اس کو کوئی بدی کی طرف کھینچ رہا ہے اور پھر بعض اوقات نیکی کے خیالات اس کے دل میں پڑتے ہیں اور وہ ایسا نیکی کی طرف مائل ہوتا ہے کہ گویا اس کو کئی کھینچ رہا ہے۔ مخفی گناہوں سے بچنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں، جب کوئی مصائب میں گرفتار ہوتا ہے تو قصور آخر میں بندے کا ہی ہوتا ہے، مصیبتوں میں گرفتار ہونے کے بعد کہنا کہ خداتعالیٰ کی طرف سے مصیبت آگئی غلط ہے،قصور بہرحال بندے کا ہی ہوتا ہے، بعض لوگ تو بظاہر بہت نیک معلوم ہوتے ہیں اور انسان تعجب کرتا ہے کہ اس پر کوئی تکلیف کیوں وارد ہوئی یا کسی نیکی کے حصول سے کیوں محروم رہا لیکن دراصل اس کے مخفی گناہ ہوتے ہیں جنہوں نے اس کی حالت یہاں تک پہنچائی ہوئی ہوتی ہے، اﷲتعالیٰ چونکہ بہت معاف کرتا ہے اور درگزر فرماتا ہے اس وواسطے انسان کے مخفی گناہوں کا کسی کو پتہ نہیں چلتا۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ سچا مسلمان وہ ہے اور معتقد وہ ہوتا ہے جو پیغمبروں کا مظہر بنے، صحابہ کرام ؓ نے اس مضمون کو خوب سمجھ لیا تھا اور وہ نبی کریم ﷺ کی اطاعت میں ایسے گم ہوئے اور کھوئے گئے کہ ان کے وجود میں کچھ باقی رہا ہی نہیں تھا ، جو کوئی ان کو دیکھتا تھا ان کو محویت کے عالم میں پاتا تھا ، آنحضرت ﷺ کے اسوہ کو اپنانے میں ڈوبے ہوئے تھے ، پس یاد رکھو اس زمانے میں بھی محویت میں اور اطاعت میں وہ گمشدگی پیدا نہ ہوگی جو صحابہ کرام ؓ میں پیدا ہوئی تھی ۔

Satan has been an enemy of man from the beginning and will remain so. Upon the creation of human beings God gave Satan the capacity to be free for God knew His sincere servants would remain safe from his attacks. Satan does not attack overtly, rather he drives people away from piety through deceit, greed and through underscoring egotistic tendencies which take them towards evil. The Holy Qur'an addresses the issue of Satan's trickery in many places, alerting man about it. The aforementioned verse also explains that Satan is ever chasing man. He had told God that he would attack man from every angle and would also attack man from the right path. Thus when man considers that he has found the right path and is thus saved, he is mistaken. Earlier people whom the Qur'an cites as those who incurred God's displeasure and those who went astray. Answering the question which is sometimes asked as to why God created Satan and let him be daring, the Promised Messiah(as) explained that everyone acknowledges that there are two pulls/appeals; the pull of good and the pull of evil. When attracted by evil thoughts man turns to evil and when attracted by good thoughts man turns to good. Sometimes man does evil and then turns to do good! These dual strengths are found in everyone. Explaining the concept of hidden/covert sin, the Promised Messiah(as) said man experiences difficulties due to his own faults and not because of God. Some people appear very pious and people are amazed to see them in difficulties. In actual fact their difficulties are borne of their covert or hidden sins. It is God's compassion that others do not know man's hidden sins. Just as some illnesses are very evident while others are so hidden that even the patient is unaware of them. Similarly, man's inner sins cause his ruin. The Promised Messiah(as) said that true Muslim is one who aspires to be a manifestation of Prophets of God. The Companions of the Holy Prophet(saw) understood this mystery and followed it thus that they followed the blessed model of the Holy Prophet(saw) to such perfection that nothing of their own selves remained. They were completely devoted to God and to adopt the blessed model.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
04-Mar-2016   Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Khalifatul Masih II : Pearls of Wisdom
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu
Slide Deck: Powerpoint | Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ قادیان کے دو آدمیوں کا آپس میں اختلاف ہوگیا ، دوستوں نے انہیں سمجھایا لیکن دونوں نے کہا نہیں ہم نے انگریزی عدالت میں جانا ہے ، جب عدالت میں پیشی ہوتی تو وہ خود یا ان کا کوئی نمائندہ حضرت مسیح موعودؑ کی خدمت میں دعا کیلئے کہنے آجاتا، حضرت مسیح موعودؑ فرماتے تھے کہ دونوں میرے مرید ہیں اور ان سے تعلق بھی ہے، کس کیلئے دعا کروں کہ وہ ہارے اور وہ جیتے ، میں تو یہی دعا کرتا ہوں کہ جو سچا ہے وہ جیت جائے ، ایسی دعا کیلئے کہنا ایسا ہی ہے جیسے بارش ہونے یا نہ ہونے کا معاملہ ہے جس سے ایک نہ ایک فریق کو نقصان پہنچے گا، کسی نہ کسی نے تو نقصان اٹھانا ہے۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ مجھے یاد ہے ایک دفعہ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا طب کے تمام اصول قرآن کریم میں بیان کئے گئے ہیں اور دنیا کے تمام امراض کا علاج قرآن کریم میں موجود ہے ، حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ہوسکتا ہے مجھے اس طرح قرآن کریم پر غور کرنے کا موقع ہی نہ ملا ہو اور ممکن ہے میرا عرفان ابھی اس حد تک نہ پہنچا ہو مگر بہرحال جتنا بھی عرفان ہے اور اپنے بڑوں کا تجربہ ملا کر میں یہ کہ سکتا ہوں کہ قرآن کریم سے باہر ہمیں کسی چیز کی ضرورت نہیں ۔ اس زمانے میں اﷲتعالیٰ نے ہمارے مدد کیلئے بہت سے وسائل پیدا فرما دیئے ہیں ، اپنی تربیت اور خلافت سے مضبوط تعلق کیلئے ہر احمدی کو ایم ٹی اے سننے کی ضرورت ہے، تبلیغ کی غرض سے دوسروں کے جماعتی ویب سائٹ سے تعارف کر وانا چاہئے، حضور کو بہت سے خط آتے ہیں کہ جب سے ہم نے ایم ٹی اے پر خطبات ہی باقاعدہ سننے شروع کئے ہیں ، ہمارا جماعت سے تعلق مضبوط ہو رہا ہے اور ہمارے ایمانوں میں مضبوطی پیدا ہو رہی ہے، پس آجکل اور جماعت کی ویب سائٹ الاسلام تبلیغ اور تربیت کا بہت اچھا ذریعہ ہیں ۔ بعض لوگ لکھتے ہیں کہ ہم نے بڑی عبادت کی ، بڑی دعائیں کیں، ہمیں ہمارے مقصد نہیں حاصل ہوسکے ، دعائیں نہیں ہماری قبول ہوئیں، ان کو بھی یہ سمجھ لینا چاہئے کہ یا تو جس حد تک جانا چاہئے وہاں تک نہیں پہنچے یا پھر منزل تو مقرر کرلی انہوں نے لیکن راستہ غلط لے لیا، اس پر ایک دعا کرنے والے کو غور کرنا چاہئے کہ راستہ بھی صحیح ہو اور جتنی محنت چاہئے وہ بھی ضروری ہے ، حضرت مسیح موعودؑ فرمایا کرتے تھے کہ کیمیا گر جب کامیاب رہتا ہے تو کہتا ہے کہ ایک آنچ کی کسر رہ گئی گویا وہ کیمیا بننے سے نا امید نہیں ہوتا بلکہ اپنی کوشش کا نقص قرار دیتا ہے۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ کبھی تدبیر کو بھی نہیں چھوڑنا ، تدبیر بھی دعا کے ساتھ ضروری ہے، تدبیر اور دعا مستقل مزاجی سے کرتے رہنا اﷲتعالیٰ کے فضلوں کو کھینچتا ہے ، تدبیر کا دعا کے ساتھ ہونا بہت ضروری ہے، حضرت مسیح موعودؑ فرماتے تھے کہ تدبیر کا دعا کے ساتھ نہ ہونا بالکل غلط چیز ہے اور ایسے شخص کی دعا اس کے منہ پر ماری جاتی ہے جو صرف دعا کرتا ہو اور تدبیر نہ کرتا ہو ، جو تدبیر اور دعا کو ساتھ نہیں رکھتا اس کی دعا نہیں سنی جاتی کیونکہ دعا کے ساتھ تدبیر کا نہ کرنا خدا تعالیٰ کے قانون کو توڑنا اور اس کا امتحان لینا ہےاور خداتعالیٰ کی یہ شان نہیں کہ بندے اس کا امتحان لیں۔ محترم قمر ضیاء صاحب شہید کی شیخوپورہ پاکستان میں شہادت۔

Promised Messiah(as) related that two individuals from Qadian had some dispute. Their friends tried to reconcile them but they both insisted to take the matter to the court run by the British. They were both followers of the Promised Messiah(as) and they both requested him to pray for them. Faced with a dilemma the Promised Messiah said he prayed that may the one who is on truth win. Requesting prayers in this way is like the story of the mother who feared that rain or no rain would affect one or the other daughter of hers because someone had to lose out! Hazrat Musleh Maud(ra) said that the Promised Messiah(as) explained that the Holy Qur'an has addressed all the principles of medicine and it contains the treatment of all worldly illnesses. Hazrat Musleh Maud said it was possible that his personal spiritual knowledge had not yet reached the stage, but he could say this much that we were not in need of anything outside of the Holy Qur'an. Times have changed and now there are so many more resources available. For one, every Ahmadi should instil the practice of watching MTA for personal tarbiyyat as well as for forging a strong connection with Khilafat. We should tell friends about the Jama'at website. Many people write in to say that ever since they started regularly watching at least the Friday sermon on MTA they have strengthened their faith and feel their connection with Jama'at has also become stronger. Some people write in to say they make great effort in worship of God but do not achieve their objective, their prayers are not accepted. It should be understood from this that one has not quite reached the stage one needs to be at or one has adopted the wrong way to get to the objective. Not only should the way to reach our objective be the right one but we should also be prepared to put in the required hard work. It should also be remembered that planning and prayers go side by side. One should plan and then pray with resoluteness as this attracts God's grace. It is very important that we also plan and take practical steps along with praying for something. The Promised Messiah(as) used to say that to pray without planning is wrong and the prayer of such a person is thrown back on him because to pray and not plan is against the law of God. Martyrdom of Qamar Zia Sahib Shaheed of Shiekhupura, Pakistan.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
26-Feb-2016   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)German (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Turkish (mp3)

Title: Khalifatul Masih II: Pearls of Wisdom
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے سونے کی خوبصورت انگوٹھی بنوائی لیکن کسی نے اس کی طرف توجہ نہ دی، اس نے تنگ آکر اپنے گھر کو آگ لگا دی ، لوگوں نے پوچھا کچھ بچا بھی، اس نے کہا سوائے اس انگوٹھی کے کچھ نہیں بچا ، اایک عورت نے پوچھا بہن تم نے یہ انگوٹھی کب بنوائی تھی ، یہ تو بہت خوبصورت ہے، وہ کہنے لگی یہی بات تم مجھ سے پہلے پوچھ لیتی تو میرا گھر کیوں جلتا، حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں یہ عورت صرف بندوں میں ہی مخصوص نہیں ہے بلکہ عورتوں میں بھی ہے۔ پس ایک مومن کو اپنے رویوں سے ،اپنے سلوک سے دوسروں کے کام آنے سے ، دوسروں پر احسان کرنے سے اپنی قدر پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ، صرف محدود قدر نہ ہو نلکہ اپنے معاشرے میں قدر پیدا کرنے والا ہو، ہر ایک کا اپنا اپنا دائرہ ہے، اسی دائرے میں ایک احمدی کا نیک تعارف صرف اس کی ذات تک محدود نہیں رہنا چاہئے یا اسے فائدہ نہیں پہنچاتا بلکہ جماعت کی نیک نامی کا باعث ہوتا ہے ، اگر احمدی اثر ڈالنے والا ہو تو دنیا کو پتہ چلے گا کہ اسلام کی حقیقت کیا ہے اور اسلام کی تعلیم ہی حقیقی تعلیم ہے جو حقیقی امن پیدا کرسکتی ہے۔ آجکل ہمارے مبلغین سے دنیا کے حالات کے بارہ میں سوال پوچھے جاتے ہیں، ہر ایک مبلغ کو چاہئے کو وہ جغرافیہ ، تاریخ، حساب، طب، آداب گفتگو ، آداب مجلس وغیرہ کہ اتنی واقفیت ضرور رکھتا ہو جتنی مجلس شرفاء میں شامل ہونے کیلئے ضروری ہے اور یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے، تھوڑی سی محنت سے یہ بات حاصل ہوسکتی ہے ، اس کیلئے ہر علم کی ابتدائی کتابیں پڑھ لینی چاہئیں ، اس کے علاوہ بھی ہمارے مربیان سے زمانے کے حالات کے مطابق سوال کئے جاتے ہیں ، حالات حاضرہ کے متعلق، اور بعض دفعہ باقاعدگی سے خبریں نہیں سنتے تو علم نہیں ہوتا۔ اﷲتعالیٰ سے تعلق کی حقیقت میں مسائل کا حل نکالنا ہےاور یہ تعلق تقویٰ سے بڑھتا ہے، اور پھر ہم احمدی جن کا یہ دعویٰ ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کو مان کر ہم نے صحیح اسلامی تعلیم کے مطابق زندگی گزارنی ہے ، ہمیں تو اس زندگی کو گزارنے کیلئے ہر حال میں اﷲتعالیٰ کی طرف ہی دیکھنا ہے ، اسی سے تعلق قائم کرنا ہے، ہماری کامیابی تو کبھی دنیاوی باتوں سے نہیں ہو سکتی ، پس اگر ہم تقویٰ اور خوف الٰہی اپنے اندر پیدا کریں تو پھر ہی ہماری کامیابی ہے اور پھر جب یہ صورت ہوگی تو فرشتے ہماری راہ ہموار کرتے چلے جائیں گے انشاء اﷲتعالیٰ۔ حضرت مسیح موعودؑ فرمایا کرتے تھےکہ سب سے بڑھ کر سچی دوستی انسان کو اﷲتعالیٰ سے قائم کرنی چاہئے کہ وہ اپنی جان اور مال اور اپنی ہر چیز کی قربانی کیلئے تیار رہے، انسان کا فرض ہے کہ وہ صدق دل سے اﷲتعالیٰ کی راہ میں قربانیاں کرتا چلا جائے ، اﷲتعالیٰ ہماری کتنی باتیں مانتا ہے، رات دن ہم اس کی عطا کردہ نعمتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں ، خداتعالیٰ ہماری کتنی خواہشوں کو پورا کرتا ہے اور اگر ایک آدھ دفعہ اپنی خواہش کے خلاف ہو جائے تو کس طرح لوگ اﷲتعالیٰ سے بد ظن ہو جاتے ہیں ، اصل تعلق یہ ہے کہ عسر اور یسر دونوں حالتوں میں استوار رہے اور کوئی فرق نہ آئے ۔

The Promised Messiah(as) used to recount that a woman had a very beautiful golden ring made but no one paid any attention to it. She became so furious that she set her home on fire and when the people came to ask if anything was salvaged, she said nothing except this ring. A lady came and asked her when had she gotten this ring made, it is indeed very beautiful. The woman said to her had you asked this question earlier what need would there have been for my house to have been set alight. We should focus upon respecting our society as a whole, not just within our limited sphere. When an Ahmadi does good in the society it results not only in just his reputation but also of the Jama'at. And thus avenues of propagation are made apparent if we expand our sphere of compassion. The world will come to realize that it is only the true teachings of Islam which can result in true peace. Some make small sacrifices and think they have done a great deal or think they have done a great favour. Nowadays our missionaries are questioned about the state of the world. All missionaries should keep themselves abreast of knowledge of history, geography, medicine, manners related to speech, and gatherings - at least to the degree necessary to be able to join gatherings of respected people. This is not at all difficult to achieve. All that is required is a little effort. So elementary books of these fields of knowledge should be read. Forming a relationship with Allah makes one resolve their affairs. This relationship only increases with righteousness. We Ahmadis who claim that we have accepted the Messiah(as) have to adopt teachings of Islam & reform their lives. We have to form a bond with God and live our lives accordingly. If we are righteous and have fear of God, only then can we witness success. Angels will help us Insha'Allah. Believers should pray to God sincerely. God has made many items for our comforts. God fulfills our wishes without measure and if he does not fulfill a single wish, we become dismayed. Those who do not pay dues of worship, should evaluate themselves. Those who fail to give precedence to faith should evaluate themselves. Those who have come to western nations for sake of Ahmadiyyat but have not paid dues should evaluate themselves.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
19-Feb-2016   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: The Prophecy of Musleh Ma'ood
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

فروری 20 کا دن جماعت احمدیہ میں پیشگوئی مصلح موعودکے حوالے سے جانا جاتا ہے،حضرت مسیح موعودؑ کو ایک بیٹے کی پیدائش کی خبر دی گئی تھی، جو دین کا خادم ہوگا ، عمر پائے گا اور بے شمار دوسری خصوصیات کا حامل ہوگا، حضرت مسیح موعودؑ اس پیشگوئی کی اہمیت کے بارہ میں فرماتے ہیں کہ یہ صرف ایک پیشگوئی ہی نہیں بلکہ عظیم الشان نشان آسمانی ہے، جس کو خدا جل و شانہ نے ہمارے نبی کریمﷺ رؤف کریمﷺ کی صداقت و عظمت ظاہر کرنے کیلئے ظاہر فرمایا ہے اور دراصل یہ نشان ایک مردہ کے زندہ کرنے سے صد ہا درجہ اعلیٰ و اکمل وافضل ہے ۔ 28جنوری ، 1944 میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓنے مصلح موعودؓ ہونے کا اعلان فرماتے ہوئے فرمایا کہ آج میں ایسی بات کہنا چاہتا ہوں جس کا بیان کرنا میری طبیعت کے لحاظ سے مجھ پر گراں گزرتا ہے لیکن چونکہ بعض نبوتیں اور الٰہی تقدیریں اس کے بیان کرنے سے وابستہ ہیں ، اس لئے میں اس کے بیان کرنے سے باوجود اپنی طبیعت کے انقباض کے رک بھی نہیں سکتا، پھر آپ نے اپنی ایک رویا کا ذکر فرمایا اور اس کی تعبیر کرتے ہوئے آپؓ نے فرمایا کہ وہ پیشگوئی جو مصلح موعود کے بارہ میں تھی وہ خدا تعالیٰ نے میری ہی ذات کیلئے مقدر کی ہوئی تھی ۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ جب آپؓ خلافت کے عہدے پر اﷲتعالیٰ نے آپؓ کو کھڑا کیا ، اس طرف بھی پیشگوئی میں اشارہ تھا کہ وہ جلد جلد بڑھے گا ، پھر آپؓ نے واقعہ بیان کیا کہ ایک دفعہ میں حضرت اماں جانؓ کے کمرے میں نماز کے انتظار میں ٹہل رہا تھا کہ تو مجھے مسجد سے اونچی اونچی آواز باتیں کرنے کی آئیں جو یہ کہ رہے تھے کہ ایک بچے کو آگے کر کے جماعت کو تباہ کیا جا رہا ہے ، میں نے مسجد میں جاکر پوچھا کہ وہ بچہ کون ہے تو وہ دوست ہنس کر کہنے لگے کہ وہ بچے آپؓ ہی ہیں، حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ مخالفین کا یہ قول حضرت مسیح موعودؑ کے الہام کی تصدیق کر رہا تھا کہ وہ جلد جلد بڑھے گا۔ اس وقت جب حضرت مسیح موعودؑ نے اس پیشگوئی کا اعلان کیا تھا تو آپؑ پر دشمن چاروں طرف سے حملے کر رہے تھے ، محض اس بنا پر کہ آپؑ نے الہام کا دعویٰ کیا تھا ، مجددیت کا دعویٰ نہیں اور ماموریت کا دعویٰ بھی نہیں تھا ، اس وقت ایک لڑکے کی پیشگوئی ان اعلیٰ صفات کے ساتھ آپؑ نے بیان فرمائی ، حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں جب کسی کے نائب کی شہرت کا کہا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کے آقا و متاع کی شہرت ہوگی ، پس جب خداتعالیٰ نے پیشگوئی میں یہ کہا کہ وہ زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ آنحضور ﷺ اور حضرت مسیح موعودؑ کا نام بھی دنیا کے کناروں تک پہنچے گا۔ حضرت مصلح موعودؑ فرماتے ہیں کہ دیکھ لو ، مولوی محمد علی صاحب میرے مقابل پر اتنے نیچے ہوئے کہ ان کا سارا زور ہی اس بات کو ثابت کرنے پر ہوتا ہے کہ خداتعالیٰ کے حضور وہی لوگ معززہوتے ہیں جو چھوٹے ہوں ، پہلے کہا کرتے تھے کہ ہم 95 فیصدی ہیں اور یہ 4 یا 5 فیصد ہی ہیں ، اور جماعت کی اکثریت کبھی ذلالت پر نہیں ہو سکتی ، مگر اب کہتے ہیں کہ بیشک قادیان کی جماعت زیادہ ہے اور ہم تھوڑے ہیں لیکن ان کا زیادہ ہونا ہی ان کے جھوٹے ہونے کا ثبوت ہے۔ صوفی نذیر احمد صاحب کی جرمنی میں وفات۔

20 February is recognised as the day of the prophecy of Musleh Maud in the Ahmadiyya Community. In this prophecy God informed the Promised Messiah(as) that he will have a son who will serve faith and will have numerous qualities. The Promised Messiah(as) said that this was not just a prophecy but was also a magnificent heavenly sign which God manifested for the truthfulness and greatness of the Holy Prophet(saw). And this sign was far superior, grander and loftier than a sign which would bring a dead person back to life. On 28 January 1944 Hazrat Musleh Maud(ra) said that he wanted to say something which did not come naturally to him and about which he was innately uncomfortable but since the matter was connected to Divine will as well as Prophethood, he had no choice but to speak about it. He related a long dream of his and said that God had destined his person to be the fulfilment of the prophecy of Musleh Maud. When he assumed the office of Khilafat people used to say he is only a child. He explains that one day he overheard someone saying in the adjacent mosque that the Jama'at was being ruined by placing a child in prominence. He was astonished as to which child they meant. He later asked someone in the mosque as to which child was being referred to. The person laughed and said that child is you. These words of the detractor were corroborating the words of the prophecy. At the time the Promised Messiah(as) announced the prophecy his enemies were attacking him from all sides. This was owing to the fact that he had claimed to be a recipient of Divine revelation. He had not yet made the claim to be a Mujjadid (Reformer) or indeed the Messiah. It is at that time he made a prophecy about having a son who would have very high qualities. Hazrat Musleh Maud(ra) said eventually Maulawi Muhammad Ali Sahib was so diminished as compared to Hazrat Musleh Maud(ra) that all his energy was expended in maintaining that in the sight of God honourable are those who are few in numbers. Although earlier on these people used to called themselves the 95% and used to say the others were a mere 4% or 5% and would imply that the majority of the Jama'at could not be following transgression. Death of Sufi Nazir Ahmad Sahib in Germany.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
12-Feb-2016   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Khalifatul Masih II: Pearls of Wisdom
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Spanish | Persian | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت خلیفۃ المسیح فرماتے ہیں: ہمیں اپنے جائزے لینے چاہئیں کہ ہم نے حضرت مسیح موعودؑ کو اس لئے مانا کہ دین کو دنیا پر مقدم کریں گے، اپنے اندر کی برائیاں دور کریں گےاور نیکیوں کو قائم کریں گے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اگر ہماری حالت میں ترقی کی بجائے انحطاط ہو رہا ہے ، نیچے گر رہے ہیں تو ہم اپنے مقصد سے دور ہٹ رہے ہیں، پھر اﷲتعالیٰ کو بھی ہماری کوئی پرواہ نہیں ہوگی، اسی طرح یہ بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ دنیا کی کیا حالت ہو رہی ہے ، بہت سے ممالک میں نہ عوام نہ حکومتیں ایک دوسرے کا حق ادا کر رہی ہیں، فتنہ اور فساد ہے ، اور جہاں حالت اتنی خراب نہیں ہے، وہاں خداتعالیٰ سے دور ہو کر اس کے خلاف بد زبانی کر کے ہتک کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا کہ حالیہ دورہ جاپان میں حضور سے ایک شریف النفس عیسائی پادری نے سوال کیا کہ امن کی کیا تعریف ہے اور کس طرح قائم کیا جائے ، حضور نے فرمایا اسلام کہتا ہے جو اپنے لئے پسند کرو وہی دوسرے کیلئے پسند کرو ، جب ایسا کرو گے توایک دوسرے کے حق قائم کر رہے ہو گے اور جب حق قائم کرو گے تو امن ہوگا اور ایک دوسرے پر سلامتی بھی بھیج رہے ہوگے ، کہنے لگا یہ تعریف میرے دل کو لگی ہے اور پہلی دفعہ سنی ہے۔ انتخابات کے موقع پر بھی ایسے سوالات اٹھتے رہتے ہیں ، جب اکثریت ووٹ کے خلاف فیصلہ دیا جائے تو اس قسم کے سوال لوگ لکھتے رہتے ہیں ، یہ سال بھی انتخابات کا سال ہے ، اس لحاظ سے بھی ہر ایک کو اپنی سوچوں کو درست کرنے کی ضرورت ہے کہ دعا کے بعد ہر رشتے اور تعلق کو چھوڑ دیں ، اپنا حق صحیح طریقے سے استعمال کریں اور اس کے بعد جو فیصلہ ہو جائے اس کو قبول کر لیں ، مکمل طور پر ذاتیات سے بالا ہو کر فیصلے کریں ، کچھ عرصہ پہلے ایک ملک میں ایک مجلس کی لجنہ کا انتخاب ہوا ، وہاں سے حضور کا خط آیا کہ اس کو کیوں یہ عہدہ دیا گیا ہے ، اس قسم کی بیہودگیوں سے بچنا چاہئے ہمیں اور جو بھی بنا دیا جائے اس سے مکمل تعاون کرنا چاہئے۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ صحابہؓ آنحضرتﷺ کو دعائیں کرتے دیکھتے تو ہمیں یہ معلوم ہوتا کہ جیسے ہنڈیا جوش سے ابل رہی ہے، پس اپنے نفوس کے اصلاح کی طرف توجہ کرواور تقویٰ اور طہارت پیدا کرو اور مت سمجھو کہ تم نیک کام کر رہے ہو اور نیک سے نیک کام میں بھی بے ایمانی پیدا ہوسکتی ہے ، حضرت مسیح موعودؑ فرمایا کرتے تھے کہ نامعلوم کیا بات ہے کہ آجکل لوگ حج کر کے ہوتے ہیں تو ان کے دل میں پہلے سے زیادہ رعونت اور بدی پیدا ہو چکی ہوتی ہے ، یہ نقص اس لئے پیدا ہوتے ہے کہ وہ حج کے مفہوم کو نہیں سمجھتے۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں : بعض مشکلات ایسی ہیں جن کو دور کر نا ہمارے اختیار میں نہیں ہے ، دشمن کی زبان کو ہم نہیں بند کر سکتے اور اس کے قلم کو نہیں روک سکتے، ان کی زبان اور قلم سے وہ کچھ نکلتا ہے جسے سننے کی ہمیں تاب نہیں ہوتی اور آجکل جب ہم دیکھتے ہیں کہ انتہائی غلیظ زبان استعمال کر کے حضرت مسیح موعودؑ کے خلاف اشتہارات لگائے جاتے ہیں ، حکومت کو توجہ دلائی جاتی تھی لیکن بات نہیں سنی جاتی تھی ، اسی طرح سنتے ہیں جیسے بہرے سنتے ہیں، حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ وہی باتیں حضرت مسیح موعودؑ کے بارہ میں کہی جاتی ہیں ، اگر کسی اور کے بارہ میں کہی جائیں تو ملک میں آگ لگ جائے۔

We should self-reflect whether after accepting the Promised Messiah(as) we give precedence to faith over worldly matters, do we shun evil and adopt piety. If we are declining morally God will not care for us. The current world situation is there for all to see. In many countries neither the government nor the public is giving each other its right. There is chaos and disorder and even in countries where there is no chaos, people have turned away from God, they abuse and insult His name. During his recent tour of Japan of Hazrat Khalifatul Masih was asked by a very gentle Christian priest about the definition of peace. Saying, he had not yet heard a convincing definition of peace or how to establish it. Hazrat Khalifatul Masih told him that Islam says choose for others what you choose for yourself. Thus establish each other's rights and create peace. The priest said he really liked this definition of how to create peace and said it was the first time he had heard it. When decisions are made contrary to majority votes one gets to hear matters like these. This is a year of Jama'at elections. We need to correct our thought-processes and properly use our right to vote and also accept the decisions that are made. Recently Lajna elections took place in a country and a woman wrote in from there why such and such was given office she is so and so. Complete cooperation should be extended to whoever has been given an office. Hazrat Musleh Maud(ra) said Companions of the Holy Prophet(saw) narrated that when he supplicated God it sounded as if a cooking pot was boiling. Hazrat Musleh Maud(ra) said instil purity and righteousness and do not deem that you are being pious because elements of dishonesty can creep in no matter how pious an act. The Promised Messiah(as) used to wonder why when people returned from Hajj their hearts had more arrogance and vice than before. Hazrat Musleh Maud(ra) said that it is not in our hand to remove some difficulties. Like the verbal abuse as well as abusive writings about the holy person of the Promised Messiah(as) which one cannot bear to read or listen to. There was nowhere to go to seek redress for this and there remains nowhere because no one/authorities paid or pays any attention.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
05-Feb-2016   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Truth and Falsehood
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Spanish | Persian | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت خلیفۃ المسیح فرماتے ہیں: شرک اور جھوٹ کو قرآن کریم میں اکٹھا بیان کیا گیا اور ان سے بچنے کی تلقین کی گئی ، گویا جھوٹ کا گناہ بھی شرک کی طرح ہے ، قرآن کریم میں اﷲتعالیٰ نے الزور کا لفظ استعمال کیا ہے ، جس کے معنی ہیں جھوٹ ، غلط بیانی، غلط گواہی ، خداتعالیٰ کا شریک ٹھئرانا، ایسی مجلسیں یا جگہیں جہاں جھوٹ عام بولا جاتا ہو ، اسی طرح گانے بجانے، فضولیات اور غلط بیانیوں کی مجالس، یہ ساری الزور کے معنوں میں آتی ہیں ، پس مومن وہ ہیں اور خداتعالیٰ کے بندے وہ ہیں جو جھوٹ نہیں بولتے ، جو ایسی جگہوں پر نہیں جاتے جہاں مشرکانہ کام ہورہے ہوں۔ لوگ کہتے ہیں ہم جھوٹ کو کیونکر چھوڑ دیں، اس کے بغیر گزارہ نہیں ہوتا مگر حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ آخر کار سچ ہی کامیاب ہوتا ہے ، اپنا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ ایک عیسائی وکیل جس کا نام رلیا رام تھا، اس نے حضرت مسیح موعودؑ پر ایک مقدمہ دائر کیا ، حضرت مسیح موعودؑ نے ایک مضمون بغرض طبع ہونے کے جس کی دونوں طرفیں کھلی تھیں بھجوایا اور اس پیکٹ میں خط بھی رکھ دیا ، چونکہ خط میں ایسے الفاظ تھے جن میں اسلام کی تائید اور دوسرے ادیان کی بطلان کی طرف اشارہ تھا ،اس لئے وہ عیسائی افروختہ ہوا۔ حضرت مسیح موعودؑ کو انگریز مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا، پیشی کے دوران مجسٹریٹ نے حضرت مسیح موعودؑ سے پوچھا کہ کیا آپؑ نے یہ خط پیکٹ میں رکھ دیا تھا ، حضرت مسیح موعودؑ نے بلا توقف جواب دیا کہ یہ میرا ہی پیکٹ اور میرا ہی خط ہے اور آپؑ نے اس خط کو اس پیکٹ میں رکھ کر روانہ کیا تھا مگر آپؑ نےگورنمنٹ کی نقصان رسانی کی غرض سے بدنیتی سے یہ کام نہیں کیا تھا بلکہ میں نے اس خط کو اس مضمون سے کچھ علیحدہ نہیں سمجھا ، اس بات کو سنتے ہی اﷲتعالیٰ نے اس انگریز کے دل کو میری طرف پھیر دیا اور میرے مقابل پر افسر ڈاک خانہ جات نے بہت شور مچایا۔ ان باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہر احمدی جائزہ لے ، اپنا جائزہ لیں کہ مقدمات میں ہم غلط بیانیوں سے کام تو نہیں لیتے ، پھر ہم کاروباروں میں منافع کی خاطر غلط بیانی سے کام تو نہیں لیتے ، رشتے طے کرتے وقت ہم غلط بیانی تو نہیں کرتے، کیا ہر طرح سے ہم قول صدید سے کام لیتے ہیں ، حکومت سے سوشل اور ویلفیئر الاؤنس لینے کیلئے جھوٹ کا سہارا تو نہیں لیتے ، اس بارہ میں بہت سے لوگوں کے بارہ میں غلط تاثر پایا جاتا ہے کہ اپنی آمد چھپا کر حکومت سے الاؤنس لیا جاتا ہے اور اسی وجہ سے ٹیکس کی ادائیگی بھی نہیں کی جاتی اور ٹیکس بھی چوری ہو تا ہے۔ جو لوگ اﷲتعالیٰ سے ڈرتے اور اس کی عظمت کو دل میں جگہ دیتے ہیں ، خداتعالیٰ ان کو عزت دیتا ہو ، جو شخص اﷲتعالیٰ کیلئے ہو جاوے اﷲتعالیٰ اس کا ہو جاتا ہےمگر افسوس یہ ہے کہ جو لوگ اس طرف تو جہ کرتے ہیں اور خداتعالیٰ کی طرف آنا چاہتے ہیں ان میں سے اکثر یہی چاہتے ہیں کہ ہتھیلی پر سرسوں جمادی جا وے، وہ نہیں جانتے کہ دین کے کاموں میں کس قدر صبر اور حوصلے کی حاجت ہے اور تعجب تو یہ ہے کہ وہ دنیا جس کیلئے وہ رات دن مرتے اور ٹکریں مارتے ہیں اس کیلئے تو برسوں انتظار کرتے ہیں انسان بیج بو کر کتنے عرصے تک انتظار میں لگا رہتا ہےلیکن دین کے کاموں میں آتے ہی کہتے ہیں کہ پھونک مار کر ولی بنا دو۔ قاسم تورے صاحب مربی سلسلہ آئیوری کوسٹ کی وفات۔

Shirk (associating partners with God) and falsehood have also been mentioned together in the Holy Qur'an as if falsehood is as big a sin as shirk is! The Arabic word الزور 'zoor' is used in the aforementioned verse to denote falsehood. It means lying, associating partners with God, assemblies or places where falsehood is rampant, gatherings of song and idle, frivolous pursuits etc. People of God do not tell lies and do not attend places where falsehood and frivolity is common. People say how we could leave falsehood, it is simply not possible to get by without it! But the Promised Messiah(as) said truth alone leads to success. The Promised Messiah(as) related his personal experience. A Christian lawyer named Ralya Ram filed a court case against the Promised Messiah(as). The Promised Messiah(as) had written an exposition and mailed the manuscript to a publishing house. Also included in the package was a letter addressed to the manager containing instructions. The Promised Messiah(as) appeared before a British magistrate. During the hearing the judge inquired if the Promised Messiah had in fact placed the letter in the package to which he replied yes indeed and added that he was not aware that by doing so he was breaking the postal regulations, nor did he intend to defraud the post office. Explaining, he said he did not consider the letter separate from the exposition. Every Ahmadi should self-reflect and see how much they match up to what is expected of them. Do we use falsehood in court cases, or tell lies for monetary gain? Do we not say the truth when arranging matrimonial matches, and not follow qawl e sadeed (the right word)? Do we use falsehood to extract social or welfare allowances from the state? Many people fall under a negative light in this regard. Income is also not disclosed to gain state benefits and this in turn is tax evasion/fraud. Those who wish to turn to God and attain Divine nearness usually employ haste and do not realise that matters of faith require great patience and steadfastness. People work night and day for worldly goals and wait years to see results but when it comes to matters of faith, they wish to become saintly at mere blowing of breath and wish to experience high heaven instantly. And this without putting in any hard work or having experienced any hardships and trials. Death of Kassim Touré Sahib, our missionary from Ivory Coast.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
29-Jan-2016   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Turkish (mp3)

Title: Khalifatul Masih II: Pearls of Wisdom
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Spanish | Persian | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Indonesian | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت مسیح موعودؑ کی خدمت میں ایک واقعہ سنایا گیا جس پر آ پ بہت ہنسے، حضرت منشی اروڑے خان صاحب ؓکا واقعہ جو شروع میں قادیان بہت زیادہ آیا کرتے تھے، بعد میں چونکہ بعض اہم کام آپ کے سپرد ہو گئے تھے اس لئے جلدی چھٹی ملنا مشکل ہو گیا تھا ، حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ہمیں یاد ہے کہ جب ہم چھوٹے بچے ہوا کرتے تھے، ان کا آنا یسا ہی ہوا کرتا تھا جیسے مدتوں کا بچھڑا ہوا بھائی سال کے بعد اپنے کسی عزیز سے آ کر ملے ، آپ ایک سیشن جج کے دفتر میں لگے ہوئے تھے، آپ نے قادیان جانے کیلئے چھٹی کی درخواست دی لیکن مجسٹریٹ نے چھٹی دینے سے انکار کر دیا۔ حضرت مسیح موعودؑ کے زمانے میں ایک عرب آیا، وہ جب کچھ دنوں کے بعد قادیان سے واپس جانے لگا تو حضرت مسیح موعودؑ نے کرایہ کے طور پر اسے کچھ دیا مگر اس نے لینے سے انکار کر دیا، اس نے کہا میں نے سنا تھا کہ آپؑ نے مامور ہونے کا دعویٰ کیا ہے اس لئے قادیان آیا تھا، کچھ لینے کیلئے نہ آ یا تھا کیونکہ یہ نئی بات تھی اور اس علاقے کا کوئی بھی شخص ایسا نہیں آیا جو سوالی نہ ہو ، اس بات کو دیکھ کر حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ آپ کچھ دن اور ٹھئر جائیں ، وہ ٹھئر گیا اور بعض لوگوں کو آپؑ نے مقرر کیا کہ انہیں تبلیغ کریں، کئی دن تک ان سے گفتگو ہوتی رہی مگر اسے کوئی اثر نہ ہوا ۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ بچوں کی صحیح تربیت کا طریق وہی ہے جو اسے کھیل کود سکھائے یعنی کھیلتے کودتے ہی تربیت ہو جائے، پہلے تو جب وہ بہت چھوٹا ہو بچہ تو کہانیوں کے ذریعہ اس کی تربیت ضروری ہوتی ہے ، بڑے آدمی کیلئے تو وعظ کافی ہوتا ہے لیکن بچپن میں دلچسپی قائم رکھنے کیلئے کہانیاں ضروری ہوتی ہیں ، یہ ضروری نہیں کہ وہ کہانیاں جھوٹی ہوں، حضرت مسیح موعودؑ ہمیں کہانیاں سنایا کرتے تھے ، کبھی حضرت یوسفؑ کا قصہ بیان فرماتے ، کبھی حضرت نوح ؑکا قصہ سناتے اورکبھی حضرت موسیٰ ؑکا واقعہ بیان فرماتے۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ کس بزرگ کا ایک فارسی مقولہ سنایا کرتے تھے جس کے معنی ہیں کہ انسان کے ہاتھ کاموں میں مشغول ہونے چاہئیں لیکن اس کا دل اﷲتعالیٰ کی طرف متوجہ ہونا چاہئے، اسی طرح ایک بزرگ کے متعلق مشہور ہے کہ ان سے کسی نے پوچھا کہ میں کتنی دفعہ اﷲتعالیٰ کا ذکر کیا کروں، انہوں نے کہا کہ محبوب کا نام لینا اور پھر گن گن کر تو اصل ذکر وہی ہے جو ان گنت ہو مگر ایک معین وقت مقرر کرنے میں یہ خوبی ہوتی ہے کہ اس وقت انسان اپنے محبوب کیلئے اور کاموں سے بالکل الگ ہو جاتا ہے ۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ نے ایک دفعہ عورتوں کی تربیت کیلئے لیکچر دینے شروع کئے اور کئی دن تک آپؑ لیکچر دیتے رہے، ایک دن آپؑ نے فرمایا کہ ہمیں عورتوں کا امتحان بھی لینا چاہئے تا معلوم ہو کہ وہ ہماری باتوں کو کہاں تک سمجھتی ہیں ، قادیان سے باہر سے ایک خاتو ن ا ٓئی ہوئی تھی ،اس کو حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا بتاؤ مجھے آٹھ دن لیکچر دیتے ہوگئے ہیں ، میں نے ان لیکچروں میں کیا بیان کیا ہے ، وہ کہنے لگی یہی خدا اور رسول کی باتیں آپؑ نے بیان کی ہیں، آپؑ کو اس جواب سے اس قدر صدمہ ہوا کہ آپؑ نے لیکچروں کے اس سلسلے کو بند کر دیا اور فرمایا ہماری عورتوں میں ابھی اس قسم کی غفلت پائی جاتی ہے۔

Once an account was related to the Promised Messiah(as) which made him laugh. It was about Munshi Aroora Khan Sahib who used to visit Qadian quite regularly in early days but later, due to his employment commitments he could not take time off work as before. Hazrat Musleh Maud(ra) recalled that it was during his childhood when on his arrival in Qadian, Munshi Sahib would warmly greet others like a long lost brother. Munshi Sahib worked in the offices of a session judge. An Arab came to visit the Promised Messiah(as). When he decided to return the Promised Messiah(as) offered him something to meet his travel expenses but he declined and said he had come to Qadian because he had heard of the claim of the Promised Messiah(as) and had not come to receive anything. Since no one from that region who had not been in need had visited Qadian before, this was a new situation, the Promised Messiah(as) asked him to stay on a few more days and appointed someone to do tabligh to him. Hazrat Musleh Maud(ra) said that moral training of children should be done in a relaxed manner for example when they are playing. For small children this could be done through stories. These stories do not have to be unnecessarily untrue. He said during his childhood the Promised Messiah(as) used to tell stories of Hazrat Yousuf, Nuh and Musa(as) and for him as a child these true accounts were stories. Hazrat Musleh Maud(ra) said that the Promised Messiah(as) used to say a Persian proverb which means, one's hand may be busy doing work but one's heart must be filled with remembrance of the Beloved [God]. Once someone asked a holy person how many time should he remember God. The holy person replied you want to count how many times you remember your Beloved? Real remembrance of God is that which is countless. Hazrat Musleh Maud(ra) said that the Promised Messiah(as) once started a series of lectures to women. He decided to test them and asked a lady who come to attend the lectures from outside [Qadian] what had he said in the lectures in the past eight days. The lady replied you have talked about God and His Messenger. The Promised Messiah(as) was very disappointed by this answer and said that there was much negligence among our women.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
22-Jan-2016   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Essence of forgiveness
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Spanish | Persian | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

پس جب اصلاح مقصد ہے تو سزا دینے سے پہلے یہ سوچو کہ کیا سزا سے یہ مقصد حل ہوجاتا ہے ، اگر سوچنے کے بعد بھی مجرم کی حالت دیکھنے کے بعد بھی اس طرف توجہ پھرتی ہے کہ اس مجرم کی اصلاح تو معاف کرنے سے ہوسکتی ہے تو معاف کر دو یا سزا دینے سے ہوسکتی ہے تو سزا دواور معاف کرنا بھی تمہیں اﷲتعالیٰ کی طرف سے بہترین اجر کا باعث بنائے گا ، اﷲتعالیٰ نے ابھی پڑھی جانی والی آیت میں یہ بھی واضح کر دیا کہ سزا دینے میں حد سے آگے بڑھو گے ظالموں میں شمار ہو گے، بہر حال یہ بنیادی قانون سزا اور اصلاح کا قرآن شریف میں پیش ہوا ہے ۔ پس اسلام ایک ایسا سمویا ہوا مذہب ہے جو ہر زمانے میں اپنے احکامات کی اہمیت منواتا ہے ، مجرم کے حق میں جو بہتر ہے وہ کرو، آج کل انسانی حقوق کے جو علمبردار بنے پھرتے ہیں وہ ایک طرف چلے گئے، کسی کا چاہے کتنا ہی بڑا قصور ہو ، انسانی ہمدردی کے نام پر مجرموں کو اتنی شے دی جاتی ہے کہ بہت سے مجرموں کو اپنے جرموں کا احساس ہی مٹ گیا ہے ، پیشہ ور قاتل ہیں یا تکبر و غرور میں اتنے بڑھے ہوئے ہیں کہ انہیں اپنے سوا کسی کی زندگی کی اہمیت نظر نہیں آتی ، ایسے لوگوں کی سزا تو قتل ہی ہونی چاہئے سوائے اس کے کہ مقتول کے ورثاء خود معاف کر دیں لیکن مغربی دنیا میں اکثر جگہ انسانی حقوق کے نام پر یہ قانون ختم کر دیا ۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ جب کسی کو معاف کر دو تو تمام کینے دل سے نکال دو، غزوہ احد میں ابو سفیان کی بیوی ہند نے رسول کریم ﷺ کے چچا کی نعش کی بے حرمتی کی، انکا کلیجہ نکال کے چبا لیا ، ظلم اور بر بریت کی انتہا کی ،دوسری طرف اس سب کے باوجود آنحضرت ﷺ کا اسوہ کیا ہے کہ فتح مکہ پر یہ نقاب اوڑھ کر آپ کی مجلس میں آ گئی ، کھلے طور پر آ نہیں سکتی تھی کیونکہ اس جرم کی وجہ سے اس کیلئے بھی قتل کی سزا مقرر ہوگئی تھی ، آپ ﷺ کی مجلس میں اس نے بیعت کی آ کر اور مسلمان ہو گئی اور اس دوران بعض سوالات پوچھے ، نبی کریم ﷺ اس کی آ واز پہچان گئے اور پوچھا کہ کیا تم ابو سفیان کی بیوی ہند ہو ۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا: جماعتی نظام اور عہدیداروں کو بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہئے ، بعض کے خلاف جو فیصلے ہوتے ہیں اور سفارش مجھے آتی ہے ، میں یہ تو نہیں کہتا کہ انتقام کی وجہ سے ہوتی ہے لیکن یہ ضرور بعض دفعہ ہوتا ہے کہ سفارش کرنے والے کا طبعا رجحان سختی کی طرف ہوتا ہے اور بعض ضرورت سے زیادہ نرمی اور معافی کا رجحان رکھتے ہیں جس سے خرابیاں پیدا ہوتی ہیں، پس نہ سزا دینا پسندیدہ ہے اور نہ معاف کرنا قابل تعریف ہے ، اصل چیز خداتعالیٰ کی رضا کا حصول ہے اور یہ اس وقت حاصل ہوتی ہے جب اصلاح مقصد ہواور اس کیلئے متعلقہ محکموں کو چاہئے کہ گہرائی میں جا کر فیصلے کریں۔ بلال محمود صاحب کی ربوہ پاکستان میں شہادت۔

With reformation as the main objective, before deciding on punishment it should be considered whether it will result in it or not. If reformation is deemed to result from pardon then that should be the option otherwise punishment should be decided on. Forgiveness makes one recipient of Divine reward. And the aforementioned verse ends in clarifying that if excessive punishment is meted out it will be unjust and cruel. Islam convinces the significance of its commandments is every age. It endorses to take that action which is in the best interest of the perpetrator. Today the champions of human rights have taken a stance which leans to one extreme. No matter how grave a crime, in the name of human compassion criminals are given free rein and many have lost any sense of wrong. These could be contract killers and people who have no regard for anyone. They should be given the death sentence unless in situations where the victim's family pardons. Islam teaches that if you forgive someone you should not have any malice toward them. During the Battle of Uhad, wife of Abu Sufyan Hind committed extreme barbarity. She mutilated the body of the Prophet's uncle Hamza and gouged out his liver and ate it. On the other hand, after the conquest of Makkah, Hind came into an assembly of the Holy Prophet(saw) with her face covered. She took bai'at and became Muslim. The administration of the Jama'at and the office-holders should keep these matters in mind. Relevant departments should try and make recommendations and reach decisions after due consideration and deliberation and ultimately base them on what pleases God. Help should be sought from God through prayers followed by recommendations made to the Khalifa of the time so that the complainant as well as the administration of the Jama'at remains protected against any harmful effect. Martyrdom of Bilal Mahmood Sahib in Rabwah, Pakistan.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
15-Jan-2016   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Khalifatul Masih II: Pearls of Wisdom
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Spanish | Persian | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

ایک دفعہ آنحضرت ﷺ ایک جنگ میں شرکت کیلئے جارہےتھے تو حضرت علیؓ کو مدینہ میں رہنے کا حکم دیا ، حضرت علیؓ نے عرض کیا یا رسول اﷲﷺ آپؑ مجھے عورتوں اور بچوں کیساتھ چھوڑ کے جارہے ہیں ، آپﷺ نے فرمایا اے علیؓ کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ تمہاری نسبت مجھ سے وہی ہو جو ہارونؑ نے موسیٰ ؑ کی تھی ، حضرت موسیٰ حضرت ہارون کو پیچھے چھوڑ کر گئے تھے اس سے حضرت ہارونؓ کی عزت کم نہیں ہوئی تھی، پس حضرت علیؓ کی اﷲتعالیٰ نے اس طرح عزت قائم فرمائی اور پھر آپ تک ہی نہیں بلکہ اسلام میں جو اکثر اولیاء اور صوفیاء گزرے ہیں وہ حضرت علیؓ کی اولاد میں سے ہی ہیں۔ نمازوں کے ضائع ہونے کا ایک واقعہ حضرت امیر معاویہ کا ہے، حضرت مصلح موعودؓ حضرت مسیح موعودؑ کے حوالے سے بیان فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت معاویہ کی صبح کے وقت آنکھ نہ کھلی اور جب کھلی تو دیکھا کہ نماز کا وقت گزر گیا ہے ، اس پر وہ سارا دن روتے رہے ، دوسرے دن انہوں نے خواب میں دیکھا کہ ایک آدمی آیا اور نماز کیلئے اٹھا تا ہے ، انہوں نے پوچھا تو کون ہےاس نے کہا شیطان ہوں اور میں تمہیں نماز کیلئے اٹھانے آیا ہوں ، انہوں نے کہا تجھے نماز کیلئے اٹھانے سے کیا تعلق ، اس نے کہا کل جو میں نے تمہیں سوتے رہنے کی تحریک کی اور سوتے رہے اس پر تم سارا دن روتے رہے اور فکر کرتے رہے ۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں : وہ دن دور نہیں جس دن حضرت مسیح موعودؑ کا یہ الہام پورا ہوگا کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے ، بادشاہتیں تو آہستہ آہستہ ختم ہی ہورہیں ہیں لیکن ملک کا صدر بھی بادشاہ ہی ہوتا ہے اگر روس کا وزیر اعظم بھی مسلمان ہو جائیں تو وہ بھی بادشاہ سے کسی طرح کم نہیں اور حضرت مسیح موعودؑ کے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے لیکن وہ حضرت مسیح موعودؑ کے کپڑوں سے اسی وقت برکت ڈھونڈیں گے جب تم آپؑ کی کتابوں سے برکت ڈھونڈنے لگ جاؤ۔ حضرت مسیح موعودؑ جب کتب تحریر فرما رہے تھے ، ابتدائی زمانہ تھا ، وسائل بہت کم تھے اس وقت کی تصویر کشی کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ بیان کرتے ہیں کہ کس طرح حضرت مسیح موعودؑ کاتبوں کے نخرے برداشت کرتے تھے اور کس طرح معیار اچھا رکھنے کی کوشش فرماتے تھے ، میر مہدی حسن صاحب کے بارہ میں فرماتے ہیں جب وہ احمدی نہیں تھے کہ میر صاحب حضرت مسیح موعودؑ کے زمانہ میں چھپوائی کے انچارج تھے ، جب حضرت مسیح موعودؑ کی کسی کتاب کی کاپی چھپتی تو بڑے غور سے پڑھتے تھے اور اگر کہیں فل سٹاپ بھی غلط لگا ہوتا تو اس کاپی کو تلف کر دیتے تھے۔ اصل برکت تو یہ ہے کہ بادشاہوں کو اسلام کا حقیقی علم حاصل ہو اور وہ اس کے مطابق اپنی زندگیاں ڈھالیں ، تقریبا سب مسلمان ممالک کے جو بادشاہ اور لیڈر ہیں وہ اسلام کی تعلیم کے خلاف کام کر رہے ہیں ، منہ پر تو اسلام کا نام ہے اور دل ذاتی مفادات کے پیچھے ہیں ، ظلم ہو رہے ہیں، پس جب حضرت مسیح موعودؑ کے ذریعے سے اسلام پھیلنا اور آپؑ کے کپڑوں سے لوگوں نے برکت حاصل کرنی ہے ، جو بادشاہ آئیں گے آپؑ کے ذریعے سے وہ اسلام کی حقیقی تعلیم کو سمجھ کر آئیں گے اور یہی حقیقی برکت اور اس کیلئے ہمیں بھی اس حقیقی تعلیم کا علم ہونا چاہئےاور اس کے مطابق تبلیغ ہونی چاہئے اور نوجوانوں کو بھی اس طرف توجہ دینی چاہئے۔ چوہدری عبدالعزیزڈوگر صاحب کی وفات، اقبال نسیم عظمت بٹ صاحبہ کی وفات، مکرمہ صدیقہ صاحبہ اہلیہ درویش قادیان کی وفات۔

Once the Holy Prophet(saw) was going for a battle and commanded Hazrat Ali(ra) to remain behind in Medina. Hazrat Ali(ra) said that O Messenger of Allah you are leaving me behind with the women and children? The Holy Prophet(saw) replied, O Ali would you not like that you should occupy that status with me that Aaron(as) enjoyed with Moses(as)? The status of Hazrat Aaroon was not diminished by being left behind by Hazrat Moses(as). The same was the case with Hazrat Ali(ra). His status was enhanced. There is an incident of Amir Muawiya that has to do with prayers not being wasted. Hazrat Musleh Maud(ra) says referring to Hazrat Promised Messiah(as) that he used to tell us that once Hazrat Muawiya couldn't wake up for morning prayers and when he did wake up, he realized he had missed the prayer. He cried the entire day because he missed the morning prayer. Next day he saw that a person came to wake him up for prayer and he asked him who he was? The individual told him that he was Satan. Hazrat Musleh Maud(ra) says that day is not far when Kings will seek blessings from thy garments. Kingships are disappearing but presidents are also Kings. If the Prime Minister of Russia was to become Muslims his status would be no less than that of a king and they will seek blessings from the garments of the Promised Messiah(as). But they, the Kings will only seek blessings from the garments of the Promised Messiah(as) when you, the Ahmadis will start to seek blessings from the books of the Promised Messiah(as). In olden days, it took a long time to compile books and many edits had to be done and the resources available were very limited. Hazrat Musleh Maud(ra) mentions how things were in those days. How the Promised Messiah(as) desired high quality. He talks about how he bore with patience the demands of the scribes. Talking about Mir Mahdi Hassan Sahib when he was not an Ahmadi. He says that Mir Sahib was incharge of the printing in the time of the Promised Messiah(as). The real blessing of course is that the Kings should obtain knowledge of true Islam and they reform their lives accordingly. In reality, all kings and leaders of Muslim nations are working against the interests of Islam with a rare exception here or there. They speak of Islam but their hearts are engrossed in seeking and furthering their personal interests. They are engaged in tyranny. Death of Ch Abdul Aziz Dogar Sahib, Iqbal Naseem Azmat Butt Sahiba, Mukarrama Siddiqa Sahiba wife of a Dervesh of Qadian.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
08-Jan-2016   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Financial Sacrifice and Waqf-e-Jadid
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Spanish | Persian | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Indonesian | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت مسیح موعودؑ اپنے الہام کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اﷲتعالیٰ ہی حضرت مسیح موعودؑ کے ہر کام میں کارساز ہے، پس اﷲتعالیٰ فرماتا ہے کہ تو مجھ کو ہی کارساز سمجھ لے اور دوسروں کا اپنے کاموں میں کچھ بھی دخل مت سمجھ ، آپؑ نے جماعت کو اس طرف توجہ دلائی کہ یہ الہام ایسا ہے کہ جماعت کے ہر فرد کو یاد رکھنا چاہئے کہ خداتعالیٰ تمہاری خدمتوں کا محتاج نہیں ہےنہ ہی تمہاری قربانیوں کا محتاج ہے، جب اس نے اس سلسلہ کو قائم فرمایا ہےتو اس کو چلانے والا بھی وہ انتظام کرنے والاہے، آپؑ نے افراد جماعت کو فرمایا کہ تمہیں جو خدمت کا موقع ملتا ہے اس کو فضل الٰہی سمجھ کر کرو۔ اس الہام میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کے بعد خلافت احمدیہ کا جاری نظام بھی ہمیشہ اس بات کو پیش نظر رکھے کہ اﷲتعالیٰ کی عبودیت کی کوشش کا حق ادا کرتے ہوئےاور اﷲپر توکل کرتے ہوئے اسی سے مدد مانگنی ہے اور اسی پر انحصار کرنا ہے تو اﷲتعالیٰ خود ہی ہر کام میں آ سانیاں پیدا کرتا چلا جائے گا ، اﷲتعالیٰ کی نصرتوں کے نظارے ہم آج تک دیکھ بھی رہے ہیں ، اﷲتعالیٰ احمدیوں کے دلوں میں قربانی کی اہمیت ڈالتا ہےاور وہ غیر معمولی نمونے بھی دکھاتے ہیں ، جماعت میں وصیت کا یک نظام ہے، چندہ عام کا یک نظام ہے اس کے علاوہ مختلف تحریکات ہوتی رہتی ہیں ، دو تحریکات مستقل تحریکات ہیں یعنی وقف جدید اور تحریک جدید۔ وقف جدید کی تحریک پہلے صرف پاکستان میں تھی، پھر تمام دنیا میں عام کر دی گئی اور اسکے بعد بھی اس میں مزید وسعت پیدا کی گئی ، قربانی کے غیر معمولی نمونے افراد جماعت کی طرف سے دیکھنے کو ملتے ہیں ، پاکستان کےدیہاتی اور دور دراز علاقوں میں تربیتی اور تبلیغی کاموں میں تیزی پیدا کرنے کیلئے وقف جدید کی تحریک کو جاری کیا گیا تھا پھر جب یہ تمام دنیا کیلئے عام کی گئی تب بھی اس کے مخصوص مقاصد تھے ، خاص علاقوں کیلئے اس میں سے خرچ کیا جانا تھا ، اس کیلئے شروع میں جن علاقوں کیلئے یہ تحریک شروع کی گئی تھی وہ بھارت ، افریقہ اور دوسرے غریب ممالک کے علاقوں میں تربیت اور تبلیغ کے کاموں کو فعال کرنے کیلئے اس کو جاری کیا گیا۔ سال 2010 میں 600،000 افراد نے وقف جدیدمیں شمولیت اختیار کی ، اس وقت حضرت خلیفۃ المسیح نے خاص طور پر مختلف جماعتوں کو تحریک کی تھی کہ تربیت اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک چندہ کے نظام میں شامل نہیں کریں گے ، اب اس سال اﷲتعالیٰ کے فضل سے شامل ہونے والوں کی تعداد 1،200،000 سے تجاوز کر چکی ہے لیکن ابھی بھی بہت زیادہ گنجائش ہے کیونکہ چندوں کی طرف توجہ دلانا بہت ضروری ہے ، اس کے بغیر ایمان میں ترقی نہیں ہوسکتی، اس کے بعد حضور نے چندہ کی ادائیگی سے متعلق چند ایمان افروز واقعات افریقن ممالک، فن لینڈ، ہندوستان، ماریشس، آسٹریلیا، ناروے، جرمنی اور کینیڈا سے سنائے۔ سال 2015 میں مالی قربانی کے لحاظ سے پاکستان کے بعد پہلے نمبر پر برطانیہ ہے ، امریکہ دوسرے نمبر پر، جرمنی تیسرے، کینیڈا چوتھے، ہندوستان پانچویں ، آسٹریلیا چھٹے ،ا نڈونیشیا ساتویں ، مڈل ایسٹ کی جماعت آٹھویں ، بیلجئیم نویں اور گھانا دسویں نمبر پر ہے، مقامی کرنسی میں وصولی میں اضافے کے لحاظ سے گھانا نمبر ایک پر ہے ، اس کے بعد امریکہ اور پھر برطانیہ ہے ، بڑی جماعتوں میں فی کس ادائیگی کے لحاظ سے پہلے ایک مڈل ایسٹ کی جماعت ہے پھر امریکہ ہے پھر دوبارہ مڈل ایسٹ کی جماعت ہے چوتھے نمبر پر سوئٹزرلینڈ اور پانچویں نمبر پر برطانیہ ہے ، چھٹے پہ آ سٹریلیا ساتویں پر بیلجیئم اور پھر جرمنی اور کینیڈا ہیں۔ محمد اسلم شاد منگلا صاحب کی وفات اور احمد شیر جوئیہ صاحب کی وفات۔

The Promised Messiah(as) said that God has stated through this revelation that He alone was the Guardian and the Promised Messiah should not even consider anyone else's involvement in his work. The Promised Messiah said every member of the Jama'at should be mindful of this revelation in that God is not dependent on any help, service or sacrifice. He has established this community and He Himself will make it work. Whatever way any member is able to serve the Jama'at should be considered as Divine grace. This revelation also indicates to the Khilafat that followed the Promised Messiah(as) that owing to the spirit of man's devotion to God, help should only be sought from God. Today we continue to experience Divine help and grace. God places the significance of financial giving in Ahmadi hearts and they demonstrate extraordinary models of the same. There are various financial schemes in the Jama'at one of which is Waqfe Jadid. Waqfe Jadid has expanded greatly and shows some amazing examples of financial giving. This scheme was initiated to support tarbiyyat and tabligh efforts in rural and far-off areas of Pakistan but was later extended to the rest of the world. It still has specific objectives and certain areas/regions are designated to benefit from it. As such only specific countries and regions are funded by contributions raised by Waqfe Jadid. Generally it is African countries and rural areas in India where Waqfe Jadid is funding many projects. 600,000 people worldwide had participated in the Waqfe Jadeed in 2010. At the time Hazrat Khalifatul Masih had counselled that financial giving was an integral part of tarbiyyat and had encouraged to increase the number of participants. With the grace of God, in 2015 the number of participants was in excess of 1,200,000. Huzoor said there is room for improvement yet in this regard. Next Huzoor related many faith-inspiring accounts of financial giving from African countries, Finland, India, Mauritius, Australia, Norway, Germany and Canada. In 2015, in terms of contributions, after Pakistan, the first ten countries were as follows: UK, USA, Germany, Canada, India, Australia, Indonesia, a Middle Eastern country, Belgium and Ghana. As regards increase in contributions based on local currency the first three countries were: Ghana, USA and UK. As regards per capita contributions the first few countries were: A Middle Eastern country, USA, another Middle Eastern country, Switzerland, UK, Australia, Belgium, Germany and Canada. Death of Muhammad Aslam Shaad Mangla Sahib and Ahmad Sher Joya Sahib.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
01-Jan-2016   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: The Year 2016 and our Responsibilities
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Spanish | Persian | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Indonesian | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا: آج نئے سال کا پہلا دن ہے اور یہ جمعہ کے بابرکت دن سے شروع ہو رہا ہے، حسب روایت نئے سال کے شروع ہونے پر ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہیں ، حضور کو بھی نئے سال کے مبارکباد کے پیغام احباب جماعت کی طرف سے موصول ہو رہے ہیں ، آپ بھی ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہے ہونگے، مغربی ممالک میں ساری رات شراب نوشی ، ہلڑ بازی، پٹاخے اور آتش بازی سے نئے سال کا آغاز کیا جاتا ہے ، بلکہ مسلمان ممالک میں بھی نئے سال کا اسی طرح آغاز کیا جاتا ہے۔ احمدیوں میں سے اﷲتعالیٰ کے فضل سے بہت سے ایسے ہیں جنہوں نے اپنی رات عبادت میں گزار دی یا صبح جلدی جاگ کر نفل پڑھ کر نئے سال کے پہلے دن کا آغاز کیا ، بہت سی جگہوں پر باجماعت تہجد بھی پڑھی گئی لیکن اس سب کے باوجود ہم مسلمانوں کی نظر میں غیر مسلم ہیں اور یہ ہلڑ بازی کرنے والے، غیر مذاہب کی رسومات کو بڑے اہتمام سے منانے والے یہ لوگ مسلمان ہیں ، بہرحال ہم اﷲتعالیٰ کے فضل سے مسلمان ہیں اور ہمیں کسی کی سند کی ضرورت نہیں ہے، ہاں اگر ہم کسی سند کے خواہشمند ہیں تو وہ خدا تعالیٰ کی نظر میں حقیقی مسلمان بن کر سند لینے کی اوراس کیلئے اتنا ہی کافی نہیں کہ ہم سال کے پہلے دن تہجد پڑھ لی۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں : ہل تقویٰ کیلئے یہ شرط ہے کہ وہ اپنی زندگی غربت اور مسکینی میں بسر کریں، یہ تقویٰ کی ایک شاخ ہے جس کے ذریعے سے ہمیں ناجائز غضب کامقابلہ کرنا ہے، بڑے بڑے عارفوں اور صدیقوں کیلئے آخری اور کڑی منزل غضب سے بچنا ہی ہے، کسی کے غصہ سے خود مغلوب الغضب نہ ہو جاؤ اور وہی حرکت خود نہ شروع کر دو، تکبر اور غرور بھی غصہ کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں ، تکبر اور غرور ہوں تو غصہ آتا ہے انسان کو ، غضب اس وقت ہو گا جب انسان اپنے نفس کو دوسرے پر ترجیح دیتا ہے، میں نہیں چاہتا کہ میری جماعت والے آپس میں ایک دوسرے کو چھوٹا یا بڑا سمجھیں، یا ایک دوسرے کو نظر استخفاف سے دیکھیں۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں : جماعت کے باہم اتفاق اور اخوت پر میں پہلے بہت دفعہ کہ چکا ہوں کہ تم باہم اتفاق رکھو اور اجتماع کرو ، خداتعالیٰ نے مسلمانوں کو یہی تعلیم دی تھی کہ تم وجود واحد رکھو ورنہ ہوا نکل جائے گی، نماز میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونے کا حکم اس لئے ہے کہ باہم اتحاد ہو ، برقی طاقت کی طرح ایک کی خیر دوسرے میں سرایت کرے گی ، اگر اختلاف ہو، اتحاد نہ ہو تو بے نصیب رہو گے، اس لئے اختلافات کو ختم کرو اور اتحاد پیدا کرو ، رسول اﷲﷺ نے فرمایا ہے کہ آپس میں محبت کرواور ایک دوسرے کیلئے غائبانہ دعا کیا کرو۔ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا: چاہئے کہ وہ تقویٰ کی راہ اختیار کریں کیونکہ تقویٰ ہی ایک ایسی چیز ہے جس کو شریعت کا خلاصہ کہ سکتے ہیں اور شریعت کو مختصر طور پر بیان کر نا چاہیں تو مغز شریعت تقویٰ ہی ہو سکتا ہے ، تقویٰ کے مدارج اور مراتب بہت سے ہیں لیکن اگر طالب صادق ہو کر ابتدائی مراحل اور مراتب کو استقلال اور خلوص سے طے کریں تو وہ اس راستی اور طلب صدق کی وجہ سے اعلیٰ مدارج کو پالیتا ہے۔

Today is the first day of the New Year and the year is starting with the blessed day of Friday. It is tradition to wish each other a Happy New Year, as such people are sending messages of good wishes to Hazrat Khalifatul Masih and they would be wishing each other as well. The New Year is celebrated in the Western, developed world by partying and drinking through the night and by firework displays. In fact this is also how it is now celebrated in Muslim countries. Conversely, there are many Ahmadis who spent last night in worship of God or woke up early to offer optional Prayers to start the New Year. Tahajjud Prayers in congregation were offered in many places. Yet we are deemed as non-Muslims while those who create a rumpus are Muslims. In any case, with the grace of God, we are Muslims and we do not need anyone's testimonial for this. If we are desirous of any testimonial it is to be true Muslims in God's sight. Promised Messiah(as) said: It is conditional for the righteous to spend their lives in meekness and humbleness. This is a branch of righteousness through which we have to battle unwarranted anger. Many highly devout and truthful people find shunning anger the ultimate and most challenging stage. Arrogance and pride is generated from anger and at times anger itself is generated from arrogance and pride because one is angry when one gives preference to oneself over others. I do not want people of my Jama'at to consider others higher or lesser than themselves. I have spoken many times before on mutual love and accord in the Jama'at. Have mutual accord and stay united. Allah the Exalted gave the teaching to Muslims to stay as one otherwise they would be diminished. The commandment to stand shoulder to shoulder during Salat is to promote mutual unity and so that goodwill can permeate like electric current from one to another. If you have discord and lack unity you will be unsuccessful. What is needed is to adopt the way of righteousness because righteousness alone is something which can be called gist of Shariah. If Shariah was to be explained briefly, then the core of Shariah can only be righteousness. There are many stages and stations of righteousness. However, if a seeker traverses the early stages and stations truthfully and with determination and sincerity, owing to his honesty and sincere wish to seek, he attains the high stations.