بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِِ

Al Islam

The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)Muslims who believe in the Messiah, Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani (as), Love for All, Hatred for None.

CHAPTER 12

Yusuf

(Revealed before Hijrah)

Date of Revelation and Context

According to most Companions of the Holy Prophet, the whole of this Surah was revealed at Mecca; but, according to Ibn ‘Abbas and Qatada, verses 2 to 4 were revealed after Hijrah.

As already pointed out, chapter 10 (Surah Yunus) deals with both aspects of God’s dealings with man—His punishment and mercy. But while chapter 11 (Surah Hud) deals with the subject of Divine punishment, the present chapter deals with that of Divine mercy. The Surah dealing with God’s punishment has been placed before that dealing with His mercy because the enemies of the Holy Prophet were shown mercy after they had been punished for their misdeeds.

Subject Matter

The present Surah, however, possesses one peculiarity. The whole of it deals with the life story of only one Prophet—Joseph. In this it differs from any other Surah. The reason for this peculiarity is that the life of the Prophet Joseph bears a close resemblance to that of the Holy Prophet even in minor details. The entire Surah has been devoted to a somewhat detailed account of the Prophet Joseph’s life that it might serve as a forewarning of the incidents that were to occur during the life-time of the Holy Prophet.

In chapter 10 the story of the Prophet Jonah was chosen as an illustration of Divine mercy, while in the detailed account given in the present chapter the example of Joseph has been cited as an illustration. Two reasons may be given for this: (1) The lives of Jonah and the Holy Prophet resemble one another only in their closing stages, there being little resemblance between them in the intervening stages. But Joseph’s life, as already stated, resembles that of the Holy Prophet even in small details. (2) Although the case of Jonah resembles that of the Holy Prophet inasmuch as the peoples of both Jonah and the Holy Prophet were ultimately saved through God’s mercy, the resemblance between the two is only partial whereas the resemblance between Joseph and the Holy Prophet even in the way in which God treated the former’s brethren and the latter’s tribe is very close and is almost complete. The mercy shown to Jonah’s people was directly the result of God’s grace, Jonah having no hand in it, while the declaration of pardon for Joseph’s brethren was made by Joseph himself, and so it happened with the Quraish of Mecca that the announcement of their unqualified forgiveness came directly from the Holy Prophet’s himself.

12. یوسف

یہ مکی سورت ہے اور بسم اللہ سمیت اس کی ایک سو بارہ آیات ہیں۔ 

اس کا آغاز بھی الٓرٰکے مقطعات سے ہو رہا ہے اور وہی معنے رکھتا ہے جو پہلے بیان کئے جاچکے ہیں۔ 

اس کے معاً بعد تمام قَصَص میں سے اُس بہترین قصے کا ذکر آیا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی بشاشتِ قلب کا موجب بننا تھا۔ سورۃ ہود میں مذکور واقعات سے پہنچنے والے صدمہ کا یہ بہترین ازالہ ہے۔ ضروری ہے کہ یہاں قَصَص کی وضاحت کی جائے۔ قَصَص سے مراد قِصہ کہانی نہیں بلکہ ماضی کے وہ واقعات ہیں جو کھوج لگانے پر بعینہٖ درست ثابت ہوتے ہیں۔ 

اس سورت کا آغاز حضرت یوسف علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ایک رؤیا کے ذکر سے کیا گیا ہے جس میں آپؑ کے ساتھ پیش آمدہ تمام واقعات کا ذکر موجود ہے اور جس کی تعبیر حضرت یعقوب علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ فرمائی کہ حضرت یوسفؑ کو ان کے بھائیوں سے سخت نقصان کا خطرہ ہے۔ اس لئے آپؑ نے نصیحت فرمائی کہ یہ رؤیا اپنے بھائیوں کے سامنے بیان نہیں کرنی۔ 

یہ تمام سورت حضرت یوسف علیہ الصلوٰۃ والسلام کو جوتعبیر رؤیا کا علم دیا گیا تھا اس سے تعلق رکھتی ہے۔ مثلاً آپؑ کے ساتھ جو دو قیدی تھے ان دونوں کی رؤیا کی حضرت یوسفؑ نے ایسی تعبیر فرمائی جو بعینہٖ پوری ہوئی اور اسی وجہ سے وہ قیدی جس کے بچنے کی خوشخبری دی گئی تھی وہ ذریعہ بن گیا کہ بادشاہ کی اس رؤیا کے متعلق حضرت یوسفؑ سے تعبیر طلب کرتا جس کو درباری علماء نے محض نفس کے خیالات سے تعبیر کیا تھا۔ اور حضرت یوسفؑ کی تعبیر ہی کے نتیجہ میں یہ عظیم الشان واقعہ ہوا کہ مصر اور اس کے اردگرد ایسے غرباء جنہوں نے یقینا فاقوں سے مر جانا تھا فاقہ کشی کے عذاب سے بچائے گئے اور مسلسل سات برس تک ان کو غذا مہیا کی گئی اور اس انتظام کے نگران خود حضرت یوسف علیہ الصلوٰۃ والسلام بنائے گئے اور اسی وجہ سے بالآخر آپؑ کے والدین اور بھائیوں کو آپؑ ہی کی پناہ میں آنا پڑا اور وہ آپؑ کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہوگئے۔ 

یہ تاریخ کے ایسے واقعات ہیں جن کا آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو کسی صورت ذاتی علم نہیں ہوسکتا تھا۔ اس لئے فرمایا کہ تُو ان لوگوں میں موجودنہیں تھا جب یہ سب کچھ رونما ہو رہا تھا۔ یہ محض ایک علیم و خبیر اللہ ہی ہے جو تجھے ان واقعات کی حقیقت سے آگاہ فرما رہا ہے۔ 

اس سورت کا اختتام اس آیت کریمہ پر کیا جارہا ہے کہ ان واقعات کا بیان ایسا نہیں جیسے قصّے کہانیاں بیان کی جاتی ہیں بلکہ اہلِ عقل کے لئے ان واقعات میں بہت سی عبرتیں پوشیدہ ہیں۔ اور بلاشبہ سورۃ یوسف تمام تر اَن گنت عبرتوں کی طرف متوجہ کر رہی ہے۔ 


[12:1]   
English
In the name of Allah, the Gracious, the Merciful.
اُردو
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔

[12:2]   
English
Alif Lam Ra. These are verses of the clear Book.
اُردو
اَنَا اللّٰہُ اَرٰی: میں اللہ ہوں۔ میں دیکھتا ہوں۔ یہ ایک کھلی کھلی کتاب کی آیات ہیں۔

[12:3]   
English
We have revealed it — the Qur’an in Arabic — that you may understand.
اُردو
یقیناً ہم نے اسے عربی قرآن کے طور پر نازل کیا تاکہ تم عقل کرو۔

[12:4]   
English
We narrate unto thee the most beautiful narration by revealing to thee this Qur’an, though thou wast, before this, of those not possessed of requisite knowledge.
اُردو
ہم نے جو یہ قرآن تجھ پر وحی کیا اس کے ذریعہ ہم تیرے سامنے ثابت شدہ تاریخی حقائق میں سے بہترین بیان کرتے ہیں جبکہ اس سے پہلے (اس بارہ میں) تُو غافلوں میں سے تھا۔

[12:5]   
English
Remember the time when Joseph said to his father, ‘O my father, I saw in a dream eleven stars and the sun and the moon, I saw them making obeisance to me.’
اُردو
(یاد کرو) جب یوسف نے اپنے باپ سے کہا اے میرے باپ! یقیناً میں نے (رؤیا میں) گیارہ ستارے اور سورج اور چاند دیکھے ہیں۔ (اور) میں نے انہیں اپنے لئے سجدہ ریز دیکھا۔

[12:6]   
English
He said, ‘O my darling son, relate not thy dream to thy brothers, lest they contrive a plot against thee; for Satan is to man an open enemy.
اُردو
اس نے کہا اے میرے پیارے بیٹے! اپنی رؤیا اپنے بھائیوں کے سامنے بیان نہ کرنا ورنہ وہ تیرے خلاف کوئی چال چلیں گے۔ یقیناً شیطان انسان کا کھلاکھلا دشمن ہے۔

[12:7]   
English
‘And thus shall it be as thou hast seen, thy Lord will choose thee and teach thee the interpretation of things and perfect His favour upon thee and upon the family of Jacob as He perfected it upon two of thy forefathers — Abraham and Isaac. Verily, thy Lord is All-Knowing, Wise.’
اُردو
اور اسی طرح تیرا ربّ تجھے (اپنے لئے) چُن لے گا اور تجھے معاملات کی تہ تک پہنچنے کا علم سکھادے گا اور اپنی نعمت تجھ پر تمام کرے گا اور آلِ یعقوب پر بھی جیسا کہ اس نے اُسے تیرے باپ دادا اِبراہیم اور اسحاق پر پہلے تمام کیا تھا۔ یقیناً تیرا ربّ دائمی علم رکھنے والا (اور) حکمت والا ہے۔

[12:8]   
English
Surely, in Joseph and his brethren there are Signs for the inquirers.
اُردو
یقیناً یوسف اور اس کے بھائیوں (کے واقعہ) میں پوچھنے والوں کے لئے کئی نشانات ہیں۔

[12:9]   
English
When they said, ‘Verily, Joseph and his brother are dearer to our father than we are, although we are a strong party. Surely, our father is in manifest error.
اُردو
(یاد کرو) جب انہوں نے کہا کہ یقیناً یوسف اور اس کا بھائی ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں حالانکہ ہم ایک مضبوط ٹولی ہیں۔ یقیناً ہمارا باپ ایک ظاہر و باہر غلطی میں مبتلا ہے۔

[12:10]   
English
‘Kill Joseph or cast him out to some distant land, so that your father’s favour may become exclusively yours and you can thereafter become a righteous people.’
اُردو
یوسف کو قتل کر ڈالو یا اُسے کسی جگہ پھینک آؤ تو تمہارے باپ کی توجہ صرف تمہارے لئے رہ جائے گی اور تم اس کے بعد نیک لوگ بن جانا۔