بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِِ

Al Islam

The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)Muslims who believe in the Messiah, Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani (as), Love for All, Hatred for None.

[12:43]   
English
And of the two, he said to him whom he thought to be the one who would escape: ‘Mention me to thy lord.’ But Satan caused him to forget mentioning it to his lord, so he remained in prison for some years.
اُردو
اور اس نے اُس شخص سے جس کے متعلق خیال کیا تھا کہ ان دونوں میں سے وہ بچ جائے گا کہا کہ اپنے آقا کے پاس میرا ذکر کرنا مگر شیطان نے اُسے بھلا دیا کہ اپنے آقا کے پاس (یہ) ذکر کرے۔ پس وہ چند سال تک قید خانہ میں پڑا رہا۔

[12:44]   
English
And the King said, ‘I see in a dream seven fat kine which seven lean ones eat up, and seven green ears of corn and seven others withered. O ye chiefs, explain to me the meaning of my dream if you can interpret a dream.’
اُردو
اور بادشاہ نے (دربار میں) بیان کیا کہ میں سات موٹی گائیں دیکھتا ہوں جنہیں سات دُبلی پتلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات سرسبز بالیاں اور کچھ دوسری سوکھی ہوئی بھی (دیکھتا ہوں)۔ اے سردارو! مجھے میری رؤیا کے بارہ میں تعبیر سمجھاؤ اگر تم خوابوں کی تعبیر کرسکتے ہو۔

[12:45]   
English
They replied, ‘They are confused dreams, and we do not know the interpretation of such confused dreams.’
اُردو
انہوں نے کہا یہ پراگندہ خیالات پر مشتمل نفسانی خوابیں ہیں اور ہم نفسانی خوابوں کی تعبیر کا علم نہیں رکھتے۔

[12:46]   
English
And he of the two who had escaped, and who now remembered after a time, said, ‘I will let you know its interpretation, therefore send ye me.’
اُردو
اور اس شخص نے جو اُن دونوں (قیدیوں) میں سے بچ گیا تھا اور ایک طویل مدت کے بعد اس نے (یوسف کو) یاد کیا، یہ کہا کہ میں تمہیں اس کی تعبیر بتاؤں گا پس مجھے (یوسف کی طرف) بھیج دو۔

[12:47]   
English
‘Joseph! O thou man of truth, explain to us the meaning of seven fat kine which seven lean ones devour, and of seven green ears of corn and seven others withered; that I may return to the people so that they may know.’
اُردو
یوسف اے راستباز! ہمیں سات موٹی گائیوں کا جنہیں سات دُبلی گائیں کھا رہی ہوں اور سات سبز و شاداب بالیوں اور دوسری سوکھی ہوئی بالیوں کے بارہ میں مسئلہ سمجھا تاکہ میں لوگوں کی طرف واپس جاؤں شاید کہ وہ (اس کی تعبیر) معلوم کرلیں۔

[12:48]   
English
He replied, ‘You shall sow for seven years, working hard and continuously, and leave what you reap in its ear, except a little which you shall eat.
اُردو
اس نے کہا کہ تم مسلسل سات سال تک کاشت کرو گے۔ پس جو تم کاٹو اسے اس کی بالیوں میں رہنے دو سوائے تھوڑی مقدار کے جو تم اس میں سے کھاؤ گے۔

[12:49]   
English
‘Then there shall come after that seven hard years which shall consume all that you shall have laid by in advance for them except a little which you may preserve.
اُردو
پھر اس کے بعد سات بہت سخت (سال) آئیں گے جو وہ کھا جائیں گے جو تم نے ان کے لئے آگے بھیجا ہوگا سوائے اس میں سے تھوڑے سے حصہ کے جو تم (آئندہ کاشت کے لئے) سنبھال رکھو گے۔

[12:50]   
English
‘Then there shall come after that a year in which people shall be relieved and in which they shall give presents to each other.’
اُردو
پھر اس کے بعد ایک سال آئے گا جس میں لوگ خوب سیراب کئے جائیں گے اور اس میں وہ رس نچوڑیں گے۔

[12:51]   
English
And the King said, ‘Bring him to me.’ But when the messenger came to him, he said, ‘Go back to thy lord and ask him how fare the women who cut their hands: for, my Lord well knows their crafty design.’
اُردو
بادشاہ نے کہا اسے میرے پاس لاؤ۔ پس جب ایلچی اس (یعنی یوسف) کے پاس پہنچا تو اس نے کہا اپنے آقا کی طرف لوٹ جاؤ اور اس سے پوچھو اُن عورتوں کا کیا قصہ ہے جو اپنے ہاتھ کاٹ بیٹھی تھیں۔ یقیناً میرا ربّ ان کی چال کو خوب جانتا ہے۔

[12:52]   
English
He (the King) said to the women, ‘What was the matter with you when you sought to seduce Joseph against his will?’ They said, ‘He kept away from sin for fear of Allah — we have known no evil against him.’ The wife of the ‘Aziz said, ‘Now has the truth come to light. It was I who sought to seduce him against his will, and surely, he is the truthful.’
اُردو
اس (بادشاہ) نے پوچھا (اے عورتو!) بتاؤ تمہارا کیا معاملہ تھا جب تم نے یوسف کو اس کے نفس کے بارہ میں پھسلانا چاہا تھا۔ انہوں نے کہا پاک ہے اللہ۔ ہمیں تو اس کے خلاف کسی بُرائی کا علم نہیں۔ سردار کی بیوی نے کہا اب سچائی ظاہر ہو چکی ہے۔ میں نے ہی اسے اس کے نفس کے بارہ میں پھسلانا چاہا تھا اور یقیناً وہ صادقوں میں سے ہے۔