بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِِ

Al Islam

The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)Muslims who believe in the Messiah, Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani (as), Love for All, Hatred for None.

[12:48]   
English
He replied, ‘You shall sow for seven years, working hard and continuously, and leave what you reap in its ear, except a little which you shall eat.
اُردو
اس نے کہا کہ تم مسلسل سات سال تک کاشت کرو گے۔ پس جو تم کاٹو اسے اس کی بالیوں میں رہنے دو سوائے تھوڑی مقدار کے جو تم اس میں سے کھاؤ گے۔

[12:49]   
English
‘Then there shall come after that seven hard years which shall consume all that you shall have laid by in advance for them except a little which you may preserve.
اُردو
پھر اس کے بعد سات بہت سخت (سال) آئیں گے جو وہ کھا جائیں گے جو تم نے ان کے لئے آگے بھیجا ہوگا سوائے اس میں سے تھوڑے سے حصہ کے جو تم (آئندہ کاشت کے لئے) سنبھال رکھو گے۔

[12:50]   
English
‘Then there shall come after that a year in which people shall be relieved and in which they shall give presents to each other.’
اُردو
پھر اس کے بعد ایک سال آئے گا جس میں لوگ خوب سیراب کئے جائیں گے اور اس میں وہ رس نچوڑیں گے۔

[12:51]   
English
And the King said, ‘Bring him to me.’ But when the messenger came to him, he said, ‘Go back to thy lord and ask him how fare the women who cut their hands: for, my Lord well knows their crafty design.’
اُردو
بادشاہ نے کہا اسے میرے پاس لاؤ۔ پس جب ایلچی اس (یعنی یوسف) کے پاس پہنچا تو اس نے کہا اپنے آقا کی طرف لوٹ جاؤ اور اس سے پوچھو اُن عورتوں کا کیا قصہ ہے جو اپنے ہاتھ کاٹ بیٹھی تھیں۔ یقیناً میرا ربّ ان کی چال کو خوب جانتا ہے۔

[12:52]   
English
He (the King) said to the women, ‘What was the matter with you when you sought to seduce Joseph against his will?’ They said, ‘He kept away from sin for fear of Allah — we have known no evil against him.’ The wife of the ‘Aziz said, ‘Now has the truth come to light. It was I who sought to seduce him against his will, and surely, he is the truthful.’
اُردو
اس (بادشاہ) نے پوچھا (اے عورتو!) بتاؤ تمہارا کیا معاملہ تھا جب تم نے یوسف کو اس کے نفس کے بارہ میں پھسلانا چاہا تھا۔ انہوں نے کہا پاک ہے اللہ۔ ہمیں تو اس کے خلاف کسی بُرائی کا علم نہیں۔ سردار کی بیوی نے کہا اب سچائی ظاہر ہو چکی ہے۔ میں نے ہی اسے اس کے نفس کے بارہ میں پھسلانا چاہا تھا اور یقیناً وہ صادقوں میں سے ہے۔

[12:53]   
English
Joseph said, ‘I asked for that enquiry to be made so that he (the ‘Aziz) might know that I was not unfaithful to him in his absence and that Allah suffers not the device of the unfaithful to succeed.
اُردو
یہ اس لئے ہوا تاکہ وہ (عزیزِ مصر) جان لے کہ میں (یعنی یوسف) نے اس کی عدم موجودگی میں اس کی کوئی خیانت نہیں کی اور یقیناً اللہ خیانت کرنے والوں کی چال کو سرے نہیں چڑھاتا۔

[12:54]   
English
‘And I do not hold my own self to be free from weakness; for, the soul is surely prone to enjoin evil, save that whereon my Lord has mercy. Surely, my Lord is Most Forgiving, Merciful.’
اُردو
اور میں اپنے نفس کو بَری قرار نہیں دیتا یقیناً نفس تو بدی کا بہت حکم دینے والا ہے سوائے اس کے جس پر میرا ربّ رحم کرے۔ یقیناً میرا ربّ بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔

[12:55]   
English
And the King said, ‘Bring him to me that I may take him specially for myself.’ And when he had spoken to him, he said, ‘Thou art this day a man of established position and trust with us.’
اُردو
اور بادشاہ نے کہا اسے میرے پاس لے آؤ میں اسے اپنے لئے چُن لوں۔ پھر جب وہ اس سے ہم کلام ہوا تو کہا یقیناً آج (سے) تُو ہمارے حضور بہت تمکنت والا (اور) قابلِ اعتماد ہے۔

[12:56]   
English
He said, ‘Appoint me over the treasures of the land, for I am a good keeper, and possessed of knowledge.’
اُردو
اس نے کہا مجھے ملک کے خزانوں پر مقرر کردے۔ میں یقیناً بہت حفاظت کرنے والا (اور) صاحبِ علم ہوں۔

[12:57]   
English
And thus did We establish Joseph in the land. He dwelt therein wherever he pleased. We bestow Our mercy on whomsoever We please, and We suffer not the reward of the righteous to perish.
اُردو
اور اس طرح ہم نے یوسف کو ملک میں تمکنت دی۔ وہ اس میں جہاں چاہتا ٹھہرتا۔ ہم اپنی رحمت جسے چاہیں پہنچاتے ہیں۔ اور ہم احسان کرنے والوں کے اجر کو ضائع نہیں کیا کرتے۔