بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِِ

Al Islam

The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)Muslims who believe in the Messiah, Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani (as), Love for All, Hatred for None.

[12:77]

فَبَدَاَ بِاَوۡعِیَتِہِمۡ قَبۡلَ وِعَآءِ اَخِیۡہِ ثُمَّ اسۡتَخۡرَجَہَا مِنۡ وِّعَآءِ اَخِیۡہِ ؕ کَذٰلِکَ کِدۡنَا لِیُوۡسُفَ ؕ مَا کَانَ لِیَاۡخُذَ اَخَاہُ فِیۡ دِیۡنِ الۡمَلِکِ اِلَّاۤ اَنۡ یَّشَآءَ اللّٰہُ ؕ نَرۡفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنۡ نَّشَآءُ ؕ وَ فَوۡقَ کُلِّ ذِیۡ عِلۡمٍ عَلِیۡمٌ ﴿۷۷﴾

English
Then he began the search with their sacks before the sack of his brother; then he took it out from his brother’s sack. Thus did We plan for Joseph. He could not have taken his brother under the King’s law unless Allah had so willed. We raise in degrees of rank whomsoever We please; and over every possessor of knowledge is One, Most-Knowing.
اُردو
پھر اس (اعلان کرنے والے) نے اس (یعنی یوسف) کے بھائی کے بورے سے پہلے ان کے بوروں سے شروع کیا پھر اس کے بھائی کے بورے میں سے اس (پیمانہ) کو نکال لیا۔ اس طرح ہم نے یوسف کے لئے تدبیر کی۔ اس کے لئے ممکن نہ تھا کہ اپنے بھائی کو بادشاہ کی حکمرانی میں روک لیتا سوائے اس کے کہ اللہ چاہتا۔ ہم جسے چاہیں درجات کے لحاظ سے بلند کرتے ہیں اور ہر علم رکھنے والے سے برتر ایک صاحبِ علم ہے۔

[12:78]

قَالُوۡۤا اِنۡ یَّسۡرِقۡ فَقَدۡ سَرَقَ اَخٌ لَّہٗ مِنۡ قَبۡلُ ۚ فَاَسَرَّہَا یُوۡسُفُ فِیۡ نَفۡسِہٖ وَ لَمۡ یُبۡدِہَا لَہُمۡ ۚ قَالَ اَنۡتُمۡ شَرٌّ مَّکَانًا ۚ وَ اللّٰہُ اَعۡلَمُ بِمَا تَصِفُوۡنَ ﴿۷۸﴾

English
They said, ‘If he has stolen, a brother of his had also committed theft before.’ But Joseph kept it secret in his heart and did not disclose it to them. He simply said, ‘You seem to be in the worst condition; and Allah knows best what you allege.’
اُردو
انہوں نے کہا اگر اس نے چوری کی ہے تو اس کے ایک بھائی نے بھی اس سے پہلے چوری کی تھی تو یوسف نے اس (الزام کے اثر) کو اپنے دل میں چھپا لیا اور اُسے ان پر ظاہر نہ کیا۔ (ہاں دل ہی دل میں) کہا تم مقام کے لحاظ سے بدترین ہو اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے جو تم بیان کرتے ہو۔

[12:79]

قَالُوۡا یٰۤاَیُّہَا الۡعَزِیۡزُ اِنَّ لَہٗۤ اَبًا شَیۡخًا کَبِیۡرًا فَخُذۡ اَحَدَنَا مَکَانَہٗ ۚ اِنَّا نَرٰٮکَ مِنَ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۷۹﴾

English
They said, ‘O exalted one, he has a very aged father, so take one of us in his stead; for we see thee to be of those who do good.’
اُردو
انہوں نے کہا اے صاحبِ اختیار! یقیناً اس کا باپ بہت بوڑھا شخص ہے۔ پس اس کی بجائے ہم میں سے کسی ایک کو رکھ لے۔ یقیناً ہم تجھے احسان کرنے والوں میں سے دیکھتے ہیں۔

[12:80]

قَالَ مَعَاذَ اللّٰہِ اَنۡ نَّاۡخُذَ اِلَّا مَنۡ وَّجَدۡنَا مَتَاعَنَا عِنۡدَہٗۤ ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّظٰلِمُوۡنَ ﴿٪۸۰﴾

English
He replied, ‘Allah forbid that we should take any save him with whom we found our property; for then we should certainly be unjust.’
اُردو
اس نے کہا اللہ کی پناہ! کہ جس کے پاس ہم اپنا سامان پائیں اس کے سوا کسی اور کو پکڑیں۔ تب تو ہم یقیناً ظلم کرنے والے بن جائیں گے۔

[12:81]

فَلَمَّا اسۡتَیۡـَٔسُوۡا مِنۡہُ خَلَصُوۡا نَجِیًّا ؕ قَالَ کَبِیۡرُہُمۡ اَلَمۡ تَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اَبَاکُمۡ قَدۡ اَخَذَ عَلَیۡکُمۡ مَّوۡثِقًا مِّنَ اللّٰہِ وَ مِنۡ قَبۡلُ مَا فَرَّطۡتُّمۡ فِیۡ یُوۡسُفَ ۚ فَلَنۡ اَبۡرَحَ الۡاَرۡضَ حَتّٰی یَاۡذَنَ لِیۡۤ اَبِیۡۤ اَوۡ یَحۡکُمَ اللّٰہُ لِیۡ ۚ وَ ہُوَ خَیۡرُ الۡحٰکِمِیۡنَ ﴿۸۱﴾

English
And when they despaired of him, they retired, conferring together in private. Their leader said, “Know ye not that your father has taken from you a solemn promise in the name of Allah and how, before this, you failed in your duty with respect to Joseph? I will, therefore, not leave the land until my father permits me or Allah decides for me. And He is the Best of judges.
اُردو
پس جب وہ اس سے مایوس ہو گئے تو مشورہ کے لئے علیحدہ ہوئے۔ ان کے بڑے نے کہا کہ کیا تم جانتے نہیں کہ تمہارے باپ نے اللہ کے حوالہ سے تم پر واجب پختہ عہد لیا تھا اور (اس سے) پہلے بھی جو تم یوسف کے معاملہ میں زیادتی کر چکے ہو۔ پس میں ہرگز یہ ملک نہیں چھوڑوں گا یہاں تک کہ میرا باپ مجھے اجازت دے یا میرے لئے اللہ کوئی فیصلہ کردے اور وہ فیصلہ کرنے والوں میں سب سے بہتر ہے۔

[12:82]

اِرۡجِعُوۡۤا اِلٰۤی اَبِیۡکُمۡ فَقُوۡلُوۡا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّ ابۡنَکَ سَرَقَ ۚ وَ مَا شَہِدۡنَاۤ اِلَّا بِمَا عَلِمۡنَا وَ مَا کُنَّا لِلۡغَیۡبِ حٰفِظِیۡنَ ﴿۸۲﴾

English
“Return ye to your father and say, ‘O our father, thy son has stolen and we have stated only what we know and we could not be guardians over the unseen.
اُردو
اپنے باپ کی طرف واپس جاؤ اور اسے کہو کہ اے ہمارے باپ! یقیناً تیرے بیٹے نے چوری کی ہے اور ہم سوائے اس کے جس کا ہمیں علم ہے کوئی گواہی نہیں دے رہے اور ہم یقیناً غیب کے محافظ نہیں۔

[12:83]

وَ سۡـَٔلِ الۡقَرۡیَۃَ الَّتِیۡ کُنَّا فِیۡہَا وَ الۡعِیۡرَ الَّتِیۡۤ اَقۡبَلۡنَا فِیۡہَا ؕ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ ﴿۸۳﴾

English
‘And inquire of the people of the city wherein we were, and of the caravan with which we came, and certainly we are speaking the truth.’”
اُردو
پس اس بستی (والوں) سے پوچھ جس میں ہم تھے اور اس قافلہ سے بھی جس میں شامل ہو کر ہم آئے ہیں اور یقیناً ہم سچے ہیں۔

[12:84]

قَالَ بَلۡ سَوَّلَتۡ لَکُمۡ اَنۡفُسُکُمۡ اَمۡرًا ؕ فَصَبۡرٌ جَمِیۡلٌ ؕ عَسَی اللّٰہُ اَنۡ یَّاۡتِـیَنِیۡ بِہِمۡ جَمِیۡعًا ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الۡعَلِیۡمُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۸۴﴾

English
He replied, ‘Nay, but your souls have embellished to you this thing. So now comely patience is good for me. May be Allah will bring them all to me; for He is the All-Knowing, the Wise.’
اُردو
اس نے کہا (نہیں) بلکہ تمہارے نفسوں نے ایک بہت بڑے معاملہ کو تمہارے لئے ہلکا اور معمولی بنادیا ہے۔ پس صبرجمیل (کے سوا میں کیا کر سکتا ہوں)۔ عین ممکن ہے کہ اللہ ان سب کو میرے پاس لے آئے۔ یقیناً وہی ہے جو دائمی علم رکھنے والا (اور) بہت حکمت والا ہے۔

[12:85]

وَ تَوَلّٰی عَنۡہُمۡ وَ قَالَ یٰۤاَسَفٰی عَلٰی یُوۡسُفَ وَ ابۡیَضَّتۡ عَیۡنٰہُ مِنَ الۡحُزۡنِ فَہُوَ کَظِیۡمٌ ﴿۸۵﴾

English
And he turned away from them and said, ‘O my grief for Joseph!’ And his eyes became white because of grief, and he was suppressing his sorrow.
اُردو
اور اس نے ان سے توجہ پھیر لی اور کہا وائے افسوس یوسف پر! اور اس کی آنکھیں غم سے ڈبڈبا آئیں اور وہ اپنا غم دبانے والا تھا۔

[12:86]

قَالُوۡا تَاللّٰہِ تَفۡتَؤُا تَذۡکُرُ یُوۡسُفَ حَتّٰی تَکُوۡنَ حَرَضًا اَوۡ تَکُوۡنَ مِنَ الۡہٰلِکِیۡنَ ﴿۸۶﴾

English
They said, ‘By Allah, thou wilt not cease talking of Joseph until thou art wasted away or thou art of those who perish.’
اُردو
انہوں نے کہا خد اکی قسم! تُو ہمیشہ یوسف ہی کا ذکر کرتا رہے گا یہاں تک کہ تُو (غم سے) نڈھال ہوجائے یا ہلاک ہو جانے والوں میں سے ہو جائے۔