بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِِ

Al Islam

The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)Muslims who believe in the Messiah, Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani (as), Love for All, Hatred for None.

CHAPTER 14

Ibrahim

(Revealed before Hijrah)

Place of Revelation

The whole Surah was revealed at Mecca. Ibn ‘Abbas and Qatadah, however, make an exception of verses 29-31, which according to them were revealed at Medina.

Subject Matter

The subject matter of the previous chapter has been continued and explained more fully and clearly in this chapter. In this Surah the truth of the Quranic teaching is sought to be proved from observation, inferences to this effect having been drawn from facts of history. It is pointed out that in circumstances similar to that of the Holy Prophet, Messengers of God were successful in their own day against very powerful opposition. The Holy Prophet, therefore, is also bound to succeed in his mission in spite of the meagreness of his means.

The real purpose of Quranic revelation is to provide guidance for mankind, which is groping in darkness. The Holy Prophet has been raised to bring people out of this Cimmerian darkness into light. Prophets had also appeared before him, prominent among them being Moses, who is depicted in the Surah as saying to his people that Messengers of God who appeared before him had also been raised to serve the same object. The Surah then proceeds to enlighten us about the main cause of the triumph of Divine Messengers over their opponents. It was that they worshipped and preached truth. After having dealt with this subject, the Surah lays down the special marks and signs of the revealed Word of God and the criteria by which its truth can be tested. Judged by these standards, the Quran is definitely proved to be God’s own revealed Word. Muslims then are advised as to how best they can profit by its noble ideals and teachings. Next the Surahpoints out that the change which was about to take place in Arabia through the Message of the Quran had been decreed ages before by Almighty God. It had been God’s plan and purpose since Abraham went to the wilderness of Paran and settled his son Ishmael and his wife Hagar there, that this barren and bleak country would one day become the Centre of the greatest religious Movement that the world had ever seen. Nay, Mecca itself was founded to fulfil this divine 
plan. This is why, in spite of the barrenness of its soil, God has always provided for its inhabitants their means of livelihood in ample measure. While Abraham was reconstructing the Ka‘bah with the help of his son, Ishmael, he prayed to God that He might raise up among them a Messenger from among themselves, who may recite to them His signs and teach them the Book and Wisdom and may purify them (2:130). This prayer was fulfilled in the person of the Holy Prophet.

The Surah proceeds to remind the faithful that their duties and responsibilities had already been explained to them by the Prophet Abraham and that they should never lose sight of them. It ends with a warning to the disbelievers that since Mecca had been founded to become the Centre for the preaching and propagation of the doctrine of the Oneness of God, they should give up idolatry. Any efforts on their part to contradict Divine purpose were bound to end in failure and frustration.

14. ابراھیم

یہ سورت مکی ہے اور بسم اللہ سمیت اس کی ترپن آیات ہیں۔ 

اس سورت کا آغاز بھی مقطعات سے ہو رہا ہے اور سورت یونس میں جہاں الٓرٰ پہلے آچکا ہے وہی تشریح اس پر بھی اطلاق پاتی ہے۔ 

 اس سے پہلی سورت کا اختتام اس آیت کریمہ پر ہے: - ’’اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا کہتے ہیں کہ تُو مرسل نہیں ہے۔ تُو کہہ دے کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ بطور گواہ کافی ہے اور وہ بھی (گواہ ہے) جس کے پاس کتاب کا علم ہے‘‘۔ 

پس اس سورت کا آغاز بھی کتاب کے ذکر سے ہوا اور کتاب کے نزول کی یہ حکمت بیان فرمائی گئی کہ یہ تجھ پر اس لئے نازل کی جارہی ہے تاکہ لوگوں کو اندھیروں سے نور کی طرف نکالا جائے۔ پھر یہ بھی ذکر فرمایا گیا کہ  حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بھی اس غرض سے کتاب دی گئی تھی۔ پھر حضرت موسیؑ کے اُس انتباہ کا ذکر ہے جس سے آپؑ نے اپنی قوم کو ڈرایا کہ اگر تم اور وہ تمام جو زمین میں بستے ہیں میرا انکار کردوگے تو اللہ تعالیٰ تمہارے انکار سے مستغنی ہے اور تم اس کی حمدنہ بھی کرو تو وہ اپنی ذات میں صاحبِ حمد ہے۔ 

اس کے بعد مختلف انبیاء کا ذکر ہے کہ ان کی قوموں نے انکار کیوں کیا۔ ان کے انکار کی بنا یہی تھی کہ وہ رسولوں کو اپنے جیسا ایک انسان سمجھتے تھے جن پر خداتعالیٰ کی پاک وحی نازل ہو ہی نہیں سکتی۔  

اس سورت میں ایک نئی بات یہ بھی پائی جاتی ہے کہ قتلِ مرتد کے عقیدے کی بحث اٹھائی گئی ہے اور فرمایا گیا ہے کہ قتلِ مرتد کا عقیدہ رسولوں کا انکار کرنے والوں کا اجماعی عقیدہ تھا۔ چنانچہ انہوں نے ہر رسول کو اپنے زعم میں مرتد سمجھتے ہوئے اس کے عواقب سے آگاہ کیا کہ ہم مرتد کو ضرور سزا دیا کرتے ہیں جو اپنی زمین سے دیس نکالا ہے جب تک واپس ہماری ملت میں نہ لوٹ آئے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے رسولوں پر وحی فرمائی کہ تمہاری ہلاکت کا دعویٰ کرنے والے خود ہی ہلاک کردیئے جائیں گے یہاں تک کہ جن زمینوں کے وہ مالک بنے بیٹھے ہیں ان کے بعد تم ان کے وارث بنا دیئے جاؤ گے۔ 

اسی سورت میں لفظ کلمۃ کی ایک عظیم الشان تشریح پیش فرمائی گئی ہے اور اسی طرح شجرہ کے معنے بھی خوب کھول دیئے گئے ہیں۔ شجرۂ طیبہ کی مثال پاک انسانوں یعنی انبیاء کی طرح ہے جن کی جڑیں بظاہر زمین میں پیوست ہوتی ہیں لیکن وہ اپنی روحانی غذا آسمان سے حاصل کرتے ہیں اور ہر حال میں ان کو یہ غذا عطا کی جاتی ہے خواہ موسم بہار ہو یا موسم خزاں ہو۔ اور شجرۂ خبیثہ سے مراد انبیاء کے مخالفین ہیں جو اس طرح زمین سے اکھاڑ پھینک دیئے جائیں گے جیسے وہ پودے جو تیز ہواؤں کے نتیجہ میں زمین سے اکھڑ جاتے ہیں اور ہوائیں انہیں اسی حالت میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتی رہتی ہیں۔ پس انبیاء کے مخالفین کا بھی یہی حال ہوگا۔ وہ بار بار اپنے مؤقف تبدیل کریں گے اور بالآخر خاک میں ملادیئے جائیں گے۔  

اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وہ دعا ہے جو خانہ کعبہ سے متعلق ہے اور اللہ تعالیٰ سے اس میں یہ بھی التجا کی گئی ہے کہ خانہ کعبہ کے پاس رہنے والوں کو دُور دراز سے ہر قسم کے پھل عطا کئے جائیں۔ یہ واقعہ اسی طرح رونما ہوا۔ انہیں جسمانی پھل بھی عطا کئے گئے اور روحانی پھل بھی اور اس کا مختصر ذکر سورۃ قریش میں فرمایا گیا ہے۔ روحانی پھلوں میں سے سب سے بڑا پھل رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی صورت میں ظاہر ہوا یعنی آپ وہ کلمۂ طیبہ بن کر ابھرے جو بنی نوع انسان کو آسمانی پھل عطا کرتا تھا۔  

اس سورت کے آخر پر فرمایا گیا ہے کہ کفّار، اسلام کے خلاف یا رسولوں کے خلاف جس قدر مکر بھی کرنا چاہیں یہاں تک کہ اُن کے مکر کے ذریعہ پہاڑ جڑوں سے اکھیڑ پھینکے جائیں تب بھی وہ اللہ کے رسولوں کو ناکام نہیں کرسکتے۔ 

یہاں پہاڑوں کی مثال اس لئے دی گئی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو بھی عظیم ترین پہاڑ سے مشابہت رکھنے والے ایک رسول کی صورت میں پیش فرمایا گیا ہے۔ پس اس سورت کا اختتام ان الفاظ پر ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے انکار کرنے والوں کی زمین اور ان کے آسمان تبدیل کردیئے جائیں گے اور نئے  زمین و آسمان بنائے جائیں گے جس کے نتیجہ میں وہ غالب خدا کے حضور گروہ در گروہ نکل کھڑے ہوں گے۔


[14:1]   
English
In the name of Allah, the Gracious, the Merciful.
اُردو
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔

[14:2]   
English
Alif Lam Ra. This is a Book which We have revealed to thee that thou mayest bring mankind out of every kind of darkness into light, by the command of their Lord, to the path of the Mighty, the Praiseworthy —
اُردو
اَنَا اللّٰہُ اَرٰی : میں اللہ ہوں۔ میں دیکھتا ہوں۔ یہ ایک کتاب ہے جو ہم نے تیری طرف اتاری ہے تاکہ تُو لوگوں کو ان کے ربّ کے حکم سے اندھیروں سے نور کی طرف نکالتے ہوئے اس راستہ پر ڈال دے جو کامل غلبہ والے (اور) صاحبِ حمد کا راستہ ہے۔

[14:3]   
English
Allah, to Whom belongs whatsoever is in the heavens and whatsoever is in the earth. And woe to the disbelievers for a terrible punishment:
اُردو
یعنی اللہ (کا راستہ) جس کا وہ سب کچھ ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے۔ اور کافروں کے لئے ایک سخت عذاب سے ہلاکت (مقدر) ہے۔

[14:4]   
English
Those who prefer the present life to the Hereafter, and hinder men from the way of Allah and seek to make it crooked. It is these who have gone far off in error.
اُردو
(یعنی) ان کے لئے جو آخرت کے مقابل پر دنیا کی زندگی سے زیادہ محبت رکھتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور اسے ٹیڑھا چاہتے ہیں۔ یہ لوگ ایک دُور کی گمراہی میں مبتلا ہیں۔

[14:5]   
English
And We have not sent any Messenger except with the language of his people in order that he might make things clear to them. Then Allah lets go astray whom He wills, and guides whom He wills. And He is the Mighty, the Wise.
اُردو
اور ہم نے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر اس کی قوم کی زبان میں تا کہ وہ انہیں خوب کھول کر سمجھا سکے۔ پس اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ ٹھہراتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہ کامل غلبہ والا (اور) بہت حکمت والا ہے۔

[14:6]   
English
And We did send Moses with Our Signs, saying, ‘Bring forth thy people from every kind of darkness into light, and remind them of the days of Allah.’ Surely, therein are Signs for every patient and thankful person.
اُردو
اور یقیناً ہم نے موسیٰ کو اپنے نشانات کے ساتھ (یہ اِذن دے کر) بھیجا کہ اپنی قوم کو اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لا اور انہیں اللہ کے دن یاد کرا۔ یقیناً اس میں ہر بہت صبر کرنے والے (اور) بہت شکر کرنے والے کے لئے بہت سے نشانات ہیں۔

[14:7]   
English
And call to mind when Moses said to his people, ‘Remember Allah’s favour upon you when He delivered you from Pharaoh’s people who afflicted you with grievous torment, slaying your sons and sparing your women; and in that there was a great trial for you from your Lord.’
اُردو
اور (یاد کرو) جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ کی نعمت کو یاد کرو جو اس نے تم پر کی جب اس نے تمہیں فرعون کی قوم سے نجات بخشی۔ وہ تمہیں بدترین عذاب دیتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو تو ہلاک کر دیتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے۔ اور اس میں تمہارے ربّ کی طرف سے (تمہارے لئے) بہت بڑا ابتلا تھا۔

[14:8]   
English
And remember also the time when your Lord declared, ‘If you are grateful, I will, surely, bestow more favours on you; but if you are ungrateful, then know that My punishment is severe indeed.’
اُردو
اور جب تمہارے ربّ نے یہ اعلان کیا کہ اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں ضرور تمہیں بڑھاؤں گا اور اگر تم ناشکری کرو گے تو یقیناً میرا عذاب بہت سخت ہے۔

[14:9]   
English
And Moses said, ‘If you disbelieve, you and those who are in the earth all together, you can do no harm to God; verily, Allah is Self- Sufficient, Praiseworthy.’
اُردو
اور موسیٰ نے کہا اگر تم اور وہ جو زمین میں (بستے) ہیں سب کے سب ناشکری کریں تو اللہ یقیناً بے نیاز (اور) صاحبِ حمد ہے۔

[14:10]   
English
Have not the tidings come to you of those before you, the people of Noah, and the tribes of ‘Ad and Thamud, and those after them? None knows them now save Allah. Their Messengers came to them with clear Signs, but they turned their hands to their mouths, and said, ‘We disbelieve in that with which you have been sent and surely, we are in disquieting doubt concerning that to which you call us.’
اُردو
کیا تم تک ان لوگوں کی خبر نہیں آئی جو تم سے پہلے تھے یعنی نوح کی قوم کی اور عاد اور ثمود کی اور ان لوگوں کی جو اُن کے بعد تھے۔ انہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ان کے پاس ان کے رسول کھلے کھلے نشانات لے کر آئے تو انہوں نے (تکبر کرتے ہوئے) اپنے ہاتھ اپنے مونہوں میں رکھ لئے اور کہا یقیناً ہم اس چیز کا جس کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو اِنکار کرتے ہیں اور یقیناً ہم اس کے بارہ میں، جس کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو، بے چین کردینے والے شک میں مبتلا ہیں۔