بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِِ

Al Islam

The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)Muslims who believe in the Messiah, Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani (as), Love for All, Hatred for None.



(Revealed before Hijrah)

Date of Revelation

The consensus of scholarly opinion is that the whole Surah was revealed at Mecca. Abu Hayyan says that this Surah is Meccan without any difference of opinion among the commentators of the Quran (Muhit). It is remarkable that the Surah deals with a question, the importance of which is enhanced by the fact of its having been revealed at Mecca.

Connection with the Preceding Surah

In the preceding Surah it was pointed out that the former Prophets possessed no material means, yet they succeeded in their mission because they had the Word of God to guide and help them. So will the Holy Prophet succeed in his mission. The Word of God, the Surah emphatically declares, is a great force before which nothing can stand. The forging of lies against God is no easy thing because an impostor and a forger of lies against God soon meets his deserved end. Thus it is shown that the Quran is the revealed word of God and possesses irrefutable proofs to establish its Divine origin.

Subject Matter

The basic theme of the Surah is that no Scripture can approach the Quran in beauty and grandeur. It is a book par excellence. It stands unequalled and unrivalled. Its beauties and excellences are so many and so obvious that even disbelievers on many occasions are forced to admit that they have nothing like the Quran and wish that they too had possessed a book like it. In spite of this confession on the part of disbelievers about the unrivalled superiority of the Quran, they do not see their way to accept it and do not realize that by their hesitancy to accept the Quran, they would become permanently deprived of truth and would draw upon their heads the displeasure and punishment of God. As the Quran has been revealed for the guidance of mankind, its Message is bound to succeed and nothing can stand in its way. Those who hesitate or refuse to accept it will themselves be the sufferers.

The Surah proceeds to say that if the Quran is ridiculed and treated with contempt, it is nothing to be wondered at, for the revelations of previous Prophets also were held up to scorn. But the scoffers do not appreciate this simple and patent fact that it is no easy thing to forge lies against God because to do so is to invite sure destruction. The All-Powerful God sees to it that lies are not forged against Him and that a forgery becomes easily distinguishable from His revealed word. He vouchsafes to His word a special distinction and eminence and creates a favourable atmosphere forits acceptance by right-thinking men and raises those who accept it from a low to a very high level of moral excellence.

The Surah continues to argue that, like the revelations of past Prophets, the Quran is an invaluable treasure of spiritual knowledge, and like them, its ideals and principles are bound to triumph and prevail. Towards the close of the Surah the Holy Prophet is told not to mind the opposition of disbelievers because this opposition is going to recoil upon them. He is further enjoined to distribute the Quranic treasures among the Faithful and to continue his efforts to wean disbelievers from their evil ways and to pray to God, for it is through prayer that the way for the dissemination of Quranic teachings and ideals will open.

15. الحجر

یہ سورت مکی ہے اور بسم اللہ سمیت اس کی ایک سو آیات ہیں۔

 اس سورت کا آغاز الٓـرٰ سے ہوتا ہے اور اس کے بعد اِن مقطعات کو نہیں دہرایا گیا۔ 

گزشتہ سورت میں مذکور جلالی و جمالی نشانات کے نتیجہ میں بعض اوقات کفار کے دل پر بھی رعب طاری ہو جاتا ہے، اس کا ذکر یوں فرمایا گیا کہ وہ بھی دل ہی دل میں کبھی تو حسرت کرتے ہیں کہ کاش ہم تسلیم کرنے والوں میں سے ہوجاتے۔ لیکن اس کے بعد پھر اپنی پہلی حالت کی طرف لوٹ جاتے ہیں اور رسولوں کے غلبے کا تو انکار کر نہیں سکتے، الزام یہ لگاتے ہیں کہ شاید یہ ہماری آنکھوں پر جادو کردیا گیا ہے۔ 

اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ بڑی تحدی سے یہ اعلان فرماتا ہے کہ دشمن خواہ کچھ بھی کہے یقینا ہم نے ہی اس کتاب کو نازل فرمایا ہے اور آئندہ بھی اس کی حفاظت کرتے چلے جائیں گے۔ 

اس کے بعد کی آیات میں بروج کا ذکر فرمایا گیا ہے جو سورۃ البروج کی یاد دلاتا ہے اور’’ہم ہی اس کلام کی حفاظت کریں گے‘‘ کے مضمون پر سے پردہ اٹھاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی غلامی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے لوگ مامور ہوتے رہیں گے جو قرآن کریم کی حفاظت کے لئے ہمہ وقت مستعد رہیں گے۔ یہاں بروج میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ جو مجددین رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد بارہ برجوں کے طور پر آتے رہے وہ بھی اسی کام پر مامور تھے۔ 

جس طرح قرآن کریم کے مضامین نہ ختم ہونے والے ہیں اسی طرح بنی نوع انسان کی تمام ضرورتیں پوری کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ وقتاً فوقتاً ایسے خزائن عطا فرماتا رہتا ہے جو نہ ختم ہونے والے ہیں۔ چنانچہ ایندھن کا نظام اس کی ایک عظیم مثال ہے۔ کبھی انسان کو فکر تھی کہ لکڑی ختم ہو جائے گی تو کیا کریں گے۔ کبھی یہ فکر لاحق ہوئی کہ کوئلہ ختم ہوجائے گا تو کیا کریں گے۔ کبھی یہ فکر لاحق ہوئی کہ تیل ختم ہوجائے گا تو کیا کریں گے۔ لیکن اس سے پہلے کہ تیل ختم ہو اللہ تعالیٰ نے ایک اور نہ ختم ہونے والی قوت کے ذریعہ کی طرف انسان کی توجہ مبذول فرمادی ہے یعنی ایٹمی توانائی۔ انسان اگر اس توانائی سے پورا استفادہ کرنے کے قابل ہو جائے اور اس کے منفی اثرات سے بچاؤ کی تدبیریں سوچ لے تو یہ وہ توانائی ہے جو قیامت تک کبھی ختم نہیں ہوسکتی۔ پس قرآن کے روحانی خزائن کی طرح انسان کی بقا کے مادی خزائن بھی نہ ختم ہونے والے ہیں۔ اس کے بعد یہ بھی ذکر ہے کہ یہ دونوں قسم کے خزائن جو انسان کے لئے قیامت تک نازل کئے جاتے رہیں گے ان کے نتیجہ میں شیطان وسوسے بھی پیدا کرتا رہے گا اور وساوس کا یہ سلسلہ بھی قیامت تک منقطع نہیں ہوگا۔ 

اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے علاوہ بعض دیگر انبیاء اور ان کی قوموں کا ذکر ملتا ہے۔ اس سلسلہ میں اصحابُ الْاَیْکَہ اور اصحابُ الْحِجْر قوموں کی مثال بھی دی گئی ہے یہ بتانے کے لئے کہ اسی طرح آئندہ زمانہ میں بھی اللہ تعالیٰ رسولوں کے مخالفوں کو ختم کرتا چلا جائے گا۔ 

اسی طرح اس میں حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ایک بیٹے کی پیدائش کی خوشخبری کا بھی ذکر ہے۔ اس پیشگوئی میں اگرچہ حضرت اسحاقؑ اور حضرت یعقوبؑ وغیرہ کا بھی ذکر ہے لیکن اوّل طور پر یہ پیشگوئی حضرت اسماعیلؑ پر چسپاں ہوتی ہے جن کی جسمانی اور روحانی ذرّیت میں سے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے پیدا ہونا تھا۔ 

پس آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ تسلی دی گئی ہے کہ تجھ پر جو تمسخر کرتے ہیں اُن سے درگزر کر۔ ہم خود ہی اُن سے نپٹنے والے ہیں اور جب بھی تیرے دل کو ان کی باتوں سے تکلیف پہنچے تو صبر کے ساتھ اپنے ربّ کی حمد کرتا چلا جا۔ 

In the name of Allah, the Gracious, the Merciful.
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔

Alif Lam Ra. These are verses of the Book and of the illuminating Qur’an.
اَنَا اللّٰہُ اَرٰی : میں اللہ ہوں۔ میں دیکھتا ہوں۔ یہ کتاب اور ایک کھلے کھلے قرآن کی آیات ہیں۔

Often will the disbelievers wish that they were Muslims.
بسااوقات وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا چاہیں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے۔

Leave them alone that they may eat and enjoy themselves and that vain hope may beguile them; but they will soon know.
انہیں (اپنے حال پر) چھوڑ دے۔ وہ کھائیں، پئیں اور عارضی فائدہ اٹھائیں اورامید اُنہیں غافل کئے رکھے۔ پس وہ عنقریب جان لیں گے۔

And We have never destroyed any town but there was for it a known decree.
اور ہم نے کسی بستی کو ہلاک نہیں کیا مگر اس کے لئے ایک معلوم کتاب (بطور تنبیہ) تھی۔

No people can outstrip their appointed time, nor can they remain behind.
کوئی اُمّت اپنے مقررہ وقت سے آگے نہیں بڑھ سکتی اور نہ وہ پیچھے ہٹ سکتے ہیں۔

And they said, ‘O thou to whom this Exhortation has been sent down, thou art surely a madman.
اور انہوں نے کہا اے وہ شخص جس پر ذکر اُتارا گیا ہے! یقیناً تو مجنون ہے۔

‘Why dost thou not bring angels to us, if thou art of the truthful?’
تو ہمارے پاس فرشتے لئے ہوئے کیوں نہیں آتا اگر تو سچوں میں سے ہے۔

We do not send down angels but by due right, and then they are granted no respite.
ہم فرشتے نہیں اتارا کرتے مگر حق کے ساتھ اور اس وقت وہ مہلت نہیں دیئے جاتے۔

Verily, We Ourself have sent down this Exhortation, and most surely We will be its Guardian.
یقیناً ہم نے ہی یہ ذکر اُتارا ہے اور یقیناً ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔