بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِِ

Al Islam

The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)Muslims who believe in the Messiah, Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani (as), Love for All, Hatred for None.

[18:77]   
English
Moses said, ‘If I ask thee concerning anything after this, keep me not in thy company, for then thou shalt have got sufficient excuse from me.’
اُردو
اس نے کہا اگر اس کے بعد میں تجھ سے کوئی سوال پوچھوں تو پھر مجھے اپنے ساتھ نہ رہنے دینا۔ یقیناً میری طرف سے تُو ہر جواز پاچکا ہے۔

[18:78]   
English
So they went on till, when they came to the people of a town, they asked its people for food, but they refused to make them their guests. And they found therein a wall which was about to fall, and he repaired it. Moses said, ‘If thou hadst desired, thou couldst have taken payment for it.’
اُردو
وہ دونوں پھر روانہ ہوئے۔ یہاں تک کہ جب وہ ایک بستی والوں کے پاس پہنچے تو اُس کے مکینوں سے انہوں نے کھانا مانگا۔ پس انہوں نے انکار کر دیا کہ ان کی میزبانی کریں۔ وہاں انہوں نے ایک دیوار دیکھی جو گرا ہی چاہتی تھی۔ تو اُس نے اُسے سیدھا کر دیا۔ اس نے کہا اگر تُو چاہتا تو ضرور اس کام پر اُجرت لے سکتا تھا۔

[18:79]   
English
He said, ‘This is the parting of ways between me and thee. I will now tell thee the meaning of that which thou wast not able to bear with patience:
اُردو
اس نے کہا یہ میرے اور تمہارے درمیان جدائی (کا وقت) ہے۔ اب میں تجھے اس کی حقیقت بتاتا ہوں جس پر تو صبر نہیں کر سکا۔

[18:80]   
English
‘As for the boat, it belonged to certain poor people who worked on the sea; and I desired to damage it, for there was behind them a king, who seized every boat by force.
اُردو
جہاں تک کشتی کا تعلق ہے تو وہ چند غریبوں کی ملکیت تھی جو سمندر میں محنت مزدوری کرتے تھے۔ پس میں نے چاہا کہ اس میں نقص ڈال دوں کیونکہ ان کے پیچھے پیچھے ایک بادشاہ (آ رہا) تھا جو ہر کشتی کو غصب کر لیتا تھا۔

[18:81]   
English
‘And as for the youth, his parents were believers, and we feared lest he should cause them trouble through rebellion and disbelief.
اُردو
اور جہاں تک لڑکے کا تعلق ہے تو اس کے ماں باپ دونوں مومن تھے۔ پس ہم ڈرے کہ کہیں وہ سرکشی اور ناشکری کرتے ہوئے ان پر ناقابلِ برداشت بوجھ نہ ڈال دے۔

[18:82]   
English
‘So we desired that their Lord should give them in exchange a child better than him in purity and closer in filial affection.
اُردو
پس ہم نے چاہا کہ اُن کا ربّ انہیں پاکبازی کے اعتبار سے اس سے بہتر اور زیادہ رحم کرنے والا متبادل عطا کرے۔

[18:83]   
English
‘And as for the wall, it belonged to two orphan boys in the town, and beneath it was a treasure belonging to them, and their father had been a righteous man, so thy Lord desired that they should reach their age of full strength and take out their treasure, as a mercy from thy Lord; and I did it not of my own accord. This is the explanation of that which thou wast not able to bear with patience.’
اُردو
اور جہاں تک دیوار کا تعلق ہے تو وہ شہر میں رہنے والے دو یتیم لڑکوں کی تھی اور اس کے نیچے ان کے لئے خزانہ تھا اور اُن کا باپ ایک نیک شخص تھا۔ پس تیرے ربّ نے ارادہ کیا کہ وہ دونوں اپنی بلوغت کی عمر کو پہنچ جائیں اور اپنا خزانہ نکالیں۔ یہ تیرے ربّ کی طرف سے بطور رحمت تھا۔ اور میں نے ایسا اپنی مرضی سے نہیں کیا۔ یہ حکمت تھی ان باتوں کی جن پر تجھے صبر کی استطاعت نہ تھی۔

[18:84]   
English
And they ask thee about Dhu’l Qarnain. Say, ‘I will certainly recite to you something of his story.’
اُردو
اور وہ تجھ سے ذوالقرنَین کے بارہ میں سوال کرتے ہیں۔ کہہ دے کہ میں ضرور اس کا کچھ ذکر تم پر پڑھوں گا۔

[18:85]   
English
We established him in the earth and gave him the means to accomplish everything.
اُردو
ہم نے یقیناً اُسے زمین میں تمکنت بخشی تھی اور اُسے ہر قسم کے کاموں کے وسائل عطا کئے تھے۔

[18:86]   
English
Then he followed a certain way
اُردو
پس وہ ایک رستے پر چل پڑا۔