بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِِ

Al Islam

The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)Muslims who believe in the Messiah, Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani (as), Love for All, Hatred for None.

CHAPTER 31

Luqman

(Revealed before Hijrah)

Date of Revelation, Title and Context

This Surah by common consent is considered to have been revealed at Mecca. Being the third of the الم group of Surahs and having close kinship with the other members of that group in style and subject matter, it is believed, like its predecessors, Al-‘Ankabut and Ar-Rum, to have been revealed towards the middle of the Meccan period, or, as some say, in the sixth or seventh year of the Call.

The Surah seems to derive its title from the 13th verse in which a non-Arab sage and seer, Luqman by name, has been mentioned as giving a moral sermon to his son. Luqman may stand for a Prophet or Divine Reformer. Apart from the beauty of the noble moral principles enunciated in the sermon, the reference to Luqman, a non-Arab, as a great divine sage, implies a basic religious truth, revealed to the world first of all by the Quran, viz. that God raised Reformers among all nations and that revelation or Divine guidance is not the exclusive privilege of any particular people.

The preceding Surah, Ar-Rum, ended on the note that the Quran explains fully all those teachings that deal with the spiritual development and progress of man. But the disbelievers have not the eyes which can see the truth; their hearts are also sealed. They see sign after sign and yet go on harping on the tune that the Holy Prophet is a liar and a forger. The present Surah opens with the solemn affirmation that the Holy Prophet is not a forger or a liar and that this Book, the Quran, has been revealed to him by the Wise and All-Knowing God. It is full of wisdom; it leads an honest seeker after truth to the right path, and it is a source of divine mercy to him. It is not, therefore, possible to deny it with honesty of purpose; only a perverse person would reject it.

It was further mentioned in the preceding Surah that the cause of Islam will continue to prosper and triumph and disbelievers will meet with defeat, disgrace and humiliation. The present Surah sheds some light on those noble moral principles by acting upon which nations and individuals can achieve success and prosperity and can rise to greatness and eminence.

Subject Matter

The Surah in its very beginning refers to the sine qua non of success—correct belief and right action—and proceeds to discuss some universal moral principles from the mouth of a non-Arab sage—Luqman. The most fundamental and basic principle referred to in the opening verses is the belief that God is One and that all other noble ideals flow from this belief. The principle, second in importance to Divine Unity, is that of man’s obligations to man, of which the most essential are his obligations to parents. In between these two basic commandments a Muslim is taught to subordinate all his loyalties to God and to allow no other loyalty, not even loyalty to parents, to conflict or clash with his loyalty to his Creator. But under no circumstances should he cease to be kind and considerate and respectful to theft. Next, it is stated that man’s duty to God takes practical shape in the observance of Prayers and his obligations to mankind in doing good and abstaining from evil.

The Surah then proceeds to say that when a true believer enters upon the noble and arduous task of preaching truth to men and calling upon them to reform themselves and give up wrong beliefs and evil practices, difficulties and impediments bar his way and he has to put up with opposition, abuse, and persecution. He is told to bear all this opposition and persecution with patience and fortitude. When he is not discouraged or dismayed by the opposition and persecution he has to face in the discharge of his great and noble task, success comes his way and large crowds of people give their allegiance to him. In the hour of public applause and acclamation he should not lose mental balance and should particularly be on his guard against conceit and arrogance.

Next, the Surah refers to the laws of nature and the great powers of God implying that these laws are working in favour of Islam, and that God is at the back of the Muslims. They are, therefore, sure to win success, and the cause of Islam is sure to triumph and prosper. The Surah ends on a note of warning to disbelievers that their day of reckoning is fast approaching and that at that time their wealth and children, their influence, power, and prestige will prove of no avail to them. On the contrary, their children will accept Islam and will be proud of spending all they possess in order to promote its cause.

31. لقمٰن

یہ سورت مکی ہے اور بسم اللہ سمیت اس کی پینتیس آیات ہیں۔

 اس سورت کا آغاز بھی الٓـمّٓ سے ہوتا ہے اور الٓـمّٓ سے شروع ہونے والی سب سے پہلی سورت ’’البقرۃ‘‘ کے مضامین کا نئے انداز سے اعادہ فرمایا گیا ہے۔ الکتٰب کے نزول کا جس طرح سورۃ البقرہ کے آغاز میں ذکر ہے اِس سورت کے شروع میں بھی اس کتاب میں مضمر، اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی ہدایت کا ذکر ہے۔ لیکن مضمون کو اس پہلو سے بہت آگے بڑھا دیا گیا ہے کہ وہاں کتاب نے تقویٰ کے ابتدائی مفہوم کے اعتبار سے ان لوگوں کے لئے ہدایت بننا تھا جو سچ کو سچ کہنے کی جرأت رکھتے ہوں مگر یہاں اس کتاب سے ان کو ہدایت عطا کرنے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے جو تقویٰ کے مقام میں بہت آگے بڑھ چکے ہوں اور محسنین کے منصب پر فائز کئے جاچکے ہوں۔ اس سے آگے ہدایت کے جتنے لامتناہی مراحل ہیں یہ ہدایت کا نہ ختم ہونے والا سرچشمہ ان کو بھی سیراب کرتا رہے گا۔ 

اس سورت میں ایک دفعہ پھر اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بہت سی طاقتیں ہیں جن کو تم اپنی آنکھوں سے دیکھ نہیں سکتے جیسا کہ کششِ ثقل کو بھی دیکھ نہیں سکتے تو پھر ننگی آنکھوں سے ان طاقتوں کو پیدا کرنے والے کو کیسے دیکھ سکوگے۔ 

حضرت لقمان علیہ الصلوٰۃ والسلام لوگوں میں بہت حکیم مشہور تھے یعنی گہری حکمت کی باتیں کرنے والے تھے اور اس سورت میں الٓمٓ کے بعد الکتاب کے ساتھ لفظ الحکیم کا اضافہ موجود ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اب لقمان حکیم کے حوالہ سے حکمت کی باتوں کو مختلف پیرایہ میں بیان کیا جائے گا۔ ان کی حکمت کی باتوں میں سے سب سے بڑی حکمت کی بات یہ ہے کہ اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ کبھی اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔ پھر ماں باپ سے احسان کی تعلیم دی کیونکہ وہ ربّ سے اس معنی میں ظلّی طور پر مشابہت رکھتے ہیں کہ بچوں کے پیدا ہونے کا ایک ظاہری سبب بن جاتے ہیں۔ اس کے بعد یہ تاکید فرمائی گئی کہ اگر ادنیٰ سے ادنیٰ بھی شرک کے خیالات تمہارے دل میں پیدا ہوئے تو اس علیم و حکیم اللہ کو اُن کا علم ہوگا جو زمین اور چٹانوں میں چھپے ہوئے رائی کے برابر دانوں کا علم بھی رکھتا ہے اور خبیر بھی ہے۔ یہاں لفظ خبیر میں اس طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اُن سے پیش آنے والے اُن کے مستقبل کی بھی خبر رکھتا ہے کہ وہ کس انجام کو پہنچیں گے۔ 

اس کے بعد قیامِ صلوٰۃ کا وہ مرکزی حکم دیا گیا جو سورۃ البقرۃ کے احکام میں سب سے پہلا حکم ہے۔ مومن کی زندگی کا انحصار سراسر قیامِ صلوٰۃ پر ہی ہے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی توفیق قیام صلوٰۃ ہی کے نتیجہ میں ملتی ہے۔ لیکن انسان کا یہ حال ہے کہ باوجود اس کے کہ اُسے نیکی کی ہر توفیق اللہ ہی کی طرف سے ملتی ہے، وہ دوسرے انسانوں پر چھوٹی چھوٹی فضیلتوں کے نتیجہ میں فخر سے اپنے کلّے پھلانے لگتا ہے۔ پس اس کو عجز کی تعلیم دی گئی کہ زمین میں انکساری کے ساتھ چلو اور اپنی آواز کو بھی دھیما رکھو۔ 

اس کے بعد انسان کو شکر کی طرف متوجہ فرمایا گیا ہے جو اس سورت کریمہ میں ایک مرکزی اہمیت رکھتا ہے۔ بار بار حضرت لقمان علیہ السلام اپنے بیٹے کو شکر کی نصیحت فرماتے ہیں۔ پس حضرت لقمانؑ کو جو حکمت عطا ہوئی اس کا مرکزی نکتہ ہی شکر الٰہی ہے جس سے ان کی نصیحت کا آغاز ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی تو کوئی انتہا ہی نہیں جس نے زمین اور آسمان اور اس میں مخفی تمام طاقتوں کو انسان کی نشوونما کیلئے مسخر کردیا حتی کہ کائنات کے کنارے پر واقع گیلیکسیز (Galaxies) بھی انسان میں مخفی طاقتوں پر کچھ نہ کچھ اثر ضرور ڈال رہی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود لوگوں میں سے ایسے بھی ہیں جو اس کائنات کا کوئی علم نہیں رکھتے اور اپنی لاعلمی کے باوجود بڑھ بڑھ کر اللہ تعالیٰ پر باتیں بناتے ہیں۔ ان کے پاس نہ کوئی ہدایت ہے اور نہ کوئی روشن کتاب ہے جس میں شرک کی تعلیم دی گئی ہو۔ 

یہاں کتاب منیر کہہ کر اس وہم کا ازالہ فرمادیا گیا کہ بت پرست اپنی بگڑی ہوئی تعلیم کے ثبوت کے طور پر بعض کتابیں پیش کرتے ہیں جیسا کہ ویدوں کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ لیکن وید تو کوئی بھی روشن دلیل نہیں رکھتے بلکہ اور بھی زیادہ اندھیروں کی طرف انسان کو دھکیل دیتے ہیں۔ کائنات میں اللہ تعالیٰ کی حکمت اور قدرت کے جو اَسرار پھیلے پڑے ہیں ان پر کوئی حساب احاطہ نہیں کرسکتا یہاں تک کہ تمام سمندر بھی اگر روشنائی بن جائیں اور تمام درخت قلم بن جائیں تو سمندر خشک ہو جائیں گے اور قلم ختم ہو جائیں گے لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کے اسرار کا بیان ابھی باقی ہوگا۔ 

اس کے بعد ایک ایسی آیت (نمبر ۲۹) آتی ہے جو انسانی تخلیق کے رازوں پر سے عجیب رنگ میں پردہ اُٹھا رہی ہے۔ انسان کو متوجہ کیا گیا کہ اگر وہ رحمِ مادر میں تشکیل پانے والے جنین پر غور کرے کہ وہ تخلیق کے کن بے انتہا مراحل میں سے گزرتا ہے تو اسے اپنی پہلی پیدائش کی پُراسرار حکمتوں کا کسی قدر علم ہوسکتا ہے۔ چنانچہ سائنسدان قطعیت سے یہ بیان کرتے ہیں کہ حمل کے آغاز سے لے کر جنین کی تکمیل تک جنین میں وہ ساری تبدیلیاں واقع ہورہی ہوتی ہیں جو آغازِ زندگی سے لے کر تمام ارتقائی کہانی کو دہراتی ہیں۔ یہ ایک بہت ہی وسیع اور گہرا مضمون ہے جس پر تمام اہلِ علم سائنس دان متفق ہیں۔ فرمایا یہ تمہاری پہلی پیدائش ہے۔ جس طرح ایک حقیر کیڑے سے ترقی کرتے ہوئے تم اپنی بشری صلاحیتوں کی انتہا تک پہنچے اسی طرح تم اپنی نئی پیدائش میں قیامت تک اتنی ترقی کرچکے ہوگے کہ اس تکمیل شدہ صورت کے مقابل پر انسان کی وہی حیثیت ہوگی جیسے انسان کے مقابل پر اس بے حیثیت کیڑے کی تھی جس سے زندگی کا آغاز کیا گیا۔ 

 اس سورت کا اختتام اس اعلان پر ہے کہ وہ گھڑی جس کا ذکر کیا گیا ہے جب انسان مُردوں سے انتہائی تکمیل شدہ صورت میں دوبارہ اٹھایا جائے گا، اس کا علم صرف اللہ ہی کو ہے کہ وہ کب اور کیسے ہوگی اور اسی تعلق میں ان اَور دوسری باتوں کا بھی ذکر فرمایا گیا جن کا صرف اللہ تعالیٰ کو علم ہے اور انسان اس علم میں کسی طرح شریک نہیں۔ وہ باتیں یہ ہیں کہ آسمان سے پانی کب اور کیسے برسے گا اور ماؤں کے اَرحام میں کیا چیز ہے جو پرورش پا رہی ہے اور انسان آنے والے کل میں کیا کمائے گا اور زمین میں اس کی موت کس مقام پر واقع ہوگی۔ 

 یہاں ایک شک کا ازالہ ضروری ہے۔ آجکل کے ترقی یافتہ دور میں یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ نئے آلات کی مدد سے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ ماں کے پیٹ میں کیا ہے۔ یہاں تک کہ اب یہ بھی علم ہوسکتا ہے کہ بچہ صحت مند ہے یا پیدائشی مریض ہے۔ لڑکا ہے یا لڑکی۔ لیکن قطعیت کے اس دعویٰ کے باوجود وہ ہرگز یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ ماں کے پیٹ میں پلنے والا بچہ معذور ہے یا نہیں۔ محض ایک غالب امکان کا ذکر کرتے ہیں۔ اسی طرح ان کی یہ پیشگوئی بھی بارہا غلط ثابت ہوئی ہے کہ پیدا ہونے والا بچہ بیٹا ہے یا بیٹی۔ انسانی مشاہدے میں بکثرت یہ بات آ رہی ہے کہ بعض دفعہ زچگی کے ماہرین ایک بچہ کے پیدائشی نقص کا بڑے یقین سے ذکر کرتے ہیں مگر جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس نقص سے مبرا ہوتا ہے۔ اسی طرح بعض دفعہ یقین سے کہتے ہیں کہ لڑکی پیدا ہوگی مگر لڑکا پیدا ہوجاتا ہے اور اس کے برعکس بھی۔ یہ بات تو بکثرت ہمارے روزمرہ کے مشاہدہ میں آتی ہے۔


[31:1]   
English
In the name of Allah, the Gracious, the Merciful.
اُردو
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔

[31:2]   
English
Alif Lam Mim.
اُردو
اَنَا اللّٰہُ اَعلَمُ: میں اللہ سب سے زیادہ جاننے والاہوں۔

[31:3]   
English
These are verses of the Book of Wisdom,
اُردو
یہ حکمت والی کتاب کی آیات ہیں۔

[31:4]   
English
A guidance and a mercy for those who do good,
اُردو
ہدایت اور رحمت ہیں حُسنِ عمل کرنے والوں کے لئے۔

[31:5]   
English
Those who observe Prayer and pay the Zakat and who have firm faith in the Hereafter.
اُردو
وہ لوگ جو نماز کو قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور وہ آخرت پر بھی ضرور یقین رکھتے ہیں۔

[31:6]   
English
It is they who follow guidance from their Lord, and it is they who shall prosper.
اُردو
یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے ربّ کی طرف سے ہدایت پر (قائم) ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔

[31:7]   
English
And of men is he who takes idle tales in exchange for guidance to lead men astray from the path of Allah, without knowledge, and to make fun of it. For such there will be humiliating punishment.
اُردو
اور لوگوں میں سے ایسے بھی ہیں جو بیہودہ بات کا سودا کرتے ہیں تاکہ بغیر کسی علم کے اللہ کی راہ سے گمراہ کر دیں اور اُسے تمسخر بنالیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے رسوا کر دینے والا عذاب (مقدر) ہے۔

[31:8]   
English
And when Our Signs are recited to him, he turns proudly away, as though he heard them not, as if there were a heaviness in both his ears. So announce to him a painful punishment.
اُردو
اور جب اس پر ہماری آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو وہ استکبار کرتے ہوئے پیٹھ پھیر لیتا ہے گویا اُس نے اُنہیں سنا ہی نہ ہو۔ جیسے اُس کے دونوں کانوں میں ایک (بہرا کر دینے والا) بوجھ ہو۔ پس اسے دردناک عذاب کی خوشخبری دے دے۔

[31:9]   
English
Surely those who believe and do good works — they will have Gardens of Delight,
اُردو
یقیناً وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل بجا لائے ان کے لئے نعمت والی جنتیں ہیں۔

[31:10]   
English
Wherein they will abide. Allah has made a true promise; and He is the Mighty, the Wise.
اُردو
وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ (یہ) اللہ کا سچا وعدہ ہے اور وہ کامل غلبہ والا (اور) حکمت والا ہے۔