بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِِ

Al Islam

The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)Muslims who believe in the Messiah, Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani (as), Love for All, Hatred for None.


Ha Mim As-Sajdah

(Revealed before Hijrah)

Title and Time of Revelation

The Surah bears the title of Ha Mim As-Sajdah. It is also known as Fussilat. Being the second of the seven Surahs of Ha Mim group, it possesses a very close resemblance with the Surah that goes before it and those that follow it, in style and subject matter, and like them it was revealed at Mecca when the opposition to Islam grew strong, determined and persistent.

Connection with the Preceding Surah

Whereas towards the close of the preceding Surah it was stated that when Divine punishment actually overtakes a people, belief and repentance are of no avail, as this is a fixed divine law which has known no change or deviation. In the beginning of the present Surah we are told that it is those people, who close the avenues of their hearts and persistently refuse to listen to the teaching of this Book which is full of wisdom and which has been revealed by the Gracious and Merciful God for their moral development and spiritual well-being, who render themselves deserving of Divine punishment, and that when punishment comes faith does not benefit such people.

Subject Matter

As stated above, the Surah opens with the declaration that Quran is a Book which embodies all that is necessary for the moral and spiritual development of man, and that it explains fully and completely all its tenets, teachings and principles in a most explicit, expressive and intelligible language. Its main purpose is to give glad tidings to the righteous and honest believers and to warn those who reject and oppose truth and who give themselves up to evil deeds, that a dreadful punishment will overtake them if they persisted in their disbelief and evil ways. But disbelievers have always chosen to reject the Divine Message and to say mockingly that it was too good and sublime to be understood by them! To this taunt of disbelievers the Holy Prophet is enjoined to return the reply that being a human like them, his Message was quite simple and easily comprehensible. The Surah then adduces as an argument the creation of the universe in six periods or stages to prove Divine Unity, and proceeds to say that all Prophets and heavenly Messengers brought the self-same message of Divine Unity. Even the Prophets of antiquity like Hud and Salih preached the same doctrine, but their people rejected them and behaved arrogantly towards them and consequently were destroyed. So, if the Meccans did not give up their opposition to truth and did not reform themselves, they too will meet with no better fate and will be hauled up before God’s great Judgement Seat and their ears, eyes and skins will bear witness against them and their ultimate destination will be Hell.

The Surah then proceeds to say that whenever a new Prophet comes in the world, the leaders of disbelief try to stifle the voice of truth by raising commotion against it and seek to confuse people by using all sorts of guiles and subterfuges; but falsehood has never succeeded in drowning the voice of truth. Likewise will the efforts of opponents of the Holy Prophet against him fail. The angels of God will descend upon those who believe in him and stand by him through thick and thin, consoling and comforting them, blessing their endeavours with success and telling them that they will inherit Divine blessings in this world and will be God’s guests in the next.

Next, the Surah says that the teaching of the Quran will continue to advance by its own inherent qualities and strength. The votaries of darkness will try to put obstacles in its way but God will remove those obstacles and gradually truth will spread and the night of sin and iniquity will pass away and the sun of righteousness and God’s Unity will begin to shine upon Arabia and a whole people, who for centuries had groped in the darkness of ignorance, will receive new life, and a bleak and barren land will bloom and blossom forth with green verdure all its own. This marvellous change will come about through the noble teachings of this wonderful Book—the Quran, revealed by God, Who is Wise and Worthy of all praise.

Towards the close, the Surah makes a prophecy that Islam, after having been established in Arabia, will spread and expand to the farthest ends of the earth through the sincere and indefatigable efforts of the followers of Islam. God alone knows how and when the seed of truth that the Holy Prophet has sown in the soil of Arabia will develop and grow into a mighty tree, but grow it must and under its cool and comfortable shade great nations will rest.

41. حٰمٓ السجدہ

یہ سورت مکی ہے اور بسم اللہ سمیت اس کی پچپن آیات ہیں۔ 

سورۃالمؤمن کے بعد سورۃ حٰمٓ السّجدۃ آتی ہے جس کا آغاز حٰمٓ کے مقطعات سے ہی فرمایا گیا ہے۔ 

اس سورت کے آغاز ہی میں یہ دعویٰ فرمایا گیا ہے کہ قرآن ایک ایسی فصیح و بلیغ زبان میں نازل ہوا ہے جس نے مضامین کو کھول کھول کر بیان کیا ہے لیکن اس کے جواب میں منکرین کہتے ہیں کہ ہمارے دل پردہ میں ہیں۔ ہمارے کانوں میں بوجھ ہے اور تمہارے اور ہمارے درمیان ایک حجاب حائل ہے۔ اور رسول کو مخاطب ہوکر یہ چیلنج دیتے ہیں کہ تُو بے شک جو چاہتا ہے کرتا رہ، ہم بھی ایک عزم لے کر اپنے کاموں میں مصروف ہیں۔ یہاں یہ خیال پیدا نہیں ہونا چاہئے کہ انبیاء کو دشمن کھلی چھٹی دے دیتا ہے کہ جو چاہیں کریں بلکہ مراد یہ ہے کہ تُو اپنی جگہ کام کر اور ہم ان کاموں کو ناکام بنانے کی ہمیشہ سعی کرتے رہیں گے۔ 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو اس کا یہ جواب سکھایا گیا کہ تُو اُن سے کہہ دے کہ مَیں اگرچہ تمہارے جیسا بشر ہی ہوں مگر مجھ پر جو وحی نازل ہوئی ہے اس کے نتیجہ میں تمہارے اور میرے درمیان زمین و آسمان کا فرق پڑچکا ہے۔  

اس سورت میں بعض ایسی آیات ہیں جو نہ سمجھنے کے نتیجہ میں بعض لوگ اُن پر اعتراض کرتے ہیں۔ مثلاً آیت نمبر ۱۱ تا ۱۳ کے بارہ میں وہ سمجھتے ہیں کہ ابتدائے آفرینش میں جو ساری کائنات ایک دھند کی طرح جَوّمیں پھیل گئی تھی اُسی کا ذکر کیا جارہا ہے حالانکہ زمین کی پیدائش تو اس کے بہت بعد ہوئی ہے۔ 

دراصل یہاں یہ مضمون بیان ہورہا ہے کہ زمین میں جو خوراک کا نظام ہے وہ چار اَدوار میں مکمل کیا گیا ہے اور پہاڑوں کے قیام نے اس میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ پھر اس کے بعد یہ فرمایا کہ اس کے اوپر کا آسمان ایک دھوئیں کی سی صورت میں تھا۔ یہ دھوأں دراصل ایسے بخارات کی شکل میں تھا جو زمین کے قریب کے سات آسمانوں سے بھی بہت بلند تر تھا اور بار بار جب وہ بخارات زمین پر برستے تھے تو گرمی کی شدّت کے باعث پھر دھوأں بن کر آسمان کی بلندیوں میں عروج کر جاتے تھے۔ ایک بہت لمبے عرصے تک زمین کی یہ کیفیت رہی اور بالآخر وہ پانی زمین پر برس کر سمندروں کی صورت میں زمین میں پھیل گیا جہاں سے بخارات کی صورت میں چڑھ کر پہاڑوں سے ٹکرا کر پھر واپس زمین پر برسنے لگا۔ اس کے بعد دو ادوار میں زمین کے قریب کے سات آسمان مکمل کئے گئے اور آسمان کی ہر تہہ کو گویا معیّن حکم دے دیا گیا کہ تم نے یہ کام سرانجام دینا ہے۔ آج سائنسدان زمین کے گرد سات طبقوں میں بٹے ہوئے آسمان کا ذکر کرتے ہیں تو اس کے ہر طبقے کا ایک معین کام بیان کرتے ہیں جس کے بغیر زمین پر انسان کی بقا ممکن نہیں تھی۔ اور یہ سارے آسمانی طبقات زمین اور اہلِ زمین کی حفاظت پر ہی مامور ہیں۔ 

جس استقامت کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو تعلیم عطا فرمائی گئی اس کی تفصیل اور پھر اس کے عظیم اجر کا دو حصوں میں ذکر ہے۔ پہلے حصہ میں تو تمام مومنوں کو یہ خوشخبری دی گئی ہے کہ اگر وہ دشمن کے مظالم کے مقابل پر استقامت دکھائیں گے تو اللہ تعالیٰ ایسے فرشتے ان پر نازل فرمائے گا جو اُن کے دل کی ڈھارس بندھائیں گے اور ان سے کلام کرتے ہوئے تسلّی دیں گے کہ ہم اس دنیا میں بھی تمہارے ساتھ ہیں اور آخرت میں بھی تمہارے ساتھ ہوں گے۔ 

اس کے بعد ان آیات میں جو وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا اِلَی اللّٰہ سے شروع ہوتی ہیں، اس مضمون کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے فرمایاکہ اگر استقامت کے ذریعہ اپنی حفاظت کے علاوہ اللہ پر توکل کرتے ہوئے تم ان کو صبر اور حکمت کے ساتھ پیغام پہنچانے میں کوتاہی نہیں کروگے تو وہ جو تمہاری جان کے پیاسے دشمن ہیں وہ ایک وقت تمہارے جاں نثار دوست بن جائیں گے۔ مگر یہ معجزہ سب سے اعلیٰ شان کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات میں پورا ہو ا جو سب صبر کرنے والوں سے زیادہ صبر کرنے والے تھے اور آپؐ کو صبر سے ایک حظ عظیم عطا کیا گیا تھا اور واقعۃً آپؐ کی زندگی میں ہی آپؐ کی جان کے دشمن بڑی کثرت کے ساتھ آپؐ کے جاں نثار دوستوں میں تبدیل ہوگئے۔ 

اس سورت کے اختتام پر یہ ذکر فرمایا گیا ہے کہ ہم ان لوگوں کو جو اللہ سے ملاقات کے منکر ہیں بہت سے نشانات دکھائیں گے جن کا تعلق آفاق پر رونما ہونے والے نشانات سے بھی ہوگا اور اس حیرت انگیز نظام زندگی سے بھی ہوگا جو اللہ تعالیٰ نے ان کے جسموں کے اندر تشکیل دیا ہے۔ پس جن کو آفاق پر اور اپنے اندرونے پر نظر ڈالنے کی توفیق ملے گی ان کا یہی اعلان ہوگا کہ رَبَّنَا مَاخَلَقْتَ ھٰذَا بَاطِلاً سُبْحَانَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔ 

In the name of Allah, the Gracious, the Merciful.
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔

Ha Mim.
حَمِید مَجِید: صاحبِ حمد، صاحبِ مجد۔

This is a revelation from the Gracious, the Merciful.
اس کا نازل کیا جانا رحمان (اور) رحیم کی طرف سے ہے۔

A Book, the verses of which have been expounded in detail — the Qur’an in clear, eloquent language — for a people who have knowledge,
یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کی آیات کھول کھول کر بیان کردی گئی ہیں۔ ایک ایسے قرآن کی صورت میں جو نہایت فصیح و بلیغ ہے، ان لوگوں کے فائدہ کے لئے جو علم رکھتے ہیں۔

A bringer of glad tidings and a warner. But most of them turn away and they hear not.
بشیر اور نذیر کے طور پر۔ پس اُن میں سے اکثر نے مُنہ پھیر لیا اور وہ سنتے نہیں۔

And they say: ‘Our hearts are under covers and are protected against that to which thou callest us, and in our ears there is a deafness, and between us and thee there is a screen. So carry on thy work; we too are working.’
اور اُنہوں نے کہا کہ جن باتوں کی طرف تُو ہمیں بلاتا ہے ان سے ہمارے دل پردوں میں ہیں اور ہمارے کانوں میں ایک بوجھ ہے نیز ہمارے اور تمہارے درمیان ایک حجاب حائل ہے پس تُو جو چاہے کر یقیناً ہم بھی کچھ کرنے والے ہیں۔

Say, ‘I am only a man like you. It is revealed to me that your God is One God; so go ye straight to Him without deviating, and ask forgiveness of Him.’ And woe to the idolaters,
تو کہہ دے میں محض تمہاری طرح کا ایک بشر ہوں۔ میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود صرف ایک معبود ہے پس اُس کے حضور ثباتِ قدم کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ اور اُس سے بخشش مانگو۔ اور ہلاکت ہو شرک کرنے والوں کے لئے۔

Who give not the Zakat, and they it is who deny the Hereafter.
جو زکوٰۃ نہیں دیتے اور وہی ہیں جو آخرت کا انکار کرنے والے ہیں۔

As to those who believe and do good works, they will surely have a reward that will never end.
یقیناً وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک اعمال بجالائے اُن کے لئے غیرمنقطع اجر ہے۔

Say: ‘Do you really disbelieve in Him Who created the earth in two days? And do you set up equals to Him?’ That is the Lord of the worlds.
تُو کہہ دے کیا تم اس کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو زمانوں میں پیدا کیا اور تم اس کے شریک ٹھہراتے ہو؟ یہ وہی ہے تمام جہانوں کا ربّ۔