بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِِ

Al Islam

The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)Muslims who believe in the Messiah, Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani (as), Love for All, Hatred for None.



(Revealed after Hijrah)

Title, Context, and Date of Revelation

By common consent this is a Medinite Surah. It was revealed in the 9th year of Hijrah, after the Fall of Mecca. The Surah takes its title from its 5th verse in which calling out to the Holy Prophet from behind the Hujurat (private compartments) has been strongly condemned, since shouting out to him is bad manners and is also likely to intrude upon his privacy and precious time.

As with the Fall of Mecca Islam had become a great political power, and large masses of people had entered its fold, the Surah was revealed to teach good manners and morals to the newly-initiated people. The Surah also deals with some social evils which find their way into a materially advanced and wealthy society (the Muslims had become such a society after the conquest of Arabia), and speaks of the accession to Islam of great political power and material wealth. Naturally, the Surah also embodies regulations for the settlement of international disputes.

Summary of Subject Matter

The Surah opens with strict injunctions to Muslims to show full regard and respect to the Holy Prophet which befits his station as a Divine Messenger. They are also enjoined not to anticipate his decisions but to give unquestioning obedience to his commands. They are further enjoined not to raise their voices above his voice; this not only constitutes bad manners but also shows lack of proper respect which is calculated to undermine discipline in the Muslim Community.

The Surah then warns Muslims to be on their guard against giving credence to false rumours, as such rumours, if readily accepted as true, without being subjected to sifting and searching examination, are calculated to land Muslims into very awkward situations. It further lays down, in brief words, rules, on which, if carried out with sincere intent and honest motives, a League of Nations or a United Nations Organisation can be built on sound and solid foundations. Next, the Surah, mentions some social evils which, if not effectively checked in time, eat into the vitals of a community and undermine its whole social structure. Of these social evils the common ones are suspicion, false accusation, spying, backbiting, and the most pronounced and far-reaching in its evil consequences, viz. conceit and pride born of a false sense of racial superiority. The Quran recognizes no basis of superiority save that of piety and righteous conduct.

The Surah ends on the note that true and sincere belief is a divine favour and the test of a true believer lies in the fact that if once he has given his allegiance to a noble cause, he strives with his whole being to promote it.

49. الحجرات

یہ سورت فتح مکہ کے بعد مدینہ میں نازل ہوئی اور بسم اللہ سمیت اس کی انیس آیات ہیں۔ 

گزشتہ سورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے جلال اور جمال کے جو مراتب بیان ہوئے ہیں اس کے بعد یہاں صحابہؓ کی یہ ذمہ داری بیان فرمائی گئی ہے کہ اس عظیم الشان رسول کے سامنے نہ تو نظر اٹھاکر بات کرنا تمہیں زیب دیتا ہے نہ اونچی آواز میں۔ چنانچہ وہ لوگ جو آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم کو دُور سے آوازیں دیتے ہوئے اپنے گھر سے باہر آنے کی تکلیف دیا کرتے تھے ان پر سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا گیا ہے۔ 

اس کے بعد آیت نمبر۱۰ میں آئندہ زمانہ میں مسلمان حکومتوں کے باہمی اختلاف کی صورت میں بہترین طریقِ کار کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں تو مسلمان حکومتوں کے آپس میں لڑنے کا کوئی سوال نہیں تھا۔ اسلئے دراصل اس آیتِ کریمہ میں ایک عظیم الشان چارٹر پیش کیا گیا ہے جو مسلمانوں ہی کے لئے نہیں غیرمسلموں کے لئے بھی قوموں کے اختلاف کی صورت میں اُن میں صلح کرانے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کے بنیادی خدّوخال یہ ہیں کہ:- (۱)  اگر دو مسلمان حکومتیں آپس میں لڑ پڑیں تو باقی مسلمان حکومتوں کا فرض ہے کہ وہ اکٹھے ہوکر دونوں کو لڑائی سے روکیں اور اگر ان میں سے کوئی نصیحت نہ سنے تو فوجی اقدام کے ذریعہ اس کو مجبور کردیں۔ (۲) پس جب وہ لڑائی سے باز آجائیں تو پھر ان کے درمیان صلح کروانے کی کوشش کرو۔ (۳) مگر جب صلح کروانے کی کوشش کرو تو کامل انصاف کے ساتھ کرو اور دونوں فریق کے ساتھ انصاف سے پیش آؤ کیونکہ آخری نتیجہ اس کا یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور جن سے اللہ تعالیٰ محبت کرے ان کو وہ ہرگز ناکام نہیں ہونے دیتا۔ 

ایک دفعہ پھر متوجہ کیا جاتا ہے کہ اگرچہ یہاں خطاب مسلمانوں سے ہے مگر جو طریق کار اُن کو سمجھایا گیا ہے وہ تمام بنی نوع انسان کے لئے قابل تقلید ہے۔ 

اس کے بعد مختلف قوموں میں تفرقہ اور انشقاق کی بنیادی وجہ بیان فرمادی گئی جو دراصل نسل پرستی ہے۔ ہر قوم جب دوسری قوم سے تمسخر کرتی ہے تو اپنے آپ کو ان سے گویا الگ اور اعلیٰ نسل شمار کرتے ہوئے ایسا کرتی ہے۔ 

اس کے بعد متفرق ایسی معاشرتی خرابیاں بیان فرمادیں جن کے نتیجہ میں افتراق پیدا ہوتے ہیں۔ 

اس کے بعد یہ وضاحت فرمائی گئی کہ اللہ تعالیٰ نے قوموں کو مختلف رنگوں اور نسلوں میں بانٹا کیوں ہے؟ اس کا مقصد یہ بیان فرمایا گیا کہ ایک دوسرے پر برتری جتانے کے لئے نہیں بلکہ ایک دوسرے کی پہچان میں سہولت کی خاطر ایسا کیا گیا ہے۔ مثلاً جب کہا جائے کہ فلاں شخص امریکن ہے یا فلاں جرمن ہے تو اس وجہ سے نہیں کہا جاتا کہ امریکن نسل کو سب پر فضیلت حاصل ہے یا جرمن نسل کو سب قوموں پر فضیلت حاصل ہے بلکہ محض پہچان کی خاطر یہ ذکر کیا جاتا ہے۔

In the name of Allah, the Gracious, the Merciful.
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔

O ye who believe! be not forward in the presence of Allah and His Messenger, but fear Allah. Verily, Allah is All-Hearing, All-Knowing.
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ اور اس کے رسول کے سامنے پیش قدمی نہ کیا کرو اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔ یقیناً اللہ بہت سننے والا (اور) دائمی علم رکھنے والا ہے۔

O ye who believe! raise not your voices above the voice of the Prophet, and speak not aloud to him, as you speak aloud to one another, lest your works become vain while you perceive not.
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نبی کی آواز سے اپنی آوازیں بلند نہ کیا کرو اور جس طرح تم میں سے بعض لوگ بعض دوسرے لوگوں سے اونچی آواز میں باتیں کرتے ہیں اس کے سامنے اونچی بات نہ کیا کرو ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال ضائع ہوجائیں اور تمہیں پتہ تک نہ چلے۔

Verily those who lower their voices in the presence of the Messenger of Allah are the ones whose hearts Allah has purified for righteousness. For them is forgiveness and a great reward.
یقیناً وہ لوگ جو اللہ کے رسول کے حضور اپنی آوازیں دھیمی رکھتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لئے آزما لیا ہے۔ ان کے لئے ایک عظیم بخشش اور بڑا اجر ہے ۔

Those who shout out to thee from without thy private apartments — most of them lack understanding.
یقیناً وہ لوگ جو تجھے گھروں کے باہر سے آوازیں دیتے ہیں اکثر ان میں سے عقل نہیں رکھتے۔

And if they had waited patiently until thou came out to them, it would be better for them. But Allah is Most Forgiving, Merciful.
اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ تُو خود ہی ان کی طرف باہر نکل آتا تو یہ ضرور ان کے لئے بہتر ہوتا۔ اور اللہ بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔

O ye who believe! if an unrighteous person brings you any news, ascertain the correctness of the report fully, lest you harm a people in ignorance, and then become repentant for what you have done.
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! تمہارے پاس اگر کوئی بدکردار کوئی خبر لائے تو (اس کی) چھان بین کرلیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم جہالت سے کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو پھر تمہیں اپنے کئے پر پشیمان ہونا پڑے۔

And know that among you is the Messenger of Allah; if he were to comply with your wishes in most of the matters, you would surely come to trouble; but Allah has endeared the faith to you and has made it look beautiful to your hearts, and He has made disbelief, wickedness and disobedience hateful to you. Such indeed are those who follow the right course,
اور جان لو کہ تم میں اللہ کا رسول موجود ہے۔ اگر وہ تمہاری اکثر باتیں مان لے تو تم ضرور تکلیف میں مبتلا ہوجاؤ۔ لیکن اللہ نے تمہارے لئے ایمان کو محبوب بنا دیا ہے اور اسے تمہارے دلوں میں سجا دیا ہے اور تمہارے لئے کفر اور بداعمالی اور نافرمانی سے سخت کراہت پیدا کردی ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو ہدایت یافتہ ہیں۔

Through the grace and favour of Allah. And Allah is All-Knowing, Wise.
اللہ کی طرف سے یہ ایک بڑے فضل اور نعمت کے طور پر ہے۔ اور اللہ دائمی علم رکھنے والا (اور) بہت حکمت والا ہے۔

And if two parties of believers fight against each other, make peace between them; then if after that one of them transgresses against the other, fight the party that transgresses until it returns to the command of Allah. Then if it returns, make peace between them with equity, and act justly. Verily, Allah loves the just.
اور اگر مومنوں میں سے دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرواؤ۔ پس اگر ان میں سے ایک دوسری کے خلاف سرکشی کرے تو جو زیادتی کررہی ہے اس سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے فیصلہ کی طرف لوٹ آئے۔ پس اگر وہ لوٹ آئے تو ان دونوں کے درمیان عدل سے صلح کرواؤ اور انصاف کرو۔ یقیناً اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔