بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِِ

Al Islam

The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)Muslims who believe in the Messiah, Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani (as), Love for All, Hatred for None.



(Revealed before Hijrah)

Title, Date of Revelation, and Context

The Surah takes its title from the very first word of its text. It is a Meccan Surah, having been revealed, according to overwhelming scholarly opinion, in the 5th year of the Call, shortly after the first migration to Abyssinia which took place in the month of Rajab of that year.

Whereas the preceding Surah had ended on the injunction contained in the verse: "And for part of the night also do thou glorify Him and at the setting of the stars," the present Surah opens with the words, "By the star when it falls." Moreover, in the preceding Surah the truth of the Quranic revelation and of the divine claim of the Holy Prophet was sought to be established by a fleeting reference to Biblical prophecies and natural phenomena. In the Surah under comment the same subject has been dealt with in a very exquisite and forceful style. It is stated that the Holy Prophet was not only a true Messenger of God but Prophet par excellence, and that he was commissioned by God as humanity’s last and infallible guide and preceptor.

Summary of the Subject Matter

The Surah opens with citing the falling of النجم  (for an explanation of this word see under v. 2) as an evidence in support of the divine claim of the Holy Prophet, and proceeds to say: "Your companion has neither erred, nor has he gone astray," because, "The Lord of mighty powers has taught him, the One Possessor of strength." The Prophet, having been initiated into divine mysteries, and having drunk deep at the fountain of Divine grace and knowledge, and of the realization of God, attained to the highest peak of spiritual eminence to which a human being can conceivably rise. Then he became filled to the fullest extent with the milk of human kindness and sympathy, and, having been thus spiritually equipped, was appointed to preach Divine Unity to a world given to the worship of gods made of wood and stone and creations of man’s own imagination. The Surah continues to give very strong, solid and sound arguments from human reason and history, and from the insignificant beginnings of man, in support of the doctrine of the Oneness of God; and condemns idolatry in forceful terms. This foolish doctrine, the Surah declares, is born of lack of true knowledge and rests on baseless conjecture which "avails naught against truth." Next, it says that idolaters should have learned from the life stories of Abraham, Moses and other Prophets that idolatrous beliefs and practices have always landed mankind into moral and spiritual ruin, and that every man will have to bear his own cross and render account of his actions to God Who is the final goal of all, and Who gives life and causes death, and brings man to life after he is dead and reduced to particles of earth.

The Surah closes on a note of warning to disbelievers that if they persisted in rejection of the Divine Message, they would meet with a sad fate as did the people of Noah and ‘Ad and Thamud and that destruction of falsehood was inevitable and nothing could avert or avoid it.

53. النجم

یہ سورت ہجرتِ حبشہ کے معاً بعدنبوت کے پانچویں سال نازل ہوئی تھی۔ بسم اللہ سمیت اس کی تریسٹھ آیات ہیں۔

 اس سورت کا نام اَلنّجم ہے اور پہلی سورت کے آخر پر بھی اِدْبَارَ النُّجُوم کا ذکر ہے۔ اس کے بعد مضمون کو مشرکوں کی طرف پھیرا گیا ہے اور وہ ستارہ جس کی مشرک عبادت کیا کرتے تھے اس کے گر جانے کی پیشگوئی فرمائی گئی ہے اور فرمایا کہ یہ بات آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی طرف سے نہیں گھڑی کیونکہ آپؐ کبھی بھی اپنے نفس کی خواہش کے ساتھ کلام نہیں کرتے۔ 

اس سے پہلے سورت ’’الذّاریات‘‘ کے آخر پر جس اللہ کو ذُو الْقُوَّۃِ الْمَتِیْنُ فرمایا گیا اور الرَّزَّاق بھی، اسی اللہ کا ذکر کرتے ہوئے اِس سورت میں شَدِیْدُ الْقُوٰی اور ذُوْ مِرَّۃ فرمایا گیا یعنی جو بہت قوی صفات والا اور بے مثل حکمت والا ہے۔ 

اس کے بعد معراج کے واقعہ کا ذکر شروع ہو جاتا ہے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اپنے ربّ کے قریب ہوئے اور اللہ تعالیٰ آپؐ پر رحمت کے ساتھ جھک گیا اور وہ دوکمانوں کے ایک وتر کی طرح ہوگیا۔ یہ بہت پیچیدہ آیات ہیں جن کی مختلف رنگ میں تشریح کی کوشش کی گئی ہے۔ یقینا اس واقعہ میں کسی ظاہری آسمان کا ذکر نہیں بلکہ قَلْبِ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم پر گزرنے والے ایک غیرمعمولی ماجرا کا ذکر ہے۔ ایک ایسا کشف جس کی کوئی نظیر کسی دوسرے نبی کی زندگی میں نہیں ملتی۔ آپؐ کا دل اللہ کی محبت میں اُفق کی طرف بلند ہوا اور اللہ اپنے بندے کی محبت میں اس کے دل پر اُتر آیا۔ اور قَابَ قَوْسَیْن سے مراد یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم وہ وتَر بن گئے جو اللہ تعالیٰ اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی قوسوں کے درمیان ایک ہی وتَر تھا۔ گویا اللہ تعالیٰ کی قوس سے چلنے والا تیر وہی تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی قوس سے چلتا تھا۔ یہ تفسیر قرآنِ کریم کی آیت وَمَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی کے عین مطابق ہے۔ اس لئے اسے ہرگز تفسیر بالرأی نہیں کہا جاسکتا۔ 

پھر معراج کے جسمانی ہونے کی کلیۃً نفی کردی گئی جب فرمایا مَاکَذَبَ الْفُؤَادُ مَارَأَی کہ جسمانی آنکھوں نے اللہ کو نہیں دیکھا بلکہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم کے دل کی آنکھوں نے جس اللہ کو دیکھا اس دل نے اس کے بیان میں کوئی جھوٹ نہیں بولا۔ 

 اس کے بعد ایک سِدْرَۃ کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ اور بندوں کے درمیان ایک سرحدیں تقسیم کرنے والی باڑ کی طرح ہے۔ درحقیقت پہلے بھی عربوں میں یہی رواج تھا اور آج بھی یہ رواج ملتا ہے کہ جب ایک زمیندار کی ملکیت کی حد ختم ہوتی ہے تو دوسرے زمیندار اور اس کے درمیان حدِّ فاصل کے طور پر کانٹے دار بیریاں لگادی جاتی ہیں۔ پس آسمان پر ہرگز کوئی بیری کا درخت نہیں اُگا ہوا تھا کہ جس سے پرے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نہیں جاسکتے تھے۔ یہ ایک انتہائی مضحکہ خیز تفسیر ہے جو ازمنۂ وسطیٰ کے بعض مفسرین نے کی ہے۔ مراد صرف اتنی ہے کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ و سلم اس ارفع مقام تک اللہ تعالیٰ کا قرب پاگئے جس کے ورے کسی بندے کی رسائی ممکن نہیں تھی کیونکہ اس کے بعد پھر اللہ تعالیٰ کی صفات تنزیہی کا مضمون شروع ہو جاتا ہے۔ 

اس کے بعد کفار کے فرضی خداؤں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کے وجود کا کوئی ثبوت ان کے پاس نہیں۔ صرف اٹکل پچّو سے کام لیتے ہیں۔ پس یہی ان کا تمام تر علم ہے۔ 

یہاں شِعْرٰی سے مراد وہی النَّجم ہے جسے مشرکوں نے خدا بنا رکھا تھا۔ 

اس کے بعد گزشتہ مشرک قومیں شرک کے نتیجہ میں جس بدانجام کو پہنچیں ان کا بطور عبرت اختصار کے ساتھ ذکر ہے۔

In the name of Allah, the Gracious, the Merciful.
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔

By the stemless plant when it falls,
قسم ہے ستارے کی جب وہ گر جائے گا۔

Your companion has neither erred, nor has he gone astray,
تمہارا ساتھی نہ تو گمراہ ہوا اور نہ ہی نامراد رہا ۔

Nor does he speak out of his own desire.
اور وہ خواہشِ نفس سے کلام نہیں کرتا۔

It is nothing but pure revelation that has been revealed by God.
یہ تو محض ایک وحی ہے جو اُتاری جارہی ہے۔

The Lord of mighty powers has taught him,
اسے مضبوط طاقتوں والے نے سکھایا ہے ۔

The One Possessor of strength. So He manifested His ascendance over everything,
(جو) بڑی حکمت والا ہے ۔ پس وہ فائز ہوا۔

And He revealed His Word when he was on the uppermost horizon,
جبکہ وہ بلند ترین اُفق پر تھا۔

Then he drew nearer to God; then he came down to mankind,
پھر وہ نزدیک ہوا۔ پھر وہ نیچے اُتر آیا۔

So that he became, as it were, one chord to two bows or closer still.
پس وہ دو قوسوں کے وتر کی طرح ہوگیا یا اس سے بھی قریب تر۔