بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِِ

Al Islam

The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)Muslims who believe in the Messiah, Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani (as), Love for All, Hatred for None.

CHAPTER 54

Al-Qamar

(Revealed before Hijrah)

Title, Date of Revelation, and Context

The Surah takes its title from its opening verse. It definitely is an early Meccan Surah, having been revealed about the same time as the preceding Surah. An-Najm, which was revealed in the 5th year of the Call. The Surah so closely resembles Surah An-Najm in style and contents that it seems to supplement the latter’s subject matter. Whereas Surah An-Najm had ended on a note of warning to disbelievers in the words: أزفت الازفة i.e. the Hour of their doom has drawn near, the present Surah opens with the expression اقتربت الساعة meaning, that the threatened Hour has almost arrived; it is at their very door.

Subject Matter

The Surah is the fifth of the group of seven Surahs which begin with Surah Qaf and end with Al-Waqi‘ah. All these Surahs were revealed very early in the Holy Prophet’s ministry and deal with the basic doctrines of Islam—Existence and Unity of God, the Resurrection and Revelation. The Surahs adduce laws of nature, human reason, common sense and histories of the past Prophets as arguments to prove these theses. In some of these Surahs special emphasis has been laid on one kind of arguments with a fleeting reference to other kinds and vice versa. In the present Surah, however, the Holy Prophet’s divine claim and the Resurrection have been dealt with, with special reference to the histories of the past Prophets, particularly to those of Noah, the tribes of ‘Ad and Thamud and Lot’s people.

Towards its end the Surah makes pointed reference to the fulfilment of the prophecy about the destruction and overthrow of the power of pagan Arabs about which a warning had been given in the preceding Surah (53:58).

54. القمر

یہ سورت مکہ میں نازل ہوئی اور بسم اللہ سمیت اس کی چھپن آیات ہیں۔

 اس سے پہلی سورت میں مشرکوں کے مصنوعی خدا ’’شِعْرٰی‘‘ کے گرنے کا ذکر ہے گویا یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ شرک اپنے فرضی خدا سمیت ضرور ہلاک کردیا جائے گا۔ 

اب سورۃ القمر کے آغاز ہی میں یہ خبر دیدی گئی کہ وہ گھڑی آگئی ہے اور اس پر چاندنے دو ٹکڑے ہوکر گواہی دے دی۔ چاند سے مراد عربوں کا بادشاہت کا دَور ہے اور چاند کی یہ تفسیر بھی خود آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم سے مروی ہے۔ پس اب ہمیشہ کے لئے مشرکین کی بادشاہت کا دَور ختم ہوا اور وہ گھڑی آگئی جو انقلاب کی گھڑی تھی اور جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت کے ساتھ برپا ہونی تھی۔ 

اس کے بعد ایک ایسی آیت ہے جس سے قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ اس وقت کے مشرکین نے چند لمحوں کے لئے چاند کو یقینا دو حصوں میں بٹتے ہوئے دیکھا تھا۔ اس کے متعلق مفسرین نے غلط یا صحیح بہت سی تفاسیر کی ہیں لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اگر مشرکین نے یہ نظارہ چاند کے بٹنے کا دیکھا نہ ہوتا تو فوراً اس واقعہ کے ظہور کا انکار کردیتے اور مومنین بھی اپنے ایمان سے پھر جاتے کیونکہ ایمان کی تمام تر بنیاد حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے صِدق پر تھی۔ ’’سِحْرٌ مُسْتَمِرٌ‘‘ کہہ کر مشرکین مکہ نے گواہی دیدی کہ واقعہ تو ضرور ہوا ہے لیکن جادو ہے اور اس قسم کے جادو محمدؐ ہمیشہ دکھاتے رہتے ہیں۔

 اس کے بعد ایک دفعہ پھر گزشتہ مشرک قوموں کا ذکر ہے کہ ہر ایک نے اپنے وقت کے رسول کو مجنون ہی قرار دیا تھا اور وہ یکے بعد دیگرے اپنے کفر اور گستاخیوں کے نتیجہ میں ہلاک کردی گئیں۔ 

اس سورت میں ایک آیت کی بار بار تکرار کی گئی ہے کہ ہم نے قرآن کریم کو نصیحت حاصل کرنے کے لئے آسان بنایا ہے یعنی گزشتہ قوموں کے حالات پر کوئی معمولی سا بھی غور کرتا تو اس کو آسانی سے یہ بات سمجھ آسکتی تھی کہ دنیا میں سب سے بڑی تباہی شرک نے پھیلائی ہوئی ہے۔ لیکن کوئی ہے جو نصیحت پکڑنے والا ہو۔ نہ پہلوں میں سے اکثر نے نصیحت پکڑی اور نہ بعد میں آنے والوں میں سے اکثر نصیحت پکڑتے ہیں۔


[54:1]   
English
In the name of Allah, the Gracious, the Merciful.
اُردو
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔

[54:2]   
English
The Hour has drawn nigh, and the moon is rent asunder.
اُردو
ساعت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا۔

[54:3]   
English
And if they see a Sign, they turn away and say, ‘A passing feat of magic.’
اُردو
اور اگر وہ کوئی نشان دیکھیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں ہمیشہ کی طرح کیا جانے والا جادو ہے۔

[54:4]   
English
They reject the truth and follow their own fancies. But every decree of God shall certainly come to pass.
اُردو
اور انہوں نے جھٹلا دیا اور اپنی خواہشات کی پیروی کی (اور جلد بازی سے کام لیا) حالانکہ ہر اَمر (اپنے وقت پر) قرار پکڑنے والا ہوتا ہے۔

[54:5]   
English
And there has already come to them the great news wherein is a warning —
اُردو
اور ان کے پاس کچھ خبریں پہنچ چکی تھیں جن میں سخت زجرو توبیخ تھی۔

[54:6]   
English
Consummate wisdom; but the warnings profit them not.
اُردو
کمال تک پہنچی ہوئی حکمت تھی۔ پھر بھی انذار کسی کام نہ آئے۔

[54:7]   
English
Therefore turn thou away from them. The day when the Summoner will summon them to a disagreeable thing,
اُردو
پس اُن سے اعراض کر۔ (وہ دیکھ لیں گے) وہ دن جب بلانے والا ایک سخت ناپسندیدہ چیز کی طرف بلائے گا۔

[54:8]   
English
While their eyes will be cast down and they will come forth from their graves as though they were locusts scattered about,
اُردو
ان کی نظریں ذلّت سے جھکی ہوئی ہوں گی۔ وہ قبروں سے نکلیں گے گویا وہ (ہر طرف) منتشر ٹڈیاں ہیں۔

[54:9]   
English
Hastening towards the Summoner. The disbelievers will say, ‘This is a hard day.’
اُردو
وہ بلانے والے کی طرف دوڑ رہے ہوں گے۔ کافر کہہ رہے ہوں گے کہ یہ بہت سخت دن ہے۔

[54:10]   
English
The people of Noah rejected the truth before them; aye, they rejected Our servant and said, ‘A madman and one who is spurned.’
اُردو
اِن سے پہلے نوح کی قوم نے بھی جھٹلایا تھا۔ پس انہوں نے ہمارے بندے کی تکذیب کی اور کہا کہ ایک مجنون اور دھتکارا ہؤا ہے۔