بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِِ

Al Islam

The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)Muslims who believe in the Messiah, Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani (as), Love for All, Hatred for None.



(Revealed before Hijrah)

Title, Date of Revelation, and Context

This is the last of the group of seven chapters beginning with Surah Qaf. These seven Surahs were revealed at Mecca, more or less at the same time, in the early years of the Holy Prophet’s ministry. Naturally, therefore, they are very much similar in tone and tenor; but, in no other case perhaps, is this similarity so marked as it is between this Surah and Surah Ar-Rahman. The subject in Surah Ar-Rahman is completed in this Surah, and thus the Surah forms a befitting sequel to Surah Ar-Rahman. In Surah Ar-Rahman, for instance, three groups of people—(a) those fortunate ones who are granted special nearness to God, (b) the general body of believers who have achieved Divine pleasure, and (e) the Rejecters of Divine Messengers—were referred to only by implication. In the present Surah, however, they have been expressly mentioned. The Surah takes its title, like the Surahs of this group, from its first verse, and like them, it deals particularly with the important subjects of the Resurrection, Revelation, and the Repudiation of idolatry, appropriately revealed early at Mecca when the preaching of the Quranic Message was directed exclusively to the idolatrous Quraish. The seven Surahs also contain prophecies about the great and glorious future of Islam, side by side with direct and emphatic mention of the inevitability of the Resurrection, thus drawing attention to the inescapable conclusion that the fulfilment of those prophecies would prove that the Resurrection is also an undeniable fact.

Subject Matter

The Surah opens with a firm and emphatic declaration that the great and inevitable event which was foretold in the preceding Surah will most surely come to pass, and when it comes to pass the earth will be shaken to its depths, and the mountains shall be shattered, causing a new world to emerge from the ashes of the old. As a result of this great event people will be sorted out into three classes: (a) the fortunate ones enjoying God’s special nearness, (b) the true and righteous believers receiving handsome reward for their good deeds, and (c) the unfortunate disbelievers who rejected God’s Message and opposed and persecuted His Messengers being punished for their evil deeds. The Surah then proceeds to give a graphic description of the Divine blessings and favours in store for the first two classes, which is followed by a description of the punishment which will be meted out to the deniers of the Divine Message. Then, the Surah advances the usual argument of the creation of man from a seminal drop and of its development into a full-fledged human being, to prove his second birth after death. Towards its end the Surah reveals to the subject with which it had begun and explains that the great reformation to which it had referred in the opening verses will be brought about by the Quran which is indubitably the revealed Word of God, and which is protected and guarded like a precious treasure, and the wealth of whose teachings is revealed only to the righteous and pure of heart. The Surahcloses with a beautiful homily, viz. that when the inevitable end of all life is death, from which there is no escape, why should man be neglectful of that hard fact and consign God to oblivion?

56. الواقعہ

یہ سورت ابتدائی مکی دور میں نازل ہوئی اور بسم اللہ سمیت اس کی ستانوے آیات ہیں۔

 اس سورت کے آغاز میں بیان فرمایا گیا ہے کہ گزشتہ سورت جو عظیم پیشگوئیاں کر رہی ہے وہ لازماً پوری ہوکر رہنے والی ہیں۔ بالخصوص مرنے کے بعد جی اٹھنے کی خبریں اس سورت میں بیان فرمائی گئی ہیں جو لازماً وقوع پذیر ہوں گی۔ 

اس کے بعد اسلام کے دَورِ اوّل میں قربانی کرنیوالوں اور دَورِ آخر میں قربانی کرنے والوں کا موازنہ فرمایا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ جو اوّل دَور میں دین کیلئے قربانیاں پیش کریں گے اور آخری دَور میں قربانیاں پیش کریں گے ان میں سے بکثرت آپس میں قربانیوں میں مشابہ ہوں گے اور انہیں ایک جیسے درجات عطا کئے جائیں گے۔ لیکن اوّل دور کے بہت سے قربانیاں کرنے والوں کو قربانیوں میں اور ایثار میں بعد میں آنے والوں پر عدد اور رتبہ کے لحاظ سے فوقیت حاصل ہوگی۔ لیکن بعد کے دَور میں بھی کچھ ضرور ہوں گے جنہیں رتبہ کی وہ فضیلتیں عطا ہوں گی جو پہلے دَور والوں کو عطا کی گئیں۔

 پھر دونوں ادوار کے بدنصیبوں کا بھی ذکر ہے جن کو بائیں طرف والے قرار دیا گیا ہے اور بائیں طرف والوں سے مراد بد لوگ ہیں اور ان کی وہ صفات بیان کی گئی گئیں جو اُن کو جہنمی بنائیں گی۔ 

پھر اس سورت میں تمثیلی طور پر اہل جہنم کا ذکر بھی ہے اور اہلِ جنت کا بھی اور یہ بات خوب واضح فرما دی گئی ہے کہ تم ہرگز اس مادی جسم کے ساتھ دوبارہ نہیں اٹھائے جاؤگے بلکہ ایسی تبدیل شدہ خِلقت کی صورت میں اٹھائے جاؤگے جس کا تم تصور بھی نہیں کرسکتے۔ 

آیات ۶۱، ۲ ۶ میں یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری نشأۃ اُخریٰ کے وقت جس صورت میں تمہیں ازسرِنو زندہ کرے گا اس کا تمہیں کوئی بھی علم نہیں۔ غور طلب بات یہ ہے کہ بظاہر تو اس کا علم دیا جارہا ہے؟! دراصل یہ تنبیہ ہے کہ ظاہری الفاظ کو مِن و عَن نہ سمجھ لینا۔ یہ محض تمثیلات ہیں اور حقیقت کا تم کوئی علم نہیں رکھتے۔ 

پھر چار ایسے امور بیان ہوئے ہیں جن پر اگر غور کیا جائے تو ہر غیرمتعصب کا دل یہ ضرور پکار اٹھے گا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی یہ چیزیں بنانے پر قادر نہیں۔ اوّل وہ مادہ جس سے انسان کی پیدائش کا آغاز ہوا ہے اور اس میں بے انتہا پیچدار ایسی باریک در باریک صفات کو جمع کردیا گیا ہے جنہوں نے بعد میں ظہور پذیر ہونا تھا۔ مثلاً آنکھ، کان، ناک، منہ، گلا، آلۂ صوت وغیرہ کو یہاں تک ہدایتیں دی گئی ہیں کہ کس حد تک ایک عضو نشوونما پائے گا اور پھر کس وقت وہ نشوونما بند ہونی ضروری ہے۔ دانتوں ہی کو لیجئے۔ دودھ کے دانت ایک وقت کے بعد ظاہر ہوتے ہیں پھر وہ ایک مدت تک رہ کر گر جاتے ہیں اور بچپن کے دَور میں جو بچے دانتوں کی صحت کا خیال نہیں رکھ سکتے اس کے بداثر سے ان کو محفوظ کردیا جاتا ہے۔ پھر بلوغت کے دانت ہیں جس کے بعد انسان ذمہ دار ہے کہ ان کی حفاظت کرے۔ وہ ایک حد تک بڑھ کر رُک کیوں جاتے ہیں؟ کیا چیز ہے جو اُن کو آگے بڑھنے سے روک دیتی ہے؟ یہ انسان کے DNA میں ایک کمپیوٹرائزڈ (Computerized) پروگرام ہے جس پر اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے تابع وہ دانت عمل کرتے ہیں۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ جس رفتار سے وہ گھس رہے ہوتے ہیں کم و بیش اُسی رفتار سے وہ بڑھ رہے ہوتے ہیں۔ اگر بڑھتے چلے جاتے اور روکنے کا نظام نہ ہوتا تو انسان کے نیچے کے دانت دماغ پھاڑ کر سر سے بہت اوپر تک نکل سکتے تھے اور اوپر کے دانت جبڑے پھاڑ کر چھاتی کو ناکارہ بناسکتے تھے۔ تو فرمایا کہ کیا تم نے یہ جِینیاتی صلاحیتیں خود بنائی ہیں؟ ظاہر ہے کہ جواب نفی میں ہے۔ 

اسی طرح بظاہر انسان سمجھتا ہے کہ ہم نے زمین میں بیج بوئے ہیں۔ لیکن زمین سے ان بیجوں کے درختوں اور سبزیوں اور پھلوں کی صورت میں نکلنے کا نظام بھی ایک بے حد پیچیدہ نظام ہے جو ازخود پیدا نہیں ہوسکتا۔ 

اسی طرح اس ساری زندگی کو سہارا دینے کے لئے جو آسمان سے پانی نازل ہوتا ہے اس کے نظام پر بھی انسان کا کوئی دخل نہیں۔ اور وہ شعلہ جس پر سوار ہوکر انسان آسمان پر جانے کی سعی کرتے ہیں یہ بھی اللہ کی تقدیر کے تابع کام کرتا ہے ورنہ وہی آگ ان کو بلندیوں تک پہنچانے کی بجائے بھسم کرسکتی تھی۔ اس ضمن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی آسمان پر اُڑنے والے جہازوں کے متعلق یہ پیشگوئی موجود ہے کہ وہ آگ سے چلنے والی سواریاں ہوں گی مگر وہ آگ ان مسافروں کو جو اُن میں بیٹھیں گے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی۔ 

پھر ’’مواقع النجوم‘‘ کو گواہ ٹھہرایاگیا۔ اُس زمانہ کا انسان تو سمجھتا تھا کہ نجوم چھوٹے چھوٹے چمکنے والے موتی یا پتھر ہیں لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تمہیں علم ہو کہ وہ چھوٹے چھوٹے سے نظر آنے والے نجوم ہیں کیا چیز تو تم دنگ رہ جاؤ کہ یہ نجوم تو اتنے بڑے بڑے ہیں کہ چاند اور سورج اور زمین اور سیارے بھی ان نجوم کے ایک کنارے میں سما سکتے ہیں۔ پس فرمایا یہ بہت بڑی گواہی ہے جو ہم دے رہے ہیں۔

 ان گواہیوں کے بعد یہ فرمایا گیا کہ قرآن کریم بھی ایک چُھپی ہوئی کتاب ہے۔ جیسے ستارے دُور ہونے کی وجہ سے تمہاری نظر سے پوشیدہ ہیں اسی طرح قرآن کریم کی رفعتوں کو بھی تمہاری نظر نہیں پاسکتی اور تم اسے چھوٹی سی کتاب دیکھتے ہو۔ اور پھر یہ بھی فرمایا گیا کہ بظاہر تو تم اسے چُھو بھی سکتے ہو یعنی تم اس کے اتنے قریب ہو کہ اسے ہاتھ بھی لگاسکتے ہو لیکن سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کسی کے دل کو پاک کرے وہ اس کے مضامین کو نہیں چھُو سکتا۔ 

In the name of Allah, the Gracious, the Merciful.
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔

When the Event comes to pass —
جب واقع ہونے والی واقع ہوجائے گی۔

None can say that its coming to pass is a lie —
اس کے واقع ہونے کو کوئی (جان) جھٹلانہیں سکے گی۔

Some it will bring low, others it will exalt.
وہ (بعض کو) نیچا کرنے والی (اور بعض کو) اونچا کرنے والی ہوگی۔

When the earth will be shaken with a terrible shaking,
جب زمین کو سخت جنبش دی جائے گی۔

And the mountains will be shattered — a complete shattering.
اور پہاڑ ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے۔

They shall all become like dust particles scattered about,
پس وہ پراگندہ خاک کی طرح ہوجائیں گے ۔

And you shall be divided into three groups:
جبکہ تم تین گروہوں میں بٹے ہوئے ہوگے ۔

First, those on the right hand — how lucky are those on the right hand! —
پس دائیں طرف والے۔ کیا ہیں دائیں طرف والے؟

Second, those on the left hand — how unlucky are those on the left hand! —
اور بائیں طرف والے۔ کیا ہیں بائیں طرف والے؟