بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِِ

Al Islam

The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)Muslims who believe in the Messiah, Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani (as), Love for All, Hatred for None.



(Revealed after Hijrah)

Title, Date of Revelation, and Context

The Surah is decidedly a Medinite revelation. It is the third of the seven last Medinite Surahs of the Quran. It deals with the banishment from Medina of the Jewish tribe of Banu Nadir, which took place a few months after the Battle of Uhud, in the fourth year of the Hijrah. The preceding Surah had dealt with the secret plots and machinations against Islam of the Jews of Medina. The present Surah deals with their punishment, particularly with the banishment from Medina of the Banu Nadir, one of the three Jewish tribes––Banu Qainuqa‘, Banu Nadir and Banu Quraizah.

Subject Matter

The Surah opens with the glorification of the Mighty and Wise God, signifying that the time has arrived when the great might and wisdom of God would be manifested and that whatever form the manifestation will take, it would demonstrate these two Divine attributes. The Surah then proceeds to deal with the expulsion from Medina of the Jewish tribe of Banu Nadir by the Holy Prophet which was an act of great wisdom and political foresight on his part, because if the Jews had been allowed to remain in Medina they would have proved, on account of their conspiracies and secret plots, a source of constant danger to Islam. In view of their evil designs and machinations, their conspiracies and secret plots, their repeated acts of treachery and infidelity and the breach of their plighted word every now and then, the punishment of exile was extremely light. What rendered the punishment much lighter and lenient was the fact that they were allowed to take with them whatever they could.

Next, the Surah deals with the hypocrites of Medina who were neither true to Muslims nor to Jews. A hypocrite is essentially a coward, and a coward person is never sincere or honest to anyone. The hypocrites of Medina proved dishonest even to the Jews in the hour of peril. The Surah opens with Divine glorification and ends with an exhortation to Muslims to sing the praises of the Beneficent and Merciful Lord, Who had nipped the wicked designs of their enemies in the bud and had opened out endless vistas of progress and prosperity for them.

It is significant that the Surah opens with the glorification of the Mighty and Wise God and ends with the prominent mention of these two Divine attributes. This signifies that the subject matter of the Surah deals with incidents which shed a flood of light on the mightiness and wisdom of God. The Surah has close resemblance with Surah Al-Anfal, in that besides the similarity of the subject matter of these two Surahs, the Divine attributes, the Mighty, and the Severe in retribution, have been repeatedly mentioned in the latter Surah.

59. الحشر

یہ سورت مدینہ میں نازل ہوئی اور بسم اللہ سمیت اس کی پچیس آیات ہیں۔

 اس سورت کے آغاز میں بھی ایک حشر کا ذکر ہے اور اس کے آخر پر بھی ایک عظیم حشر کا ذکر ہے۔ پہلا حشر وہ ہے جسے اوّل الحشر قرار دیا گیا اور اس میں یہود کو جو سزائیں دی گئیں اُن سے گویا اُن کے لئے پہلا حشر قائم ہوگیا اور ہر ایک کو اس کے گناہوں کے مناسب حال سزا دی گئی۔ بعض کے لئے جلاوطنی مقدر ہوئی۔ بعض کے لئے خود اپنے ہاتھوں اپنے گھروں کو برباد کرنے کی سزا مقدر ہوئی اور بعضوں کے لئے قتل مقدر کیا گیا۔ پس یہ پہلا حشر ہے جس میں سزاؤں کا تذکرہ ہے۔ اور اس سورت کے آخر پر جس حشر کا ذکر ہے اس میں یہ بیان فرمایا کہ سزائیں ان کو ملتی ہیں جو اللہ کی یاد بھلادیتے ہیں اور پھر اپنے نفس کے سیاہ و سفید کو بھی بھول جاتے ہیں۔ لیکن ان کے علاوہ وہ بھی ہیں جو ہرحال میں اللہ کو یاد رکھتے ہیں اور نظر رکھتے ہیں کہ وہ اپنے کیسے اعمال آگے بھیج رہے ہیں ان کو عظیم الشان جزا عطا فرمائی جائے گی۔ 

تسبیح کا جومضمون پہلی سورتوں اور اس سورت کے آغاز میں گزرا ہے، اب سورت کے آخر پر اسی مضمون کا معراج ہے اور وہ آیات جو ’’ھُوَ اللّٰہُ الَّذِیْ لآ اِلٰہَ اِلَّا ھُو‘‘ سے شروع ہوتی ہیں ان میں اللہ تعالیٰ کے بعض عظیم المرتبت اَسمائِ حُسنٰی بیان فرمائے گئے ہیں اور لَہُ الْاَسْمَائُ الْحُسْنٰی کہہ کر یہ بیان فرمادیا گیا کہ صرف انہی مذکورہ اَسماء پر اکتفا نہیں بلکہ تمام اَسمائِ حسنٰی اُسی کے ہیں۔

In the name of Allah, the Gracious, the Merciful.
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔

All that is in the heavens and all that is in the earth glorifies Allah; and He is the Mighty, the Wise.
اللہ کی تسبیح کرتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے۔ اور وہ کامل غلبہ والا (اور) صاحبِ حکمت ہے۔

He it is Who turned out the disbelievers among the People of the Book from their homes at the time of the first banishment. You did not think that they would go forth, and they thought that their fortresses would defend them against Allah. But Allah came upon them whence they did not expect, and cast terror into their hearts, so that they destroyed their houses with their own hands and the hands of the believers. So take a lesson, O ye who have eyes!
وہی ہے جس نے اہلِ کتاب میں سے ان کو جنہوں نے کفر کیا پہلے حشر کے وقت ان کے گھروں سے نکالا۔ تم گمان نہیں کرتے تھے کہ وہ نکل جائیں گے جبکہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ ان کے قلعے اللہ سے ان کی حفاظت کریں گے۔ پس اللہ ان تک آ پہنچا جہاں سے وہ خیال تک نہ کرسکے۔ اور اُس نے اُنکے دلوں میں رعب ڈال دیا۔ وہ خود اپنے ہی ہاتھوں اور مومنوں کے ہاتھوں سے بھی اپنے گھروں کو برباد کرنے لگے۔ پس اے صاحبِ بصیرت لوگو! عبرت حاصل کرو۔

And had it not been that Allah had decreed exile for them, He would have surely punished them otherwise in this world. And in the Hereafter they will certainly have the punishment of the Fire.
اور اگر اللہ نے اُن کےلئے جلاوطنی مقدّر نہ کر رکھی ہوتی تو انہیں اسی دنیا میں عذاب دیتا جبکہ آخرت میں اُن کےلئے (بہرحال) آگ کا عذاب (مقدر) ہے۔

That is because they opposed Allah and His Messenger; and whoso opposes Allah — then surely Allah is Severe in retribution.
یہ اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی شدید مخالفت کی۔ اور جو اللہ کی مخالفت کرتا ہے تو یقینا اللہ سزا دینے میں بہت سخت ہے۔

Whatever palm-trees you cut down or left standing on their roots, it was by Allah’s leave, and that He might disgrace the transgressors.
جو بھی کھجور کا درخت تم نے کاٹا یا اُسے اپنی جڑوں پر کھڑا رہنے دیا تو اللہ کے حکم کے ساتھ ایسا کیا اور یہ اس غرض سے تھا کہ وہ فاسقوں کو رُسوا کردے۔

And whatever Allah has given to His Messenger as spoils from them, you urged neither horse nor camel for that; but Allah grants power to His Messenger over whomsoever He pleases; and Allah has power over all things.
اور اللہ نے اُن (کے اموال میں) سے اپنے رسول کو جو بطور غنیمت عطا کیا تو اُس پر تم نے نہ گھوڑے دوڑائے اور نہ اونٹ۔ لیکن اللہ اپنے رسولوں کو جن پر چاہتا ہے مسلّط کر دیتا ہے اور اللہ ہر چیز پر جسے وہ چاہے دائمی قدرت رکھتا ہے۔

Whatever Allah has given to His Messenger as spoils from the people of the towns is for Allah and for the Messenger and for the near of kin and the orphans and the needy and the wayfarer, that it may not circulate only among those of you who are rich. And whatsoever the Messenger gives you, take it; and whatsoever he forbids you, abstain from that. And fear Allah; surely, Allah is Severe in retribution.
اللہ نے بعض بستیوں کے باشندوں (کے اموال میں) سے اپنے رسول کو جو بطور غنیمت عطا کیا ہے تو وہ اللہ کے لئے اور رسول کے لئے ہے اور اقرباء، یتامیٰ اور مسکینوں اور مسافروں کے لئے۔ تا ایسا نہ ہو کہ یہ (مالِ غنیمت) تمہارے امراءہی کے دائرے میں چکر لگاتا رہے۔ اور رسول جو تمہیں عطا کرے تو اسے لے لو اور جس سے تمہیں روکے اُس سے رُک جاؤ اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔ یقیناً اللہ سزا دینے میں بہت سخت ہے۔

These spoils are for the poor Refugees who have been driven out from their homes and their possessions while seeking grace from Allah and His pleasure, and helping Allah and His Messenger. These it is who are true in their faith.
اُن درویش مہاجرین کے لئے بھی ہے جو اپنے گھروں سے نکالے گئے اور اپنے اموال سے (الگ کئے گئے)۔ وہ اللہ ہی سے فضل اور اس کی رضا چاہتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں۔ یہی ہیں وہ جو سچے ہیں۔

And those who had established their home in this city before them and had accepted faith, love those who came to them for refuge, and find not in their breasts any desire for that which is given them (Refugees), but prefer the Refugees to themselves, even though poverty be their own lot. And whoso is rid of the covetousness of his own soul — it is these who will be successful.
اور وہ لوگ جنہوں نے ان سے پہلے ہی گھر تیار کر رکھے تھے اور ایمان کو (دلوں میں) جگہ دی تھی وہ ان سے محبت کرتے تھے جو ہجرت کرکے ان کی طرف آئے اور اپنے سینوں میں اس کی کچھ حاجت نہیں پاتے تھے جو اُن (مہاجروں) کو دیا گیا اور خود اپنی جانوں پر دوسروں کو ترجیح دیتے تھے باوجود اس کے کہ انہیں خود تنگی درپیش تھی۔ پس جو کوئی بھی نفس کی خساست سے بچایا جائے تو یہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔