بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِِ

Al Islam

The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)Muslims who believe in the Messiah, Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani (as), Love for All, Hatred for None.



(Revealed after Hijrah)

Title, Date of Revelation, and Context

Like its three predecessors this Surah was revealed, as its contents show, at Medina, in the 7th or 8th year of Hijrah, sometime during the interval between the Treaty of Hudaibiyyah and the Fall of Mecca. The Surah takes its title from the 11th verse in which it is enjoined that believing women should be examined when they come as refugees. The preceding Surah had dealt with the intrigues and machinations of the hypocrites and the Jews of Medina and with the punishment which was meted out to them. The present Surah deals with the believers’ social relations with disbelievers in general, and with those at war with Islam in particular, making a pointed reference to the status and position in Muslim society of believing women who migrated to Medina, and also to those disbelieving women who left their believing husbands at Medina and went to Mecca.

Subject Matter

The Surah opens with an emphatic prohibitory injunction to Muslims against having friendly relations with those disbelievers who are at war with, and are bent upon extirpating Islam. The injunction is so strict and comprehensive that even very near blood relationships have not been exempted from it. The noble conduct in this respect of the Patriarch Abraham, who did not hesitate to sever all connections with his uncle, Azar, who had proved himself to be an enemy of God, has been held out as an example to be followed. The prohibitory injunction is followed by an implied prophecy that very soon the implacable enemies of Islam would become its devoted followers. The injunction, however, has its exception. It does not apply to those disbelievers who have good neighbourly relations with Muslims and are not inimically disposed towards them. Such disbelievers are to be treated equitably and with kindness.

Next, the Surah lays down some important directions with regard to believing women who migrated to Medina, and also with regard to women who left Medina and went over to disbelievers. In order to bring home to Muslims the seriousness and importance of the matter, the Surah closes with a reminder of the injunction that Muslims are not to make friends with those people, who, by adopting an openly hostile attitude towards Islam, have incurred God’s wrath.

60. الممتحنہ

یہ سورت مدینہ میں نازل ہوئی اور بسم اللہ سمیت اس کی چودہ آیات ہیں۔ 

اس سے پہلی سورت میں یہود کے حشر کا ذکر فرمایا گیا ہے اور اس سورت میں مسلمانوں کو متنبہ کیا جارہا ہے کہ جو اللہ اور رسولؐ کی دشمنی کرتے ہیں ان کو ہرگز دوست نہ بناؤ کیونکہ وہ اگر بظاہر دوست بھی بنتے ہوں تو ان کے سینہ میں بغض بھرا ہوا ہے اور وہ ہر وقت تمہیں ہلاک کرنے کے منصوبے باندھتے رہتے ہیں۔ 

اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اُسوہ کا ذکر ہے کہ ان کی تمام تر دوستیاں اللہ ہی کی خاطر تھیں اور تمام دشمنیاں بھی اللہ ہی کی خاطر تھیں۔ اس لئے تمہارے قریبی اعزّہ، ماں باپ اور بچے تمہارے کسی کام نہیں آسکیں گے۔ تمہیں بہرحال اپنے تعلقات اللہ ہی کی خاطر استوار کرنے ہوں گے اور اللہ ہی کی خاطر قطع کرنے ہوں گے۔ لیکن ساتھ ہی مومنوں کو یہ تاکید فرمادی کہ تمہارے جو دشمن ایذا رسانی میں پہل نہیں کرتے، تمہیں ہرگز حق نہیں پہنچتا کہ ان کی ایذا رسانی میں تم پہل کرو۔ اعلیٰ درجہ کے انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ جب تک وہ تم سے دوستی نبھاتے رہیں تم بھی ان سے دوستی نبھاؤ۔ 

چونکہ یہ سورت اس دَور کا ذکر کر رہی ہے جبکہ مسلمانوں کو یہود کے علاوہ دیگر مشرکین سے بھی اپنے دفاع میں قِتال کی اجازت دیدی گئی تھی اس لئے قِتال کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے بہت سے مسائل کا ذکر بھی فرما دیا گیا کہ اس صورت میں صحیح طریق کار کیا ہوگا۔ مثلاً کفار کی بعض بیویاں اگر ایمان لاکر ہجرت کر جائیں تو اُن کے ایمان کا پوری طرح امتحان لے لیا کرو اور اگر وہ واقعۃً اپنی مرضی سے ایمان لائی ہیں تو پھر پہلا فرض یہ ہے کہ ان کو ہرگز کفار کی طرف واپس نہ کرو کیونکہ وہ دونوں ایک دوسرے کے لئے حلال نہیں رہے۔ البتہ ان کے ولیوں کو وہ خرچ ادا کرو جو وہ ان پر کرچکے ہیں۔ 

اس کے بعد آخر پر اس عہد بیعت کا ذکر فرمایا ہے جو اُن تمام مومن عورتوں سے بھی لینا چاہئے جو کفار سے بھاگ کر ہجرت کرکے آئی ہیں اور اس کے علاوہ دیگر تمام مومن عورتوں سے بھی جب وہ بیعت کرنا چاہیں۔

In the name of Allah, the Gracious, the Merciful.
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔

O ye who believe! take not My enemy and your enemy for friends, offering them love, while they disbelieve in the truth which has come to you and drive out the Messenger and yourselves from your homes merely because you believe in Allah, your Lord. If you go forth, to strive in My cause and seek My pleasure, take them not for friends, sending them messages of love in secret, while I know best what you conceal and what you reveal. And whoever of you does so, has, surely, lost the right path.
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! میرے دشمن اور اپنے دشمن کو کبھی دوست نہ بناؤ۔ تم ان کی طرف محبت کے پیغام بھیجتے ہو جبکہ وہ حق کا، جو تمہارے پاس آیا، انکار کر چکے ہیں۔ وہ رسول کو اور تمہیں (وطن سے) نکالتے ہیں محض اس لئے کہ تم اپنے ربّ، اللہ پر ایمان لے آئے ۔ اگر تم میرے رستے میں اور میری ہی رضا چاہتے ہوئے جہاد پر نکلے ہو اور ساتھ ہی انہیں محبت کے خفیہ پیغام بھی بھیج رہے ہو جبکہ میں سب سے زیادہ جانتا ہوں جو تم چھپاتے اور جو ظاہر کرتے ہو (تو تمہارا یہ اِخفاءعبث ہے)۔ اور جو بھی تم میں سے ایسا کرے تو وہ سیدھی راہ سے بھٹک چکا ہے۔

If they get the upper hand of you, they show themselves to be your active enemies, and will stretch forth their hands and their tongues towards you with evil intent; and they ardently desire that you should become disbelievers.
اگر وہ تمہیں کہیں پائیں تو تمہارے دشمن ہی رہیں گے اور اپنے ہاتھ اور زبانیں بدنیتی سے تم پر دراز کریں گے اور چاہیں گے کہ کاش تم بھی انکار کردو۔

Neither your ties of kindred nor your children will avail you aught on the Day of Resurrection. He will decide between you. And Allah sees all that you do.
تمہارے رِحمی رشتہ دار اور اولاد قیامت کے دن ہرگز تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچاسکیں گے۔ وہ تمہارے درمیان جدائی ڈال دے گا اور جو تم کرتے ہو اللہ اُس پر ہمیشہ نظر رکھتا ہے۔

There is a good model for you in Abraham and those with him, when they said to their people, ‘We have nothing to do with you and with that which you worship beside Allah. We disbelieve all that you believe. There has arisen enmity and hatred between us and you for ever, until you believe in Allah alone’ — with the exception of this saying of Abraham to his father, ‘I will surely ask forgiveness for thee, though I have no power to prevail upon Allah in favour of thee.’ They prayed to God saying, ‘Our Lord, in Thee do we put our trust and to Thee do we turn repentant, and towards Thee is the final return.
یقیناً تمہارے لئے ابراہیم اور ان لوگوں میں جو اُس کے ساتھ تھے ایک اُسوہء حسنہ ہے۔ جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ ہم تم سے بیزار ہیں اور اُس سے بھی جس کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو۔ ہم تمہارا انکار کرتے ہیں اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کی دشمنی اور بغض ظاہر ہوچکے ہیں یہاں تک کہ تم ایک ہی اللہ پر ایمان لے آؤ۔ سوائے اپنے باپ کے لیے ابراہیم کے ایک قول کے (جو ایک استثناءتھا) کہ میں ضرور تیرے لئے بخشش کی دعا مانگوں گا حالانکہ میں اللہ کی طرف سے تیرے بارہ میں کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا۔ اے ہمارے ربّ! تجھ پر ہی ہم توکّل کرتے ہیں اور تیری طرف ہی ہم جھکتے ہیں اور تیری طرف ہی لوٹ کر جانا ہے۔

‘Our Lord, make us not a trial for those who disbelieve, and forgive us, our Lord; for Thou alone art the Mighty, the Wise.’
اے ہمارے ربّ! ہمیں ان لوگوں کےلئے ابتلا نہ بنا جنہوں نے کفر کیا اور اے ہمارے ربّ! ہمیں بخش دے یقیناً تو کامل غلبہ والا (اور) صاحبِ حکمت ہے۔

Surely, there is a good example in them for you — for all who have hope in Allah and the Last Day. And whosoever turns away — truly, Allah is Self-Sufficient, Worthy of all praise.
یقیناً تمہارے لئے ان میں ایک نیک نمونہ ہے یعنی اُس کے لئے جو اللہ اور یومِ آخر کی امید رکھتا ہے اور جو اِعراض کرے تو (جان لے کہ) یقیناً وہ اللہ ہی ہے جو غنی ہے (اور) صاحبِ حمد ہے۔

It may be that Allah will bring about love between you and those of them with whom you are now at enmity; and Allah is All-Powerful; and Allah is Most Forgiving, Merciful.
قریب ہے کہ اللہ تمہارے اور اُن میں سے اُن لوگوں کے درمیان جن سے تم باہمی عداوت رکھتے تھے محبت ڈال دے اور اللہ ہمیشہ قدرت رکھنے والا ہے اور اللہ بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔

Allah forbids you not, respecting those who have not fought against you on account of your religion, and who have not driven you forth from your homes, that you be kind to them and act equitably towards them; surely Allah loves those who are equitable.
اللہ تمہیں ان سے منع نہیں کرتا جنہوں نے تم سے دین کے معاملہ میں قتال نہیں کیا اور نہ تمہیں بے وطن کیا کہ تم اُن سے نیکی کرو اور اُن سے انصاف کے ساتھ پیش آؤ۔ یقیناً اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتاہے۔

Allah only forbids you, respecting those who have fought against you on account of your religion, and have driven you out of your homes, and have helped others in driving you out, that you make friends of them, and whosoever makes friends of them — it is these that are the transgressors.
اللہ تمہیں محض اُن لوگوں کے بارہ میں منع کرتا ہے جنہوں نے دین کے معاملہ میں تم سے لڑائی کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہیں نکالنے میں ایک دوسرے کی مدد کی کہ تم انہیں دوست بناؤ۔ اور جو اُنہیں دوست بنائے گا تو یہی ہیں وہ جو ظالم ہیں۔