بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِِ

Al Islam

The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)Muslims who believe in the Messiah, Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani (as), Love for All, Hatred for None.



(Revealed after Hijrah)

Date of Revelation and Context

As its contents show this Surah was revealed at Medina. The time of revelation appears to be shortly after Hijrah. It takes its name from v. 10.

The previous Surah had closed on an exhortation to believers to spend liberally in the cause of truth, out of what Allah had bestowed upon them, before it was too late and the day arrived when they would have to render an account of their deeds and actions to God. In this Surah some description is given of the awful day, called the Day of Losing and Gaining. The believers are exhorted again with greater emphasis not to allow any considerations of ties of relationship to stand in the way of their resolve to spend their wealth in Allah’s way.

Subject Matter

The Surah opens with the declaration that the whole creation proclaims the glory and greatness of God, to whom belongs the kingdom of the heavens and the earth and Who has power over all things. He created man and brought into existence the whole universe for his service and endowed him with great natural powers and faculties in order that he should achieve the object of his creation. Unfortunately, however, the disbelievers defy God’s commandments and reject His Messengers, with the result that they incur Divine displeasure. They are told that they should make preparation for the Day when the loss resulting from disobedience of heavenly Messengers will be brought home to them. Towards the end of the Surah believers are told that they can make up for any remissness in the discharge of their obligations to God and man, by giving full obedience to the commandments of God and the behests of His Messenger, and by spending in the cause of Truth, out of the great gifts God has bestowed upon them, and that they should not allow any ties of relationship to stand in their way.

64. التغابن

یہ سورت مدنی ہے اور بسم اللہ سمیت اس کی انیس آیات ہیں۔

 اس سورت کا آغاز بھی سورۃ الجمعہ کی طرح یُسَبِّحُ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ کے کلمات سے ہوتا ہے۔ اس سورت میں بھی اللہ تعالیٰ کی تسبیح کا ذکر فرماتے ہوئے یہ بیان کیا گیا ہے کہ زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے اللہ کی تسبیح کر رہا ہے جیسا کہ سب تسبیح کرنے والوں سے بڑھ کر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ تعالیٰ کی تسبیح کی۔ پس کیسے ممکن ہے کہ اس مُسَبِّحِ اَعْظَم کی جو بھی اہانت کرے اس کو وہ اپنے غضب کا موردنہ بنائے۔ 

سورۃ الجمعۃ میں آخری دَور میں جس جمع کا ذکر ہے اس کے متعلق یہاں یہ پیشگوئی بھی فرمادی گئی کہ وہ تَغَابُن یعنی کھرے کھوٹے کے درمیان تمیز کا دن ہوگا۔ 

اس دَور میں جو دین کی اعانت کے لئے کثرت سے مالی قربانی کا دَور ہوگا، تمام مالی قربانی کرنے والوں کو یہ خوشخبری دی جا رہی ہے کہ جو کچھ بھی وہ اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کریں گے اس کو اللہ تعالیٰ قبول فرماتے ہوئے اس کا بہت عظیم اجر عطا فرمائے گا۔

In the name of Allah, the Gracious, the Merciful.
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔

Whatever is in the heavens and whatever is in the earth glorifies Allah; His is the kingdom and His the praise, and He has power over all things.
اللہ ہی کی تسبیح کر رہا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے۔ اُسی کی بادشاہت ہے اور اُسی کی سب حمد ہے اور وہ ہر چیز پر جسے وہ چاہے دائمی قدرت رکھتا ہے۔

It is He Who has created you, but some of you are disbelievers and some of you are believers; and Allah sees what you do.
وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا۔ پس تم میں سے کافر بھی ہیں اور مومن بھی۔ اور اللہ، جو تم کرتے ہو، اُس پر گہری نظر رکھنے والا ہے۔

He created the heavens and the earth with truth, and He shaped you and made your shapes beautiful, and to Him is the ultimate return.
اس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا اور تمہاری تصویر کشی کی اور تمہاری صورتیں بہت اچھی بنائیں اور اُسی کی طرف لَوٹ کر جانا ہے۔

He knows whatever is in the heavens and the earth, and He knows what you conceal and what you disclose; and Allah knows full well all that is in the breasts.
وہ جانتا ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے اور جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو تم ظاہر کرتے ہو۔ اور اللہ سینوں کی باتوں کو ہمیشہ جانتا ہے۔

Has not the news reached you of those who disbelieved before? So they tasted the evil consequences of their conduct, and they had a painful punishment.
کیا تم تک ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جنہوں نے پہلے کفر کیا تھا۔ پس انہوں نے اپنے فیصلے کا وبال چکھ لیا اور ان کےلئے بہت دردناک عذاب (مقدر) ہے۔

That was because their Messengers came to them with manifest Signs, but they said, ‘Shall mortals guide us?’ So they disbelieved and turned away, but Allah had never any need of them; and Allah is Self- Sufficient, Worthy of all praise.
یہ اس لئے ہے کہ ان کے پاس ان کے رسول کھلے کھلے نشانوں کے ساتھ آیا کرتے تھے تو وہ کہتے تھے کہ کیا ہمیں بشر ہدایت دیں گے؟ پس انہوں نے انکار کیا اور منہ پھیر لیا اور اللہ بھی بے نیاز ہوگیا اور اللہ غنی (اور) صاحبِ حمد ہے۔

Those who disbelieve assert that they will not be raised up. Say, ‘Yea, by my Lord, you shall surely be raised up; then shall you surely be informed of what you did. And that is easy for Allah.’
وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا گمان کر بیٹھے کہ وہ ہرگز اُٹھائے نہیں جائیں گے۔ تو کہہ دے کیوں نہیں۔ میرے ربّ کی قسم! تم ضرور اُٹھائے جاؤ گے پھر ضرور تم خبر دیئے جاؤ گے اس کی جو تم کرتے تھے اور اللہ پر یہ بہت آسان ہے۔

Believe, therefore, in Allah and His Messenger, and in the Light which We have sent down. And Allah is Well-Aware of all that you do.
پس اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ اور اس نور پر جو ہم نے اُتارا ہے۔ اور اللہ اُس سے جو تم کرتے ہو ہمیشہ باخبر رہتا ہے۔

The day when He shall gather you, on the Day of Gathering, that will be the day of mutual loss and gain. And whoso believes in Allah and does good deeds — He will remove from them the evil consequences of their deeds and He will make them enter Gardens through which streams flow, to abide therein for ever. That is the supreme triumph.
جس دن وہ تمہیں جمع ہونے کے دن (حاضر کرنے) کے لئے اکٹھا کرے گا۔ یہ وہی ہار جیت کا دن ہے۔ اور جو اللہ پر ایمان لائے اور نیک اعمال بجا لائے وہ اُس سے اس کی برائیاں دور کردے گا اور اسے ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جِن کے دامن میں نہریں بہتی ہیں۔ وہ ان میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔ یہ بہت عظیم کامیابی ہے۔