بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِِ

Al Islam

The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)Muslims who believe in the Messiah, Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani (as), Love for All, Hatred for None.



(Revealed after Hijrah)

Date of Revelation and Context

The Surah derives its title from the subject matter of the opening verse. It was revealed at Medina, sometime in the 5th or 6th year of Hijrah. The immediate cause of its revelation seems to be the divorce pronounced by ‘Abdullah bin ‘Umar against his wife during her monthly course, a procedure which the Surah is intended to prohibit (Bukhari).

In the preceding Surah a note of warning was sounded against some of the wives and children of believers, as sometimes they tend to become an impediment in the way of men wishing to make monetary sacrifice in the cause of truth. This may possibly lead to estrangement between the husband and the wife and ultimately to divorce, or the divorce may result from incompatibility of dispositions or from some other cause. It was therefore necessary to lay down the correct procedure for divorce. This may be regarded as the immediate connection of this Surah with its predecessor. But there also runs a deeper connection in the subject matter of the Quran as a whole. It is characteristic of the style of the Quran that when any of its Surah deals with a particular subject in its opening verses, then in order to emphasize and impress the importance of that subject upon the mind of the reader, the Surah, briefly but pointedly reverts to the same subject in its closing verses. The same procedure has been adopted in the Quran as regards whole Surahs. Thus some of the social and political problems which have been dealt with in detail in the opening Medinite Surahs such as Al-Baqarah, Al-e-‘Imran, An-Nisa’, have again been briefly treated in the last ten Medinite Surahs. The subject of divorce with which this Surah briefly deals has already been dealt with in detail in Surah Al-Baqarah.

Subject Matter

The Surah opens with the procedure to be adopted when a man intends to divorce his wife, and with the treatment to be extended to her after the divorce has been pronounced and she is waiting for her ‘iddah (period of waiting) to expire. It is enjoined that during this period she should be treated well and provided with all the necessities, commensurate with the financial resources of the husband. It is significant that four times in the course of five brief verses of the Surahbelievers have been exhorted to observe fear of God in their dealings. This indicates that in the matter of divorce husbands are generally tempted to treat their divorced wives unjustly. Hence the injunction to observe fear of God.

From the subject of divorce the Surah passes on to the subject of rejection of the Divine Message by disbelievers. There seems to exist a subtle connection between the two. Those who reject the Divine Message divorce themselves from the grace of God.

65. الطلاق

یہ سورت مدنی ہے اور بسم اللہ سمیت اس کی تیرہ آیات ہیں۔ 

اس کا نام سورۃ الطلاق ہے اور اس میں آغاز سے لے کر آخر تک طلاق کے متعلق مختلف مسائل کا بیان ہے۔ 

پچھلی سورت سے اس سورت کا مرکزی نقطۂ اتّصال یہ ہے کہ اس میں آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم کو ایک ایسے نور کے طور پر پیش فرمایا گیا ہے جو اندھیروں سے نور کی طرف نکالتا ہے اور یہی وہ نور ہے جو آخَرِین کے زمانہ میں ایک دفعہ پھر آپؐ کی امّت کے ان لوگوں کو اندھیروں سے نکالے گا جو دنیا کے اندھیروں میں بھٹکتے پھر رہے ہوں گے۔ اور اندھیروں سے نکلنے کے مضمون میں فسق و فجور کی زندگی سے نکل کر پاکبازی کی زندگی میں داخل ہونے کا مفہوم بہت اہمیت رکھتا ہے۔ یعنی اعتقادی اندھیروں سے بھی وہ نکالے گا اور عمل کے اندھیروں سے بھی نکالے گا۔ چنانچہ سورۃ الطّلاق میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے متعلق فرمایا کہ یہ رسول تو سراپا ذکر ہے اور ذکر ہی کے نتیجہ میں نور عطا ہوتا ہے اور ذکرِ الٰہی کے نتیجہ میں ہی اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ عظیم فضیلت عطا فرمائی کہ آپؐ سراپا نور ہوگئے اور اپنے سچے غلاموں کو بھی ہر اندھیرے سے نور کی طرف نکالا۔ 

اس سورت میں ایک اور ایسی آیت ہے جو زمین و آسمان کے اسرار سے حیرت انگیز طور پر پردہ اٹھاتی ہے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم جیسے بذاتِ خود اندھیروں سے نکالنے والے تھے، اسی طرح آپؐ پر وہ کلام نازل فرمایا گیا جو کائنات کے اندھیروں سے اور اَسرار سے پردے اٹھا رہا ہے۔ جہاں قرآنِ کریم میں بارہا سات آسمانوں کا ذکر ہے وہاں یہ بھی فرمادیا گیا کہ سات آسمانوں کی طرح زمینیں بھی سات پیدا فرمائی گئی ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ کس طرح ان زمینوں پر بسنے والوں پر وحی کا نزول ہوا اور کن کن اندھیروں سے ان کو نجات بخشی گئی۔ سردست کائنات میں جستجو کرنے والے سائنسدانوں کی اس مضمون کے آغاز تک بھی رسائی نہیں ہوئی لیکن جیسا کہ بارہا ثابت ہوچکا ہے قرآنی علوم ایک کوثرکی طرح لامتناہی ہیں اور آئندہ زمانہ کے سائنسدان یقینا ان علوم کی کسی حد تک اطلاع پائیں گے۔

In the name of Allah, the Gracious, the Merciful.
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔

O Prophet! when you divorce women, divorce them for the prescribed period, and reckon the period; and fear Allah. Turn them not out of their houses, nor should they themselves leave unless they commit an act which is manifestly foul. And these are the limits set by Allah; and whoso transgresses the limits of Allah, he indeed wrongs his own soul. Thou knowest not; it may be that thereafter Allah will bring something new to pass.
اے نبی! جب تم (لوگ) اپنی بیویوں کو طلاق دیا کرو تو ان کو ان کی (طلاق کی) عدت کے مطابق طلاق دو اور عدت کا شمار رکھو اور اللہ، اپنے ربّ سے ڈرو۔ انہیں اُن کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں سوائے اس کے کہ وہ کھلی کھلی بے حیائی کی مرتکب ہوئی ہوں۔ اور یہ اللہ کی حدود ہیں اور جو بھی اللہ کی حدود سے تجاوز کرے تو یقیناً اس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔ تُو نہیں جانتا کہ شاید اس کے بعد اللہ کوئی (نیا) فیصلہ ظاہر کردے۔

Then, when they are about to reach their prescribed term, keep them with kindness, or put them away with kindness, and call to witness two just persons from among you; and bear true witness for Allah. This is by which is admonished he who believes in Allah and the Last Day. And he who fears Allah — He will make for him a way out,
پس جب وہ اپنی مقررہ میعاد کو پہنچ جائیں تو پھر انہیں معروف طریق پر روک لو یا انہیں معروف طریق پر جدا کردو اور اپنے میں سے دو صاحبِ انصاف (شخصوں) کو گواہ ٹھہرا لو اور اللہ کے لئے شہادت کو قائم کرو۔ یہ وہ امر ہے جس کی نصیحت کی جاتی ہے ہر اس شخص کو، جو اللہ اور یومِ آخر پر ایمان لاتا ہے۔ اور جو اللہ سے ڈرے اُس کے لئے وہ نجات کی کوئی راہ بنا دیتا ہے۔

And will provide for him from where he expects not. And he who puts his trust in Allah — He is sufficient for him. Verily, Allah will accomplish His purpose. For everything has Allah appointed a measure.
اور وہ اُسے وہاں سے رزق عطا کرتا ہے جہاں سے وہ گمان بھی نہیں کرسکتا۔ اور جو اللہ پر توکل کرے تو وہ اُس کے لئے کافی ہے۔ یقیناً اللہ اپنے فیصلہ کو مکمل کرکے رہتا ہے۔ اللہ نے ہر چیز کا ایک منصوبہ بنا رکھا ہے۔

And if you are in doubt as to such of your women as despair of monthly courses, then know that the prescribed period for them is three months, and the same is for such as have not had their monthly courses yet. And as for those who are with child, their period shall be until they are delivered of their burden. And whoso fears Allah, He will provide facilities for him in his affair.
اور تمہاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہوچکی ہوں اگر تمہیں شک ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے اور اُن کی بھی جو حائضہ نہیں ہوئیں۔ اور جہاں تک حمل والیوں کا تعلق ہے اُن کی عدت وضعِ حمل ہے۔ اور جو اللہ کا تقویٰ اختیار کرے اللہ اپنے حکم سے اس کے لئے آسانی پیدا کردے گا۔

That is the command of Allah which He has revealed to you. And whoso fears Allah — He will remove the evil consequences of his deeds and will enlarge his reward.
یہ اللہ کا حکم ہے جو اُس نے تمہاری طرف اتارا۔ اور جو اللہ سے ڈرتا ہے وہ اُس سے اس کی برائیاں دور کر دیتا ہے اور اُس کے اَجر کو بہت بڑھا دیتا ہے۔

Lodge them during the prescribed period in the houses wherein you dwell, according to the best of your means; and harass them not that you may create hardships for them. And if they be with child, spend on them until they are delivered of their burden. And if they give suck to the child for you, give them their recompense, and consult with one another in kindness; but if you meet with difficulty from each other, then another woman shall suckle the child for him (the father).
اُن کو سکونت مہیا کرو جہاں تم (خود) اپنی حیثیت کے مطابق رہتے ہو اور انہیں تکلیف نہ پہنچاؤ تاکہ ان پر زندگی تنگ کردو۔ اور اگر وہ حمل والیاں ہوں تو ان پر خرچ کرتے رہو یہاں تک کہ وہ اپنے حمل سے فارغ ہو جائیں۔ پھر اگر وہ تمہاری خاطر دودھ پلائیں تو ان کی اُجرت انہیں دو اور اپنے درمیان معروف کے مطابق موافقت کا ماحول پیدا کرو اور اگر تم ایک دوسرے سے (معاملہ فہمی میں) تنگی محسوس کرو تو اُس (باپ) کے لئے کوئی دوسری (دودھ پلانے والی) دودھ پلا ئے۔

Let him who has abundance of means spend out of his abundance. And let him whose means of subsistence are straitened spend out of what Allah has given him. Allah burdens not any soul beyond that which He has given it. Allah will soon bring about ease after hardship.
چاہئے کہ صاحبِ حیثیت اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرے اور جس پر اُس کا رزق تھوڑا کردیا گیا ہو تو جو بھی اُسے اللہ نے دیا ہے وہ اس میں سے خرچ کرے۔ اللہ ہرگز کسی جان کو اس سے بڑھ کر جو اُس نے اُسے دیا ہو تکلیف نہیں دیتا۔ اللہ ضرور ہر تنگی کے بعد ایک آسانی پیدا کردیتا ہے۔

How many a city rebelled against the command of its Lord and His Messengers, and We called it to severe account, and punished it with dire punishment!
اور کتنی ہی ایسی بستیاں ہیں جنہوں نے اپنے ربّ کے حکم کی نافرمانی کی اور اس کے رسولوں کی بھی تو ہم نے ان سے ایک بہت سخت حساب لیا اور انہیں بہت تکلیف دِہ عذاب میں مبتلا کیا۔

So it tasted the evil consequences of its conduct, and the end of its affair was ruin.
پس انہوں نے اپنے فیصلہ کا وبال چکھ لیا اور ان کے کاموں کا انجام گھاٹا تھا۔