بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِِ

Al Islam

The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)Muslims who believe in the Messiah, Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani (as), Love for All, Hatred for None.

CHAPTER 66

At-Tahrim

(Revealed after Hijrah)

General Remarks

With this chapter ends the series of Medinite Surahs which began with Surah Al-Hadid. Its revelation may be assigned to the 7th or 8th year of Hijrah and of a part of it to a later period, as the incident mentioned therein shows. The preceding Surah had dealt with some aspects of Talaq—permanent separation between husband and wife. The present Surah, however, deals with the subject of temporary separation, that is to say, with cases wherein a man, due to disagreement or conflict in domestic affairs temporarily gives up conjugal relations with his wife—or swears not to benefit from a lawful practice. The Surah takes its title from the opening verse.

Summary of Subject Matter

The Surah opens with an injunction addressed personally to the Holy Prophet not to forbid himself the use of things which God has made lawful for him. The specific incident referred to in the opening verse indicates that due to misunderstanding, disagreement that may disturb, though temporarily, domestic harmony and peace, might sometimes arise in the otherwise most peaceful atmosphere of even a Prophet’s household. The injunction, which applies to the Holy Prophet as much as to his followers, signifies that in such a case of temporary disharmony extreme measures should not be resorted to. The Holy Prophet’s wives are further warned that they should never lose sight of the Prophet’s very exalted status as God’s Messenger and should not make demands from him which are inconsistent with his high station. The Surah proceeds to tell believers to take care that members of their household do not deviate from the path of rectitude lest they might land themselves in trouble, and that if they happen to err or falter they should make proper amends and repent truly and sincerely, so that they might deserve Divine grace and mercy. As the Surah opens with the mention of an incident concerning relationship of the Holy Prophet with his wives, it ends fittingly with a simile, comparing disbelievers to the wives of Prophets Noah and Lot, and believers to the wife of Pharaoh and to the pious and righteous Mary, mother of Jesus.

66. التحریم

یہ مدنی سورت ہے اور بسم اللہ سمیت اس کی تیرہ آیات ہیں۔

 گزشتہ سورت میں جن عظیم الشان اَسرارِ کائنات کا ذکر ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر نازل ہونے والی کتاب میں کھولے گئے اب اس سورت میں بعض چھوٹے چھوٹے اَسرار کا بھی ذکر ہے۔ گویا بڑے اَسرار بھی حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ و سلم پر عالم الغیب کی طرف سے کھولے گئے اور چھوٹے چھوٹے اَسرار بھی عالِم الغیب کی طرف سے آپؐ پر کھولے گئے۔ پس ان معنوں میں اِس سورت کا پچھلی سورت سے یہ تعلق قائم ہوتا ہے کہ مَا لِھٰذَا الْکِتَابِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَۃً وَلَا کَبِیْرَۃً اِلَّا اَحْصٰھَا کہ یہ عجیب کتاب ہے کہ چھوٹے سے چھوٹے رازوں کا بھی احاطہ کئے ہوئے ہے اور بڑے سے بڑے اَسرار کا بھی۔ 

اس سورت میں توبۃالنَّصوح کا ذکر فرماکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے غلاموں کو یہ تاکید فرمائی گئی ہے کہ اگر وہ سچے دل سے توبہ کریں گے تو اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ ان کے تمام صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کو معاف فرمادے۔ اس توبہ کے قبول ہونے کی یہ علامت بیان فرمائی گئی ہے کہ ایسی توبہ کرنے والوں کی اصلاح کا آغاز ہو جائے گا اور دن بدن وہ گناہ ترک کرنے کی صلاحیت محسوس کریں گے اور ان کی تمام برائیاں اللہ تعالیٰ اُن سے دُور فرمادے گا۔ یہ برائیوں کو دُور کرنے کا دَور دراصل اس نور کے نتیجہ میں حاصل ہوگا جو انہیں عطا کیا جائے گا جیسے اندھیروں میں چلنے والا روشنی سے معلوم کرلیتا ہے کہ کیا کیا خطرات درپیش ہیں۔ پس نُوْرُھُمْ یَسْعٰی بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ سے مراد یہ ہے کہ وہ ان کی رہنمائی فرماتا چلا جائے گا۔ اور وَبِاَیْمَانِھِمْ کے الفاظ میں یہ اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ ان برائیوں والے لوگوں کو کوئی نور عطا نہیں کیا جاتا جو بائیں ہاتھ والے لوگ کہلاتے ہیں۔ صرف انہی کو نور عطا ہوتا ہے جو ہمیشہ ہر بدی کے مقابل پر نیکی کو ترجیح دیتے ہیں اور یہی لوگ ہیں جن کو نیکی پر قائم رہنے کے لئے وہ نور ملے گا جو انہیں استقامت عطا فرمائے گا۔ 

اس سورت کے آخر میں ان دو بدقسمت عورتوں کی مثال بیان کی گئی ہے جو انبیاء کے اہل میں بظاہر داخل تھیں مگر عملاً وہ اپنی ذمّہ داریاں ادا کرنے میں خیانت سے کام لیتی رہیں۔ پھر ان دونوں کے برعکس دو انتہائی پاکدامن عورتوں کا بھی ذکر ہے۔ ان میں سے ایک اللہ کے انتہائی ظالم اور سفاک دشمن کی بیوی تھی۔ پھر بھی اس نے اپنے ایمان کی حفاظت کی۔ اور دوسرے حضرت مریم علیہا السلام کا ذکر ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کی صورت میں جو اعجازی وجود بخشا وہ کسی نفسانی خواہش کی بنا پر نہیں تھا۔ پھر آخری آیت میں فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ امّت محمدیہ میں پیدا ہونے والے ایک سچے اور پاکباز وجود کو بھی یہی اعجاز دکھائے گا کہ باوجود اس کے کہ اس کو اعلیٰ درجہ کے روحانی مناصب حاصل کرنے کا کوئی شوق نہیں ہوگا بلکہ وہ انکسار کا پتلا ہوگا، اللہ تعالیٰ اس میں اپنی روح پھونکے گا اور اس کے نتیجہ میں اسے ایک اَور روحانی وجود بخشا جائے گا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مشابہ ہوگا۔ چنانچہ فرمایا فَنَفَخْنَا فِیْہِ مِنْ رُّوْحِنَا کہ اللہ تعالیٰ اس مردِ مومن میں اپنی روح پھونکے گا۔


[66:1]   
English
In the name of Allah, the Gracious, the Merciful.
اُردو
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔

[66:2]   
English
O Prophet! why dost thou forbid thyself that which Allah has made lawful to thee, seeking the pleasure of thy wives? And Allah is Most Forgiving, Merciful.
اُردو
اے نبی! تُو کیوں حرام کررہا ہے جسے اللہ نے تیرے لئے حلال قرار دیا ہے۔ تُو اپنی بیویوں کی رضا چاہتا ہے اور اللہ بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔

[66:3]   
English
Allah has indeed allowed to you the dissolution of your oaths, and Allah is your Friend; and He is All-Knowing, Wise.
اُردو
اللہ نے تم پر اپنی قسمیں کھولنا لازم کردیا ہے۔ اور اللہ تمہارا مولا ہے اور وہ صاحبِ علم (اور) صاحبِ حکمت ہے۔

[66:4]   
English
And when the Prophet confided a matter unto one of his wives and she then divulged it, and Allah informed him of it, he made known to her part thereof, and avoided mentioning part of it. And when he informed her of it, she said, ‘Who has informed thee of it?’ He said, ‘The All-Knowing, the All-Aware God has informed me.’
اُردو
اور جب نبی نے اپنی بیویوں میں سے کسی سے بصیغہء راز ایک بات کہی۔ پھر جب اس نے وہ بات (آگے) بتا دی اور اللہ نے اُس (یعنی نبی) پر وہ (معاملہ) ظاہر کر دیا تو اُس نے کچھ حصہ سے تو اُس (بیوی) کو آگاہ کردیا اور کچھ سے چشم پوشی کی۔ پس جب اُس نے اُس (بیوی) کو اِس کی خبر دی تو اُس نے پوچھا کہ آپ کو کس نے بتایا ہے ؟ تو اس نے کہا کہ علیم و خبیر نے مجھے بتایا ہے۔

[66:5]   
English
Now if you two turn unto Allah repentant, it will be better for you, and your hearts are already so inclined. But if you back up each other against him, surely Allah is his Helper and Gabriel and the righteous among the believers; and furthermore, all other angels too are his helpers.
اُردو
اگر تم دونوں اللہ کی طرف توبہ کرتے ہوئے جھکو تو (یہی زیبا ہے کیونکہ) تم دونوں کے دل مائل (بہ گناہ) ہوچکے تھے اور اگر تم دونوں اُس کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرو تو یقیناً اللہ ہی اس کا مولیٰ ہے اور جبرائیل بھی اور مومنوں میں سے ہر صالح شخص بھی اور مزید برآں فرشتے بھی اس کے پشت پناہ ہیں۔

[66:6]   
English
It may be that, if he divorce you, his Lord will give him instead wives better than you — resigned, believing, obedient, always turning to God, devout in worship, given to fasting, both widows and virgins.
اُردو
قریب ہے کہ اگر وہ تمہیں طلاق دیدے (تو) اس کا ربّ تمہارے بدلے اُس کے لئے تم سے بہتر ازواج لے آئے، مسلمان، ایمان والیاں، فرمانبردار، توبہ کرنے والیاں، عبادت کرنے والیاں، روزے رکھنے والیاں، بیوائیں اور کنواریاں۔

[66:7]   
English
O ye who believe! save yourselves and your families from a Fire whose fuel is men and stones, over which are appointed angels, stern and severe, who disobey not Allah in what He commands them and do as they are commanded.
اُردو
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔ اُس پر بہت سخت گیر قوی فرشتے (مسلط) ہیں۔ وہ اللہ کی، اُس بارہ میں جو وہ انہیں حکم دے، نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو وہ حکم دیئے جاتے ہیں۔

[66:8]   
English
O ye who disbelieve! make no excuses this day. You are requited for what you did.
اُردو
اے وہ لوگو جنہوں نے کفر کیا! آج عذر پیش نہ کرو۔ یقیناً تمہیں صرف اُسی کی جزا دی جائے گی جو تم کیا کرتے تھے۔

[66:9]   
English
O ye who believe! turn to Allah in sincere repentance. It may be that your Lord will remove the evil consequences of your deeds and make you enter Gardens through which rivers flow, on the day when Allah will not abase the Prophet nor those who have believed with him. Their light will run before them and on their right hands. They will say, ‘Our Lord, perfect our light for us and forgive us; surely Thou hast power over all things.’
اُردو
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی طرف خالص توبہ کرتے ہوئے جھکو۔ بعید نہیں کہ تمہارا ربّ تم سے تمہاری برائیاں دورکردے اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل کرے جن کے دامن میں نہریں بہتی ہیں، جس دن اللہ نبی کو اور ان کو رُسوا نہیں کرے گا جو اس کے ساتھ ایمان لائے۔ ان کا نور ان کے آگے بھی تیزی سے چلے گا اور ان کے دائیں بھی۔ وہ کہیں گے اے ہمارے ربّ! ہمارے لئے ہمارے نور کو مکمل کردے اور ہمیں بخش دے۔ یقیناً تو ہر چیز پر جسے تُو چاہے دائمی قدرت رکھتا ہے۔

[66:10]   
English
O Prophet! strive hard against the disbelievers and the hypocrites; and be strict against them. Their home is Hell, and an evil destination it is!
اُردو
اے نبی! کفار سے اور منافقین سے جہاد کر اور ان کے مقابلہ پر سختی کر۔ اور اُن کا ٹھکانا جہنّم ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔