بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِِ

Al Islam

The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)Muslims who believe in the Messiah, Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani (as), Love for All, Hatred for None.

CHAPTER 67

Al-Mulk

(Revealed before Hijrah)

General Remarks

With this chapter begins a series of Surahs, extending to the end of the Quran, which were revealed before Hijrah, with the solitary exception of Surah An-Nasr which, though belonging to the Medinite period, was actually revealed at Mecca on the occasion of the Holy Prophet’s last Pilgrimage. The whole of the Quran is God’s own revealed Word and so is simply inimitable and inapproachable in subject matter, style and diction, but the Surahs revealed at Mecca in the early years of the Prophet’s Call possess a majesty and grandeur, all their own. The beauty of rhythm and the charm of cadence of the revelation of this period are beyond human power adequately to describe. As these Surahs generally deal with matters of belief and doctrine, e.g. prophecies about the great and glorious future of Islam, existence of God and His attributes, Revelation, Resurrection, and Life after death, much symbolism has necessarily been used to describe the mystical and the spiritual in terms of what we can perceive by our physical senses. The Surah belongs to the middle Meccan period—8th year of the Call being the approximate time when, according to competent authorities the Surah was revealed.

Subject Matter

As stated above, the Meccan Surahs generally deal with matters of belief. The present Surah, being the first of this series, naturally opens with proclaiming the Lordship, the Sovereignty, and the Almightiness of God, and as proof of these attributes adduces the fact that God is the Creator of life and death, and of the whole universe through whose component parts, from the smallest atom to the largest planet, there runs a wonderful and flawless design and arrangement. The creation of the universe and the beautiful order that pervades the cosmos, are proofs positive of the fact that God is and that He has created man to serve a sublime object and to achieve a noble goal. But man in his ingratitude has always rejected God’s Message and consequently has been incurring Divine punishment.

The Surah then proceeds to recount the manifold Divine blessings and favours without which man cannot exist for a single moment; it, then, by implication, calls upon him to make proper use of them for the realization of the purpose for which he is created. The Surah closes with a beautiful homily, thereby bringing home to man the supreme truth that just as no physical life can exist without water, so spiritual life needs for its sustenance the heavenly water of Divine revelation.

67. الملک

یہ سورت مکی ہے اور بسم اللہ سمیت اس کی اکتیس آیات ہیں۔

 اس سورت کا آغاز اس آیت سے ہوتا ہے تَبَارَکَ الَّذِیْ بِیَدِہِ الْمُلْک کہ اللہ تعالیٰ مالکِ کُل ہے اور جو چاہتا ہے اس پر قادر ہے۔ پس گزشتہ سورت میں جو انتہائی تعجب انگیز مضمون بیان ہوا ہے اسی کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ اس کے بعد موت سے زندگی پیدا کرنے کا مضمون شروع ہوا ہے اور یہ اعلان ہے کہ جیسے اللہ تعالیٰ قادر ہے کہ جسمانی مُردوں سے زندہ پیدا کردے، اِسی طرح قادر ہے کہ روحانی مُردوں کو بھی دوبارہ زندہ کردے۔ اس میں امّتِ محمدیہ کے لئے ایک عظیم الشان خوشخبری ہے۔ 

اس کے معاً بعد فرمایا کہ ساری کائنات پر غور کرکے دیکھ لو وہ ایک ہی خالق کی گواہی دے گی اور اس میں کوئی نقص دکھائی نہیں دے گا۔ اگر یہ کائنات ازخود پیدا ہوئی ہوتی تو کہیں کسی رخنہ کے آثار دکھائی دینے چاہئے تھے بلکہ اکثر فتور ہی دکھائی دینا چاہئے تھا۔ اگر اللہ تعالیٰ کے علاوہ اس کے کسی مزعومہ شریک نے یہ کائنات بنائی ہوتی تو لازماً اس کے بنائے ہوئے قوانین کا اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے قوانین سے ٹکراؤ ہونا چاہئے تھا۔ پس اس پہلو سے تمام بنی نوع انسان کو دعوتِ فکر دی گئی ہے کہ کائنات کے اَسرار پر نظر ڈالیں اور پھر نظر ڈالیں تو اُن کی نظر تھکی ماندی اور حسرت زدہ ہوکر ان کی طرف واپس لَوٹے گی مگر وہ کائنات میں کہیں بھی کوئی خامی دریافت نہیں کرسکیں گے۔ 

اس سورت میں ایسے روحانی پرندوں کا بھی ذکر ہے جو آسمان کی وسیع اور بسیط فضا میں بلند پروازی کا شرف پاتے ہیں۔ جس طرح ظاہری پرندوں کو اللہ تعالیٰ ہی نے قوتِ پرواز بخشی ہے اور زمین و آسمان کے درمیان مسخر کردیا ہے اسی طرح اپنے مومن بندوں کو بھی وہی قوت پرواز عطا فرماتا ہے۔ اس کے مقابل پر اوندھے منہ چلنے والے جانوروں کو کوئی روحانی بلندی عطا نہیں ہوتی، نہ ظاہری معنوں میں، نہ روحانی معنوں میں۔

 اس سورت کی آخری آیت میں فرمایا گیا کہ زندگی کا پانی جو آسمان سے اترتا ہے اس سے تم ہمیشہ استفادہ کرتے ہو مگر کبھی یہ بھی غور کیا کہ اگر وہ مسلسل خشک سالیوں کے نتیجہ میں تمہاری پہنچ سے دُور زمین کی گہرائیوں میں ڈوب جائے تو تم شفاف پانی کہاں سے لاؤگے؟ پس جسمانی پانی کی طرح روحانی پانی بھی اللہ تعالیٰ کے خاص فضل ہی سے انسان کی رسائی میں رہتا ہے۔


[67:1]   
English
In the name of Allah, the Gracious, the Merciful.
اُردو
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔

[67:2]   
English
Blessed is He in Whose hand is the kingdom, and He has power over all things;
اُردو
بس ایک وہی برکت والا ثابت ہوا جس کے قبضہء قدرت میں تمام بادشاہت ہے اور وہ ہر چیز پر جسے وہ چاہے دائمی قدرت رکھتا ہے۔

[67:3]   
English
Who has created death and life that He might try you — which of you is best in deeds; and He is the Mighty, the Most Forgiving.
اُردو
وہی جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل کے اعتبار سے بہترین ہے۔ اور وہ کامل غلبہ والا (اور) بہت بخشنے والا ہے۔

[67:4]   
English
Who has created seven heavens in harmony. No incongruity canst thou see in the creation of the Gracious God. Then look again: Seest thou any flaw?
اُردو
وہی جس نے سات آسمانوں کو طبقہ در طبقہ پیدا کیا۔ تُو رحمان کی تخلیق میں کوئی تضاد نہیں دیکھتا۔ پس نظر دوڑا۔ کیا تو کوئی رخنہ دیکھ سکتا ہے؟

[67:5]   
English
Aye, look again, and yet again, thy sight will only return unto thee confused and fatigued.
اُردو
نظر پھر دوسری مرتبہ دوڑا، تیری طرف نظر ناکام لوٹ آئے گی اور وہ تھکی ہاری ہوگی۔

[67:6]   
English
And verily, We have adorned the lowest heaven with lamps, and We have made them for driving away satans, and We have prepared for them the punishment of the blazing Fire.
اُردو
اور یقیناً ہم نے نزدیک کے آسمان کو چراغوں سے زینت بخشی اور انہیں شیطانوں کو دھتکارنے کا ذریعہ بنایا اور اُن کے لئے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ کا عذاب تیار کیا۔

[67:7]   
English
And for those who disbelieve in their Lord there is the punishment of Hell, and an evil resort it is!
اُردو
اور ان لوگوں کے لئے جنہوں نے اپنے ربّ کا انکار کیا جہنّم کا عذاب ہے اور وہ بہت بُرا لوٹنے کا مقام ہے۔

[67:8]   
English
When they are cast therein, they will hear it roaring as it boils up.
اُردو
جب وہ اُس میں جھونکے جائیں گے، وہ اس کی ایک چیخنے کی سی آواز سنیں گے اور وہ جوش مار رہی ہوگی۔

[67:9]   
English
It would almost burst with fury. Whenever a host of disbelievers is cast into it the wardens thereof will ask them, ‘Did no Warner come to you?’
اُردو
قریب ہے کہ وہ غیظ سے پھٹ جائے۔ جب بھی اس میں کوئی گروہ جھونکا جائے گا اس کے داروغے ان سے پوچھیں گے، کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا؟

[67:10]   
English
They will say, “Yea, verily, a Warner did come to us, but we treated him as a liar, and we said: ‘Allah has not revealed anything; you are but in great error.’ ”
اُردو
وہ کہیں گے کیوں نہیں، ہمارے پاس ڈرانے والا ضرور آیا تھا پس ہم نے (اُسے) جھٹلا دیا اور ہم نے کہا اللہ نے کوئی چیز نہیں اتاری، تم محض ایک بڑی گمراہی میں (مبتلا) ہو۔