بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِِ

Al Islam

The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)Muslims who believe in the Messiah, Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani (as), Love for All, Hatred for None.

CHAPTER 68

Al-Qalam

(Revealed before Hijrah)

General Remarks

This Surah is one of the first four or five Surahs revealed at Mecca in the very beginning of the Call. According to some authorities it was revealed just after Surah Al-‘Alaq which was the first Quranic Surah to be revealed, but some other authorities place it after Surahs Muzzammil and Muddaththir. There is, however, no doubt that all these Surahs were revealed more or less in consecutive order because there exists a strong likeness in their subject matter. The Surah takes its title from the opening verse, and deals principally with the Holy Prophet’s claim as a Messenger of God.

Subject Matter

Like the Meccan chapters which mainly deal with matters of doctrine and belief, the present Surah deals with the truth of the Holy Prophet’s claim, and gives sound and solid arguments in proof of it. After this a large part of the Surah is devoted to a discussion of the fight of disbelievers against truth, and to the evil end to which they ultimately come, giving reasons why they reject truth and why they strive and struggle against it, and how, when their efforts appear to be on the point of bearing fruit they come to nought, and truth, instead of going under, begins to prosper, prevail and predominate. The Surah further declares complete frustration and disappointment to be the lot of the disbelievers; they burn in the fire of disgrace and humiliation. Towards the close, the Holy Prophet is enjoined to bear with patience and fortitude all the mockery, opposition, and persecution to which he was subjected, because his cause was bound to succeed.

68. القلم

یہ سورت ابتدائی مکی دور میں نازل ہوئی ہے اور بسم اللہ سمیت اس کی ترپن آیات ہیں۔

 یہ سورت حروفِ مقطعات سے شروع ہونے والی آخری سورت ہے۔ یہ سورت لفظ ’’ ن‘‘ سے شروع ہوتی ہے جس کا ایک معنی دوات کا ہے اور قلم سے لکھنے والے تمام اس کے محتاج رہتے ہیں۔ اور انسان کی تمام ترقیات کا دَور قلم کی بادشاہی سے شروع ہوتا ہے۔ اگر انسانی ترقی میں سے تحریر کو نکال دیا جائے تو انسان جہالتوں کی طرف لَوٹ جائے اور پھر کبھی اسے کوئی علمی ترقی نصیب نہیں ہوسکتی۔ 

دوسرا ’’ ن‘‘ سے مراد اللہ تعالیٰ کے وہ نبی ہیں جنہیں ’’ذوالنون‘‘ کہا جاتا ہے یعنی حضرت یونس علیہ السلام ان کا بھی اسی سورت میں ذکر ملتا ہے کہ وہ کیا واقعہ گزرا تھا جس کے نتیجہ میں وہ اپنی قوم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل نہ ہونے کے باعث، جس کا انہیں وعید دیا گیا تھا، اپنے دل پر بہت بوجھ اٹھائے ہوئے اس نیّت سے اس بستی کو چھوڑ گئے کہ آئندہ کبھی وہ اس قوم کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔ تب اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کو یہ سبق سکھایا کہ اس کے وعید بسااوقات توبہ و استغفار سے ٹل جاتے ہیں اور اس پر ان کو یہ دعا بھی سکھائی کہ لآاِلٰہ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّی کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْن (سورۃالانبیاء: ۸۸) کہ تُو تو ہر کمزوری سے پاک ہے۔ مَیں ہی ظالم تھا جو ایک توبہ کرنے والی قوم پر عذاب کا متمنّی رہا۔ 

اس سورت میں حرف ن کا تکرار کے ساتھ ذکر ہے جو اس سورت کے مضامین سے کامل مطابقت رکھتا ہے اور ایک جگہ بھی مضمون اور حرفِ ن میں کوئی بے جوڑی دکھائی نہیں دیتی۔


[68:1]   
English
In the name of Allah, the Gracious, the Merciful.
اُردو
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔

[68:2]   
English
By the inkstand and by the pen and by that which they write,
اُردو
ن۔ قسم ہے قلم کی اور اس کی جو وہ لکھتے ہیں۔

[68:3]   
English
Thou art not, by the grace of thy Lord, a madman.
اُردو
تُو اپنے ربّ کی نعمت کے طفیل مجنون نہیں ہے۔

[68:4]   
English
And for thee, most surely, there is an unending reward.
اُردو
اور یقیناً تیرے لئے ایک لامتناہی اجر ہے۔

[68:5]   
English
And thou dost surely possess high moral excellences.
اُردو
اور یقیناً تو بہت بڑے خُلق پر فائز ہے۔

[68:6]   
English
And thou wilt soon see and they too will see
اُردو
پس تُو دیکھ لے گا اور وہ بھی دیکھیں گے۔

[68:7]   
English
Which of you is afflicted with madness.
اُردو
کہ تم میں سے کون دیوانہ ہے۔

[68:8]   
English
Surely, thy Lord knows best those who go astray from His way, and He knows best those who follow guidance.
اُردو
یقیناً تیرا ربّ ہی سب سے زیادہ جانتا ہے اُسے جو اُس کی راہ سے بھٹک گیا ہے اور وہی ہدایت یافتہ لوگوں کو بھی سب سے زیادہ جانتا ہے۔

[68:9]   
English
So comply not with the wishes of those who reject the truth.
اُردو
پس تو جھٹلانے والوں کی اطاعت نہ کر۔

[68:10]   
English
They wish that thou shouldst be pliant so that they may also be pliant.
اُردو
وہ چاہتے ہیں کہ اگر تُو لوچ سے کام لے تو وہ بھی لوچ سے کام لیں گے۔