بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِِ

Al Islam

The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)Muslims who believe in the Messiah, Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani (as), Love for All, Hatred for None.

CHAPTER 69

Al-Haqqah

(Revealed before Hijrah)

General Remarks

The Surah, like its predecessor, was, as its subject matter shows, among the earliest chapters revealed at Mecca. It is almost entirely devoted to the subject of the inevitability of the Resurrection; and adduces the sure and certain success of the Holy Prophet against heavy odds as an argument in support of that hypothesis. As the Holy Prophet’s ultimate success, and the Resurrection were regarded by the disbelievers as impossible, the coming to pass of the one did indeed constitute an incontrovertible proof that the other would also happen. Thus the Surah opens with a firm and emphatic declaration that enemies of truth shall be routed, and disbelievers are warned that if they do not desist from their evil course, they will be punished like the people of Noah, the ‘Ad and Thamud tribes and the mighty hosts of Pharaoh. They "disobeyed the Messenger of their Lord, so He seized them—a severe seizing." The Surah draws a parallel between the destruction of the rejecters of Divine Message and the Resurrection, and proceeds to say that for disbelievers the "hour" of punishment will be most distressful and agonizing; for the believers it will be a time of perennial joy and happiness. The righteous servants of God "will have a delightful life in a lofty Garden," and the deniers of truth "will be seized, fettered and cast into Hell." The Surah closes with a firm and emphatic declaration that both these events—the Resurrection and the success of the Prophet’s cause, will most surely come to pass, because what the Prophet says is God’s own revealed Word and not the bragging of a poet or the idle conjecture of a soothsayer, for, if he had forged a lie against God, he would have met with sure and violent death, because a forger is never allowed to prosper.

69. الحاقہ

یہ سورت مکی ہے اور بسم اللہ سمیت اس کی ترپّن آیات ہیں۔

 سورۃ القلم میں یہ مضمون بیان ہوا تھا کہ ہم جب انبیاء کے دشمنوں کو مہلت دیتے ہیں تو اس لئے دیتے ہیں کہ ان کے گناہ کا پیمانہ لبریز ہو جائے اور پھر اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے ان کو کوئی بچانہیں سکتا۔ اس سورت میں بھی ان قوموں کا ذکر ہے جن کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بار بار مہلت دی گئی لیکن جب ان کے گناہوں کا پیمانہ بھر گیا تو اُن کی پکڑ کی گھڑی آگئی۔ 

حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو اللہ تعالیٰ نے جس بہت بڑے عذاب سے بنی نوع انسان کو ڈرانے کا ارشاد فرمایا ہے اس کا تعلق دنیا کی کسی خاص مذہبی جماعت سے نہیں بلکہ بحیثیت انسان ہر ایک کو متنبہ کیا گیا ہے۔ جب وہ واقعہ ہوگا تو دنیا کے لحاظ سے بھی انسان سمجھے گا کہ گویا زمین و آسمان اس پر پھٹ پڑے ہیں۔ انسان کی بعثتِ ثانیہ میں بھی یہ انتباہ ایک دفعہ پھر پورا ہوگا کہ نہ اس کا کوئی زمینی تعلق اسے بچاسکے گا، نہ آسمانی تعلق اور جہنم اس کا انجام ہوگا۔ 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ ایک عظیم گواہی پیش فرمارہا ہے اُن امور کے پورا ہونے کے متعلق بھی جو انسان کو کسی حد تک دکھائی دے رہے ہیں یا دکھائی دینے لگتے ہیں اور ان امور کے پورا ہونے کے متعلق بھی جن پر اس کی نظر نہیں جاتی۔ یعنی یہ کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی باتیں ایک معزز اَمین رسول کی باتیں ہیں نہ وہ کسی شاعر کا بہکا ہوا کلام ہے نہ کسی کاہن کی اٹکل پچو۔ یہ تمام جہانوں کے ربّ کی طرف سے ایک تنزیل ہے۔ 

 اس سورت کی آخری آیات میں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی سچائی کا ایک ایسا پیمانہ پیش فرمادیا گیا جس کا کوئی ردّ دشمن کی طرف سے نہیں ہوسکتا۔ دشمن کو متنبہ کیا کہ تمہارے نزدیک تو اس معزز کتاب کو اس رسول نے اپنے نفس سے ہی گھڑ لیا ہے حالانکہ اگر اس نے اللہ تعالیٰ پر چھوٹے سے چھوٹا افتراء بھی کیا ہوتا تو وہ یقینا اس کو اور اس کے سلسلہ کو ہلاک کردیتا۔ اور اگر اللہ یہ فیصلہ کرتا تو تم لوگ کسی طرح بھی اس کو بچا نہ سکتے۔ گویا تمہاری تمام قوتوں کے مقابل پر اللہ تعالیٰ اس کی نصرت فرما رہا ہے اور اس کو بچا رہا ہے جو یقینی طور پر اس کے اللہ کا رسول ہونے پر گواہ ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا یہ کلام پھر بڑی صفائی سے اس کے حق میں پورا ہوا ہے: کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِی (المجادلۃ: ۲۲)۔ 


[69:1]   
English
In the name of Allah, the Gracious, the Merciful.
اُردو
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔

[69:2]   
English
The Inevitable!
اُردو
لازماً واقع ہونے والی۔

[69:3]   
English
What is the Inevitable?
اُردو
لازماً واقع ہونے والی کیا ہے؟

[69:4]   
English
And what should make thee know what the Inevitable is?
اُردو
اور تُجھے کیا سمجھائے کہ لازماً واقع ہونے والی کیا ہے؟

[69:5]   
English
The tribe of Thamud and the tribe of ‘Ad treated as a lie the sudden calamity.
اُردو
ثمود اور عاد نے (دلوں کو) چونکا دینے والی آفت کا انکار کردیا تھا۔

[69:6]   
English
Then, as for Thamud, they were destroyed with a violent blast.
اُردو
پس جہاں تک ثمود کا تعلق ہے سو وہ حد سے بڑھی ہوئی آفت سے ہلاک کردیئے گئے۔

[69:7]   
English
And as for ‘Ad, they were destroyed by a fierce roaring wind,
اُردو
اور جو عاد تھے تو وہ ایک تند و تیز ہوا سے ہلاک کئے گئے جو بڑھتی چلی جاتی تھی۔

[69:8]   
English
Which He caused to blow against them for seven nights and eight days consecutively, so that thou mightest have seen the people therein lying prostrate, as though they were trunks of palm-trees fallen down.
اُردو
اس نے اُسے اُن پر مسخر کئے رکھا سات راتوں اور آٹھ دن تک اس حال میں کہ وہ اُنہیں جڑوں سے اکھیڑ کر پھینک رہی تھی۔ پس قوم کو تُو اُس میں پچھاڑ کھاکر گرا ہوا دیکھتا ہے جیسے وہ کھجور کے گرے ہوئے درختوں کے تنے ہوں۔

[69:9]   
English
Dost thou see any remnant of them?
اُردو
پس کیا تُو اُن میں سے کوئی باقی بچا ہوا دیکھتا ہے؟

[69:10]   
English
And Pharaoh, and those who were before him, and the overthrown cities persistently committed sins.
اُردو
اور فرعون بھی آیا اور وہ بھی جو اُس سے پہلے تھے اور ایک بہت بڑے گناہ کے باعث تہ و بالا ہونے والی بستیاں بھی۔