بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِِ

Al Islam

The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)Muslims who believe in the Messiah, Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani (as), Love for All, Hatred for None.

CHAPTER 70

Al-Ma`arij

(Revealed before Hijrah)

Introductory Remarks

The Surah derives its title from the 4th verse. It was revealed at Mecca circa the 5th year of the Call, not later than the close of the early Meccan period. Nöldeke, Muir, and some other eminent authorities, assign this date to the revelation of the Surah.

In the preceding Surah the disbelievers were warned that the great Calamity (الحاقة) would soon overtake them if they did not repent of their sins and accept the Divine Message. The present Surah opens with a mention of the disbelievers’ demand, viz. when will the threatened punishment be? They are told that it would soon be upon them, nay, it is at their door, and that when it comes, it would be so overwhelming and devastating that it would cause the mountains to fly like flakes of wool, and that the disbelievers would wish to part with their near and dear ones—their wives, children and brothers as a ransom for themselves. Then it would be too late to repent and they would burn in hellfire which would strip off their skins. But God’s righteous servants will enjoy perfect happiness and security in "Gardens"—honoured and loved by their Lord.

Towards the close of the Surah, disbelievers are told again, that due to the Muslims now being few in number, and weak, the disbelievers consider prophecies about the glorious future of Islam as only the dream of a visionary, but the time was fast approaching when, with their eyes cast down, they would hasten to the Holy Prophet to accept Islam. Then they would realize, to their shame and sorrow, that what the Prophet had foretold about their eventual defeat was only too true.

70. المعارج

یہ سورت مکی ہے اور بسم اللہ سمیت اس کی پینتالیس آیات ہیں۔ 

اس کی پہلی آیت ہی میں اللہ تعالیٰ نے ایک ایسے عذاب سے متنبہ فرمایا ہے جسے کافر روک نہیں سکتے۔ 

پھر اللہ تعالیٰ کو ’’ذی المعارج‘‘ قرار دیا ہے یعنی اس کی بلندی طبقہ بہ طبقہ آسمان پر غور کرنے سے کسی حد تک سمجھ آسکتی ہے ورنہ اس کی رفعتوں کو کوئی نہیں سمجھ سکتا۔ یہاں جس بلندی کا ذکر فرمایا گیا ہے اس پر ایک ایسی سائنسی شہادت ملتی ہے جس کا اس سورت میں خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَۃٍ والی آیت میں ذکر ہے کہ فرشتے اس کی طرف پچاس ہزار سال میں عروج کرتے ہیں۔ اب پچاس ہزار سال میں عروج کرنے کے دو معنے ہو سکتے ہیں۔ اوّل: ظاہراً پچاس ہزار سال۔ اگر یہ معنی لئے جائیں تو اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ دنیا میں ہر پچاس ہزار سال بعد ایسی موسمی تبدیلی واقع ہوتی ہے کہ ساری زمین برفانی تودوں سے ڈھک جاتی ہے اور پھر ازسرِنو تخلیق کا آغاز ہوتا ہے۔ 

دوسرے یہ قابلِ توجہ بات ہے کہ یہاں مِمَّا تَعُدُّوْن نہیں فرمایا۔ قرآنِ کریم کی ایک دوسری آیت جس میں ایک ہزار سال کا ذکر ہے، وہ اِس کے ساتھ ملاکر پڑھی جائے تو مطلب یہ بنے گا کہ جو تم لوگوں کی گنتی ہے اس کے اگر ایک ہزار سال شمار کئے جائیں تو اللہ تعالیٰ کا ہر دن اُس ایک ہزار سال کے برابر ہوگا۔ اور اگر ہر دن کو ایک سال کے دنوں سے ضرب دی جائے اور پھر اس کو پچاس ہزار سال کے دنوں سے ضرب دی جائے تو جو اعداد بنتے ہیں وہ اللہ کے دنوں کی مدت کی تعیین کرتے ہیں۔ پس اس حساب سے اگر پچاس ہزار سال سے جو اللہ تعالیٰ کے دن ہیں اُسے ضرب دی جائے تو اٹھارہ سے بیس بلین سال بن جائیں گے جو سائنسدانوں کے نزدیک کائنات کی عمر ہے۔

 (18,250,000,000 = 365 X 50000 X 1000) 

یعنی ہر کائنات اس عمر کو پہنچ کر پھر عدم میں ڈوب جاتی ہے اور اس کے بعد پھر عدم سے وجود پیدا کیا جاتا ہے۔ 

یہ اتنی بڑی مدت ہے کہ اسے انسان بہت دور کی بات سمجھتا ہے لیکن جب عذاب واقع ہوگا تو وہ گھڑی بالکل قریب دکھائی دے گی۔ وہ ایسا عذاب ہوگا کہ انسان اپنے قریب ترین عزیزوں کو اور اپنی جان، مال و دولت اور ہر چیز کو اس کے بدلہ فدیہ دے کر اس سے بچنا چاہے گا مگر ایسا نہیں ہوسکے گا۔ ہاں عذاب سے پہلے اگر مومنوں میں یہ صفات ہوں کہ وہ اپنی نماز پر قائم رہتے ہیں اور ہمیشہ فکر سے ادا کرتے ہیں اور علاوہ ازیں اپنی پاکیزگی کی حفاظت کے لئے ان تمام شرطوں کو پورا کرتے ہیں جو اُن پر عائد کی گئی ہیں تو یہ وہ خوش نصیب ہیں جو اس عذاب سے مستثنیٰ کئے جائیں گے۔ 

آیت نمبر ۴۲ میں پھر اس بات کی تنبیہ فرمائی گئی کہ اللہ تم سے مستغنی ہے۔ پس اگر تم فسق و فجور سے باز نہیں آؤگے تو اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ تمہاری جگہ نئی مخلوق لے آئے۔ پس جس عذاب کے واقعہ ہونے کی خبر دی گئی ہے اسی کے ذکر پر یہ سورت اپنے اختتام کو پہنچتی ہے۔ 


[70:1]   
English
In the name of Allah, the Gracious, the Merciful.
اُردو
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔

[70:2]   
English
An inquirer inquires concerning the punishment about to fall
اُردو
کسی پوچھنے والے نے ایک لازماً واقع ہونے والے عذاب کے بارہ میں پوچھا ہے۔

[70:3]   
English
Upon the disbelievers, which none can repel.
اُردو
کافروں سے اُسے کوئی چیز ٹالنے والی نہیں۔

[70:4]   
English
It is from Allah, Lord of great ascents.
اُردو
سب بلندیوں کے مالک، اللہ کی طرف سے ہے۔

[70:5]   
English
The angels and the Spirit ascend to Him in a day the measure of which is fifty thousand years.
اُردو
فرشتے اور روح اس کی طرف ایک ایسے دن میں صعود کرتے ہیں جس کی گنتی پچاس ہزار سال ہے۔

[70:6]   
English
So be patient with admirable patience.
اُردو
پس صبر جمیل اختیار کر۔

[70:7]   
English
They see it to be far off,
اُردو
وہ یقیناً اسے بہت دور دیکھ رہے ہیں۔

[70:8]   
English
But We see it to be nigh.
اُردو
اور ہم اسے قریب دیکھتے ہیں۔

[70:9]   
English
The day when the heaven will become like molten copper,
اُردو
جس دن آسمان پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہو جائے گا۔

[70:10]   
English
And the mountains will become like flakes of wool,
اُردو
اور پہاڑ دُھنی ہوئی اون کی طرح ہوجائیں گے۔