بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِِ

Al Islam

The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)Muslims who believe in the Messiah, Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani (as), Love for All, Hatred for None.

CHAPTER 71

Nooh

(Revealed before Hijrah)

Title, Context, and Date of Revelation

As the Surah records the spiritual experiences of the Prophet Noah, it has been named after him. Wherry gives the date of its revelation as the 7th year of the Call, while Nöldeke places it in the 5th year but according to other authorities it was revealed in the first Meccan period, about the time when some of the immediately preceding Surahs were revealed.

Towards the end of the preceding Surah it was stated that wicked people invariably reject the Divine Message; they oppose and persecute God’s Messengers till the hour of their punishment arrives, and they meet their deserved end. The present Surah gives a brief account of the missionary activities of one of the great Prophets of antiquity—Noah—who was so bitterly and stubbornly opposed that he prayed to God: "Let not a single disbeliever remain alive in the land". A very destructive flood engulfed the whole country, bringing in its wake utter ruin and devastation.

Summary of Subject Matter

Noah’s account appears at several places in the Quran—with some detail in Surah Hud (vv. 26-50). In the present Surah, however, he pours out the agony of his heart before his Lord and Creator, in words full of extreme pathos. He preached to his people day and night, he says, and spoke to them in public and in private. He reminded them of the great favours and gifts that God had bestowed upon them. He warned them of the evil consequences of rejection of the Divine Message. But all his preaching and warning, his sympathy with and solicitude for, their well-being was only met with ridicule, opposition and abuse; and instead of following one whose heart was full of love for them, they chose to follow those leaders who led them to destruction. When Noah’s exhortations and preachings of a whole lifetime proved a voice in the wilderness, he prayed to God to ruin and destroy the enemies of truth. The Surah closes with this prayer of Noah.

71. نوح

یہ سورت ابتدائی مکی دور میں نازل ہوئی اور بسم اللہ سمیت اس کی انتیس آیات ہیں۔ 

گزشتہ سورت کے آخر میں فرمایا تھا کہ ہم اس بات پر قادر ہیں کہ تم سے بہتر لوگ پیدا کردیں۔ اب اس سورت میں فرمایا کہ قومِ نوح کے عذاب میں چھوٹے پیمانے پر یہی صورت تھی کہ پوری کی پوری قوم غرق کردی گئی سوائے چند ایک کے جنہوں نے نوح علیہ السلام کی کشتی میں پناہ لی تھی اور پھر ان لوگوں سے جو حضرت نوح علیہ السلام کے ساتھ تھے ایک نئی بہتر نسل کا آغاز کیا گیا۔ 

آیت نمبر ۵ میں پھر اللہ کی مقرر کردہ اجل کا ذکر ہے کہ جب وہ آئے گی تو پھر تم اسے ٹال نہیں سکوگے۔ یہ گزشتہ سورت کے مضمون کا اعادہ ہے۔ 

اس کے بعد حضرت نوح علیہ السلام کی اُس گریہ و زاری اور ابلاغ کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ محض پیغام پہنچادینا کافی نہیں ہوا کرتا بلکہ اس پیغام کو سمجھانے کے لئے ایک نبی کو اپنی جان گویا ہلاک کرنی پڑتی ہے۔ کوئی ذریعہ وہ ایسا نہیں چھوڑتا جس سے قوم کے بڑوں اور چھوٹوں کو سمجھایا جاسکتا ہو۔ کبھی گریہ و زاری کے ساتھ اور کبھی چھپ چھپ کر تاکہ قوم کے متکبر لوگ، عوام الناس کے سامنے صداقت کو تسلیم کرکے شرمندگی محسوس نہ کریں۔ کبھی اعلان عام کے ساتھ تاکہ عوام الناس کو بھی براہ راست نبی سے پیغام پہنچے ورنہ ان کے سردار تو اس پیغام کو محرف کرکے پیش کریں گے۔ پھر کبھی انہیں طمع دلاتا ہے کہ دیکھو! اگر تم ایمان لے آؤگے تو آسمان تم پر بکثرت رحمتوں کی بارش نازل فرمائے گا اور کبھی خوف دلاتا ہے کہ اگر ایمان نہیں لاؤگے تو آسمان سے رحمت کی بارش کی بجائے انتہائی ہلاکت خیز بارش ہوگی اور زمین بھی تمہاری کوئی مددنہیں کرسکے گی بلکہ زمین سے بھی ہلاکت کے سوتے پھوٹ پڑیں گے۔ تب اس اتمامِ حجت کے بعد، اور اسی کا نام اتمامِ حجت ہے، آخر ان کی صف لپیٹ دی گئی اور ایک نئی قوم کی بِنا ڈالی گئی۔ 

پس حضرت نوح علیہ السلام نے جو یہ دعا کی تھی کہ اللہ تعالیٰ کفار میں سے کوئی باقی نہ چھوڑے اور ہلاک کردے، اس بِنا پرکی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو یہ علم دیا تھا کہ اب اگر یہ زندہ رکھے گئے تو صرف فاسق و فاجر پیدا کریں گے۔ ان کی نسلوں سے مومن پیدا ہونے کی امید منقطع ہوچکی ہے۔ پس جب الٰہی جماعتیں اس طرح حجت تمام کردیا کرتی ہیں تب ان کا یہ حق بنتا ہے کہ مخالفین کی تباہی کی دعا کریں۔

 علاوہ ازیں اس سورت میں یہ بھی ذکر ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو متوجہ فرمایا کہ تم اللہ تعالیٰ کو ایک باوقار ہستی کیوں تسلیم نہیں کرتے؟ اُسی نے تمہیں بھی تو طبقہ در طبقہ آگے بڑھاتے ہوئے تکمیل کی منزل تک پہنچایا ہے اور یہی چیز آسمان کے طبقہ در طبقہ بلندیوں سے ثابت ہوتی ہے۔ یہ مضمون ایک حد تک اس قوم کی سمجھ سے بالا تھا۔ نہ اسے اپنے ماضی کا پتہ تھا کہ کیسے طبقہ در طبقہ پیدا ہوئے، نہ اپنے مستقبل کا علم تھا۔ نہ وہ آسمان کی طبقہ در طبقہ بلندیوں کا علم رکھتے تھے۔ غالباً یہ ایک پیشگوئی ہے کہ آئندہ زمانہ میں جب ایک نئی ’’کشتیٔ نوح‘‘ بنائی جائے گی تو اس زمانہ کے لوگوں کو ان سب چیزوں کا علم ہوچکا ہوگا۔ پھر بھی اگر وہ شرک پھیلانے سے باز نہ آئے اور ان پر ہرقسم کیحجّت پوری کردی گئی تو آخر اُن کے حق میں فَسَحِّقْھُمْ تَسْحِیْقًا اور وَلَا تَذَرْ عَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْکَافِرِیْنَ شَرِیْراً کی دعا ضرور پوری ہوکر رہے گی۔ 


[71:1]   
English
In the name of Allah, the Gracious, the Merciful.
اُردو
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔

[71:2]   
English
We sent Noah to his people, saying, ‘Warn thy people before there comes upon them a grievous punishment.’
اُردو
یقیناً ہم نے نوح کو اُس کی قوم کی طرف بھیجا کہ تُو اپنی قوم کو ڈرا اس سے پہلے کہ اُن کے پاس دردناک عذاب آ جائے۔

[71:3]   
English
He said, ‘O my people! surely I am a plain Warner unto you,
اُردو
اُس نے کہا۔ اے میری قوم! یقیناً میں تمہارے لئے ایک کھلا کھلا ڈرانے والا ہوں۔

[71:4]   
English
‘That you serve Allah and fear Him and obey me.
اُردو
کہ اللہ کی عبادت کرو اور اُس کا تقویٰ اختیار کرو اور میری اطاعت کرو۔

[71:5]   
English
‘He will forgive you your sins and grant you respite till an appointed time. Verily the time appointed by Allah cannot be put back when it comes, if only you knew!’
اُردو
وہ تمہارے گناہ معاف کردےگا اور ایک معیّن مدت تک مُہلت دے گا۔ یقیناً اللہ کا (مقرر کردہ) وقت جب آجاتا ہے تو وہ ٹالا نہیں جا سکتا۔ کاش تم جانتے۔

[71:6]   
English
He said, “My Lord, I have called my people night and day,
اُردو
اُس نے کہا اے میرے ربّ! میں نے اپنی قوم کو رات کو بھی دعوت دی اور دن کو بھی۔

[71:7]   
English
“But my calling them has only made them flee from me all the more.
اُردو
پس میری دعوت نے اُنہیں فرار کے سوا کسی چیز میں نہیں بڑھایا۔

[71:8]   
English
“And every time I called them that Thou mightest forgive them, they put their fingers into their ears, and covered up their hearts, and persisted in their iniquity, and were disdainfully proud.
اُردو
اور یقیناً جب کبھی میں نے اُنہیں دعوت دی تاکہ تُو انہیں بخش دے اُنہوں نے اپنی اُنگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیں اور اپنے کپڑے لپیٹ لئے اور بہت ضد کی اور بڑے استکبار سے کام لیا۔

[71:9]   
English
“Then, I called them to righteousness openly.
اُردو
پھر میں نے اُنہیں بآواز بلند بھی دعوت دی۔

[71:10]   
English
“Then I preached to them in public, and also spoke to them in private.
اُردو
پھر میں نے اُن کی خاطر اعلان بھی کئے اور بہت اِخفا سے بھی کام لیا۔