بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِِ

Al Islam

The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)Muslims who believe in the Messiah, Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani (as), Love for All, Hatred for None.



(Revealed before Hijrah)

General Remarks

By common consent this Surah was one of the first two or three revealed at Mecca. This and the preceding Surah(Al-Muzzammil) seem to be "twins" as they are closely linked in regard to the time of revelation and their tone and tenor. The present Surah, in fact, complements the subject matter of its predecessor. The مزمل (Muzzammil) of the previous Surah, immersed in devotional prayers and contemplation, and passing through a period of intense preparation for the attainment of spiritual perfection, had developed from that into مدثر (Muddaththir) i.e. the Destroyer of sin and Vanquisher of the forces of evil, the Deliverer of mankind, their Leader, Guide and Warner. From that time onward, the Prophet’s life was no more his own. It was devoted to God, and to mankind. He preached Divine Message with unswerving purpose, in the face of insult, opposition and persecution.

The Surah opens with a firm command to the Holy Prophet to stand upright, proclaim the truth he has and warn those who would not accept it—those whom wealth, power and position had rendered spiritually blind and deaf that the day of Divine punishment would be a day of extreme distress for them; they would burn in the fire of Hell. They are further told that they would suffer punishment because they did not offer prayers or feed the poor—duties which they owed to God, and man—and because also they ignored the Divine Message and indulged in vain pursuits, persisting in the denial of the Day of Judgement till death overtook them. The Surah ends on the note that the Quran is but a Reminder and an Exhortation. He who will accept its Message will accept it for the betterment of his own soul and he who will reject it, would do so to his own detriment.

74. المدثر

یہ سورت مکہ کے ابتدائی دَور میں نازل ہوئی اور بسم اللہ سمیت اس کی ستاون آیات ہیں۔ 

جس طرح پہلی سورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو مُزَّمِّل قرار دیا گیا، گویا اپنے آپ کو مضبوطی سے ایک کمبل میں لپیٹ لیا ہو، اس سورت میں بھی یہی مضمون ہے اور اس امر کی تشریح ہے کہ وہ کون سے کپڑے ہیں جن کو نبی مضبوطی کے ساتھ اپنے ساتھ لگا لیتا ہے اور جن کو پاک کرتا رہتا ہے۔ یہاں کوئی ظاہری کپڑے ہرگز مرادنہیں ہیں بلکہ صحابہ رضوان اللہ علیہم کا ذکر ہے کہ وہ صحابہؓ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے قریب رہتے ہیں آپؐ کی مُطَھِّر صحبت کے نتیجہ میں مسلسل پاک کئے جاتے ہیں اور وہ رُجْز کو چھوڑتے چلے جاتے ہیں حالانکہ اس سے پہلے بہت سے ان میں سے ایسے تھے کہ ان کے لئے رُجْز سے اجتناب ممکن نہ تھا۔ 

علاوہ ازیں رُجْز سے مراد مشرکین مکّہ بھی ہوسکتے ہیں اور ان سے مکمل قطع تعلقی کا ارشاد فرمایا گیا ہے۔ 

اس سورت میں ایسے اُنیس شد ّاد ملائک کا ذکر ہے جو مجرموں کو سزا دینے میں کوئی نرمی نہیں دکھائیں گے۔ یہاں اُنیس کا عدد بعض ایسی انسانی استعدادوں کی طرف اشارہ کر رہا ہے جن کے غلط استعمال کے نتیجہ میں ان پر جہنم واجب ہوسکتی ہے۔ سر سے پاؤں تک اللہ تعالیٰ نے جو اعضاء انسان کو بخشے ہیں جن سے اگر کماحقّہ کام لیا جائے تو انسان گناہوں اور لغزشوں سے بچ سکتا ہے، ان اعضاء کی تعداد غالباً اُنیس ہے۔ لیکن جو بھی تعداد ہو، یہ سورت اس بات پر روشنی ڈال رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جنود بے انتہا ہیں اور انیس کے عدد پر ٹھہر کر یہ نہ سمجھنا کہ صرف اُنیس فرشتے ہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب کے فرشتے بھی بے شمار ہیں جو حسب حال انسان کی تعذیب پر مقرر کئے جاتے ہیں۔

 اسی سورت میں ایک قمر کی پیشگوئی فرمائی گئی ہے جو سورج کے بعد اس کی پیروی میں نمودار ہوگا۔ یہ بھی بہت معنی خیز کلام ہے۔ یہی مضمون سورۃ الشمس میں بھی مذکور ہے۔

In the name of Allah, the Gracious, the Merciful.
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔

O thou that has wrapped thyself with thy mantle!
اے کپڑا اوڑھنے والے!

Arise and warn.
اُٹھ کھڑا ہو اور انتباہ کر۔

And thy Lord do thou magnify.
اور اپنے ربّ ہی کی بڑائی بیان کر۔

And thy heart do thou purify,
اور جہاں تک تیرے کپڑوں (یعنی قریبی ساتھیوں) کا تعلق ہے تُو (انہیں) بہت پاک کر۔

And uncleanliness do thou shun,
اور جہاں تک ناپاکی کا تعلق ہے تو اس سے کلیّۃً الگ رہ۔

And bestow not favours seeking to get more in return,
اور زیادہ لینے کی خاطر احسان نہ کیا کر۔

And for the sake of thy Lord do thou endure patiently.
اور اپنے ربّ ہی کی خاطر صبر کر۔

And when the trumpet is sounded,
پس جب ناقورمیں پُھونکا جائے گا۔

That day will be a distressful day.
تو وہی وہ دن ہوگا جو بہت سخت دن ہوگا۔