بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِِ

Al Islam

The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)Muslims who believe in the Messiah, Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani (as), Love for All, Hatred for None.

CHAPTER 79

An-Nazi`at

(Revealed before Hijrah)

General Remarks

The Surah takes its title from the first word of its opening verse. All competent authorities, including ‘Abdullah bin ‘Abbas and Ibn Zubair, agree that, like its predecessor, this is a very early Meccan Surah. In the preceding Surah, the Muslims were promised power, prosperity and predominance in the world at a time when in the whole of Mecca hardly forty persons had accepted Islam. In the present Surah, however, light is shed on the ways and means by which the Muslims were to achieve greatness and glory, as well as on the signs and marks that point towards the imminent fulfilment of that promise.

The Surah opens with a description of some of the special traits of character of the Holy Prophet’s Companions and of other groups of righteous men who, by bringing into play these characteristics, achieve glory, power, victory and prominence. The Surah then points out that power will come to Muslims as a result of wars that will break the strength of the enemies of Islam. Pharaoh’s case is then cited to show that opposition to truth never goes unpunished. Next, we are told that in the extremely weak condition of early Muslims, prophecies about a glorious future of Islam seemed impossible of fulfilment, but the Great God Who created the vast heavens and earth, and Who placed on it rivers and mountains and highways had the power to make the impossible possible, as He can give a new life to the dead in the next world. Towards the close of the Surah it is stated that when the great event—the complete triumph of Truth or the Final Resurrection—takes place, the guilty will burn in the fire of Hell, but those who had lived a life of righteousness will enjoy the blessings of Paradise.

79. النّٰزِعٰت

یہ سورت ابتدائی مکی دور میں نازل ہوئی اور بسم اللہ سمیت اس کی سینتالیس آیات ہیں۔

 قرآنی اسلوب کے مطابق ایک دفعہ پھر اس سورت میں دنیاوی عذابوں اور جنگ و جدال کا تذکرہ ہے اور بڑی وضاحت کے ساتھ ایسی جنگوں کا ذکر ہے جن میں آبدوز کشتیاں استعمال ہوں گی۔ والنّازِعَاتِ غَرْقاً کا ایک معنی یہ ہے کہ وہ لڑائی کرنے والیاں اس غرض سے ڈوب کر حملہ کرتی ہیں کہ دشمن کو غرق کردیں اور پھر اپنی ہر کامیابی پر خوشی محسوس کرتی ہیں اور اسی طرح جنگ و جدال کی یہ دوڑ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوششوں میں صرف ہوجاتی ہے اور دونوں طرف سے دشمن بہت بڑی بڑی تدبیریں کرتا ہے۔ 

وَالسّابِحَاتِ سَبْحًا سے تیرنے والیاں مراد ہیں خواہ وہ سمندر کے اندر غرق ہوکر تیریں یا سطح سمندر پر اور بسااوقات آبدوز کشتیاں اپنی فتح کے بعد سطح سمندر پر اُبھر آتی ہیں۔ 

غرضیکہ ان جنگوں سے ایسا لرزہ طاری ہوجاتا ہے کہ دل اس کے خوف سے دھڑکنے لگتے ہیں اور نگاہیں جھک جاتی ہیں۔ اس دنیاوی تباہی کے بعد انسان کا ضمیر یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا ہم پھر دوبارہ مُردوں سے جی اٹھیں گے جبکہ ہماری ہڈیاں گل سڑ چکی ہوں گی؟ فرمایا یقینا ایسا ہی ہوگا اور ایک بہت بڑی تنبیہ کرنے والی آواز گونجے گی تو اچانک وہ اپنے آپ کو میدانِ حشر میں پائیں گے۔ 

اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ذکر شروع فرمایا گیا ہے کیونکہ آپؑ کو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا جو خود خدائی کا دعویدار اور آخرت کا بشدّت منکر تھا۔ جب حضرت موسٰیؑ نے اسے پیغام دیا تو اُس نے جواباً یہی تعلّی کی کہ تمہارا ربّ اعلیٰ تو مَیں ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اُس کو ایسا پکڑا کہ وہ اوّلین و آخرین کے لئے عبرت کا ایک نمونہ بن گیا۔ اوّلین نے تو اسے اور اس کی فوجو ں کو غرق ہوتے دیکھا اور آخرین نے اس کے غرق شدہ جسم کو، جسے اللہ تعالیٰ نے عبرت کے لئے ظاہری موت سے اس حال میں بچایا کہ لمبی عمر تک وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہ کر اس حال میں مرا کہ اُس کی لاش کو آئندہ نسلوں کے لئے عبرت کے طور پر ممی (Mummy)کی صورت میں محفوظ کردیا گیا۔

 اس کے بعد اس سورت کا اختتام اس سوال کے ذکر پر ہوتا ہے کہ وہ پوچھتے ہیں کہ آخر وہ قیامت کی گھڑی کب اور کیسے آئے گی؟ فرمایا جب وہ آئے گی تو خوب واضح ہوجائے گا کہ ہر چیز کا منتہٰی اس کے ربّ ہی کی طرف ہے۔ اور اے رسول! تُو تو محض اسی کو ڈرا سکتا ہے جو اس بھیانک گھڑی سے ڈرتا ہو۔ اور جس دن وہ اسے دیکھیں گے تو دنیا کی زندگی یوں محسوس ہوگی جیسے چند لمحے سے زیادہ نہیں رہی۔ 


[79:1]   
English
In the name of Allah, the Gracious, the Merciful.
اُردو
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔

[79:2]   
English
By those beings who draw people to true faith vigorously,
اُردو
قسم ہے ڈوب کر کھینچنے والیوں کی (یا) ڈبونے کی خاطر کھینچنے والیوں کی۔

[79:3]   
English
And by those who tie their knots firmly,
اُردو
اور بہت خوشی منانے والیوں کی۔

[79:4]   
English
And by those who glide along swiftly,
اُردو
اور خُوب تیرنے والیوں کی۔

[79:5]   
English
Then they advance and greatly excel others,
اُردو
پھر ایک دوسری پر سبقت لے جانے والیوں کی۔

[79:6]   
English
Then they manage the affair entrusted to them.
اُردو
پھر کسی اہم کام کے منصوبے بنانے والیوں کی۔

[79:7]   
English
This will happen on the day when the quaking earth shall quake,
اُردو
جس دن لرزہ کھانے والی سخت لرزہ کھائے گی۔

[79:8]   
English
And a second quaking shall follow it.
اُردو
ایک پیچھے آنے والی اُس کے پیچھے آئے گی۔

[79:9]   
English
On that day hearts will tremble,
اُردو
دل اُس دن بہت دھڑک رہے ہوں گے۔

[79:10]   
English
And their eyes will be cast down —
اُردو
اُن کی نگاہیں نیچی ہوں گی۔