بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِِ

Al Islam

The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)Muslims who believe in the Messiah, Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani (as), Love for All, Hatred for None.

CHAPTER 81

At-Takwir

(Revealed before Hijrah)

General Remarks

The Surah takes its title from the word کورت (is folded up), occurring in the opening verse. It was revealed early at Mecca, very probably in the 6th year of the Call or even earlier. The preceding Surahs had dealt with the subject of Final Resurrection and with the great and marvellous revolution which was brought about by the Holy Prophet and which has been called "resurrection" in the Quran. This resurrection was to take place twice, first by the advent of the Holy Prophet himself and the revelation of the Quran, and second by his Second Coming in the person of the Promised Messiah and Mahdi to which a clear reference is made in 62:4. It is this second renaissance of Islam at the hands of the Promised Messiah, and the great changes which were to take place in his time in the world, which this Surah speaks of. The Surah opens with a description of those changes, and follows it up with a fleeting reference to the moral degeneration of Muslims at that time and to the causes thereof, and ends with striking a note of optimism and cheerfulness to the Muslims, holding out the promise that eventually the night of degradation of Muslims will give place to the dawn of success, because Islam, being God’s last Message for the whole of mankind, has come to stay.

81. التکویر

یہ سورت مکی ہے اور بسم اللہ سمیت اس کی تیس آیات ہیں۔ 

ایک دفعہ پھر قرآن کریم دنیا میں رونما ہونے والے عظیم واقعات کی خبر دیتا ہے جو قیامت کی گھڑی پر گواہ ٹھہریں گے۔ اور گواہ ٹھہرایا گیا ہے سورج کو جب اسے ڈھانپ دیا جائے گا یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی روشنی کو اس زمانہ کے دشمن بنی نوع انسان کی بھلائی کیلئے نہیں پہنچنے دیں گے اور ان کا مکروہ پراپیگنڈا بیچ میں حائل ہوجائے گا۔ اور جب صحابہؓ کے نور کو بھی دشمن کی طرف سے گدلا دیا جائے گا اور جس طرح سورج کے بعد ستارے کسی حد تک روشنی کا کام دیتے ہیں اسی طرح صحابہ کا نور بھی انسان کی نظر سے زائل کردیا جائے گا۔ یہ وہ زمانہ ہوگا جبکہ بڑے بڑے پہاڑ چلائے جائیں گے یعنی پہاڑوں کی طرح بڑے بڑے سمندری جہاز بھی اور فضائی جہاز بھی سفر اور باربرداری کے لئے استعمال ہوں گے اور اونٹنیاں ان کے مقابل پر بے کار کی طرح چھوڑ دی جائیں گی۔ یہ وہ زمانہ ہوگا جب کثرت سے چڑیا گھر بنائے جائیں گے۔ ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں اس کا کوئی وجودنہیں تھا اور اِس زمانہ کے چڑیا گھر بھی اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ اتنے بڑے بڑے جانور سمندری اور ہوائی جہازوں کے ذریعہ ان میں منتقل کئے جاتے ہیں کہ اُس زمانہ کے انسان کو اِس کا وہم و گمان بھی نہیں ہوسکتا تھا۔ 

 پھر غالباً سمندری لڑائیوں کی طرف ہماری توجہ مبذول کرائی گئی ہے جب کثرت سے سمندروں میں جہاز رانی ہوگی اور اس کے نتیجہ میں دُور دُور کے لوگ آپس میں ملائے جائیں گے یعنی صرف جانور ہی اکٹھے نہیں کئے جائیں گے بلکہ بنی نوع انسان بھی ملائے جائیں گے۔ وہ دَور قانون کا دَور ہوگا یعنی تمام دنیا پر قانون کی حکمرانی ہوگی یہاں تک کہ انسان کو یہ بھی اختیار نہیں دیا جائے گا کہ خود اپنی اولاد کے ساتھ ظلم کا سلوک کرے۔ بظاہر تو سب دنیا پر قانون ہی کی حکومت ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے قانون کے انکار کے نتیجہ میں دنیا کا قانون بھی کسی ملک سے فتنہ و فساد دُور نہیں کرسکتا۔ یہ دَور کثرت سے کتب و رسائل کی اشاعت کا دَور ہوگا اور آسمان کے رازوں کی جستجو کرنے والے گویا آسمان کی کھال ادھیڑ دیں گے۔ اس دن دوزخ بھی بھڑکائی جائے گی جو جنگ کی دوزخ بھی ہوگی اور آسمانی غضب کی دوزخ بھی ہوگی۔ اس کے باوجود جو لوگ اللہ تعالیٰ کی تعلیم پر عمل پیرا ہوں گے اور اس پر ثابت قدم رہیں گے ان کے لئے جنت نزدیک کردی جائے گی۔ ہر شخص کو علم ہوجائے گا کہ اس نے اپنے لئے آگے کیا بھیجا ہے۔ 

آیت نمبر ۱۶ اور ۱۷ میں خفیہ کارروائیاں کرکے پلٹ جانے والی ان کشتیوں کو گواہ ٹھہرایا گیا ہے جو کارروائیوں کے بعد اپنے مقررہ اڈوں میں جاچھپتی ہیں۔ اس کی تکرار اس لئے ہے کہ یہاں اب روحانی طور پر انسانی نفس پر حملے کرنے والے ایسے شیطانی خیالات کا ذکر ہے جو حملہ کرکے پھر غائب ہوجاتے ہیں۔ اور اس رات کو گواہ ٹھہرایا گیا ہے کہ جب وہ آخر دم توڑ رہی ہوگی اور طلوعِ فجر کے آثار ظاہر ہو جائیں گے۔ اور بالآخر یہ اندھیری رات اسلام کی صبح پر ضرور منتج ہوگی۔ 


[81:1]   
English
In the name of Allah, the Gracious, the Merciful.
اُردو
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔

[81:2]   
English
When the sun is wrapped up,
اُردو
جب سورج لپیٹ دیا جائے گا۔

[81:3]   
English
And when the stars are obscured,
اُردو
اور جب ستارے ماند پڑ جائیں گے۔

[81:4]   
English
And when the mountains are made to move,
اُردو
اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔

[81:5]   
English
And when the she-camels, tenmonth pregnant, are abandoned,
اُردو
اور جب دس ماہ کی گابھن اُونٹنیاں بغیر کسی نگرانی کے چھوڑ دی جائیں گی۔

[81:6]   
English
And when the beasts are gathered together,
اُردو
اور جب وحشی اکٹھے کئے جائیں گے۔

[81:7]   
English
And when the seas are made to flow forth one into the other,
اُردو
اور جب سمندر پھاڑے جائیں گے۔

[81:8]   
English
And when people are brought together,
اُردو
اور جب نُفوس ملا دیئے جائیں گے۔

[81:9]   
English
And when the girl-child buried alive is questioned about,
اُردو
اور جب زندہ درگور کی جانے والی (اپنے بارہ میں) پوچھی جائے گی۔

[81:10]   
English
‘For what crime was she killed?’
اُردو
(کہ) آخر کس گناہ کی پاداش میں قتل کی گئی ہے؟