بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِِ

Al Islam

The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)Muslims who believe in the Messiah, Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani (as), Love for All, Hatred for None.

CHAPTER 82

Al-Infitar

(Revealed before Hijrah)

Introductory Remarks

This Surah is so similar in style and subject matter to the one preceding it that it forms, as it were, its counterpart, with this difference that it lays special emphasis on the signs concerning Christianity of the present time. It is characteristic of the Quran that, in view of their importance, it takes out certain parts of the text of a Surah and gives them a distinct name and individuality, in order to draw pointed attention to the subject dealt with in the separated verses and in order also that the separated parts may be easily committed to memory. The Surah, as mentioned above, deals particularly with the conditions obtaining in the latter days when Christian doctrines and ways of life were to impress very deeply the conduct and concepts of non-Christian peoples, especially the Muslims. All the prophecies mentioned in the Surah have been literally fulfilled. The Surah as revealed at Mecca in the early years of the Call about the time of the revelation of the preceding chapter. It takes its name from the word انفطرت in the opening verse.

82. الانفطار

یہ سورت مکی ہے اور بسم اللہ سمیت اس کی بیس آیات ہیں۔

 اس سورت کے آغاز پر بھی ستاروں کا ذکر ہے مگر ان کے ماند پڑنے کا نہیں بلکہ ٹوٹ جانے کا ذکر ہے کہ کلیۃً انسان رات کے اندھیروں میں ستاروں کے نور سے بھی محروم کردیا جائے گا۔ اور پھر سمندر کا ذکر کرتے ہوئے یہ بات دہرائی گئی کہ صرف سمندروں میں ہی کثرت سے جہاز رانی نہیں ہوگی اور ان کے راز دریافت کرنے کے لئے ان کو پھاڑا نہیں جائے گا بلکہ خشکی پر بھی آثار قدیمہ والے گزشتہ زمانہ کی مدفون تہذیبوں کی قبریں اکھیڑیں گے۔ اُس دن انسان کو معلوم ہوجائے گا کہ اس سے پہلے بنی نوع انسان اپنے آگے کیا بھیجتے رہے ہیں اور بعد کے دَور کے آنے والے بھی کیا آگے بھیجیں گے۔ 

اس سورت کے آخر پر پھر یوم آخرت کے ذکر پر ایک آیت میں یہ مضمون بیان فرمایا گیا کہ اصل ملکیت دنیا میں عارضی مالکوں کی نہیں بلکہ اصل مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے جس کی طرف یوم الدین پر ہر ملکیت لَوٹ جائے گی اور ہر دوسرا وجود ملکیت سے کلیّۃً عاری کردیا جائے گا۔ 


[82:1]   
English
In the name of Allah, the Gracious, the Merciful.
اُردو
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔

[82:2]   
English
When the heaven is cleft asunder,
اُردو
جب آسمان پھٹ جائے گا۔

[82:3]   
English
And when the stars are scattered,
اُردو
اور جب ستارے جھڑ جائیں گے۔

[82:4]   
English
And when the rivers are made to flow forth into canals,
اُردو
اور جب سمندر پھاڑے جائیں گے۔

[82:5]   
English
And when the graves are laid open,
اُردو
اور جب قبریں اکھاڑی جائیں گی۔

[82:6]   
English
Each soul shall then know what it has sent forth and what it has held back.
اُردو
ہر نفس کو علم ہو جائے گا کہ اُس نے کیا آگے بھیجا ہے اور کیا پیچھے چھوڑا ہے۔

[82:7]   
English
O man, what has emboldened thee against thy Gracious Lord,
اُردو
اے انسان! تجھے اپنے ربّ ِکریم کے بارہ میں کس بات نے دھوکے میں ڈالا؟

[82:8]   
English
Who created thee, then perfected thee, then proportioned thee aright?
اُردو
وہ جس نے تجھے پیدا کیا۔ پھر تجھے ٹھیک ٹھاک کیا۔ پھر تجھے اعتدال بخشا۔

[82:9]   
English
In whatever form He pleased, He fashioned thee.
اُردو
جس صورت میں بھی چاہا تجھے ترکیب دی۔

[82:10]   
English
Nay, but you deny the Judgment.
اُردو
خبردار! بلکہ تم تو جزا سزا کا ہی انکار کر رہے ہو۔