بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِِ

Al Islam

The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)Muslims who believe in the Messiah, Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani (as), Love for All, Hatred for None.

CHAPTER 91

Ash-Shams

(Revealed before Hijrah)

Introduction

This Surah admittedly belongs to the very early Meccan period. Some scholars regard it as having been revealed in the first year of the Call; others assign it to the second or third year. It takes its title from the first word of the opening verse.

The five Surahs (89-93) possess a striking similarity in subject matter. In all of them great stress has been laid on the development of good morals, specially those good qualities that intimately concern and affect the progress and prosperity of a community. Muslims have been exhorted to create an atmosphere and an environment which should help to raise the standing and stature of the poor, depressed and suppressed section of their Community and should enable them to take their proper share in its activities.

The preceding chapter contained a hint about the supreme object for which Abraham and his son, Ishmael, had built the Ka‘bah. That supreme object is explained in the prayer—"Our Lord raise up among them a Messenger from among themselves, who may recite to them Thy signs and teach them the Book and Wisdom and may purify them; surely Thou art the Mighty, the Wise (2:130). It is to the Holy Prophet, Muhammad, and his great moral qualities that this Surah refers. Towards its close the Surah points out that moral greatness can be achieved by anyone who eschews evil and walks in the path of righteousness. The Surah ends on the note that those who choose to defy Divine laws and adopt evil ways work out their own ruin.

91. الشمس

یہ سورت مکی ہے اور بسم اللہ سمیت اس کی سولہ آیات ہیں۔

 اس میں ایک دفعہ پھر یہ پیشگوئی فرمائی گئی کہ اسلام کا سورج ایک دفعہ پھر طلوع ہوگا اور وہ چاند پھر چمکے گا جو اس سورج کی روشنی سے فیض یاب ہوگا اور پھر ایک فجر طلوع ہوگی اور اس کے بعد پھر ایک اندھیری رات چھا جائے گی یعنی کوئی صبح بھی ایسی نہیں ہوا کرتی جس کے بعد غفلتوں کے اندھیرے پھر بنی نوع انسان کو گھیر نہ لیں۔

 پھر یہ عظیم الشان اعلان ہے کہ ہر نفس کو اللہ تعالیٰ نے عدل کے ساتھ پیدا کیا ہے اور اسے اپنے اچھے بُرے کی تمیز الہام فرمائی ہے۔ جس نے اپنی ودیعت کردہ صلاحیتوں کو پروان چڑھایا وہ کامیاب ہوجائے گا اور جس نے اپنی ودیعت کردہ صلاحیتوں کو مٹی میں گاڑ دیا وہ ہلاک ہوجائے گا۔ 

اس کے بعد ثمود کی قوم اور اس کے رسول کی ناقہ کا ذکر ہے۔ ممکن ہے اس میں اس طرف بھی اشارہ ہو کہ حضرت صالح علیہ الصلوٰۃ والسلام جس ناقہ پر پیغام پہنچانے کے لئے سفر کیا کرتے تھے، جب اس ناقہ کی کونچیں اُن کی قوم نے کاٹ ڈالیں تو پھر اُن پر بہت بڑی تباہی آئی۔ پس نبیوں کے دشمن جب بھی ان ذرائع اِبلاغ کو کاٹتے ہیں جن کے ذریعہ ہدایت کا پیغام پہنچایا جاتا ہے تو وہ بھی ہمیشہ ہلاک کردیئے جاتے ہیں۔


[91:1]   
English
In the name of Allah, the Gracious, the Merciful.
اُردو
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔

[91:2]   
English
By the sun and its growing brightness,
اُردو
قسم ہے سورج کی اور اس کی دھوپ کی۔

[91:3]   
English
And by the moon when it follows it (the sun),
اُردو
اور چاند کی جب وہ اس کے پیچھے آئے۔

[91:4]   
English
And by the day when it reveals its glory,
اُردو
اور دن کی جب وہ اُس (یعنی سورج) کو خوب روشن کردے۔

[91:5]   
English
And by the night when it draws a veil over it,
اُردو
اور رات کی جب وہ اُسے ڈھانپ لے۔

[91:6]   
English
And by the heaven and its making,
اُردو
اور آسمان کی اور جیسے اُس نے اُسے بنایا۔

[91:7]   
English
And by the earth and its spreading out,
اُردو
اور زمین کی اور جیسے اُس نے اسے بچھایا۔

[91:8]   
English
And by the soul and its perfection —
اُردو
اور ہر جان کی اور جیسے اس نے اسے ٹھیک ٹھاک کیا۔

[91:9]   
English
And He revealed to it what is wrong for it and what is right for it —
اُردو
پس اُس کی بے اعتدالیوں اور اس کی پرہیزگاریوں (کی تمیز کرنے کی صلاحیت) کو اس کی فطرت میں ودیعت کیا۔

[91:10]   
English
He indeed truly prospers who purifies it,
اُردو
یقیناً وہ کامیاب ہوگیا جس نے اُس (تقویٰ) کو پروان چڑھایا۔