Notice: Uninitialized string offset: 0 in /home/http/www.alislam.org/urdu/wp-content/themes/alislam_urdu/single.php on line 10
حضرت مرزا طاہر احمد – جماعت احمدیہ مسلمہ عالمگیر

حضرت مرزا طاہر احمد

حضرت مرزا طاہر احمد رحمہ اللہ تعالیٰ قادیان میں حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد رضی اللہ عنہ اور حضرت مریم بیگم صاحبہ نوراللہ مرقدھا کے ہاں 1928ء میں پیدا ہوئے۔ آپؒ نے ابتدائی تعلیم قادیان میں حاصل کی اور 1944ء میں اپنی والدہ محترمہ کی وفات کے چند ماہ بعد گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہوئے۔ آپؒ 1955ء میں پہلی دفعہ اپنے والد صاحبؓ کے ہمراہ انگلستان تشریف لے گئے اور انہی کی ہدایت کے مطابق انگریزی زبان کے علم کو بڑھانے اور یورپ کے معاشرتی اقدار کے مطالعہ کے لئے وہیں ٹھہر گئے۔ آپؒ نے SOASیونیورسٹی آف لنڈن میں داخلہ لیا جہاں آپؒ نے اڑھائی سال تک تعلیم حاصل کی۔ 1957ءکے اواخر تک آپ انگلستان، آئرلینڈ، سکاٹ لینڈ، ویلز اور مغربی یورپ کا اکثر حصہ دیکھ چکے تھے۔ آپؒ کی رسمی تعلیم تو فقط یہاں تک تھی لیکن آپؒ کی وسعت مطالعہ کی کوئی انتہا نہ تھی اور مضامین نہایت دقتِ نظر کے ساتھ آپؒ کے زیر نظر رہتے تھے۔

بعد میں جب آپؒ جماعت احمدیہ کے امام منتخب ہوئے تو آپؒ کی عالمی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں یہ نصابی اور غیر نصابی تجربات اور علوم بہت مفید ثابت ہوئے۔ آپؒ 1982ء میں حضرت حافظ مرزا ناصر احمد خلیفۃ المسیح الثالث نوراللہ مرقدہٗ کی وفات کے اگلے روز جماعت احمدیہ کے امام منتخب ہوئے۔ جنرل ضیاء الحق کے اینٹی احمدیہ آرڈیننس مجریہ 26؍اپریل 1984ء نے آپؒ کو پاکستان چھوڑنے پر مجبور کردیا۔ چنانچہ آپ مؤرخہ 30؍ اپریل 1984ء کو انگلستان تشریف لے گئے۔ جہاں آپؒ 19؍ اپریل 2003ء تک تادم وفات قیام پذیر رہے۔ یہیں سے آپؒ نے عالمی جماعت ہائے احمدیہ کی رہنمائی اور کروڑوں مردوں، عورتوں اور بچوں کی اس رنگ میں تربیت فرمائی جس سے اُن میں زندگی کی ایک نئی لہر دوڑ گئی اور چند ہی سالوں میں جماعت کی تعداد کروڑوں تک پہنچ گئی اور 175 ممالک میں جماعت ہائے احمدیہ کا قیام عمل میں آگیا۔

اسی دوران MTAکا قیام عمل میں آیا جو آپؒ کی شب و روز محنت کا ثمر ہے۔ جس کے ذریعہ دنیا بھر میں خطبات، مجالس عرفان اور دیگر علمی اور روحانی پروگرام پیش کئے جارہے ہیں۔

ایک روحانی رہنما ہونے کے علاوہ آپؒ ایک عالم بے بدل، اُردو اور انگریزی کے عدیم المثال مقرر اور بہت سی کتابوں کے مصنف تھے۔ آپؒ اعلیٰ پایہ کے شاعر بھی تھے۔